Posts

چھ سو برس بعد حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کے نادر ملفوظات منظرِ عام پر،’’محرابِ فیض‘‘ اور 99 اسمائے مبارکہ کی روحانی تقریب منعقد۔

Image
بیدر،21مئی(نامہ نگارمحمد عبدالصمد ) درگاہ و خانقاہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ بیدر میں ’’افتتاحی تقریبِ محرابِ فیض‘‘ نہایت روحانی و علمی ماحول میں منعقد ہوئی،جس میں حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کے99اسمائے مبارکہ پر مشتمل ’’محرابِ فیض‘‘ کا افتتاح عمل میں آیا۔اس باوقار تقریب میں علماء،مشائخ،سجادگان،عقیدت مندوں اور وابستگانِ خانقاہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔افتتاح حضرت سید شاہ اسداللہ حسینی صاحب سجادہ نشین و متولی درگاہ و خانقاہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کے دستِ مبارک سے انجام پایا۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت حافظ اسماعیل نے حاصل کی جبکہ نعتِ رسولِ مقبولؐ بھی حافظ اسماعیل نے پیش کی۔اس موقع پر سید شاہ من اللہ علوی نے تفصیلی اور روح پرور خطاب کرتے ہوئے ’’ملفوظات‘‘ کی علمی،روحانی اور تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ تصوف کی تاریخ میں ملفوظات کو ہمیشہ غیر معمولی مقام حاصل رہا ہے کیونکہ یہ صرف اقوال کا ذخیرہ نہیں بلکہ اولیائے کرام کے قلبی احوال،روحانی فیوض اور تربیتی اسلوب کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کے نادر ملفوظات ’’شوامل الجمل در شمائ...

برہان پور میں جمعہ کو عظیم الشان کل ہند ادبی اجلاس اور مشاعرہ - حیدرآباد سے پروفیسر مسعود احمد مدعو - شعری مجموعہ احساسات مسعود کی رسم اجرا ہوگی۔

Image
حیدرآباد 20-مئی - جشن اقبال انصاری برائے صحافت کے ضمن میں جمعہ 22 مئی 2026ء کو مومن جماعت خانہ انصار نگربرہان پور( مدھیہ پردیش ) میں ایک عظیم الشان ادبی اجلاس اور مشاعرہ منعقد ہوگا حیدراباد سےپروفیسر مسعود احمد خصوصی طور پر مدو کیا گیا ہے اس موقع پر ان کے شعری مجموعے "احساسات مسعود" ( بہ زبان ہندی )کی رسم اجرا عمل میں آئے گی پروفیسر مسعود احمد کے مختلف شعری مجموں کی مختلف زبانوں میں اشاعت عمل میں آچکی ہے تقریب کی صدارت جناب سید مصطفی علی صاحب ساگر اور جناب محمد آصف انصاری صاحب کارپوریٹر کریں گے اس تقریب کا اہتمام نماز انٹرنیشنل اسکول سوسائٹی، آل ازویل ہسپتال سوسائٹی ،تحریم ایجوکیشنل سوسائٹی اور حرف حرف آئینہ سوسائٹی نے کیا ہے سیمینار دوپہر 3 بجے کانفرنس ہال مومن جماعت خانہ انصار نگر میں ہوگا بہ عنوان "اقبال انصاری 40 سالہ صحافتی خدمات کے آئینے میں" خطابات ہوں گے تعلیمی بیداری پر مقررین خاص جناب آنند پرکاش چوکسے، پنڈت راکیش شرما جی اور ایڈوکیٹ منوج اگروال کے خصوصی خطابات ہوں گے10 بجے شب منعقد ہونے والے مشاعرہ میں اعجااز انصاری دہلی، احمد عبدالحمید پونا،...

شاہی مہمانوں کے گروپس حج کے لیے سعودی عرب پہنچے - جدہ میں پرتپاک خیرمقدم۔

Image
کے این واصف :  سعودی حکومت ہر سال مختلف ممالک سے سینکڑوں معروف افراد کو شاہی مہمان کے طور پر حج کے لیے مدعو کرتی ہے۔ حسب رویت سعودی وزارتِ اسلامی امور نے حج کے لیے سعودی عرب پہنچنے والے شاہی مہمانوں کے پہلے دو گروپوں کا پرتپاک استقبال کیا ہے۔ ضیوف خادم حرمین شریفین پروگرام برائے حج وعمرہ کے تحت اس سال 104 ممالک سے ڈھائی ہزار افراد فریضہ حج ادا کریں گے۔ وزارت کے مطابق جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وزارت اسلامی امور کے اعلی حکام نے شاہی ضیافت میں آنے والے مہمانوں کے خیر مقدم کے لیے موجود تھے۔ دو گروپوں میں 75 ممالک سے 1735 افراد مملکت پہنچے ہیں۔

حجاج کو ٹرانسپورٹ کی بہترین سہولت فراہم کرنے مشاعر مقدسہ میں میٹرو منصوبے کا آغاز۔

