Posts

اشوک کھینی کی 77ویں سالگرہ پر یم۔ ڈی۔ مستان نور کی مبارکباد

Image
بیدر، 4 اکتوبر (نامہ نگار) : بیدر جنوبی حلقہ کے سابق رکن اسمبلی، معروف سیاسی رہنما و صنعت کارجناب اشوک کھینی کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر سابق تعلقہ پنچایت صدر ہمناآباد جناب یم۔ ڈی۔ مستان نور نے انہیں دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اشوک کھینی کی صحت، خوشحالی، درازیٔ عمر اور مزید کامیابیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ جناب یم۔ ڈی۔ مستان نور نے کہا کہ اشوک کھینی نے بیدر ضلع کی ترقی اور عوامی خدمت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی سیاسی و سماجی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ انہوں نے اشوک کھینی کے لیے مستقبل میں بھی کامیابیوں اور عوامی خدمت کے تسلسل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

بی ایچ ایم ایس کے آخری سال میں نجیف آصف بھاٹکر کی شاندار کامیابی

Image
ہرنائی: (راست) محترمہ نجیف آصف بھاٹکر نے بی ایچ ایم ایس فائنل ایئر کا امتحان کامیابی سے پاس کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اس کی کامیابی کے پیچھے محنت، عزم، مستقل مزاجی اور پڑھائی میں ثابت قدمی کو ہر جگہ سراہا جا رہا ہے۔ نیشنل ہائی سکول ہرنئی کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے نے ڈاکٹرنجیف کو اس کی کامیابی پر مبارکباد دی۔ ان کے مستقبل کے طبی کیریئر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی کہ وہ مستقبل میں بہترین طبی خدمات فراہم کرکے معاشرے کے صحت کے شعبے میں اپنا گرانقدر کردار ادا کریں گی۔

گلبرگہ میں 11 اکتوبر کو شعری و ادبی نشست ’’حرفِ سخن‘‘ کا انعقاد، شعراء و فنکاروں سے شرکت کی اپیل

Image
گلبرگہ (نامہ نگار): شہرِ گلبرگہ میں اردو زبان و ادب کے فروغ اور ابھرتے ہوئے قلم کاروں کو پلیٹ فارم مہیا کرنے کے مقصد سے ریزونیٹ اوپن مائیک، گلبرگہ (RESON8 Open Mic) کے زیرِ اہتمام ایک پروقار طرحی مشاعرہ و ادبی نشست بہ نام ’’حرفِ سخن‘‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ تقریب 11 اکتوبر 2026ء، بروز اتوار، ہیومن ایج گلشنِ اطفال اسکول، گلبرگہ میں منعقد ہوگی۔ اس ادبی نشست کے انعقاد کا بنیادی مقصد مقامی اور ابھرتے ہوئے شعراء و فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں اپنے فن کے اظہار کے لیے ایک مناسب پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ اس مشاعرے کے لیے درج ذیل مصرعِ طرح دیا گیا ہے: ’’خاموشی اچھی نہیں، انکار ہونا چاہیے‘‘ انتظامیہ کی جانب سے اہلِ سخن سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اس مصرعِ طرح پر اپنے اشعار پیش کریں۔ تاہم، اگر کسی کے پاس مذکورہ مصرعِ طرح پر کلام نہ ہو تو وہ اپنی پسند کا کوئی بھی کلام پیش کر سکتا ہے۔ پروگرام میں شمولیت اور کلام پیش کرنے کے خواہش مند شعراء و فنکاروں کے ناموں کا اندراج جاری ہے۔ منتظمین نے گلبرگہ اور نواحی علاقوں کے باذوق شہریوں، اساتذہ، طلبہ اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد ...

دعوت کے اسلامی آداب اور طفیلی دعوت کی قباحت - عنایت اللہ خان، یوت محل۔

Image
دعوت کے اسلامی آداب اور طفیلی دعوت کی قباحت -  عنایت اللہ خان، یوت محل۔  اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام نے جہاں عبادات اور حلال و حرام کے احکام بیان فرمائے ہیں، وہیں انسانی معاشرت، میل جول، دعوت، مہمانی اور باہمی احترام کے بھی بہترین آداب سکھائے ہیں۔ دعوت صرف کھانا کھانے کا نام نہیں، بلکہ اس میں میزبان اور مہمان دونوں کے حقوق، اجازت، احترام اور احساسات کا خیال رکھنا شامل ہے۔ دعوت کی بنیادی طور پر دو صورتیں پہلی: اصلی دعوت :  جب میزبان کسی شخص کو خود دعوت دے، اسے بلائے اور اس کے لیے کھانے کا انتظام کرے تو یہ حقیقی یا اصلی دعوت ہے۔ ایسی دعوت قبول کرنا، میزبان کا شکریہ ادا کرنا اور اس کی سہولت و خوشی کا خیال رکھنا حسنِ معاشرت کا حصہ ہے۔ دوسری: طفیلی دعوت :  جب کسی شخص کو دعوت دی گئی ہو اور وہ میزبان کی اجازت کے بغیر اپنے کسی دوست، رشتہ دار یا متعلقہ شخص کو بھی ساتھ لے آئے، تو اسے طفیلی طور پر شامل ہونا کہا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں صحیح بخاری کی ایک نہایت اہم حدیث ہمارے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ا...

