Posts

آہ! بشیر پروازؔ صاحب: تدریس و ادب کے روشن چراغ کا بجھنا، شریوردھن اور سولاپور میں ماتم - ازقلم : اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ

Image
آہ! بشیر پروازؔ صاحب: تدریس و ادب کے روشن چراغ کا بجھنا، شریوردھن اور سولاپور میں ماتم -؛ ازقلم : اظہر ظہیر الدین کردمے،  شریوردھن ضلع رایگڈھ اپنی سانسوں میں آباد رکھنا مجھے میں رہوں نا رہوں یاد رکھنا مجھے شولاپور / شریوردھن: شولاپور اور شریوردھن کی تعلیمی، ادبی اور ثقافتی فضا آج ایک سچے رہبر، شفقت کے مجسمے اور عظیم معمارِ قوم کے بچھڑنے پر شدید سوگوار ہے۔ بزمِ غالب شولاپور کے صدر، ممتاز ادیب، شاعر، ڈرامہ نگار اور سابق استادِ محترم جناب بشیر پروازؔ صاحب ۸۲ برس کی عمر میں ۴ ستمبر ۲۰۲۶ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ ۵۰ برسوں سے زائد عرصے پر محیط ان کا بے لوث تعلیمی و ادبی سفر اختتام پذیر ہو گیا، جس سے ان کے ہزاروں شاگرد، عقیدت مند اور اردو داں طبقہ گہرے رنج و الم میں ڈوب گیا ہے۔ ایک عظیم سنگتراش اور سچے معمارِ قوم دنیا میں ہمیشہ قابل، مخلص اور بھلائی کے کام انجام دینے والے لوگوں کا ایک منفرد اور بلند مقام ہوتا ہے۔ کچھ شخصیات اپنے کردار کی عظمت سے لوگوں کے دلوں میں اس طرح جگہ بنا لیتی ہیں کہ فاصلے اور وقت بھی ان کی محبت کو کم نہیں کر سکتے۔ جناب بشیر پروازؔ صاحب ایک ایسے ہ...

میلاد النبی مبارک موقع پر جلسہ عام اور لنگر عام کا اہتمام کامیابی سے ہمکنار

Image
بتاریخ ١١ سپتمبر جمعہ شب سنیچر کے دن اڑیسہ کے ضلع جھاڑ سگڈا Brajrajnagar برج راج نگر شہر کے MCL محلہ رامگڑھ بوڑھی جام جامعہ نوریہ مسجد کمیٹی کے زیراہتمام محفل میلاد النبی مبارک موقع سے جلسہ عام پروگرام کار خیر لنگر بریانی دعوت طعام سے انعقاد ہوا ۔ علماء مقررین خاص جناب مفتی شمس الدین کلکتوی و دیگر مقامی عالم دین سرکاری قاضی علامہ مولانا رءیش کوثر مولانا عطاء اللہ ناظم مدرسہ تاج العلوم گوموڈیرا بیلپہاڑ خطیبِ و امام عبدالرزاق دھنبادوی مولانا قدرت اللہ و مولوی ممتاز برکاتی وغیرہ کے محفل میلاد النبی کے موقع سے ایمان افروز تقریر سیرتِ پاک طیبہ کے مجلس کو پرنور کردیا۔ نوری مسجد کمیٹی کے صدرمقام جناب جلال الدین رومی سکریٹری محمد عارف باللہ و دیگر اراکین بحسن وخوبی جلسہ کو کامیاب بنانے جدو جہد دل سے کیا  پروگرام کو کامیاب کرانے میں عبدالودود اجنبی ماہرین معدنیات صدر مایو نیریٹی اردو انجمن نے طلباء کرام میں دینی علوم بیداری کوءز سوال جواب مقابلہ پروگرام کروانے کا اعلان کیا ۔ آخر میں نعت خواں مولانا  محمود بھاگلپوری کے صلات سلام و دعاؤں سے میلاد النبی مبارک اختتام پذیر ہوا...

ڈاکٹر آف فارمیسی میں مرزا کاشف علی بیگ کی امتیازی کامیابی، ڈاکٹریٹ کی سند عطا

Image
بیدر، 12 ستمبر (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) مرزا چشتی صابری نظامی کے پوتے اور مرزا منصور علی بیگ کے فرزند مرزا کاشف علی بیگ نے ڈاکٹر آف فارمیسی کی تعلیم میں امتیازی کامیابی حاصل کرکے اپنے خاندان کا نام روشن کیا ہے۔ ماہِ رواں کی 10 تاریخ کو بنگلورو میں الامین کالج آف فارمیسی کی جانب سے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر بھون، بنگلورو میں منعقدہ تقریب میں وائس چانسلر کے ہاتھوں مرزا کاشف علی بیگ کو ڈاکٹر آف فارمیسی میں امتیازی کامیابی پر ڈاکٹریٹ کی سند عطا کی گئی۔ اس موقع پر اہلِ خاندان، دوست احباب اور متعلقین نے مرزا کاشف علی بیگ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ان کی محنت، لگن اور تعلیمی جدوجہد کا ثمر ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرزا کاشف علی بیگ کو علم و عمل میں مزید ترقی عطا فرمائے اور ان کے علم کو انسانیت کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین۔

ہندوستانی کمیونٹی کی جانب سے ریاض میں وزیر کیرتی وردھن سنگھ کا پر وقار استقبالیہ۔ کمیونٹی کے دیرینہ مطالبات پر یادداشت پیش۔

