Posts

محترمہ عطیا حسین ، معاشرتی و اصلاحی ناول نگار ! - ڈاکٹر جی۔ایم۔ پٹیل، پونہ

Image
محترمہ عطیا حسین ، معاشرتی و اصلاحی ناول نگار ! -  ڈاکٹر جی۔ایم۔ پٹیل، پونہ انگریزی کی معروف ناول نگار کے طور پر عطیہ حسین کو ایک نئی بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی اور وہ ایک دہائی تک عوام کی نظروں میں رہیں۔ درحقیقت 1997ء میں اپنی وفات (یا آخر(ی بیماری سے چند روز قبل تک) اپنی 84 ویں سالگرہ تک آپ سرگرم رہیں۔"انہیں اپنی کہانیوں کے مجموعے اور ناول Sunlight on a Broken Column کی وجہ سے عالمی سطح پر جانا گیا۔عطیہ حسین 1913 میں لکھنؤ کے ایک معزز اور کھاتے پیتے اودھ کے تعلقہ دار خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد چودھری اختر حسین ایک سیاست دان تھے۔اپنے دور کی انتہائی تعلیم یافتہ خواتین میں سے ایک تھیں۔ انہوں نے لکھنؤ کے اسابیلا تھوبورن کالج (Isabella Thoburn College) سے گریجویشن کی اور وہ لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویٹ ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔ان کا خاندان روایتی ہونے کے باوجود علم دوست تھا۔ انہوں نے انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر پر عربی، فارسی اور اردو کی تعلیم بھی حاصل کی۔عطیہ حسین بنیادی طور پر انگریزی میں لکھتی تھیں، لیکن ان کی تحریروں کی روح، ماحول اور کردار خالصتاً برصغیر (...

انگریزی ماہ نامہ "اے نیو چیپٹر" کا تازہ شمارہ منظرِ عام پر۔ بک اسٹالز پر دستیاب ہے۔

Image
انگریزی ماہ نامہ "اے نیو چیپٹر" "A NEW CHAPTER" کا تازہ شمارہ منظرِ عام پر۔ بک اسٹالز پر دستیاب ہے۔  کے این واصف :  مہاراشٹرا کے تاریخی شہر اورنگ آباد سے شائع ہونے والا انگریزی ماہ نامہ “اے نیو چیپٹر” (A NEW CHAPTER)کا تازہ شمارہ (ستمبر) شائع ہوکر منظر عام پر آچکا ہے اور بک اسٹالز پر دستیاب ہے۔ تازہ شمارے ہندوستان کے سابق کپتان اور موجودہ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ محمد اظہر الدین کے خصوصی انٹرویو پر مشتمل ہے۔ New Innings in Public Life کے عنوان سے دلچسپ، تفصیلی انٹرویو حیدرآباد کے جوان سال صحافی ڈاکٹر سید خالد شہباز کی تحریر ہے۔ اس کے علاوہ شمارے میں لکشمی مورتی راماکرو، ڈاکٹر نوال تھوراٹ، ارپتاجین، کے ایم جوزف اور ڈاکٹرعرفان خان کے معلوماتی مضامین اور رسالے کے ریگولر فیچرز پر مشتمل ہے۔  اورنگ آباد کی تہذیبی، تایخی، علمی و ادبی وراثت کا امین یہ میگزین مسز لکشمی مورتی کی ادارت شائع ہوتا ہے جس کے بانی و ناشر مسز دلشاد وہاب ہیں۔ نیو چیپٹر میگزین کو ملک کے بڑے قلمکاروں اور ادیبوں کا قلمی تعاون حاصل ہے۔ تاریخی شہر اورنگ آباد سے نیاباب، نئی آواز ب...

دہلی اردو اکیڈمی نئے پرانے چراغ : تجزیاتی جائزہ - وزیراعظم کا نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواس اور سب کا پریاس عملی طور پر درست : انیس عباسی - کالم نویس : ٹی این بھارتی

Image
دہلی اردو اکیڈمی نئے پرانے چراغ : تجزیاتی جائزہ -  وزیراعظم کا نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواس اور سب کا پریاس عملی طور پر درست : انیس عباسی -  کالم نویس : ٹی این بھارتی  سر زمین ہند میں پرورش پانے والی اردو زبان وادب کے لئے جہاں ایک طرف خیال خام  ہے کہ اردو زبان زوال پذیر ہے وہاں دوسری جانب اردو زبان کو حکومت ہند سے بھر پور تعاون حاصل ہے۔ گزشتہ ایام دہلی اردو اکیڈمی کی پانچ روزہ تقریبات بعنوان نئے پرانے چراغ نے ثابت کر دیا ہے کہ اردو زبان کا خاتمہ ممکن ہی نہیں ہے ۔  پانچ روزہ تقریبات میں تقریبا ساڑھے پانچ سو ادیبوں ، شاعروں کو ایک چھت کے نیچے جمع کرنا آسان کام نہیں ہے لیکن دہلی اردو اکیڈمی نے ایک قابل تحسین کارنامہ انجام دیا ہے  یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں گزشتہ تیس برس سے اردو زبان کی ترقی کے لئے نئے پرانے چراغ کی شمع روشن کی جا رہی ہے ۔ دنیا کے کسی بھی خطہ میں کسی بھی زبان میں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد نہیں کیا جا رہا ہے۔ لہذا اس تقریب کو ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرنا اشد ضروری ہے۔  Limca book of Record / ...

