Posts

راویر شہر میں نوجوانوں کا مثالی اقدام! "شدید گرمی میں" جل ہی جیون ہے” کا پیغام، پیاسوں کے لیے ٹھنڈی راحت".

Image
جلگاؤں ( عقیل خان بیاولی) جلگاؤں ضلع میں بڑھتی ہوئی گرمی کی شدت سے جہاں شہری پریشان ہیں، وہیں راویر شہر کے شوکت میدان علاقے کے نوجوانوں نے ایک مثالی قابل تقلید سماجی اقدام کرتے ہوئے مثال قائم کی ہے۔ “جل ہی جیون ہے” اس اہم پیغام کو عملی شکل دیتے ہوئے امام باڑہ کے رہائشی زبیر خان اور ان کے دوستوں نے اپنے خرچ سے ایک پانی کی سبیل (پانی پوئی) قائم کی ہے۔جس مقام پر یہ سبیل لگائی گئی ہے، وہاں سے روزانہ بڑی تعداد میں طلبہ، مریض، خریدار اور عام شہریوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ اس وقت شادیوں کا موسم بھی جاری ہے، جس کے باعث خواتین، بچے اور بزرگوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسی سخت گرمی میں یہ سبیل پیاسے لوگوں کے لیے واقعی زندگی بخش ثابت ہو رہی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس علاقے میں پینے کے پانی کی کوئی مناسب سہولت موجود نہیں تھی اور اس سے پہلے کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی تھی۔ مگر ان نوجوانوں نے سماجی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس کمی کو پورا کیا۔ ان کے اس عمل سے “جل ہی جیون ہے” کا پیغام صرف الفاظ تک محدود نہیں رہا بلکہ حقیقت میں نظر آنے لگا ہے۔مقامی شہری اس اقدام کی دل سے تعریف کر ...

تعزیتی پیغام : عقیل خان بیاولی۔

Image
تعزیتی پیغام :  عقیل خان بیاولی۔  صوفی ماہرِ فلکیات، روحانیت سے وابستہ ممتاز شخصیت، صحافی و کالم نگار روزنامہ اردو ٹائمز ممبئی، ممبئی اردو نیوز اور ڈیسپلین مالیگاؤں کے معزز قلم کار، نعت گو شاعر حضرت محمد منظور الحسن صاحب (ساکن: مؤناتھ بھنجن، یوپی) کی والدہ ماجدہ کے انتقال کی خبر نہایت رنج و غم کے ساتھ موصول ہوئی۔مرحومہ کا انتقال شب کے وقت ضعفِ عمری کے باعث قضاءِ الٰہی سے ہوا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ نمازِ جنازہ آج بروز اتوار، 26 اپریل صبح 10 بجے معصوم تکیہ، کلیان ساگر میں ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اس موقع پر ضلع و بیرونِ ضلع سے تعلق رکھنے والی دینی، تعلیمی، سماجی، سیاسی، علمی و ادبی شخصیات کے ساتھ ساتھ حضرت کے مریدین و عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دست بدعا ہیں کہ وہ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ نیز پسماندگان، بالخصوص حضرت محمد منظور الحسن صاحب اور تمام اہلِ خانہ کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے اور صبرِ جمیل عطا فرمائ...

تیرے ہی قدرت سے روشن ہے کائنات تیری۔ - تحریر : مولانا سید میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔

Image
تیرے ہی قدرت سے روشن ہے کائنات تیری۔ -   تحریر : مولانا سید میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔  9881836729  یقینا کوئ ہے ۔ ایسی طاقت ہے جو اتنے بڑے کائناتی نظام کو چلا رہا ہے ۔ وہ طاقت جو فلک سے لیکر زمین اور زمین سے فلک تک اپنی قدرت اور طاقت کا ( demonstration ) مظاہرہ کررہا ہے۔ وہ طاقت جو کن کہتا ہے تو فیکون وہ فوری ہوجاتا ہے۔ جس کو ایک سیکنڈ کا بھی وقت نہیں لگتا۔ وہ جب موت متعین کرتا ہے تو نہ تو دیر ہوتی ہے اور نہ ہی جلد واقع ہوتی ہے۔ وہ تمام ( universe) کائنات کے سسٹم کو ایسے چلا رہا ہے کہ ہماری عقل محسوس بھی نہیں کرسکتی۔ اور اس نے ایک دوسرے پر سات آسمان بناے۔ آپ اگر دیکھوگے تو آپ کو قدرت کی ( creation) تخلیق میں کوئ رخنہ نہ پاوگے۔ خداے برتر کا ارشاد ہے۔ ہم نیچے والے آسمانوں کو چراغ سے آراستہ و پیراستہ کرکے روشن کیا ۔ جو شیطانوں کو مار بھگانے کا ذریعہ بھی ہیں۔ ایک سائنس دان کا تجزیہ ہے ، اور مبنی پر حقیقت ہے۔ دنیا میں جتنی ریت ( sand) ہے اس سے ایک سو دس گناہ زیادہ کائنات میں کرہ ارض سے سو گناہ یا اس سے بھی زیادہ جسمات والے سیارے ہیں۔ ہم ایک مٹھی ریت کو ج...

خبر پہ شوشہ "بیوی کا ٹنشن"

Image
خبر پہ شوشہ  "بیوی کا ٹنشن"  کے این واصف : مرد کی زندگی میں بیوی کی اہمت سے انکار نہین، مگر گل سے پیوست خار کی طرح ہر بیوی باعث “ٹنشن” ضرور ہوتی ہے۔ یہ بات تحریر شدہ نہین مگرتسلیم شدہ حقیقت ضرور ہے۔ اور اب اس حقیقت کا اعتراف ہندوستان کی پارلیمنٹ میں ہوا ہے۔ پچھلے ہفتہ قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے خواتین ریزرویشن بل مباحثہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا “ ہر مرد کو اس کی بیوی کسی نہ کسی حوالے سے ٹنشن ضرور دیتی رہتی ہے۔  اس دوران ایوان میں قہقہے اس وقت بلند ہوئے جب راہول گاندھی نے کہا “اس ٹنشن سے مین اور مودی جی بالکل محفوظ ہیں کیونکہ ہماری بیویاں نہین ہیں”۔ راہول گاندھی کے اس بیان پر کبھی پڑھا ایک جملہ یاد آیا۔ عورت کو کوئی ٹنشن نہین ہوتا کیونکہ اس کی کوئی بیوی نہین ہوتی۔

ٹمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2026 ، ایک جائزہ۔ - اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی۔

Image
 ٹمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2026 ، ایک جائزہ۔ -  اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی۔ ریاست ٹمل ناڈو آزاد ہندوستان کی ایک ایسی واحد ریاست ہے جہاں کی سیاست ملک کی دیگر ریاستوں سے ہمیشہ الگ اور منفرد رہی ہے۔ لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تنظیم نو ہو یا علاقائی پارٹی بنا کر ریاستی حکومت پر استحقاق حاصل کرنا ہو ان دونوں میدانوں میں ریاست ٹمل ناڈو کو نہ صرف اولیت حاصل ہے بلکہ آج بھی یہاں لسانی اور علاقائی شناخت پر اصرار کی سیاست ہی سیاسی کامیابی کی ضامن ہے۔  سن 2014 کے بعد ملک میں اکثریت پسندی کی جو سیاست تیزی سے اپنا سحر پھیلا رہی ہے جس کے گرفت میں مبتلا ہو کر تقریبا پورا شمالی ہندوستان دھمال ڈال رہا ہے، اس کے اثرات جنوبی ہندوستان میں کم کم اور خاص کر ریاست ٹمل ناڈو میں نہ کے برابر ہیں۔ گزشتہ بارہ سالوں کے مسلسل ہر نہج کےپروپگنڈے، سیاسی نیتاؤں کے لگاتار یلغار اور گودی میڈیا کوریج کے باوجود اکثریت پسندی کے اس جنون کا اثر ریاست ٹمل ناڈو میں خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اکثریت پسندی کے اس طوفان بلا خیز میں اپنی کشتی کو مخالف سمت میں کھینے کا داعیہ ریاست ٹمل ناڈو کو اس ...

زبان، صحافت اور دوہرا معیار — سوال جو جواب مانگتا ہے - سید فاروق احمد قادری۔

Image
زبان، صحافت اور دوہرا معیار — سوال جو جواب مانگتا ہے -    سید فاروق احمد قادری۔ میری کتاب "سلگتے احساس" اور میری زیرِ تکمیل خودنوشت—جس کے کئی ابواب مکمل ہو چکے ہیں—میرے اس طویل سفر کی گواہی ہیں جس میں میں نے صحافت کو زمین سے اٹھتے اور اب لڑکھڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے 13 سال کی عمر سے قلم اٹھایا، اور آج 79 برس کی عمر میں بھی ایک ہی سوال میرے سامنے ہے: ہم کہاں کھڑے ہیں؟ آج مہاراشٹر میں زبان کے نام پر جو فیصلے ہو رہے ہیں، وہ اپنی جگہ ایک بحث ہیں۔ مگر اس سے بھی بڑا سوال صحافت کے کردار کا ہے۔ اخبار جب کسی لکھنے والے سے یہ پوچھتے ہیں کہ “آپ نے مدد کہاں سے لی؟” تو دل میں ایک اور سوال جنم لیتا ہے: کیا آپ خود ہر چیز اپنے قلم سے لکھتے ہیں؟ حقیقت سب کو معلوم ہے۔ بڑے بڑے اخبارات اپنی سرخیاں، اپنی اہم خبریں، اور اپنے “بینر” اکثر نیوز ایجنسیوں سے لیتے ہیں۔ وہی خبر مختلف ناموں سے چھپتی ہے، تھوڑی سی ترتیب بدلتی ہے، اور قاری تک پہنچ جاتی ہے۔ تو پھر ایک فرد اگر جدید ذرائع سے رہنمائی لے کر اپنی بات کہتا ہے، تو اسے شک کی نگاہ سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟ یہاں اصل مسئلہ “ذرائع” نہیں، بلکہ د...

عمرکھیڑ میں کل جماعت چہارم اور ہفتم کے لیے اسکالرشپ امتحانات کا انعقاد۔

Image
عمر کھیڑ ضلع ایوت محل سے نامہ نگار عثمان احمد کی رپورٹ : شہر کے مختلف مراکز پر کل 26 اپریل بروز اتوار کو جماعت چہارم (چوتھی) اور جماعت ہفتم (ساتویں) کے اسکالرشپ امتحانات منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سینٹر کنڈکٹر شیخ عثمان شیخ احمد نے تمام ضروری انتظامات مکمل ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے طلبہ کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ امتحانی مراکز کی تفصیلات: حکام کے مطابق، نگر پریشد کے جماعت ہفتم کے طلبہ کے لیے اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج (نزد گارڈن)، عمرکھیڑ کو امتحانی مرکز مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ جماعت چہارم کے طلبہ کے لیے بھگت سنگھ نگر پریشد مراٹھی اسکول نمبر 2 (پانی کی ٹاکی کے پاس)، عمرکھیڑ میں مرکز بنایا گیا ہے۔ امتحان کا وقت اور شیڈول: پہلا پرچہ: صبح 11:00 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک۔ وقفہ: دوپہر 12:30 سے 2:00 بجے تک (ایک گھنٹہ)۔ دوسرا پرچہ: دوپہر 2:00 بجے سے سہ پہر 3:30 بجے تک۔ طلبہ کے لیے ہدایات: تمام شریک ہونے والے طلبہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صبح 10:00 بجے تک اپنے متعلقہ مراکز پر پہنچ جائیں۔ گرمی کے پیش نظر بچوں کو اپنے ساتھ ٹفن اور پانی کی بوتل لازمی لانے کا مشورہ دیا گیا ...

رام مادھو کا اعترافِ حق : طلسم ٹوٹا خدا خدا کرکے! - بقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔

Image
رام مادھو کا اعترافِ حق : کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے! بقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین  واشنگٹن ڈی سی کا ہڈسن انسٹی ٹیوٹ امریکی خارجہ پالیسی کے  دانشوروں کا وہ مرکز ہے جہاں دنیا کی سمتیں زیر بحث آتی ہیں اور جہاں ایک جملہ بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ اپریل 2026 کے اواخر میں اس ادارے میں ایک مباحثے کا انعقاد ہوا جس کا عنوان امریکہ بھارت تعلقات کے لیے نئے راستے تھا۔ اس مباحثے میں امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کرٹ کیمبل، اسٹمسن سینٹر کے جنوبی ایشیا پروگرام کی نائب ڈائریکٹر الزبتھ تھریل کیلڈ اور بی جے پی کے اعلیٰ رہنما رام مادھو شریک تھے۔ اس گفتگو کے دوران رام مادھو نے مائیک کی طرف جھکتے ہوئے وہ الفاظ کہے جو چند گھنٹوں میں بین الاقوامی سرخیوں میں تبدیل ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت نے ایران سے تیل خریدنا بند کرنے پر اتفاق کیا، حزب اختلاف کی اتنی تنقید کے باوجود روس سے تیل خریدنا بند کرنے پر اتفاق کیا اور 50 فیصد محصولات پر بھی اتفاق کیا۔ اتفاق کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے کچھ نہیں کہا اور صبر سے کام لیا۔ ان الفاظ کے ادا ہوتے ہی ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا اور نئی دہلی تک ...