Image
کے این واصف :  آل انڈیا اسٹیرنگ کمیٹی ریاض کی جانب سے ترتیب دی گئی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مملکتی وزیر برائے امور خارجہ شری کیرتی وردھن سنگھ نے مشترکہ مقصد اور قومی عزم کے تحت ایک پرجوش اپیل کرتے ہوئے، سعودی عرب میں مقیم ہندوستانی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے “وکست بھارت 2047” کے وژن کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کریں۔ یہ وژن ایک خوشحال، خود مکتفی اور عالمی سطح پر بااثر ہندوستان کی تعمیر کا عکاس ہے۔ انٹرنیشنل انڈین اسکول ریاض (IISR) میں ہندوستانی برادری کے ارکان کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، سعودی عرب کو سرکاری دورے پر آئے شری سنگھ نے ملک کی ترقی اور امنگوں کی تکمیل میں بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کے گراں قدر تعاون کو اجاگر کیا۔ ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان مستحکم تعلقات، شراکت داری میں بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی برادری کے گہرے اور دیرپا کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ثقافت کے شعبوں میں دوستی اور تعاون کے تعلقات کو فروغ دینے میں ان کی بیش بہا خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی موجودگی ج...

ممبئی یونیورسٹی کیمپس میں منعقدہ انٹر کالجیٹ بیت بازی میں رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کی ٹیم کو اول انعام

Image
بھیونڈی: (عبدالعزیز انصاری) بزمِ احباب فاؤنڈیشن، ممبئی اور شعبۂ اردو، ممبئی یونیورسٹی کے باہمی اشتراک سے 8 ستمبر 2026 بروز منگل مراٹھی بھاشا بھون آڈیٹوریم میں انٹر کالجیٹ بیت بازی مقابلے کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں ممبئی، ممبرا اور بھیونڈی کے مختلف کالجوں کی کل بارہ ٹیموں نے حصہ لیا۔ مقابلے میں رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بھیونڈی کی طالبات نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اول مقام حاصل کیا اور ادارے کا نام روشن کیا۔ رئیس جونیئر کالج کی جانب سے انصاری حمیرا شکیل احمد (بارہویں سائنس بی) اور خان سدرہ صدف اکبر علی (گیارہویں سائنس اے) نے مقابلے میں شرکت کی۔ٹیم میں شامل دونوں طالبات نے اپنی عمدہ تیاری، شعری ذوق، مضبوط حافظۂ اشعار اور پُراعتماد اندازِ پیشکش کے ذریعے مقابلے کے مختلف مراحل میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مقابلے کے دوران شرکاء کی کارکردگی جانچنے کے لیے اشعار کا بروقت انتخاب، شعری حافظہ، برجستگی، روانی اور درست تلفظ جیسے اہم معیارات کو پیشِ نظر رکھا گیا۔ رئیس جونیئر کالج کی طالبات نے معروف شعراء کے اشعار نہایت اعتماد اور برجستگی کے ساتھ پیش کرتے ہوئے ...

نعت خوانی مقابلے میں یونک اردو ہائی اسکول کی طالبہ عالیہ شیخ اول

Image
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں اہلِ ایمان اور برادرانِ وطن کو تعلیماتِ رسولِ اکرم ﷺ سے روشناس کرانے کے مقصد سے ’Prophet for All‘ کے عنوان سے ملک گیر مہم جاری ہے۔ اسی سلسلے میں اقراء شاہین اردو ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، مہرون، جلگاؤں میں شہری سطح پر نعت خوانی مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ مقابلے میں یونک ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیرِ انتظام یونک اردو ہائی اسکول، تانباپورہ، کی طالبہ عالیہ شیخ فیروز نے اپنی دلنشیں نعت خوانی سے اول مقام حاصل کرکے ادارے کا نام روشن کیا۔ طالبہ کی اس نمایاں کامیابی پر یونک ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے سیکریٹری عبدالقیوم شاہ، ڈائریکٹر گلاب شیخ اور دیگر اراکینِ انتظامیہ، نیز صدرِ معلم شیخ نعیم الدین اور معاون معلم شیخ سلیمان نے دلی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر طالبہ کو 200 روپے نقد انعام سمیت دیگر انعامات سے نوازا گیا شرکائے مقابلہ اور منتظمین نے طالبہ کی بہترین کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے مبارکباد پیش کی اور اس کی کامیابی میں رہنمائی و تربیت کرنے والے اساتذۂ کرام کی بھی ستائش کی۔

بیدر میں 13 /ستمبر کو عظیم الشان کل ہند مشاعرہ، ممتاز شعراء کی شرکت

Image
بیدر۔11/ستمبر (پریس نوٹ) جناب محمد سلمان، سکریٹری عائشہ جیوتی سوسائٹی بیدر نے اپنے پریس نوٹ میں اطلاع دی ہے کہ کرناٹک اردو اکادمی، بنگلورو اور عائشہ جیوتی سوسائٹی، بیدر کے باہمی اشتراک سے 13 /ستمبر 2026ء بروز اتوار 8:30 بجے شب، ڈیسنٹ فنکشن ہال،موقوعہ دلہن دروازہ روڈ، بیدر میں ایک عظیم الشان کل ہند مشاعرہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ مشاعرہ اردو زبان و ادب کے فروغ، شعری ذوق کی آبیاری اور اہلِ ذوق کو معیاری شاعری سے محظوظ کرنے کی غرض سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ منتظمین نے اس ادبی شام کو بیدر کی تہذیبی و ادبی روایت میں ایک یادگار اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشاعرے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تشریف لانے والے ممتاز شعراء اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کریں گے۔ مشاعرے کی صدارت جناب محمد رحیم خان، رکن اسمبلی بیدر، سابق ریاستی وزیر کریں گے، جبکہ جناب ایشور کھنڈرے، ریاستی وزیرِ دیہی ترقیات وپنچایت راج، حکومتِ کرناٹک، بطور خصوصی معزز مہمان شخصیت شریک ہوں گے۔مشاعرے میں محمد امین نواز رکن کرناٹک اردو اکادمی، جناب شاہ رفیع الزماں صاحب قادری، المعروف اسلم قادری، صدر ادارہء اسلامی ہند شاخ بیدر، ج...

