Posts

رانی پیٹ: ضلع کلکٹر کے عہدے پر پریا کی تقرری۔

Image
رانی پیٹ، 29 مئی: (محمد رضوان اللہ کے ذریعے)  تمل ناڈو حکومت کی جانب سے انتظامی سطح پر کیے گئے اہم تبادلوں کے تحت رانی پیٹ ضلع کی موجودہ کلکٹر ڈاکٹر چندرکلا کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ تمل ناڈو اربن ہیبی ٹیٹ ڈیولپمنٹ بورڈ (Tamil Nadu Urban Habitat Development Board) میں خدمات انجام دینے والی سینئر افسر محترمہ پریا کو رانی پیٹ ضلع کی نئی کلکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق محترمہ پریا جلد ہی اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گی۔ انتظامی امور میں وسیع تجربہ رکھنے والی پریا نے شہری ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی فلاحی منصوبوں کے نفاذ میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی تقرری سے ضلع میں ترقیاتی کاموں کو مزید رفتار ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ سابق ضلع کلکٹر ڈاکٹر چندرکلا نے اپنے دورِ کار میں مختلف عوامی اور ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر انداز میں نافذ کیا تھا۔ عوامی حلقوں اور سرکاری ملازمین نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب، محترمہ پریا کی بطور ضلع کلکٹر تقرری پر مختلف سماجی، سیاسی اور عوا...

ایک کہکشاں ذمیں پر۔ ازقلم : مسرورتمنا۔

Image
ایک کہکشاں ذمیں پر۔  ازقلم : مسرورتمنا۔ رعنا تبریز تم ان سب چکر میں پڑ کر ھمارے وجود کو بھول رہی ہو ھارون نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا. تم ایک لکھاری ہو کیا یہ کافی نہیں کے میں نے..     ...................... کامیابی ملے گی.مجھے. ھارون میں انہیں تلاش کر رہی ہوں جو گمنامی اور حالات کے اندھیرے میں کھو گیے ہیں تم اپنی ذندگی کا مقصد پیشہ کمانا نام گھر اور فیملی بنانا سمجھتے ہو میں تم سے الگ ہوں ایک درد لے کر جی رہی ایک مقصد ہے شادی کی جلدی نہیں مجھے وہ اپنی گاڑی لے کر آگے بڑھ گی انکار کرنا چاہو تو دور ہوجاو  ارے نہیں ھارون اسکے برابر آکر بیٹھ گیا. ...   بہت تلاش کے بعد ایک عظیم شخصیت کا پتہ ملا تھا جسے لوگ دوست شاید ذمانہ سب بھول چکے تھے  جو صرف اپنے کتابوں میں ذندہ تھے    پرویز مہتاب جنکے معیاری افسانے برسوں پہلے اردو کے معیاری رسایل اور اخبارات کی زینت تھے انکے فین انہیں خطوط لکھ کر جواب کا بے چینی سے انتظار کرتے تھے اور جواب وہ کسی رسالے کے ذریع دیتے  اور وہ شخصیت جو گم ہو چکی تھی رعنا تبریز ان سے ملنے کی ام...

کیارحیم خان کی وزارت سے گھر واپسی ہوگی؟! - محمدیوسف رحیم بیدری۔

Image
کیارحیم خان کی وزارت سے گھر واپسی ہوگی؟!  -   محمدیوسف رحیم بیدری۔  سدرامیاوزیراعلیٰ کرناٹک کے استعفیٰ کے ساتھ ہی کانگریس پارٹی کی سدرامیا حکومت کابینہ تحلیل کردی گئی ہے۔ ایک دودِن میں نئی کابینہ بنے گی۔ آج خصوصیت کے ساتھ بیدر اور گلبرگہ کے مسلمان ووٹرس کے سامنے یہ سوال ہے کہ رحیم خان رکن اسمبلی بیدرکا کیاہوگا؟ آیا انہیں تیسری مرتبہ وزرات ملے گی یاپھر وہ لوٹ کے گھر کوآجائیں گے۔ اسی طرح یہ سوال بھی کیاجارہاہے کہ گلبرگہ کی رکن اسمبلی محترمہ کنیزفاطمہ کو آیا وزارت میں جگہ ملے گی کیوں کہ انھوں نے اپنے مرحوم شوہر اورشیر کرناٹک الحاج قمرالاسلام کے انتقال کے بعد ان ہی کی نشست سے مقابلہ کرکے جیت حاصل کی تھی۔ کسی زمانے میں پانچ پانچ وزارتیں الحاج قمرالاسلام کے پاس ہواکرتی تھیں۔ ان کی بیوہ کنیزفاطمہ کوایک وزارت بھی نہ دینے سے اہل گلبرگہ کو اچھا نہیں لگ رہاہے۔ ان کامطالبہ ہے کہ  ہمیشہ ہی وزارت میں رہنے والے گلبرگہ کو پھر ایک بار نمائندگی دی جائے۔   عین ممکن ہے کہ بی زیڈ ضمیراحمد خان کی جگہ ایچ اے اقبال حسین رکن اسمبلی رام نگرکومسلم ووٹرس کی وزارت(وزیر اقل...