Image
کے این واصف : حجاج کے لیے منٰی سے میدان عرفہ اور پھر مزدلفہ کے بعد منٰی واپسی ایک لمبا فاصلہ ہے۔ جسے اب آسان بنادیا گیا ہے۔ سعودی ریلوے کمپنی (سار) نے اپنی بھر پور تیاری کا اعلان کرتے ہوئےمشاعرِ مقدسہ میٹرو منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔  سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے”کے مطابق اس اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ ذرائع نقل و حرکت کا پورا شعبہ حجاج کرام کو نقل و حرکت کی محفوظ اور قابلِ بھروسہ سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ حج سیزن کے محفوظ اور اعلٰی کارکردگی پر مبنی آغاز کی ضمانت کے طور پر، “سار” نے تین فرضی مشقیں بھی کی ہیں۔ جن میں ہجوم کو ویسے ہی عروج پر فرض کیا گیا تھا جیسے حج کے انتہائی اہم اور مصروف ترین لمحات میں ہوتا ہے۔ اِن مشقوں کا مقصد ہجوم کے بارے میں ممکنہ حتمی حد تک درست اندازہ لگانا تھا۔ عازمینِ حج کے لیے فراہم کردہ ٹرانسپورٹ نظام میں میٹرو نیٹ ورک کے ۹ اسٹیشنوں قائم کئے گئے ہیں۔ جن میں میدانِ عرفات، مزدلفہ اور منٰی جیسے مقامات شامل ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ منٰی کا آخری اسٹیشن، جمرات کے پُل کی چوتھی منزل تک پھیلا ہوا ہے جس سے ہجوم کے بہاؤ کو محفوظ اور بِلا تعطل بہتر ...

ہارمون اور احساسات (انشائیہ)از قلم محمود علی۔

Image
ہارمون اور احساسات (انشائیہ) از قلم محمود علی۔  8055402819 انسان اپنے آپ کو جتنا عقل مند سمجھتا ہے، اتنا وہ ہے نہیں۔ویسے اتنا بے وقوف بھی نہیں وہ اکثر یہ گمان کرتا ہے کہ اس کے فیصلے، اس کی رنج غم مایوسی اس کی خوشیاں اور اداسیاں سب اُس کے شعور کی پیداوار ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کے باطن میں ایک خاموش کیمیا مسلسل کام کرتی رہتی ہے۔ یہی کیمیا کبھی آنکھوں میں روشنی اور چمک پیدا کرتی ہے اور کبھی دل کو بے وجہ بوجھل کر دیتی ہے۔ ہم اسے سادہ لفظوں میں “ہارمون” کہتے ہیں۔ Hormones are the body's chemical messengers. Produced by various glands, they travel through the bloodstream to specific organs and tissues, telling them exactly what to do and when. They control vital functions like growth, metabolism, and mood انسانی جسم محض گوشت پوست کا ڈھانچا نہیں بلکہ ایک پیچیدہ کائنات ہے، جہاں ہزاروں پیغامات خون کے راستے سفر کرتے رہتے ہیں۔ یہی ہارمون انسان کے مزاج کیفیت نیند غصے خوف محبت اور یہاں تک کہ عبادت کے ذوق تک پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اپ نے Thyriod بیماری کا نام سنا ہوگا یہ بھی...

تذلیل سے تحریک تک: ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ اور ہندوستانی نوجوانوں کا خاموش بغاوت نامہ۔ - از قلم : اسماء جبین فلک۔

Image
تذلیل سے تحریک تک: ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ اور ہندوستانی نوجوانوں کا خاموش بغاوت نامہ۔ -  از قلم : اسماء جبین فلک۔ جمہوریتوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں اپنے نوجوانوں کی آواز سننے کے بجائے ان کی تحقیر کرنے لگتی ہیں، تو احتجاج صرف نعروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک علامت، ایک استعارہ اور بالآخر ایک اجتماعی شعور میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ دنیا کی بڑی سیاسی اور سماجی تحریکیں اکثر کسی معمولی جملے، ایک توہین آمیز رویّے یا طاقت کے کسی تکبر سے جنم لیتی رہی ہیں۔ ہندوستان میں ابھرنے والی “کاکروچ جنتا پارٹی” بھی اسی نوعیت کی ایک علامتی مگر معنی خیز تحریک ہے، جو بظاہر سوشل میڈیا کا طنزیہ رجحان دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے اندر موجود بے چینی، محرومی اور غصہ ملک کے کروڑوں نوجوانوں کی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تحریک محض ایک “میم کلچر” یا ڈیجیٹل مذاق نہیں، بلکہ اس نسل کا احتجاج ہے جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بے روزگاری، امتحانی بدعنوانی، معاشی غیر یقینی اور ادارہ جاتی بے حسی کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے۔ جب نوجوانوں نے محسوس کیا کہ ان کی آواز کو سننے کے بجائے انہیں کمتر سمجھا جا رہا ہے، ...

" آل انڈیا مانوتا پارٹی" تحریر: ظفر ہاشمی ندوی، سابق۔

Image
" آل انڈیا مانوتا پارٹی"   تحریر: ظفر ہاشمی ندوی، سابق۔ کونسلر دبی کورٹ ہندوستان کی آزادی سے لے کر آج تک ، مختلف سیاسی پارٹیاں بنائی گئی ہیں۔ دوسری طرف مذہب کی بنیاد پر ہندوؤں میں راشٹریہ سیوک سنگھ اور اس کی مختلف شاخیں مختلف ناموں سے بنی ہیں، جس کی وجہ سے ہندو اور مسلمانوں میں نفرت بڑھتی چلی گئی۔ مسلمانوں نے صرف سیاسی طاقت مضبوط کرنے کے لیے نہ کہ نفرت کی آگ بھڑکانے کے لیے، مسلم لیگ اور مجلس اتحاد المسلمین جیسی پارٹیاں بنائیں ۔ میرے خیال میں ہندوستان جیسے ملک میں، جہاں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں مانوتا" آل انڈیا پارٹی کا قائم کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس لحاظ سے ہر زمانے میں جب جب نفرت کی آگ بھڑکائ جاے، اور خود ہندوستانی ہی اپنے ملک کی ترقی کی بجائے اس کو برباد کرنے لگے، تب تب انسانیت پارٹی اس آگ پر محبت اور ہر ایک پر بھلائی کا پانی ڈالے گی یہاں تک کہ وہ نفرت کی آگ اپنے آپ بجھ جاے۔ جب سارے ہندوستانی متحد ہو جائیں گے تب یہ ملک اپنے آپ سائنس، ٹیکنا...