مصائب اور حالات کب آتے ہیں - ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے

Image
مصائب اور حالات کب آتے ہیں -  ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے   حضرت ابن عباس فرماتے ھیکہ جس قوم نے مال غنیمت میں خیانت کی تو اللہ تعالی انکے دلوں میں انکے دشمنوں کا رعب ڈال دیتا ہے اور جس قوم میں زنا کی برائی پھیلی ان میں موت بہت ہوتی ہے اور جس قوم نے ناپ تول میں کمی کی ہے تو انکا رزق تنگ ہوجاتا ہے اور جو قوم ناحق فیصلہ کرتی ہے ان میں خونریزی اور قتل عام ہوجاتا ہے اور جو قوم عہد کو توڑتی ہے ان پر دشمن کو غالب کردیا جاتا ہے ( موئطا امام مالک)     دنیا میں تبدیلیاں اور انقلابات اللہ تعالی کی مشیت اور اسکے ارادے سے ہوتے ہیں لیکن انسان کے اعمال اسکے لئے سبب بنتے ہیں جیساکہ قرآن مجید میں اسکو واضح فرمایا گیا ہے مذکورہ بالا حدیث شریف میں خصوصا ان بعض گناہوں کا تذکرہ ہے جو حالات و مصائب کے آنے کا سبب بنتے ہیں     اعمال اور حالات و مصائب بظاہر عقلی طورپر ان کا کوئی جوڑ و تعلق نظر نہیں آتا لیکن نبئ کریم کے زبان اقدس سے نکلی ہوئی کوئی بات کبھی غلط نہیں ہوسکتی اسی طرح جب تک مسلمان اپنی خواہشات اور چاہتوں کو نبئ کریم کی لائی ہوئی تعلیمات کے ت...

اللہ جسے چاہے، جس کام میں چاہے مصروف کر دے - سید فاروق احمد قادری

Image
اللہ جسے چاہے، جس کام میں چاہے مصروف کر دے -  سید فاروق احمد قادری اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ انسان سے کتنے ہی گناہ ہو جائیں، اگر وہ سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ لیکن انسان کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس بندے سے جس کام کا ارادہ فرماتا ہے، اسے اسی کام میں مصروف کر دیتا ہے۔ دنیا میں کوئی مصنف ہے، کوئی صحافی ہے، کوئی استاد ہے، کوئی عالمِ دین ہے، کوئی حافظِ قرآن ہے، کوئی سماجی خدمت انجام دے رہا ہے اور کوئی رہنما بن کر لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے الگ صلاحیت، الگ میدان اور الگ ذمہ داری عطا کی ہے۔ کسی کو قلم کی طاقت دی، کسی کو علم دیا، کسی کو گفتگو کا ہنر دیا، کسی کو قیادت کی صلاحیت دی اور کسی کو خاموشی سے لوگوں کی خدمت کرنے کا موقع دیا۔ یہ سب اللہ کی حکمت اور اس کی مشیت کا حصہ ہے۔ اس لیے ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم کسی کے بارے میں یہ فیصلہ کرنے لگیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس شخص سے کیا کام لینا چاہیے تھا اور کیا نہیں لینا چاہیے تھا۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال جانتا ہے، نیتوں کو جانتا ہے اور یہ ...

خبر پہ شوشہ - “ آٹو رکشہ، بہترین روز گار

Image
خبر پہ شوشہ -  “آٹو رکشہ، بہترین روز گار”  کے این واصف :  سوشل میڈیا پر وائرل ایک نیوز کے مطابق اترپردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر برجیش پاٹھک نے بیروزگاروں کو مشورہ دیا کہ آٹو رکشہ چلانا بھی ایک اچھا ذریعہِ روز گار ہے۔ ملازمت کی تلاش اور اس کی پابندیوں کے غلام ہونے سے کہیں بہتر ہے کہ اپنی من مرضی جتنی دیر چاہیں آٹو چلائیں اور پھر گھر پر بال بچوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ یوپی کے ڈپٹی چیف منسٹر کے اس مشورے پر ایک لطیفہ یاد آیا۔  کسی اعلٰی عہدیدار کے لڑکے نے کہا ڈیڈی آپ آٹورکشہ چلانا شروع کرین کیونکہ مین IAS افسر بننا چاہتا ہوں۔ اس پر باپ کے اظہار حیرانی پر لڑکے نے آگے کہا ڈیڈی آپ دیکھ رہے ہیں نا آج کل گروپ ون سرویسس کے نتائج کے ساتھ ہی جرائد میں اکثر خبر آتی ہے کہ ایک آٹورکشہ ڈرائیور کے لڑکے نے انڈین سروس امتحان کامیاب کرکے آئی اے ایس افسر ہو گیا۔

