Posts

بندش (افسانہ) ازقلم : مسرورتمناپونا مہاراشٹر انڈیا۔

Image
بندش (افسانہ)  ازقلم : مسرورتمنا پونا مہاراشٹر انڈیا۔ راج کو وہ بہت اچھی لگی اسکی معصومیت سادگی  راج نے دیکھا. کے سارے  کلیگ آپس میں گھل مل کر رہتے. مگر . وہ خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھی کام کر رہی تھی شانتی اپنی نام کی طرح شانتی سے دفتر آتی اپنا کام کرتی اور شانتی سے چلی جاتی یہ اور بات تھی خاموشی سے وہ ہلچل.کرتی تھی جوان دل کو آشانت مگر اسکےچہرے کی معصومیت دیکھکر کو ئ کچھ نا کہ پاتا .. .... مگر.. .     .........آج وہ پھوٹ پھوٹ کر روئ تھی مہادیو کے سامنے نہیں کہونگی کچھ نہیں کہونگی کیونکہ لوگوں کی حرکتوں سے عجیب وغریب سوالوں سے میں تنگ ہوں کل راج نے میرا راستہ روک لیا کہ رہا تھا دکھ ہر کسی کے نصیب میں ہوتا اپنا دکھ سب کو دکھانا تو ضروری نہیں چہرے پر اتنی اداسی بھر لو کے ذمانہ غمگین ہوجاے ارے . یہ بھی کوی ذندگی ہے. ... ھنس کے جیو کھل کے جیو لوگوں پر چھا جاو اپنی چھاپ سے انکے دل کو رنگین کردو ایسی ہی عورت ترقی کے میدان میں آگے بڑھتی ہے..... میری غیرت کو اس نے للکارا اور میں ٹوٹ گی چپ کرو تمھاری بکواس ختم ہوئ ہو تو میں کچھ کہوں شانتی کی ...

عازمین کی سیفٹی اور سکیورٹی کے لیے"حج پرمٹ" کی پابندی ضروری - وزارت حج۔

Image
 ریاض ۔ کے این واصف : سعودی حکومت کی جانب سے سخت سزاؤں کے اعلان کے باوجود کچھ لوگ بغیر اجازت نامہ حاصل کئے بغیر حج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ قانونی طور پر آئے حجاج کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔   وزارتِ حج و عمرہ نے کہا ہے کہ عازمین کی سیفٹی اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے “حج پرمٹ” کی پابندی ضروری ہے۔  ضوابط پر عمل کرنے سے عازمین کو آسانی اور سہولت کے ساتھ مناسک کی ادائیگی میں مدد ملتی ہے جبکہ حج سیزن کے دوران منظم موومنٹ اور استحکام کو بھی فروغ ملتا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق وزارتِ حج نے بیان میں کہا کہ پرمٹ کا مقصد ازدحام کو منظم کرتے ہوئے عازمین کو بہترین خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ وزارت نے حج قوانین و ضوابط پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ قوانین کی خلاف ورزی نہ صرف سخت سزاوں کا باعث بنتی ہیں بلکہ عازمین کی سلامتی اور خدمات کی موثر فراہمی کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔ وزارت نے عازمین پر زور دیا کہ سفر حج سے پہلے اپنے اجازت ناموں کی تصدیق کرلیں، مقامی قوانین و ضوابط ک...

عزمِ مصمم اور مسلسل جدوجہد لائی رنگ: فیضان زرگر اب ہوئے ’ڈاکٹر فیضان، ​اوسہ کے اردو ٹیچر کے فرزند نے جی ایم سی گوندیا سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کر لی۔

Image
​لاتور (محمد مسلم کبیر): کہتے ہیں کہ اگر ارادے بلند ہوں اور جستجو سچی ہو تو منزل قدم چومتی ہے۔ اس قول کو سچ کر دکھایا ہے ضلع لاتور کے قصبہ اوسہ سے تعلق رکھنے والے فیضان زرگر نے، جن کی انتھک محنت اور تعلیمی لگن نے انہیں آج ڈاکٹر کے باوقار منصب پر فائز کر دیا ہے۔ ​تعلیمی سفر اور نیٹ (NEET) میں کامیابی: فیضان زرگر بچپن ہی سے غیر معمولی تعلیمی صلاحیتوں کے حامل رہے ہیں۔ بارہویں کے بعد ان کا خواب میڈیکل کے شعبے میں جانا تھا، جس کے لیے انہوں نے 'نیٹ' کے امتحان میں مطلوبہ نمبرات حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔ کئی نشیب و فراز کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر اپنی ضد اور محنت کے بل بوتے پر گورنمنٹ میڈیکل کالج (GMC) گوندیا میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ​والدین کی قربانیاں: فیضان کے والد، زرگر شیخ محمد ذاکر، جو کہ اردو پرائمری اسکول میں بطور معلم اپنی خدمات انجام دے کر سبکدوش ہو چکے ہیں، اپنی اولاد کے خوابوں کی تکمیل کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود والدین نے معاشی تنگی کو فیضان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا اور ہر مم...