ڈاکٹر بشیر بدر : اردو ادب کا درخشاں ستارہ - از قلم : ڈاکٹر محمد ناصر باغبان۔

Image
ڈاکٹر بشیر بدر : اردو ادب کا درخشاں ستارہ -  از قلم : ڈاکٹر محمد ناصر باغبان۔ بیڑ : ڈاکٹر محمد ناصر باغبان، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ملیہ سینئر کالج بیڑ لکھتے ہیں اردو ادب کا ایک اور عظیم خسارہ پہلے شاہ حسین نہری، فاروق سید اور اب ڈاکٹر بشیر بدر اردو کا درخشان ستارہ جو لفظوں میں زندگی، محبت اور انسانیت کی خوشبو بھرتا رہا، آج خاموش ہو گیا۔ ڈاکٹر بشیر بدر صاحب کا انتقال شاعری کے ایک عہد کا خاتمہ اور ہمارے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کے لیے اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے۔  "ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے"  "بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا"       بشیر بدر جدید اردو غزل کے سب سے مقبول اور بااثر شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ وہ 15 فروری 1935ء کو بھارت کے اتر پردیش، ایودھیا میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کی شاعری کی خاص بات سادہ زبان، گہرا احساس، محبت، جدائی اور انسانی رشتوں کی نزاکت ہے۔ بشیر بدر جدید اردو غزل کے اُن عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سادہ زبان،...

مختلف ادوار میں گائے اور قربانی۔۔ از قلم : محمود علی لیکچرر ۔

Image
مختلف ادوار میں گائے اور قربانی۔ از قلم : محمود علی لیکچرر ۔ گائے صدیوں سے انسانی تہذیب معیشت اور مذہبی روایات کا اہم حصہ رہی ہے۔ مختلف مذاہب اور ادوار میں اس کی حیثیت الگ الگ رہی کہیں اسے قربانی اور خوراک کے طور پر استعمال کیا گیا ہے تو کہیں تقدس اور احترام کی علامت سمجھا گیا۔ یہی تنوع انسانی تاریخ اور مذہبی فکر کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ قدیم تہذیبوں میں مویشی دولت اور رزق کی علامت تھے۔ قدیم بنی اسرائیل میں گائے اور بیل کی قربانی عبادت، شکرانے اور کفارے کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔ توریت اور دیگر یہودی روایات میں اس کے واضح احکام ملتے ہیں بنی اسرائیل میں گائے کی قربانی کا ذکر موجود ہے۔ قرآن مجید اور یہودی مذہبی روایات دونوں میں اس کے حوالے ملتے ہیں۔ سب سے مشہور واقعہ قران مقدس کی سورۂ البقرہ میں بیان ہوا ہے جہاں حضرت موسی نے بنی اسرائیل سے اللہ کے حکم پر ایک گائے ذبح کرنے کو کہا۔ اسی واقعے کی نسبت سے سورہ کا نام “البقرہ” رکھا گیا۔ اس واقعے میں: بنی اسرائیل بار بار سوال کرتے رہے: گائے کیسی ہو؟ اس کا رنگ کیا ہو؟ اس کی عمر کیا ہو؟ پھر آخرکار انہوں نے گائے ذبح کی۔ یہودی شریعت می...

اصول۔ - از قلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔

Image
 اصول۔ -   از قلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔ جمعہ کے دن چند لوگ سڑک کنارے نماز پڑھ رہے تھے۔ کچھ آوازیں اٹھیں۔ “یہ پبلک جگہ ہے، عبادت گھروں میں ہونی چاہیے!” بحث بڑھی، ویڈیوز بنیں، نفرت کے جملے اچھالے گئے۔ چند دن بعد اسی سڑک پر مذہبی جلوس نکلا، لاؤڈ اسپیکر لگے، لوگ بیٹھ کر ہنومان چالیسہ پڑھنے لگے۔ تب وہی چہرے خاموش تھے، بلکہ کچھ تالیاں بھی بجا رہے تھے۔ یہ سب دیکھ کر ایک بچے نے اپنے استاد سے پوچھا۔ “سر! قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے… یا صرف کمزور لوگوں کے لیے؟” استاد چند لمحے خاموش رہے۔ پھر آہستہ بولے۔ “بیٹا، جب انصاف مذہب دیکھنے لگے… تو معاشرہ اندھا ہو جاتا ہے۔”

مرثیۂ بشیر بدر۔ ازقلم : سلیمان ، مشفق سولاپوری۔

Image
مرثیۂ بشیر بدر۔  ازقلم :  سلیمان ، مشفق سولاپوری۔ چراغِ بزمِ سخن، آفتابِ ذوقِ جمال بجھا تو رو پڑے اربابِ فکر و اہلِ خیال فروغِ نغمۂ جاں، عندلیبِ شہرِ سخن ہوا ہے آج سرِ بزمِ آرزو پامال لبوں پہ نرمیِ باراں، نگاہ میں شبنم مزاج اُس کا سراپا وقار و حسنِ خصال وہ اپنے درد کو تہذیب دے کے لکھتا تھا وہ اپنے غم کو بناتا تھا باعثِ اجلال کبھی شبِ غمِ ہستی کا تذکرہ ایسا کہ اشک پڑھتے تھے خود اپنی داستانِ ملال عجیب طرزِ تکلّم، عجب ادا اُس کی کلام جیسے دعائے سحر، نوائے بلال وہ اپنے عہد کی تنہائیوں کا محرم تھا وہ دل شکستہ زمانوں کا آخری ہم حال اب اُس کے بعد کہاں وہ لطافتِ گفتار کہاں وہ سادگیِ دل، کہاں وہ حسنِ مقال خدا کرے کہ ملے اُس کو سایۂ رحمت کہ جس نے بانٹے تھے دنیا میں خوابِ حسن و وصال رہے گا زندہ وہی اپنے دلنشیں فن میں بشیرؔ مر نہیں سکتا، یہ ہے محال، محال