آہ! مہتاب قدر ! برصغیر سے خلیج تک گونجتی آواز خاموش - ایم آئی ظاہر (جودھپور، راجستھان)

Image
آہ! مہتاب قدر ! برصغیر سے خلیج تک گونجتی آواز خاموش -  ایم آئی ظاہر (جودھپور، راجستھان) اردو جب کسی دل میں اترتی ہے تو صرف زبان نہیں رہتی، نسبت بن جاتی ہے، پھر وہ نسبت ہجرت میں بھی ساتھ چلتی ہے۔ سید مہتاب قدر اسی نسبت کا نام تھے۔ حیدرآباد دکن کی تہذیبی مٹی میں جنم لینے والا یہ چراغ، جدہ کے صحراؤں میں برسوں تک جلتا رہا۔ اور اب یہ چراغ بجھ گیا ہے۔ معروف شاعر، ادیب، صحافی اور کالم نگار مہتاب قدر کے انتقالِ پُرملال کی خبر نے سعودی عرب کے ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ برصغیر ہند و پاک کے اہلِ قلم کو سوگوار کر دیا۔ وہ ان اہلِ قلم میں شامل تھے جنہوں نے پردیس کی زندگی میں اردو سے اپنا رشتہ محض برقرار ہی نہیں رکھا، اسے اپنی تخلیقی اور صحافتی سرگرمیوں سے مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ جب25 ستمبر 2026 کو ان کے سانحہ ارتحال کی خبر ملی تو یقین نہیں ہوا، ابھی منگل ہی کو تو ان کے بات ہوئی تھی۔ ان کی وفات نہ صرف جدہ بلکہ برصغیر کی اردو ادبی فضا کے لیے ایک اہم نقصان ہے اور خاکسار کے لئے بھی ذاتی صدمہ .... حیدرآباد دکن سے جدہ تک ایک ہی نام تھا۔۔ اصل نام سید سرفراز علی اور قلمی نام مہتاب قدر۔...

خاکہ - ابو رہبر تماپوری (ظفر مبین ملا)ازقلم: رہبر تماپوری ، مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا

Image
 خاکہ -   ابو رہبر تماپوری (ظفر مبین ملا) ازقلم: رہبر تماپوری ، مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا رابطہ:  8431012141 دنیا مجھے رہبر تماپوری کے نام سے جانتی ہے، مگر اس نام کے پیچھے ایک ایسی شخصیت ہے جسے میں ’’ابو‘‘ کہتا ہوں۔ نام تو قلم نے دیا، مگر قلم تھامنے کا سلیقہ انہی سے ملا۔ ظفر مبین ملا تماپوری ایک تاجر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ دادا غلام رسول اور والد عطا الرحمن کاروبار سے وابستہ تھے۔ ابو خود کو معمولی طالب علم کہتے تھے، اور دسویں جماعت میں پڑھائی نے انہیں خوب آزمایا۔ کبھی دکان پر بھی بیٹھنا پڑتا، مگر وہیں انہوں نے لوگوں کو دیکھ کر سمجھ بوجھ سیکھی۔ پھر محنت اور اساتذہ کی رہنمائی سے تعلیم جاری رکھی اور اپنی سوچ کے مطابق والد سے الگ کاروبار شروع کیا۔ حلیہ ایسا کہ دیکھتے ہی سادگی کا احساس ہو: ابھری ہوئی پیشانی، لمبی ناک، لمبے کان اور بھاری بھرکم جسم۔ ڈھیلے کپڑے پسند کرتے اور جمعے کو شاہی ٹوپی پہن کر نماز کے لیے جاتے۔ کم گو تھے، مگر گاؤں میں ہر ایک سے خوش اخلاقی سے ملتے۔ راستے میں کوئی پتھر یا نقصان ...

پولیس اور طبی شعبہ ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں: ایس پی پردیپ گنٹی.

Image
بیدر، 4 اکتوبر (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ جناب پردیپ گنٹی نے کہا کہ پولیس محکمہ اور طبی شعبہ ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں، جو باہمی تعاون اور بہترین تال میل کے ذریعے معاشرے کی صحت اور سلامتی کو مزید مستحکم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار سڑک حادثات اور مختلف ہنگامی حالات میں فوری طور پر زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں مدد کرتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر فوری طبی امداد فراہم کرکے قیمتی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ شہر کے گدگے اسپتال کی جانب سے عالمی یوم قلب کے موقع پر منعقدہ ریلز مقابلہ اور قلب کی صحت سے متعلق عوامی بیداری پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں غیر متوازن غذا، ورزش کی کمی، ذہنی دباؤ اور سگریٹ نوشی جیسی عادات دل کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں، اس لیے نوجوانوں سمیت ہر فرد کو قلب کی صحت کے بارے میں بیدار رہنا چاہیے۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری، ضرورت سے زیادہ پسینہ آنا، چکر آنا یا دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی جیسی علامات کو نظرانداز نہ کریں اور فوری طبی مدد حاصل کریں۔ باقاعدہ صحت کی جا...

