Posts

ممبئی کے اردو صحافتی منظر نامے کا ایک معتبر اور جانا پہچانا نام فاروق سید کی یاد میں۔ ازقلم : محمد اقلیم ، (ایڈیٹر ھما شما اخبار۔ ممبئی)

Image
ممبئی کے اردو صحافتی منظر نامے کا ایک معتبر اور جانا پہچانا نام فاروق سید کی یاد میں۔  ازقلم : محمد اقلیم ، (ایڈیٹر ھما شما اخبار۔ ممبئی) ٥ ستمبر ١٩٦٨ کو اس دنیا میں آنکھیں کھولنے والے فاروق سید ممبئی کے اردو صحافتی منظر نامے کا ایک معتبر اور جانا پہچانا نام ہیں۔ انہوں نے اپنی بے باک صحافت، منفرد اسلوبِ تحریر اور سماجی مسائل پر گہری نظر کی وجہ سے اردو دنیا میں اپنی ایک خاص پہچان بنائی۔ ممبئی کی متحرک اور تیز رفتار زندگی میں اردو زبان و ادب اور صحافت کے فروغ کے لیے ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ فاروق سید کا تعلق مہاراشٹر کی تجارتی اور ثقافتی راجدھانی ممبئی سے تھا۔ انہوں نے ایک ایسے دور میں آنکھ کھولی جب ممبئی اردو صحافت اور ادب کا ایک بڑا مرکز ہوا کرتا تھا۔ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد صحافت کے میدان کو اپنے روزگار اور جنون کے طور پر چنا۔ ان کے اندر معاشرے کی اصلاح اور سچائی کو سامنے لانے کا جو جذبہ تھا، اس نے انہیں جلد ہی صحافتی حلقوں میں ممتاز کر دیا۔ فاروق سید نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی کے معروف اردو اخبارات سے کیا۔ انہوں نے مختلف حیثیتوں سے کام کیا، جن میں بطو...

فاروق سید — صرف ایک نام نہیں، ایک پورا عہد تھے…ازقلم۔محمود نواز، سولاپور۔

Image
فاروق سید — صرف ایک نام نہیں، ایک پورا عہد تھے… ازقلم۔محمود نواز، سولاپور۔ آج دل بہت بوجھل ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے اردو دنیا کا ایک روشن چراغ بجھ گیا ہو۔ بچوں کے ادب، تعلیمی تحریک اور اردو تہذیب کی وہ خوبصورت آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی جس نے پچھلی پانچ دہائیوں تک ہزاروں دلوں کو روشنی دی۔ میں نے آپ کے ساتھ “گل بوٹے اسکالرشپ امتحان” اور کئی تعلیمی سیمیناروں میں کام کیا۔ یہ سب میری زندگی کے وہ قیمتی لمحات ہیں جو ہمیشہ میرے لیے سنگِ میل رہیں گے۔ آپ کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ آج ایک خزانے کی طرح یاد آرہا ہے۔ ہم جیسے کئی نوجوانوں نے آپ کو دیکھ کر بولنا سیکھا، اسٹیج پر پُراعتماد انداز میں ٹھہرنا سیکھا، مجمع کو سنبھالنا، الفاظ میں تاثیر پیدا کرنا اور سامعین کے دل جیتنا سیکھا۔ آپ صرف مقرر نہیں تھے، بلکہ ایک پوری درسگاہ تھے۔ ایک تقریب میں آپ نے سب کے سامنے کہا تھا: “سولاپور میں یہ میرے بیٹے ہیں، لوگ مجھے اِن کے نام سے جانتے ہیں… مجھے فخر ہے۔” آپ کے یہ الفاظ میرے لیے کسی اعزاز، کسی سند اور کسی انعام سے کم نہ تھے۔ آج بھی وہ جملے میرے کانوں میں گونج رہے ہیں اور دل کو رُلا رہے ہیں...

جامعہ طیبہ للبنات تماپور رنگم پیٹ میں تعلیمی مظاہرے کا انعقاد۔

Image
تماپور (توفیق اسد تماپوری) تماپور رنگم پیٹ ضلع یادگیر۔ تماپور جسے علم و ادب کا گہوارہ کہا جاتا ہے تو وہیں اسلامی نقطۂ نظر سے بھی یہ بستی دین اسلام کے افکار اسکی نشر واشاعت کے لئے بھی بڑی زرخیز رہی ہے۔ مساجد اور مدارس کی یہاں کوئی کمی نہیں ہے مقامی بچے بچیوں کے علاوہ اطراف و اکناف کے قصبوں سے بھی ایک قابل لحاظ تعداد میں ہر سال بچوں کی آمد ہوتی رہتی ہے۔ اور دینی علوم کے ہر پہلو سے واقف ہو کر آراستہ ہو کر فکر آخرت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا کر ہر حال میں شریعت محمدی ﷺ کی پاسداری کا آخری سانس تک عمل پیہم کا عہد لےکر فراغت پاتے ہیں۔ مندرجہ بالا ذکر کی ہی ایک کڑی مدرسہ جامعہ طیبہ للبنات تماپور رنگم پیٹ بھی ہے۔ سن 2009 میں اس کا قیام عمل میں آیا۔ ابتک اس مدرسہ سے قریب چار ہزار ملت اسلامیہ کی دختران زیور تعلیم سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ اسکے پیچھے کارفرما بانی و مہتمم حضرت مولانا مفتی الحاج اقبال صاحب قاسمی ونٹی کی شب و روز کی محنت جستجو قابل ستائش وہ قابل مبارکباد ہے۔ وقتاً فوقتاً مدرسہ جامعہ طیبہ للبنات میں بستی کی مشہور و معروف شخصیات کو مدعو کر کے انکی موجودگی میں طا...