اصل خوشی کہاں ہے؟ - میدان کے کھیل یا موبائل گیمز؟ - از قلم: طٰہٰ جمیل نلّامندو ( معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اردو مدرسہ پونہ )

Image
اصل خوشی کہاں ہے؟ -  میدان کے کھیل یا موبائل گیمز؟ از قلم: طٰہٰ جمیل نلّامندو ( معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اردو مدرسہ پونہ )    " ہمیں یاد ہے کبھی شام ڈھلتے ہی گلیاں اور میدان بچوں کی آوازوں، قہقہوں اور کھیل کے شور سے آباد ہوجاتے تھے۔ آج وہی بچپن موبائل کی روشن اسکرین میں سمٹتا جا رہا ہے۔ میدان میں کھیلا گیا کھیل ختم ہو جاتا تھا، مگر اس کی خوشی اور یادیں عمر بھر ساتھ رہتی تھیں۔ موبائل گیم جیتنے کی مسرت مگر چند لمحوں بعد اگلی اسکرین میں گم ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو وقتی تفریح دے رہے ہیں یا زندگی بھر کی خوب صورت یادیں چھین رہے ہیں؟ )  بچپن کا ایک میدان، چند بے فکری کے لمحے، دوستوں کی آوازیں، کھیل کے دوران بلند ہوتی قہقہوں کی گونج اور جیتنے کی خوشی میں چمکتی آنکھیں یہ سب کچھ زندگی کے انمول سرمائے کا حصہ بن جاتا ہے جسے وقت کی گرد بھی دھندلا نہیں پاتی۔ مگر افسوس آج کا بچپن آہستہ آہستہ میدانوں سے نکل کر موبائل کی چھوٹی سی اسکرین میں سمٹتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسکرین پر ملنے والی خوشی میدان میں حاصل ہونے والی خوشی کا بدل بن سکتی ...

اردو کی محفلوں اورمشاعروں سے نوجوان نسل کو جوڑا جائے - ادیبوں اور شعرا کی خدمات قابل قدر - محفل "عصرانہ" سےقاضی زین العابدین 'تقی الدین شجیع، پروفیسر مسعود احمد اور محمد منور حسین کا خطاب

Image
حیدرآباد 9- اگست (راست) قاضی زین العابدین ریٹائرڈ جوائنٹ کمشنر شوگر کین ڈپارٹمنٹ آندھرا پردیش (متحدہ) نے کہا کہ اردو زبان کو زندہ و تابندہ رکھنے کے لیے ادبی محفلیں اور مشاعرے بہت ہی مفید ہیں آج کے اس گہما گہمی اور ہنگامی مصروفیات کے دوران وقت نکال کر اردو کی محفلیں سجانا اور ان میں شرکت کرنا بہت ہی اہم بات ہے قابل تحسین ہیں وہ لوگ جو اردو زبان و ادب کے لیے اپنی اپنی سطح پر ہر ممکن خدمات انجام دے رہے ہیں اور اب اس وقت ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ان اردو محفلوں سے نوجوان نسل کو جوڑا جائے اور ان میں اردو زبان سے زیادہ سے زیادہ محبت پیدا کی جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان احمد ملک پیٹ حیدرآباد میں پروفیسر محمد مسعود احمد کی جانب سے اہتمام کردہ ہفتہ واری محفل عصرانہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ موبائل فون کے بڑھتے ہوئے اس دور میں جو لوگ اردو کے نام پر جمع ہو رہے ہیں وہ قابل مبارک باد ہے انہوں نے اس سلسلے میں پروفیسر مسعود احمد کی کوششوں و کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا جناب تقی الدین شجیع رکن نمائش سوسائٹی نے کہا کہ اردو زبان سے متعلق ہمیں مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں...

