Posts

نئی صبح۔۔ ازقلم مسرور تمنا، پونہ۔

Image
نئی صبح۔ مسرور تمنا، پونہ۔ آج صبح صبح موبائیل بجی میں نے چونک کر دیکھا..... نمبر تو نیا لگ رہا تھا اٹھا لوں یا نہیں کافی دیر رنگ ہوتی رہی  پھر واٹ سپ پر میری کتاب یہ بہار تم سے ہے عکس دیکھا تو کال ریسو کر لیا مرھا تھی کہنے لگی باجی آج ابا کی الماری  صاف کر رہی تھی آپکی کتاب ملی آپ نے اپنے اسکول کے کلاس ٹیچرز کو یاد رکھا اپنی کتاب انکے نام انتساب باجی آپکی کتاب پوری کے پوری ختم کر ڈالی اس طرح نثار ھوتی عورت میں نے واصف کو سنایا تو وہ بولے چلو کوی تو ہے کے قلم اٹھایے اس کتاب  نیے تو سمجھو 2015 کی یاد تازہ کردی.. ....میں نے سوچا اس کتاب پر کھل کر اپنی بات لکھوں.. .. مگر آپ نے اپنے اسکول کے ماسٹرز ہیڈ مس...اور دیگر ٹیچر کے نام اپنا مجموعہ یہ بہار تم سے ہے کر کے اپنے خلوص عقیدت کا گلاب پیش کیا ہے باجی باتیں تو ہوتی رھینگی آپکے کلاس ٹیچر کی بیٹی مرھا.....

کوچنگ کلاسز — مافیا یا “تعلیم ”؟ ایک سنجیدہ سوال ہے - سید فاروق احمد قادری۔

Image
کوچنگ کلاسز — مافیا یا “تعلیم ”؟ ایک سنجیدہ سوال ہے -   سید فاروق احمد قادری۔ آج کے دور میں کوچنگ کلاسز صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کی امید بن چکی ہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، افسر، ٹیچر اور مختلف شعبوں میں کامیاب ہونے والے بے شمار نوجوان انہی کوچنگ اداروں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ایسے میں ہر کوچنگ کلاس کو “مافیا” کہنا کہاں تک درست ہے؟ یہ سوال سنجیدگی سے سوچنے کا ہے۔ اصل میں “مافیا” اُس طاقت یا گروہ کو کہا جاتا ہے جو غیر قانونی طریقے سے عوام کا استحصال کرے، دھونس، بلیک مارکیٹنگ، خوف یا ناجائز کمائی کے ذریعے نظام پر قبضہ جما لے۔ جیسے: • ریت مافیا • گھٹکہ مافیا • زمین مافیا • منشیات مافیا یہ وہ عناصر ہوتے ہیں جو قانون توڑتے ہیں اور معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی کوچنگ کلاس محنت سے بچوں کو تعلیم دے رہی ہو، اساتذہ کو سے روزگار دے رہی ہو، کرائے، بجلی، اسٹاف اور انتظامی اخراجات اٹھا رہی ہو، تو اسے سیدھا “مافیا” کہنا انصاف نہیں ہوگا۔ ہاں، اگر کچھ ادارے ضرورت سے زیادہ فیس لیں، تعلیم کو صرف کاروبار بنا دیں، غریب طلبہ کا استحصال کریں یا غیر ضروری ...

یہ اعلان کرتے ہیں۔۔ ازقلم : توفیق اسد تماپوری۔

Image
یہ اعلان کرتے ہیں۔  ازقلم   : توفیق اسد تماپوری۔  خیر امت کا  لقب پانے والو  تمہیں آخر کیا ہو گیا ہے  بھلائی خیر خواہی کا  درس دینے والو  کہاں ٹھہر گئے ہو  دیکھو  انسانیت بلک رہی ہے  سماج معاشرہ  ہانپتا کانپتا  پسینہ پونچھتا  بے راہ روی کے  چوراہے پر کھڑا  بلک رہا ہے  مارے ہیبت کے  آسماں تک رہا ہے  آسمان نے بھی  آنکھیں موند لی ہیں  ہر سمت گھور اندھیرا  گھور رہا ہے  اجالے کہاں ہیں  کسی کو نہیں پتا  ایسے میں  امید بھی نا امید  ہو جائے   ہر چوکھٹ بند نظر آئے  تو ذرا سوچو  کیا نہیں ہوگا  جو نہیں ہونا تھا  آج ہر سمت وہی ہو رہا ہے  چلو اٹھو  جو نہیں ہونا تھا   اب کبھی نہیں ہوگا  یہ اعلان کرتے ہیں  یہ اقرار کرتے ہیں  سر عام کرتے ہیں  آؤ کے  پھر سے  خیر امت کا پیغام  عام کرتے ہیں۔!!!!!     توفیق اسد تماپوری            ...