غزل۔ - ازقلم : افتخار راغبؔ، دوحہ، قطر۔

Image
غزل۔ -   ازقلم : افتخار راغبؔ، دوحہ، قطر۔ ڈسے گی ہجر کی ناگِن، سُکوں نہیں ممکن تجھے پتا ہے کہ تجھ بن سُکوں نہیں ممکن نہیں سرشت میں آمیزشِ سُکوں شاید سُکون گھر میں ہوں لیکن سُکوں نہیں ممکن سُکوں جو مسکنِ دل میں تھا تیرے دم سے تھا اب اضطراب ہے ساکن سُکوں نہیں ممکن تو کیا خبر نہ تھی تجھ کو کہ تیری فرقت میں ہر ایک بات ہے ممکن، سُکوں نہیں ممکن  جدھر بھی دیکھیے، ہے ظلم و جبر، آہ و فغاں نگاہ و قلب ہیں مومن، سُکوں نہیں ممکن  سکوں ملے گا گنا کر اُنھیں عیوب مرے چھُپائیں گے وہ محاسن، سُکوں نہیں ممکن  سُکون بخش تھا تیرا ہر ایک تارِ نگہ اب ایسا کون ہے محسن، سُکوں نہیں ممکن  سُکوں سے جینے کے وعدے کا حشر بھی کچھ سوچ بغیر تیرے تو اک دِن سُکوں نہیں ممکن دَیا کی آس رکھوں کیسے اس سے میں راغبؔ کٹھور دل ہے وہ کم سِن، سُکوں نہیں ممکن  افتخار راغبؔ دوحہ، قطر

اینگلو اردو ہائی اسکول، راویر کی طالبہ اور صدر مدرس مرزا مزمل سر کی بیٹی ذکرہ کو دسویں جماعت میں شاندار کامیابی پر بھساول میں وبرانت اکیڈمی نے اعزاز سے نوازا۔

Image
بھساول (صلاح الدین ادیب) اینگلو اردو ہائی اسکول، راویر کی طالبہ اور صدر مدرس مرزا مزمل سر کی بیٹی ذکرہ کو دسویں جماعت میں شاندار کامیابی پر بھساول میں وبرانت اکیڈمی نے اعزاز سے نوازا۔

شیخاپور میں عید الاضحیٰ کی نماز عقیدت و احترام سے ادا کی گئی۔ - قربانی کے ساتھ نفس کو پائمال کریں، حقوق العباد اور حقوقِ حیوان کا خاص خیال رکھیں: علماء کرام کا خطاب۔

Image
ظہیرآباد 29/مئی( نمائندہ) شیخاپور میں عید الاضحیٰ کا تہوار روایتی مذہبی جوش و جذبے، اخوت اور امن و امان کے ساتھ منایا گیا۔ عید کی نماز صبح ٹھیک 8:00 بجے ادا کی گئی، جس میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کر کے بارگاہِ الٰہی میں ملک و ملت کی ترقی، امن و سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔ عید کی نماز کی امامت کے فرائض حافظ محمد حاجی مولوی صاحب خیری نے انجام دیے، جبکہ عید کا رقت انگیز خطبہ جناب محمد حامد نوری صاحب نے دیا۔ نماز سے قبل جناب محمد ایوب مولوی صاحب نے ایک انتہائی فکر انگیز اور تربیتی خطاب کیا۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کا تذکرہ کرتے ہوئے موجودہ دور میں اس کے عملی تقاضوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں درج ذیل اہم باتوں پر خصوصی زور دیا۔   جانور کی قربانی کے ساتھ ساتھ انسان اپنے نفس کی قربانی دے، اپنی نیند کو قربان کر کے پنج وقتہ نمازی بنے اور نفسِ امارہ کو پائمال کر کے اسوۂ ابراہیمی کا سچا پیکر بنے۔  مزید خطاب میں کہا کہ قربانی کے گوشت میں غریبوں اور ضرورت مندوں کا خاص خیال رکھا جائے ا...

حاملین نبوت کے اوصاف - (گزشتہ سے پیوستہ) محمد ناظم ملی، جامعہ اکلکواں۔

Image
حاملین نبوت کے اوصاف -  (گزشتہ سے پیوستہ)  محمد ناظم ملی،  جامعہ اکلکواں۔ مرحوم ڈاکٹراقبال نے کہا تھا  مرد ناداں پر کلام نرم نازک بے اثر  سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ایک ایک پہلو بعد والوں کے لیے نشان منزل اور جادہ مستقیم ہے جہاں ان کی زندگی کا سب سے اہم اور نمایاں پہلو ان کی عبادت و ریاضت ہیں وہیں اپنے پالن ہار اور پروردگار کے سامنے ہر حال میں ان کا سر تسلیم خم کرنا اور خود سپردگی اختیار کرنا ہے اور ایمان کا مزہ تو خود سپردگی کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے.." ذاق طعم الايمان من رضي بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد صلى الله عليه وسلم نبيا ورسولا "یعنی سر تسلیم خم کرنا   کائنات کی ساری طاقتیں قوتیں قلوب کو ناپاک اور کھوکھلا کرنے والی الائشیں اور گندگیاں یعنی غرور گھمنڈ غرہ خود نمائی خود پذیرائی لالچ تملقیت تفریق بین المسلمین اور اپنے مفاد کے لیے کسی بھی حد تک گر جانا تھوڑے سے مال اور عہدے کے لیے دو کوڑیوں کے حصول میں اپنی فطرت سلیمہ سے بغاوت کرنا اپنی خودی و خودداری کو داؤ پر لگا کر ...