اقرا اردو ہای اسکول تونڈا پور میں تقریری و نعت خوانی کے مقابلے کا انعقاد۔

Image
جلگاؤں(سعید پٹیل) ضلع کی تحصیل جامنیر کے تونڈاپور جیسے گرام پنچایت کے تاریخی مقام پر تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے والے طلباء بھی اب اپنی صلاحتیوں کے ذریعے قدم سے قدم ملاکر تعلیم کی روشنی سے اپنی ذات کو منور کرتے ہوئے نام روشن کر رہے ہیں. اقراء ایجوکیشن سوسائٹی جلگاؤں کے زیر انتظام اقراء اردو ہائی اسکول تعلقہ جامنیر کے تونڈا پور میں ٩ ستمبر کو بین الجماعت تقریری و نعت خوانی کے مقابلے کا حضرت مفتی الیاس صاحب کی زیر صدرات بعنوان "محمد صلی علیہ وآلہ وسلم سب کے لیے" کے عنوان کے تحت انعقاد کیا گیا. جس میں جماعت ہشتم تا دہم سے کل ٣٨ طلبہ نے اس مقابلے میں شرکت کیں. جس میں تقریر میں مصباح انصار پٹیل ( دہم ) نے اول عافیہ آصف پٹیل ( دہم ) نے دوم مقام حاصل کیا جبکہ نعت خوانی کے مقابلے میں کاظیمہ شفیق شیخ ( دہم )ماہین شیخ رضوان ( ہشتم ) نے بالترتیب اول و دوم مقام حاصل کر سر فہرست رہے کامیاب طلبہ کو معاون معلم ناصر خان صفدر خان، ومحمد خالد غلام رسول کی جانب سے انعام و اکرام نوازا گیا اسکول ہذا کی اس سرگرمی کو منعقد کرنے میں صدر مدرس محمد ایوب شیخ کے ہمراہ مولوی سلطان، م...

ایڈووکیٹ فیض سید کا ڈاکٹر اسداللہ خان انگلش اسکول، شیل کیمپس کا خصوصی دورہ - تعلیم کے ساتھ اعلیٰ اخلاق، مضبوط کردار اور سوشل میڈیا کے محتاط استعمال پر طالبات کی رہنمائی۔

Image
شیل (نامہ نگار) : معروف اسلامی خطیب، مصنف، رہنما اور سماجی مفکر ایڈووکیٹ فیض سید نے ڈاکٹر اسداللہ خان انگلش ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، شیل کیمپس کا خصوصی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم، اخلاق، کردار سازی، خاندانی اقدار اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ایڈووکیٹ فیض سید نے کہا کہ تعلیم کا مقصد محض ڈگری یا روزگار کا حصول نہیں، بلکہ ایک بااخلاق، ذمہ دار اور مفید انسان کی تشکیل بھی ہے۔ انہوں نے طالبات کو نصیحت کی کہ وہ علم کے ساتھ اچھے اخلاق، مضبوط کردار، شائستگی، انکساری اور خدمتِ خلق جیسی صفات کو اپنی شخصیت کا لازمی حصہ بنائیں۔ انہوں نے موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے طالبات کو اس کے درست، محدود اور تعمیری استعمال کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید طرزِ زندگی اختیار کرتے ہوئے بھی اپنی خاندانی روایات، رشتوں اور مثبت تہذیبی و اخلاقی اقدار سے وابستہ رہنا نہایت ضروری ہے۔ ایڈووکیٹ فیض سید نے طالبات سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی شخصیت ایسی بنائیں جس سے دوسرے لوگ ترغیب ح...

ممبئی میں منعقدہ بیت بازی مقابلے میں جی ایم مومن ویمنز کالج اسٹڈی سینٹر کی ٹیم نے حاصل کیا دوم انعام۔

Image
بھیونڈی: (عبدالعزیز انصاری) بزمِ احباب فاؤنڈیشن اور شعبۂ اردو، ممبئی یونیورسٹی کے اشتراک سے منگل،8 ستمبر 2026 کو مراٹھی بھاشا بھون آڈیٹوریم، ممبئی میں انٹر کالجیٹ (سینٹر گروپ) بیت بازی مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف کالجوں کی 12 ٹیموں نے حصہ لیا۔ یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ یشونت راؤ چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی، ناسک کے زیرِ انتظام جاری کے۔ ایم۔ ای۔ سوسائٹیز جی۔ ایم۔ مومن ویمنز کالج اسٹڈی سینٹر، بھیونڈی کی طالبات نے بھی اس مقابلے میں بھرپور شرکت کی۔ اسٹڈی سینٹر کی جانب سے انصاری عجوہ شیرین (بی۔اے سالِ اول) اور انصاری اُمّ ماریعہ (ایم۔اے سالِ دوم) پر مشتمل ٹیم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ججز کے متفقہ فیصلے کے مطابق مقابلے میں دوم انعام حاصل کیا۔  ٹیم کی رکن انصاری عجوہ شیرین کو شاندار ادائیگی اور بیت خوانی پر ’’بہترین بیت خواں‘‘ کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ طالبات کی اس کامیابی میں ان کی رہنمائی اور تیاری کے سلسلے میں صوفیہ مومن اور محمد رفیع انصاری کی کاوشیں بھی قابلِ تحسین ہیں۔ طالبات کی اس نمایاں کامیابی پر کے۔ ایم۔ ای۔ سوسائٹی کے صدر الماز فقیہ، سکریٹر...