اقبال فہمی - (قسط شانزدهم) - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔

Image
اقبال فہمی -  (قسط شانزدهم) -  ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔ گزشتہ اشعار میں اقبال نے غالب کی عظمت کو انسانی فکر کی وسعت اور اس نگاہ کے حوالے سے بیان کیا تھا جو ہر شے کے اندر پوشیدہ حسن اور سوز زندگی کو محسوس کرسکتی ہے۔ اب وہ اسی خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے غالب کی شاعری کے اثر کو ایک وسیع تر دائرے میں دیکھتے ہیں۔ یہاں غالب صرف ایک صاحب فکر شاعر نہیں رہتے بلکہ ان کی شاعری ایسی قوت بن جاتی ہے جو خاموش زندگی کو آواز عطا کرتی ہے اور انسانی تخیل کے ذریعے کائنات کے حسن کو ایک نئی معنویت بخشتی ہے۔ اقبال کے نزدیک بڑا فنکار وہ نہیں جو صرف خوب صورت الفاظ جمع کردے بلکہ وہ ہے جو اپنے فن کے ذریعے زندگی کے اندر پوشیدہ حرکت کو نمایاں کردے اور انسان کو یہ احساس دلائے کہ خاموش نظر آنے والی دنیا بھی اپنے اندر ایک گہری داستان رکھتی ہے۔ محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار جس طرح ندی کے نغموں سے سکوتِ کوہسار غالب کی شاعری کو اقبال نے "بربط" سے تشبیہ دی ہے۔ بربط ایک ساز ہے اور ساز کا کام خاموش فضا میں نغمہ پیدا کرنا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ محفل ہستی تیرے بربط سے سرمایہ دار ہے یعنی غالب ک...

ارنڈول -جلگاؤں، پانڈو واڑا – جامع مسجد معاملے میں متوازی انتظامی جانچ پر سوال - "محصول وزیر باونکونٹھے کو محضر؛ ضلع کلکٹر کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت"

Image
جلگاؤں : (عقیل خان بیاولی)  ارَنڈول، ضلع جلگاؤں کے پانڈو واڑا–جامع مسجد تنازع کے سلسلے میں مختلف سماجی و مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے ریاستی وزیرِ محصولات چندرشیکھر باونکولے سے ملاقات کرکے جاری انتظامی جانچ کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا اور ایک تحریری محضر پیش کی۔ نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ معاملہ عدالت اور وقف ٹریبونل میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے اسی معاملے میں کسی بھی متوازی انتظامی کارروائی سے قبل متعلقہ عدالتی احکامات اور موجودہ قانونی صورتِ حال کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے۔ جلگاؤں ضلع ایکتا سنگھٹنا کے کنوینر فاروق شیخ عبداللہ، حفاظ تنظیم کے صدر حافظ عبدالرحیم رحیم پٹیل، مولانا حافظ شفیق پٹیل، کل جماعتی کے صدر سید چاند، اے پی سی آر کے صدر عارف دیشمکھ سمیت مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے وزیرِ محصولات سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ، وقف ٹریبونل اور متعلقہ عدالتی کارروائی سے وابستہ دستاویزات بھی پیش کی گئیں۔محضر میں سوال اٹھایا گیا کہ جب معاملہ مختلف عدالتی فورمز پر زیرِ سماعت ہے تو اسی موضوع پر متوازی انتظامی جانچ کس حد تک قانونی طور پر مناسب ہے؟ نمائندوں نے...

دوغلا دوست - از قلم: تحسینہ ماوینکٹی ( تاشہ رانی بنوری)

