Posts

جلگاؤں میونسپل کارپوریشن اردو اسکولوں میں ہیڈ ماسٹر کی اسامیاں خالی؛ تنظیم کا احتجاجی انتباہ، انتظامیہ کا جلد تقرری کا وعدہ۔

Image
جلگاؤں میونسپل کارپوریشن اردو اسکولوں میں ہیڈ ماسٹر کی اسامیاں خالی؛ تنظیم کا احتجاجی انتباہ، انتظامیہ کا جلد تقرری کا وعدہ۔ جلگاؤں (عقیل خان بیاولی) جلگاؤں شہر میونسپل کارپوریشن کے زیرِ انتظام چلنے والے اردو میڈیم پرائمری اسکولوں میں ہیڈ ماسٹرس کی خالی اسامیوں کے باعث تعلیمی نظام متاثر ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ جلگاؤں ضلع ایکتا سنگھٹنا نے الزام عائد کیا ہے کہ شہر کی دس اردو اسکولوں میں 400 سے 800 تک طلبہ ہونے کے باوجود گزشتہ چار برسوں سے سات ہیڈ ماسٹر کی اسامیاں خالی ہیں، جس سے نظم و نسق پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ قواعد کے مطابق 150 سے زائد طلبہ والے ہر اسکول میں ہیڈ ماسٹر کی تقرری لازمی ہے، تاہم میونسپل انتظامیہ کی جانب سے اس جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ خصوصاً اسکول نمبر 11 میں تقریباً 800 طلبہ ہونے کے باوجود ہیڈ ماسٹر کی عدم تقرری پر سخت ناراضگی ظاہر کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ایکتا سنگھٹنا کے سید چاند امیر کی قیادت میں ایک وفد نے میونسپل کارپوریشن کے شعبۂ تعلیم کے انتظامی افسر خلیل شیخ کو میمورنڈم پیش کیا۔ وفد سے گفتگو کے دوران خلیل شیخ نے یقین دہانی کرائی ...

اعلان برائے نو مشق شعراء و نثر نگار۔

Image
اعلان برائے نو مشق شعراء و نثر نگار۔ فنِ شاعری ، فنِ نثر نگاری اور فنِ نظامت کی کلاسس بروز ہفتہ بتاریخ 9 مئی 2026 بوقت صبح 11 بجے بمقام کرناٹک اردو اکادمی، کے یم ڈی سی بھون، شیشادری پورم، بنگلور منعقد ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ نورانی صاحبہ، اسٹینٹ پروفیسر، شعبۂ اردو ، بنگلور یونیورسٹی کا تنقید نگاری پر لیکچر ہوگا۔ جناب مرزا اعظمت اللہ بیگ، سابق رجسٹرار کرناٹک اردو اکادمی اور ایڈیشنل کمیشنر ٹیکس، محکمہ کمرشیل ٹیکس، حکومتِ کرناٹک اور ڈاکٹر ارشد جمال صارم، معروف جواں سال شاعر بطور مہمانانِ خصوصی اس کلاس میں شرکت کریں گے۔  تمام طلباء و طالبات سے خواہش کی جاتی ہے کہ اس کلاس میں ضرور حاضر رہیں مزید تفصیلات کے لئے جناب منیر احمد جامی سے 9103399451 یا عرفان اللہ سے 8618967693 پر آپ رابطہ کر سکتے ہیں۔

انسان سے محبت گویا خدا سے محبت کرنا ہے۔تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔

Image
انسان سے محبت گویا خدا سے محبت کرنا ہے۔ تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔ 9881836729  اللہ نے انسان کو حیوان ناطق بناکر اس روے زمین پر تمام مخلوقات سے ممتاز کیا ہے۔اور انس سے انسان بنا ہے۔ یعنی انسان محبت انسیت کا پیکر ہے۔اللہ کا ارشاد ہے ان خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ کہ ہم نے انسان کی تخلیق اچھے ڈھانچے سے کی ہے۔ اور اس کو ساری مخلوقات سے ممیز اور اعلی و ارفع پیدا کیا ہے۔ کیونکہ اوروں کے تئیں انسانیت محبت اخوت بھائ چارہ سے پیش آیں۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ساتھ اللہ کی تخلیق کردہ مخلوق سے انسانیت اور محبت سے پیش آیں۔کیونکہ انسان سے محبت و انسیت اور اسکی خدمت ہی رب کائنات کی خدمت ہے جس سے اللہ خوش اور راضی ہوتا ہے۔ جو انسان کے ذریعہ اچھے کام سے خوش اور اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ اللہ نے انسان کو دوسروں کے نفع رسانی کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور منکرات سے روکنے اور اچھے کاموں کی تر غیب اور رجوع الی اللہ کی طرف دعوت سخن کے لیے پیدا فرمایا۔ اور کبھی کبھی انسانوں سے ہمدردی اور اس سے غمخواری عبادت سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہوت...

(طنزومزاح) شدید گرمی اور دُھوپ کے پس منظر پر ایک کلام۔ ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )

Image
(طنزومزاح) شدید گرمی اور دُھوپ کے پس منظر پر ایک کلام۔  ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا ) مت دیر کر جمال ،بڑی تیز دُھوپ ہے پیسے مرے نکال بڑی تیز دُھوپ ہے سر پر ترے ہیں گنتی کے دو چار بال ہی رکھ سر پہ اپنے شال،بڑی تیز دُھوپ ہے شادی میں آئے گا نہیں کُچھ بھی مزہ تُجھے شادی کو اپنی ٹال، بڑی تیز دُھوپ ہے کوئ بھی پُر سُکوں نظر آتا نہیں یہاں ہراک کو ہے جلال،بڑی تیز دُھوپ ہے لگتاہے گرم ہوگئیں اب سب کی تالُوئیں مت کر کوئ سوال، بڑی تیز دُھوپ ہے ممکن نہیں ہے کھودنا اب قبر بھی یہاں رکھ دو چلو کُدال، بڑی تیز دُھوپ ہے وعدہ کیا تھا اس نے کہ دے گا مجھے وہ قرض  آیا نہیں کمال، بڑی تیز دُھوپ ہے مزدور ہیں پسینے میں بھیگے ہوئے بہت ان کا کرو خیال، بڑی تیز دُھوپ ہے مئی کا مہینہ آیا نہیں پھر بھی دوستو سب کاعجب ہے حال،بڑی تیز دُھوپ ہے اک شعر بھی تو ڈھنگ کا نا ہو سکا سحر گرمی سے ہوں نڈھال،بڑی تیز دُھوپ ہے کُچھ ُدن تو عشق کو ذرا تعطیل دو سحر ملنا ہے اب محال،بڑی تیز دُھوپ ہے فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )

شاہ جی نگر میونسپل اردو اسکول میں الوداعی تقریب اور تقسیمِ انعامات۔

Image
شاہ جی نگر میونسپل اردو اسکول میں الوداعی تقریب اور تقسیمِ انعامات۔ چیتا کیمپ، ممبئی : شاہ جی نگر میونسپل اردو اسکول نمبر 1 میں ہفتم جماعت کا الوداعیہ منعقد کیا گیا، نیز اسی پروگرام میں مختلف زمروں میں بہترین کارکردگی پیش کرنے والے طلبہ و طالبات کو اعزازی ٹرافی سے نوازا گیا ـ محمد نواز عالم نے تلاوت کلام پاک سے جلسے کا آغاز کیا، القاریہ محمد ہارون نے نعت رسول( ص) سے جلسہ گاہ کو پر نور کر دیا ـ اس موقع پر طلبہ میں سے عبداللہ عمران شاہ ، نکہت منظور اور عمیر عبدالقدیر نے الوداعی تقاریر پیش کیں ـ اسی طرح اساتذہ کی جانب سے شیخ نجمہ اعجاز، نادر شاہ، مدثر حسین، یاسمین نعیم اختر، ریشما میم اور سویتا میم نے طلبہ کو تعلیم کی اہمیت سے روشناس کراتے ہوئے عہد لیا کہ وہ کہ تعلیم کا سلسلہ اسی طرح جاری رکھیں گے ـ انچارج صدر مدرس عبداللہ رفیق نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ تعلیم وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، اس کے بغیر کسی طور چارہ کار نہیں ـ تعلیم کا حصول بلا ناغہ ہونا چاہیے، اس لیے کہ تعلیم کا اثر تسلسل میں ہے، تعطل حوصلوں کو پست کر دیتا ہے ـ وسیم عقیل شاہ نے نظامت کے فرائض انجام...

شیگاؤں کے لوہارا گاؤں میں مکتب نوجوانان لوہارہ سے 17 بچوں نے حفظِ قرآن مکمل کیا — خود انحصاری کی نورانی پر وقار کامیابی۔

Image
جلگاؤں (سعید پٹیل) مہاراشٹر کے شیگاؤں تعلقہ کے قصبہ لوہارا میں قائم مکتب نوجوانان لوہارہ نے ایک قابلِ ستائش کارنامہ انجام دیتے ہوئے 17 بچوں کو حفظِ قرآن کی دولت سے سرفراز کیا ہے۔ یہ کامیابی علاقے میں خوشی اور اطمینان کا باعث بن گئی ہے، جبکہ دینی حلقوں میں اس ادارے کی سنجیدہ کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔ اس مکتب کی نگرانی معروف دینی شخصیت حافظ عبدالحنان صاحب کر رہے ہیں، جو اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر نہایت خاموشی اور اخلاص کے ساتھ تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ ادارہ روایتی چندہ یا زکوٰۃ کے بغیر ایک منظم فیس سسٹم کے تحت چلایا جا رہا ہے، جو موجودہ حالات میں ایک مثالی اور قابلِ غور نمونہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ حافظ عبدالرحیم جلگاؤں اور مکتب کے ذمہ داران   کے مطابق مکتب میں بچوں کو نہ صرف قرآنِ کریم حفظ کروایا جاتا ہے بلکہ ان کی دینی تربیت ، اخلاقی اصلاح اور عملی زندگی کی رہنمائی پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قلیل عرصہ میں یہاں سے بڑی تعداد میں طلبہ نے کامیابی حاصل کی ہے۔ مکتب کی اہمیت پر زور ماہرینِ تعلیم اور دینی شخصیات کا کہنا ہے کہ کسی ب...

دکنی زبان بولنے والوں سے گزار ش ہے کہ وہ ”یوم ِ دکنی“ منانے کااہتمام کریں:دکنی شاعر میرؔبیدری کی اپیل۔

Image
دکنی زبان بولنے والوں سے گزار ش ہے کہ وہ ”یوم ِ دکنی“ منانے کااہتمام کریں: دکنی شاعر میرؔبیدری کی اپیل۔  بیدر۔ 21/اپریل (راست) دکنی زبان کے شاعر اورافسانچہ نگار محمدیوسف رحیم میرؔبیدری نے آج 21/اپریل کو ایک پریس نوٹ جاری کرکے ہندوستان کی قدیم زبان ”دکنی“ بولنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ”یوم ِدکنی“ منائیں۔ دکنی زبان کی قدامت خود اس کے مضبوط ومستحکم اور ایک تاریخی پس منظر کی گواہی ہے۔ میرؔبیدری نے بتایاکہ دکنی زبان کاآغاز دکن کے مختلف شہروں جیسے گلبرگہ، بیدر، حیدرآباد، یہاں تک کہ ٹمل ناڈو میں ہوا۔ جس کسی کو دکن اور دکنی زبان کی تاریخ سے دلچسپی ہو وہ اس کامطالعہ کرسکتاہے۔ دکنی زبان اردو سے بھی قدیم زبان ہے۔ اور آج بھی یہ زبان تلنگانہ، کرناٹک، آندھراپردیش،ٹمل ناڈو، مہاراشٹرکے علاوہ دیگر ریاستوں کے چند ایک سرحدی اضلاع میں بولی جاتی ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کی تعلیمی، تدریسی اور ادبی سمت کوسنوارنے کی جانب ہماری کوئی توجہ نہیں ہے۔میرؔبیدری نے بتایاکہ دکنی ایک نہایت ہی فطری اور سادہ زبان ہے۔جس کی دہقانیت نے لاکھوں لوگوں کادل موہ لیاہے۔ میرؔبیدری نے توجہ دلائی کہ پچھلے ہفتہ حید...

