Posts

کہانی - فرار - از قلم: رہبر تماپوری۔

Image
کہانی -  فرار -  از قلم: رہبر تماپوری۔ رابطہ :  8431012141 گاؤں کی صبحیں بڑی سادہ اور معصوم ہوتی ہیں۔ سورج کی پہلی کرن نمودار ہونے سے پہلے ہی صحنوں میں چہل پہل شروع ہو جاتی؛ کہیں چولہے جلتے، کہیں مویشیوں کے سامنے چارہ ڈالا جاتا اور کہیں کسان اپنے کھیتوں کی طرف نکل پڑتے۔ اسی گاؤں میں عمران اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ عمران پڑھنے میں بے حد ذہین اور سمجھ دار تھا۔ اساتذہ کو اس کے روشن مستقبل سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ اس کے والد کا گاؤں میں ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا۔ گھر کا چولہا اسی ہوٹل کی آمدنی سے جلتا تھا۔ والد صبح سویرے ہوٹل کھولتے اور رات گئے تک محنت کرتے۔ عمران بھی اسکول جانے سے پہلے کبھی سبزی لاتا، کبھی سامان پہنچاتا اور کبھی ہوٹل کے دوسرے کاموں میں والد کا ہاتھ بٹاتا۔ بچپن میں اسے یہ سب اچھا لگتا تھا، مگر لڑکپن میں قدم رکھتے ہی اس کی سوچ بدلنے لگی۔ وہ شہر سے آنے جانے والوں کی باتیں سنتا اور دل ہی دل میں سوچتا: ’’میں کب تک اس چھوٹے سے گاؤں اور اسی ہوٹل تک محدود رہوں گا؟ مجھے بھی آگے بڑھنا ہے!‘‘ اسے لگتا تھا کہ ترقی کے تمام راستے صرف شہر کی طرف جاتے ہیں۔ حقیق...

آسماں چپ ہے - ازقلم : مسرورتمنا۔

Image
آسماں چپ ہے -  ازقلم : مسرورتمنا۔  بھابھی اب ایسی بھی کوی بات نہیں فوجی کو کب چھٹی ملتی ہے اسکا گھر تو سرحد کی سیما....      ........ اچھا نئ دلھن کو چھوڑ کر وہی جاتا ہے جسے بیوی پسند نہ آئ ہو بھابھی اسے گھورتے ہوے کمرے میں چلی گی ہاں کاشفہ میرے لیے آچھی سی چایے بنا کر لانا ویسے بھی تمہیں چایے کے سوا کیا ہی اچھا بنا لینا ہے. .... ........ کاشفہ جو آماں کے لیے دلیا بنا رہی تھی.... خاموشی سے چاۓ بنانے لگی ............................  آماں کی عیادت کو آی تو واپس  نہ جاسکی انکی دیکھ بھال اور ساس نے آچھی طرح سمجھادیا تھا..کے منیر جب تک نہ آے تم کو وہی رہنا کیونکہ وہ خرچ تو بھیج نہیں سکتا ... بس تم رہو ماں کے پاس ارے لڑکیاں ترستی ہیں میکہ جانے کو اور منیر آگیا تو جانے بھی نا دیگا... اور میں تو حیدرآباد جارہی. بڑے بیٹے کے  ساتھ . . مگر بھابھی کو اسکا رہنا پسند نا تھا بس طعنہ دیتی رہتی اماں خاموش رہتی کچھ نا بولتیں. ..    .. کاشفہ خاموش تھی وہ ٹیچر تھی  اسکا اسکول میکہ اور سسرال کے بلکل قریب تھا گھر پہ بچیے ٹیو...

اقبال فہمی (قسط ششم) ہمالہ روانی حیات ،کشمکش سفر اور آواز فطرت ہے - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔

Image
اقبال فہمی (قسط ششم) ہمالہ روانی حیات ،کشمکش سفر اور آواز فطرت ہے -  ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔  نظم ہمالہ کے اس حصے میں علامہ محمد اقبال کی نگاہ ہمالہ کی بلندیوں سے اتر کر اس کے دامن میں بہنے والی ندی کی طرف آتی ہے۔ بظاہر منظر بدل جاتا ہے لیکن فکر کا سلسلہ وہی رہتا ہے۔ پہلے ہمالہ کی بلندی استقامت اور عظمت بیان ہوئی پھر اس کے دامن کی خاموش فطرت اور اس میں پوشیدہ زبان کا ذکر آیا اور اب وہی خاموش فطرت ایک ندی کی صورت میں حرکت نغمہ جدوجہد اور پیغام بن کر سامنے آتی ہے۔ اقبال کے ہاں پانی کا بہنا محض طبعی حرکت نہیں یہ زندگی کے اس قانون کی علامت ہے جس کے تحت ہر زندہ وجود کو اپنی منزل کی طرف مسلسل بڑھتے رہنا چاہیے۔ اقبال فرماتے ہیں: آتی ہے ندی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی ندی کا آغاز پہاڑ کی بلندی سے ہوتا ہے۔ وہ فرازِ کوہ سے اترتی ہے، لیکن اس کا مقصد صرف نیچے آنا نہیں بلکہ سفر کرنا راستے بنانا اور زندگی کو آگے پہنچانا ہے۔ یہی اقبال کے تصورِ زندگی کا ایک بنیادی اصول ہے۔ بلندی اگر حرکت پیدا نہ کرے تو وہ محض بلندی رہ جاتی ہے لیکن جب بلندی س...