گلبرگہ کے ادب ساز — گلبرگہ کے قلمکاروں پر ڈاکٹر انیس صدیقی کا کارنامہ۔ - ازقلم : واجد اختر صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک۔

Image
گلبرگہ کے ادب ساز — گلبرگہ کے قلمکاروں پر ڈاکٹر انیس صدیقی کا کارنامہ۔ -  ازقلم : واجد اختر صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک۔ 9739501549 ڈاکٹر انیس صدیقی غیر معمولی صلاحیتوں سے مالامال ایک ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے۔ ان کی ذات کے کئی روشن پہلو ہیں۔ جہاں وہ ایک ممتاز محقق، معتبر اشاریہ ساز، منفرد تدوین کار اور سنجیدہ تنقید نگار ہیں، وہیں ایک عمدہ خاکہ نگار کی حیثیت سے بھی اردو ادبی دنیا میں اپنی مستحکم شناخت قائم کر رہے ہیں۔ صحافت، خصوصاً ادبی صحافت سے ان کا گہرا اور مضبوط رشتہ ہے۔ ان کی ادارت میں شائع ہونے والا ڈیجیٹل ویکلی اخبار "قلمکدہ" اردو حلقوں میں ایک خوشگوار ہلچل پیدا کر رہا ہے، جس سے ان کی مدیرانہ صلاحیتیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ ڈاکٹر انیس صدیقی کی اب تک کم و بیش ایک درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں "کرناٹک میں اردو صحافت" (2005)، "شب خون کا توضیحی اشاریہ" (جلد اول و دوم، 2017) اور "اشاراتِ صحافت" (2020) خاص طور پر مقبول اور اہم تصنیفات کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ "گلبرگہ کے ادب ساز" انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کے زیر اہتمام سن ...

لوک ساہتیہ منچ نے ادب کے قیمتی موتیوں کو پروکر قومی یکجہتی کا خوبصورت ہار بنایا ہے - روح پرور و ادب نواز سر زمین پر منچ کا قیام اور ادبی مصروفیات لائقِ تحسین و قابلِ تقلید - صدر سمیتی ادبی، سماجی ،تہذیبی اور تاریخی سرگرمیوں کی ایک فعال و متحرک شخصیت - ڈاکٹر ماجد داغی ، سی این بابل گاؤنکر و اشوک گروجی کا خطاب۔

Image
کلبرگی 28 / اپریل. (راست) لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ مختلف زبانوں ، مذاہب ، مختلف الخیال، مختلف عقائد و علاقوں سے تعلق رکھنے والے شعراء ادباء ، صحافی اور ممتاز دانشوروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتے ہوئے قومی یکجہتی کیلئے ایک بے مثال اور ناقابل فراموش خدمات انجام دے رہا ہے ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ماجد داغی صدر لوک ساہتیہ منچ نے کرناٹک ہندی پرچار سبھا کے ادبی اجلاس ہال میں منعقدہ ہمہ لسانی ادبی اجلاس سے اپنے صدارت خطاب میں کیا انہوں نے کہا کہ گلبرگہ کی بنیاد ہی قومی یک جہتی پر مبنی ہے کہ اس شہر کا اولین حکمران حسن گنگو بہمنی نے جب گلبرگہ کو اپنا یایہ تخت بنایا تو اپنے برہمن استاد کو مالیہ کا اہم قلمدان عطا کیا اور اپنے نام کے ساتھ استاد کے نام کو جوڑ لیا ۔ انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوک ساہتیہ منچ میں شامل تمام قلمکار اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ریاستی و قومی سطح پر اپنی پہچان رکھنے والے ہیں ۔ گویا منچ نے ادب کے قیمتی موتیوں کو پروکر قومی یکجہتی کا ایک خوبصورت ہار بنایا ہے ۔ اس طرح لوک ساہتیہ منچ کی ادبی سرگرمیاں دراصل باہمی میل جول ، قومی یکجہتی اور اخوت کو فروغ دینے وال...