نقشِ باقی — آزاد نظم - ازقلم : عنایت اللہ خان۔

Image
نقشِ باقی — آزاد نظم -  ازقلم : عنایت اللہ خان۔    رہیں نہ رہیں ہم یہ وقت رہے گا یہ راستے، یہ درخت، یہ مٹی کی خوشبو کسی اور کے قدموں سے آشنا ہوگی ہم تو بس ہوا کے ایک جھونکے تھے آئے… چھو کر گزر گئے کل جب سورج پھر اُبھرے گا وہ ہم سے سوال نہیں کرے گا اور نہ چاند ہماری کہانی دہرائے گا مگر کہیں نہ کہیں کسی دل کے کونے میں ایک ہلکی سی روشنی ہماری وجہ سے ہوگی ہم نے رہتے ہوئے کتنی روشنی بانٹی کتنے اندھیرے کم کیے کیونکہ وجود سے زیادہ اثر باقی رہتا ہے۔

کہانی - ’’بددعا‘‘ - ازقلم : رہبر تماپوری

Image
 کہانی -   ’’بددعا‘‘ -  ازقلم: رہبر تماپوری ، مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا رابطہ: 8431012141 گاؤں کے بیچ اقبال کی پختہ حویلی اپنی اونچی دیواروں سے امارت کا اعلان کرتی تھی۔ وہ اپنے خاندانی وقار پر نازاں تھا۔ اسی گاؤں کے کنارے عظمت کی کچی جھونپڑی تھی، جہاں لو اور سرد ہوا درزوں سے اندر آتی تھی۔ وہاں ایک خوددار مزدور رہتا تھا، جو حلال کمائی پر یقین رکھتا تھا۔ زینب، اقبال کی بیوی اور عظمت کی بہن تھی۔ اس کے لیے بھائی کی جھونپڑی اور شوہر کی حویلی کے درمیان چند گلیوں کا فاصلہ تھا، مگر وہ دو دنیاؤں کے بیچ کھڑی تھی۔ وہ دونوں کو جوڑنا چاہتی تھی، مگر اقبال کی انا ہر بار دیوار بن جاتی۔ اقبال کو عظمت کی غربت کھٹکتی تھی۔ وہ اسے اپنی شان پر داغ سمجھتا اور اکثر اس کی محنت کا مذاق اڑاتا۔ ایک دوپہر سورج آگ برسا رہا تھا۔ عظمت کئی دن کی مسلسل مزدوری کے بعد پسینے میں شرابور اور بھوک سے نڈھال اپنی بہن کے گھر پہنچا۔ زینب نے اسے پانی دیا اور محبت سے گرم کھانا لا کر سامنے رکھ دیا۔ عظمت نے پہلا لقمہ اٹھایا ہی تھا کہ اق...

محبتِ رسول ﷺ ایمان کی روح، نماز کی پابندی کی تلقین.ڈاکٹر محمد ادریس احمد قادری بگدلی کا خطاب

Image
بیدر، 11 ستمبر (نامہ نگارمحمد عبد الصمد) آستانۂ قادریہ بگدل شریف میں منعقدہ مرکزی جلسہ جشن عیدمیلاد النبی سے خطاب کرتے ہوئے پیرِ طریقت شاہ خلیفہ ڈاکٹرالحاج محمد ادریس احمد قادری بگدلی، سجادہ نشین درگاہ آستانۂ قادریہ بگدل شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوب و مکرم حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔ امتِ محمدیہ میں شامل ہونا ہمارے لیے بہت بڑی سعادت اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کو مختلف معجزات اور خصوصیات عطا فرمائیں، جبکہ حضور اکرم ﷺ کو رحمت، شفقت اور امت پر بے مثال کرم عطا فرمایا۔ حضرت نے اپنی نگرانی میں مریدین و حاضرین کو آثارِ موئے مبارک کی زیارت انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ کروائی، جس سے حاضرین نے فیض و برکت حاصل کیا اور درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا۔ بعد ازاں پیرِ طریقت نے درسِ تصوف دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی معرفت، عبادت، اصلاحِ نفس اور نیکی کی زندگی اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور حضور اکرم ﷺ کی اتباع ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے...