بچوں کا قلم خاموش ہو گیا - فاروق سید کے سانحہ ارتحال پر اظہار افسوس - ازقلم : اشفاق احمد ساتکھیڑ( زید )

Image
بچوں کا قلم خاموش ہو گیا -  فاروق سید کے سانحہ ارتحال پر اظہار افسوس -  ازقلم : اشفاق احمد ساتکھیڑ( زید ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شولاپور : بچوں کا رسالہ ماہنامہ گل بوٹے کے مدیر و مالک اور ہفت روزہ اردو میلہ کے مدیر و مالک ہمارے عزیز دوست فاروق سید اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں ۔اردو زبان و ادب کا شہر شولاپور کا روشن ستارہ ادب کے آسمان سے غائب ہو گیا ہے۔شہر شولاپور کے اردو ادب کے حوالے سے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔صرف شولاپور ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے اردو ادب کے لئے بڑا نقصان ہے۔ " اج بچوں کا قلم خاموش ہو گیا "         فاروق سید جہاں دیدہ اور انسانی نبض کو سمجھ کر ادب کو تخلیق کرنے والی شخصیت تھی۔آپ کی سوچ نے ہندوستان کو پہلی مرتبہ " اردو میلہ " دیا آپ کی اس کاوش کو اردو ادب میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اپ شہر شولاپور کے ایک انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود آپ نے اپنے حوصلے اور اپنی شیریں زبان کے ذریعے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمی اردو میں اپنی منفرد پہچان اور نام بنایا۔بیرون ملک میں آپ کی پذیرائی اس بات کا...

سوالوں سے فرار اور جمہوریت کا وقار: غیر ملکی دوروں پر وزیرِ اعظم مودی کی خاموشی - از قلم: اسماء جبین فلک۔

Image
سوالوں سے فرار اور جمہوریت کا وقار: غیر ملکی دوروں پر وزیرِ اعظم مودی کی خاموشی -   از قلم: اسماء جبین فلک۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ سوال پوچھنے اور جواب دینے کے اس رشتے کا نام ہے جس پر ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد قائم رہتا ہے۔ دنیا کی ہر بڑی جمہوریت میں صحافت کو اقتدار کے دروازے پر دستک دینے کا حق حاصل ہوتا ہے، کیونکہ صحافی کا سوال دراصل عوام کی آواز ہوتا ہے۔ مگر جب اقتدار سوالوں سے خوفزدہ ہونے لگے، جب منتخب رہنما پریس کانفرنسوں سے گریز کرنے لگیں، تو پھر جمہوریت کی چمکتی ہوئی پیشانی پر خاموشی کا ایک سیاہ دھبہ ابھرنے لگتا ہے۔ حال ہی میں ناروے کے دورے کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ایک غیر ملکی صحافی کے سوال نے عالمی بحث کا موضوع بنا دیا۔ ناروے کی صحافی ہیلا لنگ نے جب یہ پوچھا کہ “وزیرِ اعظم مودی دنیا کے سب سے آزاد پریس کے سوالوں کا جواب کیوں نہیں دینا چاہتے؟” تو یہ محض ایک سوال نہیں تھا بلکہ موجودہ بھارتی جمہوریت کے مزاج پر اٹھنے والا ایک عالمی استفسار تھا۔ اس سوال کے بعد وزیرِ اعظم خاموشی سے ہال سے باہر نکل گئے، مگر ان کی خاموشی وہیں نہیں رک...

سیڑھیوں پر چڑھتا چین، چوٹی پر کھڑا امریکہ - اور دنیا کے بیچ کھڑی خاموش سفارت کاری۔ - از قلم : اسماء جبین فلک۔