ماؤں کے دشمن کبھی اولادوں کے خیر خواہ نہیں ہوتے - از قلم: تحسینہ ماوینکٹی۔

Image
ماؤں کے دشمن کبھی اولادوں کے خیر خواہ نہیں ہوتے -  از قلم: تحسینہ ماوینکٹی۔ انسانی تہذیب کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جہاں کہیں بھی خاندان مضبوط رہا، وہاں معاشرہ مستحکم، اخلاقی اقدار بلند اور انسانی رشتے متوازن رہے، اور جہاں خاندان کمزور ہوا وہاں انتشار، بے راہ روی اور اخلاقی زوال نے جنم لیا۔ اس پورے نظام میں اگر کسی ایک ہستی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے تو وہ ماں ہے۔ ماں صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک مکمل ادارہ ہے جو محبت، قربانی، تربیت، شعور اور تہذیب کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ جملہ کہ “ماؤں کے دشمن کبھی اولادوں کے خیر خواہ نہیں ہوتے” محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک گہری سماجی، نفسیاتی، اخلاقی اور تاریخی حقیقت ہے جسے ہر دور میں سچ ثابت ہوتے دیکھا گیا ہے۔ بچے کی شخصیت کی تعمیر پیدائش کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، اور اس ابتدائی تشکیل میں ماں کا کردار سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ ماں کی گود وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچہ بولنا سیکھتا ہے، محبت کو محسوس کرتا ہے، اچھے اور برے کی تمیز حاصل کرتا ہے اور دنیا کو دیکھنے کا زاویہ اختیار کرتا ہے۔ اگر اس درسگاہ کو ک...

وانیمباڑی میں تین اردو اساتذہ کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد۔

Image
وانیامباڑی ، تاریخ: 27 اپریل 2026 (محمد رضوان اللہ کے ذریعے) وانیمباڑی میں تین اردو اساتذہ کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی۔ ضلع تروپتور کے ناٹرامپلی سرکل کے تحت، وانیامباڑی میونسپل شاخ، تمل ناڈو پرائمری اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام ریٹائر ہونے والے تین اساتذہ کے لیے تعریفی تقریب پیر کی صبح 10 بجے میونسپل ہندو پرائمری اسکول، گاندھی نگر کے میدان میں نہایت اہتمام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت شہری صدر کے. کرشنمورتی نے کی۔ خواتین ونگ کی سیکریٹری جائبن النساء اور خزانچی شاہین سلطانہ نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ضلع صدر و شہری سیکریٹری پو. مروگیشن نے تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے خیرمقدمی کلمات پیش کیے۔ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی ناٹرامپلی بلاک ایجوکیشن آفیسرز ایم. ادے شنکر، اے. سروی نن اور سید مجیب الرحمن نے شرکت کی اور اپنے تہنیتی خطابات پیش کیے۔ اس موقع پر میونسپل اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز اور اساتذہ، جن میں روز لیڈیا، دھنارانی، ویل وِژی، ساجدہ بیگم، یوورانی، گیاناسیکر، رمیش، ٹیچر ٹرینر ویتری ویل، رمیش، اجمل، نبیل احمد اور دیگر شامل تھے، ...

اردو میڈیم کی طالبہ لاونیاکی دہم جماعت کے اُردوپرچہ میں صدفیصد نشانات سے شاندار کامیابی، یارانِ ادب اور مسلم سماج بھالکی کی جانب سے اعزاز۔

Image
بھالکی۔ 27/اپریل(نامہ نگار) بھالکی کی ہونہار طالبہ لاونیا بنت گنڈپا کو اُردو مضمون میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے پر یارانِ ادب بھالکی اور مسلم سماج بھالکی کی جانب سے حسینی مسجد بھالکی کے احاطہ میں 26/اپریل اتوار کی سہ پہر ایک پروقار تقریب میں ”محمد عطا اللہ ایوارڈ“،سر ٹیفکیٹ اور 11,000 روپے نقد انعام سے نوازا گیا۔اس موقع پر جامع مسجد بھالکی کے امام و خطیب حضرت مولانا جلال الدین صاحب، یارانِ ادب بیدر کے سکریٹری جناب محمدیوسف رحیم بیدری، ریٹائرڈ بی سی او ڈائریکٹر جناب عنایت علی شندے، ”کروٹا“ (KRUTA) کے صدر جناب انصار اللہ بیگ، جناب محمد اسلم صاحب مدرس، ایڈوکیٹ بابو راؤ گاما، تعلقہ کانگریس کمیٹی کے صدر شیخ نصیر الدین اور صدر حسینی مسجد جناب سلیم چوہدری کا شال پوشی اور گل پوشی کے ساتھ والہانہ استقبال کیا گیا۔ مقررین کے خطاب کے اہم نکات:۔ جناب انصار اللہ بیگ (صدر کروٹا) نے کہا کہ لاونیا نے اُردو میں اعلیٰ نمبرات حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ زبان کا کسی خاص مذہب سے تعلق نہیں ہوتا۔ انہوں نے دعا دی کہ اللہ تعالیٰ لاونیا کو مزید کامیابی عطا کرے اور کہا کہ اس کامیابی کی صدر اب بن...

