اردو طرزِ تعلیم کی گرتی ساکھ: ایک فکری و سماجی جائزہ۔۔ ازقلم : محمود علی لیکچرر ناندیڈ۔
اردو طرزِ تعلیم کی گرتی ساکھ: ایک فکری و سماجی جائزہ۔ ازقلم : محمود علی لیکچرر ناندیڈ۔ اردو زبان ہماری مذہبی اور تہذیبی شناخت، ادبی روایت اور علمی ورثے کی ایک اہم علامت ہے۔ یہ زبان صدیوں تک علم و ادب صحافت اور تدریس کا مؤثر ذریعہ رہی مگر موجودہ دور میں اردو زبان اپنی وسعت لچک اور ادبی حسن کے باعث ہر دور میں نئے موضوعات کو سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر جب بات سائنسی اصطلاحات کی آتی ہے تو ایک عرصے سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اردو اس میدان میں پیچھے رہ گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو میں سائنسی اصطلاحات موجود بھی ہیں اور بنائی بھی جا سکتی ہیں، مگر ان کے استعمال اور فروغ میں کمی ہے۔اردو طرزِ تعلیم خصوصاً کالج اور اعلیٰ تعلیمی سطح پر زوال کا شکار ہے۔ یہ زوال صرف تعلیمی نظام تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات ہماری سماجی نفسیات اور اجتماعی رویّوں پر بھی واضح طور پر نظر آتا ہے آج کے دور میں انگریزی زبان کو غیر معمولی برتری اور اہمت حاصل ہو چکی ہے۔ اقتصادی لحاظ سے مستحکم لوگ اپنے بچوں کو اچھے انگریزی اسکول میں تعلیم کے حصول کو لازمی قرار دیتے ہیں اور 90 فی صد اردو میڈیم میں پڑھانے والی اس...