عالمی یومِ چائے - چائے کا عالمی دن مبارک ہو۔

Image
عالمی یومِ چائے -  چائے کا عالمی دن مبارک ہو۔  چائے دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی مشروبات میں سے ایک ہے۔ ہر سال 21 مئی کو “عالمی یومِ چائے” منایا جاتا ہے تاکہ چائے کی اہمیت، اس کی ثقافت، کسانوں کی محنت اور اس صنعت سے وابستہ لاکھوں افراد کی خدمات کو سراہا جا سکے۔ چائے نہ صرف ایک مشروب ہے بلکہ محبت، مہمان نوازی اور سکون کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔ برصغیر خصوصاً ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں چائے روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ صبح کا آغاز ہو، دوستوں کی محفل ہو یا تھکن بھرا دن، ایک کپ چائے دل و دماغ کو تازگی بخشتا ہے۔ چائے لوگوں کو قریب لانے اور رشتوں میں مٹھاس پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ چائے کی کاشت سے لاکھوں کسانوں اور مزدوروں کا روزگار وابستہ ہے۔ عالمی یومِ چائے منانے کا مقصد ان محنت کش افراد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا بھی ہے جو دن رات محنت کرکے بہترین چائے ہماری میز تک پہنچاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مناسب مقدار میں چائے پینا صحت کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ چائے ذہنی سکون، تازگی اور توانائی فراہم کرتی ہے۔ سبز چائے اور جڑی بوٹیوں سے تی...

ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!ازقلم۔ : سرفرازاحمدقاسمی(حیدرآباد)

Image
ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت! ازقلم۔ : سرفرازاحمدقاسمی(حیدرآباد) رابطہ: 8099695186                کسی بھی قوم کی پائیداری اور اسکے تحفظ کےلئے،قوم کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی بڑی اہمیت رکھتی ہے اور دنیا کا کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے حصول کے لیے مناسب حکمت عملی نہ اپنائی جائے،جوشخص حکمت اور مصلحت سے صرف نظر کر کے جدوجہد کرتا ہے وہ خواہ کتنا ہی نیک اور عظیم مقصد لے کر اٹھے اسے اپنی منزل تک رسائی حاصل نہیں ہوسکتی، کامیابی کے لیے لازم ہے کہ اولا منزل مقصود مقرر کی جائے پھر اس کے حصول کے لیے مؤثر تدبیر اپنائی جائے اور جذبات کی رو میں بہنے کے بجائے ہوش سے کام لیا جائے تو پھر ایسا نتیجہ برآمد ہوگا کہ خود آدمی حیران رہ جائے گا،خاص طور پر جب مقابلہ ایسے کھلے دشمن سے ہو جو اپنی شاطرانہ چالوں میں مشہور ہوں تو ایسے وقت درست اور مناسب حکمت عملی کے انتخاب کا مرحلہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے،قران کریم میں جگہ جگہ مسلمانوں کو ان چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے،ایک جگہ ارشاد ہے کہ نیکی اور بدی ...

بچوں کے ادب، صحافت اور اردو زبان کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان…۔ ازقلم: ایچ ایم جعفر۔

Image
بچوں کے ادب، صحافت اور اردو زبان کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان… ازقلم: ایچ ایم جعفر۔  (مدیر: نوائے اردو ای خبر نامہ) ادبِ اطفال کے درخشندہ ستارے، ممتاز صحافی، بے لوث مربی اور ماہنامہ "گل بوٹے" ممبئی کے بانی و مدیرمحترم فاروق سید صاحب کے سانحۂ ارتحال کی اندوہناک خبر نے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس خبرِ وحشت اثر کو سننے کے بعد سے دل رنج و الم کی اتہاہ گہرائیوں میں ڈوبا ہوا ہے اور زبان گنگ ہے۔ فاروق سید صاحب محض ایک فرد کا نام نہیں تھا، بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک مکمل انجمن اور تحریک تھے۔ انہوں نے اپنی حیاتِ مستعار کا ایک ایک لمحہ اردو زبان و ادب، بالخصوص ادبِ اطفال کی آبیاری اور ترویج کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ایک ایسے دور میں جب بچوں کے لیے لکھنا اور ان کی فکری تربیت کرنا پسِ پشت ڈال دیا گیا تھا، فاروق سید صاحب نے "گل بوٹے" کے ذریعے نئی نسل کی ذہنی، اخلاقی اور ادبی بیداری کا وہ عظیم فریضہ انجام دیا جو تاریخِ ادب میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے بچوں کے کچے ذہنوں میں مطالعے کی جوت جگائی اور انہیں اردو تہذیب سے جوڑے رکھا۔ ان کی یہ مخلصانہ خدمات ...

آو اردو سیکھیں" کتابچہ ہمارے ہاتھ آیا..جزاک اللہ منسٹر صاحب، جزاک اللہ اردو اکیڈمی چیئرمین صاحب.....