Image
سیڑھیوں پر چڑھتا چین، چوٹی پر کھڑا امریکہ - اور دنیا کے بیچ کھڑی خاموش سفارت کاری۔ -   از قلم : اسماء جبین فلک۔ بین الاقوامی سیاست میں طاقت ہمیشہ توپوں، میزائلوں اور معیشت سے ظاہر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات طاقت کی سب سے بڑی علامت خاموشی ہوتی ہے، رفتار ہوتی ہے، انتظار نہ کرنے کا سلیقہ ہوتا ہے، اور یہ فیصلہ بھی کہ آپ مہمان کو کتنی دیر تک اپنے برابر کھڑا رکھتے ہیں۔ دنیا نے بیجنگ میں ایک بار پھر یہی منظر دیکھا، جب ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) اور شی جن پنگ (Xi Jinping) آمنے سامنے آئے۔ بظاہر یہ دو صدور کی ملاقات تھی، مگر درحقیقت یہ دو تہذیبوں، دو سیاسی نفسیات، اور دو عالمی تصوراتِ طاقت کا مقابلہ تھا۔ ایک طرف وہ امریکہ تھا جو پچھلی صدی کے بیشتر حصے میں دنیا کی واحد سپر پاور رہا، اور دوسری طرف وہ چین تھا جو بغیر شور مچائے، بغیر نعرے لگائے، سیڑھی در سیڑھی اوپر آتا رہا۔ بیجنگ کے “گریٹ ہال آف پیپل” (Great Hall of the People) کی اُن انتالیس چوڑی سیڑھیوں پر چلتے ہوئے دنیا صرف دو رہنماؤں کو نہیں دیکھ رہی تھی؛ دنیا یہ دیکھ رہی تھی کہ اب کون کس کو راستہ دکھا رہا ہے۔ شی جن پنگ آگے تھے، ٹر...

اردو صحافت کا ایک درخشاں باب اختتام پذیر۔۔ شریک غم :عارف محمد خان ، جلگاؤں۔

Image
اردو صحافت کا ایک درخشاں باب اختتام پذیر۔ شریک غم :عارف محمد خان ، جلگاؤں۔ اردو صحافت، ادبی دنیا اور سماجی حلقوں کے لیے یہ خبر انتہائی افسوسناک اور دل کو مغموم کرنے والی ہے کہ معروف صحافی، بہترین مقرر، گل بوٹے کے مدیر، خادمِ اردو اور کیویز ٹائم ممبئی کے ممتاز اینکر فاروق سید ہمیں داغِ مفارقت دے گئے۔ ان کا انتقال صرف ایک فرد کا انتقال نہیں بلکہ اردو زبان، صحافت اور تہذیبی اقدار کے ایک روشن چراغ کا بجھ جانا ہے۔ مرحوم نے اپنی پوری زندگی علم، ادب، صحافت اور سماجی بیداری کے لیے وقف کردی تھی۔ وہ ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے خاموشی سے مگر نہایت خلوص کے ساتھ اردو زبان کی خدمت انجام دی۔  فاروق سید ایک باوقار صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت شائستہ مقرر بھی تھے۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی، زبان کی مٹھاس اور فکر کی سنجیدگی نمایاں ہوتی تھی۔ وہ جب کسی موضوع پر اظہارِ خیال کرتے تو سامعین ہمہ تن گوش ہوجاتے۔ ان کی تقریروں میں معاشرتی شعور، اخلاقی اقدار اور انسان دوستی کا پیغام نمایاں رہتا تھا۔ بطور مدیر گل بوٹے انہوں نے ادبی صحافت کو نئی جہت عطا کی۔ انہوں نے بے شمار ادیبوں، شاعروں ا...

ادبِ اطفال کا ایک چمکتا ستارہ غروب ہوا - فاروق سید نہیں رہے - ایوب نلامندو

Image
غم کا اظہار ادبِ اطفال کا ایک چمکتا ہوا ستارہ غروب ہو گیا۔ - - - - - - - - - - - - - - - فاروق سید نہیں رہے۔ - - - - - - - - - - - - - - - - ممبئی -- ہمارے دوست، "انڈین یوتھ ایسوسی ایشن سولاپور"  کے سابق صدر، بچوں کے پیارے، اردو ٹائمز کے سابق ایڈیٹر اور ماہنامہ "گل بوٹے" کے بانی و ایڈیٹر جناب فاروق غلام نبی سید خان عرف "فاروق سید" جو کچھ عرصے سے علیل تھے۔ آج  اپنے مالکِ حقیقی  سے جا ملے۔  ادبِ اطفال کو پروان چڑھانے والی شخصیت آج ہم سے رخصت ہوگئی۔ سب جانتے ہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن ہمیں ہمیشہ افسوس رہے گا کہ بچوں کے ادب اور ذہنیت کو پروان چڑھانے والا اردو کا عظیم سورما نہیں رہا۔ فاروق سید صاحب کے میٹھے الفاظ آج بھی ہمارے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ ان کی نرم طبیعت، اپنے اساتذہ سے محبت، پرانے دوستوں سے ملنے کی جلدی، ان کا گلے لگانا اور ان کی خیریت دریافت کرنا، کسی تقریب سے غیر حاضر ہونے پر ان کی سمجھداری، یہ سب ان کی اعلیٰ صفات کی جھلکیں تھیں۔ جنہوں نے اسے گلے لگایا اور پیدا ہونے والی دوریوں کو ختم کیا۔ ایسی ہزاروں خوبیوں کے مالک...