تھابلاوا اک اسدالدین کا -(عزیز دوست محمد اسدالدین کے سانحہ ء ارتحال پر) - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

Image
تھابلاوا اک اسدالدین کا - (عزیز دوست محمد اسدالدین کے سانحہ ء ارتحال پر) -  میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک  تھابلاوا اک اسدالدین کا جانا بھی فرمان ہے جب دین کا چھوڑکر وہ چل پڑے رب کے حضور پاس رب کے جانے کا ہوگا سرور کچھ سماجی کام اسدالدیں کے ہیں  کچھ سیاسی شوق بھی فرمائے ہیں  تھی صحافت سے انھیں دلچسپی بھی  کام ادب کے بھی کئے ہیں دل سے ہی  جتنا بھی تھا اجتماعی تھا شعور سامنے ملت کے رہتے تھے ضرور  جب کہا جو بھی کہا اچھا کہا ہاں سیاسی نقد بھی عمدہ کیا تھے سیاست میں مگر شرفاء سے تھے  وہ برے سب کام سے توبہ سے تھے  شعر کہنے پر کہیں ارشاد وہ  عطیہ خوں کرنے کی تھے بنیادوہ  درس مذہب کا بھی ان کو یاد تھا رب و احمد سے بھی دِل آباد تھا لینے دینے زیست تھی لیکن کھری  فکر بچوں کی بہت تھی،سو رہی  راستے پر چلتے تھے آباء کے وہ  سنگ رہتے تھے سدا غرباء کے وہ  تواسد کی مغفرت فرمادے رب  جنتی بنوانے کو بخشادے رب  روشنی میں دن کی تھے، شب بھر بھی تھے  میر ؔ کے وہ دوست تھے، دلبر بھی تھے

سریلی - ازقلم : مسرورتمنا۔

Image
سریلی -  ازقلم : مسرورتمنا۔ پتہ نہیں  کیوں ماں نے اسکا نام سریلی رکھدیا تھا وہ تھی بھی بلا کی خوبصورت اور جوان ہوتے ہوتے نام کا اثر بھی نظر آنے لگا اور بنسی اسکا دیوانہ ہوگیا وہ بھی اسے چاھتی تھی محبت کا جذبہ ذمانے کے بھید بھاو سے پرے انہں کسی اور دنیا میں لے چلا سریلی اتنی بے خود تھی کے آپنی ماں کے بچھایے جال میں پھنس گئ سریلی کو وہ پردیسی بابو عمر لے گیا سریلی نے بنسی کو اخری میسج دی تھی  میری مٹی میں ضرور آنا میرا دم کہیں بھی نکلے ..... میری یاد مٹنے نہ دینا لہو رس رس کے بہتا ہے آنکھوں سے سریلی محبت کا غم دل میں دباے عمر کی خدمت کرتی رہی... وہ سفاک جو دلال تھا.   اسکی دولت سے ماں اپنا گھر بھر چکی تھی دو بیٹیوں کا بیاہ بڑے گھر میں کر دیا اور اب اکیلی خوشحال ذندگی گذار رہی تھی مگر اچانک عمر اسے کہیں باہر لے گیا اور جوا میں ہار کر شراب میں ڈوب گیا سریلی اس عیاش آدمی سے بچ کر ماں کے پاس واپس آی ....     ماں تو نے مجھے جس کے ہاتھ سونپا وہ مرد نہیں راون تھا ماں تو نے دولت کی خاطر میرا سودا کیا اپنی دونوں بیٹی اور اپنا جیون سکھی کرل...

شاہ سلمان مقابلہ حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر، 9 ملین ریال کے انعامات۔

Image
کے این واصف :   خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر سرپرستی وزارت اسلامی امور نے مقامی سطح پرشاہ سلمان مقابلہ حفظ قرآن کریم و تلاوت و تفسیر کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ پچھلے ماہ مملکت نے بین الاقوامی قراءت کے مقابلوں کا انعقاد عمل میں لایا تھا۔  سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق مقابلے کے 28 ویں ایڈیشن کے مجموعی انعامات 9 ملین ریال ہوں گے جو 6 مختلف کیٹیگریز کے فاتحین میں تقسیم کیے جائیں گے۔ مقابلے کا ابتدائی راؤنڈ مملکت میں علاقائی سطح پر 21 جمادی الاول سے شروع ہو کر 22 رجب 1448 ہجری تک جاری رہے گا۔ فائنل کوالیفائر راؤنڈ ریاض میں 24 سے 29 شعبان 1448 ہجری کو منعقد کیا جائے گا جبکہ لڑکیوں کے لیے اختتامی تقریب 2 رمضان اور لڑکوں کے لیے 3 رمضان المبارک کو منعقد کی جائے گی۔ وزیر اسلامی امور اور مسابقے کے نگران اعلی شیخ ڈاکٹرعبداللطیف آل الشیخ نے بتایا مملکت کی سطح پر منعقد ہونے والے مقابلے کے 28 ویں ایڈیشن میں 6 کیٹیگریز ہیں۔ پہلی کیٹیگری مکمل حفاظ کے لیے جو ساتوں متواتر قراتوں پر عبور رکھتے ہوں، دوسری کیٹیگری میں مکمل حفظ کے ساتھ دس ق...

علم و عمل کی جامع شخصیت - حضرت مولانا مفتی روشن شاہ صاحب قاسمی( صدر دینی تعلیمی بورڈ مہاراشٹر) کا اجمالی تعارفی خاکہ از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی - (جنرل سیکرٹری دینی تعلیمی بورڈ ضلع ناسک)