لباس دیکھ کر فیصلہ کرنا کہاں تک درست؟ - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔

Image
لباس دیکھ کر فیصلہ کرنا کہاں تک درست؟ -  ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ M A M Ed  8904317986  "ہر ٹوپی اور جبہ والا عالم نہیں ہوتا” یہ بات بظاہر سادہ لگتی ہے، لیکن اس کے اندر ایک بہت گہرا توازن (Balance) چھپا ہوا ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ اگر اس جملے کو صحیح انداز میں نہ سمجھا جائے تو انسان یا تو ظاہربینی (صرف لباس کو معیار بنانا) کا شکار ہو جاتا ہے، یا پھر بدگمانی (ہر عالم پر شک کرنا) میں مبتلا ہو جاتا ہے—حالانکہ اسلام دونوں چیزوں سے روکتا ہے۔ سب سے پہلے اصولی بات یہ سمجھ لیں کہ اسلام میں ظاہری شکل و صورت کو مکمل طور پر رد نہیں کیا گیا، بلکہ اسے ایک حد تک اہمیت دی گئی ہے، مگر اصل معیار نہیں بنایا گیا۔ قرآن مجید واضح طور پر بتاتا ہے: “إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ” یعنی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اصل وزن تقویٰ کا ہے، جو دل اور عمل سے ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ صرف لباس سے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھت...

تیل کا کھیل : چین کی دور اندیشی اور بھارت فیل۔۔ بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔

Image
تیل کا کھیل : چین کی دور اندیشی اور بھارت فیل۔ بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔ مارچ 2026 کی ایک صبح، آبنائے ہرمز کا منظر ناقابلِ یقین تھا۔ وہ آبی گزرگاہ جہاں کبھی 200 سے 300 بحری جہاز روزانہ گزرتے تھے، اب ہفتے میں صرف 1 جہاز کی راہداری پر آ گئی تھی۔ عالمی توانائی ادارے (IEA) نے اعلان کیا کہ دنیا تاریخ کی سب سے بڑی تیل سپلائی میں خلل کا سامنا کر رہی ہے۔ اسی لمحے ممبئی کے قریب واقع ایک بڑی ریفائنری کے کنٹرول روم میں الارم بجا، اور افسران نے یہ حساب لگایا کہ خالص اسٹریٹجک ذخائر کتنے دن چلیں گے۔ جواب تکلیف دہ تھا، صرف 9.5 دن۔ یہ محض ایک تکنیکی پریشانی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی قومی کمزوری کا لمحۂ انکشاف تھا جو برسوں سے مسلسل نظرانداز ہوتی رہی تھی۔ بھارت آج دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ ہے، روزانہ تقریباً 55 لاکھ بیرل خام تیل اس کی ضروریات کا حصہ ہے، اور اس میں سے تقریباً 85% بیرونِ ملک سے آتا ہے۔ مگر محض درآمد کا انحصار کوئی عیب نہیں، جاپان اور جنوبی کوریا بھی اسی راستے پر ہیں۔ اصل عیب یہ ہے کہ اس درآمد کا 55% ایک ہی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے یعنی آبنائے ہرمز، جو دنیا کی کل تی...

غزل - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔

Image
غزل -  میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔ کتنی شہری لڑکیاں بے پردہ ملیں  اتنی پیاری بیٹیاں بے پردہ ملیں  کیسی کیسی چھوریاں بے پردہ ملیں  علم پڑھنے والیاں بے پردہ ملیں  اِس کا ہے افسوس ہم سادہ دِل رہے  دوست تیری دوریاں بے پردہ ملیں  زلف رکھتے تھے لپیٹے، پھر یو ں ہوا سیدھی سادھی انگلیاں بے پردہ ملیں  اُن اِشاروں اورکنایوں سے آگے پھر  آج ڈھیروں گالیاں بے پردہ ملیں  دھیرے دھیرے کہنا پڑتا ہے اب کہ میرؔ شہر کی مجبوریاں بے پردہ ملیں

رانی پیٹ اسمبلی میں ڈی ایم کے پارٹی کے امیدوار ارگاندھی کے لیے کانگرس پارٹی نے انتخابی مہم چلائی۔

Image
رانی پیٹ اسمبلی میں ڈی ایم کے پارٹی کے امیدوار ارگاندھی کے لیے کانگرس پارٹی نے انتخابی مہم چلائی۔  رانی پیٹ (محمد رضوان اللہ کے ذریعے) آج لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ جناب راہل گاندھی صاحب کی تائید و دعاؤں سے نامزد امیدوار، آر۔ گاندھی صاحب کے حق میں میلوشارم پُدوپیٹّے کی پہلی، دوسری اور تیسری گلیوں میں بھرپور گلی کونے انتخابی مہم منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شہر کانگریس کے صدر جناب ایم۔ عبد الشکور صاحب نے صدارت فرمائی۔ ضلع رانی پیٹ کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدر جناب کے۔ او۔ نشاط احمد صاحب بطورِ مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ انہوں نے رانی پیٹ اسمبلی حلقہ سے امیدوار جناب آر۔ گاندھی صاحب کے حق میں ڈی ایم کے کی نمایاں کارکردگیوں اور انتخابی وعدوں کو عوام کے سامنے تفصیل سے پیش کیا اور انتخابی مہم کے آخری دن “اُدھئے سورین” (طلوعِ آفتاب) نشان پر بھرپور ووٹ دینے کی اپیل کی۔ اس موقع پر شہر کے نائب صدر جناب بی۔ ایم۔ مجسّر احمد نے حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کی مہم میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اس پروگرام میں ضلع نائب صدر امان اللہ باقوی، اقلیتی ضلع نائب صدر رفیق ...

غزل - ازقلم : افتخار راغبؔ۔ریاض، سعودی عرب

Image
غزل -  ازقلم : افتخار راغبؔ۔ ریاض، سعودی عرب۔ خیر کیا ہو عذاب ہے رے توٗ اب کہاں با نقاب ہے رے توٗ چھوڑ دے چھل کپٹ اور ادنیٰ پن اب تو عالی جناب ہے رے توٗ جانے کس دم ہوا بگڑ جائے حد سے مت بڑھ حباب ہے رے توٗ شدّتِ تشنگی سے ہوں مجبور جانتا ہوں سراب ہے رے توٗ عاشقوں کا حساب کیا ہوگا خوب روٗ بے حساب ہے رے توٗ سب بجھاتے ہیں مجھ ندی سے پیاس اتنا کیوں آب آب ہے رے توٗ اب اٹھا کر سوال کیا حاصل حاصلِ انتخاب ہے رے توٗ سب کی چھت پر تجھے برسنا تھا توٗ ہے سب کا، سحاب ہے رے توٗ بے قراری کو کیا قرار آئے اب کہاں دستیاب ہے رے توٗ آس مت رکھ سکوٗن کی راغبؔ پیکرِ اضطراب ہے رے توٗ افتخار راغبؔ۔ ریاض، سعودی عرب۔