جیورگی سے اقلیتوں کا ضلعی عہدے کے لئے پُر زور مطالبہ سینئر مسلم قائد عبدالرحمن پٹیل کا ضلع کانگریس صدر کے لیے پرچۂ نامزدگی داخل۔

Image
جیورگی 10 / اگسٹ. الحاج محمد غوث انعامدار کے بموجب تعلقہ جیورگی کے سینئر مسلم قائد عبدالرحمن پٹیل نے ضلع کانگریس صدر کے عہدے کے لیے پرچۂ نامزدگی داخل کرتے ہوئے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے ، اس طرح جیورگی کے مسلمانوں کو ضلعی سطح پر نمائندگی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔  انہوں نے بتایا کہ اس طرح جیورگی کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور قابلِ ذکر پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پہلی مرتبہ ایک مسلم کانگریس قائد کو ضلع کانگریس صدر کے عہدے کے لیے باضابطہ طور پر پرچۂ نامزدگی داخل کرتے ہوئے تعلقہ جیورگی سے دعویداری پیش کی گئی ہے۔ جیورگی کے ممتاز ہردلعزیز کانگریس قائد جناب عبدالرحمن پٹیل کی نامزدگی کے ذریعے ایک نئی سیاسی پہل کا آغاز ہوا ہے جسے مقامی سطح پر ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ جناب عبدالرحمن پٹیل کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جیورگی اور بالخصوص یہاں کی مسلم برادری نے ہمیشہ کانگریس پارٹی کا مضبوطی کے ساتھ ، ساتھ دیا ہے اور پارٹی کے مشکل حالات میں بھی مسلم کارکنان اور قائدین نے تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل محنت کی، تاہم ہنوز ضلعی سطح پر مسلمانوں کو مناسب سیاسی نمائ...

ڈاکٹر صدیقی عرفان سعداللہ سے ملاقات ان کا استقبال.

Image
آج بتاریخ 9/اگسٹ 2026بروز اتوار شہر بیڑ میں ہمارے ساتھی و دوست جناب ڈاکٹر صدیقی عرفان سعداللہ (پرنسپل ملیہ ہائی اسکول و جونیر کالج بیڑ) سے ملاقات کرکے ان کا استقبال و مبارکبادی دی گئی ۔۔ اس موقع پر شہر بیڑ کے مشہور و معروف شخصیت جناب قاضی سمیر غلام نبی صاحب (چیرمین ۔وقف بورڈ مہاراشٹر ) سے ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا۔اس وفد میں علم ویلفیر فانڈینشن پونہ کے روح رواں جناب توصیف پرویز صاحب( شعبہ اردو ایس سی ای آر ٹی پونہ ) جناب عبدالملک نظامی صاحب(ناندیڈ) جناب شیخ فیاض الدین صاحب (موظف کیندر پرمکھ جالنہ)جناب ڈاکٹر محمد عبدالرافع(انچارجپرنسپل وسنت راو کالے کالج ناندیڈ) جناب قاضی کمال الدین صاحب ( جالنہ ) جناب ڈاکٹر عرفان سعداللہ صدیقی صاحب و دیگر احباب کے۔ ساتھ جناب قاضی سمیر صاحب کی گلپوشی کر کے مبارکبادی دی اور چند مسائل پر گفتگو کی۔۔۔ موصوف نے تمام احباب کا پر جوش انداز میں استقبال کیا اور ضیافت سے نوازہ ۔۔۔۔ اس کے بعد وفد شہر بیڑ کی دوسری معروف شخصیت جناب ڈاکٹر حسین اختر صاحب (چیرمینمہاراشٹراردوساہتیہ اکیڈمی) کے گھر جاکر موصوف سے ملاقات کرکے گلدستہ دے ملاقات کی گئی...

خانقاہِ سنجریہ افتخاریہ کے زیراہتمام ماہانہ محفل قرآن خوانی وذکراللہ کا انعقاد۔

Image
حیدرآباد۔9/اگست(راست) باسط افتخاری کے بموجب اتوار بتاریخ 9/اگست، 25 صفرالمظفربمقام سنجری اسٹیٹ خانقاہِ سنجریہ افتخاریہ روبرو جامع مسجد حضرت وطنؒ چشتی چمن منگل ہاٹ حیدرآباد میں زیرنگرانی گدی نشین مولانا پیرزادہ سید کاشف اللہ حسینی بختیار عربی خلیفہ سوم علامہ افتخار المشائخ حضرت پیرافتخاری سید قادر محی الدین حسین سنجریؒ بعد نماز عصرحلقہ ذکراللہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ بعد نماز مغرب مولانا اکبرالدین ذاکر افتخارخلیفہ ونواسہ حضرت پیر چشتی سید ولی اللہ حسینی کی صدارت میں محفل قرآن خوانی منعقد کی گئی۔ بعدازاں گدی نشین کاشف اللہ حسینی کی سرپرستی میں محفل قصیدہ بردِ شریف کا انعقاد عمل میں آیا۔ بعدازاں بہ مزار جدامجد مولائی مرشدی کنزالعرفان حضرت سید محمد افتخار علی شاہ وطنؒ میں پیشکشی چادر گل و عطر بیزی عمل میں آئی۔ بعدازخانقاہِ سنجریہ افتخاریہ میں گدی نشین سید کاشف اللہ حسینی صاحب نے تمام عالم اسلام و بالخصوص مرحومین خانوادئے حضرت وطن ومریدین ومعتقدین اور حاضرین محفل کے لئے دعائے مغفرت ودعائے خیر فرمائی۔ محفل کا اختتام تناول تبرک پرہوا۔