Image
علم و عمل کی جامع شخصیت -  حضرت مولانا مفتی روشن شاہ صاحب قاسمی( صدر دینی تعلیمی بورڈ مہاراشٹر) کا اجمالی تعارفی خاکہ  از قلم :  مفتی محمد اسلم جامعی -  (جنرل سیکرٹری دینی تعلیمی بورڈ ضلع ناسک)  پیش کش قاری اخلاق احمد جمالی صاحب -  (صدر دینی تعلیمی بورڈ ضلع ناسک)  اہلِ علم میں بعض شخصِیَّات اپنی علمی و فکری جولانی، سحر بیانی، سلاستِ لسانی، جوانمردی، علمی و قلمی پختگی، اعلیٰ کردار، بلند اوصاف، عمدہ اخلاق، بلند ہمتی اور کام کی دُھن سے، ہمیشہ دل و دماغ پر مرتسم ہوتی ہیں ان کی عظمت و رفعت کا سکہ اکثر تصورات و خیالات کی دنیا پر رائج رہتا ہے حالاں کہ وہ گوشہ نشینی اور گم نامی کے خواہاں و دلدادہ ہوتے ہیں مگر مشیتِ ایزدی ثُمَّ یُوْضَعُ لَهُ الْقَبُوْلُ فی الأرضِ کے قاعدہ سے قبولیتِ عامہ حاصل ہوتی ہے، اور ان کے معاصرین اور بعد کی نسل کے لے ان کی پاکیزہ زندگی کے اطوار اور خیر کی روش، عمل پیرا ہونے کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہے ان ہی بافیض اور باکمال شخصّیات میں ایک منفرد نام حضرت مولانا مفتی روشن شاہ صاحب قاسمی کا بھی ہے تاریخ پیدائش :   ...

بلبلِ دکن: پروفیسر فاطمہ پروین‘‘ - پروفیسر حمیرہ سعید کی مرتب کردہ کتاب کی آج رسم اجراء

Image
حیدرآباد۔ 12/ستمبر (پریس نوٹ):میڈیا پلس فاؤنڈیشن اور انجمن ریختہ گویان کے زیر اہتمام معروف استاد، ادیبہ، مصنفہ و ماہر دکنیات پروفیسر فاطمہ پروین (مرحومہ) کی علمی و ادبی شخصیت اور خدمات پر مشتمل پروفیسر حمیرہ سعید کی مرتب کردہ کتاب ’’بلبلِ دکن: پروفیسر فاطمہ پروین‘‘ کی رسمِ اجرا 12 ستمبر کو شام 6 بجے میڈیا پلس آڈیٹوریم، عابڈز، حیدرآباد میں منعقد ہوگی۔علامہ اعجاز فرخ صاحب کے ہاتھوں کتاب کی رسمِ اجرا عمل میں آئے گی، جبکہ پروفیسر مظفر علی شہ میری، سابق وائس چانسلر، ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی، کرنول تقریب کی صدارت کریں گے۔مہمانانِ ذی وقار پروفیسر آمنہ تحسین، شعبہ خواتین، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،  پروفیسر ایس۔اے۔ شکور، ڈائریکٹر، دائرۃالمعارف، جامعہ عثمانیہ، پروفیسر نسیم الدین فریس، سابق ڈین، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، اور پروفیسر فضل اللہ مکرم، یونیورسٹی آف حیدرآباد ہوں گے۔کتاب پر ڈاکٹر گل رعنا، ایسوسی ایٹ پروفیسر، تلنگانہ یونیورسٹی اور ڈاکٹر فاضل حسین پرویز، ایڈیٹر ’’گواہ‘‘ تبصرہ کریں گے۔ڈاکٹر عطیہ مجیب عارفی اور ڈاکٹر انور الدین منظوم خراج پیش کریں گے اورن...

نبیری مولائی مرشدی حضرت محمد پیر افتخارعلی شاہ وطنؒ کاکینڈا میں انتقال

Image
حیدرآباد۔11/ستمبر(راست)خانقاہِ سنجریہ افتخاریہ کی اطلاع کے بموجب نبیری مولائی مرشدی حضرت محمد پیر افتخار علی شاہ وطن علیہ الرحمہ و پوتری حضرت پیر چشتی سید محمد ولی اللہ حسینی قبلہ علیہ الرحمہ دختر حضرت پیر سید نظام الدین شببر قادری علیہ رحمہ و بھتیجی علامہ افتخار المشائخ حضرت پیرافتخای سید قادر محی الدین حسین سنجری علیہ الرحمہ کاکینڈا میں انتقال ہوگیا۔نمازجنازہ و تدفین بروز جمعہ بتاریخ 11 ستمبر کو کینڈا ہی میں عمل میں آئی۔ گدی نشین قدیم خانقاہ سنجریہ افتخاریہ مولانا پیرزادہ سید کاشف اللہ حسینی بختیار عربی نے آپ تمام عزیز و قارب اور سلسلہ عالیہ افتخاریہ چشتیہ سنجریہ سے وابستہ مریدین و معتقدین سے دعاکی گزارش کی ہے۔ تفصیلات کے لئے فون 9885687786 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

آپ کا کچھ بھی نہیں ہے - از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ

Image
آپ کا کچھ بھی نہیں ہے -  از قلم: ظفر ھاشمی ندوی،  سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ ابھی حال میں ایک بڑے عربی عالم صاحب کا بیان سنا- کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب کے ایک کروڑپتی سے ان کا گہرا دوست ملنے گیا- گفتگو کے دوران مالدار دوست نے اس دوست کو بڑے فخر سے بتایا کہ وہ بہت بڑی جائیداد کا مالک بن گیا ہے اور اچھی خاصی ضیافت اور مہمان نوازی کے بعد وہ اپنے دوست کو لے کر اسے اپنی مختلف کمپنیاں اور دوسری جائیداد دکھانے گیا- سب کچھ دکھانے اور بتانے کے بعد اس نے اپنے دوست سے پوچھا تمہارا اس سب کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ دوست نے جواب دیا یہ سب ٹھیک ہے مگر اس میں سے تمہارا کچھ بھی نہیں ہے- مالدار دوست کو بڑا تعجب ہوا اور اس نے بیزارگی کے ساتھ پوچھا کیا مطلب اور کیوں میرا کچھ بھی نہیں ہے اور پھر کس کا ہے- دوست نے جواب دیا آپ برا مت مانیے جو کچھ آپ نے بتایا ہے ان سب کے مالک آپ کی موت کے بعد آپ کی اولاد بنے والی ہے - آپ نے یہ بالکل نہیں بتایا کہ اللہ کے راستہ میں آپ نے کیا خرچ کیا - اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہو جا...