نگر پریشد اردو پرائمری اسکول نمبر 6 میں الوداعی تقریب و جلسہ تقسیمِ انعامات کا شاندار انعقاد۔۔ - بچوں کی تعلیمی و ہمہ گیر کارکردگی پر ٹرافیز اور کتابوں سے نوازا گیا؛ 370 طلباء کے لیے ضیافت کا اہتمام۔

Image
امراوتی (نامہ نگار این ایس بیگ کی رپورٹ ): ۲۵ اپریل ۲۰۲۶ مقامی نگر پریشد اردو پرائمری اسکول نمبر 6، مورشی ۔تعلقہ مورشی ضلع امراؤتی میں ایک پروقار الوداعی تقریب اور جلسہ تقسیمِ انعامات و اسنادکا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ کی تمام سال کی بہترین کارکردگیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن پاک، حمدِ باری تعالیٰ، دعا اور نعتِ پاک سے کیا گیا۔ تقریب کی صدارت مدرسہ ھذا کے صدر مدرس جناب محمد صادق محمد رفیق صاحب نے فرمائی۔ بطور مہمانِ خصوصی نگر پریشد مورشی کے ممبر عالی جناب نعیم بھائی اور سبیہ عرشی باجی نے شرکت کیں اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں زندگی کے اگلے سفر اور اپنی منزل کے حصول کےلیے دعاؤں سے نوازا۔ تقریب میں مدرسہ انتظامیہ کمیٹی(SMC) اسکول مینیجمنٹ کمیٹی کے اراکین ذاکر بیگ صاحب، پرویز بھائی، نغمہ باجی، عرشی باجی اور صائمہ باجی نے بھی بطور مہمان شرکت کیں۔ نظامت کے فرائض معلم اعجاز سر نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ اس موقع پر سیکشن 'بی' کے انچارج محمد قمر اقبال سر نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ...

عازمین حج کے لئیے تربیتی کیمپ بروز پیر کو۔محمد امان خان۔

Image
بیدر۔25/اپریل ((نامہ نگارمحمد عبدالصمد)ہمناآباد کے معروف سماجی کارکن محمد امان خان ولد مرحوم محمد محبوب خان(بابا خان) نے ایک صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے اس بات کی اطلاع دی ہے کے رواں سال حج کے مقدس سفر پر جانے والے عازمین حج کے لئیے ہمناآباد میں تربیتی وترغیبی کیمپ منعقد کیا گیا ہے بروز پیر27اپریل کو بمقام نو ر گارڈن فنکشن ہال میں صبح گیار ہ تا ظہر منعقد کیا گیا ہے۔اس کیمپ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا نذیر احمد رشادی بانی و مہتمم مدرسہ تجوید القران گلبرگہ،مولانا مفتی عبدا لصبور قاسمیؔ جنرل سیکر یٹری جمعیت علماء ہند شاخ سنگا ریڈی تلنگانہ،الحاج حافظ فیاض قاسمیؔ سابق صدر مدرس مدرسہ نورالعلوم و خلیفہ مجاز حضرت قطب دکن شرکت کریں گیں۔ہمناآباد،چٹگوپہ،منا اکھیلی،ہلی کھیڑ(بی)،بسوا کلیان،راجیشور،کے جو بھی عا زمین حج ہیں وہ اس خبر کو دعوت نامہ تصور کرتے ہوئے اس تربیتی کیمپ میں لازمی طور پر شرکت کرتے ہوئے حج کے تمام مسائل اور فضائل کو اچھی طرح سمجھ لیں کیونکہ حج کے مسائل یہیں سے سیکھ اور سمجھ کر جانا ضروری ہے۔ اور جو احباب اگلے سال حج کرنے کا ارادہ کیے ہیں وہ احباب بھی اس کیم...

اردو مضمون میں صدفیصدنشانات (125) حاصل کرنے پر دہم کامیاب طالبہ لاونیا بنت گنڈپا کی گلپوشی اور کتابوں کاتحفہ

Image
گلبرگہ۔ 25/اپریل (راست) 25/اپریل 2026 ہفتہ کو محب ِ اردو، سماجی جہدکار، حرکیاتی معاشرتی شخصیت، مؤظف محکمہ ء پولیس جناب خواجہ فریدالدین انعامدار اپنے حرکیاتی فرزند اور سماجی خدمت گار خواجہ سراج الدین انعامدار اوران کی اہلیہ ڈاکٹر امامہ نور کے ہمراہ بذریعہ کار تعلیمی سفر کرتے ہوئے لاونیا (Lavanya) بنت گنڈپا کے مکان کل ہلی تعلقہ الند ضلع گلبرگہ پہنچ کر لاونیا اوران کی والدہ محترمہ کی گلپوشی کرتے ہوئے کتابوں کاتحفہ پیش کیاگیا۔ لاونیا نے اِمسال دہم جماعت کے بورڈ امتحان میں اردو مضمون میں 125نمبرات میں سے پورے 125نمبرات حاصل کئے ہیں، اس مسرت میں یہ گلپوشی کی گئی اور کتابوں کاتحفہ دیاگیا۔ اس سے قبل 26/جولائی 2019، اور 19جولائی 2024؁ء کو بھی دو مرتبہ اسکول جاکر لاونیا کوکتابوں کاتحفہ پیش کرتے ہوئے طالبہ کی ہمت افزائی کی گئی تھی۔ اس دفعہ بھی سماجی جہدکار جناب خواجہ فریدالدین انعامدار نے سب سے پہلے طالبہ کو تہنیت پیش کی اور تحفہ میں کتابیں دی ہیں۔ موصوف نے طالبہ کی آئندہ بہتر زندگی کی دعا کی۔ اسی کے ساتھ انھوں نے لاونیا کی چھوٹی بہن کو بھی کتابوں کاتحفہ پیش کیا۔