نواۓ امت و تقدیر جہاں۔ - ازقلم : صوفی حضرت عثمان جوہری، جلگاؤں۔

Image
نواۓ امت و تقدیر جہاں۔ -  ازقلم : صوفی حضرت عثمان جوہری، جلگاؤں۔  قدرت کی بھی اس آب رواں پر ہے حکومت صدیوں سے ہوئی دجلہ و قلزم پہ جہالت  پابندیء موسم بھی یہ آلات فسوں کیوں  زرطشت کی آنکھوں میں ہے ایراں کی خضالت یہ باغ یمن کیا ہے چمن دل کا سکوں بھی یہ خطہ ایران عرب اصل وطن بھی پایا ہے شہیدوں نے یہ کلمات کی حد میں ظلمات کی آتش میں جھلستے ہیں بدن بھی منظر ہے قیامت کا فلسطین کے اندر ظلمات کی گردش میں ہوا غرق سمندر اوصاف کہیں بنتے ہیں عظمت کے لہو سے تفسیرِ کے اوراق میں لکھا ہے مقدر اک نور بصد شام نظر قبلہء اول ترمیم قیادت بہ عمل ہود کا ہیکل کیا مذہب و ملت کا تقاضا بھی یہی ہے کیا روح رواں جان ہدف رہتی ہے بیکل کیا حال زمانہ بھی ہے تقدیر کی قد میں  الفت بھی کہاں رہتی ہے زنجیر کی حد میں  وہ خوئے انا جس کا تقدس ہے تفکر  غازی کا یقیں نور ہے جنت ہے لحد میں کس درجہ زمیں دوز یہ فتنہ ہے جہاں پر یہ کیسے بڑی بات یہاں قوم نشاں پر گلشنِ میں گل و خار نظر آتے ہیں یکجا  توحید کی منزل میں تو کلمہ ہے زباں پر  سقراط سے بقرات ارسطو سے فلاطوں کیا رمز خدا دا...

اردو صحافت: زوال، سوالات اور میرا ادھورا خواب۔۔ سید فاروق احمد قادری۔

Image
اردو صحافت: زوال، سوالات اور میرا ادھورا خواب۔  سید فاروق احمد قادری۔ میری کتاب “سلگتے احساس” ہو یا گزشتہ کئی برسوں سے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے میرے مضامین—یہ سب محض الفاظ نہیں بلکہ ایک طویل فکری اور عملی سفر کی کہانی ہیں۔ میں نے صرف 13 برس کی عمر میں لکھنا شروع کیا تھا، اور آج دہائیوں بعد بھی قلم سے میرا رشتہ قائم ہے۔ کچھ لوگ مجھے نیا لکھاری سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسی میدان کو دیا ہے۔ آج بھی لکھتے وقت وہی سچائی، وہی درد اور وہی احساس میرے الفاظ میں جھلکتا ہے—فرق صرف اتنا ہے کہ اب تجربہ زیادہ گہرا ہو چکا ہے۔ اس وقت میں اپنی خودنوشت پر کام کر رہا ہوں، جس کے کئی ابواب مکمل ہو چکے ہیں اور ان شاء اللہ جلد منظرِ عام پر آئے گی۔ یہ محض ایک کتاب نہیں ہوگی بلکہ ایک دور، ایک سوچ اور ایک جدوجہد کا عکس ہوگی۔ آج کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اردو صحافت کا اصل کردار کہاں کھو گیا؟ ایک زمانہ تھا جب اردو صحافت صرف خبریں نہیں دیتی تھی بلکہ: عوام میں شعور بیدار کرتی تھی سوالات اٹھاتی تھی حق کا راستہ دکھاتی تھی اس دور کی صحافت میں جرات بھی تھی اور ...

جلگاؤں؛ سلیمان خان موب لنچنگ معاملہ جوابدہی پر اٹھتے سوالات۔

Image
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): جامنیر میں پیش آئے سلیمان خان موب لنچنگ کیس میں 90 دن کے اندر چارج شیٹ داخل نہ کیے جانے کے باعث چار ملزمین کو حاصل ہونے والی ڈیفالٹ ضمانت نے عدالتی اور انتظامی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اس فیصلے کے خلاف دائر عرضداشت میں ترمیم کرتے ہوئے مرکزی شکایت کنندہ فریق اور“ایکتا سنگھٹنا” کی جانب سے ہائی کورٹ میں مؤثر پیروی کی گئی۔ اورنگ آباد بنچ نے 23 اپریل کو سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے متعلقہ تین افسران جامنیر کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار، ایس آئی ٹی سربراہ اور مقامی پولیس انسپکٹر، کو نوٹس جاری کر کے جوابدہی طے کرنے کی سمت ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ عدالت کی اس فعال مداخلت کے بعد انتظامی حلقوں میں ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ جلگاؤں سیشن کورٹ میں بھی ڈیفالٹ ضمانت کی منسوخی کے لیے عرضداشت زیرِ سماعت ہے، تاہم تاحال کوئی ٹھوس فیصلہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔ اس تاخیر پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے “ایکتا سنگھٹنا” کے عہدیداران نے اسے “انصاف میں تاخیر، انصاف سے محرومی” قرار دیا ہے۔ یہ پورا معاملہ نہ صرف مقامی عدالتی عمل بلکہ پولیس اور انتظامیہ کے باہمی تال میل پر ...