ناندورہ شہر میں ایس۔آے۔آر۔ کی کامیابی کے لیے حاجی مزمل علی خان کی عوامی بیداری مہم کا مثبت اثر

Image
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی) بلڈانہ ضلع سمیت ریاست بھر کے ہر شہری کے لیے ضروری ہے کہ نظرثانی کے عمل کے دوران ووٹر فہرست میں اپنے نام کی تصدیق ضرور کرلیں۔ اگر ووٹر فہرست میں کسی شہری کا نام درج نہ ہو، نام یا دیگر معلومات میں کسی قسم کی غلطی پائی جائے، یا خاندان کے کسی اہل فرد کا نیا نام شامل کرنا ہو تو وقت رہتے ضروری کارروائی مکمل کروائی جائے۔ یہ اپیل بلڈانہ ضلع کے کانگریس رہنما حاجی مزمل علی خان نے کی ہے۔ نئے اہل ووٹر کا نام ووٹر فہرست میں شامل کروانے کے لیے فارم 6 جبکہ نام، پتہ، تاریخ پیدائش یا دیگر معلومات میں کسی قسم کی غلطی کی صورت میں فارم 8 داخل کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے ہر شہری اپنے خاندان کے تمام افراد کے نام ووٹر فہرست میں درج ہیں یا نہیں، اس کے ساتھ ہی درج شدہ معلومات درست ہیں یا نہیں، اس کی بھی اچھی طرح تصدیق کرے۔ کسی بھی قسم کی غلطی پائے جانے کی صورت میں متعلقہ فارم داخل کرکے ضروری درستگی کروانے کی اپیل حاجی مزمل علی خان نے کی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ SIR کا عمل شروع ہونے سے قبل ہی ناندورہ شہر میں حاجی مزمل علی خان کی جانب سے منظم اور منصوبہ بند طریقے سے ووٹر بیداری مہم شروع...

سوشل میڈیا کے دور میں ہماری ذمہ داریاں - کلیم اللہ امداد تیمی، مسجد یعقوبیہ اہلحدیث، چینئی

Image
سوشل میڈیا کے دور میں ہماری ذمہ داریاں -  کلیم اللہ امداد تیمی،   مسجد یعقوبیہ اہلحدیث، چینئی  موجودہ دور کو ابلاغ اور رابطے کا دور کہا جاتا ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے انسانی رابطوں کو غیر معمولی وسعت دے دی ہے۔ واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور دیگر ذرائع کے ذریعے آج ایک شخص چند لمحوں میں اپنی بات ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ سہولت بلاشبہ ایک بڑی نعمت ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں علم، معلومات اور خیالات کی ترسیل کو آسان بنایا ہے، وہیں جھوٹی خبروں، افواہوں، غیبت، بہتان، تضحیک، بدگمانی، گالم گلوچ اور بے مقصد بحث و مباحثے کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔ افسوس کہ بہت سے لوگ یہ سوچے بغیر کہ ان کے ایک جملے، ایک تصویر، ایک ویڈیو یا ایک شیئر سے کسی کی عزت مجروح ہوسکتی ہے، اسے دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ اسلام نے انسان کو صرف زبان کے استعمال میں نہیں بلکہ ہر طرح کے اظہار میں ذمہ دار بنایا ہے۔ آج ہماری انگلیاں بھی وہ کام کررہی ہیں جو پہلے زبان کیا کرتی تھی۔ اس لیے سوشل میڈیا کے استعمال میں اسلامی اخلا...

دینیات مسجد پیرانی پارہ. بھیونڈی میں فری موتیابن آپریشن کے کمپ کا انعقاد

Image
بھیونڈی (عبدالرحمن. یوسف): بروز جمعرات ١٠/ ستمبر صبح ٩:٣٠/ بجے سے دوپہر ١ / ٣٠ بجے تک شانتی لال سنگھوی آئی انسٹیٹیوٹ،  ممبئی اور الانصار میڈکل ویلفیئر سوسائٹی کے تعاون سے مسجد و مدرسہ دینیات پیرانی پارہ بھیونڈی میں موتیابند آپریشن کا مفت علاج کے لیے کمپ کا انعقاد عمل میں آیا ۔اس کمپ میں 144/ مرد و خواتین کی آنکھوں کی تشخیص کی گئی ۔جس میں سے آپریشن کے لیے 38/ افراد کو منتخب کیا گیا ۔جس میں سے 18/افراد آپریشن کے لیے مکمل فٹ قرار پائے ۔ان 18/ افراد کا آپریشن شانتی لال سنگھوی آئی انسٹیٹیوٹ،ممبئی مفت میں آپریشن کرے گی ۔انھیں منگل 15/ ستمبر 2026/ء کو SSEI سینٹر دینیات مسجد سے بس کے ذریعے لے جایا جائے گا ۔بدھ کو آپریشن ہوگا ۔ایک انھیں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کی صحت اور آپریشن کی گئی آنکھ کی مکمل جانچ کے بعد دوسرے دن جمعرات کو واپس بذریعہ بس دینیات مسجد تک پہنچا دیا جائے گا ۔ اس کمپ میں شانتی لال سنگھوی آئی انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر اور ان معاونین نے 144/ افراد کے آنکھوں کی جانچ کمپیوٹر سے کی ۔آنکھ کا بی پی،موتیابند کی تشخیص،شوگر کی پہچان،اور بی پی کی جانچ چشمہ کے نمبر کی پہچان ک...