حفصہ بیگم (بیگ) کی کتاب"علم الفلسفہ"اور'نوشتۂ حفصہ"شہر گلستان بنگلور میں اجراء ۔

Image
بنگلور (راست) بروز جمعہ بتاریخ 24 اپریل 2026 شہر گلستان بنگلور میں کرناٹک اردو اکیڈمی کےچیرمین جناب مولانا محمد علی قاضی صاحب کے ہاتھوں اور دیگر حاضرین کے سامنے محترمہ حفصہ بیگم (بیگ) اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو کوویمپو یونیورسٹی سیہادری کالج کیمپس شیموگہ کی تصنیف کردہ دوکتابیں "علم الفلسفہ" اور "نوشتۂ حفصہ" کی رسم اجراء عمل میں ایا۔ "علم الفلسفہ" میں فلسفہ کیا ہے؟ اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ "نوشتۂ حفصہ" میں ان کی تخلیق کردہ مقالات اور افسانوں کو جمع کیا گیا ہے۔متعدد مقالات کو یکجا کرنا ایک علمی اور تحقیقی کام ہے، جس کے ذریعے مختلف موضوعات یا ایک ہی موضوع پر پھیلی ہوئی تحریروں کو کتابی شکل دی جاتی ہے۔ اس عمل میں مقالات کی ترتیب، تدوین، اور مواد کی جانچ پڑتال شامل ہے تاکہ انھیں ایک منظم مجموعے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ اس موقع پر مشہور معروف ادیب و محقق مصنف استاذ الاساتذہ فخر دکن پروفیسر م ن سعید صاحب سابق چیرمین شعبہ اردو بنگلور یونیورسٹی اور مشہور صحافی و ادیب محترم اعظم شاہد صاحب ممبر کرناٹک اردو اکیڈمی کے علاوہ فخر جنوب پروفیسر سید سجاد ...

لاونیا نے اردو زبان میں 125میں سے 125نشانات حاصل کئےدیہی علاقہ بھاتمرہ سے ڈسٹنگشن میں کامیاب۔

Image
  بیدر۔ 24/اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری) اردو زبان کی خوبصورتی دراصل اس کی آفاقیت میں ہے۔ آفاقیت یہ ہے کہ اس زبان کوسبھی طبقہ اور ملک کے لوگ سیکھیں۔ زبانیں جب افراد، اقوام اور ممالک سے مخصوص ہوجاتی ہیں تو دیرسویر سہی ان کازوال شروع ہوجاتاہے۔یہ بات اہل اردو بھی اچھی طرح جانتے ہیں تاہم تجاہل عارفانہ سے کام لینے میں اردو والوں سے بڑھ کر شایدہی کوئی ملے۔ آج ہم ایک ایسی طالبہ کا ذکر کرنے جارہے ہیں جس نے ایس ایس ایل سی (دہم جماعت) کے بورڈ امتحانات میں صدفیصد نشانات حاصل کرکے ایک ریکارڈ قائم کیاہے۔ طالبہ کانام لاونیا بنت گنڈپا ہے۔ جس نے سرکاری ہائی اسکول بھاتمبرہ تعلقہ بھالکی ضلع بیدر سے 625میں سے 561نشانات (90%) لے کر اسکول میں جہاں ٹاپ کیاہے وہیں اُردو پرچہ میں 125میں سے 125نشانات لے کر کامیابی کے جھنڈے گاڑھے ہیں۔ لاونیا ایس سی ہیں، ان کے والد کنڈکٹر ہیں۔ لاونیا نے سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کی۔اور لاونیا نے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کی اور لاونیا نے دیہی علاقے سے تعلیم حاصل کی۔ اس طرح پانچ زائد خوبیاں لاونیا میں ہیں۔ اردو کے حوالے سے کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ مسلمانوں ک...

انجمن ڈگری کالج میں ادبی و تقریری مقابلوں کا شاندار انعقاد۔

Image
 بیجاپور (راست) انجمن ڈگری کالج بیجاپور کی ڈیبیٹنگ یونین کے زیرِ اہتمام تحریری تقریری مقابلہ، بیت بازی، ادبی کوئز اور برجستہ تقریر جیسے متنوع ادبی مقابلوں کا شاندار اور کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس بامقصد پروگرام میں طلبہ و طالبات نے والہانہ جوش و خروش کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے اپنی علمی، ادبی، تخلیقی اور تقریری صلاحیتوں کا متاثر کن مظاہرہ کیا۔ پروگرام علمی و ادبی ذوق کے فروغ اور طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کے انکشاف کے اعتبار سے نہایت کامیاب ثابت ہوا۔ پروگرام کی صدارت پرنسپل انجمن ڈگری کالج ڈاکٹر ایس۔ جے۔ جاگیردار نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں ہوتے بلکہ طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی ان کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے ادبی اور تقریری مقابلے نوجوانوں کے اندر اظہارِ خیال کی قوت، تخلیقی شعور، قائدانہ صلاحیت اور خود اعتمادی کو پروان چڑھاتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان ہی کل کے معمار ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وہ کتابی علم کے ساتھ ادبی، سماجی اور فکری سرگرمیوں میں بھی سرگرم حصہ...

الوداع اے شہر شولاپور۔ خامہ بکف : محمد پالن پوری۔ - کچھ بھی ہوں شولاپور کے کوچے۔ - تجھ بن مجھ کو گھر کاٹے گا

Image
الوداع اے شہر شولاپور۔  خامہ بکف : محمد پالن پوری۔  کچھ بھی ہوں شولاپور کے کوچے  تجھ بن مجھ کو گھر کاٹے گا  ابتداء میں تیرا نام ایک سماعتی آہٹ تھا۔ شولاپوری چادروں کی نسبت سے ایک دھندلا سا تعارف مگر جب 13 فروری 2025 کی شب تیرے اسٹیشن پر قدم رکھا تو گویا ایک مکمل تاریخی داستان میرے سامنے وا ہو گئی۔۔ ایک سال کی اس رفاقت میں تو نے خود کو صدیوں پر محیط ایک زندہ تسلسل کے طور پر منوایا۔ تیرے افق پر کبھی Andhrabhratyas کی ابتدائی جھلک دکھائی دیتی ہے پھر Chalukya dynasty کی سیاسی ہیبت اس کے بعد Rashtrakuta dynasty کی وسعتیں پھر Yadava dynasty کا دور اور بالآخر Bahmani Sultanate کی حکمرانی گویا تو ایک ایسا اسٹیج ہے جس پر تاریخ نے اپنے مختلف ادوار کے کردار یکے بعد دیگرے پیش کیے۔۔۔۔۔۔۔ تیرا نام بھی ایک طویل تاریخی و لسانی سفر کا آئینہ دار ہے۔ عوامی روایت اگرچہ سولا (سولہ) اور پور (گاؤں) کی ترکیب سے سولہ دیہات کا نظریہ پیش کرتی ہے جن میں عادل پور، احمد پور، چاپل دیو، فتح پور، جمدارواڑی، کلاجاپور، خدرپور، کھانڈیروکی واڑی، محمد پور، راناپور، سندل پور، شیخ پور، سولاپور،...