اقراء اردو ہائی اسکول سالار نگر میں ڈاکٹر علامہ اقبال کی یوم وفات کی نسبت سے پروگرام۔

Image
جلگاؤں ( عقیل خان بیاولی) شہر کے اقراء اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج سالار نگر میں 21 اپریل کو ڈاکٹر علامہ اقبال کی یوم وفات کی نسبت خراج عقیدت کا پروگرام منعقد کیا گیا. صدارت پرنسپل ڈاکٹر ہارون بشیر نے کی. فرحت تبسم مبین خان، ، گلناز غفار شیخ، تبسم لطیف، رضوان لطیف، اسعد علی خصوصی موجود تھے.صدارتی خطبے میں ڈاکٹر ہارون بشیر نے پروگرام منعقد کرنے پر ڈاکٹر انیس الدین شیخ کو مبارکباد پیش کی نیز کہا کہ آج ہمیں علامہ اقبال کے فکر و خیال سے اگاہ ہونا چاہیے. ہمیں علامہ اقبال کے ادب کا مطالعہ کرنا چاہیے. ان کا ایک ایک شعر جوش دلانے اور اسلام کے قریب کرنے، حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے والا ہے. دانیال شیخ عظیم کی تلاوت قرآن کریم سے آغاز ہوا. ڈاکٹر انیس الدین شیخ نے اغراض و مقاصد بیان کیے. مرزا حسان زاہد نے علامہ اقبال کے منتخب اشعار کو پیش کر کے داد و تحسین وصول کی. معلمہ تبسم لطیف نے اپنی مترنم آواز میں علامہ اقبال کی "اے حقیقت منتظر" کو پیش کر کے سامعین کو محظوظ کیا. نزہت آمنہ نے علامہ اقبال کی شاعری کے متعلق خیالات کا اظہار کیا. سپروائزر شیخ نور محمد نثار احمد نے علامہ...

حکومت آندھرا پردیش میں اوقاف کی جائدادیں غیر محفوظ۔ڈاکٹر انور ہادی جنیدی۔(صدر ، امیرالنساء ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کڈپہ،آندھرا پردیش)

Image
حکومت آندھرا پردیش میں اوقاف کی جائدادیں غیر محفوظ۔ ڈاکٹر انور ہادی جنیدی۔ (صدر ، امیرالنساء ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کڈپہ،آندھرا پردیش) کڈپہ 21 اپریل 2026 مسلمانوں کی اسلامی، سماجی اور تہذیبی زندگی میں مساجد، مدارس، خانقاہیں اور قبرستان نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ ہماری شناخت، تاریخ اور اجتماعی شعور کی علامت بھی ہیں۔ ان اداروں کے قیام اور استحکام کے لیے ہمارے اسلاف نے اپنی قیمتی جائدادیں اللہ کی رضا اور قوم کی بھلائی کے لئے وقف کیں، تاکہ یہ سلسلۂ خیر قیامت تک جاری رہے۔ لیکن اگر موجودہ حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو ایک نہایت تشویشناک صورت حال سامنے آتی ہے۔ وقف کے تحت آنے والی بہت سی جائدادیں بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور ذاتی مفادات کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ ہی وقف بورڈ کی کمیٹیاں تبدیل ہو جاتی ہیں، متولی بدل جاتے ہیں، اور اکثر ایسے افراد کو ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں جن کا مقصد خدمت کے بجائے ذاتی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض بااثر عناصر، سیاسی رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے وقف جائدادوں پر قبض...

اکیس 21 اپریل یوم وفات علامہ اقبال۔ - ازقلم : رضیہ سلطانہ الطاف پٹھان سولاپور۔

Image
اکیس 21 اپریل یوم وفات علامہ اقبال۔ -  ازقلم : رضیہ سلطانہ الطاف پٹھان سولاپور۔ شاعرِ مشرق،حکیم الامت علامہ اقبال نے 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں وفات پا گئے اور ان کا مزار بادشاہی مسجد لاہور کے قریب واقع ہے، علامہ اقبال ایک منفرد عالمی شخصیت تھے علامہ اقبال نے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے قران و احادیث کی روشنی میں اہم پیغام دیا ہے، دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں وہاں اقبال کی فکر نظر ائے گی۔۔ ترکی کے لوگ علامہ اقبال کو مرشد رومی کا دوسرا درجہ دیا کرتے ہیں۔مصر روم ایران یہاں پر بھی آپ کو علامہ اقبال کے عاشق نظر آئیں گے علامہ اقبال نے اپنی کلام میں جگہ جگہ اس حقیقت کی توجہ دلائی ہے کہ قران پورے عالم انسانیت کی اصلاح کے لیے نازل ہوا ہے ۔۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو اپنی صلاحیت پر بھروسہ کرنے اور خود اعتمادی پیدا کرنے کا درس دیا۔اقبال کا ماننا تھا کہ مسلمان اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید علوم سے آراستہ ہو کر ہی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔علامہ اقبال نے نوجوانوں کو شاہین بننے، راحت طلبی چھوڑنے اور محنت کرنے کی تلقین ک...

عثمان آباد میں تنظیمِ استاتذہ کی جانب سے عازمینِ حج کی گل پوشی کی تقریب کا انعقاد۔

Image
عثمان آباد میں تنظیمِ استاتذہ کی جانب سے عازمینِ حج کی گل پوشی کی تقریب کا انعقاد۔ عثمان آباد (راست) مہاراشٹر راجیہ اردو شکشک سنگھٹنا ضلع شاخ عثمان آباد کی جانب سے امسال سفرِ حج پر جانے والے عازمین اساتذہ کرام کی گل پوشی کر کے مبارکباد پیش کی گئی۔ اس تقریب میں حج پر جانے والے اساتذہ کرام اور ان کے اہل خانہ شریک تھے۔ تنظیم کے عہدیداران اور دیگر اساتذہ کرام کی موجودگی میں با رونق اجلاس منعقد ہوا  جس کی صدارت موظف معلم جناب صفدر حسینی سر نے فرمائی جبکہ بطور مہمان خصوصی قادری ظہیر الدین سر ، صدیق سر ، شیخ اسماعیل صاحب، ڈاکٹر سید تبسم سلطانہ صاحبہ، تنظیم کے صدر جناب شاہ طیب علی سر ، معتمد سید نعیم الدین سر ، شیخ ساجد احمد سر، محترمہ رحیمہ باجی و دیگر معلمین و معلمات کثیر تعداد میں موجود تھے۔ تلاوت کلام اللہ شریف کے بعد تمام عازمین کو یکے بعد دیگرے دعائیہ کلمات و نیک خواہشات کے ساتھ ہدیہء تہنیت پیش کیا گیا۔ بعد ازاں  ناشتہ اور چائے کے ساتھ ضیافت کی گئی۔ معززین کے مختصرا اظہار خیال کے بعد شکریہ ادا کرتے ہوئے تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔

جاسوسی دنیا کا شہنشاہ — ابنِ صفی کی لازوال میراث - سید فاروق احمد قادری۔

Image
جاسوسی دنیا کا شہنشاہ — ابنِ صفی کی لازوال میراث -   سید فاروق احمد قادری۔ بچپن ہی سے، یعنی تقریباً نو سال کی عمر سے، ابنِ صفی کی کتابوں نے میرے ذوقِ مطالعہ کو نئی جہت دی۔ آج بھی ان کے پرانے ناول میرے پاس محفوظ ہیں اور ہر بار پڑھنے پر وہی سنسنی، وہی مزاح اور وہی دلکشی محسوس ہوتی ہے۔ ابنِ صفی کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ وہ 26 جولائی 1928 کو الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1952 میں وہ کراچی منتقل ہو گئے، جہاں لالو کھیت (موجودہ لیاقت آباد) میں رہائش اختیار کی اور وہیں اپنی زندگی گزاری۔ 26 جولائی 1980 کو ان کا انتقال ہوا اور کراچی ہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ان کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں، اور ان کے اہلِ خانہ آج بھی ان کی ادبی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ادبی دنیا میں ابنِ صفی کو “جاسوسی دنیا کا شہنشاہ” کہا جاتا ہے۔ ان کے دو عظیم سلسلے جاسوسی دنیا اور عمران سیریز اردو ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے سینکڑوں ناول تحریر کیے جو آج بھی بے حد مقبول ہیں۔ ان کے مشہور کرداروں میں کرنل فریدی، کپٹن حمید اور عمران شامل ہیں، جبکہ مزاحیہ رنگ کو زندہ رکھنے والے ...

عالمی یوم صحت کے موقع پر "صحت کے لیے ایک ساتھ ، سائنس کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ"۔ پروگرام کا انعقاد۔

Image
کلبرگی 29 / اپریل. (راست) سمائل فاؤنڈیشن یادگیر، ایم ایس ڈی فارماسیوٹیکلز پرائیویٹ لمیٹڈ اور محکمہ صحت و خاندانی بہبود یادگیر کے اشتراک سے شاہ پور تعلقہ کے منگن ہال گاؤں میں عالمی یوم صحت اور اس کی اہمیت کے حوالے سے آگاہی پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد صحت اور اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پر توجہ مرکوز کرنا تھا ۔ اس سال عالمی یوم صحت 2026 کا تھیم ہے "صحت کے لیے ایک ساتھ۔ سائنس کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ"۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر یالپا کرشنپا ادین، میڈیکل آفیسر، سمائل فاؤنڈیشن، ایم ایس ڈی یادگیر، عالمی یوم صحت کی اہمیت اور انسانوں، جانوروں اور کرہ ارض کی صحت کے لیے شواہد پر مبنی حل پر زور دیں گے۔ یہ مہم صحت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی یکجہتی کو فروغ دیتی ہے، سائنسی مہارت پر اعتماد بحال کرتی ہے اور عالمی صحت کی مساوات کو بہتر بنانے کے لیے ایک صحت کے نقطہ نظر کو آگے بڑھاتی ہے۔ اہم پیغامات: • سائنس سب کی خدمت کرتی ہے: صحت کی خدمات تک مساوی رسائی پر توجہ مرکوز کریں۔ ایک صحت کا نقطہ نظر: انسانی، جانوروں اور ماحولیاتی صحت کو جوڑنا۔ سائنس کے ساتھ کھڑا...

مذہبی منافرت کے ماحول کو انسان دوستی اور بھائی چارگی میں بدلنا ہم سب کی ذمہ داری ـ بزم جوہر اور انجمن ریختہ گویان کے زیراہتمام منعقدہ بین مذہبی عید ملاقات تقریب سے اکابرین شہر کا خطاب۔

Image
حیدرآباد۔20/اپریل(پریس نوٹ) پراگندہ ذہن کے حامل لوگوں کی جانب سے جو مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے اور ایک دوسرے کے مذاہب کے غلط پروپگنڈہ کے ذریعہ سماج میں نفرت اور تشدد کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے ان کا سدّباب کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس قسم کی بین مذہبی تقاریب کا انعقاد لوگوں کے دلوں میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرکے ایک دوسرے سے اتحاد اور بھائی چارگی کا ماحول پیدا کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اردوہال میں بزم جوہر اور انجمن ریختہ گویان حیدرآباد کے زیراہتمام منعقدہ بین مذہبی عید ملاقات تقریب کے موقع پر شہر کے اکابرین نے کیا۔ تقریب کی صدارت پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر دائرۃ المعارف جامعہ عثمانیہ نے کی۔ مہمانان خصوصی کے طورپر جناب دیپک جان چیرمین کرسچن میناریٹیز فینانس کارپوریشن تلنگانہ، جناب طارق انصاری چیرمین اقلیتی کمیشن تلنگانہ، پروفیسر حمیرہ سعید وائس پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج گولکنڈہ، مولانا مظفر علی صوفی ابوالعلائی صدر کل ہند مجلس چشتیہ حیدرآباد، ڈاکٹر این ایس رجنیش اسسٹنٹ پروفیسر انگلش، ڈاکٹر جاوید کمال مدیر ریختہ نامہ حیدرآباد شریک تقریب رہے۔ ...