آہ فاروق سیدؔ؛ ادب کا دوست، ادب نوازوں کا دوست - عقیل خان بیاولی۔

Image
آہ فاروق سیدؔ؛ ادب کا دوست، ادب نوازوں کا دوست۔  عقیل خان بیاولی۔ کبھی زندگی کی راہوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو محض ایک فرد نہیں ہوتے بلکہ ایک انجمن، ایک تحریک اور ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مرحوم فاروق سیدؔ بھی انہی درخشاں شخصیات میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنی صحافتی، ادبی اور انسانی خدمات کے ذریعے بے شمار دلوں میں محبت، خلوص اور اپنائیت کے چراغ روشن کیے۔ گزشتہ دنوں ان کی عمرۂ مبارکہ کو روانگی، پھر طبیعت کی ناسازی، صحتیابی اور دوبارہ علالت کی خبریں مختلف ذرائع سے موصول ہوتی رہیں۔ دل مسلسل بے چین رہا، دعاگو رہا۔ حال ہی میں میرے ایک عزیز دوست ممبئی گئے تھے، جہاں ان کی ملاقات بھائی امتیاز شیخ سے ہوئی۔ دورانِ گفتگو انہوں نے وطنِ عزیز جلگاؤں کے احباب، قلم کاروں اور مرحوم فاروق سیدؔ سے وابستہ محبت بھرے تعلقات اور بے لوث اپنائیت کا خصوصی ذکر کیا، جس نے دل کو مغموم بھی کیا اور ان کی شخصیت کی عظمت کا احساس بھی تازہ کردیا۔ ایک طویل عرصے تک ہمیں روزنامہ اردو ٹائمز ممبئی میں مرحوم کے ساتھ رہنے، اور کام کرنے کا شرف حاصل رہا۔ فاروق سیدؔ نہایت تیز رفتار، متحرک اور ہمہ ج...

فاروق سید صاحب کا انتقال : آہ !! ادب کی کہکشاں کا درخشاں ستارہ ٹوٹ گیا۔

Image
دل کا علاقہ جتنا تھا، سنسان ہوگیا تم کیا گئے کہ شہر یہ ویران ہوگیا بچوں کے ادب اور صحافت کا ایک بڑا خسارہ ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون   نہایت افسوس ناک اور دل دوز خبر... بچوں کے ہر دلعزیز ماہنامہ گل بوٹے(ممبئی) کے بانی و مدیر، ممتاز صحافی اور ادیب محترم فاروق سید صاحب اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ فاروق سید صاحب نے اپنی پوری زندگی بچوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت اور اردو ادب کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ "گل بوٹے" صرف ایک رسالہ نہیں تھا، بلکہ انہوں نے اس کے ذریعے نسلوں کی آبیاری کی اور نئی نسلوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا۔ وہ بچوں کے ادب کا ایک ایسا معتبر اور مخلص نام تھے جن کی جگہ ہمیشہ خالی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ فاروق سید صاحب کی مغفرت فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے، ان کی علمی و ادبی خدمات کو قبول فرمائے اور تمام پسماندگان، قارئین اور ادب وصحافت سے وابستہ افراد کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔ (آمین) اس دکھ کی گھڑی میں ہم سب ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

وحدتِ اسلامی ہند کے زیر اہتمام 'دعوتِ توحید اور حقوقِ انسانی' کُل ہند مہم پر خصوصی پوڈ کاسٹ کا انعقاد۔اِس اہم پروگرام کے ذریعے وحدتِ اسلامی اكوله یونٹ نے کیا مہم کا آغاز۔

Image
اکولہ (پریس ریلیز) : ملکی سطح پر سرگرمِ عمل تنظیم وحدتِ اسلامی ہند کے زیرِ اہتمام جاری کل ہند مہم "دعوتِ توحید اور حقوقِ انسانی" 19 تا 28 مئی 2026 کے سلسلے میں بروز پیر، 18 مئی کو مومن پورہ مسجد، اکولہ میں ایک خصوصی اور انتہائی معلوماتی پوڈ کاسٹ کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد عوام الناس میں حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سیرت کے روشن پہلوؤں کے ذریعے دعوتِ توحید کو عام کرنا اور حضور اکرم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ حجة الوداع کے تناظر میں انسانی حقوق کے تئیں بیداری پیدا کرنا ہے۔ اس خصوصی پوڈ کاسٹ میں وحدتِ اسلامی کے ڈویژنل ناظم محترم ناصر خان صاحب نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ پروگرام کی نظامت (اینکرنگ) کے فرائض انجینئر سید راحیل نے بخوبی انجام دیے۔ مہمانِ خصوصی کے ہاتھوں مہم کے کتابچے، پوسٹر اور اسٹیکر کا اجراء کیا گیا اور بارگاہِ خداوندی میں دعا کی گئی کہ جِس مقصد کے لئے مہم منائی جارہی ہے اس میں اللہ کی مدد شامل حال ہو اور کامیابی ملے  سید راحیل نے مہم کے اغراض و مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے محترم ناصر خان صاحب سے انتہائی اہم اور فکر انگ...