سیرت رسول سے وابستگی میں تمام مسائل کا حل، تِمّاریڈی پلی میں جلسہ سیرت سے مولانا محمد عبداللہ اظہر قاسمی کا خطاب

Image
 وقارآباد 11/ ستمبر(نمائندہ) جمعیۃ علماء منڈل دولت آباد کے زیر اہتمام کل رات جامع مسجد تِماریڈی پلی،تعلقہ کوڑنگل ضلع وقارآباد میں ایک جلسہ سیرت کا انعقاد عمل میں آیا اجلاس کی صدارت مولانا عبدالباسط رشادی صاحب صدر جمعیۃ علماء تعلقہ کوڑنگل نے کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا محمد عبداللہ اظہر قاسمی صاحب سیکریٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ وصدر جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد نے شرکت کی اور خطاب فرمایا مولانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیرت رسول اور ذات رسول پوری امت کے لیے اسوۃ اور نمونہ ہے جس سے وابستگی میں دنیا وآخرت کی فلاح وبہبودی مضمر ہے اور اگر خدانخواستہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض اور بے اعتنائی برتی جائے تو یہ رب کی نافرمانی مول لینے کا سبب بنتا ہے اور اس وقت ضرورت اس بات کی ہےکہ ہم سیرت رسول صلے اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کریں جس میں بے شمار مسائل کا حل موجود ہے لہذا ہمیں چاہیئے کہ سیرت رسول سے وابستہ ہوجائیں اور اپنی زندگی کے ہر عمل کو سنت رسول کے مطابق کرنے کی کوششش کریں۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر حافظ عبدالسلام صاحب،مولانا آصف الدین رشیدی صاحب، مولانا عبدالرحمن اطہر ...

سولاپور اردو گھر درشن - ضلع پریشد اردو اسکولوں کے صدر مدرسین کی خصوصی آمد۔۔

Image
سولاپور اردو گھر درشن -  ضلع پریشد اردو اسکولوں کے صدر مدرسین کی خصوصی آمد۔ آج بتاریخ 10 ستمبر 2026ء سولاپور اردو گھر کی جانب سے منعقد کیے گئے ’’اردو گھر درشن‘‘ پروگرام کے تحت ضلع پریشد کے اردو اسکولوں کے صدر مدرسین نے سولاپور اردو گھر کا خصوصی دورہ کیا۔ اس پورے دورے کے دوران ڈاکٹر شفیع چوبدار، منیجر ساحر نداف اور سہیل شیخ کا قابلِ قدر تعاون حاصل رہا۔ اس موقع پر ڈاکٹر شفیع چوبدار نے سولاپور اردو گھر کے مختلف منصوبوں، مقاصد اور دستیاب سہولیات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ صدر مدرسین نے کتب خانہ، مطالعاتی مرکز، آڈیٹوریم اور دیگر سہولیات کا مشاہدہ کرتے ہوئے ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر اردو ضلع تعلیمی افسر جناب اطہر پرویز دفیدار، مرکز پرمکھ سہیل نائک، مرکز پرمکھ حسینی سرفراز اور مرکز پرمکھ محمود نواز خصوصی طور پر موجود رہے۔بعد ازاں اردو زبان و تعلیم کے حوالے سے اردو اسکولوں کو درپیش مختلف مسائل، چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی اور مثبت تبادلۂ خیال کیا گیا۔اردو تعلیم کے فروغ، اردو اسکولوں کو مزید مستحکم بنانے ا...

ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے حضورصلعم کی آمد کی خوشی منانا باعث برکت - نبوت کا دعوی کرنے والے جھوٹے-اتحاد و اتفاق سے رہنے پر زور-جامع مسجد چوک میں نعتیہ مشاعرہ- خطیب مکہ مسجد مولانا ڈاکٹر رضوان قریشی کا خطاب -شعراکا نذرانہ عقیدت۔

Image
حیدراباد 11 ستمبر (راست) مولانا حافظ وقاری ڈاکٹر محمد رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد نے کہا کہ قرآن حکیم صبح قیامت تک ساری دنیا میں پڑھی جانے والی عظیم الشان اور مقدس کتاب ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ اس کی ہر روز تلاوت کرے قرآن مجید کے معنی و مطلب کو سمجھیں اور اپنی زندگی کو اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق گزاریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے انتظامی کمیٹی مسجد چوک کی جانب سے دو روزہ جشن میلاد کے سلسلے میں نعتیہ مشاعرے کے موقع پر جامع مسجد چوک میں اپنے خصوصی خطاب میں کیا صدر انتظامی کمیٹی جناب منور حسین صدر بزم حسین نے نگرانی کی بعد ازاں غیر طرحی نعتیہ مشاعرہ ہوا محفل کاآغاز مولانارضوان قریشی کی کمسن دختر ماریہ رضوان قریشی کی قراءت سے ہوا نظامت کے فرائض ممتاز و معروف سنجیدہ 'مزاحیہ و نعتیہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے کی اس موقع پر بہترین انتظامات کرنے پر جناب محمد علی عرف چاند بھائی مالک دیوان ہوٹل کی جناب منور حسین نے شال پوشی کی اور مسجد چوک سے متعلق ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پراثر خراج تحسین پیش کیا 11 ستمبر کو بعد نماز جمعہ زیارت آثار مبارک کا اہتمام بھی کیا ...