حوثی حملوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات - عوام کو چوکنّا رہنے کی ہدایت۔ سعودی وزارت توانائی۔

Image
کے این واصف :   سعودی وزارت توانائی کے ایک سرکاری ذریعے نے کہا ہے کہ مملکت کے جنوبی علاقے میں توانائی کے شعبے کی متعدد تنصیبات اور مراکز کو منگل کی صبح نشانہ بنایا گیا۔ سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ متعلقہ حکام نے متاثر ہونے والی تنصیبات کی بحالی اور صورت حال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔ حملوں کے نتیجے میں کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور بعض تنصیبات میں کچھ آپریشنز کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔ خصوصی فیلڈ ٹیموں نے آگ پر قابو پانے، مقامات کو محفوظ بنانے اور نقصان کا جائزہ لینے کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا حملوں کے نتیجے میں کئی شہریوں اور رہائشیوں کو مختلف نوعیت کے زخم آئے ہیں، انہیں ضروری طبی امداد فراہم کی گئی۔ وزارت کے ذریعے نے تصدیق کی کہ متعلقہ مراکز اور افراد کی حفاظت کے ساتھ منظور شدہ آپریشنل پلان کے مطابق آپریشنز کا تسلسل یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حوثی حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کے مختلف شہروں میں خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ میجر ج...

بی۔ایم۔جین اردو پرائمری اسکول جلگاوں میں یوم اساتذہ بڑے جوش و خروش سے منایا گیا۔

Image
جلگاؤں (سعید پٹیل ) اقراء ایجوکیشن سوسائٹی , جلگاؤں کی بی۔ایم۔جین اردو پرائمری اسکول میں یوم اساتذہ بڑے جوش و خروش سے منایا گیا ۔چہارم جماعت کے طلباء وطالبات نے ہیڈماسٹر اور اساتذہ کے کردار نبھائے اور کے جی تا چہارم جماعت میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیۓ ۔ اسکول ھذا کے صدر مدرس اسلم خان سر کی صدارت میں ایک پروگرام منعقد کیاگیا ۔ جسے چہارم جماعت کے طلباء وطالبات نے انجام دیا ۔پروگرام کی شروعات صدیق فاروق منیار کی تلاوت قرآن پاک سے ہوئی ۔چہارم جماعت کے طلباء وطالبات نے تقاریر پیش کی ۔ صدارتی خطبہ میں اسلم خان سر نے طلباء کو یوم اساتذہ کی مبارکباد پیش کی ۔طلباء کو بتایا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ پہلے معلم بناکر بھیجے گئے ۔اور ساتھ میں استاد کی اہمیت بتائی اور ان کی محنت کو سراہا ۔ پروگرام کی نظامت زینب محمد یوسف نے سنبھالی. عدنان اظہر پٹیل کے رسم شکریہ سے پروگرام اختتام کا پذیر ہوا۔ تقریب کی کامیابی کے لیےچہارم جماعت کے اساتذہ حفیظ النساء مس ، شگفتہ مس امرین مس اوراسکول کے تمام اساتذہ رفعت بانو ، جمیلہ بی ، صادق سر ، آصف سر ، ثمیرہ مس اور غیر تدریسی عملہ عمران سر، عرفان بھائی...

خدا کی ذات کو رہبر بنا لے اپنی منزل کا - بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری جامعہ اکلکواں۔