Image
آو اردو سیکھیں" کتابچہ ہمارے ہاتھ آیا.. جزاک اللہ منسٹر صاحب، جزاک اللہ اردو اکیڈمی چیئرمین صاحب..... اے. پی اردو اکیڈمی کی جانب سے الھدا ٹرسٹ کی سرپرستی میں اہتمام شدہ دینی و اردو سمر کلاسسس میں زیر تربیت جملہ 40 طلبہ میں "آو اردو سیکھیں "کتابوں کی مفت تقسیم عمل میں لائی گیء.. ذمہ دار حضرت عبدالغفور قاسمی کی سرپرستی میں جاری اس سمر کلاسسس میں بہ حیثیت خصوصی مہمان شرکت کےء مسلم مینارٹی افضل ایجوکیشنل سوسائٹی صدر سی. عبدالستار کے ہاتھوں او اردو سیکھیں کتابوں کی مفت تقسیم عمل میں لائی گیء..  اس دوران عبدالستار نےاپنے خطاب میں بتایا کہ ہم اردو والوں کی خوش بختی ہے کہ ایک محب اردو، حرکاتی قائد محترم فاروق شبلی جیسی ہمہ گر شخصیت اردو اکیڈمی چیئرمین کے عہدے پر فائز ہوےء.. انہیں بخوبی علم ہے کہ کن سے کسطرح کا کام لیا جاےء... اردو اکیڈمی کی تاریخ میں پہلی بار لٹریری کمیٹی تشکیل پانا خوش آئند بات ہے.. لٹریری کمیٹی میں شامل جملہ 7 حضرات عرصہ دراز سے درسی کتابوں کو مرتب کرنے میں لگے ہوےء ہیں.. او اردو سیکھیں کتاب بہت ہی آسان طرز سے رنگین اور کاغذ...

متحدہ اردو تنظیم ٹرسٹ ،چینئی, تملناڈو کی جانب سے اردو/ عربی خطاطی پر تعارفی نشست کا اہتمام کیاگیا ہے۔ شائقین سے استفادہ کی اپیل۔

Image
متحدہ اردو تنظیم ٹرسٹ ،چینئی, تملناڈو کی جانب سے اردو/ عربی خطاطی پر تعارفی نشست کا اہتمام کیاگیا ہے۔ کیا آپ عربی اور اردو خطاطی کے فن کا ذوق رکھتے ہیں؟ تمل ناڈو کے معروف خطاط استاد فیض قادری سے ملیں اور رہنمائی حاصل کریں۔ اس فن سے محبت رکھنے والے تمام لوگوں کا استقبال ہے۔ ( اہم نوٹ: چونکہ اس غیر رسمی سیشن کے لیے نشستیں محدود ہیں، اس لیے پہلے سے رجسٹریشن کروانا لازمی ہے۔) تقریب کی تفصیلات: تاریخ: ہفتہ، 23 مئی، 2026ء وقت: صبح 10:00 بجے سےدوپہر 12:00 بجے تک فیس: مفت (لیکن رجسٹریشن لازمی ہے) رجسٹریشن کا طریقہ :  اپنا نام اس نمبر پر واٹس ایپ کریں: 9597921426 91+ 📍 مقام :  بی ایم کنونشن ہال ٹرپلیکن ہائی روڈ، چینئی- زیرِ سرپرستی جناب محمد روح اللہ صدر جناب محمد حنیف کاتب معتمد عمومی

منشی پریم چند کے فن کا عَلمبردار—مجیب خان کا ’’آداب! میں پریم چند ہوں‘‘ کا 1019 واں تاریخی پیش کش - پریم چند کے ادبی ورثے کی تجدیدِ نو اور اسٹیج پر مسلسل 21 برسوں کی خدمت۔

Image
منشی پریم چند کے فن کا عَلمبردار—مجیب خان کا ’’آداب! میں پریم چند ہوں‘‘ کا 1019 واں تاریخی پیش کش -  پریم چند کے ادبی ورثے کی تجدیدِ نو اور اسٹیج پر مسلسل 21 برسوں کی خدمت۔ اردو ادب میں منشی پریم چند کا مقام ایک ایسے ستون کی حیثیت رکھتا ہے جس کی مضبوط بنیاد حقیقت نگاری، سچائی کی گہری پہچان اور سماجی شعور سے عبارت ہے۔ ان کے فن نے نہ صرف عام انسان کی زندگی کو موضوع بنایا بلکہ عہدِ رفتہ کے معاشرتی تضادات اور سیاسی جبر کو بھی بے نقاب کیا۔ یہی وہ ادبی ورثہ ہے جسے نئی نسل تک پہنچانے کا بیڑا گزشتہ دو دہائیوں سے ہدایت کار مجیب خان نے نہایت اخلاص، فنی مہارت اور علمی دیانت کے ساتھ اٹھایا ہوا ہے۔ “آئیڈیا” کی شناخت آج منشی پریم چند کے ادب کے اسی تسلسل سے وابستہ ہے۔ گذشتہ 21 برسوں سے مجیب خان جس استقامت کے ساتھ پریم چند کی کہانیوں کو اسٹیج پر پیش کر رہے ہیں، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ بر صغیر کے لئے فخر کا مقام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اس ہمہ گیر کاوش کو ’’لمکا بک آف ریکارڈز‘‘ اور ’’ورلڈ وائڈ ریکارڈز‘‘ دونوں میں جگہ ملی ہے—جو کسی بھی ڈرامائی سلسلے کے لئے ایک تاریخی اعزاز ہے۔ 1019 ...