Image
دوغلا دوست -  از قلم: تحسینہ ماوینکٹی ( تاشہ رانی بنوری) مہمان لیکچرر٬ شعبہ اردو٬ گورنمنٹ کالج برائے خواتین چنتامنی٬ چکبلاپور ضلع کرناٹک۔ انسان کی زندگی میں دوستی ایک خوب صورت اور قیمتی رشتہ ہے۔ دوست وہ ہوتا ہے جس کے سامنے انسان اپنے دل کی بات بے جھجھک کہہ سکتا ہے، اپنی خوشیاں بانٹ سکتا ہے اور اپنے دکھوں کا بوجھ ہلکا کرسکتا ہے۔ ایک مخلص دوست مشکل وقت میں سہارا بنتا ہے، غلطی پر تنہائی میں سمجھاتا ہے، کامیابی پر دل سے خوش ہوتا ہے اور ناکامی کے وقت حوصلہ دیتا ہے۔ لیکن زندگی میں ہر شخص جو خود کو دوست کہتا ہے، حقیقت میں دوست نہیں ہوتا۔ بعض لوگ دوستی کے پردے میں انسان کے قریب آتے ہیں، اس کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، اس کے راز جانتے ہیں اور پھر اسی اعتماد کو اس کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ’’دوغلا دوست‘‘ کی اصطلاح بالکل موزوں ہے۔ دوغلے دوست کی سب سے بڑی پہچان اس کا دوہرا رویہ ہے۔ وہ سامنے سے بے حد مخلص، محبت کرنے والا اور خیرخواہ دکھائی دیتا ہے، لیکن آپ کی غیر موجودگی میں اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔ سامنے آپ کی تعریف اور پیچھے آپ کی برائی، سامنے ہمدردی اور پیچھے تمسخر، ...

قوموں کے عروج اور زوال کے اسباب - تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی

Image
قوموں کے عروج اور زوال کے اسباب -   تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی  9881836729  تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی قوم کے عروج ،ترقی اور کامیابی کاسبب اس کے اپنے تہذیب و تمدن، علم و ادب ،اور بہترین اخلاق کا مظاہرہ ہی رہا ہے۔ اور جو قومیں تنزلی اور ( Demotion) زوال کا شکار رہی ہے علم کی عدم حصولی ،تہذیب و تمدن کا فقدان ،اور اخلاق کو پامال کرنا اس کا سبب بنا ہے۔ (Japan) جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے، جس نے ہر زاویہ سے اپنی صلاحیت کو منوایا ہے، اور دنیا نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ امریکہ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے دو شہر ناگاساکی،اور ہیروشیما پر 1945 میں ایٹمی بم گراے ،جس کے نتیجہ میں جاپان کی معیشت کے بڑے پیمانہ پر تباہی ہوئ ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے۔ ایٹم بم اتنے زہریلے تھے کہ آج بھی اس زمین پر ہریالی بھی نہیں اگتی ۔ جاپان پر یہ قیامت صغری سے کم نہ تھا۔ لیکن جاپان نے بدلہ لینے کے بجاے علم ،ٹیکنالوجی، جدید ( New invention) اختراعات،ایجادات، معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ اپنی ( identification ) شناخت اور تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا۔ اور اپنے آپ کی تعمی...

چٹگوپہ تعلقہ کے منااکھیلی میں واقع قدیم عیدگاہ مسجد کے زیرِ تعمیر شاپنگ کمپلیکس کی چھت کے تعمیری کام کا مولانا معیز الدین رشادی کی رقت انگیز دعا کے ساتھ باقاعدہ آغاز - تقریب میں علاقے کے سیاسی و سماجی رہنماؤں اور علمائے کرام نے بڑی تعداد میں شرکت

Image
منااکھیلی- 4/اکٹوبر (عبدالقدیر لشکری)  چٹگوپہ تعلقہ کے منااکھیلی میں واقع قدیم عیدگاہ مسجد کے زیرِ تعمیر شاپنگ کمپلیکس کی چھت کے تعمیری کام کا آج بروز اتوار مولانا معیز الدین رشادی کی رقت انگیز دعا کے ساتھ باقاعدہ آغاز ہوا اس تقریب میں علاقے کے سیاسی و سماجی رہنماؤں اور علمائے کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب محمد یوسف علی جمعدار سابق صدر گرام پنچایت منااکھیلی نے منصوبے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی انہوں نے بتایا کے سال 2017 میں کرناٹک اسٹیٹ وقف بورڈ کے اس وقت کے رکن جناب نورالدین مستان صاحب کی مخلصانہ نمائندگی پر اس وقت کے ریاستی وزیر جناب تنویر سیٹھ نے عیدگاہ شاپنگ کمپلیکس کے لیے 1 کروڑ روپے کی رقم منظور کی تھی جس میں سے 62 لاکھ 50 ہزار روپے جاری کیے جا چکے ہیں تاہم باقی فنڈز ابھی تک موصول نہیں ہوئے ہیں انہوں نے موجودہ ریاستی وزیر برائے اقلیتی بہبود و وقف جناب یو ٹی قادر سے پرزور اپیل کی کے وہ باقی رقم 37 لاکھ 50 ہزار روپے فوری منظور کر کے اس ترقیاتی کام کو مکمل کرنے میں تعاون کریں جناب یوسف علی نے مزید بتایا کے پہلے مرحلے میں 16 دکانوں کی تعمی...