ڈاکٹر فرزانہ فرح کی تصنیف "گل افشانیاں": طنز و ظرافت کا مرقع - ازقلم۔ : واجد اختر صدیقی۔

Image
ڈاکٹر فرزانہ فرح کی تصنیف "گل افشانیاں": طنز و ظرافت کا مرقع -  ازقلم۔ : واجد اختر صدیقی۔ گلبرگہ، کرناٹک۔ 9739501549 اردو ادب کی دلکش و دلآویز روایت میں طنز و مزاح ایک ایسا رنگ ہے جو نہ صرف تحریر کو شگفتگی عطا کرتا ہے بلکہ اسے فکری گہرائی سے بھی ہمکنار کرتا ہے۔ یہ وہ فن ہے جس میں ہنسی محض ہنسی نہیں رہتی بلکہ ایک سنجیدہ پیغام کا پیرہن اوڑھ لیتی ہے، اور قاری کو مسکرانے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے سنجیدہ ادب میں طنز و مزاح ہمیشہ ایک معتبر اور باوقار صنف کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اسی درخشاں روایت کو اپنے مخصوص اسلوب اور متوازن انداز میں آگے بڑھانے والوں میں فرزانہ فرح کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ڈاکٹر فرزانہ فرح ریاست کرناٹک کی معروف، شاعرہ اور طنز و ظرافت نگار ہیں۔ تاحال ان کی چار کتابیں—شوخیِ تحریر (انشائیہ-2011)، دیکھنا تحریر کی لذت (انشائیہ-2016)، رُکا سا موسم (شاعری-2023) اور گل افشانیاں (انشائیہ-2024)—شائع ہو کر اہلِ ذوق میں مقبولیت حاصل کر چکی ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ڈاکٹر فرزانہ بنیادی طور پر شاعرہ ہیں یا انشائیہ نگار، کیونک...

موجودہ حالات میں اپنے دین وایمان پر ثابت قدم رہنا اسوۂ ابراہیمی کا اہم پیغام۔عید گاہ ظہیرآباد سے مفتی عبید الرحمن قاسمی کا خطاب۔

Image
ظہیرآباد 29 /مئی( نمائندہ) ہزاروں فرزندان توحید نے ظہیرآباد عیدگاہ میں جمع ہو کر نماز عید الاضحی کا دوگانہ ادا کیا۔عیدگاہ میدان نمازیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا۔اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کر رہا تھا۔حسب معمول نماز عید الاضحی آٹھ بجے وقت مقررہ پر خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کی گئی  امامت کے فرائض مولانا سید افسر پاشاہ صاحب قادری نے انجام دیےاور ٹھیک سات بجے سےمولانا مفتی عبیدالرحمن صاحب قاسمی کا موجودہ حالات میں سیرتِ ابراہیم علیہ السلام کا پیغام کے عنوان سے قرآن وحدیث کی روشنی میں بہترین خطاب ہوا جس میں ابراہیم علیہ السلام کے پے درپے اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے امتحانات اور اس پر ملنے والے انعامات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا گیا خصوصا موجود حالات میں مسلمان جس آزمائش سے گذر رہے ہیں ایسے حالات میں ناامیدی مومن کا شیوہ نہیں مومن‌کو حالات سے ہر گز نہیں گھبرانا چاہئے اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا‌چاہیے اس لئے کہ مایو سی کفر ہے اور حالات کے اس تناظر میں آزمائش کی ان گھڑیوں میں ہر مسلمان کو اپنے دین وایمان پر اپنی شریعت پر مضبوطی کے ساتھ استقامت کے ساتھ قائم رہنا ہے اور اپنی...

مسلمانوں پر طنز نہیں، انصاف اور حکمت کی ضرورت۔ - سید فاروق احمد قادری۔

Image
مسلمانوں پر طنز نہیں، انصاف اور حکمت کی ضرورت۔ -   سید فاروق احمد قادری۔ آج کچھ نام نہاد پڑھے لکھے لوگ مسلمانوں کے اختلافات پر ہنستے ہیں، انہیں کمزور اور بکھرا ہوا کہتے ہیں۔ خاص طور پر بعض وکیل حضرات اور سیاسی تبصرہ نگار اس انداز میں گفتگو کرتے ہیں جیسے پوری امت صرف تماشہ بن گئی ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر دینی بصیرت اور تاریخِ اسلام کا مطالعہ ہو تو زبان میں طنز نہیں بلکہ درد پیدا ہوتا ہے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے اتحاد اتفاق کے لیے اللہ تعالی سے بہت دعائیں مانگی  قرآن نے بھی واضح کہا کہ تفرقہ اور انتشار کمزوری لاتا ہے۔ لیکن افسوس، آج کچھ لوگ امت کی اصلاح کے بجائے امت کا مذاق اڑانے میں مصروف ہیں۔ آج قربانی کے مسئلے کو لے کر جو سیاسی ماحول بنایا جا رہا ہے، اس میں دانشمندی اور حکمت کی ضرورت ہے۔ اسلام صرف جذبات کا نہیں بلکہ حالات کو سمجھ کر فیصلے کرنے کا بھی نام ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بعض مواقع پر بڑے صحابہؓ نے فتنہ اور غلط فہمی سے بچنے کے لیے بعض مباح چیزوں کی حضرت عمر اور ابوبکر صدیق بارے میں آثار ملتے ہیں کہ عوام پر فرض یا لازم سمجھ لیے ...