(طنزومزاح)بطرح”انگُور کھا کے شیخ ہے دُشمن شراب کا"۔ ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن ( تلنگانہ،انڈیا )

Image
(طنزومزاح)بطرح”انگُور کھا کے شیخ ہے دُشمن شراب کا" ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن ( تلنگانہ،انڈیا ) کانٹوں سے بیر رکھتا ہے عاشق گُلاب کا “انگُور کھا کے شیخ ہے دُشمن شراب کا” ہم نے مزہ چکھا ہی نہیں ہے شراب کا واعظ نہ ہم سے ذکر کرو تُم عذاب کا ستر برس کا ہو کے بھی لگتا ہوں میں جواں احسان مُجھ پہ کتنا ہے دیکھو خضاب کا اک عالمی مُشاعرہ آیا ہوں پڑھ کے میں اب میں بھی مُستحق ہوں میاں اک خطاب کا بُرقعے میں ہیں وہ پھر بھی نُمایاں ہے تھوبڑا ائے کاش اُس پہ ہوتا جو ٹُکڑا نقاب کا چوکھا لگائیں یا کہ رکھیں سر پہ آپ وگ واپس نہ آئے گا کبھی موسم شباب کا خود کی غزل میں کہتے ہو ہے اس میں رنگ میرؔ میری غزل پہ تبصرہ کیا ہے جناب کا جب سے کتابی چہرے نے اس کو دیا ہے ہاتھ دُشمن ہی بن گیا ہے وہ اب ہر کتاب کا مُشکل بہت ہے رات کو لوٹا ہوں گھرسحر اب سلسلہ چلے گا سوال و جواب کا  فریدسحر،حیدرآباد دکن ( تلنگانہ،انڈیا )

سن اسٹروک (لو): حقیقت، افواہیں اور ہماری ذمہ داری - سید فاروق احمد قادری۔

Image
سن اسٹروک (لو): حقیقت، افواہیں اور ہماری ذمہ داری -   سید فاروق احمد قادری۔ آج کل سورج کی تپش میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کہیں درجۂ حرارت 40، 42 بلکہ 44 ڈگری تک پہنچ رہا ہے، جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔ اوپر سے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہیں اس بے چینی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ مگر اس صورتحال سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ کیفیت دراصل Heatwave (لو/سن اسٹروک) سے جڑی ہوئی ہے، جو شدید گرمی، خشک ہواؤں اور فضا کے دباؤ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح El Niño جیسے قدرتی موسمی نظام بھی درجۂ حرارت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں—نہ کہ کسی جنگ یا سازش کا نتیجہ۔ بعض لوگ اسے ایران، امریکہ اور اسرائیل کی کشیدگی سے جوڑ رہے ہیں، مگر یہ خیال درست نہیں۔ جنگوں کے اثرات محدود علاقوں تک ہوتے ہیں، جبکہ موسم کی یہ شدت ایک عالمی اور قدرتی عمل کا حصہ ہے۔  اصل خطرہ گرمی نہیں بلکہ غلط فہمیاں ہیں۔ افواہوں سے بچیں اور حقیقت کو سمجھیں۔  احتیاط: پانی زیادہ پئیں، دھوپ سے بچیں، ہلکے کپڑے پہنیں، اور بچوں و بزرگوں کا خاص خیال رکھیں۔  نتیجہ: یہ ایک قدرتی موسمی عمل ہے، اس سے گھب...

پروفیسر ناظمہ شیخ اور معراج بانو مومن کو آدرش گرو گورو ایوارڈ ۔۔وزیر امداد باہمی بابا صاحب پاٹل اور رکن قانون ساز کونسل وکرم کاڑ ے کی جانب سے ستائش ۔۔

Image
لاتور(محمد مسلم کبیر): مہاراشٹر اسٹیٹ راجیہ شکشک پریشد لاتور کی جانب سے دیانند آڈیٹوریم میں رقیہ بیگم اُردو جونیئر کالج لاتور کی پروفیسر ناظمہ عباس شیخ اور نرگس اُردو اسکول کی معلمہ مومن معراج بانو محمد حنیف کو ریاست مہاراشٹر کے وزیر امداد باہمی بابا صاحب پاٹل اور رکن قانون ساز اسمبلی وکرم کا ڑے کے ہاتھوں "آدرش گرو گورو ایوارڈ" سے نوازا گیا۔ اس موقع پر ، مہاراشٹر شکشك پریشدکے ریاستی اورضلع سطح کے تمام عہدیداران پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ پروفیسر ناظمہ شیخ اور معراج بانو مومن کو یہ اعزاز تعلیم میں ان کی نمایاں خدمات، طلباء کے تئیں وفاداری اور کمیونٹی پر مبنی کام کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ اس کے کام کی ستائش کرتے ہوئے، طلبہ کے لیے تعلیم کو خوشگوار بنانے کے لیے اس کی کوششیں قابل ذکر ہیں۔ ان کی رہنمائی میں کئی طلباء نے تعلیمی میدان میں کامیابیاں حاصل کیں۔ پروفیسر ناظمہ شیخ اور معراج بانو مومن نے اس اعزاز کا سہرا اسکول کے منتظمین، پرنسپل، اساتذہ، عملہ، ساتھیوں اور طلبہ کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز ہمارے حوصلے بلند کرنے والا ثابت ہوگا۔ اس اعزاز پر انہیں...