بچوں اور نوعمروں میں بڑھتے نفسیاتی مسائل اور اس کا حل۔تحریر: نکہت انجم ناظم الدین۔

Image
بچوں اور نوعمروں میں بڑھتے نفسیاتی مسائل اور اس کا حل۔ تحریر: نکہت انجم ناظم الدین۔ بچپن اور نوعمری زندگی کا نہایت حساس دور ہوتا ہے۔ اسی عمر میں فرد کی شخصیت، جذبات اور عادات تشکیل پاتی ہیں۔ اگر اس مرحلے میں بچے کو مناسب توجہ، اعتماد اور مثبت ماحول نہ ملے تو وہ مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہوجاتا ہے۔ موجودہ دور میں جدید ٹکنالوجی، تعلیمی دباؤ، معاشرتی مقابلے اور خاندانی مسائل نے بچوں کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔بچوں اور نو عمروں میں پائے جانے والے نفسیاتی مسائل مندرجہ ذیل نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔ ذہنی دباؤ اور تعلیمی پریشانی: آج کے دور میں بچوں پر تعلیمی دباؤ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ والدین اور اساتذہ اکثر بچوں سے غیر معمولی کامیابی کی توقع رکھتے ہیں۔ بچہ اول آئے، زیادہ نمبرات حاصل کرے اور ہر میدان میں نمایاں نظر آئے۔ بظاہر قابل قبول نظر آنے والی یہ بات اپنے آپ میں کئی خطرناک پہلو لیے ہوئے ہے۔ اسی سوچ نے بچوں سے ذہنی سکون چھین لیا ہے۔مسلسل امتحانات، ہوم ورک، کوچنگ کلاسز اور مقابلے کی فضا بچوں کو ذہنی طور پر تھکا دیتی ہے۔ بہت سے بچے ناکامی کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ اگر ان کے ...

ٔنشہ شراب میں ہوتاتوناچتی بوتل۔۔ ازقلم : مسرورتمنا۔

Image
ٔنشہ شراب میں ہوتاتوناچتی بوتل۔ ازقلم : مسرورتمنا۔ کملا نے پوچھا لگاتے ہوے کہا میڈم آج بھی آپ کے کمرے سے سگریٹ کے بےشمار ٹکڑے شراب کی خالی بوتل تندوری چکن کے  ٹکڑے ملے ہیں آشا نے اسکی طرف دیکھا اس میں میں کیا کرسکتی ہوں کملا میری نائیٹ ڈیوٹی ہے نوین گھر پر ہوتے ہیں بلاتے ہونگے یار دوستوں کو مگر میڈم آج تو مجھے دو ہی گلاس ملے ہیں اور یہ لپ اسٹک جو کملا نے چھپا لیا تھا دکھاتے ہوے بولی ایک پینڈین بھی ملا دکھاو کملا کہیں میرا ہی ہوا تو لو.میڈم دیکھو آپکا بلکل بھی نہیں دس سال سے آپکے گھر میں کام کرتی ہوں جب تو میری شادی بھی نہیں ہوی تھی اسکی مسکراھٹ بڑی گہری تھی آشا نے ان چیزوں کو ٹیبل پر رکھدیا وہ گہری سوچ میں ڈوب گئ بچوں کا مستقبل بنانے کے لیے تو وہ جاب کر رہی تھی ہاسٹل اور پڑھای کے علاوہ انکے اور بھی خرچے ھوتے ہیں جو وہ خوشی سے کررہی تھی نوین بھی دل کھول کر خرچ کرتا اسے بچوں کی بلکل پرواہ نہ تھی بس آشا کو اےٹیایم مشین سمجھتا مگر اب دھیرے دھیرے کملا کے کہنے پر وہ غور کررہی تھی اسی طرح چلتا رہا تو وہ اپنے بچوں کا شاندار مستقبل برباد کر دے گی نہیں نہیں ایسا نہیں ہوگا  آ...

لوگ تول دیتے ہیں چند باتوں پر کردار۔ - باری اپنی ہو تو انہیں ترازو نہیں ملتا۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔

Image
لوگ تول دیتے ہیں چند باتوں پر کردار باری اپنی ہو تو انہیں ترازو نہیں ملتا ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ Principal Mount sinai PU college Belgaum  M A M Ed  8904317986 لوگ اکثر دوسروں کو بہت جلدی پرکھ لیتے ہیں۔ کسی کے کپڑے دیکھ کر، کسی کی غربت دیکھ کر، کسی کی زبان یا رہن سہن دیکھ کر فوراً اس کے کردار کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔ لیکن جب بات اپنی آتی ہے تو انسان اپنے لیے ہزار بہانے تلاش کر لیتا ہے۔ یہی حقیقت اس شعر میں بہت خوبصورتی سے بیان کی گئی ہے: لوگ تول دیتے ہیں چند باتوں پر کردار باری اپنی ہو تو انہیں ترازو نہیں ملتا یہ جملہ صرف تنقید نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ایک بڑے رویّے کی عکاسی کرتا ہے۔ آج انسان دوسروں کی غلطیوں کو بڑا بنا کر دیکھتا ہے مگر اپنی غلطیوں کو معمولی سمجھتا ہے۔ اگر کوئی غریب انسان چھوٹی سی غلطی کر دے تو لوگ فوراً اس کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں، لیکن اگر وہی کام کوئی دولت مند یا طاقتور شخص کرے تو لوگ خاموش ہو جاتے ہیں یا اس کے لیے جواز ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ یہی ناانصافی معاشرے میں نفرت، غرور اور طبقاتی فرق پیدا کرتی ہے۔ اسلام نے انسان کو برابری...