رپورٹر — بیڑ کی صحافت کا 33 سالہ روشن سفر ایک نسل کی تربیت، عوامی خدمت اور بے باک صحافت کی داستان۔ - سید فاروق احمد قادری۔

Image
رپورٹر — بیڑ کی صحافت کا 33 سالہ روشن سفر ایک نسل کی تربیت، عوامی خدمت اور بے باک صحافت کی داستان۔ -    سید فاروق احمد قادری۔ 30 مئی 2026 کا دن ضلع بیڑ کی صحافتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ دوپہر میں شائع ہونے والا معروف و مقبول اخبار “رپورٹر” اپنی اشاعت کے 33 سال مکمل کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک اخبار کی سالگرہ نہیں بلکہ عوامی آواز، تعلیمی بیداری، سیاسی شعور اور سماجی خدمت کے ایک عظیم سفر کی تکمیل کا دن ہے۔ “رپورٹر” کے روحِ رواں شیخ طیب سکندر صاحب نے اپنے والد محترم سکندر صاحب کے نام کو عزت، وقار اور خدمت کے ساتھ زندہ رکھا۔ انہوں نے صحافت کو صرف خبر رسانی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرے کی اصلاح، نوجوانوں کی رہنمائی اور غریب عوام کی طاقت بنایا۔ شیخ طیب سکندر صاحب نے یہ محسوس کیا کہ غریب اور متوسط طبقے کے ہزاروں طلبہ مہنگی کوچنگ اور رہنمائی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت “رپورٹر” اخبار کے ذریعے مختلف مضامین کے ماہر اساتذہ کو طلبہ تک پہنچایا گیا۔ سائنس، حساب، تاریخ، اردو، انگریزی اور دیگر مضامین پر مسلسل رہنمائی دی جاتی رہی۔ سوالات،...

ڈاکٹر اوصاف سعید کی والدہ کا انتقال۔

Image
حیدرآباد (راست) سابق سفیر ہند برائے سعودی عرب ڈاکٹر اوصاف سعید کی والدہ ماجدہ جمعرات (بروز عید) کی شام اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ مرحومہ نامور افسانہ نگار عوض سعید کی زوجہ اور اردو دنیا کی معروف شخصیت پروفیسر مغنی تبسم کی بہن تھیں۔  نماز جنازہ 29 مئی بعد نماز جمعہ مسجد بقیع، روڈ نمبر 12 بنجارہ ہلز میں ادا کی جائے گی اور متصل قبرستان میں تدفین عمل میں آئے گی۔

آئیڈیا کے زیرِ اہتمام دو روزہ ادبی و رُومانی ڈراما فیسٹیولعید کی خوشیوں میں ادب کا چراغ روشن کرنے والی ایک دل آویز تقریب۔

Image
آئیڈیا کے زیرِ اہتمام دو روزہ ادبی و رُومانی ڈراما فیسٹیول عید کی خوشیوں میں ادب کا چراغ روشن کرنے والی ایک دل آویز تقریب۔ ادب کے قدرشناسوں اور فنونِ لطیفہ کے عشّاق کے لیے نہایت مسرّت کی خبر ہے کہ آئیڈیا کی جانب سے عید کے پرمسرت موقع پر ممبئی میں دو روزہ ادبی و رُومانی ڈراما فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس فیسٹیول میں ہندوستانی ادب کے درخشندہ سرمائے، خصوصاً اردو و ہندی کے کلاسیکی اور تہذیبی رنگ کو اسٹیج پر اس نزاکت اور محویت کے ساتھ پیش کیا جائے گا جو دلوں کی تہوں تک اثر چھوڑ جائے۔ یہ تہذیبی و ثقافتی جشن 30 اور 31 مئی کو منعقد ہوگا، اور مجموعی طور پر پانچ ڈرامے پیش کیے جائیں گے۔ ان تمام ڈراموں کی بنیاد ہمارے ادبی ورثے کی معتبر روایتوں، لازوال کرداروں اور اُن فن کاروں پر ہے جنہوں نے برصغیر کی فکری دنیا میں اپنے نقش گہرے کیے ہیں۔ 30 مئی — "آداب میں پریم چند ہوں" سیریز کے تین شاہکار ڈرامے پہلے روز منشی پریم چند کے جاوداں افسانوں پر مبنی تین ڈرامے پیش کیے جائیں گے:
"بڑے گھر کی بیٹی", "شانتی" اور "بڑے بھائی صاحب"۔ منشی پریم چند کا شما...

