اسرائیل پر فطرت کا حملہ: مکھیوں کی یلغار اور خوف کا سایہ - (مذہبی اضطراب کی لہر: کیا یہ مکھیوں کا حملہ الہامی عذاب ہے؟)۔ ازقلم : اسماء جبین فل۔
اسرائیل پر فطرت کا حملہ: مکھیوں کی یلغار اور خوف کا سایہ - (مذہبی اضطراب کی لہر: کیا یہ مکھیوں کا حملہ الہامی عذاب ہے؟) ازقلم : اسماء جبین فل۔ نیگب کے تپتے ریتیلے دامن میں جہاں آئرن ڈوم آسمان کا خود ساختہ نگہبان بن کر کھڑا ہے 15 اور 16 اپریل 2026 کو ایک سیاہ اور بھنبھناتا طوفان اٹھا۔ لاکھوں شہد کی مکھیوں کا دیوہیکل جھنڈ ایسے ٹوٹ پڑا جیسے فرعون کی ہڈیوں سے نکلا ہوا فطرتی غضب کا لشکر نتیووت شہر کے تجارتی مراکز، رہائشی گلیوں اور بازاروں پر اس طرح حملہ آور ہوا جیسے وہ غرور کی خود ساختہ سلطنت کی دیواریں چاٹنے کو بے تاب ہو۔ روشنی مدھم پڑ گئی، سڑکوں پر موت کا سناٹا چھا گیا اور دروازے مضبوطی سے بند کر دیے گئے۔ مقامی حکام کی لرزتی آواز گونج اٹھی کہ گھروں میں قید رہو اور دروازے کھڑکیاں بند رکھو۔ عام ہوابازی معطل کر دی گئی جبکہ ویڈیوز سماجی ذرائع ابلاغ پر پچاس لاکھ مرتبہ دیکھی گئیں جیسے یہ کسی ممنوعہ فطرتی عہد کی فلم کا تعارفی خاکہ ہو۔ کیا اربوں ڈالر کے میزائلوں کو نگل لینے والا آئرن ڈوم ایک کیڑے کے جھنڈ سے بچا سکتا ہے؟ یہ محض بہار کی ہجرت نہیں تھی بلکہ یہ تو کائناتی عدل کی...