بیدر کے میر - مظہر محی الدین۔

Image
بیدر کے میر -  مظہر محی الدین۔ سفید چمکدار چہرہ، گھنی بارعب بلیک اینڈ وائٹ داڑھی، بھاری بھرکم جسم اور چال ڈھال سے بزرگی نمایاں، یہ ہیں جناب یوسف عبدالرحیم المعروف میر بیدری، جنہیں دیکھنے والا پہلی ہی نظر میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ جب انہیں خاموش بیٹھے کوئی دیکھے تو یہ کہہ اٹھے کہ یہ پتلون اور شرٹ میں ملبوس کوئی صوفی بزرگ تشریف فرما ہیں، لیکن یہ سکوت تو بس ایک سراب ہو تا ہے جسے دیکھ کر آدمی تھوڑا سا کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے۔ ان سے گفتگو کرناکسی اہم مہم جوئی سے کم نہیں— وہ ہمیشہ اپنی بات کا آغاز بہت ہی دھیمی اور مدہم آواز میں کرتے ہیں، بالکل ایسے جیسے کوئی لوری سنا رہا ہو لیکن جیسے جیسے وہ اپنی بات کی گہرائی میں اترتے ہیں دیکھتے ہی دیکھتے ان کا لہجہ بدل جاتا ہے اور آواز دھیمی حد سے نکل کر بلند و بالا ہو جاتی ہے اور چہرہ ان الفاظ کی عکاسی کر رہا ہوتا ہے جو وہ بیان کر رہے ہیں۔ سامع نے اپنی رائے دینے کے لیے ادھر منہ کھولا نہیں کہ ادھر ان کے الفاظ کا سیلاب سامع کی آواز کو بہا لے جائے گا. لفظوں پر اجارہ داری اور موڈ کے رنگ میر بیدری کا خاصہ ہیں۔ اس پر مستزاد ان کا بدلتا...

تبدیلی مذہب مخالف قانون ، یونیفارم سول کوڈ اور ایف سی آر اے بل کے مضمرات اور لائحہ پر غور کرنے کیلئے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کی میٹنگ۔

Image
جالنہ ( سید شاکر ): فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس نے تین اہم ایشو فریڈم آف ریلیجن قانون ، یو سی سی اور ایف سی آر اے کے مسئلے پر ایک اہم میٹنگ کا انعقاد ممبئی میں کیا گیا۔ میٹنگ میں فیڈریشن کے اکثر ارکان اور کچھ معززین شہر نے شرکت کی ۔ افتتاحی خطاب میں عبد المجیب شیخ نےالقرآن کی آیت اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ۔  بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالیں، سے شروع کی۔ انہوں نے کہا موجودہ حالات کے پیشِ نظر 8 ؍جون کو اسلام جیمخانہ ممبئی میں فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کی ایک مشاورتی نشست منعقد ہوئی تھی۔ اس میں یہ طے پایا تھا کہ ایس آئی آر ،یونیفارم سول کوڈ ، اینٹی کنورژن قانون، بلڈوزر کلچر ،وقف آراضی سے متعلق امور پر منظم منصوبہ بندی کی جائے، تاکہ ایک طرف ملت کی صحیح رہنمائی کی جا سکے اور حکومت کے سامنے مؤثر نمائندگی بھی ہو۔اسی سلسلے میں متعدد ذمہ داران کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ 22 ؍افراد پر مشتمل ایک کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔کمیٹی کا قیام عمل میں آچکا ہے ، کمیٹی کی ا...

اقراء شاہین میں ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کا انعقاد۔

Image
جلگاؤں: اقراء تعلیمی سوسائٹی کے زیرِ انتظام اقراء شاہین اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج میں ماحول کے تحفظ اور سبزہ فروغ دینے کے مقصد سے ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کے تحت شجرکاری پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس مہم کے ذریعے طلبہ میں ماحول کے تئیں بیداری اور اپنی ماں کے تئیں احترام کے جذبے کو فروغ دیا گیا۔ اس موقع پر کالج کے پرنسپل ریاض شاہ سر، سپروائزر ذاکر سر، مسعود سر، فرحان سر، تنظیم میڈم، سعدیہ میڈم، فراست میڈم اور ایچ جے تھیم کالج کے فزیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر چاند خان خصوصی طور پر موجود رہے۔ پروگرام میں طلبہ نے بھی جوش و خروش کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے شجرکاری اور پودوں کی دیکھ بھال میں اپنا تعاون پیش کیا۔ طلبہ نے ماحول کے تحفظ کا عہد کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور ان کی باقاعدگی سے نگہداشت کرنے کا پیغام دیا۔ پروگرام کا مقصد طلبہ میں ’’درخت لگائیں، ماحول بچائیں‘‘ کے جذبے کو فروغ دینا اور فطرت کے تئیں اپنی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا تھا۔