نواسی اریبہ شہوار کے لئے - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔

Image
نواسی اریبہ شہوار کے لئے -  میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔  پیاری پیاری ہے اریبہ شہوار  ہاں نواسی ہے اریبہ شہوار  اپنے ابو کو ہمیشہ چاہے پانی لاتی ہے اریبہ شہوار اپنے ماموں کی ہے بھانجی لیکن  ماں کی بیٹی ہے اریبہ شہوار یاد دادی کوکیاکرتی ہے  میری نانی ہے اریبہ شہوار  پنک جوڑے میں ہے سب کو بھائے   سب کی ڈولی ہے اریبہ شہوار  دل نہیں لگتا کبھی نانی کا  وہ نواسی ہے اریبہ شہوار اپنی انی کی ہے پیاری گڑیا  ایسی بھانجی ہے اریبہ شہوار اپنے ناناکے قریں رہتی ہے  ہاں دُلاری ہے اریبہ شہوار

غزل - میرؔبیدری

Image
غزل  -   میرؔبیدری  میرؔکچھ کام کرکے اٹھ جائیں  خود کو بدنام کرکے اٹھ جائیں  اپنے دل پر بھروسہ رکھتے ہو  دل سے اقدام کرکے اٹھ جائیں  سامنے ہی وزیراعظم ہیں  خود کو بے دام کرکے اٹھ جائیں  یہ تو دارالعمل ہے میرے دوست  کیسے آرام کرکے اٹھ جائیں  بیٹھنے کے لئے ملی ہے نشست  اس کااِکرام کرکے اٹھ جائیں  کوئی اپنا وہیں پہ رہتاہے  ہاں سرِ شام کرکے اٹھ جائیں  وہ نظر آئے شرط یہ ہے نہیں  بس لب ِ بام کرکے اٹھ جائیں  اب کہ مولانا سے کہاسب سے  کوئی الہام کرکے اٹھ جائیں  وہ نہایت ہی نیک لوگ ہیں میرؔ مجھ پہ دشنام کر کے اٹھ جائیں

اردو اسکولوں، اسکالرشپ اور اردو اکیڈمی کے مسائل پر ثناء ملک سے فرید احمد خان کی اہم ملاقات - اردو بھون، کتب خانہ اور اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر کے قیام کا مطالبہ

Image
ممبئی، 3 اکتوبر: (راست) انوشکتی نگر اسمبلی حلقہ کی رکن اسمبلی محترمہ ثناء ملک سے اردو کارواں ممبئی کے صدر فرید احمد خان اور ایم۔ اے۔ قمر ناز نے انوشکتی نگر واقع ان کے دفتر میں ملاقات کرکے اقلیتی برادری، اردو اسکولوں، طلبہ اور اردو زبان و ادب سے متعلق مختلف اہم مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں اردو اسکولوں کی صورتحال، اسکالرشپ، اردو اکیڈمی، روزگار، ہنرمندی کی ترقی، اوقاف کی املاک اور اقلیتی بہبود کے مختلف امور زیرِ بحث آئے۔ فرید احمد خان نے ممبئی میونسپل کارپوریشن (BMC) کے اردو اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کے فقدان اور انتظامی دشواریوں کی جانب ثناء ملک کی توجہ مبذول کراتے ہوئے خالی اسامیوں کو فوری طور پر پُر کرنے اور اردو میڈیم طلبہ کو ضروری تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایم۔ اے۔ قمر ناز نے اقلیتی طلبہ کے لیے پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ جلد شروع کرنے کے ساتھ مولانا آزاد اسکالرشپ اور مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن کی تعلیمی و کاروباری قرضہ اسکیموں میں طلبہ اور مستحق افراد کو درپیش ت...

بی ایچ ایم ایس کے آخری سال میں مہک سکندر آرکاٹے کی شاندار کامیابی

Image
ہرنائی : (راست) محترمہ مہک سکندر آرکاٹے نے BHMS (بیچلر آف ہومیو پیتھک میڈیسن اینڈ سرجری) کے آخری سال کا امتحان کامیابی سے پاس کیا اور شاندار کامیابی حاصل کی۔ اس شاندار کامیابی پر انہیں ہر سطح سے مبارکباد اور سراہا جا رہا ہے۔ مہک نے یہ کامیابی اپنے تعلیمی سفر کے دوران محنت، عزم، استقامت اور مسلسل کوششوں کے بل بوتے پر حاصل کی ہے۔ اس کی کامیابی پر اس کے اہل خانہ، رشتہ داروں، دوستوں اور تدریسی عملے میں خوشی کی فضا ہے۔ آل انڈیا اردو ٹیچرس اسوسی ایشن، مہاراشٹر ریاستی نائب صدر جناب مبین کمال الدین بامنے سر اور بامنے خاندان کی جانب سے محترمہ مہک سکندر آرکٹے کو ان کی کامیابی کے لیے تہہ دل سے مبارکباد پیش کی گئی۔ ساتھ ہی ان کے مستقبل کے طبی کیریئر کے لیے دلی خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ اس بات کا اظہار کیا گیا کہ مہک اپنے علم اور ہنر کو مستقبل میں معاشرے کی خدمت کے لیے استعمال کرے اور میڈیکل کے شعبے میں کامیابی کی نئی بلندیوں تک پہنچے۔ بامنے سر اور بامنے خاندان نے ان کے مستقبل کے سفر کے لیے ان کے روشن مستقبل، طبی میدان میں بڑی کامیابی اور خوشحالی کی خواہش کی۔