معروف اُردو شاعر بشیر بدر 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

Image
معروف و مقبول اُردو شاعر، غزل گو اور دانشور بشیر بدر کا 91 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ اُن کے انتقال کی خبر سے ہندوستان سمیت دنیا بھر میں اُردو ادب، شعرو سخن اور ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اُردو غزل کی ایک ایسی توانا آواز تھے، جنہوں نے محبت، تنہائی، انسان دوستی، وقت کی بے ثباتی اور زندگی کے کرب کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان کیا۔ بشیر بدر کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت اُس کی سادگی، دل نشینی اور عام فہم زبان تھی۔ اُن کے اشعار نہ صرف مشاعروں کی جان بنتے تھے بلکہ عام لوگوں کی گفتگو، خط و کتابت اور سماجی زندگی کا حصہ بھی بن گئے تھے۔ اُن کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوئے، جن میں یہ شعر خاص طور پر بے حد مقبول ہوا: *“شہرت کی بلندی بھی اک پل کا تماشا ہے* *جس شاخ پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے”* اُن کی شاعری میں ہمیں میر  کی روایت کی جھلک بھی محسوس ہوتی ہے، جہاں سادگی کے ساتھ گہری داخلیت اور انسانی جذبات کی شدت موجود ہوتی ہے۔ عشق، جدائی، یاد، محرومی اور زندگی کے پیچیدہ سوالات کو انہوں نے ایسی زبان دی جو ہر دل تک پہنچتی تھی۔ ...

اپنے باطنی تکبر کی قربانی دیں : نگر دیولا میں عید الاضحیٰ عقیدت، احترام اور پُر امن ماحول میں منائی گئی.

Image
جلگاؤں ( عقیل خان بیاولی) ضلع جلگاؤں کے نگردیولہ شہر میں عید الاضحی انتہائی روحانیت عقیدت کے ساتھ منائی گئی اس موقع پر خطیب و امام حضرت آل رسول نے فرمایا "اگر آپ واقعی قربانی دینا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے اپنے باطن میں بیٹھے تکبر غرور ،غصے، لالچ اور جہالت کی قربانی دیں۔ آج کا دن صرف جانوروں کی قربانی دینے کا نہیں ہے، بلکہ اللہ کی راہ میں اپنی ہر پسندیدہ چیز کو حق کے راستے پر قربان کرنے کی یاد دلاتا ہے "۔ اس موقع پر خصوصی خطاب کرتے ہوئے حضرت خطیب و امام نے سماج کی رہنمائی فرمائیں۔ انہوں نے آگے کہا کہ، "اگر اللہ نے آپ کو صاحبِ حیثیت بنایا ہے، تو دولت کی ہوس کو چھوڑ کر یتیموں، بیواؤں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے آگے آئیں، یہی عید الاضحیٰ کا اصل پیغام ہے۔ "اس موقع پر ملک کی ترقی اور عالمی امن کے لیے بھی دعائیں کی گئیں نمازِ عید ادا کرنے کے بعد سبھی نے اللہ کا شکر ادا کیا اور 'تکبیر' کا ورد کیا۔ حضرت نے اس موقع پر خصوصی دعا کروائی۔ اس میں بھارت اور پوری دنیا میں امن و امان قائم ہونے، ملک کی ترقی، دنیا میں جاری جنگوں کے خاتمے اور عالمی بھائی...

بشیر بدر: جدید اردو غزل کے ایک عہدِ زریں کا خاتمہ - (ایک چراغ اور بجھ گیا: اردو ادب کا عظیم خسارہ اور لازوال وراثت)بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔

Image
بشیر بدر: جدید اردو غزل کے ایک عہدِ زریں کا خاتمہ -  (ایک چراغ اور بجھ گیا: اردو ادب کا عظیم خسارہ اور لازوال وراثت) بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔ اردو غزل کے افق پر جو چراغ دہائیوں تک اپنی سادگی، معصومیت اور جذباتی حلاوت کے ساتھ فروزاں رہا، وہ بالآخر 28 مئی 2026ء کو ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا۔ مایہ ناز اور عہد ساز شاعر ڈاکٹر بشیر بدر 91 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے فتح گڑھ علاقے میں واقع اپنی رہائش گاہ "بشیر منزل" کے اسی گوشے میں اپنی آخری سانسیں لیں جہاں وہ کبھی مشاعروں کی بزم سجایا کرتے تھے۔ ان کی رحلت پر ان کی شریکِ حیات ڈاکٹر راحت بدر نے انتہائی رنجیدہ دل کے ساتھ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس الم ناک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا: "بشیر صاحب ہمیں چھوڑ گئے، دعاؤں کی درخواست ہے"۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی علمی و ادبی حلقوں میں رنج و ملال کی لہر دوڑ گئی۔ ممتاز نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر نے گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری پیاری زبان اردو غریب تر ہو گئی ہے اور ایک انتہائی خوش الحان ا...

معروف شاعر بشیر بدر کی رحلت اردو ادب کا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

Image
معروف شاعر بشیر بدر کی رحلت اردو ادب کا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی شاعری محبت، درد، ہجرت اور انسانی احساسات کی خوبصورت ترجمان تھی۔ وہ اپنے اشعار کے ذریعے ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے۔ “اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دے نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے” اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ و چاہنے والوں کو صبرِ جمیل دے۔ ان کی یادیں اور اشعار ہمیشہ اردو ادب کے افق پر روشن رہیں گے۔ ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی،صدرشعبہ اردو, انجمن ڈگری کالج, دھارواڑ،کرناٹک

حج زندگی کو بدلنے والا سفر - میئر لندن صادق خان جنہون نے امسال نے فریضۂ حج ادا کیا۔