غیر موسمی بارش سے فصلوں کا نقصان ، حکومت کسانوں کی مدد کرے،مسٹر وائی نروتم کا مطالبہ۔

Image
کوہیر 19/ (نمائندہ) ضلع سنگاریڈی کے کوہیر منڈل اور دیگر مقامات پر حالیہ غیر موسمی بارش سے آم ،کیلے،مکئی،جوار ،کی فصلیں تباہی ھو گئی ہیں جس سے کسانوں کا کا فی نقصان ھوا ہے۔واضح رہے کہ کوہیر منڈل اسکے مواضعات کے کسانوں کا گزر بسر مذکورہ فصلوں پر ہی منحصر ہے۔اس ضمن میں سابق چیئرمین مسٹر وائی نروتم نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کے فصلوں کے نقصان کی بھر پائی کرتے ہوئے فوری تعاون کے اقدامات کریں۔۔۔۔۔

قربانی واجب ہے، مگر گنجائش نہیں۔۔ اب کیا کریں؟ _تحریر شعیب احمد محمدی_

Image
قربانی واجب ہے، مگر گنجائش نہیں۔۔ اب کیا کریں؟   _تحریر شعیب احمد محمدی_ برادران اسلام! عید الاضحیٰ کا موقع قریب آتے ہی ہر صاحبِ نصاب مسلمان کے دل میں ایک سوال ضرور اٹھتا ہے: "قربانی واجب ہے، مگر حالات تنگ ہیں۔ آمدنی ہاتھ کی کمائی ہے، بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، اور مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے۔ اب کیا کریں؟" یہ سوال جذباتی بھی ہے، شرعی بھی ہے، اور معاشرتی بھی۔ آئیے اس کو دین، دل، اور دلیل کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔ --- 1. دینی پہلو: قربانی واجب کب ہے؟ :  شریعت نے قربانی کو "صاحبِ نصاب" پر واجب قرار دیا ہے۔ صاحبِ نصاب وہ ہے جس کے پاس عید کے دن فجر سے لے کر 12 ذی الحجہ کے غروب تک اپنی حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا مال موجود ہو۔ یہاں دو غلط فہمیاں دور کرنا ضروری ہیں: پہلی غلط فہمی : لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر بیوی کے پاس زیور ہے تو شوہر پر قربانی واجب ہے۔ حالانکہ واجب اس پر ہے جس کی ملکیت میں نصاب ہو۔ اگر زیور بیوی کی ملکیت ہے تو قربانی بیوی پر واجب ہے، شوہر پر نہیں۔  دوسری غلط فہمی: "مکمل جانور" ہی قربانی ہے۔ نہیں، گائے، اونٹ،...

آج ہم کس مقام پر ہیں؟(سماجی، سیاسی، معاشی، تہذیبی، ثقافتی، ماحولیاتی، اخلاقی، عصری اور مذہبی حالات کا ایک جامع جائزہ)۔ ازقلم : محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر، لاتور۔

Image
آج ہم کس مقام پر ہیں؟ (سماجی، سیاسی، معاشی، تہذیبی، ثقافتی، ماحولیاتی، اخلاقی، عصری اور مذہبی حالات کا ایک جامع جائزہ) ازقلم : محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر، لاتور۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ انسانی تاریخ کا موجودہ دور ترقی، سہولت، تیز رفتاری اور معلوماتی انقلاب کا دور کہلاتا ہے۔ آج انسان نے سائنسی میدان میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں، فاصلے سمٹ گئے ہیں، دنیا ایک گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے، مگر اس ترقی کے باوجود ایک اہم سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ آخر آج ہم کس مقام پر ہیں؟ کیا واقعی ہم ترقی کی بلندیوں پر ہیں یا اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں؟ کیا جدیدیت نے ہمیں سکون دیا یا ہم مزید بے چینی، انتشار اور اخلاقی زوال کا شکار ہوئے؟یہ سوال صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے، قوم اور انسانیت کا سوال ہے۔ **سماجی طور پر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ آج کا معاشرہ بظاہر ترقی یافتہ نظر آتا ہے مگر حقیقت میں رشتوں کی مضبوطی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔خاندان جو کبھی محبت، احترام اور تربیت کا مرکز ہوا کرتا تھا، آج انتشار، بے اعتمادی اور مادہ پرستی کا شکار ہے۔والدین کے احترام میں کمی، او...

رنگ اور روشنی - ازقلم : ڈاکٹر سراج انوار، امراؤتی، مہاراشٹر۔

Image
رنگ اور روشنی -  ازقلم : ڈاکٹر سراج انوار، امراؤتی، مہاراشٹر۔ موبائل: 8668323359 شہر کا یہ وہی مصروف ترین علاقہ تھا جہاں بڑے بڑے اپارٹمنٹ کے سائے ایک دوسرے پر پڑ رہے تھے۔ قریب سے گزرنے پر یہاں اتنا شور ہوتا کہ کسی کو کسی کی آواز بھی سنائی نہ دیتی۔ انہی کے درمیان ایک پرانے اپارٹمنٹ کے تیسرے فلور پر دو کمرے آمنے سامنے تھے۔ ان کے بیچ بس ایک پتلی سی دیوار تھی۔ مگر دیوار کے دونوں طرف دو الگ الگ دنیائیں آباد تھیں۔ دائیں طرف نورہ اور بائیں طرف ثمر۔ صبح کی پہلی کرن جب کھڑکی سے چھن کر آتی تو نورہ پہلے سے جاگ رہی ہوتی۔ اس کے ہاتھوں پر مختلف رنگوں کے نشان ہوتے۔ نیلا، سبز، خاکی، اور کبھی کبھی گہرا سرخ جو خون جیسا لگتا مگر تھا فقط رنگ۔ یہ سب اس کی رات بھر کی گئی محنت کی گواہی کے لیے کافی تھے۔ اس کا کمرہ کافی چھوٹا تھا۔ ایک کونے میں لکڑی کا پرانا ایزل کھڑا تھا جس پر ان دنوں پہاڑوں کا منظر سجا ہوا تھا۔ برف سے ڈھکی چوٹیاں، نیچے سبز جنگل، اور بیچ سے گزرتا ہوا ایک نیلا دریا جو پتھروں سے ٹکراتا ہوا آگے بڑھتا دکھائی دے رہا تھا۔ فرش پر برشوں کا ڈھیر تھا، مختلف رنگوں کی ٹیوبیں بکھری ہوئی تھی...