افسانچہ۔ - حور کا چکر - از قلم : محمود علی لیکچرر۔

Image
افسانچہ۔ - حور کا چکر -  از قلم : محمود علی لیکچرر۔ مولوی نعمت اللہ صاحب جنت کے موضوع پر تقریر فرما رہے تھے۔ سامنے بیٹھے نوجوانوں کی آنکھوں میں چمک تھی، اور بوڑھے بھی داڑھیوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے خاموشی سے سن رہے تھے۔ “جنت میں ایسی حوریں ہوں گی کہ اگر دنیا میں جھانک لیں تو سورج کی روشنی ماند پڑ جائے پچھلی صف میں بیٹھا بشیر یہ سنتے ہی سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ اس کی زندگی میں نہ اچھی نوکری تھی، نہ اچھا گھر، نہ شادی۔ دنیا نے اسے ہمیشہ دھکے دیے تھے، اس لیے اس نے سوچ لیا تھا کہ اصل مزہ تو مرنے کے بعد ہی ہے۔ اُسی دن سے وہ ہر نیکی کے پیچھے ایک عجیب حساب لگانے لگا۔ نماز پڑھی؟ “چلو ایک حور تو پکی!” روزہ رکھا؟ “دو مزید شامل! کبھی کسی فقیر کو دس روپے دیتا تو دل میں کہتا: “بھائی، جنت میں محل بڑا ہونا چاہیے۔” لوگ اللہ کی رضا کے لیے عبادت کرتے تھے، مگر بشیر کا سارا زور “حوروں کے پیکج” پر تھا۔ وقت گزرتا گیا۔ ایک دن محلے میں ایک بوڑھا درویش آیا۔ سادہ کپڑے، خاموش آنکھیں، اور لہجے میں عجیب سکون بشیر نے فوراً سوال داغ دیا: “بابا جی، سنا ہے جنت میں حوریں بہت خوبصورت ہوں گی؟” درویش نے مسکرا ...

مدیر گل بوٹے کو خراج عقیدت - لڑائی جھگڑے کی وجہ: گُل بوٹے۔۔ از قلم : _ارم صباء محمد ایوب نلامندو(سولاپور) _

Image
مدیر گل بوٹے کو خراج عقیدت -    لڑائی جھگڑے کی وجہ: گُل بوٹے۔ از قلم :  _ارم صباء محمد ایوب نلامندو(سولاپور)_  بات اُن دنوں کی ہے جب (16 سال پہلے) ہم سب 10 کزنز ساتھ مل کر کھیلتے، کھاتے پیتے پر اسکول سے آتے ہی اس کتاب کو پڑھنے کے لیے اپنی باری لگاتے... اور کئی دفعہ اس باری باری کے چکر میں ہی ہماری ہماری لڑائی ہو جاتی کہ پہلے میں لوں گی، دوسرا میں لوں گا...   گُل بوٹے سب کی پسند کی کتاب تھی... مہینہ ختم ہوتے ہی اگلے شمارے کا انتظار رہتا تھا... خاص کر اس شمارے کے نئے معمّے کے لیے جو اُردو اور انگلش میں آیا کرتے تھے۔   کبھی ایسا بھی ہوا کرتا تھا کہ ڈاکیا کے آتے ہی جس کے ہاتھ پہلے یہ کتاب آ گئی، کم سے کم 2 دن وہ کسی اور کو نہ ملتی... چمپو کی کہانی، اشعار، لطیفے، نظموں کو فوقیت دی جاتی تھی.. اور ہاں ہمارے ایس ایم ایس جو ہم ابا کے کی-پیڈ والے موبائل سے بھیجا کرتے وہ اس مہینے آئے ہیں یا نہیں یہ بلکل یاد سے چیک کیا جاتا...   اب جب کہ گُل بوٹے گھر میں آسانی سے سب کو نہیں مل رہا اور بار بار اسی وجہ سے لڑائی ہو جاتی تھی تو ہمارے دا...

سب کے ساتھ جسٹس ہواور سب تک وسائل پہنچیں، اس کی فکر باشندگان ملک پر لازم ہے - ویلفیرپارٹی آف انڈیا کے قومی نائب صدر مجتبیٰ فاروق سے محمدیوسف رحیم بیدری کاانٹرویو۔۔

Image
بیدر (یوسف بیدری)  جناب مجتبیٰ فاروق مسلم سیاست کا اہم نام ہے جن کے پس پردہ اور موجودہ کام سے وہی لوگ واقف ہیں، جو سیاست کے گلیاروں میں دورتک چلے ہیں یا موجودہ منظر نامہ پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔آسام میں UDFکو بنانے والوں میں مجتبیٰ فاروق ایک اہم نام رہاہے، اسی طرح ویلفیرپارٹی آف انڈیا کے قیام میں بھی جناب مجتبیٰ فاروق کااہم رول رہاہے۔وہ ویلفیرپارٹی آف انڈیا(WPI)کے پہلے قومی صدررہ چکے ہیں۔ان دِنوں قومی نائب صدر کافریضہ نبھارہے ہیں، مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے مجتبیٰ فاروق سے محمدیوسف رحیم بیدری کا لیاگیاانٹرویو پیش خدمت ہے۔  سوال:۔سیاست کی طرف آنا مجتبیٰ فاروق کااپنا فیصلہ تھا یا جماعت اسلامی ہند کا؟ مجتبیٰ فاروق:۔ میری اپنی رائے تھی۔ چوں کہ میں جماعت اسلامی ہند میں شعبہ ء ملکی وملی مسائل سے وابستہ تھا، اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ایسے مواقع بھی آئے کہ ایک سیاسی پارٹی کی شدید ضرورت کا احساس ہونے لگا۔ آسام میں جب UDFبنا۔ چند لوگوں نے مل کر اس کو لانچ کیا۔ مہمان مقررین میں دونام شامل تھے ایک نام مولانا ارشد مدنی کااور دوسرانام مجتبیٰ فاروق کاتھا۔ہم نے کہیں ن...