بیماری سے بچنے کی فکر، جہنم سے بچنے کی فکر کیوں نہیں؟ - تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ عربی، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد

Image
بیماری سے بچنے کی فکر، جہنم سے بچنے کی فکر کیوں نہیں؟ -  تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی،  اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ عربی، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد موبائل: 9325217306   عبداللہ بن شبرمہ ضبیؒ فرماتے ہیں: "عجبت للناس يحتمون من الطعام مخافة الداء، ولا يحتمون من الذنوب مخافة النار." "مجھے لوگوں پر تعجب ہے کہ وہ بیماری کے خوف سے کھانے پینے میں پرہیز کرتے ہیں، لیکن جہنم کے خوف سے گناہوں سے پرہیز نہیں کرتے۔" یہ مختصر مگر انتہائی گہرا قول انسانی زندگی کے ایک ایسے تضاد کی نشاندہی کرتا ہے جس پر ہر صاحبِ ایمان کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ انسان اپنی جسمانی صحت کے بارے میں بے حد محتاط رہتا ہے، بیماری سے بچنے کے لیے اپنی پسندیدہ غذائیں تک ترک کردیتا ہے، لیکن گناہوں کے ان نتائج سے غافل ہوجاتا ہے جو اس کی آخرت کو برباد کرسکتے ہیں۔ عبداللہ بن شبرمہؒ کا یہ قول محض ایک نصیحت نہیں، بلکہ انسانی ترجیحات کا آئینہ ہے۔ ہم جس چیز کے نقصان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں، اس سے فوراً بچنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جس نقصان کو آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے، اس کے ...

اے آئی کے ٹرینڈ کی اندھی دوڑ ،کہیں ہم خود کو دھوکا تو نہیں دے رہے؟ - ازقلم : راحیل انجم ناندورہ

Image
اے آئی کے ٹرینڈ کی اندھی دوڑ ،کہیں ہم خود کو دھوکا تو نہیں دے رہے؟ -  ازقلم :  راحیل انجم ناندورہ  اے آئی میں آج کل جو ٹرینڈ چل رہا ہے، اس کی جانب اندھا دھند، یا یوں کہیے کہ آنکھیں موند کر دوڑ شروع ہے جو آنے والی پریشانیوں سے چشم پوشی بھی ہو سکتی ہے۔ اب بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ہاں، ہو سکتا ہے! ایک بات بتائیے کہ جب آپ اے آئی سے کہتے ہیں کہ ’’یہ میری تصویر ہے، اسے ایسا بنا دو‘‘ تو وہ آپ کی تصویر میں کچھ تبدیلیاں کرکے ایک نئی تصویر بنا دیتا ہے۔ تبدیل شدہ تصویر بظاہر 100 فیصد آپ کی نہیں ہوتی، بلکہ کافی حد تک آپ سے مشابہ ہوتی ہے۔ باقی تبدیلی وہ کیسے کرتا ہے؟ اور جب آپ اے آئی سے کہتے ہیں کہ ’’ایک شخص کو تقریر کرتے ہوئے بناؤ‘‘ تو وہ صرف تقریر کرتے شخص کی تصویر نہیں بناتا، بلکہ ساتھ ایک پورا مجمع بھی بنا دیتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ اس مجمع میں موجود لوگ کہاں سے آتے ہیں؟ یہاں اصل بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اے آئی مختلف تربیتی ڈیٹا، دستیاب تصاویر، نمونوں اور الگورتھمز سے سیکھ کر نئی تصویر تخلیق کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ مجمع میں نظر آنے والا ہر شخص کسی حقیقی شخص کی محفوظ کی گئ...

آئیں ایک ’’کاش‘‘ کو ختم کریں - ازقلم: رہبر تماپوری

Image
 آئیں ایک ’’کاش‘‘ کو ختم کریں -  ازقلم: رہبر تماپوری مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا رابطہ: 8431012141 کاش! میں نے بہت پہلے یہ سمجھ لیا ہوتا کہ اچھا انسان بننا اور ہر ایک کے لیے خود کو مٹا دینا، دونوں ایک بات نہیں۔ میں نے ہمیشہ نرمی کو اپنا ہتھیار اور برداشت کو اپنی طاقت سمجھا۔ رشتوں کو جوڑنے میں لگا رہا، ہر دل کو منانے کی کوشش کی اور کئی بار صرف اس لیے اپنے حق سے دستبردار ہوگیا کہ کہیں کوئی رشتہ ٹوٹ نہ جائے۔ جب میرا حق مارا گیا تو میں خاموش رہا، یہ سوچ کر کہ وقت گزر جائے گا اور رشتے قائم رہیں گے؛ مگر دیر سے احساس ہوا کہ بعض خاموشیاں رشتے نہیں بچاتیں، انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہیں۔ میں اپنوں سے دل کا رشتہ نبھاتا رہا، سب کو ساتھ رکھنے اور سب کے دل رکھنے کی کوشش میں نہ جانے کب خود ہی سب سے پیچھے رہ گیا۔ ایک دن آئینے میں اپنی زندگی کو دیکھا تو دل سے ایک سوال اٹھا: میں نے سب کے لیے اتنا کچھ کیا، مگر اپنے لیے کیا کیا؟ اب میرا ’’کاش‘‘ محض ایک افسوس نہیں، ایک سبق ہے۔ میں محبت بھی بانٹوں گا، رشتوں کی قدر بھی کروں...