ظہیرآباد تا شیخاپور، ملچلمہ اور تانڈور روڈ کی زبوں حالی: عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز، پانچ سالہ احتجاج کے باوجود حکومت و حکام بے حس۔

Image
 ظہیرآباد 19/مئی ( نمائندہ)  اہلیان شیخاپور ، ملچلمہ ،رام نگر کالونی ،ہوتی تانڈا، وجملہ مسافران تانڈور کی اطلاع کے بموجب ،ڈرائیور کالونی، رام نگر، ہوتی ٹانڈا، ڈبل بیڈ روم مکانات، شیخاپور اور ملچلمہ کے ہزاروں رہائشی شدید عذاب میں چل رہے ہیں حادثات روز کا معمول بن چلا ہے۔ مریضوں اور اسکولی بچوں کی زندگی داؤ پر ہے۔  تانڈور جانے والے مسافر متبادل راستوں پر زائد ایندھن اور اخراجات کا بوجھ اٹھانے پر مجبور، ناواقف راستوں کے باعث حادثات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں ایم ایل اے کے۔ مانک راؤ، ایم پی سریش کمار شیٹکار اور حکومتِ وقت سے عوام کا دلپذیر مطالبہ ہے کہ "اب وعدے نہیں، سڑک چاہیے!"  تفصیلات کے بموجب ظہیرآباد سے شیخاپور (8 کلومیٹر) اور وہاں سے آگے ملچلمہ تک (4 کلومیٹر) کا مجموعی طور پر 12 کلومیٹر کا طویل ترین اہم ترین راستہ اس وقت سڑک نہیں بلکہ "موت کا جال" بن چکا ہے۔ واضح رہے کہ یہ سڑک صرف مقامی دیہاتوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ظہیرآباد سے تانڈور جانے والی ایک اہم اور مرکزی شاہراہ (Main Road) ہے۔ سال 2012ء میں تعمیر کی گئی یہ سڑک ابتدائی آٹھ سال ...

​ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول، عمرکھیڑ کا شاندار کارنامہ: پنجم جماعت کی طالبات نے اسکالرشپ امتحان میں ماری بازی۔

Image
 عمرکھیڑ ضلع ایوت 19 مئ 2026 (نامہ نگار عثمان احمد)   تعلیمی میدان میں ہمیشہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے مقامی تعلیمی ادارے ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو مڈل گرلز اسکول، عمرکھیڑ (ضلع ایوت محل) کی طالبات نے ایک بار پھر اسکول کا نام روشن کیا ہے۔ تعلیمی سال 2025-26 کے جماعت پنجم (5ویں) کے اسکالرشپ (ششیورتی) امتحان میں اسکول کی طالبات نے شاندار کامیابی حاصل کر کے اپنی ذہانت کا لوہا منوایا ہے۔ ​اسکول کی اس شاندار کامیابی پر صدر مدرس و کیندر پرمکھ راحت روشن انصاری، پنجم جماعت کی معلمات فرحانہ بیگم مجید بیگ، شمیم بانو سمیر احمد اور تمام اساتذہ کرام نے طالبات اور ان کے سرپرستوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ ​کامیاب طالبات اور ان کے حاصل کردہ نشانات کی تفصیل درج ذیل ہے: نمبر شمار طالبہ کا نام والد کا نام حاصل کردہ نمبرات 1 عانیہ ازفرین (Aaniya Azfarin) محمد ارشاد (Mohammed Irshad) 144 2 ماہرہ خان (Mahira Khan) ناصر خان (Nasar Khan) 140 3 فالیشہ مہرین (Falisha Mehrin) زبیر خان (Zubair Khan) 134 4 م...