Image
خدا کی ذات کو رہبر بنا لے اپنی منزل کا -  بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری جامعہ اکلکواں۔ کسی صاحب علم و معرفت اور دانشور شخصیت کا قول ہے کہ  خوش قسمت وہی ہے جو قسمت پر خوش ہو۔۔۔۔ انسان کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ موجود کی ناقدری اور مفقود کا غم دل میں لیے پھرتا ہے اور اسی میں مغموم اور مشغول و مصروف رہتا ہے اور جو کچھ اس کے اپنے پاس موجود ہے اس کی قدر نہیں کرتا اور جو اس کے پاس نہیں ہے اسی کی فکر میں ہمہ وقت سرگرداں مضطرب اور بے قرار رہتا ہے بسا اوقات اسی ادھیڑ بن میں وہ حسد بغض کینہ کپٹ لالچ تملقیت اور چاپلوسی جیسے غلط کاموں کا شکار ہونے لگتا ہے اس چیز کے حصول میں پھر وہ سر پھٹول اور بیکار سی کوشش کرنے لگتا ہے حالانکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ سبب سے زیادہ اس کو مسبب الاسباب پر نظر رکھنا چاہیے کیونکہ اس ذات نے اس کے لیے دنیا میں مقدرات متعین کر رکھے ہیں اور اس کے لیے طریقہ کار بھی متعین کر دیا ہے مگر جب بندہ مسبب الاسباب سے نظریں ہٹا لیتا ہے تو بدباطنی اور خبث کا شکار ہو جاتا ہے اور یہی بد باطنی اور خبث اس کے قلب و ضمیر کو بوسیدہ اور کمزور بنا دیتی ہے اس میں ک...

حضرت حافظ ڈاکٹر سید محمد علی الحسینی صاحب کو ال امین آل انڈیا کمیونٹی لیڈرشپ ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا۔

Image
بیدر،بنگلورو 9 ستمبر (نامہ نگار) ال امین ایجوکیشنل سوسائٹی کے فاؤنڈر ڈے 2026 کے موقع پر اس سال کا ال امین آل انڈیا کمیونٹی لیڈرشپ ایوارڈ ایک اہم اور معزز شخصیت کو پیش کیا گیا۔ یہ باوقار ایوارڈ حضرت حافظ ڈاکٹر سید محمد علی الحسینی صاحب، سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ، چیئرمین کرناٹک اسٹیٹ بورڈ آف اوقاف، چانسلر خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی اور صدر خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی کو دیا گیا۔ ال امین ایجوکیشنل سوسائٹی کی جانب سے ہر سال اپنے فاؤنڈیشن ڈے کے موقع پر ال امین آل انڈیا کمیونٹی لیڈرشپ ایوارڈ پیش کیا جاتا ہے۔ اس سال حضرت حافظ ڈاکٹر سید محمد علی الحسینی صاحب کو شعبۂ تعلیم میں ان کی خدمات اور کرناٹک اسٹیٹ بورڈ آف اوقاف میں ان کی اہم اور تیزی سے انجام دی جانے والی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس باوقار ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔ ایوارڈ پیش کیے جانے کی اس خصوصی تقریب میں ال امین ایجوکیشنل سوسائٹی کے صدر، اراکین اور دیگر معزز مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ فاؤنڈر ڈے کی اس تقریب میں حضرت حافظ ڈاکٹر سید محمد علی الحسینی صاحب کی تعلیمی اور سماجی خدمات کو سراہا گیا، جبکہ کمیونٹی کی ترقی او...

چٹگوپہ میں 11 ستمبر کو جلسۂ رحمتُ للعالمین ﷺشرکت کی اپیل

Image
بیدر، 9 ستمبر (نامہ نگار)نوجوانان چٹگوپہ کے زیر اہتمام،چٹگوپہ کے دستگیر محلہ میں واقع غوثیہ مسجد میں بروز جمعہ 11 ستمبر 2026ء، 28 ربیع الاول 1448ھ بعد نمازِ مغرب ایک عظیم جلسۂ رحمتُ للعالمین ﷺ منعقد ہوگا۔اس عظیم الشان جلسہ کی صدارت محمد مہتاب صاحب، صدرپنچ کمیٹی، دستگیر محلہ کریں گے، جبکہ سرپرستی حضرت مولانا تصدق صاحب ندوی، صدر جمعیت علماء ضلع بیدر کرناٹک کریں گے۔ جلسہ کی زیرِ نگرانی مولانا خورشید عالم قاسمی صاحب اور مولانا توفیق حسین قاسمی صاحب ہوں گے۔ جلسہ میں بحیثیت مہمانِ خصوصی حضرت علامہ مولانا مفتی الحاج سید شاہ عزیز اللہ قادری صاحب قبلہ دامت برکاتہم، سابق شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ حیدرآباد شرکت اور خصوصی خطاب کریں گے۔ منتظمین، نوجوانان چٹگوپہ ضلع بیدر نے عامتہ المسلیمن بالخصوص عاشقانِ رسول ﷺ سے کثیر تعداد میں شرکت کرکے جلسہ کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔جلسہ مین خواتین کے لیے پردہ کا معقول انتظام رہے گا۔

آپ کا کچھ بھی نہیں ہے- از قلم : ظفر ھاشمی ندوی۔سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ

Image
آپ کا کچھ بھی نہیں ہے-  از قلم: ظفر ھاشمی ندوی۔ سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ ابھی حال میں ایک بڑے عربی عالم صاحب کا بیان سنا- کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب کے ایک کروڑپتی سے ان کا گہرا دوست ملنے گیا- گفتگو کے دوران مالدار دوست نے اس دوست کو بڑے فخر سے بتایا کہ وہ بہت بڑی جائیداد کا مالک بن گیا ہے اور اچھی خاصی ضیافت اور مہمان نوازی کے بعد وہ اپنے دوست کو لے کر اسے اپنی مختلف کمپنیاں اور دوسری جائیداد دکھانے گیا- سب کچھ دکھانے اور بتانے کے بعد اس نے اپنے دوست سے پوچھا تمہارا اس سب کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ دوست نے جواب دیا یہ سب ٹھیک ہے مگر اس میں سے تمہارا کچھ بھی نہیں ہے- مالدار دوست کو بڑا تعجب ہوا اور اس نے بیزارگی کے ساتھ پوچھا کیا مطلب اور کیوں میرا کچھ بھی نہیں ہے اور پھر کس کا ہے- دوست نے جواب دیا آپ برا مت مانیے جو کچھ آپ نے بتایا ہے ان سب کے مالک آپ کی موت کے بعد آپ کی اولاد بنے والی ہے - آپ نے یہ بالکل نہیں بتایا کہ اللہ کے راستہ میں آپ نے کیا خرچ کیا - اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہو جائے گا ا...

مسکراہٹ: خواتین کے لیے ایک انمول تحفہ - فردوس انجم (بلڈانہ، مہاراشٹر)

Image
مسکراہٹ: خواتین کے لیے ایک انمول تحفہ -  فردوس انجم (بلڈانہ، مہاراشٹر) کہتے ہیں کہ مسکراہٹ چہرے کا خوبصورت ترین زیور ہے۔ مسکراہٹ صرف ہونٹوں کی جنبش کا نام نہیں، بلکہ یہ روح کی شادابی، اندرونی خوبصورتی اور پُروقار شخصیت کا عکس ہے۔ انسان کی زندگی میں جذبات کو ظاہر کرنے کے لیے قدرت نے جو ذرائع عطا کیے ہیں، ان میں مسکراہٹ سب سے زیادہ اثر انگیز اور عالمگیر زبان ہے۔ دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو، کوئی بھی زبان بولنے والے لوگ ہوں، مسکراہٹ کے پیغام کو ہر شخص بلا تفریق سمجھتا اور محسوس کرتا ہے۔ خصوصاً خواتین کی زندگی میں اس کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے کیونکہ وہ خاندان اور معاشرے کا مرکز ہوتی ہیں۔خواتین کی زندگی میں جہاں وہ بیک وقت کئی کردار نبھا رہی ہوتی ہیں، وہاں ایک چھوٹی سی مسکراہٹ ان کی سب سے بڑی طاقت اور سب سے خوبصورت تعارف بن سکتی ہے۔ 1۔ مسکراہٹ: حسن اور شخصیت کا نکھار خواتین اپنے حسن اور شخصیت کو نکھارنے کے لیے مختلف طریقے اپناتی ہیں، جن میں قیمتی زیورات، مہنگے لباس اور مختلف قسم کے آرائشی سامان شامل ہوتے ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ جو جادو ایک سچی اور فطری مسکراہٹ میں ہے، وہ ...

آج کا مسلمان خوف زدہ کیوں ہے؟ - ماضی کے حوصلے سے حال کے خوف تک - سید فاروق احمد قادری۔

Image
آج کا مسلمان خوف زدہ کیوں ہے؟ -  ماضی کے حوصلے سے حال کے خوف تک -  سید فاروق احمد قادری۔ سہارنپور کی ایک قدیم مسجد کے انہدام کی خبر نے ایک بار پھر ہمارے اجتماعی ضمیر کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے: آخر آج کا مسلمان اپنے مذہبی اور تاریخی ورثے کے بارے میں اتنا خوف زدہ کیوں ہے؟ یہ سوال صرف ایک مسجد کا نہیں، ہماری اجتماعی سوچ، ہماری بے حسی اور ہمارے مستقبل کا سوال ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے مذہبی تشخص، مساجد اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ انگریزوں کے دور میں حالات آج سے کہیں زیادہ سخت تھے، لیکن اس زمانے کے علماء اور اہلِ قلم نے خوف کو اپنے ضمیر پر غالب نہیں آنے دیا۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی ہوں، شاہ اسماعیل شہید ہوں یا مولانا محمود حسن، ان بزرگوں نے اپنے دور کے حالات کا سامنا علم، فکر، قربانی اور جدوجہد کے ذریعے کیا۔ ان کی جدوجہد کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہر مسئلے کا جواب طاقت یا تشدد ہے؛ بلکہ انہوں نے قلم، علم، دلیل، تنظیم اور قربانی کو اپنا ذریعہ بنایا۔ کانپور کی مسجد کا واقعہ ہو، شاہی مسجد سے متعلق تنازعات ہوں یا شاہد ...

