مزدور دیوس - ازقلم : مسرورتمنا۔


مزدور دیوس - 
ازقلم : مسرورتمنا۔

آج وہ بہت خوش تھا پانچ دن
 سے گھر سے دور شہر میں مزدوری کرنے ایا تھا سوکھے چنے کھا کر رقم بچای تھی
اسکی بیوی جو بہت بڑا
سپنا دیکھتی تھی اچھا کھانا
اچھا گھر بہت بڑا سندر سا
جس میں بڑا آنگن اور پھولوں
کا خوبصورت چھوٹا سا باغ ہو
پتی اسے رانی کی طرح رکھے
مگر ماں نے ایک مزدور سے بیاہ دیا سارے سپنے انسوں بنکر بہ
گیے ..... .. ...........  
آج.یکم مئ مزدور کی چھٹی کا دن تھا اس نے بچوں کے لیے جلیبی اور ماں کے.لیۓ پھل لیے
بیوی کی چوڑیاں خریدی
بیوی کا چہرہ.آنکھوں.میں گھوم گیا خوبصورت جوان عورت جسے بھوک اور غریبی نے دیمک کی طرح چاٹ لیا
اسکا لاغر وجود اسکے گھر بچے اور بوڑھی ماں کو سمبھالنے سے قاصر تھا......
مگر وہ.دل وجان سے خدمت کررہی تھی
گھر کے قریب پہونچا تو.ٹھٹھک کر رہ گیا ایک بھاری بھیڑ نے چونکا دیا غریب مزدوروں.کی پٹای ہورہی تھی اس نے آگے
بڑھ کر پوچھا کیا ہوا
ارے بھیا آج مزدور دیوس ہے
اور.ای لوگ بھٹی لگانے چلے تھے... .. ..  
پولیش نے دیکھا تو لگے دھنائ
کرنے ارے بھیا آرام کر لو ایک دن گھر کا چولھا نا جلے نا سہی .... ... ... ..    
رامو نے گھر کی طرف دوڑ لگادی مگر گھر میں ماں دکھیا ری
کو روتا دیکھا.....کیا ہوا ماں
تیرا بھائ.. .... 
    شامو مر گیا رے
مزدوری کرنے.گیا تھا.. ڈاکہ ڈالنے نہیں لوگ کہ رہے تھے مزدور دیوس ہے ارے ظالموں ہر دن مزدور دیوس ہوتا 
انکو تو بس مرنے پر چھٹی ملتی ماں پھوٹ پھوٹ کر
رو رہی تھی .. .......    
اور رامو حیران نظروں سے سب کو گھور رہا تھا
مزدور دیوس. مسرورتمنا


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