Image
  کے این واصف : لندن کے میئر صادق خان نے اس سال فریضہ حج کی سعادت حاصل کی ہے۔  میئر صادق خان نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ خانہ کعبہ کے آگے کھڑے نظر آ رہے ہیں۔انھون نے حج کے ساتھ لندن اور دنیا بھر کے مسلمانون کو عید کی مبارکباد دی۔ انھون نے یہ بھی کہا حج زندگی کو بدلنے والا سفر ہے۔ میں واقعی خود کو قابل فخر اور خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ اس سال مجھے دنیا بھر سے آنے ہوئے لاکھوں مسلمانوں کے ساتھ فریضہ حج ادا کرنے کا موقع ملا۔ اللہ ہم سب کی عبادات کو قبول فرمائے۔  واضح رہے کہ پاکستانی نژاد صادق خان ریکارڈ تیسری مرتبہ لندن کے میئر بنے ہیں۔ 1970 میں لندن میں پیدا ہونے والے صادق خان کے والدین پاکستان سے نقل مکانی کرکے برطانیہ آئے تھے۔ صادق خان نے عام سرکاری اسکول میں اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد وکالت کی ڈگری حاصل کی۔

کاش اِس عید پر ہم اپنی ’’انا‘‘ذبح کردیتے۔محسن رضا ضیائی،پونے۔

Image
کاش اِس عید پر ہم اپنی ’’انا‘‘ذبح کردیتے۔ محسن رضا ضیائی،پونے۔ رابطہ:  9921934812 عیدالاضحیٰ مسلمانوں کا ایک عظیم اور مقدس تہوارہے،جسے اسلام میں تین دن تک منانا مشروع ہے،ہر سال ۱۰؍ذی الحجہ سے لے کر ۱۲؍ذی الحجہ تک پوری دنیا میں منایاجاتاہے ۔ہمارے ملک ہندوستان میں عیدِ قرباں کایہ عظیم الشان تہوار امن و شانتی ،مسرت و خوشی اور اتحادویکجہتی کے ساتھ منایاگیا ۔ملک میںکہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع موصول نہیںہوئی۔البتہ ملک کی تشویش ناک اور بد ترین صورت حال کولے کرکافی رنج وغم اور خوف وہراس محسوس کیا گیا۔ بہرِ حال!ہر سال کی طرح امسال بھی فرزندانِ توحید نے نہایت ہی جوش وخروش اور تزک و احتشام کے ساتھ عیدالاضحی منایا۔شہر کی ہر چھوٹی بڑی مسجد اور عیدگاہ میں مسلمانوں کے اجتماعی قافلوں او رامڈتے ہوئے سیلاب کا پرکیف منظربھی قابل دید اورلائق رشک تھا، تکبیرو تشریق کی گونجیں ہواؤں میں تحلیل ہورہی تھیں،اجتماعی رقت انگیزذکرودعاکامنظر بھی کافی پُرسوز تھا ۔ توحید کے پر ستاروںاورمتوالوںکے لبوں سے نکلے ہوئے لفظِ آمین سے ہوائیں لطف اندوز ہورہی تھیں۔راہِ خدا میںقربانی کے جانورا...

کیا ہم نے قربانی کے پاکیزہ جذبوں کی یادگار کے فلسفہ کو سمجھا ہے؟ ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ - سعید پٹیل جلگاؤں۔

Image
کیا ہم نے قربانی کے پاکیزہ جذبوں کی یادگار کے فلسفہ کو سمجھا ہے؟ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ -  سعید پٹیل جلگاؤں۔  الله رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دے کر اس کو افضلیت بخشی ہے۔اس لیۓ اس سے کام بھی بڑے اور بلند مرتبے والے لیۓ گیۓ ہیں۔کیونکہ حضرت انسان کو الله رب العزت نے فطری طور پر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ، مسائل و معاملات کو حل کرنے اور فکری صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔اسی لیۓ اس سے مطالبات بھی اسی درجے کےکیۓ گیۓ ہیں۔جن میں قربانی جیسا پاکیزہ عمل بھی شامل ہے۔جو سنت ابراہیم علیہ السلام کے طور پر ہم ادا کرتے ہیں۔جس کا بنیادی مقصد و اصل فلسفہ یہ ہےکہ انسان محض ظاہری جانور کی قربانی دینے کے بجاۓ اپنے اندر موجود انا ، ضد ، خواہشات نفس ، اقرباپروری ، جانبداری ، غرور ، اپنا غصہ ، اپنی کڑوی اور سخت لہجہ زبان اور برے جذبے کو اللّٰه کے واسطے چھوڑ دے اور اللّٰه کی مکمل فرمانبرداری اختیار کرے اور اس کے حکم کو خندہ پیشانی سے مانے۔ہر سال دی جانےوالی اس یادگار قربانی کے عمل سے گذرنے کے بعد اپنے اس نیک عمل کے ساتھ عبادتیں ، فرائض ، سادگی ، اور نمونہ...

اقوامِ متحدہ میں نوکریاں قابل تعلمی یافتہ نوجوانوں کا انتظار ۔ از قلم : محمود علی لیکچرر۔