تعلیم ہنر" ٹیلنٹ ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان 25 مئی کو، وزیر اقلیتی بہبود این ایم ڈی فاروق کریں گے۔

Image
پریس ریلیز -  تاریخ: __23 مئی 2026 نندیال: رواں ماہ 17 مئی کو ریاست کے مختلف علاقوں میں منعقدہ "تعلیم ہنر" ٹیلنٹ ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان 25 مئی 2026 بروز پیر صبح 10 بجے این ٹی آر فنکشن ہال، نندیال میں ہوگا۔ نتائج کا اعلان وزیر برائے اقلیتی بہبود الحاج این ایم ڈی فاروق کے دست مبارک سے عمل میں آئے گا۔ اس پروگرام کو منصوبہ بند طریقے سے منعقد کرنے کے لیے وزیر موصوف نے آج ایک جائزہ اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں وزیر موصوف کے فرزند فیاض، ضلعی اقلیتی بہبود افسر محترمہ صبیحہ پروین، وقف بورڈ کے ضلعی افسر عمران، ٹی ڈی پی قائد خلیل، اردو ڈی آئی حسم الدین، گورنمنٹ جونیئر اردو کالج کے پرنسپل کریم اللہ، مجلس العلماء و ائمہ کے ضلعی صدر حافظ امجد باشاہ صدیقی اور اردو اکیڈمی لٹریری کمیٹی کے رکن سی. عبدالعزیز شریک تھے۔ اس موقع پر ضلعی اقلیتی بہبود افسر صبیحہ پروین، نے نندیال ضلع کے تمام پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں کے سربراہان سے گزارش کی کہ وہ "تعلیم ہنر" ٹیلنٹ ٹیسٹ میں شریک طلبہ اور ان کے والدین کو پروگرام میں شرکت کے لیے مدعو کرنے کے اقدامات کریں۔ انہوں نے تمام ا...

قربانی کے مقاصد - از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ)

Image
قربانی کے مقاصد -  از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔ (استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ)  قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایثار و رضا کی ایک بلند ترین یادگار ہے کہ انھوں نے اولاد کی طبعی محبت اور فطری تعلق کو بالائے طاق رکھ کر اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو خداوند متعال کی خوشنودی کی خاطر اور نفس و شیطان کے تمام مکر و فریب سے اپنے دامن کو بچا کر ذبح کرنے کے لیے گلے پر چھری پھیر کر اطاعتِ خداوندی اور جذبۂ خلت کا وہ عظیم ترین نمونہ اہلِ دنیا کے سامنے پیش کیا جو تا قیامِ قیامت فراموش نہ کیا جائے گا چوں کہ قربانی بہت سارے مقاصد کا مجموعہ ہے، اسی لیے کئی اہم مقاصد کے تئیں اللہ رب العزت نے اپنے خاص بندوں(اہلِ استطاعت) کو اس حکم کی تعمیل کا مکلف بنایا، چناں چہ قرآن و حدیث پر نظر ڈالنے سے کئی اہم مقاصد آشکارا ہوتے ہیں، ان مقاصد میں سے *پہلا* مقصد، بندوں میں صفتِ تقوی پیدا کرنا ہے، *دوسرا* مقصد بندوں میں جذبۂ ایثار پیدا کرنا ہے، *تیسرا* مقصد شعائر اللہ کا اظہار، *چوتھا* مقصد نعمتِ خداوندی کی شکر گزاری کا جذبہ، *پانچواں* مقصد اطاعت و بندگی کے اظہار کا جذبہ، *چھٹا...

بیرون ملک سے 15 لاکھ عازمین ارضِ مقدس پہنچ چکے، میجر جنرل المربع۔

Image
کے این واصف : منسک حج کی ادائیگی کاآغاز دو دن بعد یعنی بروز پیر (۸ ذو الحجہ) ہوگا۔ مکہ میں عازمین کی آمد کا سلسلہ ہنوز جاری۔  سعودی محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ جسے عربی میں جوازات کہتے ہیں میں حج ٹاسک فورس کے کمانڈر میجر جنرل صالح المربع کا کہنا ہے کہ بیرون مملکت سے اب تک 15 لاکھ عازمین ارضِ مقدس پہنچ چکےہیں۔ اخبار 24 کے مطابق حج سیکیورٹی فورس کی جانب سے مکہ مکرمہ میں امورحج کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل المربع کا مزید کہنا تھا کہ فضائی ذریعے سے آنے والے عازمین کی تعداد 14 لاکھ 71 ہزار، جبکہ بری راستوں سے 45 ہزار سے زائد اور سمندری ذریعے سے آنے والوں کی تعداد 6 ہزار400 رہی۔ کمانڈر حج ٹاسک فورس نے مزید کہنا کہ جدید ترین تکنیکی آلات کے استعمال سے عازمین کو بہتر اور آسان سفری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، جس سے نہ صرف وقت کی بچت بلکہ معیار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

تعلیمی سال 2026-2027 کے لیے اسکولوں کے لیے مفت کتابیں نوٹ بکس اور دیگر اشیاء اسکول کھلنے سے پہلے ہی اسکولوں کو فراہم کیے گئے۔