دستک (افسانچہ)۔ ازقلم : محمد وسیم (لیکچرار) حنیفیہ اردوجونئیر کالج، ہیورکھیڑ، آکولہ، مہاراشٹر

Image
دستک (افسانچہ) ازقلم : محمد وسیم (لیکچرار) حنیفیہ اردوجونئیر کالج، ہیورکھیڑ، آکولہ، مہاراشٹر  ضلع پریشد اسکول کے کچے صحن میں کھڑے ماسٹر صاحب مائیک پر پوری قوت سے گرج رہے تھے: "تعلیم عمارتوں کی محتاج نہیں ہوتی، خلوص سے پروان چڑھتی ہے۔ ہمارے یہ سرکاری اسکول ہی اس دھرتی کا سچا مقدر ہیں!" سامنے ٹاٹ کی پٹیوں پر آلتی پالتی مارے گرد آلود بچے اور غریب دیہاتی ہمہ تن گوش تھے۔ تالیوں کی گونج کے عین بیچ، استری شدہ نیلی پتلون، پالش سے چمکتے جوتوں اور گلے میں لٹکتی ٹائی والا ایک آٹھ سالہ بچہ ہجوم کو چیرتا ہوا ڈائس کے برابر آ رکا۔ اُس کی انگلیاں سینے پر لٹکے بیگ کے چوڑے پٹے پر کسی ہوئی تھیں۔ "بابا... پیلی وین چلی گئی۔" ماسٹر صاحب کا ہاتھ فضا میں اٹھا، اور اشارے سے بچے کو مائیک کے دائرے سے باہر کر دیا۔ آواز میں رتی برابر لرزش نہ آئی: "اپنے بچوں کو یہیں بھیجیں، یہی اصل تعلیم ہے!" جلسہ نمٹا تو تالیوں کا شور استاد کے کانوں میں گونج رہا تھا۔ انھوں نے بچے کو اٹھا کر موٹر سائیکل کی پیٹرول ٹنکی پر آگے بٹھایا، کِک ماری اور اسکول کے گیٹ سے باہر نکل آئے۔ کچے راستے کے ہر...

چنتامنی سے پلمنیر تک — ایک یادگار ادبی سفر - تحریر: تحسینہ ماوینکٹی (تاشہ رانی بنوری)

Image
چنتامنی سے پلمنیر تک — ایک یادگار ادبی سفر -  تحریر: تحسینہ ماوینکٹی (تاشہ رانی بنوری) مہمان لیکچرر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج برائے خواتین چنتامنی چکبلاپور ضلع کرناٹک۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ! زندگی کے بعض سفر فاصلے کے اعتبار سے شاید چند سو کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہوتے، لیکن یادوں کے اعتبار سے وہ پوری زندگی پر محیط ہو جاتے ہیں۔ کچھ راستے انسان کو محض ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچاتے ہیں، مگر کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو نئے لوگوں سے ملاتے ہیں، نئے افکار سے روشناس کراتے ہیں، اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع دیتے ہیں اور دل و دماغ پر ایسے نقوش ثبت کر جاتے ہیں جنہیں وقت کی گرد بھی دھندلا نہیں سکتی۔ میرے لیے یکم ستمبر 2026ء کو چنتامنی سے پلمنیر تک کا سفر بھی ایسا ہی ایک یادگار، علمی، ادبی اور جذباتی سفر تھا۔ بظاہر یہ ایک سیمینار میں شرکت کے لیے کیا جانے والا سفر تھا، مگر حقیقت میں یہ میری علمی و ادبی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ اس سفر میں مسافت بھی تھی، انتظار بھی، تذبذب بھی، حوصلہ بھی، اجنبی راستے بھی، نئے لوگوں سے ملاقات بھی، استاد کی شفقت بھی اور سب سے بڑھ کر اردو زبا...