یارا انٹرنیشنل اسکول ریاض میں "تعلیمی کارکردگی کے اعزازات کی تقریب" کا انعقاد۔

Image
ریاض ۔ (پریس نوٹ)  یارا انٹرنیشنل اسکول ریاض کی جانب سے تعلیمی سال 26–2025 کے لیے "تعلیمی کارکردگی کے اعزازات کی تقریب" کے عنوان سے ایک پروقار جلسے کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ تقریب کا مقصد سی بی ایس ای (CBSE) دسویں اور بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات میں طلبہ کی شاندار کامیابیوں کو سراہنا تھا ۔ یہ تقریب طلبہ کی بہترین کارکردگی، ذہانت، لگن اور انتھک محنت کا منہ بولتا ثبوت تھی، جو اسکول کی اعلیٰ روایات کی عکاسی کرتی ہے ۔ تقریب کا آغاز پرنسپل محترمہ عاصمہ سلیم کے ایک پُرکشش اور متاثر کن استقبالیہ خطاب سے ہوا، جن کی بصیرت انگیز قیادت اور عزم نے اسکول کی ترقی اور کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ اس کے بعد، اسکول کے چیف پیٹرن جناب حبیب الرحمن نے خطاب کیا۔ انہوں نے طلبہ کی شاندار کامیابیوں کو شاندار الفاظ میں سراہا اور انہیں مستقبل میں بھی اسی طرح محنت اور عمدہ کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھنے کی تلقین کی ۔ بعد ازاں، پرنسپل اور چیف پیٹرن نے پوزیشن ہولڈرز کو ان کے غیر معمولی کارناموں پر اسناد اور یادگاری مومنٹوز سے نوازا ۔ دسویں جماعت کے طلبہ نے غیر معمولی کارکردگی کا مظا...

(طنزومزاح) انگریزی کا خبط اور ہماری مادری زبان۔ از قلم: رہبر تماپوری۔

Image
(طنزومزاح)  انگریزی کا خبط اور ہماری مادری زبان۔  از قلم: رہبر تماپوری۔ خداوندِ کریم نے جب انسان کو نطق کی نعمت سے نوازا تو ساتھ ہی مادری زبان کا لازوال تحفہ بھی عطا کیا تاکہ وہ اپنے دلی جذبات، احساسات اور خیالات کا کھل کر اظہار کر سکے۔ مگر افسوس! دورِ حاضر کے دیسی بابوؤں نے اس قدرتی و تہذیبی تحفے کو انگریزی کے جدید کموڈ میں بہا دیا ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں انگریزی بولنا شرافت، علم یا قابلیت کی نہیں بلکہ ایک عجیب قسم کی فیشن زدگی اور احساسِ برتری کی علامت بن چکا ہے۔ صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ اگر آپ کو اپنی مادری زبان میں مرزا غالب کا پورا دیوان بھی زبانی یاد ہو تب بھی آپ کو جاہل اور پسماندہ سمجھا جائے گا، لیکن اگر آپ انگریزی میں صرف “اوہ مائی گاڈ” اور “ٹچ ووڈ” جیسے چند الفاظ ادا کرنا جانتے ہوں تو لوگ آپ کو ارسطو کا چچا زاد بھائی اور بقراط کا سگا پوتا سمجھنے لگتے ہیں۔ اس انگریزی خبط کی ایک نہایت دل چسپ جھلک پچھلے دنوں شہر کے ایک پوش علاقے میں دیکھنے کو ملی۔ ہوا یوں کہ ایک سادہ لوح دیہاتی دادی اماں اپنے لاڈلے بیٹے کے شاندار شہری بنگلے میں چند دن رہنے کے لیے تشریف لائ...

نیالکل منڈل کے موضع رکماپور کے قبرستان اور عاشور خانہ کو توڑنے کے معاملہ پر بیرسٹر اسدالدین اویسی کی وقف بورڈ سی ای او سے نمائندگی۔

Image
 ظہیرآباد20/ ( نمائندہ) سنگاریڈی ضلع کے ظہیرآباد کے نیالکل منڈل کے موضع رکماپور میں کچھ دن قبل ایک وینچر والے نے چند قبروں کو اور عاشور خانہ کو توڑکر ناجائز قبضہ کیا اس کی اطلاع بیریسٹر اسدالدین اویسی کو ملتے ہی انہوں نے وقف بورڈ سی ای او سے بات کی اور ظہیرآباد مجلسی صدر محمد اطہر احمد سے بات کرتے ہوئے وقف بورڈ انسپکٹر کے ساتھ ملکر اس مسئلہ کو حل کرنے کو بتایا۔ وقف بورڈ انسپکٹر صابر حسین اور مجلسی صدر محمد اطہر احمد موضع رکماپور پہنچ کر جائزہ لیا۔ اور اس کے بعد نیالکل منڈل تحصیلدار سے تفصیلی بات کرتے ہوئے ایک تحریری شکایت درج کروائی اور وقف بورڈ اور محکمہ ریوینیو کے جوائنٹ سروے کی ڈیمانڈ کی جس پر تحصیلدار نے تیقن دیا کے بہت جلد جوائنٹ سروے کیا جائیگا اس کے بعد وقف انسپکٹر صابر حسین اور مجلسی صدر محمد اطہر احمد نے حدنور سب انسپکٹر آف پولیس سے ملاقات کی اور ناجائز قبضہ کرنے والوں پر سخت کارروائی کرنے کی ڈیمانڈ کی اس موقع پر جوائنٹ سیکرٹری شیخ الیاس، فرحان قادری حدنور آصف، یونس وقف بورڈ سروییر کے علاوہ دیگر موجود تھے۔۔۔

ظہیرآباد میں سی یم ریلیف فنڈ کی تقسیم۔

Image
ظہیرآباد20/ مئی( نمائندہ) جناب اے چندرا شیکھر راؤ سابق وزیر وانچارج ظہیرآباد کی ہدایت پر ظہیرآباد میں واقع دفتر انڈین نیشنل کانگریس میں 60,000 روپئے کا سی یم ریلیف فنڈ استفادہ کنندگان کو سونپا گیا۔اس موقع پر کانگریس قائدین مسٹر اروند،محمد غوث،(غیبو) محمد ارشد بھی موجود تھے واضح رہے ک آخر میں اس موقع پر سی یم ریلیف فنڈ کے استفادہ کنندگان نے چیف منسٹر تلنگانہ اور اے چندرا شیکھر راؤ صاحب کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔۔۔