Image
اقوامِ متحدہ میں نوکریاں قابل تعلمی یافتہ نوجوانوں کا انتظار .. از قلم : محمود علی لیکچرر۔ 8055402819 عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں دنیا میں بے روزگاری، معاشی عدمِ استحکام اور بڑھتی ہوئی مسابقت کے دور میں نوجوانوں کی نظریں بین الاقوامی اداروں پر جمی ہوئی ہیں۔ انہی اداروں میں ایک اہم نام United Nations یعنی اقوامِ متحدہ کا ہے، جہاں ملازمت صرف روزگار نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایک ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ آج کے تعلیم یافتہ نوجوان کے ذہن میں یہ سوال عام ہے کہ کیا اقوامِ متحدہ میں نوکری حاصل کرنا ممکن ہے؟ اور اگر ممکن ہے تو اس کے لیے کن صلاحیتوں کی ضرورت ہے؟ اقوامِ متحدہ دنیا کے تقریباً ہر خطے میں امن، تعلیم، صحت، ماحولیات، انسانی حقوق اور پناہ گزینوں کے مسائل پر کام کرتی ہے۔ اس کے تحت بے شمار ذیلی ادارے کام کرتے ہیں، جیسے UNICEF، UNESCO، World Health Organization اور UNHCR۔ ان اداروں میں ڈاکٹر، انجینئر، مترجم، قانون دان، اساتذہ، صحافی، آئی ٹی ماہرین اور انتظامی افسران تک کے لیے مواقع موجود ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر ...

جمعیتہ العلماء تلنگانہ کی جانب سے عیدالاضحیٰ پر امت مسلمہ کو مبارکباد، خواہشات نفس کی قربانی پر زور۔

Image
حیدرآباد- 27/ مئی (نمائندہ) صدر جمعیتہ العلماء تلنگانہ مولانا سید شاہ احسان الدین صاحب و جنرل سکریٹری حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب نے ریاست کے تمام ضلعی صدور و نظماء کے نام اپنے خصوصی پیغام میں عالم اسلام کو عیدالاضحیٰ کی پُرخلوص مبارکباد پیش کی ہے۔ جمعیت قائدین نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا کہ عیدالاضحیٰ دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اُس عظیم سنت کی یادگار ہے جب انہوں نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا و محبت کے لیے اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا عزم کیا تھا۔ آج ہم اسی سنت ابراہیمی کی پیروی میں جانوروں کی قربانی پیش کرتے ہیں جس کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ مولانا سید شاہ احسان الدین صاحب نے مزید فرمایا کہ عیدالاضحیٰ کا پیغام صرف جانوروں کی قربانی تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہمیں اپنی خواہشاتِ نفس، تکبر، حسد اور تمام گناہوں کی بھی قربانی دینی چاہیے۔ قربانی کا اصل فلسفہ یہی ہے کہ انسان اپنے اندر تقویٰ پیدا کرے۔ جنرل سکریٹری حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب نے تمام ضلعی صدور و نظماء سے اپیل کی کہ وہ عید کے موقع پر صفائی، قانون کا احترام اور بین المذاہب ...

دیہی علاقوں میں ایس۔آئی۔آر۔ اور عیدالاضحیٰ سے متعلق انتظامات پر ایم پی جے وفد کی رکنِ اسمبلی مانک راؤ سے ملاقات۔

Image
ظہیرآباد 27/ مئی (نمائندہ) موؤمنٹ فار پیس اینڈ جسٹس (MPJ) ظہیرآباد یونٹ صدر محمد ایوب احمد کی قیادت میں ایک نمائندہ وفد نے رکنِ اسمبلی ظہیرآباد کوننٹی مانک راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے دیہی علاقوں میں SIR میپنگ کے کاموں سے متعلق ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ محکمہ جات کے ذریعہ میپنگ کے کام شفاف اور منظم انداز میں جلد مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات و مسائل کا ازالہ ہو سکے ملاقات کے دوران آنے والی عیدالاضحیٰ کے پیشِ نظر شہری و دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے انتظامات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفد نے مساجد کے اطراف بلیچنگ پاؤڈر کے چھڑکاؤ، گندگی کی بروقت صفائی، کچرے کی نکاسی اور صاف ستھرے ماحول کی فراہمی جیسے اہم امور کی جانب رکنِ اسمبلی کی توجہ مبذول کرائی۔رکنِ اسمبلی نے وفد کو یقین دلایا کہ عوامی مسائل کے حل و ترقیاتی کاموں کی تکمیل اور عیدالاضحیٰ کے پُرامن انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ضروری اقدامات کی ہدایت دینے کا بھی تیقن دیا تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کر...

اردو میڈیم سرکاری مدارس اور کالجس کے علاوہ دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کے والدین کو قربانی کا گوشت دینے کی اپیل۔

Image
حیدرآباد 27 مئی (محمد حسام الدین ریاض)  ایسے رشتہ دار،پڑوسی اور دوست احباب جن کے پاس قربانی ہو رہی ہے ان کو قربانی کا گوشت دینے کے بجائے جن غریب رشتہ داروں،پڑوسیوں کے پاس قربانی نہیں ہو رہی ہے ان کو اورخاص طور پر اردو میڈیم سرکاری مدارس اور کالجس میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات اور دینی مدارس میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات کے والدین میں قربانی کا گوشت تقسیم کریں کیونکہ ان ہی کے بچوں کی وجہ سے آج اردو زبان زندہ اور تابندہ ہے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے سرپرست معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں اور قربانی کے گوشت کے اولین مستحقین میں شامل ہیں یہ نہ سمجھیں کہ اردو میڈیم مدارس کے طلبہ و طالبات کے والدین کہاں ملیں گے   تھوڑی سی دلچسپی لیں تحقیق کریں اور پھر تلاش کر کے ان تک گوشت پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں مستحقین تک آپ کی قربانی کا گوشت بھی پہنچے گا اور اردو زبان کو زیادہ سے زیادہ تقویت بھی ملے گی  آپ کو یہ بات مناسب لگے تو دوسروں تک بھی پہنچائیں۔