Image
تعلیمی سال 2026-2027 کے لیے اسکولوں کے لیے مفت کتابیں نوٹ بکس اور دیگر اشیاء اسکول کھلنے سے پہلے ہی اسکولوں کو فراہم کیے گئے۔ معزز وزیرِ تعلیمِ اسکولی جناب راج موہن صاحب کو آداب و احترام! پہلی مرتبہ یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ تمام مفت فراہم کی جانے والی اشیاء اور نصابی کتابیں اسکول کھلنے سے پہلے ہی مکمل طور پر فراہم کردی گئی ہیں۔ اس شاندار انتظام پر محکمۂ اسکولی تعلیم کے ڈائریکٹرس اور متعلقہ افسران کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ نئی حکومت اور معزز وزیرِ تعلیم کی یہ قابلِ ستائش کاوش واقعی لائقِ تحسین ہے۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ یہی مؤثر طریقۂ کار آئندہ بھی مسلسل جاری رکھا جائے۔ مزید یہ کہ اردو میڈیم اور دیگر اقلیتی زبانوں کی نصابی کتابیں بھی اسکولوں کے آغاز سے قبل فراہم کردی جائیں تو طلبہ اور اساتذہ کے لیے نہایت مفید اور سہولت بخش ثابت ہوگا۔ شکریہ۔ والسلام. رضوان اللہ ریاستی نائب صدر، تمل ناڈو ابتدائی و متوسطہ گریجویٹ اساتذہ انجمن ریاستی جوائنٹ سکریٹری، تمل ناڈو اردو اسکول ٹیچرس ایسوسی ایشن سکریٹری، تمل ناڈو اردو میڈیم اسکول ٹیچرس کلب، تمل ناڈو اسٹیٹ اردو اکیڈمی، چنئی – 2

ظریفانہ: کاکروچ جنتا پارٹی۔۔ ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان۔

Image
ظریفانہ: کاکروچ جنتا پارٹی۔ ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان۔ للن نے کلن سے پوچھا بھیا اگر کوئی بیروزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہے تو تمہیں کیسا لگے گا؟ یار وہ انسان ہوگا یا بھیڑیا۔ بیروزگاروں کےلیے ایسے گندے الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے شرم نہیں آئے گی ؟ شرم کیوں آئے؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ کاکروچ کی خوبی یہ ہے کہ وہ سخت ترین حالات میں بھی زندہ رہ لیتا ہے ۔ مجھے سب معلوم ہے۔ ان پڑھ گنوار سمجھ رکھا ہے کیا؟ لیکن لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں کاکروچ سے نجات پانا چاہتے ہیں ؟؟ ہاں بھائی یہ تو ہے۔ باورچی خانے میں کوئی کاکروچ آجائے تو ہماری خانساماں تک آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے۔ للن بولا وہی تو اور پھر اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ میرا پوتا ’ہٹ اسپرے‘ کا کنستر لے کر ’شکتی مان ‘ کی طرح باورچی خانے میں داخل ہوتا ہے اور پیچھا کرکے اسے مارڈالتا ہے۔ اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ ہم سب تالیاں بجاتے ہیں اپنے پوتے جمن کوشاباشی دیتے ہیں ۔ یعنی کسی کاکروچ کے قتل کا افسوس نہیں ہوتا ۔ سب خوشیاں مناتے ہیں اور قاتل کو سراہتے ہیں ۔ یار تم تو جینیوں کی زبان بول رہے ہو لیکن جانتے ہو وہ لوگ بھی اپنے گھر کے کھٹمل، دیمک اور ک...

دادیال، نانیال اور بچوں کی نفسیات : ایک سماجی و نفسیاتی مطالعہ۔ ۔از قلم: محمود علی، لیکچرر۔

Image
دادیال، نانیال اور بچوں کی نفسیات : ایک سماجی و نفسیاتی مطالعہ۔ از قلم: محمود علی، لیکچرر۔ ہمارا مشرقی معاشرہ رشتوں، روایتوں اور خاندانی نظام پر قائم ہے۔ یہاں خاندان صرف خون کا تعلق نہیں بلکہ جذبات، ذمہ داریوں، قربانیوں اور تہذیبی اقدار کا ایک مسلسل سفر ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو صرف ماں باپ ہی نہیں بلکہ پورا خاندان اس کی تربیت اور شخصیت سازی میں شریک ہوجاتا ہے۔ دادا دادی، نانا نانی، چچا، خالہ اور دیگر رشتہ دار سب مل کر ایک ایسا جذباتی حصار بناتے ہیں جس میں بچہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہی مشترکہ خاندانی نظام برصغیر کی اصل خوبصورتی سمجھا جاتا ہے۔ مگر جدید دور میں خاندان کے اندر بعض ایسے خاموش رویّے جنم لے رہے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے اثرات نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ انہی میں ایک حساس مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض گھروں میں دادا دادی اپنی بیٹیوں کے بچوں کو زیادہ اہمیت اور محبت دیتے ہیں جبکہ بیٹوں کے بچوں کے ساتھ وہی اپنائیت نظر نہیں آتی۔ یہ فرق اکثر شعوری کم اور لاشعوری زیادہ ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ اسی پس منظر میں بعض بہوؤں کے دل سے یہ جم...