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام — ایک عظیم سائنس داں اور رہنما - تحریر : حاجی محمد فضل الحق ابنِ محمد سلیم الحق صدیقی۔( معلمِ ) یاسر اردو ہائی اسکول، سیلو، ضلع پربھنی، مہاراشٹر-

Image
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام — ایک عظیم سائنس داں اور رہنما -  تحریر :  حاجی محمد فضل الحق  ابنِ محمد سلیم الحق صدیقی۔ ( معلمِ )  یاسر اردو ہائی اسکول، سیلو،  ضلع پربھنی، مہاراشٹر- 9970011948 ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ہندوستان کی جدید تاریخ کی ایک ایسی درخشاں شخصیت تھے جنہوں نے علم، کردار اور عمل کے ذریعے قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ایک عظیم سائنس داں، باصلاحیت منتظم، سچے محبِ وطن، کامیاب مصنف اور ہندوستان کے گیارھویں صدر جمہوریہ تھے۔ ان کی زندگی جدوجہد، خود اعتمادی اور مسلسل محنت کی روشن مثال ہے، جو خصوصا نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ڈاکٹر عبدالکلام کا پورا نام اول پکیر جین العابدین عبدالکلام تھا۔ آپ کی پیدائش 15 اکتوبر 1931ء کو تمل ناڈو کے مقدس ساحلی شہر رامیشورم میں ایک غریب مگر دیندار مسلمان خاندان میں ہوئی۔ آپ کے والد جین العابدین ایک نہایت سادہ، دیانت دار اور خدا ترس انسان تھے، جبکہ والدہ اشماں بی بی صبر، محبت اور خدمت کا پیکر تھیں۔ گھر کی معاشی حالت کمزور تھی، مگر والدین کی تربیت نے عبدالکلام کے کردار میں قناعت، مح...

شادی کی تاریخ طے کرنے آئے تھے، 14 منٹ کی گفتگو نے مجلس کو نکاح میں بدل دیا - سہیل امیر شیخ کی تجویز پر دونوں خاندانوں کا فوری اتفاق، سادگی اور آسان نکاح کا عملی نمونہ پیش۔

Image
(یاول،ضلع جلگاوں) 3 اکتوبر :  جلگاؤں ضلع کے یاول تعلقہ میں گزشتہ روز ایک ایسی سادہ اور بابرکت شادی کی مجلس منعقد ہوئی جو نکاح کو آسان بنانے، غیر ضروری رسومات سے بچنے اور لڑکی والوں پر شادی کا اضافی بوجھ نہ ڈالنے کے حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال بن گئی۔ تفصیلات کے مطابق 2 اکتوبر کی شام فیض پور سے قاضی خاندان کے افراد، قاضی ہارون رشید کے صاحبزادے قاضی مبشر اور دیگر اہلِ خانہ کے ہمراہ یاول پہنچے تھے۔ ان کی آمد کا مقصد یاول میں مقیم عبدالرحیم خان کی دختر اور میونسپل کونسلر قادر خان و ڈاکٹر بشیر کی بھتیجی کے نکاح کے سلسلے میں شادی کی حتمی تاریخ طے کرنا تھا۔ مجلس میں دونوں خاندانوں کے ذمہ داران اور قریبی افراد موجود تھے۔ بظاہر یہ ایک معمول کی مشاورتی نشست تھی، جہاں آئندہ شادی کی تاریخ اور تقریبات کے حوالے سے گفتگو ہونا تھی، تاہم مجلس نے اس وقت ایک نیا رخ اختیار کیا جب خاندیش کی معروف شخصیت جناب سہیل امیر شیخ صاحب نے دونوں خاندانوں سے نکاح کو آسان بنانے کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ جب دونوں خاندان رشتۂ نکاح پر رضامند ہیں اور متعلقہ افراد بھی موجود ہیں تو غیر ...

کائنات، زمین، انسان اور زلزلہ - تاریخِ حیات کی روشنی میں ایک جائزہ - ازقلم : شیخ محمود علی لیکچرر۔