عالمی خواندگی دن (8 ستمبر) از قلم عثمان احمد عمرکھیڑ ضلع ایوت محل

Image
عالمی خواندگی دن (8 ستمبر) از قلم عثمان احمد عمرکھیڑ ضلع ایوت محل  ​ تعلیم، مساوات، ترقی اور خوشحالی کی ضامن ​ہر سال 8 ستمبر کو دنیا بھر میں بین الاقوامی / عالمی خواندگی دن (International Literacy Day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے انسانوں کو تعلیم و خواندگی کی اہمیت سے روشناس کرانا، جہالت کا خاتمہ کرنا، اور سماج کے ہر فرد تک علم کی روشنی پہنچانا ہے۔ خواندگی کسی بھی انسان کی ذاتی، سماجی اور معاشی ترقی کی بنیادی کنجی ہے۔ یہ صرف حروف خوانی یا لکھنے کا نام نہیں بلکہ انسان کو شعور، فکر اور سوجھ بوجھ عطا کرنے کا ذریعہ ہے۔ ​علم ہی حقیقی طاقت ہے ​انسان کی حقیقی طاقت اس کا مال و زر نہیں بلکہ اس کا علم ہے۔ علم انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور صحیح و غلط کے درمیان تمیز سکھاتا ہے۔ عظمیٰ و برتر مفکر ساوتری بائی پھولے کا یہ قول خواندگی کی حقیقی روح کو بیان کرتا ہے: ​"تعلیم ہی حقیقی طاقت ہے، تعلیم سے ہی معاشرہ بدلتا ہے، تعلیم یافتہ ہوں، ترقی کریں، یہی سچے معنوں میں ملک کی خدمت ہے!" — ساوتری بائی پھولے ​ایک تعلیم یافتہ فر...

محکمۂ اسکولی تعلیم کی نئی سیکریٹری کے طور پر محترمہ جے۔ اِنّوسنٹ دیویا، آئی اے ایس کی تقرری

Image
چنئی، 8 ستمبر 2026: (محمد رضوان اللہ)۔  حکومتِ تمل ناڈو کی جانب سے محکمۂ اسکولی تعلیم میں ایک اہم انتظامی تبدیلی کے تحت محترمہ جے۔ اِنّوسنٹ دیویا، آئی اے ایس کو محکمۂ اسکولی تعلیم کی سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ محکمۂ اسکولی تعلیم تمل ناڈو کے اہم ترین سرکاری محکموں میں سے ایک ہے، جس کے تحت سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں کی تعلیمی ترقی، طلبہ کی فلاح و بہبود، اساتذہ سے متعلق امور، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور مختلف تعلیمی منصوبوں پر عمل درآمد جیسے اہم معاملات انجام دیے جاتے ہیں۔ محترمہ اِنّوسنٹ دیویا، آئی اے ایس کی اس اہم عہدے پر تقرری کو تعلیمی حلقوں، اساتذہ اور عوام کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان کی انتظامی صلاحیت اور تجربے سے محکمۂ اسکولی تعلیم کے کاموں میں مزید بہتری اور تیزی آئے گی۔ خصوصاً سرکاری اسکولوں کے معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے، طلبہ کے لیے جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنے، اساتذہ کے مسائل کے حل، خالی آسامیوں سے متعلق امور، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تعلیمی منصوبوں کے مؤثر نفاذ کے لیے ان کی قیادت اہم ثابت ہوگی...

شری وردھن کی 'فلائنگ برڈز ریسکیو ٹیم' کو اعلیٰ ترین سماجی خدمات پر 'جیون دوت ایوارڈ' سے نوازا گیا - سرپرست وزیر بھرت گوگاولے کے ہاتھوں اعزاز؛ انسانیت کی بے لوث خدمت اور جرات مندانہ کارکردگی کا شاندار اعتراف

Image
شری وردھن، (اظہر ظہیر الدین کردمے)  شری وردھن کی معروف اور مخلص سماجی تنظیم 'فلائنگ برڈز ریسکیو ڈیزاسٹر فورس' کی بے مثال خدمات اور انسانیت دوستی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ریاست کے سرپرست وزیر (پالک منتری) جناب بھرت شیٹھ گوگاولے کے دستِ مبارک سے وقارِ سے بھرپور 'جیون دوت ایوارڈ' اور تعریفی سند سے سرفراز کیا گیا ہے۔ علی باغ کے آر سی ایف ہال میں رائے گڑھ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے منعقدہ 'روڈ سیفٹی مہم 2026' کی پروقار تقریب میں یہ اعزاز دیا گیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ کلیکٹر کشن جاولے، ایس پی آنچل دلال، سی ای او نیہا بھونسلے اور اے ایس پی ابھجیت شو تھرے سمیت اعلیٰ حکام موجود تھے۔ بے مثال جدوجہد اور کارکردگی کا شاندار اعتراف :  مصائب اور مشکلات میں گھِرے لوگوں کی مدد کرنے والی فلائنگ برڈز ریسکیو ٹیم اپنی مسلسل جدوجہد اور پرخلوص کوششوں سے ہمیشہ لوگوں کے دلوں پر راج کرتی آئی ہے。 "حوصلہ بنا لیا ان کی اڑان کا (Like Flying Birds)" کے مصداق، ان کی زندگی کا یہ باوقار اعزاز اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ لوگوں کی جان کو لاحق خطرے کے وقت دکھائی ہوئی ان...