کلام تصوف۔۔۔پردہ اسرارِ وجود۔ - صوفی حضرت عثمان جوہری، آٹو نگر جلگاؤں مہاراشٹر ۔

Image
کلام تصوف۔۔۔ پردہ اسرارِ وجود۔ -  صوفی حضرت عثمان جوہری، آٹو نگر جلگاؤں مہاراشٹر ۔  یم تہہ میں یہ تاریکی کا عالم بتاؤ کس کی نظروں میں ہے مدغم کئی مخلوق آبِ در شکم ہیں  کہ جزوِ سیم و زر سیماب ہر دم کئی عالم ہیں پوشیدہ نظر سے پتہ کیسے چلے گا بے خبر سے تغیر میں یہ کیا شے ہے زمیں کی کہ گندم دوز عبرت ہے اثر سے یہی دانہ بہ دم آدم صفت ہے زمیں پر جس کی لرزاں کیفیت ہے کسی کو ہے کسی پر فوقیت کیا بہ کن رازِ نہاں کی حیثیت ہے زمیں اندر بھی ہے مرجاں کی کھیتی صدف لولو جواہر اور ریتی یہ سارے ہیں شکم دریا کے اندر نمو کی فکر آخر کیا ہے دیتی عجب بازار سجتے ہیں وہاں کے جہاں پہنچے نہ سائیں آسماں کے زبانیں کون سی کیا گفتگو ہے مگر ملتے بھی ہیں عبرت نشاں کے ہزاروں راز پوشیدہ ہیں اب بھی مراحل ہیں کہ پیچیدہ ہیں اب بھی رموز و فکر کا اک حاشیہ ہے اگر پوچھو تو رنجیدہ ہیں اب بھی تری قدرت کے عالم ہیں زمیں پر نشانِ فقر آتا ہے جبیں پر یہ ایسے بھید ہیں کھلتے نہیں ہیں کہیں لکھے گئے ہیں آستیں پر کئی ظلمتِ کے پردے بھی ہیں نوری مگر اب چاہیے قلبِ حضوری اگر کچھ چاہتے ہو رازِ باطن تو کلمے کی ضیا بھی ہ...

حضرت شاہ خاموش ؒ۔ بیدر کے معروف صوفی شاعر۔۔ ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔

Image
حضرت شاہ خاموش ؒ۔ بیدر کے معروف صوفی شاعر۔ ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔  ”دیوانِ غالب“ کے بعد دکن میں ہم نے حضرت شاہ خاموش ؒ کے دیوان کی بابت ہی سنا۔حالانکہ پاکستان کے ارد وشاعر جناب ناصرؔ کاظمی نے اپنے ایک شعری مجموعہ کا نام ”دیوان“رکھ چھوڑا تھا، اس کے باوجود موصوف کا شعری مجموعہ ”پہلی بارش“ا ور دیگر مجموعے مشہور ہیں، دیوان کانام بطور ِ مثال ہی سننے اور پڑھنے میں آتاہے۔کئی دوسرے شعراء بھی اپنے دیوان رکھتے ہیں۔ لیکن ہم نے جو سنا تو حضرت شاہ خاموش رحمتہ اللہ علیہ کے دیوان سے متعلق ہی سنا۔ کل پرسوں میں حضرت شاہ خاموش رحمتہ اللہ علیہ کاعرس حیدرآباد میں ہوگاکیوں کہ حضرت شاہ خاموش رحمتہ اللہ علیہ کامزارحیدرآباد کے نامپلی میں واقع ہے۔ اسی حوالے سے یہ مضمون قلمبند کیاجارہاہے تاکہ پتہ چل سکے کہ ایک صوفی بزرگ شاعر کون تھے اوران کی شاعری کن حالات کی پیداواررہی۔ کون سے مضامین انھوں نے اپنی شاعری میں باندھے۔ 1204ء ہجری میں پیداہونے والے بزرگ شاعرکااللہ تعالیٰ 1447ء ہجری(یعنی243 ہجری سال اور سال عیسوی کے مطابق 237سال) تک نام باقی رکھاہواہے تو کیوں کر؟اس پر شعراء کرام ک...

جامعۃ البنات حیدرآباد(قائم شدہ 1988) میں داخلوں کا آغاز۔

Image
حیدرآباد۔20/اپریل(راست)شہر حیدرآباد کا اولین دینی و عصری تعلیم وتربیت کا مرکز، جامعۃ البنات حیدرآباد محتاج تعارف نہیں ہے۔ یہاں اعدادیہ تا فضیلت اور شعبہ حفظ اور ایک سالہ شعبہ تربیت کے علاوہ دیگر دینی جامعات کی فارغات کے لیے ماہانہ اشکالرشپ کے ساتھ شعبہئ تدریب میں داخلے شروع ہوچکے ہیں۔ جامعہ میں علوم القرآن،علوم الحدیث، فقہ واصول فقہ، سیرت و تاریخ، عربی زبان و ادب کے ساتھ انگریزی زبان وادب کی تدریس کا نظم ملک کے مشہور و معروف جامعات کے فضلاء و ماہرین تعلیم و تربیت کی زیر نگرانی گزشتہ 38 سالوں سے جاری ہے۔ ساتویں جماعت تا گریجویشن کے معیار تک جامعہ کے تعلیمی مراحل ہیں۔جامعہ کا مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے الحاق بھی ہے۔ یہاں کی فارغات مانو کے کسی بھی پوسٹ گریجویشن کورس کے لیے اہل ہیں۔ ساتھ ہی عثمانیہ یونیورسٹی کے ایم اے انٹرنس کے لیے بھی یہاں کی فاضلہ اہل قرار دی گئی ہیں۔ نیز یہاں طالبات کو ایس ایس سی و انٹر (ٹاس) کے لیے بھی رہنمائی اور ممکنہ تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ جامعہ میں داخلہ کا معیار کم از کم چھٹی جماعت کامیاب طالبہ ہے جو اردو لکھنے اور پڑھنے سے واقف ہو نیز ناظرہ...

فون کی غلامی سے نجات: دارالعلوم دیوبند کا خاموش انقلاب(دیوبند سے دنیا تک تعلیمی زوال کے خلاف ایک روشن مشعلِ راہ)۔ بقلم: اسماء جبین فلک۔