ایجنٹ کا بکرا(بقرید کے موقع پر ایک طنزیہ افسانچہ)۔ محمود علی لیکچرر۔

Image
ایجنٹ کا بکرا (بقرید کے موقع پر ایک طنزیہ افسانچہ) محمود علی لیکچرر۔ 8055402819 اس بار بقرید سے کچھ دن پہلے ہی محلے میں ایک عجیب ہلچل تھی۔ لوگ بکروں سے زیادہ اُن کے “اسٹیٹس” خرید رہے تھے۔ کسی کے پاس “راجستھانی نسل” کا بکرا تھا کوئی “پٹھان بکرا” بتا رہا تھا، اور کوئی اپنے بکرے کی قیمت ایسے بیان کر رہا تھا جیسے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی ہو۔ انہی دنوں محلے میں ایک صاحب تشریف لائے جنہیں سب “ایجنٹ صاحب” کہتے تھے۔ اصل نام شاید کسی سرکاری فائل میں دفن ہوچکا تھا، مگر محلے میں ان کی پہچان صرف یہی تھی کہ وہ ہر چیز کے دلال تھے۔ پلاٹ چاہیے؟ ایجنٹ صاحب۔ شادی کا رشتہ؟ ایجنٹ صاحب۔ اسکول میں داخلہ؟ ایجنٹ صاحب۔ یہاں تک کہ ایک بار تو کسی نے مذاق میں کہا تھا کہ اگر جنت میں پلاٹ ملنے لگے تو وہاں بھی سب سے پہلے ایجنٹ صاحب ہی دفتر کھولیں گے مگر اجنٹ صاحب کوئی مدرسہ چلانے والے غیر سند یافتہ مولوی صاحب بھی نہیں تھے  بقرید کے موقع پر بعض لوگ بکرے سے زیادہ اُس کی قیمت کی قربانی دیتے ہیں، اور سچ سے زیادہ “ماشاءاللہ پونے دو لاکھ!” کا ثواب کماتے ہیں۔ بقرید قریب آئی تو انہوں نے اعلان کیا “اس ...

گل بوٹے” کا مالی رخصت ہوگیا - فاروق سید کے انتقال پر اردو دنیا سوگوار - ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔

Image
گل بوٹے” کا مالی رخصت ہوگیا - فاروق سید کے انتقال پر اردو دنیا سوگوار -  ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔ 98354 98454 فاروق سید کے انتقال کے ساتھ اردو دنیا کا ایک ایسا چراغ گل ہوا ہے جس کی روشنی صرف ایک رسالے کے صفحات تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کی کرنیں نسلوں کے ذہن، زبان اور تخیل کو روشن کرتی رہی تھیں۔ بعض شخصیات اپنی زندگی میں ادارہ بن جاتی ہیں، اور بعض ادارے اپنے بانی کے بعد بھی ان کی سانسوں کی خوشبو لیے زندہ رہتے ہیں۔ فاروق سید انہی کم یاب لوگوں میں تھے جنہوں نے خاموشی سے ایک تہذیبی فریضہ انجام دیا۔ اردو صحافت میں بہت سے نام آئے، بہت سے رسائل شائع ہوئے، بہت سے مدیر گزرے، مگر بچوں کے ادب کے میدان میں جس استقلال، محبت اور خلوص کے ساتھ فاروق سید نے کام کیا، وہ اب کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ آج کے شور و غوغا سے بھرے زمانے میں، جب مطالعہ ایک بوجھ اور زبان محض ذریعۂ تجارت بنتی جا رہی ہے، ایسے میں “گل بوٹے” جیسا رسالہ دراصل تہذیب کی آخری پناہ گاہوں میں سے ایک تھا۔ یہ رسالہ صرف کہانیوں، نظموں اور تصویروں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی نرم اور مہذب دنیا تھی جہاں بچے لفظوں کے ساتھ اخل...

فاروق سید صاحب — ایک عہد کا اختتام، ایک فکر کی شروعات - سید فاروق احمد قادری۔

Image
فاروق سید صاحب — ایک عہد کا اختتام، ایک فکر کی شروعات - سید فاروق احمد قادری۔ جانے والے کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتے  جانے والوں کی یاد اتی ہے  19 مئی 2026 کو فاروق سید صاحب کے انتقال کی خبر نے صحافتی، ادبی اور سماجی حلقوں کو غمزدہ کر دیا۔ وہ صرف ایک صحافی یا مدیر نہیں تھے بلکہ ایک ایسی فکر کا نام تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی نئی نسل کی تربیت، شعور اور رہنمائی کے لیے وقف کر دی۔ فاروق سید صاحب نے اُس وقت “بیل بوٹے” جیسا خوبصورت اور معیاری میگزین شروع کیا، جب نوجوان نسل کو مثبت راستہ دکھانے والے پلیٹ فارم بہت کم تھے۔ انہوں نے صرف رسالہ نہیں نکالا بلکہ بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں ادب، تہذیب، اخلاق اور شعور کے بیج بوئے۔ جس طرح اُن کے میگزین کا نام “بیل بوٹے” تھا اور بیل بوٹے مسلسل پروان چڑھ کر ایک خوبصورت شکل اختیار کرتے ہیں، اُسی طرح فاروق سید صاحب نے نئی نسل کی ذہنی، ادبی اور اخلاقی تربیت کر کے اُنہیں علم و شعور کی روشنی میں پروان چڑھانے کی کوشش کی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ تعلیم ہی انسان کو حقیقی پرواز عطا کرتی ہے، اور باشعور نسل ہی قوم کا روشن مستقبل بناتی ہ...

