مہمان نوازی: دلوں کو جوڑنے والا سب سے طاقتور عمل متنبی کے ایک حکیمانہ قول کی روشنی میں۔۔ ازقلم : ڈاکٹر محمد عبد السمیع ندوی۔ (اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد, مہاراشٹر )
مہمان نوازی: دلوں کو جوڑنے والا سب سے طاقتور عمل متنبی کے ایک حکیمانہ قول کی روشنی میں۔ ازقلم : ڈاکٹر محمد عبد السمیع ندوی۔ (اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد, مہاراشٹر ) موبائل نمبر 9325217306 --- عربی ادب کے عظیم شاعر متنبی سے منسوب ایک نہایت حکیمانہ، فکر انگیز اور دل کو جھنجھوڑ دینے والا قول ہے: "لو زرتَ شخصًا ولم يُطعِمْكَ شيئًا فإنما زرتَ ميتًا" یعنی اگر تم کسی شخص کے پاس جاؤ اور وہ تمہیں کچھ بھی نہ کھلائے پلائے تو گویا تم نے ایک مردہ انسان کی زیارت کی۔ یہ صرف ایک ادبی جملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی معیار کو ناپنے والا ایک عظیم پیمانہ ہے۔ متنبی نے “مَيِّتًا” کا لفظ استعمال کرکے انسان کے جسمانی مرنے کی بات نہیں کی، بلکہ اس دل کی موت کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں محبت، خلوص، انسانیت، ایثار اور مہمان نوازی کے جذبات ختم ہوچکے ہوں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ زندہ وہی انسان ہے جس کے دل میں دوسروں کے لیے جگہ ہو، اور مردہ وہ ہے جس کے دروازے بھی بند ہوں اور دل بھی۔ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ترقی تو بہت ہوئی ہے، لیکن انسانیت کہیں پ...