عید قرباں اور مسلمان۔۔ - ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔

Image
عید قرباں اور مسلمان۔۔ -  ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔   ملک عزیز میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف روز بروز حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ شروع اسلام سے ہی حق و باطل کا یہ معرکہ چلتا آرہا ہے اور تاقیامت چلتا رھیگا اس لئے مسلمانوں کو اس سے ڈرنے ، خوف کھانے یا حواس باختہ ہونیکی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر اعتماد و توکل کرتے ہوئے ہمت اور حوصلے سے کام لینا چاہئے اور قرآن کریم میں پہلے ہی اسکی اطلاع دی گئی ھیکہ ہم تمہارا امتحان لینگے اور مختلف طریقوں سے تمہیں آزمائینگے پھر اگر تم صبر و استقامت کیساتھ حق پر قائم اور ڈٹے رہوگے تو بالآخر فتح و کامیابی تمہارا ہی مقدر ہوگی      اسلئے سب سے پہلی اور بنیادی چیز ہمیں اپنے دین و شریعت پر مضبوطی سے قائم اور عمل پیرا ہونا چاہئے چاہے حالات کتنے ہی کٹھن اور نامناسب کیوں نہ ہوں اسلئے کہ حالات کی تبدیلی اور اللہ تعالی کی مدد و نصرت دین و شریعت سے وابستگی سے ہی آئیگی اسطرح جلد بازی اور عارضی اور وقتی جوش و خروش کی بجائے صبر وتحمل مستقل مزاجی عقلمندی اور دوراندیشی کا مظ...

مملکت کے ینبع ایئرپورٹ پر جرمنی اور ترکیہ سے عازمین حج کی پہلی پرواز کی آمد۔

Image
    کے این واصف : حج 1447ھ کے لیے ینبع کے پرنس عبدالمحسن بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاسپورٹ آفسز نے فیڈرل ریپبلک آف جرمنی اور جمہوریہ ترکیے سے آنے والی عازمین حج کی پہلی فلائٹ کو خوش آمدید کہا۔ سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق عازمین حج کے داخلے، پاسپورٹ اور سامان کی کارروائی ایئرپورٹ پر تمام متعلقہ اداروں کی بھرپور ہم آہنگی کے باعث نہایت آسانی سے مکمل ہوئی۔ یہ کوششیں عازمین حج کی خدمت کے لیے مختلف شعبوں کی مکمل تیاری کی عکاسی کرتی ہیں جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے عین مطابق ہیں۔ ان اہداف کا مقصد عازمین اور زائرین کے سفر کو مزید یادگار بنانا ہے اور انہیں فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو اعلیٰ ترین سطح پر پہنچانا ہے۔

مملکت میں عازمین کی آمد سلسلہ جاری - مہمانان رب العزت کی سہولت کے لیے وزارتِ داخلہ کی ہدایات۔

Image
کے این واصف :  سال رواں کے حج کے لیے اقطاعِ عالم سے عازمین کی آمد کا مملکت پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلہ میں سعودی وزارتِ داخلہ نے حج 2026 کے حوالے سے عازمین کی سہولت اور رہنمائی کے لیے اہم نکات پر مبنی گائیڈ جاری کی ہے۔ سعودی خبررساں ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ مہمانان رب العزت کے آرام و تحفظ کے لیے جاری کردہ اہم ہدایات کا مقصد ان کے سفرِ حج کو آسان اور جامع بنانا ہے تاکہ وہ ضوابط کے مطابق آرام وسکون سے فریضہ ادا کریں۔ وزارت کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات میں حرم مکی کے مختلف مقامات کی وضاحت کی گئی ہے، مسجد الحرام میں کن راستوں سے داخل ہوں، ان ٹریکس کے بارے میں بھی وضاحت کی گئی ہے جن سے ہوتے ہوئے طواف کعبہ اور سعی کے لیے باسانی پہنچا جاسکتا ہے۔ عازمین ان رہنماینہ بورڈز کو غور سے پڑھیں جو مختلف زبانون میں آویزاں کئے گئے ہیں۔  رہنما ہدایات میں مسجد الحرام کے صحنوں اور برآمدوں میں ازدحام کے اوقات کے حوالے سے بھی نشاندہی کرتے ہوئے ازدحام کے وقت سعی (صفا و مروہ) کے لیے متبادل مقامات کی رہنمائی کی گئی ہے۔ مسجد الحرام کے بیرونی صحنوں ک...

امسال مسجد نبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی مسجد نمرہ میں یوم عرفہ کو خطبہ حج دیں گے۔

Image
کے این واصف :  اس سال شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی یوم عرفہ کو خطبہ حج دیں گے۔ جس کا اعلان مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں مذہبی امور کی انتظامی کمیٹی نے پیر کو کیا کہ مسجد نبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی منگل 26 مئی کو مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیں  شیخ علی بن عبدالرحمن بن علی الحذیفی کو سعودی عرب اور دنیا میں قرآن کریم کے سب سے ممتاز قراء میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ وہ مکہ مکرمہ ریجن کے قریہ القرن میں سال یکم رجب ہجری 1366 کو پیدا ہوئے۔  شیخ علی الحذیفی نے ابتدائی قرآنی تعلیم اپنے قصبے میں حاصل کی۔   ریاض کی جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ کے شعبہ شریعہ سے 1392 ہجری میں فارغ ہوئے، انہیں بلجرشتی کمشنری کے کالج میں استاد کے طور پر تعینات کیا گیا۔  شیخ الحذیفی نے سال 1395 ہجری میں مصر کی معروف جامعہ الازھر سے ماسٹرز اور اس کے بعد فقہ فیکلٹی اورعلوم اسلامیہ کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کیا۔ ڈاکٹر الحذیفی کی آواز میں قرات کی ریکارڈنگ مملکت اور بیرونی ملکوں کے ریڈیو سٹیشنز میں موجود ہیں۔ شیخ الحذیفی مسجد قبا کے امام و خطیب، سال ہجری 1399 سے 1401 تک مسجد ن...