انڈین فورم فار ایجوکیشن نے نیٹ تمثیلی امتحان کے کامیاب انعقاد پر تقاریب اہتمام کیا۔

Image
انڈین فورم فار ایجوکیشن نے نیٹ تمثیلی امتحان کے کامیاب انعقاد پر تقاریب اہتمام کیا۔ کے این واصف : انڈین فورم فار ایجوکیشن (IEF) ریاض نے NEET Mock Test کے کامیاب انعقاد پر ایک پروقار تقریب منعقد کی۔  فورم کے جاری پریس نوٹ کے مطابق فورم نے ہندوستانی طلبہ و طالبات عملی مشق کے لیے NEET تمثیلی امتحان کا انعقاد عمل میں لایا تھا۔ اس امتحان کے کامیاب انعقاد پر بطور ہدیہ تشکر اپنے بہی خواہون، اراکین و احباب کے لئے ایک “ریڈچلّی رسٹورنٹ” میں ایک پروقار تقریب و ڈنر کا اہتمام کیا۔ جس میں پرواسی بھارتیہ سمّان ایوارڈ یافتہ شہاب کوٹّوکاڈ نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ مہمنانِ ذی وقار میں ڈاکٹر شرف علی، آفتاب نظامی، مشّید علی اور احمد پیشکار شامل تھے۔ اس تقریب میں معروف صاحب خیر ڈاکٹر ایدریس سلیم خان CEO الشفاء میڈیکل سنٹر اور المراعی کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار جناب محمد علی کو NEET تمثیلی امتحان اور فری میڈیکل کیمپ کے انعقاد میں بھرپور تعاون کے لیے تہنیت پیش کی گئی۔ انجینئر سلمان نے مہمانانِ خصوصی کا تعارف پیش کیا۔ فورم کے صدر ڈاکٹر دلشاد نے خیرمقدم کرتے ہوئے فورم کی کارکردگی پ...

پرواسی ایوارڈ یافتہ مسز زینت جعفری کی کتاب "سیڈز آف ایجوکیشن" کی رسم اجرا بدست سفیر ہند ڈاکٹر سہیل اعجاز خان۔

Image
ریاض ۔ کے این واصف :  سفیر ہند برائے سعودی عرب ڈاکٹر سہیل اعجاز خان نے ایمبیسی آف انڈیا ریاض میں معروف ماہر تعلیم محترمہ زینت جعفری کی انگریزی تصنیف  "سیڈز آف ایجوکیشن" کی رسم اجراء انجام دی۔ یہ کتاب مسز جعفری کی خود نوشت ہے۔ رسم اجراء کے موقع پر سفارت خانہ ہند میں کونسلر مسٹر وائی صابر بھی موجود تھے۔  زینت جعفری اور ان کے شوہر مسّرت جعفری (مرحوم) ریاض شہر میں قائم ہونے والے پہلے انڈین اسکول کے بنیاد گزاروں میں ہیں۔ چھوٹے پیمانے پر قائم کیا گیا وہ اسکول بعد کو آج کا سفارت خانہ ہند کی نگرانی میں چلنے والا “انٹرنیشل انڈین اسکول ریاض” بنا۔ آج اس اسکول میں دس ہزار سے زائد ہندوستانی طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ مسز جعفری برسوں اس اسکول کی پرنسپل رہیں۔ مسز جعفری کی تعلیمی خدمات کے اعتراف مین حکومت ہند نے 2017ء میں انھیں قومی ایوارڈ “پرواسی بھارتیہ سمّان” سے نوازا تھا۔  مسز جعفری کو اس قومی ایوارڈ کے علاوہ کئی اداروں اور سماجی انجمنون کی جانب سے ان کی تعلیمی و سماجی خدمات کے لئے بیسیوں انعامات و اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ مسز جعفری کو ہندوستانی کمیونٹی میں بڑی ع...

ادارہ میرا شہر میرے لوگ کے ادبی اجلاس و مشاعرہ میں فاضل حسین پرویز کو مولانا عبدالوحید صدیقی میڈیا یونیٹی ایوارڈ اور ڈاکٹر ماجد داغی کی 50 سالہ شعری ، ادبی ، تعلیمی و صحافتی خدمات کا اعتراف و تہنیت۔

Image
حیدر آباد - 25 / اپریل ادارہ میرا شہر میرے لوگ کا میڈیا پلیس گن فاؤنڈری حیدرآباد میں ماہانہ اجلاس یادِ رفتگاں منعقد ہوا ۔ جس میں صدر ادارہ جناب صلاح الدین نیر نے خیر مقدمی خطاب کیا اور اجلاس کے اغراض و مقاصد سے واقف کرواتے ہوئے جناب عابد علی خان مرحوم اور جناب محبوب حسین جگر مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ادارہ میرا شہر میرے لوگ 40 سالہ قدیم رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کے بانیوں میں عابد علی خاں ، ڈاکٹر نارئن ریڈی ، ڈاکٹر رامنّا چاری ، نیپال سنگھ ورما اور رئیس اختر شامل ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اجلاس پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر دائرۃ المعارف نے جناب صلاح الدین نیر کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیر صاحب نے اب تک 124 شعراء و ادباء اور علمائے کرام کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے قابلِ قدر کارنامہ انجام دیا ہے ۔ انہوں نے چیف ایڈیٹر گواہ ڈاکٹر فاضل حسین پرویز کو اردو صحافتی خدمات پر نئی دنیا فاؤنڈیشن کا مولانا عبدالوحید صدیقی میڈیا یونیٹی ایوارڈ ملنے پر دلی مبارک باد پیش کی۔ ممتاز و معروف مرحوم شعرائے کرام اثر غوری، شاغل ادیب ، عزیز بھارتی اور ڈاکٹر م ...

علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب - (اقرا کا ابدی پیغام: ہر دور ہر زمانے کے نام)۔ از قلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت۔

Image
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب -  (اقرا کا ابدی پیغام: ہر دور ہر زمانے کے نام) از قلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت۔ چودہ سو سال قبل غارِ حرا کی وہ تاریک اور پراسرار رات تھی جب اللہ رب العزت نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل فرمائی۔ اس وحی کا آغاز "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ" (سورۃ العلق) سے ہوا۔ یہ پڑھو کا حکم صرف قرآن کا آغاز نہ تھا بلکہ پوری انسانیت کے لیے علم کی تلاش کا ابدی اعلان ثابت ہوا۔ اس ایک لفظ نے صدیوں کی جہالت کے اندھیروں کو چیر دیا اور ایک ایسی تہذیب کو جنم دیا جو علم کو اپنا قومی شعار بنا کر آٹھویں سے تیرہویں صدی تک دنیا کی سائنسی، فکری اور تہذیبی قیادت کرتی رہی۔ آج جب سائنسی ترقی نے علم کی طاقت کو نئی جہتیں عطا کی ہیں، علامہ اقبال کا مصرعہ "علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب" (نظم: بچے کی دعا، بانگِ درا، 1924ء) محض ایک خوبصورت دعا نہیں بلکہ عملی منشور ہے۔ یہ مضمون اسی اقرا کے فلسفے کی روشنی میں علم کی دینی فضیلت، تاریخی اثرات، فلسفیانہ جہت اور موجودہ دور کے تقاضوں کا جائزہ لیتا ہے۔ اسلام میں ع...