رئیس ہائی اسکول میں لغت سے الفاظ کے معنی تلاش کرنے کی عملی سرگرمی کا انعقاد۔

Image
بھیونڈی : (عبدالعزیز انصاری) رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بھیونڈی میں طلبہ کی زبان دانی، ذخیرۂ الفاظ اور خود سیکھنے کی صلاحیت کو فروغ دینے کے مقصد سے ششم جماعت کے طلبہ کے لیے لغت دیکھنے اور معنی تلاش کرنے کی ایک منفرد اور مفید تعلیمی سرگرمی کا انعقاد اسکول لائبریری میں کیا گیا۔ سرگرمی ششم جماعت کی اردو زبان دانی کی درسی کتاب ”بال بھارتی“ کے سبق ”آئیے لغت دیکھیں“ پر مبنی تھی، جس میں طلبہ نے نہایت جوش و خروش اور دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔ اس موقع پر اردو کی معلم فیض فقیہ نے طلبہ کو لغت کے درست اور مؤثر استعمال کا عملی طریقہ سمجھایا۔ طلبہ نے حروفِ تہجی کی ترتیب کو مدِنظر رکھتے ہوئے مختلف الفاظ لغت میں تلاش کیے، ان کے معنی اور درست تلفظ معلوم کیے اور حاصل شدہ معلومات کو اپنی تعلیمی سرگرمی میں استعمال کیا۔ طلبہ نے خود الفاظ تلاش کرنے اور ان کے معنی دریافت کرنے میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اس عملی سرگرمی کے ذریعے طلبہ کو یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ لغت محض الفاظ کے معنی معلوم کرنے کی کتاب نہیں، بلکہ زبان سیکھنے، درست تلفظ سمجھنے اور اپنے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کرنے کا ایک مؤث...

بھائی کی حرکتِ قلب کیا تھمی، بہن کی بھی سانسیں اکھڑ گئیں - "سماجی کارکن سلیم انعامدار کو چند لمحوں کے وقفے میں دوہرا صدمہ؛ بھائی کی وفات کی خبر سنتے ہی اہلیہ بھی خالقِ حقیقی سے جا ملیں"

Image
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): "کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ" بے شک ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے، مگر بعض اموات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک فرد کے انتقال کا واقعہ نہیں رہتیں بلکہ اپنے پیچھے ایسا دلدوز سانحہ چھوڑ جاتی ہیں جسے الفاظ میں بیان کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک المناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ شہرِ جلگاؤں کے مسلم کالونی اور نشیمن کالونی، مہرون میں پیش آیا، جہاں معروف سماجی و سیاسی شخصیت اور "خادمِ مہرون" کے نام سے اپنی شناخت رکھنے والے سلیم انعامدار کو چند ہی لمحوں کے وقفے سے دوہرا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق سلیم انعامدار کے برادرِ نسبتی عمر شیخ، ساکن مسلم کالونی کا حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال ہوگیا۔ گھر میں ابھی بھائی کی ناگہانی موت کی خبر رشتہ داروں اور احباب تک پہنچانے کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ یہ اندوہناک خبر سن کر سلیم انعامدار کی اہلیہ شہناز بانو پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ بھی جانبر نہ ہوسکیں اور اپنے برادرِ عزیز کی جدائی کا صدمہ برداشت کرتے ہوئے داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئیں۔ یوں ایک ہی خ...

لفظ "امتحان" - از قلم: تحسینہ ماوینکٹی۔ (مہمان لیکچرر شعبۂ اردو گورنمنٹ کالج برائے خواتین چنتامنی چکبلاپور ضلع کرناٹک۔)

Image
لفظ "امتحان" -  از قلم: تحسینہ ماوینکٹی۔  (مہمان لیکچرر شعبۂ اردو گورنمنٹ کالج برائے خواتین چنتامنی چکبلاپور ضلع کرناٹک۔) انسانی زندگی اگر ایک سفر ہے تو اس سفر کا دوسرا نام امتحان ہے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر آخری سانس تک ہر موڑ پر اسے کسی نہ کسی آزمائش، تجربے اور امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے لفظ "امتحان" محض تعلیمی نظام تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری زندگی کی حقیقت، انسان کی شخصیت کی تعمیر اور اس کے کردار کی کسوٹی کا نام ہے۔ لغوی اعتبار سے "امتحان" عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں: آزمانا، پرکھنا، جانچنا اور کسی چیز کی حقیقت معلوم کرنا۔ اردو زبان میں یہ لفظ نہایت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ امتحان صرف سوال و جواب کا پرچہ نہیں بلکہ انسان کے صبر، برداشت، دیانت، محبت، وفاداری، علم، عقل اور کردار کو جانچنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ہر طالب علم کے ذہن میں لفظ "امتحان" آتے ہی کتابیں، سوالات، جوابی پرچے، نتائج اور مستقبل کی فکر گردش کرنے لگتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تعلیمی امتحان زندگی کے بڑے امتحانات کی صرف ایک جھلک ہے۔ اصل امتحان تو اس وقت ہوتا ہے جب ان...

ہمارا بھارت (حب الوطنی کی نظم..... ادب اطفال) بسلسلہ جشن یوم آزادی۔ ازقلم .... ستارفیضی کڈپہ آندھرا پردیش

Image
ہمارا بھارت (حب الوطنی کی نظم..... ادب اطفال)  بسلسلہ جشن یوم آزادی۔  ازقلم .... ستارفیضی کڈپہ آندھرا پردیش 🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳 یہ دیش ہمارا بھارت ہے ہاں آب میں اس کے امرت ہے تہذیب ہماری پیاری ہے تاریخ ہماری نیاری ہے اجمیر بھی کاشی اس کی جاں ہے لال قلعہ بھی اس کی شاں سب پھول ملے تو گلشن ہے یہ پیار و وفا کا آنگن ہے اک تاج محل کی عظمت ہے ہاں علم و ادب کی دولت ہے ہم دور کریں گے نفرت کو پھیلا تے رہیں گے الفت کو دنیا میں ہماری عزت ہے محنت ہے لگن ہے شہرت ہے مضبوط ارادے رکھنا ہے اغیار سے ٹکر لینا ہے مانند ہمیں گل کھلنا ہے منزل کو نظر میں رکھنا ہے گنگا بھی وہ جمنا دریا ہیں اقبال بھی تلسی شعراء ہیں ہم پاس ہمالہ رکھتے ہیں غیروں کے یہاں کب جھکتے ہیں فیضی وہ دیا کو روشن کر پھر خود میں خدا کا درشن کر

