ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر: محرومی سے عظمت تک کا سفر(امبیڈکر کا فلسفہ: مساوات آزادی کا عالمی منشور)۔ ازقلم: اسماء جبین فلک۔
ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر: محرومی سے عظمت تک کا سفر (امبیڈکر کا فلسفہ: مساوات آزادی کا عالمی منشور) ازقلم: اسماء جبین فلک۔ موؤ کے اسکول میں ایک پانی کا گھڑا تھا اور وہ گھڑا ایک بچے کے لیے نہ تھا، وہی بچہ جو ایک دن اس قوم کا آئین لکھے گا مگر وہ گھڑا پھر بھی اپنی جگہ پر موجود رہے گا۔ چودہ اپریل 1891 کو مدھیہ پردیش کے قصبے موؤ میں جو بچہ پیدا ہوا، اسے مہار ذات میں آنکھ کھولتے ہی وہ سزا مل گئی جو اس نے کوئی جرم کیے بغیر پائی تھی۔ وہاں پانی کا گھڑا الگ تھا، استاد کتاب ہاتھ سے نہ دیتا تھا اور کلاس روم کا دروازہ بند رہتا تھا۔ ذات پات کا یہ نظام کوئی سادہ سماجی رسم نہیں تھا بلکہ یہ ایک مکمل سیاسی معیشت تھی جو کروڑوں انسانوں کو پیدائش کی بنیاد پر تاحیات محکومی میں جکڑے رکھتی تھی اور جسے مذہب کی مہر سے الوہی جواز ملا ہوا تھا۔ مگر اس بچے کے ذہن میں ایک سوال جنم لیتا رہا اور سوال کرنے والا ذہن کبھی مکمل طور پر غلام نہیں رہتا۔ جولائی 1913 میں بھیم راؤ رام جی امبیڈکر بڑودہ کے مہاراجا کے وظیفے پر کولمبیا یونیورسٹی نیویارک پہنچے جہاں اگلے تین سال انہوں نے وہاں کی لائبریری میں ہر رات دیر ...