ایمان کی روشنی سے جگمگاتے ہوئے چہرے - سیما شکور (حیدر آباد)

Image
ایمان کی روشنی سے جگمگاتے ہوئے چہرے -   سیما شکور (حیدر آباد)  ایک ایسا انسان جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہو اُس کی پرورش اسلامی طریقے سے ہوئی ہو اور پھر چند سال گزرنے کے بعد ایسا انسان اچانک ہی۔۔۔۔مرتد ہوجائے اور پھر وہ کمیونسٹ کہلوانے میں فخر محسوس کرے تو یہ انتہائی دکھ کی بات ہے اور ایک لمحہ فکریہ بھی ہے ہم سب کے لیئے۔ آخر کیوں ایسا ہورہا ہے؟ شیطانی وار کی ضرب آخر اتنی شدید کیوں ہے؟ کیا ایمان اس قدر کمزور ہوچکا ہے کہ لوگ مسلمان کہلوانے میں شرم محسوس کرتے کرتے اب کمیونسٹ کہلوانے میں اپنے آپ کو ترقی پسند سمجھ رہے ہیں انہیں نہیں پتہ کہ وہ تنزلی کی آخری حدوں کو پار کرچکے ہیں۔ اپنے آپ کو ترقی پسند سمجھنے والے لوگ جہالت اور گمراہی کی گہری کھائیوں میں گر چکے ہیں ، ظلمت کے سیاہ اندھیروں سے لپٹے ہوئے لوگ۔۔۔۔افسوس جہنم کےاُٹھتے بلند شعلوں کو آواز دے رہے ہیں، ہمارے اپنے لوگ جب جہالت کے گہرے اندھیروں میں گم ہوجاتے ہیں تو شدید تکلیف ہوتی ہے، بے انتہا دکھ ہوتا ہے، اتنی آسانی سے ’’تم‘‘ نے بھی تو کہہ دیا ہے کہ تم ’’اللہ‘‘ کو نہیں مانتیں یہ جملہ سن کر می...

بھارت کا بدلتا چہرہ اور تکثیریت سے قوم پرستی تک کا سفر ۔(گاندھی کے دیس میں نظریاتی تبدیلی اور اسرائیل ماڈل)۔ بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر)

Image
بھارت کا بدلتا چہرہ اور تکثیریت سے قوم پرستی تک کا سفر ۔ (گاندھی کے دیس میں نظریاتی تبدیلی اور اسرائیل ماڈل) بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر) وہ بھارت جس نے 1974 میں پہلا غیر عرب ملک بن کر فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو واحد جائز نمائندہ تسلیم کیا، 1975 میں نئی دہلی میں پی ایل او کے دفتر کو سرکاری درجہ دیا، 1980 میں اسے مکمل سفارتی حیثیت بخشی اور 16 نومبر 1988 کو فلسطینی اعلان آزادی کے اگلے ہی دن ریاست فلسطین کو باضابطہ تسلیم کر کے دنیا میں ایک واضح اخلاقی موقف کا اظہار کیا وہی بھارت 25 فروری 2026 کو اسرائیل کا خصوصی تزویراتی شراکت دار بن گیا۔ یہ سفر محض سفارتی نہیں نظریاتی بھی ہے۔ یہ صرف دو ملکوں کے درمیان بدلتے تعلقات کی داستان نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی روح، اس کے تہذیبی تخیل اور اس کے آئینی وعدوں پر سنجیدہ سوال ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان موجودہ قربت کسی ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تدریجی سفر کا انجام ہے۔ 29 جنوری 1992 کو دونوں ممالک کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور یہ وہ لمحہ تھا جب بھارت نے اپنی روایتی فلسطین نوازی کو پس پشت ڈال کر ایک...

تعلیم کی آڑ میں تہذیبی دوری, مسلم نظمِ تعلیم کے اداروں کا فکری و دینی محاسبہ۔۔ ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔

Image
تعلیم کی آڑ میں تہذیبی دوری, مسلم نظمِ تعلیم کے اداروں کا فکری و دینی محاسبہ۔ ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔ تعلیم کسی قوم کی تقدیر بدلنے کی سب سے مؤثر قوت ہوتی ہے، مگر یہی قوت اگر صحیح سمت سے ہٹ جائے تو فائدے کے بجائے فکری بگاڑ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری ایک خوش آئند قدم تھا؛ لوگوں نے ادارے قائم کیے تاکہ نئی نسل زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، باوقار روزگار حاصل کرے، اور احساسِ محرومی سے نکلے۔ لیکن وقت کے ساتھ ان اداروں کے ماحول میں ایک ایسی تبدیلی محسوس ہونے لگی جس نے تعلیم کے اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اب وہاں علم سے زیادہ ظاہری حیثیت، کردار سے زیادہ نمائشی نفاست، اور تربیت سے زیادہ نمائش کو اہمیت ملتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ تبدیلی خاموش مگر گہری ہے، اور اس کے اثرات بچوں کی نفسیات، اخلاق اور سماجی رویّوں پر نمایاں ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اداروں کا سنجیدہ احتساب کیا جائے، نہ نیت پر شک کیا جائے اور نہ خدمت کا انکار، بلکہ طریقۂ کار اور ماحول کی تشکیل کو دور اندیشی کے ساتھ پرکھا جائے۔ ان اداروں سے وابستہ طلبہ کے اندر ایک ایسا ذہنی رجحان پیدا...