محمد علی جوہر فاؤنڈیشن اور آل انڈیا میمن جماعت فیڈریشن کا نیٹ / جے۔ای۔ میں کامیاب طلبہ کے لیے ستائشی پروگرام۔

Image
بھساول (صلاح الدین ادیب) ۷ اگست 2026 کو ایک شاندار پروگرام میں بھساول شہر اور اطراف کے نیٹ اور جے ای ای جیسے مقابلہ جاتی امتحان میں کامیاب طلبہ و طالبات کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف تعلیمی شخصیات کو بحیثیت مقرر و مہمان مدو کیا گیا۔ مفتی وصی صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اسلام تعلیم سے نہیں روکتا۔ ڈاکٹر رمضان صاحب نے موجودہ حالات میں تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ حاجی انصار صاحب نے تعلیم کے ذریعے سماج کو تبدیل کرنے کی اپیل کی۔پروگرام کے صدر عبدالقادر میمن صاحب نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ تعلیم میں بہترین کارکردگی کرے تو کوئی بھی انہیں کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتا۔ پروگرام کی نظامت نور الہدی قریشی صاحب نے کی اور ڈاکٹر طارق عزیز صاحب نے پروگرام کو کامیاب بنانے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔

کالم - ٹوٹتے رشتے - از قلم : رہبر تماپوری۔

Image
کالم -  ٹوٹتے رشتے -  از قلم : رہبر تماپوری۔ رابطہ: 8431012141 رشتے انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ دولت اور جائیداد سہولت تو دے سکتی ہیں، مگر سکون کا احساس مخلص رشتوں ہی سے ملتا ہے۔ افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں بہت سے رشتے بظاہر قائم ہیں، لیکن ان کے اندر محبت، احساس، خلوص اور اعتماد کم ہو رہا ہے۔ کہیں انا دیوار بن رہی ہے، کہیں مفاد، کہیں جائیداد اور کہیں بدلتی ہوئی طرزِ زندگی اپنوں کو ایک دوسرے سے دور کر رہی ہے۔ کسی خاندان میں جب ایک بھائی یا باپ دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں جاتا، بلکہ ایک خاندان مشکلات میں گھِر جاتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والی بیوہ اور بچے اپنے رشتہ داروں سے سہارا، محبت اور تحفظ کی امید رکھتے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر رشتہ دار مرحوم کے اہلِ خانہ کے دکھ کو سمجھیں، ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کے جائز حقوق کی حفاظت کریں تو یہی رشتہ داری کی اصل خوبصورتی ہے۔ لیکن بعض اوقات جائیداد اور وراثت کا مسئلہ سامنے آتے ہی وہی رشتہ دار ایک دوسرے کے مدِ مقابل کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کسی کاغذ، دستخط، وعدے یا دعوے کو بنیاد بنا کر جائیداد پر اپنا حق جتایا جات...

تمل ناڈو کے عوام سے پُرخلوص اپیل۔

Image
 تمل ناڈو کے تمام معزز عوام سے مؤدبانہ اپیل کی جاتی ہے کہ مردم شماری (Population Census) کے سلسلے میں گھر گھر آنے والے فیلڈ ورکرز اور شمار کنندگان کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ مردم شماری کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات ملک کی منصوبہ بندی، عوامی فلاح و بہبود اور مستقبل کی ترقی کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ لہٰذا تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ مردم شماری کے عملے کو مطلوبہ معلومات فراہم کرتے ہوئے اس اہم قومی ذمہ داری میں اپنا بھرپور تعاون پیش کریں۔ سخت دھوپ ہو یا بارش کا موسم، فیلڈ ورکرز گھر گھر پہنچ کر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ خوش اخلاقی، محبت اور احترام سے پیش آنا ہم سب کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ مردم شماری میں درست معلومات کی فراہمی صرف ہماری قومی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ اپنے حقوق کے تحفظ اور مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی میں حصہ لینے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔ تمام اہلِ میل وشارم سے اپیل ہے کہ مردم شماری کے عملے کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے اس قومی اہمیت کے حامل کام کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔  تمری محمد رضوان اللہ ہیڈ ماسٹر,سپر وائزر ...

نندوربار میں مدرسہ عمر بن خطابؓ کا سالانہ جلسہ جوش و خروش کے ساتھ و کامیابی سے ہمکنار ہوا - طلباء نے دینی امور کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا۔

Image
جلگاؤں (سعید پٹیل ) نندوربا شہر کے ہمارے عزیز ساتھی صحافی فیروز خان کی تفصیلات کے مطابق یہاں کے مدرسہ عمر بن خطابؓ کا سالانہ جلسہ 6 اگست بروز جمعرات نندربار شہر کے علاقہ پٹیل واڑی میں واقع مسجد عمرؓ میں نماز مغرب کے بعد پرجوش اور مذہبی و پرنور ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔ طلباء کے جوش و خروش، والدین کی موجودگی اور معززین کی رہنمائی نے پروگرام کو خاص رونق بخشی۔ پروگرام کی صدارت جناب کھاٹک یونس ابراہیم نے کی۔ سالانہ جلسہ و اجتماعی تقریب کے موقع پر مدرسہ کے طلباء کی جانب سے سال بھر میں دینی تعلیم میں کی گئی پیش رفت کو سراہا گیا۔ خصوصی طور پر قرآن شریف کی تلاوت ، ناظرہ مکمل کرنے والے طلباء کو خصوصی طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔ مدرسہ کی جانب سے ان طلباء کو قرآن شریف کا نسخہ پیش کیا گیا اور ان کی محنت کو سراہا گیا۔ علاوہ ازیں معززین نے ان کے مزید تعلیمی اور مذہبی سفر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر مدرسہ کی جانب سے سال بھر منعقد ہونے والے مختلف امتحانات میں اول ، دوم اور سوم مقام حاصل کرنے والے ہونہار طلباء کو بھی خصوصی طور پر مبارکباد دی گ...