امبور سے افسوسناک خبر

Image
 امبور سے افسوسناک خبر. امبور (محمد رضوان اللہ) جمعہ22-05-2026 نہایت رنج و غم کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ جناب مکہ ارشاد احمد صاحب (عمر 57 سال) کا انتقال ہوگیا۔ مرحوم فریدہ شوز پرائیویٹ لمیٹڈ، آرکاٹ سولز پرائیویٹ لمیٹڈ، فریدہ لیدر ویئر لمیٹڈ اور فریدہ شوز پرائیویٹ لمیٹڈ پامس یونٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مرحوم، جناب مکہ رفیق احمد صاحب المعروف مکہ بابو (چیئرمین فریدہ گروپس) کے فرزند تھے۔ مرحوم کی میت آج رات تقریباً 9 بجے کوتھاری روڈ، ننگم باکم، چینئی میں واقع ان کی رہائش گاہ لائی جائے گی۔ ان شاء اللہ، نمازِ جنازہ کل بروز سنیچر 23 مئی کو ظہر کی نماز کے بعد انجمنِ حمایتِ اسلام، ٹی نگر، چینئی میں ادا کی جائے گی، جبکہ تدفین ٹانا مسجد قبرستان، پورسائی واکم، چینئی میں عمل میں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی کوتاہیوں کو معاف کرے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔

بزم ہدایت کا سالانہ مشاعرہ - صدارت ڈاکٹر اوصاف سعید، محمد اظہر الدین وہ دیگر مہمانان خصوصی ہونگے۔

Image
حیدرآباد ۔ (راست) بزم ہدایت فروغ اردو سوسائٹی حیدرآباد کے زیر اہتمام سالانہ مشاعرہ 23 مئی 2026 بروز ہفتہ رات 8 بجے بمقام اذان انٹرنیشنل اسکول گنبدان قطب شاہی روڈ، ٹولی چوکی منعقد ہوگا۔ مشاعرے کی صدارت سابق سفیر ہند سعودی عرب ڈاکٹر اوصاف سعید کریں گے جبکہ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود جناب اظہر الدین، صدر نشین تلنگانہ اردو اکیڈمی جناب طاہر بن حمدان، سابق صدر نشین اقلیتی کمیشن جناب طارق انصاری مہمانان خصوصی ہونگے۔  ڈاکٹر جاوید کمال اور ڈاکٹر جہانگیر احساس تاثرات کا اظہار کرین گے۔ شعرائے کرام جو اس محفل میں اپنا کلام پیش کریں گے ان میں صلاح الدین نیّر، جلیل نظامی، شاہد عدیلی، طیب پاشا قادری، انجنی کمار گوئل، وحید پاشا قادری، سیف نظامی، لطیف الدین لطیف، ساجد عباسی، باسط علی رئیس شامل ہیں۔ اس موقع پر سوینیر کی رسم اجراء بھی ہوگی۔ لطیف الدین لطیف ناظم اجلاس ہونگے۔

دلوں کا علاج: قرآن، ذکرِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کی روشنی میں۔۔ تحریر : ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)

Image
دلوں کا علاج: قرآن، ذکرِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کی روشنی میں۔ تحریر :  ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔ (اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد) موبائل: 9325217306 انسانی جسم میں دل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، مگر اسلام نے صرف جسمانی دل ہی کو اہمیت نہیں دی بلکہ روحانی اور باطنی دل کو انسان کی اصل حقیقت قرار دیا ہے۔ یہی دل اگر ایمان، اخلاص، تقویٰ اور یادِ الٰہی سے منور ہو تو انسان کی پوری زندگی نور بن جاتی ہے، اور اگر یہی دل حسد، تکبر، ریاکاری، دنیا پرستی اور غفلت سے آلودہ ہوجائے تو انسان بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی روحانی اعتبار سے مردہ ہوجاتا ہے۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں دل کی اصلاح، اس کی پاکیزگی اور اس کے علاج پر غیر معمولی توجہ دی گئی ہے۔ آج کا انسان بظاہر مادی ترقی کی بلند ترین منزلوں پر پہنچ چکا ہے، لیکن اس کے باوجود بے سکونی، اضطراب، حسد، نفرت، لالچ اور ذہنی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انسان نے اپنے ظاہری جسم کی فکر تو بہت کی مگر اپنے قلب و روح کی اصلاح کو فراموش کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دل بیمار ہوجائے تو انسان کے اعمال،...

پانی کے بعد سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب" چائے" ہے _ "درویش حمید الدین شاہد"

Image
دودھ سے صرف ہڈیاں اور چائے سے رشتےو تعلق اور دوستی مضبوط ہوتی ہے - عالمی یوم چائے کے موقع پر پروفیسر محمد مسعود احمد،محمد حسام ریاض کا خطاب -محفل مشاعرہ کا بھی انعقاد  حیدرآباد 22 مئی( پریس نوٹ) صدر انجمن تاجران چائے تلنگانہ و نائب صدر نشین فیڈریشن آف آل انڈیاٹی ٹریڈرس اسوسی ایشن جناب درویش حمید الدین شاہد نے کہا کہ پانی کے بعد سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب "چائے" ہے طبی نکتہ نظر سے بھی چائے کے کئی فوائد ہیں چائے کے استعمال سے تر و تازگی آتی ہے اور تھکن دور ہوتی ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار عالمی یوم چائے (21 مئی) کی مناسبت سےایوان احمد ملک پیٹ میں "چائے پہ راۓ" نشست کو مخاطب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام پروفیسر محمد مسعود احمد چیف آپریٹنگ آفیسر رینوا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ نے کیا تھا جناب درویش حمید الدین شاہد نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کی چائے کو عالمی مقبولیت حاصل ہے اور اس سلسلے میں ہماری تیار کردہ "لاسا لمسا " چائے کی پتی سارے ہندوستان کے ہر شہر' ہر گاؤں' ہر دیہات کے علاوہ دنیا کے کونے کونے میں منگوائی ا...