بطورِ والدین (والد یا والدہ) آپ اپنے بچے کی تربیت کس انداز میں کریں گے؟۔ از قلم : رہبر تماپوری۔

Image
 بطورِ والدین (والد یا والدہ) آپ اپنے بچے کی تربیت کس انداز میں کریں گے؟ از قلم : رہبر تماپوری۔  بطورِ والدین، میری اولین ذمہ داری یہ ہوگی کہ میں اپنے بچے کی تربیت محض روایتی اصولوں پر نہیں بلکہ جدید شعور، توازن اور بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق کروں۔ میرا یقین ہے کہ تربیت صرف زبانی نصیحتوں سے نہیں بلکہ عملی نمونے سے پروان چڑھتی ہے؛ لہٰذا میں اپنے عمل کو ایک روشن مثال بناؤں گا۔ بچہ سب سے پہلے اپنی ماں کی گود سے اخلاقی بنیاد سیکھتا ہے، جہاں اس کی شخصیت کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ میں اسے اندھی اطاعت کے بجائے سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی آزادی دوں گا تاکہ اس میں تنقیدی شعور بیدار ہو سکے، تاہم اس آزادی کے ساتھ اخلاقی حدود اور ذمہ داری کا احساس بھی ضروری ہوگا۔ آج کے سوشل میڈیا کے پرفتن دور میں ہر لمحہ نگہبانی ناگزیر ہے۔ والدین کو ہر عمر کے بچوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں کیا دیکھ رہے ہیں، کس طرح وقت گزار رہے ہیں، اور ان چیزوں کا ان کے ذہنوں پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ یہ ذمہ داری چھوٹے بچوں سے لے کر بڑے بچوں تک سب پر لاگو ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو...

نائب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ کے والد محترم کے سانحہ ارتحال پر حضرت مولانا سید احسان الدین صاحب مدظلہ صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ اور محترم حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب کا اظہار تعزیت۔

Image
حیدرآباد 24/ اپریل( نمائندہ) حضرت مولانا سید احسان الدین صاحب مدظلہ صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ اور محترم حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب خادم جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنےمشترکہ تعزیتی پیغام میں کہا کہ حضرت مولانا سعید احمد صاحب نائب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ و صدر جمعیۃ علماء ضلع کھمم کے والد گرامی کا کل رات انتقال ہو چکا ہے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون    انہوں نے کہا والد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اولاد کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ لفظ ’والد‘ کہنے کو تو چار حروف کا مرکب ہے لیکن اولاد کے لیے اپنے اندر ولایت، ایثار و وفا، الفت و شفقت، لطف و کرم، دانائی اور دستگیری سموئے ہوئے ہے۔ یقینا والد محترم کی وفات بہت بڑا غم ہے۔ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ صدر محترم اور جنرل سکریٹری صاحب نے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے صبر کی تلقین کی ہے اور اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت مسنونہ کو پیش کیا۔ اللہ تعالٰی مرحوم کی مغفرت فرمائیے اور جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ اسی طرح صدر محترم نے جمعیۃ علماء تلنگانہ کے ضلعی صدرو نظمائے اعلی اور کارکنان...

مولانا ازاد یونیورسٹی اردو والوں کے لیے بڑی نعمت- داخلوں کے لیے اساتذہ اور لیکچررز رہنمائی کریں - دارالشفا میدان پر مانو المنائی اسوسی ایشن کے شعور بیداری کیمپ کا افتتاح - مولانا حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ کا خطاب۔

Image
حیدراباد 24 اپریل (پریس نوٹ) امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے اردو والوں پر زور دیا کہ وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (گچی باولی حیدرآباد ) کے تعلیمی کورسس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں مولانا آزاد اردو یونیورسٹی اہلیان اردو کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات کے لیے 27-2026 میں داخلوں کے لیے مانو المنائی اسوسی ایشن کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک کے موقع پر نماز جمعہ سے قبل دار الشفاء میں مولانا نے دارالشفاء میدان میں رہنمائی کیمپ کا افتتاح کیا صدر مانو المنائی ایسوسی ایشن جناب اعجاز علی قریشی ایڈوکیٹ اور ماہر تعلیم جناب محمد حسام الدین ریاض نے مولانا کا خیر مقدم کیا اس موقع پر قاری محمد علی سلیم (تعمیر ملت)ہھی موجود تھے مولانا جعفر پاشاہ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ اردو اور تلگو عوام کی جانب سے مادری زبان میں اپنے بچوں کو تعلیم نہ دلانے کے باعث صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ اردو جاننے والے ہی نہیں بلکہ تلگو جاننے والے عوام بھی مادری زبان میں تعلیم دلانے کے بجائے انگ...

ایس ایس ایل سی نتائج — لڑکوں کا پلڑا بھاری۔ کامیابی کا جشن ہے — مگر بچے کا مستقبل کہاں ہے۔ از قلم : جمیل احمد ملنسار۔

Image
ایس ایس ایل سی نتائج — لڑکوں کا پلڑا بھاری۔ کامیابی کا جشن ہے — مگر بچے کا مستقبل کہاں ہے۔ از : جمیل احمد ملنسار۔ ہر سال نتائج کا دن آتا ہے۔ اخباروں میں سرخیاں سجتی ہیں، وزیر صاحبان مبارکباد دیتے ہیں، اسکولوں کے باہر بینر لہراتے ہیں۔ ماحول میں ایک خوشی کا شور ہوتا ہے۔ مگر اس شور کے نیچے ایک سوال دبا رہتا ہے — خاموش، بے چین، اور جواب کا منتظر۔ کیا واقعی کچھ بدلا؟ کیا بچہ کچھ سیکھا؟ یا ہم نے بس ایک اور فیصد کا ریکارڈ توڑ دیا اور آگے بڑھ گئے؟ اس سال کرناٹک میں پاس کا فیصد ۹۴.۱۰ رہا۔ ریاست کی تاریخ میں یہ سب سے اونچا ہندسہ ہے۔ سننے میں اچھا لگتا ہے — بلکہ بہت اچھا لگتا ہے۔ مگر جب ایک لمحے کو رک کر سوچتے ہیں تو ذہن میں کچھ کھٹکتا ہے۔ کیا واقعی ہمارے بچے اتنے بہتر ہو گئے؟ یا ہم نے پاس کروانے کو اتنا آسان بنا دیا کہ فیل ہونا ہی مشکل ہو گیا؟ یہ سوال تلخ ہے، مگر اسے پوچھنا ضروری ہے۔ کیونکہ اگر فیصد بڑھانا ہی مقصد بن جائے تو تعلیم کا مقصد کہیں پیچھے چھوٹ جاتا ہے۔ یس نمبر کی سرکاری مہربانی : محکمۂ تعلیم کرناٹک نے ہدایت دی کہ تقریباً تمام طلباء کو ۲۰ داخلی نمبر دیے جائیں۔ ا...