بسواکلیان میں مرکزی جلوس و جلسۂ عید میلاد النبی ﷺ کی بنیاد حضرت افضل پیرؒ کا عظیم کارنامہ - عشقِ رسول ﷺ کے فروغ اور نسلِ نو کی دینی تربیت کے لیے حضرت افضل پیرؒ کی تاریخی خدمات ناقابلِ فراموش۔

Image
بسو کلیان (راست) غفران مآب حضرت خواجہ ابو الحسن جا گیر دار قبلہ رحمۃ اللہ علیہ المعروف بہ افضل پیر اپنے وقت کے ایک جید عالم بھی تھے صوفی بھی تھے، شاعر بھی تھے، مرشد و مربی ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین واعظ و مفسر قرآن اور عاشق رسول ﷺ تھے ۔ جس کو سرزمین بسواکلیان میں حضرت افضل پیر " کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ماضی قریب میں جو بارگاہ حضرت سید نا تاج الدین شیر سوار رحمہ اللہ علیہ بسواکلیان کے سجادہ نشین گذرے ہیں اور جنہوں نے ترکیہ وتصفیہ کے ذریعہ اس مسند رشد و ہدایت کا حق ادا کر دیا۔ آپ کا پورا نام خواجہ ابوالحسن جاگیر دار تھا اور افضل تخلص فرماتے تھے اور آپ کے ارادت مند آپ کو افضل پیر سے ملقب کرتے ہوئے اسی نام سے یاد کرتے ہیں۔ آپ کی پیدائش سن 1929ء کلیانی شریف ضلع بیدر میں ہوئی ۔ آپ کے والد گرامی کا نام حضرت شیخ محمد جا گیر دار صاحب قبلہ نوراللہ مرقدہ تھا۔ حضرت افضل پیر کی تعلیم سے فراغت کے بعد سن 1945ء میں آپ کے والد محترم شیخ المشائخ حضرت محمد صاحب جا گیر دارنور اللہ مرقدہ نے آپ کو اپنا جانشین مقررفرمایا والد محترم کے حین حیات آپ ان کی صحبت سے فیض پاتے رہے اور ان کے وصال کے ...

ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر کے اعزاز میں 'ذکرِ ذاکر ' کامیابی سے ہمکنار

Image
ممبئی 8 اگست : اہل قلم ،ممبئی اور نیکسور انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام معروف شاعر و ادیب اور کئی زبانوں کے ماہر ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر کے اعزاز میں ایک شعری و نثری نشست بہ عنوان 'ذکرِ ذاکر' کا انعقاد کرلا میں واقع نیکسور کے آفس میں انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ کیا گیا ـ اس اعزازی جلسے کی صدارت معروف شاعر حامد اقبال صدیقی نے کی ـ مہمانان خصوصی کے طور پر سعید صدیقی (ڈائریکٹر نیکس کور انسٹیٹیوٹ ) سینیر شاعر اور ترجمہ نگار قاسم ندیم، معروف شاعر و ناظم مشاعرہ عامر مسعود اور مالیگاؤں سے تشریف لائے افسانہ نگار عظمت اقبال نے شرکت کی ـ ڈاکٹر قمر صدیقی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے ممبئی کے عصری شعری منظر نامے پر روشنی ڈالی نیز ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر کی شخصیت کا ہمہ گیر جائزہ پیش کیا ـ اس موقع پر اراکینِ اہل قلم، ممبئی اور نیکس کور کی جانب سے ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر کی خدمت میں خصوصی اعزازیہ بصورت شال، سرٹیفکیٹ اور گلدستہ پیش کیا گیا ـ بعد ازاں عبید اعظم اعظمی، قمر صدیقی، نوفل آریہ، عامر مسعود، محسن ساحل ، مقصود آفاق اور علیم الدین علیم نے اپنا شعری کلام اور عظمت اقبال، وسیم عقیل شاہ اور مح...