اصل خوبصورتی یا مصنوعی چمک؟۔ - سید فاروق احمد قادری۔

Image
اصل خوبصورتی یا مصنوعی چمک؟۔ -   سید فاروق احمد قادری۔ "چہرے پر میک اپ کی چمک ہو سکتی ہے، مگر دل کی سچائی ہی اصل خوبصورتی ہوتی ہے۔" پرانے زمانے میں نہ اتنے بیوٹی پارلر تھے، نہ مہنگے میک اپ برانڈ، نہ چہرے کو بدل دینے والی کریمیں۔ اس دور میں سادگی، حیا اور فطری خوبصورتی ہوا کرتی تھی۔ وقت بدلا، سائنس نے ترقی کی، بازار بڑھا، اشتہاروں نے انسان کے ذہن پر قبضہ کیا، اور آہستہ آہستہ خوبصورتی کو “مصنوعی رنگوں” میں قید کر دیا گیا۔ آج کی عورت ہو یا مرد، دونوں ظاہری چمک کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا میک اپ واقعی خوبصورتی ہے؟ وہ خوبصورتی جو پانی سے دھل جائے، پسینے سے مٹ جائے، یا رات کے اختتام پر اتر جائے — کیا وہ حقیقی حسن کہلا سکتی ہے؟ اصل خوبصورتی کردار کی ہوتی ہے اصل خوبصورتی تو کردار، اخلاق، سادگی اور سچائی کی ہوتی ہے۔ مرد کی محنت، اس کی غیرت، اس کی ایمانداری، اور عورت کی حیا، عزت اور خلوص — یہی وہ حسن ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا اور مصنوعی حسن معاشرتی طور پر دیکھا جائے تو آج سوشل میڈیا نے خوبصورتی کا معیار بدل دیا ہے۔ لوگ چہرہ دیکھتے ہیں، کردار نہی...

تملناڈو اسٹیٹ اردو اکیڈمی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر محمد نعیم الرحمٰن نے آج تمل ناڈو کے اسکولی تعلیم کے وزیر جناب راج موہن سے ملاقات کی۔

Image
چینئی: (محمد رضوان اللہ) تملناڈو اسٹیٹ اردو اکارڈمی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر محمد نعیم الرحمٰن نے آج تمل ناڈو کے اسکولی تعلیم کے وزیر جناب راج موہن سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ریاست میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے، طلبہ کو جدید سہولیات فراہم کرنے اور اقلیتی طلبہ کی تعلیمی ترقی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر نعیم الرحمٰن نے وزیر موصوف کو عوامی مسائل اور بالخصوص تعلیمی میدان میں درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی بہتری، اردو سمیت مادری زبانوں کی تعلیم کے فروغ، اور طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر تعلیم جناب راج موہن نے ڈاکٹر نعیم الرحمٰن کی تجاویز کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت تعلیم کے شعبے کی ترقی اور طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے گی۔  اسی دوران ایجوکیشن سیکرٹری ارون رائے سے بھی ملاقات کی  اس ملاقات کو تعلیمی و سماجی حلقوں میں مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مشکل نہیں ہے کچھ بھی اگر ٹھان لیجئے "جے ای۔ای۔" اور "نیٹ " تعلیم، ذمہ داری اور سماجی بیداری۔۔ از قلم : محمود علی لیکچرر۔

Image
مشکل نہیں ہے کچھ بھی اگر ٹھان لیجئے "جے ای۔ای۔" اور  "نیٹ "  تعلیم، ذمہ داری اور سماجی بیداری۔ از قلم : محمود علی لیکچرر۔ ہندوستان میں تعلیم کو ترقی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سیڑھی ہر ایک کے لیے یکساں نہیں۔ ایک طرف وسائل سے بھرپور طلبہ ہیں، دوسری طرف وہ باصلاحیت بچے بھی ہیں جو صرف رہنمائی اور مواقع کی کمی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ایسے میں Joint Entrance Examination (JEE) اور National Eligibility cum Entrance Test (NEET) جیسے امتحانات محض تعلیمی مرحلے نہیں بلکہ سماجی انصاف کا پیمانہ بھی بن جاتے ہیں۔ یہ امتحانات ملک کے ممتاز اداروں جیسے Indian Institutes of Technology اور All India Institute of Medical Sciences تک رسائی فراہم کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر بچہ اس دوڑ میں شامل ہونے کے قابل بنایا جا رہا ہے؟ نصاب اور امتحان ایک حقیقت JEE اور NEET کا نصاب بظاہر محدود ہے کلاس 11 اور 12 کی NCERT کتابیں مگر اس کی گہرائی اور مقابلہ اسے مشکل بنا دیتا ہے۔ National Testing Agency کے تحت ہونے والے یہ امتحانات ہر سال لاکھوں طلبہ کی قسمت کا ف...