احساسِ کمتری۔(احساسِ محرومی، عدمِ اعتماد اور خود کو کمتر سمجھنے کی نفسیاتی کیفیت)۔ ازقلم : محمد مسلم کبیر ، لاتور۔

Image
احساسِ کمتری۔ (احساسِ محرومی، عدمِ اعتماد اور خود کو کمتر سمجھنے کی نفسیاتی کیفیت) ازقلم : محمد مسلم کبیر ، لاتور۔ انسانی زندگی میں اعتماد، خود شناسی اور مثبت سوچ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر، ناکام یا بے وقعت سمجھنے لگتا ہے تو اس کیفیت کو “احساسِ کمتری” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی اور سماجی بیماری ہے جو انسان کی شخصیت، کردار، تعلقات اور کامیابیوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ احساسِ کمتری انسان کو ظاہری طور پر خاموش، خوفزدہ، غصہ کرنے والا یا حد سے زیادہ خود نمائی کرنے والا بنا دیتی ہے۔ بعض لوگ اپنی کمزوری چھپانے کے لیے غرور، تکبر یا دوسروں کی تحقیر کا راستہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ مایوسی، تنہائی اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ احساسِ کمتری کی وجوہات احساسِ کمتری کے کئی اسباب ہوتے ہیں، جن میں اہم درج ذیل ہیں: 1۔ بچپن کی تربیت : اگر بچپن میں بچوں کو بار بار ڈانٹا جائے، دوسروں سے موازنہ کیا جائے یا ان کی صلاحیتوں کو کمتر سمجھا جائے تو ان کے دل میں خود اعتمادی ختم ہونے لگتی ہے۔ 2۔ غربت یا معاشی مسائل :معاشرے میں دولت، لباس اور ظا...

مسلم کمیونٹی اجتماعی شادیوں کے اجتماع میں ۲۸ جوڑوں کا نکاح ہوا۔

Image
ڈگرس۔ (راست) حال ہی میں مقامی انجمن اردو ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں مسلم کمیونٹی کی اجتماعی شادی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس سال 28 جوڑوں کی شادی کی گئی۔ گزشتہ 20 سالوں سے انجمن فدائین مصطفیٰ اور مسلم کمیونٹی گلشن آرگنائزنگ کمیٹی کی جانب سے دگرس میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ یہ قابل ستائش اقدام مذکورہ سماجی تنظیم کی جانب سے دولہا یا دلہن کے اہل خانہ سے کوئی فیس وصول کیے بغیر کیا جا رہا ہے۔ یہاں نکاح کی تقریبات کے ذریعے سینکڑوں دولہا اور دلہن شادی شدہ زندگی میں داخل ہو چکے ہیں۔ تاہم اس سال 17 مئی بروز اتوار اجتماعی شادی کی کانفرنس میں 28 جوڑوں کی شادیاں کی گئیں۔ اس موقع پر دولہا اور دلہن کے سینکڑوں شادی کے مہمانوں کے لیے انجمن فدائین مصطفیٰ اور امت مسلمہ کی جانب سے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ دولہا اور دلہن کو ضروری گھریلو اشیا بشمول بستر، الماری، کولر، برتن وغیرہ کے مفت تحفے فراہم کیے گئے۔ تقریب میں اجتماعی شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ فدایان مصطفیٰ کمیٹی' گلشن کثیر مقصدی ادارہ کانفرنس کے پہلے سال میں شادی کرکے تبدیلی کی مثال قائم کرنے والے سماجی کا...

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے۔ - بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری جامعہ اکل کواں۔

Image
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے۔ -   بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری جامعہ اکل کواں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا یہ انوکھا پہلو بھی ملاحظہ فرمائیں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قوم سے کہا کہ تم ایسے معبودوں کو کیوں پوجتے ہو جو نہ بولتے ہیں نہ سنتے ہیں مگر پھر بھی تم انہی کو پوجے جا رہے ہو تم اللہ کو چھوڑ کر جن کو پوج رہے ہو وہ محض پتھر کے صنم ہیں اور اور کائنات میں سب سے بڑی برائی یعنی شرک میں نہ صرف ان کی قوم بلکہ وقت کا بادشاہ اور اس سے بھی ایک قدم اگے وہ اپنے خود کے گھر میں دیکھ رہے تھے کہ اصنام پرستی کس زوروں پر ہے باپ نہ صرف پجاری تھا بلکہ بت گر تھا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے والد قوم اور شاہ وقت کو سچائی اور اچھائی کی دعوت دی اس حقیقت پسندانہ گفتگو کے بعد تو ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ وہ سیدنا ابراہیم کی اس بات پر غور و فکر کر کے اپنے اپ کو شرک سے بچا سکتے تھے مگر وہ ڈھٹائی پر اتر ائے بلکہ حضرت ابراہیم کے درپے ہو گئے مگر ایک نبی جو دعوت کی تمام لطافتوں اور باریک بینیوں سے خوب خوب واقف ہوتا ہے اور رب ذوالجلال ان کو محض اسی مقصد کے تحت دن...