یوم آزادی کے پیش نظر تقریری مقابلہ۔

Image
ممبئی : شاہ جی نگر میونسپل اردو اسکول نمبر ایک میں یوم آزادی کے پیش نظر اور آنندائی شنیوار کے تحت اسکولی سطح کا ایک تقریری مقابلہ منعقد کیا گیا ـ مقابلہ دو گروپوں میں ترتیب پایا ، گروپ A پنجم، ششم اور گروپ B میں ہفتم ،ہشتم کے طلبہ نے آزادی کے موضوع مختلف تقاریر پیش کیں ـ گروپ A سے اول مقام عفیفہ اشرف نے، دوم آیت افضل نے اور سوم مقام ردا اور ماہرہ نے مشترکہ طور پر حاصل کیا ـ اسی طرح گروپ B سے اول نکہت اور عبداللہ شاہ نے مشترکہ طور پر اور دوم مقام ہاجرہ شوکت نے پایا ـ جبکہ سوم مقام ایان شاہ نے حاصل کیا ـ ان کامیاب بچوں کو 15 اگست یوم آزادی کے موقع پر انعامات تقسیم کیے جائیں گے ـ جج کے فرائض نازیہ شاہین محمد حنیف شاہ (شاہ جی اردو سیکنڈری ہائی اسکول ) نے انجام دیے ـ اس موقع پر نازیہ مس نے بچوں کو مبارک باد پیش کی اور تقریر کے فن پر تفصیل سے روشنی ڈالی ـ اس جلسے کی صدر شیخ نجمہ اعجاز (انچارج ہیڈ مسٹریس ) نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے بچوں کا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ مقابلوں میں شریک ہونا آدھی کامیابی ہے ـ جلسے میں یاسمین مس ، ریشما مس، سویتا میم، سکندر شاہ، مدثر حسین، ارشد بابر نے ا...

م ناگ پر پی ایچ ڈی مکمل

Image
بریلی، اتر پردیش 6 اگست : م ناگ مرحوم اردو کے صاحب اسلوب افسانہ نگار تھے ـ انھوں نے اپنے منفرد اسلوب و انداز میں کئی اہم موضوعات پر افسانے قلم بند کیے ـ ڈاکو طے کریں گے ، غلط پتا، چوتھی سیٹ کا مسافر ان کی کہانیوں کے مجموعے ہیں ـ ترجمہ نگاری میں بھی ناگ کا قلم اپنا جادو بکھیرتا رہا، وہیں اسکرپٹ رائٹنگ میں بھی انھوں نے خود کو منوایا ـ دوسری طرف اردو صحافت میں م ناگ کی شخصیت ایک بیباک صحافی کی حیثیت سے غیر معمولی ہے ـ انھوں نے کئی اردو ہندی اخباروں،رسالوں کے لیے اپنی قلمی خدمات انجام دی ہیں ـ اردو حلقے یہ خبر خوشی کا باعث ہوگی کہ م ناگ کی ان ادبی و صحافتی خدمات کو مجموعی طور پر تحقیق کا موضوع بنایا گیا ہے ـ اگرچہ دو تین ایم فیل اور دیگر اکیڈمک نوعیت کے مقالے لکھے بھی گئے، تاہم اس دفعہ مہاتما جیوتیبا پھولے روہیل کھنڈیونیورسٹی، بریلی (اتر پردیش ) میں م ناگ کے فکر و فن پر پی ایچ ڈی کی صورت میں خصوصی کام ہوا ہے ـ اس مقالے "م ناگ : حیات و ادبی خدمات" کو بہ صلاحیت نوجوان قلمکار آصف خان نے پروفیسر شیویہ ترپاٹھی کی نگرانی میں بڑی محنت سے لکھا ہے ـ آصف خان کا تعلق بریلی ہی سے...

عازمینِ حج کو مبارکباد، ایڈوانس حج رقم جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کا مطالبہ۔

Image
پریس نوٹ عازمینِ حج کو مبارکباد، ایڈوانس حج رقم جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کا مطالبہ۔  ظہیر آباد : 07 اگسٹ ( نظامی) معتمد نشر و اشاعت حج سوسائٹی ضلع سنگا ریڈی الحاج محمد تاج الدین تاج سابقہ رکن حج کمیٹی متحدہ آندھرا پردیش الحاج محمد یوسف نےحج 2027کے قرعہ اندازی میں منتخب ہونے والے تمام عازمینِ حج کو دلی مباکباد پیش کی اور ان کی سعادتِ حج کی قبولیت، صحت و سلامتی اور آسان سفر کے لیے دعا کی۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع سنگاریڈی سے مجموعی طور پر 285 عازمینِ حج کا انتخاب ہوا ہے، جن میں تقریباً 80 عازمین کا تعلق ظہیرآباد سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورے ضلع کے لیے خوشی اور اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے ایڈوانس حج رقم جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 اگست 2026 مقرر کی گئی ہے، لیکن اس سے قبل مسلسل تین دن بینک تعطیلات ہونے کی وجہ سے متعدد عازمین کو رقم جمع کرانے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ اس لیے حج کمیٹی آف انڈیا اور وزارتِ اقلیتی امور، حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ عازمین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے آخری تاریخ میں توسیع کی جائے تاکہ کوئی بھی...

ہلی کھیڑ میں 10 کروڑ نشہ مکتی عہد مہم کا آغاز۔

Image
بیدر، 8 اگست (نامہ نگار) ہمناآباد تعلقہ کے ہلی کھیڑ (بی) قصبہ میں راج یوگ مرکز کے سفلیہ بھون میں پرجاپتا برہما کماری ایشوریہ یونیورسٹی کے راج یوگ شکشا و انوسندھان پرتشتھان کے میڈیکل شعبہ کی جانب سے ’’10 کروڑ نشہ مکتی پرتیجنا مہا ابھیان‘‘ کا آغاز عمل میں آیا۔ اس مہم کا مقصد نشہ سے پاک بھارت کی تعمیر کے عزم کو مضبوط بنانا ہے۔ پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے سرسوتی ہائی اسکول کے صدر دیوراج ہڈمانی نے کہا کہ نشہ صرف انسان کی صحت کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ خاندان کے سکون، معاشی حالات اور سماجی عزت پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان نسل کو نشہ آور اشیاء کی لت سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ راج یوگ مرکز کی منتظم بی۔کے۔ سمن بہن جی نے بتایا کہ دادی پرکاش منی جی کی مقدس یاد میں جاری یہ ملک گیر مہم 6 اگست سے 20 اگست تک منعقد کی جارہی ہے۔ مہم کے تحت ملک بھر میں 10 کروڑ افراد سے نشہ سے پاک زندگی اختیار کرنے کا عہد لینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے ذریعے شراب نوشی، سگریٹ نوشی، تمباکو، گٹکا ...

