ایک کہکشاں ذمیں پر۔ ازقلم : مسرورتمنا۔
ایک کہکشاں ذمیں پر۔ ازقلم : مسرورتمنا۔ رعنا تبریز تم ان سب چکر میں پڑ کر ھمارے وجود کو بھول رہی ہو ھارون نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا. تم ایک لکھاری ہو کیا یہ کافی نہیں کے میں نے.. ...................... کامیابی ملے گی.مجھے. ھارون میں انہیں تلاش کر رہی ہوں جو گمنامی اور حالات کے اندھیرے میں کھو گیے ہیں تم اپنی ذندگی کا مقصد پیشہ کمانا نام گھر اور فیملی بنانا سمجھتے ہو میں تم سے الگ ہوں ایک درد لے کر جی رہی ایک مقصد ہے شادی کی جلدی نہیں مجھے وہ اپنی گاڑی لے کر آگے بڑھ گی انکار کرنا چاہو تو دور ہوجاو ارے نہیں ھارون اسکے برابر آکر بیٹھ گیا. ... بہت تلاش کے بعد ایک عظیم شخصیت کا پتہ ملا تھا جسے لوگ دوست شاید ذمانہ سب بھول چکے تھے جو صرف اپنے کتابوں میں ذندہ تھے پرویز مہتاب جنکے معیاری افسانے برسوں پہلے اردو کے معیاری رسایل اور اخبارات کی زینت تھے انکے فین انہیں خطوط لکھ کر جواب کا بے چینی سے انتظار کرتے تھے اور جواب وہ کسی رسالے کے ذریع دیتے اور وہ شخصیت جو گم ہو چکی تھی رعنا تبریز ان سے ملنے کی ام...