ویلور: ویلور گورنمنٹ مسلم ہائیر سیکنڈری اسکول کے اردو اساتذہ کی سبکدوشی (ریٹائرمنٹ) کے موقع پر ایک باوقار تقریب کا انعقاد

Image
ویلور: ویلور گورنمنٹ مسلم ہائیر سیکنڈری اسکول کے اردو اساتذہ کی سبکدوشی (ریٹائرمنٹ) کے موقع پر ایک باوقار تقریب کا انعقاد ویلور: (محمد رضوان اللہ کے ذریعے) ویلور گورنمنٹ مسلم ہائیر سیکنڈری اسکول کے اردو اساتذہ کی سبکدوشی (ریٹائرمنٹ) کے موقع پر ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب جناب ڈاکٹر سید محمد شاہ نواز کے مکان پر منعقد ہوئی، جس میں ریٹائر ہونے والے اردو اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جن میں  1جی سید مجاہد الدین  ٹی زہرہ جبین اے شاہدہ نیلوفر اس موقع پر مقررین نے اساتذہ کی تعلیمی خدمات، ان کی محنت اور طلبہ کی تربیت میں ان کے نمایاں کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ قوم کے معمار ہوتے ہیں اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ تقریب میں اساتذہ، تعلیمی عملہ اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی اور ریٹائر ہونے والے اساتذہ کو شال اور تحائف پیش کرکے ان کی عزت افزائی کی گئی۔ آخر میں تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا اور ریٹائر ہونے والے اساتذہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔

غزل - ازقلم : عامر سکندر نصیرآبادی۔

Image
غزل -  ازقلم : عامر سکندر نصیرآبادی۔ بزم دیارِ غزل کے مصرعہ طرح پر کہی گئی غزل۔ بُلا لے میرے خدا مجھکو اب رلائے بغیر سکوں ملے گا نہ دل کو مدینہ جائے بغیر وفا کی راہ میں اُڑنے کا مشورہ کیسا کوئی بھی اوج نہ پائے گا پر جلائے بغیر کواڑ ہنسنے لگے میری بے قراری پر قرار آئے گا کیسے کسی کے آئے بغیر تڑپ رہی ہے تمنائے دید سینے میں نہ میں ہی ماننے والا ہوں اُس کو پائے بغیر،،، بھرم یہ ساقیِ محفل کا ٹوٹ جائے گا خمار آئے گا کیسے اسے رلائے بغیر صنم نے پوچھ ہی لی ہے مرے جنون کی حد کفن سجے گا نہ اب چاکِ دل دکھائے بغیر گھسے ہیں باپ کے تلوے تو راستہ چمکا گیا نہ وہ مجھے منزل پہ بھی بٹھائے بغیر مری یہ مفلسی بچوں پہ کھل نہ جائے کہیں  کھلونے والا چلا جائے لب ہلائے بغیر جلا کے خونِ جگر سے چراغِ بزمِ سخن اُٹھے گا کیسے سکندر یہ غم مٹائے بغیر عامر سکندر نصیرآبادی۔

ممتاز ماہرِ اردو تنقید پروفیسر احمد سجاد سپردِ خاک علمی و ادبی حلقوں میں گہرا رنج و غم۔

Image
ممتاز ماہرِ اردو تنقید پروفیسر احمد سجاد سپردِ خاک علمی و ادبی حلقوں میں گہرا رنج و غم۔  رانچی، 27 اپریل: (راست) اردو ادب کے ممتاز نقاد، معروف ادیب اور رانچی یونیورسٹی کے سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹس و سابق صدر شعبۂ اردو پروفیسر ڈاکٹر احمد سجاد کو آج نمازِ عصر کے بعد پہاڑی قبرستان، بریاتو میں ہزاروں اشک بار آنکھوں کے درمیان سپردِ خاک کر دیا گیا۔پروفیسر احمد سجاد کا انتقال گزشتہ شب تقریباً ساڑھے دس بجے ہوا، جس کی خبر پھیلتے ہی علمی، ادبی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔مرحوم کی نمازِ جنازہ بریاتو پہاڑی میدان (مسجد الحرا کے قریب) میں ادا کی گئی، جس میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی، مذہبی اور سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں طلبہ، ریسرچ اسکالرز اور عوام نے شرکت کی۔جنازے میں موجود اہم شخصیات میں صدر شعبۂ اردو رانچی یونیورسٹی ڈاکٹر محمد رضوان علی، مولانا تہذیب الحسن رضوی، پروفیسر منظور علی بیگ، ڈاکٹر حسن رضا، ڈاکٹر خالد سجاد، انجینئر طارق سجاد، ڈاکٹر اعجاز احمد، ڈاکٹر آغا ظفر حسنین، ڈاکٹر علی منظور بیگ، ڈاکٹر محمد غالب نشتر، مو...