کیا کوکروج جنتا پارٹی (سی۔جے۔پی) واقعی ایک انقلاب ہے یا صرف سوشل میڈیا کا ابال؟۔ تحریر : تحسینہ ماوینکٹی۔

Image
کیا کوکروج جنتا پارٹی (سی۔جے۔پی)  واقعی ایک انقلاب ہے یا صرف سوشل میڈیا کا ابال؟ تحریر: تحسینہ ماوینکٹی۔ بھارت میں سوشل میڈیا کی دنیا ہر روز کسی نہ کسی نئے ٹرینڈ، تحریک یا نعرے کو جنم دیتی ہے۔ کبھی کوئی ہیش ٹیگ عوامی جذبات کی ترجمانی بن جاتا ہے، تو کبھی کوئی مزاحیہ جملہ سیاسی احتجاج کی علامت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں “سی۔جے۔پی” یعنی " کوکروج جنتا پارٹی" بھی اسی نوعیت کی ایک غیر معمولی مگر دلچسپ تحریک کے طور پر سامنے آئی ہے، جس نے خاص طور پر نوجوان نسل، یعنی زین زیڈ کے درمیان غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ بظاہر یہ ایک طنزیہ اور مزاحیہ ٹرینڈ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں موجود غصہ، بے چینی، احساسِ محرومی اور سیاسی و سماجی نظام سے مایوسی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سارا معاملہ اُس وقت شروع ہوا جب جسٹس سریہ کانت  کی جانب سے زین زیڈ نوجوانوں کے متعلق ایک متنازع تبصرہ سامنے آیا۔ ان کے بیان کو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے توہین آمیز اور تحقیر پر مبنی سمجھا۔ اگرچہ بعد میں وضاحت دی گئی کہ ان کی مراد فرضی علم رکھنے والے افراد تھے، لیکن تب...

نکاح سے پہلے تعلقات، منگنی کی رسم اور موجودہ معاشرتی المیہ - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔

Image
نکاح سے پہلے تعلقات، منگنی کی رسم اور موجودہ معاشرتی المیہ -  ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ M A M Ed  8904317986 نکاح سے پہلے تعلقات، منگنی کی رسم اور موجودہ معاشرتی المیہ آج کے دور میں ہمارے معاشرے نے نکاح جیسے مقدس اور بابرکت عمل کو مشکل، جبکہ منگنی جیسی غیر ضروری رسم کو آسان اور لازمی بنا دیا ہے۔ حالانکہ اسلام میں اصل اہمیت نکاح کو حاصل ہے، نہ کہ موجودہ زمانے کی رسموں، نمائشوں اور غیر شرعی طریقوں کو۔ قرآن و حدیث میں آج کے انداز کی “منگنی”، “رِنگ سیرمونی” اور فضول رسم و رواج کی کوئی اصل نہیں ملتی، بلکہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ جب اچھا، دیندار اور مناسب رشتہ مل جائے تو بلاوجہ تاخیر کے بغیر نکاح کر دیا جائے۔ مگر افسوس! آج منگنی کو ایک سادہ وعدے کے بجائے ایک بڑی تقریب، فیشن اور سماجی اسٹیٹس بنا دیا گیا ہے۔ لوگ فلموں اور سیریلز کی نقل کرتے ہوئے بڑے بڑے ہال سجاتے ہیں، اسٹیج تیار کیے جاتے ہیں، لائٹنگ، فوٹو شوٹ، موسیقی اور بے پردگی کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور لڑکا لڑکی کو ایک ہی اسٹیج پر کھڑا کرکے “رِنگ سیریمنی” کی جاتی ہے۔ حالانکہ اسلام سادگی، حیا، پردے ا...

کہانی - " سراب " از قلم : رہبر تماپوری۔

Image
کہانی -  " سراب "  از قلم : رہبر تماپوری۔ شادی کے بعد میری زندگی ایک نئی راہ پر چل نکلی۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ شہر میں خوابوں کی ایک نئی دنیا بسانے میں مگن ہو گئی، جبکہ میرا بھائی بھی اپنی زندگی کے سفر میں آگے بڑھتا رہا۔ وقت گزرتا گیا اور ہماری راہیں رفتہ رفتہ جدا ہوتی چلی گئیں۔ ہمیں احساس تک نہ ہوا کہ اس دوری نے دل کی گہرائیوں میں ایک خاموش خالی پن جنم دے دیا ہے۔ ایک دن کسی معمولی بات پر میں نے بھائی کی شکایت ایک رشتہ دار سے کر دی۔ بس، اسی ایک بات نے ہمارے درمیان انا اور بدگمانی کی ایسی دیوار کھڑی کر دی کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ تو سکتے تھے، مگر بات کرنے کی ہمت کھو چکے تھے۔ برسہا برس گزر گئے اور یہ خاموشی مزید گہری ہوتی گئی۔ میں ہمیشہ اسی آس میں رہی کہ ایک دن وہ خود پہل کرے گا، یا شاید کبھی میں ہی سب کچھ بھلا کر اس سے بات کر لوں گی، مگر وہ دن کبھی نہ آیا۔ پھر اچانک ایک دن اس کے انتقال کی خبر ملی۔ یہ سنتے ہی میں بے اختیار اس کے گھر کی طرف دوڑی۔ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ آنکھیں بند کیے خاموش لیٹا تھا، ہمیشہ کے لیے۔ میں اس کے سرہانے کھڑی اس کا بے جان چہرہ تکتی رہی۔ میر...

