مہاراشٹر کی پیدائش: تاریخ، شناخت اور اجتماعی شعور کی ایک درخشاں داستان۔ از قلم : اسماء جبین فلک۔
مہاراشٹر کی پیدائش: تاریخ، شناخت اور اجتماعی شعور کی ایک درخشاں داستان۔ از قلم : اسماء جبین فلک۔ برصغیر کی سیاسی و سماجی تاریخ میں بعض واقعات محض جغرافیائی تبدیلی نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک قوم کے اجتماعی شعور، ثقافتی شناخت اور سیاسی پختگی کا مظہر بن جاتے ہیں۔ یکم مئی 1960 کو وجود میں آنے والی ریاست مہاراشٹر بھی اسی نوعیت کا ایک سنگِ میل ہے۔ یہ ریاست کسی انتظامی فیصلے کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ ایک طویل عوامی جدوجہد، فکری بیداری، لسانی شعور اور بے مثال قربانیوں کی مرہونِ منت تھی۔ اس کی تشکیل کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب کوئی قوم اپنی زبان، ثقافت اور شناخت کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائے تو تاریخ کا دھارا بھی اس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب ہندوستان میں سیاسی بیداری نے جنم لیا تو مختلف خطوں میں رہنے والے لوگوں نے اپنی علاقائی اور لسانی شناخت کو بھی اجاگر کرنا شروع کیا۔ مراٹھی بولنے والے علاقوں میں یہ احساس تیزی سے پروان چڑھا کہ ان کی زبان، ادب اور ثقافت کو ایک متحد انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی ترقی ممکن ہو سکے۔ ...