محمد امین نواز کی جانب سے لاوانیا کی تہنیت: دہم میں اول، اردو میں 125/125 نمبرات۔

Image
بنگلورو۔ 27 / اپریل ۔ (راست) گورنمنٹ اردو ہائی اسکول بھاتمبرا، تعلقہ بھالکی، ضلع بیدر کی ہونہار و محنتی طالبہ لاوانیا بنت گنڈپا نے جماعتِ دہم کے سالانہ امتحانات میں نمایاں اور شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنے ادارے میں اول مقام (ٹاپر) حاصل کیا بلکہ اردو مضمون میں 125 میں سے مکمل 125 نمبرات حاصل کر کے ایک قابلِ رشک تعلیمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ان کی اس غیر معمولی کامیابی پر علمی و ادبی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اس پُر مسرت موقع پر کرناٹک اردو اکادمی کے معزز رکن جناب محمد امین نواز (بیدر) نے طالبہ کی اس درخشاں کامیابی پر دلی مسرت و اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی گلپوشی و شالپوشی کی اور ایک یادگاری مومنٹو پیش کر کے انہیں زبردست تہنیت پیش کی۔ اس تقریب میں خوشی و افتخار کے جذبات نمایاں طور پر محسوس کیے گئے اور طالبہ کی کامیابی کو اردو میڈیم کی ایک اہم اور تاریخی کامیابی قرار دیا گیا۔ اپنے خطاب میں محمد امین نواز نے کہا کہ لاوانیا بنت گنڈپا کی یہ کامیابی اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ محنتِ شاقہ، خلوصِ نیت اور زبان سے قلبی وابستگی انسان کو بلند ترین منازل تک پہنچا سک...

بھیونڈی میں ڈاکٹر ابو طالب انصاری کی پندرہویں کتاب ''امروز ۲'' کا شاندار اجراء۔

Image
بھیونڈی میں ڈاکٹر ابو طالب انصاری کی پندرہویں کتاب ''امروز ۲'' کا شاندار اجراء۔ بھیونڈی: (عبدالعزیز انصاری) معروف ادبی تنظیم حلقہ اربابِ ذوق، بھیونڈی کے زیرِ اہتمام شہر کے ممتاز معالج، دانشور اور صاحبِ طرز مصنف ڈاکٹر ابو طالب انصاری کی پندرہویں کتاب ''امروز ۲'' کی رسمِ اجراء ایک باوقار اور یادگار تقریب کے دوران عمل میں آئی۔ یہ تقریب بروز اتوار، 26 اپریل 2026 کو رئیس ہائی اسکول کے اردو بسیرا ہال میں منعقد ہوئی،۔جس کی صدارت معروف معالج ڈاکٹر انوار الہدی (ایم ڈی) نے فرمائی۔تقریب میں روزنامہ انقلاب ممبئی کے مدیر شاہد لطیف مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے، جبکہ مہمانانِ اعزازی میں ڈاکٹر ضمیر حسن مومن، ڈاکٹر حماد مومن، محمد رفیع انصاری، پرنسپل ضیاء الرحمٰن انصاری اور ڈاکٹر کناز انصاری شامل تھے۔ اس موقع پر شہر کی ممتاز علمی، ادبی اور سماجی شخصیات، اساتذہ کرام، طلبہ اور ادب سے شغف رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی،جس نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔پروگرام کا آغاز مفتی عدنان کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ جس کے بعد عبدالعزیز انصاری ...

جمعیت علماء تلنگانہ کی کوششوں سے ضلع نلگنڈہ میں لیبر کارڈ کی تقسیم عمل میں آئی۔

Image
 نلگنڈہ 27/ اپریل( نمائندہ) مولانا سید شاہ احسان الدین قاسمی صدر جمعیت علماء تلنگانہ کی خصوصی ہدایت پر ضلع نلگنڈہ کے تپرتی منڈل کے موضع امام پیٹ میں جمعیت علماء تپرتی یونٹ کے زیرِ اہتمام ایک اہم عوامی فلاحی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں مستحق افراد کے درمیان لیبر کارڈس کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس پروگرام کے دوران تقریباً 50 مستحقین کو لیبر کارڈ فراہم کیے گئے، جس سے علاقے میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ یہ پروگرام جمعیت علماء ضلع نلگنڈہ کے جنرل سکریٹری مولانا اکبر خان اسعدی کی نگرانی میں کامیابی کے ساتھ انجام پایا۔ جمعیت کی مسلسل جدوجہد اور رہنمائی کے نتیجے میں ضلع کے مختلف دیہاتوں میں سینکڑوں افراد اپنے لیبر کارڈ بنوانے میں کامیاب ہوئے، جو کہ ایک بڑی سماجی خدمت اور قابلِ ستائش اقدام ہے۔ اس موقع پر جمعیت کے ذمہ داران اور مقامی معززین نے شرکت کرتے ہوئے اس پروگرام کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے لیبر کارڈ کی اہمیت اور اس کے متعدد فوائد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے لیبر کارڈ ہولڈرز کو مختلف ...