فاروق سید ادب اطفال کی عہد ساز شخصیت....عزم، خلوص اور جہدِ مسلسل کا استعارہ... کہانی کہہ کے رخصت ہوگئے ہیں۔ ازقلم : خان حسنین عاقب۔

Image
فاروق سید  ادب اطفال کی عہد ساز شخصیت....عزم، خلوص اور جہدِ مسلسل کا استعارہ...  کہانی کہہ کے رخصت ہوگئے ہیں۔  ازقلم : خان حسنین عاقب۔ برسوں قبل جب مرحوم معراج فیض آبادی سے روزانہ گھنٹوں گپ شپ ہوا کرتی تھی، ایک دن انھوں نے کہا ، 'حسنین میاں، اب ہمارا بھی چل چلاؤ ہے ، ہمارے دوست اور ہم عمر تو بہت سے جا چکے ہیں ۔ میں نے اسی وقت یعنی فی البدیہہ ایک شعر کہہ کر سنایا :  کہانی کہہ کے رخصت ہوگئے ہیں  جنھیں سونا تھا، تھک کر سوگئے ہیں معراج صاحب بہت محظوظ ہوئے اور کھل کر داد دی ۔  بلکہ ایک گھنٹے بعد دوبارہ فون کیا اور کہا، میاں، تمھارا شعر ذہن سے نکل ہی نہیں رہا ۔  اور آج فاروق سید کے لیے کچھ لکھتے ہوئے ذہن نے یہی شعر تجویز کیا کہ دلی کیفیت کی اس سے بہتر ترجمانی محال تھی ۔  19 مئی 2026 کی وہ اداس، اداس ہی نہیں بلکہ ظالم شام اردو دنیا، بالخصوص ممبئی اور شولاپور کے علمی و ادبی حلقوں پر بجلی بن کر گری، جب یہ اندوہناک خبر موصول ہوئی کہ بچوں کے ہر دلعزیز ادیب، بے مثل ناظم اور ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک محترم فاروق سید صاحب اب ہم میں نہیں رہے۔ یہ ایک ا...

مہاراشٹر اردو اکادمی کے چیرمین ڈاکٹر حسین اختر کا بھساول میں استقبال۔

Image
بھساول (صلاح الدین ادیب) مہاراشٹر اردو اکادمی کے چیرمین ڈاکٹر حسین اختر کا آج بھساول کی اسامہ اردو ہائی اسکول میں شاندار استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر اسکول کے صدر اسامہ رؤف خان، میونسپل کونسلر سہیل پٹھان، حاجی انصار احمد احمد صابر شیخ،ڈاکٹر نظام شیخ پرنسپل سید نوید سر صلاح الدین ادیب، صدام کھاٹک وغیرہ موجود تھے۔ ڈاکٹر حسین اختر نے مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کے کام اور اردو زبان کے فروغ کے لیے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں رہنمائی کی۔ ڈاکٹر حسین اختر نے کہا کہ خاندیش خطہ اردو ادب اور صحافت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے خاندیش میں اردو سے محبت کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی تجاویز اکیڈمی کو دیں کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

جامعہ البنات حیدرآباد میں گرمائی اسلامی کلاسز کے اختتام کے موقع پر جلسۂ تقسیم انعامات.

Image
جامعہ البنات حیدرآباد میں گرمائی اسلامی کلاسز کے اختتام کے موقع پر جلسۂ تقسیم انعامات. حیدرآباد (راست) جامعة البنات حیدرآباد ميں 25 روزہ گرمائی اسلامک کلاسز کے اختتام پر طلباء وطالبات کے شاندار تعلیمی مظاہرے پر مشتمل جلسہ منعقد ہوا ۔ جسمیں 7سالہ ننھے بچوں سے لیکر انٹر لیول کی طالبات نے مختصر مدت میں سیکھے ہوۓ علم کا بہترین عملی مظاہرہ کیا۔  طالبہ سحر احمد کی قرأت سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ طالبہ یمنی نے حمد پیش کی ۔ ننھے طلباء وطالبات نے قرآنی سورتیں،40احادیث مع ترجمہ، عقیدۂ توحید پر مکالمہ، اسلامی مہینوں کے نام ، قرآنی دعائیں، مسنون دعائیں اور اذکار نماز زبانی پیش کیں ۔اسکے علاوہ ننھے طلباء نے ایکشن ترانہ "ہم نیکی کے جانباز سپاہی" اور ننھی طالبات نے علم دین کی اہمیت پر "فرشتے پر بچھاتے ہیں" ایکشن ترانہ پیش کیا۔   ہاجرہ زہرہ اور شیما نے اسماء الحسنی، عفیفہ نے نعت  خدیجہ، حفصہ، صفیہ اور ام ہانی نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم مکالمہ کی شکل میں پیش کیا۔ عشرۂ مبشرہ اور ازواج مطھرات کے نام سارہ اور آمنہ نے پیش کئے۔       ...