جہنمی کون - ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔

Image
جہنمی کون ۔ ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔ اکثر اوقات ہمارے ذہنوں میں یہ غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کہ فلاں شخص جہنم میں جائے گا اور فلاں سیدھا جنت میں، یا یہ کہ کچھ لوگ یہاں وہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد جنت میں بھیج دیے جائیں گے۔ قرآن نے اس بات کو انتہائی سادہ انداز میں بیان کیا ہے جسے ہر سنی اور غیر سنی شخص ذرا غور و فکر سے سمجھ سکتا ہے؛ وہ یہ کہ جہنم میں بڑی تعداد میں وہ لوگ جائیں گے جو تمام تر صلاحیتوں کے باوجود حق کی تلاش نہیں کرتے۔ اسے یوں بیان کیا گیا ہے کہ ان کے پاس ذہن، دل اور دماغ تو موجود ہیں مگر وہ انہیں استعمال نہیں کرتے؛ وہ چیزوں کو دیکھتے ہیں مگر توجہ نہیں دیتے، اور باتیں سنتے ہیں مگر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ درحقیقت، وہ ان کیڑے مکوڑوں کے مانند ہیں یا بے مقصد زندگی گزارنے والوں کی مانند ہیں جو دنیا میں آئے، کھایا پیا اور چلے گئے۔ بلکہ وہ ان سے بھی بدتر ہیں کیونکہ وہ اپنے ذہن اور فہم و ادراک کو بروئے کار نہیں لاتے۔ چنانچہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جہنم میں جانے کا امکان اس وقت یقینی ہو جاتا ہے جب ہم حق کی تلاش کے لیے اپنے ذہن اور صلاحیتوں کو استعما...

سلام کرنے کے آداب اور فائدے - از قلم : ظفر ھاشمی ندوی۔ (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)

Image
سلام کرنے کے آداب اور فائدے از قلم : ظفر ھاشمی ندوی۔   (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ) مسلمانو ں کو چھوڑ کر کسی بھی مذھب میں اس کے ماننے والوں کو ان کے مذھب نے ایک دوسرے سے ملنے کا طریقہ نہیں سکھایا ہے نہ ہی مخصوص الفاظ اس غرض کے لئے بتائے ہیں- یہ صرف اسلام ہے جس نے زندگی کے ہر عمل میں مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے- لیکن ہماری قوم ( گھر کی مرغی دال برابر ) کئے جا رہی ہے- ھندؤوں میں نمستے ، جئے شری رام اور اس طرح کے الفاظ ن کے بھگوان نے نہیں سکھائے بلکہ پنڈتوں نے اپنے طور پر ایجاد کیا- یہی حال یھودیوں عیسائیوں سکھوں اور دوسری قوموں کا ہے- آئیے اپنے اسلام کی اس عظیم الشان تعلیم کو سمجھنے اور اس پر پوری طرح عمل کی کوشش کرتے ہیں-  سلام کرنے کا ذکر ڈائریکٹ قرآن مجید میں آیا ہے - اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس کا جواب ان الفاظ سے بہتر الفاظ میں دو یا وہی الفاظ دہراؤ - ایک صحابی نے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے گزرتے ہوئے آپ کو سلام کیا اور کہا السلام علیکم - آپ نے فرمایا دس نیکیاں ملیں - ایک اور صحابی گذر رہے تھے تو انھوں نے کہا السلام...

ایک رشتہ ختم ہوا، زندگی نہیں - از قلم : رہبر تماپوری۔

Image
 ایک رشتہ ختم ہوا، زندگی نہیں -  از قلم : رہبر تماپوری۔ رابطہ: 8431012141 زندگی ایک مسلسل بہاؤ کا نام ہے، جو کسی حادثے، جدائی یا رشتے کے اختتام پر نہیں رکتی۔ اس سفر میں انسان پر بسا اوقات ایسے کٹھن مراحل آتے ہیں جو بظاہر اس کی ہمت کا شیرازہ بکھیر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک خاتون کو پہلے نکاح میں دھوکا ملے اور وہ درد و کرب سے گزر کر خود کو سنبھالے، پھر دوبارہ نکاح کے بعد شوہر کی ناگہانی وفات کا صدمہ بھی جھیلنا پڑے تو اس کے لیے زندگی کا سفر انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ مگر رشتوں کا ختم ہونا یا اپنوں کا بچھڑ جانا کبھی زندگی کا اختتام نہیں ہوتا۔ غم کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، ہر گزرتی سانس یہ پیغام دیتی ہے کہ زندگی ابھی باقی ہے۔ رشتے کا ٹوٹنا ایک گہرا زخم ضرور ہے، لیکن جب تک حیات کا ربط قائم ہے، امید کے دروازے بھی کھلے رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں معاشرے کا فرض ہے کہ متاثرہ فرد کو طعنوں، سوالات اور قیاس آرائیوں کے بجائے حوصلہ، عزت اور ہمدردی دے۔ خاص طور پر عورت کو دوسری شادی کے فیصلے پر ملامت کرنے کے بجائے اسے باوقار نئی زندگی کا حق دیا جائے۔ دوسری شادی کمزوری نہیں، بلکہ زند...