Image
کائنات، زمین، انسان اور زلزلہ -  تاریخِ حیات کی روشنی میں ایک جائزہ -  ازقلم : شیخ محمود علی لیکچرر۔ 8055402819 انسان جب کسی بڑے قدرتی واقعے، خصوصاً زلزلے سیلاب یا آتش فشاں کے سامنے آتا ہے تو اس کے ذہن میں مذہبی فلسفیانہ اور سائنسی سوالات بیک وقت پیدا ہوتے ہیں۔ بعض لوگ فوراً اسے انسانی گناہوں کا نتیجہ قرار دے دیتے ہیں، مگر اگر ہم کائنات، زمین اور حیات کی پوری تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو تصویر کہیں زیادہ وسیع دکھائی دیتی ہے۔ سائنسی اندازوں کے مطابق کائنات کی عمر تقریباً 13.8 ارب سال ہے۔ ہمارا سورج اور شمسی نظام اس کے بہت بعد، تقریباً 4.6 ارب سال قبل وجود میں آئے۔ زمین بھی تقریباً 4.5 سے 4.6 ارب سال پہلے تشکیل پائی۔ گویا کائنات کی عمر کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا تھا جب نہ زمین موجود تھی، نہ انسان اور نہ انسانی تہذیب۔ ابتدائی زمین آج کی زمین جیسی پُرسکون نہ تھی۔ اس پر شہابی اجسام گرتے تھے، آتش فشانی سرگرمیاں شدید تھیں، زمین کی پرتیں بنتی، ٹوٹتی اور حرکت کرتی تھیں۔ کروڑوں اور اربوں برس کے دوران یہی ارضیاتی عمل پہاڑوں، سمندروں براعظموں اور زمین کی موجودہ ساخت کی تشکیل کا سبب بنے...

استاد نہیں بدلا، ہم نے استاد کو بدل دیا!

Image
استاد نہیں بدلا، ہم نے استاد کو بدل دیا! کل ایک عزیز نے کہا: "اب پہلے جیسے استاد ہی نہیں رہے۔" یہ جملہ بظاہر ایک شکایت ہے، مگر ذرا ٹھہریے اور سوچیے کہ کیا واقعی استاد بدل گیا ہے؟ یا ہم نے اس کے گرد ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس نے اسے بدلنے پر مجبور کر دیا؟ ایک زمانہ تھا جب استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا تھا، بلکہ کردار بناتا، آداب سکھاتا اور زندگی گزارنے کا سلیقہ دیتا تھا۔ شاگرد استاد کی بات غور سے سنتا، اس کی ڈانٹ میں بھی خیر خواہی تلاش کرتا اور والدین بھی بچے کی اصلاح میں استاد کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ آج صورتِ حال بڑی حد تک بدل چکی ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ نے علم تک رسائی آسان کر دی ہے۔ یہ ایک بڑی نعمت ہے، لیکن بعض اوقات اسی سہولت نے معلومات کو علم اور خود اعتمادی کو بدتمیزی میں بدل دیا ہے۔ آج بعض طلبہ استاد کی بات سمجھنے کے بجائے فوراً گوگل سے دلیل تلاش کرتے ہیں۔ مسئلہ سوال کرنے کا نہیں، سوال کے ساتھ ادب ختم ہونے کا ہے۔ دوسری طرف بعض والدین بھی بچے کی ہر غلطی کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ استاد اصلاح کرے تو شکایت، سختی کرے تو اعتراض اور نمبر کم دے تو الزام۔ یوں استاد کے ہاتھ...

گاندھی جی کے تصور صفائی میں باطن باطن کی پاکیزگی، اتحاداور انسانی اخوت کا پیغام پوشیدہ ہے: خیرالدین شیخانجمن اسلام دھارواڑ میں مہاتما گاندھی جینتی اور لال بہادر شاستری جینتی پر جوش انداز میں منائی گئی

Image
گاندھی جی کے تصور صفائی میں باطن باطن کی پاکیزگی، اتحاداور انسانی اخوت کا پیغام پوشیدہ ہے: خیرالدین شیخ انجمن اسلام دھارواڑ میں مہاتما گاندھی جینتی اور لال بہادر شاستری جینتی پر جوش انداز میں منائی گئی دھارواڑ، 2 اکتوبر 2026: انجمن اسلام دھارواڑ کے احاطے میں منعقدہ مہاتما گاندھی جینتی اور لال بہادر شاستری جینتی کے موقع پر بحیثیت مہمانِ خصوصی الحاج خیرالدین شیخ رکن ایجوکیشن بورڈنے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بسنے والے ہندو، مسلمان اور دیگر تمام طبقات کے درمیان یہ احساس پیدا ہونا چاہیے کہ ہم سب ایک ہیں اور باہمی اتحاد، بھائی چارہ اور ہم آہنگی ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ مہاتما گاندھی کے تصورِ صفائی کا اصل پیغام بھی یہی تھا کہ معاشرے کو ظاہری صفائی کے ساتھ ساتھ نفرت، تعصب اور تفریق سے پاک کیا جائے۔ خیرالدین سر نے کہا کہ گاندھی جی کے نزدیک صفائی کا تصور صرف کچرے کو صاف کرنے یا ماحول کو پاک رکھنے تک محدود نہیں تھابلکہ وہ دل، ذہن، زبان، کردار، نیت اور عمل کی پاکیزگی کو بھی صفائی کا لازمی حصہ سمجھتے تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی تبدیلی...