سہ روزہ تنظیمی و تعمیری دورہ بہار کے موقع پر سیوان میں تین اہم منعقدہ نشستوں سے مولانا حکیم الدین قاسمی کا خطاب۔

Image
بہار سیوان 20/مئی( نمائندہ) جمعیۃ علماء ضلع سیوان کے لیے یہ نہایت خوش آئند باعث سعادت اور تاریخی موقع تھا کہ بتاریخ 18، 19 اور 20 مئی 2026 ء کو مجاہدِ ملت حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی کا سہ روزہ تنظیمی و تعمیری دورۂ بہار عمل میں آیا، جس کے تحت ضلع سیوان کو ان کے دورے کی اولین سعادت حاصل ہوئی۔ اس مبارک دورے نے ضلع سیوان میں دینی فکری اصلاحی اور تنظیمی اعتبار سے نہایت مثبت اثرات مرتب کیے اور کارکنان جمعیۃ کے اندر نئی روح تازہ ولولہ اور خدمتِ ملت کا جذبہ پیدا کیا۔ اس دورے کے موقع پر ضلع سیوان میں تین اہم اور کامیاب نشستوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں علماء کرام ائمہ مساجد، اراکین ،جمعیۃ ،دانشوران، وكلاء، سماجی شخصیات اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سب سے پہلی نشست جامعہ عربیہ سراج العلوم تیل ہٹہ سیوان کی جامع مسجد میں منعقد ہوئی، جو خصوصی طور پر ذمہ داران و اراکین جمعیۃ کے تربیتی ورکشاپ کے طور پر منعقد کی گئی تھی۔ اس خصوصی نشست میں ضلع سیوان کے مختلف بلاکس اور علاقوں سے وابستہ ذمہ داران، اراکین جمعیۃ اور جمعیۃ سے منسلک افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس تربیتی ورکشاپ...

میرے عزیز فاروٗق سیّد! خان نویدالحق۔

Image
میرے عزیز فاروٗق سیّد!   خان نویدالحق۔  آج دل جس کرب، جس ویرانی اور جس بے نام اداسی کے حصار میں قید ہے، اسے لفظوں کے پیمانے میں سمیٹنا آسان نہیں۔ زندگی کے طویل سفر میں جب جب غم و الم کے سایے میرے آنگن پر اُترے، تم ہمیشہ ایک مخلص رفیق، ایک غم گسار بھائی اور ایک بے لوث ہم درد بن کر میرے ساتھ کھڑے رہے.  میرے والدِ مرحوم کے انتقالِ پُرملال پر سب سے پہلے تعزیت کا بوجھ تم نے اپنے کندھوں پر اٹھایا. تمھاری آنکھوں کی نمی اور تمھارے لہجے کی شفقت آج بھی میرے حافظے میں تازہ ہے. پھر جب والدۂ مرحومہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئیں، تو تم تعزیت کے لیے یوں آئے جیسے اپنے ہی گھر کا چراغ بجھ گیا ہو. میری پھوپھی اماں کے انتقال پر بھی تمھاری موجودگی میرے لیے حوصلے کا استعارہ بنی رہی، اور جب میری بہن کی وفات نے میری زندگی کو غم کی تاریکیوں میں دھکیل دیا، تب بھی پرسہ دینے والا پہلا شخص تم ہی تھے.  تم صرف تعزیت کرنے نہیں آتے تھے، بلکہ اپنے وجود کی حرارت سے دل کے زخموں کو سہلا جاتے تھے. تمھارے الفاظ رسمی نہیں ہوتے تھے، بلکہ ان میں اخلاص کی وہ روشنی ہوتی تھی جو ٹوٹے ہوئے انسان کو...

فن خوشنویسی میں نمایاں خدمات پر بنگلور میں غوث ارسلان کو "ممتاز شیریں ایوارڈ”

Image
حیدرآباد ۔ (پریس نوٹ)  محفل نساء بنگلور کی جانب سے “الامین ایجوکیشن سوسائٹی” اور “ہندستانی اردو منچ” کے باہمی اشتراک سے گذشتہ اتوار کو ہوٹل پراگ میں جشن یوم اردو کا اہتمام کیا گیا۔ محفل نساء کے زیر اہتمام پچھلے 17 سالوں سے پابندی سے ہر سال یوم اردو کا اہتمام کیا جارہا ہے اس موقع پر ادب اور فنون لطیفہ کے شعبوں میں نمایاں خدمات پر ملک کی مختلف شخصیات کو “محمود ایاز”، “ممتاز شیریں” اور “اردو دوست” ایوارڈز دیئے جاتے رہے ہیں۔ امسال پدم شری حکیم سیدظل الرحمن (علی گڑھ) کو محمود ایاز ایوارڈ اور غوث ارسلان (حیدرآباد) کو فن خوشنویسی میں نمایاں خدمات پر ممتاز شیریں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ظفر محی الدین اور اقبال احمد بیگ کو اردو دوست ایوارڈ اور لاؤنیہ کو عروج نساء ایوارڈ دیا گیا۔ عزیز اللہ بیگ ریٹائرڈ آئی اے ایس و سابق صدرنشین کرناٹک اردو اکیڈیمی نے اس محفل کی صدارت کی۔ محفل نساء کی صدر ڈاکٹر شائستہ یوسف نے خیرمقدم کیا اور تنظیم کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ آعظم شاہد نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ اس پر وقار محفل کے مہمانان میں م ن سعید صابق صدر شعبہ اردو بنگلور یونیو...