Image
فون کی غلامی سے نجات: دارالعلوم دیوبند کا خاموش انقلاب (دیوبند سے دنیا تک تعلیمی زوال کے خلاف ایک روشن مشعلِ راہ) بقلم: اسماء جبین فلک۔  رات گئے دارالعلوم دیوبند کی جامع مسجد کا صحن ہے۔ صدیوں پرانی دیواروں سے تلاوت کی روح پرور آوازیں گونج رہی ہیں اور ہوا میں عود کی بھینی خوشبو اور مٹی کی سوندھی مہک رچی بسی ہے۔ 18 سالہ عبدالرحمٰن، جو ایک لمبا اور نحیف لڑکا ہے، سفید ٹوپی اوڑھے ضخیم قرآن مجید پر جھکا بیٹھا ہے۔ اس کی انگلیاں سورۃ النور کے اوراق پر پھسل رہی ہیں اور وہ حدیث نمبر 43 پر غور کرنے میں منہمک ہے۔ مگر جیب میں فون کی ہلکی سی لرزش اور بہن کا یہ پیغام کہ یہ ویڈیو دیکھیں ہنسی چھوٹ جائے گی، اس کی تمام تر یکسوئی چھین لیتی ہے۔ وہ سر اٹھاتا ہے، اس کی آنکھوں میں بے چینی جھلکتی ہے، اور ایک لمحے کے بعد وہ دوبارہ اوراق کی جانب لوٹ آتا ہے۔ یہ لمحہ محض ایک طالب علم کی کشمکش نہیں بلکہ ہزاروں نوجوانوں کی وہ خاموش جنگ ہے جو وہ کتاب اور بے مقصد تفریح کے درمیان لڑ رہے ہیں۔ اگلے دن 17 اپریل 2026 کو دارالاقامہ کا وسیع ہال ہے۔ ہزاروں طلبہ خاموشی سے بیٹھے ہیں اور فضا میں تناؤ کی ایک لہر ...

اسپورٹس اینڈ گیمز فیڈریشن کی جانب سے قومی کھلاڑیوں کو تہنیت۔

Image
سولاپور- (وجاہت عبد الستار)  اسپورٹس اینڈ گیمز فیڈریشن نے ہر سال کی طرح امسال بھی تعلیمی سال 2026 میں سولاپور ضلع کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے اسکول، ادارے، ضلع اور سولاپور شہر کو قومی سطح پر شہرت دلانے والے کھلاڑیوں اور تنظیموں کو نشان یادگار ، گلدستے اور شال سے نوازا ۔ اس کے علاوہ معیاری اور بہترین کھلاڑی پیدا کرنے والے رہنما کوچز اور اساتذہ کو بھی تنظیم کی جانب سے اعزاز سے نوازا گیا۔ بالخصوص اسپورٹس ٹیچرز عادل منشی سر، علیم شیخ سر اور ڈاکٹر شہباز شیخ کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پروگرام کی نظامت عرفان کاریگر اور طلحہ شیخ نے کی۔ تعارف الطاف صدیقی صاحب نے کیا۔ پروگرام کی صدارت سولاپور میونسپل کارپوریشن کے اسپورٹس آفیسر نذیر شیخ، کارپوریٹر اظہر ہنڈیکری اور محترمہ عظمیٰ اٹکور نے کی۔ عابد رنگریز سر نے تنظیم کی جانب سے مہمانوں، کھلاڑیوں، بچوں اور معززین کا شکریہ ادا کیا۔ گزشتہ تین برسوں سے یہ تنظیم کھلاڑیوں کو نواز رہی ہے۔ تعلیمی سال 2026 میں مجموعی طور پر 16 کھلاڑیوں کو اعزاز سے نوازا گیا۔ قومی کھلاڑی دانش شیخ، عرفان برگیر، سویج تمبولی، مدثر سید، ع...

جی ایم کالج اسٹڈی سینٹر میں بی اے فائنل ایئر کے طلبہ کے لیے ''روزگار کے مواقع اور جاب اسکلز''پر رہنمائی لکچر۔

Image
بھیونڈی: (عبدالعزیز انصاری) یشونت راؤ چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی (YCMOU) کے زیرِ اہتمام جاری جی ایم مومن ویمنس کالج اسٹڈی سینٹر میں بی اے فائنل ایئر کے طلبہ و طالبات کے لیے“روزگار کے مواقع اور جاب اسکلز”کے موضوع پر ایک بامقصد رہنمائی لکچربروز اتوار 19اپریل 2026کو رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کے اردو بسیرا آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور انہیں مختلف شعبوں میں بہتر کیریئرکے مواقع اور جاب اسکلز سے روشناس کرانا تھا۔پروگرام کا آغاز شیخ ارباز اشفاق کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔پروگرام میں مقررِ خاص کے طور پر فہیم عبدالباری مومن اور مہمانِ اعزازی کے طور پر سابق ہیڈ ماسٹر اورہندی روزنامہ نوبھارت ٹائمس کے نمائندہ وی. کے. سنگھ موجود تھے۔اسٹڈی سینٹر کے کوآرڈینیٹر عبدالعزیز انصاری نے مہمانان کا استقبال تحائف اور گلوں سے کیا۔اپنے خطاب میں معروف کیریئرکونسلر فہیم عبدالباری مومن نے طلبہ کو بدلتے ہوئے روزگار کے رجحانات، پیشہ ورانہ مہارتوں اورجدید تقاضوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف ڈگری کافی نہیں...

نعت پاک بطرح”دونوں جہاں کے مالک و مختار ہیں حضور" - ازقلم - فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )

Image
نعت پاک بطرح”دونوں جہاں کے مالک و مختار ہیں حضور" ازقلم -  فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا ) شاہ و گدا کے آپ ہی سردار ہیں حُضور “دونوں جہاں کے مالک و مُختار ہیں حُضور” یوسف کا حُسن اپنی جگہ ٹھیک ہے مگر عرش بریں پہ پیکر انوار ہیں حُضور ہم کو مُنافقوں سے نہیں کوئ واسطہ ہم آپ ہی کے صرف وفادار ہیں حُضور بے شک ہمارے شافع محشر حُضور ہیں محشر میں عاصیوں کے طرفدار ہیں حُضور ہر شخص کو یہاں پہ ہے اپنی پڑی ہوئ اُمت کے بس اک آپ ہی غمخوار ہیں حُضور بستر پہ اپنے ان کو سُلا کر نکل پڑے انجام سے علی کے خبردار ہیں حُضور طُوفاں میں گھر نہ پائے گی کشتی یہ دین کی اس کشتی کے ہماری جو پتوار ہیں حُضور صدیوں سے سب کے دل پہ حُکومت ہے آپ کی سکہ ہر ایک دور کا کلدار ہیں حُضور سرکار اک نگاہ کرم ہم پہ کیجئیے بیٹھے ہماری تاک میں اغیار ہیں حُضور ادنی غُلام آپ کے میں در کا ہوں سحر قربان مری جان و دل ،گھر بار ہیں حُضور فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )

خاموش خسارہ۔۔ از قلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔

Image
خاموش خسارہ۔  از قلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔ کلاس روم ایک عجیب سی گھٹن میں ڈوبا ہوا تھا۔ سست رفتار پنکھا جیسے وقت کا مذاق اڑا رہا تھا، اور دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں طلبہ کے صبر کا امتحان لے رہی تھیں۔ ہر ٹک ٹک دل پر دستک کی طرح محسوس ہوتی بے چین، بے قرار، بے رحم۔ استاد کی آواز کہیں دور دھندلا سی گئی تھی۔ الفاظ کتابوں سے نکل کر فضا میں بکھر تو رہے تھے، مگر کسی کے دل میں اترنے کو تیار نہ تھے۔ نظریں بار بار گھڑی کی طرف اٹھتیں، جیسے وہی نجات کا دروازہ ہو۔ آخری پیریڈ… مگر سب کے لیے یہ علم کا نہیں، آزادی کا وقت تھا۔ "سر! بس پانچ منٹ پہلے گھنٹی بجا دیجیے…" ایک آواز اٹھی، پھر دوسری، اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری جماعت ایک التجا میں بدل گئی۔ استاد نے ایک لمحہ طلبہ کے چہروں کو دیکھا۔وہاں علم کی پیاس نہیں، صرف جانے کی جلدی تھی۔ ایک گہری سانس لے کر انہوں نے نظریں جھکا لیں۔ اور پھر… گھنٹی بجی۔ جیسے کسی قید خانے کا دروازہ کھل گیا ہو۔ بستے کندھوں پر اچھلے، کرسیاں پیچھے سرکیں، اور قدم زمین کو چھوتے بغیر دروازے کی طرف لپکے۔ راہداریوں میں شور، سیڑھیوں پر دوڑ، اور پھر سڑکوں کی طرف ا...

جامعہ حنفیہ للبنات ظہیرآباد کے جلسہ تکمیل حفظ قرآن وختم بخاری کا کامیاب انعقاد۔ - اجلاس سےمفتی خلیل الرحمٰن صاحب قاسمی ناندیڑ اور مفتی احمد اللہ نثار صاحب قاسمی حیدرآباد کے خصوصی خطابات۔

Image
ظہیرآباد 20/اپریل(نمائندہ)جامعہ حنفیہ للبنات ظہیرآباد کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان وفقید المثال سالانہ جلسہ  تکمیل حفظ قرآن وختم بخاری شریف  19/اپریل بروز اتوار صبح 9/بجے تا ظہر جےجے گارڈن فنکشن ھال میں منعقد کیا گیا جس اجلاس کی صدارت پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا مفتی خلیل الرحمٰن صاحب قاسمی ناندیڑ فرمائی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے جید عالم دین حضرت مولانا مفتی احمد اللہ نثار صاحب قاسمی حیدرآباد نے موجود حالات میں خواتین اسلام کی دینی تعلیم کی اہمیت پر زبر دست خطاب فرمایا جس میں خاص طور پر خواتین میں علم دین کی اہمیت و ضرورت اور اس کے نہ ہونے پر معاشرے اور سماج میں جو خرابیاں جنم لے رہی ہیں قرآن وحدیث اور سیرت کی روشنی میں ان پر تفصیلی گفتگو فرمائی اور اپنے خطاب میں فرمایا کہ مرد کی دینداری گھر کی دہلیز تک ہی رہتی ہے اور عورت کی دینداری پورے گھر خاندان اور نسلوں کو دیندار بنادیتی ہے اس سلسلے والدین کی ذمہ داری کیا ہے اور موجودہ دور میں تربیت اولاد کے حوالے سے جو غفلت برتی جارہی ہے اس بصیرت افروز خطاب فرمایا  اس موقع پرچودہ طالبات کو عالمیت وفضیلت کی سند ...

نشان منزل کے صحافی کو اعزازی ڈاکٹریٹ۔

Image
نشان منزل کے صحافی کو اعزازی ڈاکٹریٹ۔ (محمد رضوان اللہ کے ذریعے)  ہم سب کے لۓ خوش خبری ۔۔۔۔‌ میرے اور آپ سب کے ہردلعزیز شخصیت جناب محترم   عبدالباری صاحب وانمباڑی ، ایڈیٹر " نشان منزل"ماہنامہ ، کو کون نہیں جانتا ؟ ہمارے ضلع رانی پیٹ  ترپاتور ، ویلور و چننئ وغیرہ کے علمی، رفائ و صحافتی ، کاموں میں وہ ہمیشہ آگے رہنے والے۔ آپ کو حکومت کی جانب سے آپ کی صحافتی اور عوامی خدمات کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ ۔۔۔۔۔۔۔ (Honorary Doctorate) کی باوقار سند عطا کۓ جانے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ اعزاز درحقیقت آپ کی انتھک محنت ،دیانتداری اور قوم و ملت کے لئے بے لوث خدمات کا اعتراف ہے۔ آپ نے صحافت کے میدان میں  حق و صداقت کی آواز بلند کرتے ہوئے نہ صرف  عوام کی رہنمائی کی بلکہ ملی شعور کو بیدار کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے آپ کی تحریریں جو " نشان منزل" میں شائع ہوا کرتے ہیں ،آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ہیں ۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و تندرستی عطا کرے ،آمین ! اور مزید کامیابیوں سے نوازے ، اور آپ کو اسی جذبے کے ساتھ ق...

ادارہ ادب اسلامی آرمبور کی جانب سے شعری نشست کا انعقاد

Image
آرمبور: (محمد رضوان اللہ کے ذریعے)  مورخہ 19 اپریل (اتوار) بمطابق 18 اپریل بروز ہفتہ بعد نماز مغرب، ادارہ ادب اسلامی آرمبور کی جانب سے IIC ہال، بنگلور میں ایک پُر وقار شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس بابرکت محفل کی صدارت جناب ارشاد احمد کاشف نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض جناب اشفاق احمد نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ محفل کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور نعتِ رسول مقبول ﷺ سے ہوا، جس نے حاضرین کے دلوں کو معطر کر دیا۔ اس شعری نشست میں جن شعراء کرام نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا، ان میں جناب ارشاد احمد کاشف، عبد الکریم عظیم، ہدایت اللہ حاضر، امتیاز احمد، عبد الکریم قادری، عبد الکریم عارف، اعجاز احمد اعجاز، عطا الرحمن عطا، سید بلال حافظ اور دیگر معزز شعراء شامل تھے۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر صفی الرحمن صاحب نے شرکت کی۔ اس موقع پر اشفاق احمد، ویناگار جاوید سلیم اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود رہیں۔ محفل کے اختتام پر نظامی عبد الکریم عارف کے شکریہ کے ساتھ پروگرام کا باوقار اختتام عمل میں آیا۔