طرحی غزل - ازقلم : اسانغنی مشتاق رفیقی۔

Image

اقراء ایجوکیشن سوسائٹی کے مختلف اداروں میں اہم تقرریاں": پروفیسر ڈاکٹر وقار شیخ ایچ جے تھیم کالج کے پرنسپل نامزد"۔

Image
  جلگاؤں: (عقیل خان بیاولی) اقراء ایجوکیشن سوسائٹی کے زیرِ انتظام چلنے والے ایچ جے تھیم آرٹس اینڈ سائنس کالج (مہرون) کے پرنسپل کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر وقار شیخ عبد الرزاق کا تقرر کیا گیا ہے۔ ادارے کی جانب سے ان کی تعلیمی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اہم ذمہ داری انہیں سونپی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ادارے میں دیگر اہم انتظامی تقرریاں بھی عمل میں آئی پروفیسر ذاکر بشیر کو 'اقراء شاہین اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج' کا سپروائزر مقرر کیا گیا ہے۔ پروفیسر شیخ نور محمد کو 'اقراء اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج (سالار نگر)' کے سپروائزر کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔ تمام نو منتخب عہدیداران کی تقرری پر ایجوکیشن سوسائٹی کے ذمہ داران نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔ ان میں الحاج عبد الکریم سالار (صدر، اقرا ) عبد الرشید شیخ، عبد المجید سیٹھ زکریا پروفیسر ظفر شیخ عبد العزیز سالار عبد النبی دادا باغبان کے علاوہ کالج کے تمام پروفیسرز اور نان ٹیچنگ اسٹاف نے بھی انتخاب نو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ان کی قیادت میں مختلف شعبہ جات مز...

مذہبی منافرت کو دوستی اور بھائی چارگی میں بدلنا ہم سب کی ذمہ داری۔ بزم جوہر و انجمن ریختہ گویان کے زیراہتمام بین مذہبی عید ملاقات تقریب۔

Image
حیدرآباد۔(پریس نوٹ) پراگندہ ذہن کے حامل لوگوں کی جانب سے جو مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے اور ایک دوسرے کے مذاہب کے غلط پروپگنڈہ کے ذریعہ سماج میں نفرت اور تشدد کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے ان کا سدّباب کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس قسم کی بین مذہبی تقاریب کا انعقاد لوگوں کے دلوں میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرکے ایک دوسرے سے اتحاد اور بھائی چارگی کا ماحول پیدا کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اردوہال میں بزم جوہر اور انجمن ریختہ گویان حیدرآباد کے زیراہتمام منعقدہ بین مذہبی عید ملاقات تقریب کے موقع پر شہر کے اکابرین نے کیا۔ تقریب کی صدارت پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر دائرۃ المعارف جامعہ عثمانیہ نے کی۔ مہمانان خصوصی کے طورپر جناب دیپک جان چیرمین کرسچن میناریٹیز فینانس کارپوریشن تلنگانہ، جناب طارق انصاری چیرمین اقلیتی کمیشن تلنگانہ، پروفیسر حمیرہ سعید وائس پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج گولکنڈہ، مولانا مظفر علی صوفی ابوالعلائی صدر کل ہند مجلس چشتیہ حیدرآباد، ڈاکٹر این ایس رجنیش اسسٹنٹ پروفیسر انگلش، ڈاکٹر جاوید کمال مدیر ریختہ نامہ حیدرآباد شریک تقریب رہے۔ تقریب کا...

نعت پاک۔۔ ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔

Image
نعت پاک۔۔  ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔ نہ پوچھو کہ کیا کیا اُدھر دیکھ آئے.  ہم اپنے نبیﷺ کا وہ در دیکھ آئے. نبی ﷺکے زمانے کے گھر دیکھ آئے  پرانے گھروں کے گھنڈر دیکھ آئے مدینے کی گلیاں مدینے کی راہیں "مدینے کی شام و سحر دیکھ آئے" نہیں دل میں حسرت کہ کچھ اور دیکھیں  محمدﷺ کا جب سے وہ گھر دیکھ آئے جو مانگی تھیں ہم نے وہاں پر دعائیں دعاؤں میں اپنی اثر دیکھ آئے جسے کہتے ہیں باغِ جنّت کا حصّہ اسی پر جھکا اپنا سر دیکھ آئے جسے آپّﷺ نے اپنے ہاتھوں سے سینچا کھجوروں کے وہ بھی شجر دیکھ آئے خدا کا یہ احسان ہے ہم پہ مہروؔ اسی سال طیبہ نگر دیکھ آئے مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔

خراج عقیدت۔ - 27 اپریل یوم وفات کے موقع پر پچاسوں دیوانوں کے دیوانے شاعر - حضرت مقیم اثر بیاولی؛ جدید اسلوب کا روایتی شاعر۔تحریر : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔

Image
خراج عقیدت۔ -  27 اپریل یوم وفات کے موقع پر پچاسوں دیوانوں کے دیوانے شاعر -   حضرت مقیم اثر بیاولی؛ جدید اسلوب کا روایتی شاعر۔ تحریر : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔   اردو شاعری کی تاریخ ایسے شعرا سے بھری پڑی ہے جنہوں نے روایت کی پاسداری کرتے ہوئے جدید حسّیات کو اپنے کلام میں اس طرح سمویا کہ ان کا لہجہ نہ صرف اپنے عہد کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ کلاسیکی روایت سے جڑا ہوا بھی محسوس ہوتا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک معتبر کڑی حضرت مقیم اثر بیاولی ہیں، جو بیک وقت جدید اسلوب کے امین اور روایتی شعری اقدار کے پاسبان روحانیت عقیدت جزبات کے علمبردار دکھائی دیتے ہیں۔ حضرت مقیم اثر بیاولی کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ روایت سے انحراف نہیں کرتے، بلکہ اس کے دامن میں رہتے ہوئے نئے زمانے کے فکری اور تہذیبی تقاضوں کو شعری پیکر عطا کرتے ہیں۔ ان کے ہاں غزل کی کلاسیکی ہیئت، بحور کی پابندی، ردیف و قافیہ کی لطافت، نظم کی روانی اور زبان کی شائستگی پوری طرح برقرار رہتی ہے، لیکن مضامین میں عصری شعور کی تازگی اور فکر کی وسعت نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔ ان کے کلام میں ایک طرف میرؔ و غا...

چراغِ علم کی خاموشی: پروفیسر سید شاہ حسین نہری کے سانحۂ ارتحال پر چشتیہ کالج خلدآباد کی پُراثر تعزیتی نشست۔

Image
خلد آباد (راست) معروف شاعرو ماہرِ لسانیات مرحوم پروفیسر سیدشاہ حسین نہری کے سانحۂ ارتحال پر ایک پُراثر تعزیتی نشست کا انعقاد 25/ اپریل 2026 بروز سنیچر کو اردو ایجوکیشن سوسائٹی، اورنگ آباد کے صدر جناب شیخ محمد ایوب صاحب اور جنرل سیکریٹری جناب عبد الوحید صاحب کی زیرِ سرپرستی وچشتیہ کالج خلدآباد کے پرنسپل پروفیسر سید آصف ذکریاکی زیر صدارت عمل میں آیا۔ اس موقع پر کالج کے پرنسپل پروفیسر سید آصف ذکریا نے مرحوم کی علمی، ادبی اور تدریسی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شاہ حسین نہری نے اپنی زندگی علم و ادب کی ترویج کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے 1971 میں بل بھیم کالج، بیڑ کے شعبۂ اردو سے اپنی تدریسی خدمات کا آغاز کیا، جبکہ اس سے قبل وہ معین العلوم اسکول، ریلوے اسٹیشن اورنگ آباد میں بحیثیت معلم خدمات انجام دے رہے تھے۔ تقریباً تیس برس تک بل بھیم کالج میں تدریسی فرائض انجام دینے کے بعد وہ وظیفۂ حسن پر سبکدوش ہوئے۔اس دوران محترمہ ثریا اقبال قریشی صدر شعبۂ اردو کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ سبکدوشی کے بعد انہوں نے اورنگ آباد میں مستقل سکونت اختیار کی، جہاں ان کی علمی وابست...

نعت پاک ۔۔ ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )

Image
نعت پاک ۔۔  ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا ) میرے نبی ہیں نور خُدا سر سے پاؤں تک بےشک وہ ہیں دُعا ہی دُعا سرسے پاؤں تک احساں نبی نے ہم پہ کیا سر سے پاؤں تک رُتبہ ہمارا اُن سے بڑھا سر سے پاؤں تک مُجھ سے بڑا جہاں میں تونگر نہیں کوئ صدقہ حُضور کا جو ملا سر سے پاؤں تک نعت شریف کہنے کا جس کو ملا شرف اس پر کرم خُدا کا ہُوا سر سے پاؤں تک عظمت سے جس نے آپ کی انکار ہے کیا دوزخ میں اس کا جسم جلا سر سے پاؤں تک دونوں جہاں میں آج تک کوئ نہیں ہوا میرے نبی کے جیسا کھرا سر سے پاؤں تک لے کر نبی کا واسطہ مانگا میں جب کبھی دامن مرا خُدا نے بھرا سر سے پاؤں تک آئیں گی میرے پاس بھلا کیسے مُشکلیں  سایہ ہے مُجھ پہ ان کا سدا سرسے پاؤں تک مدحت حُضور کی جو بیاں کرتا ہوں سحر آتا ہے مُجھ کو خوب مزا سر سے پاؤں تک فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )

تمل ناڈو ویلور ظلع گڈی یاتم میں ٹی۔این۔پی۔ٹی۔اے۔ کی جانب سے شاندار ریٹائرمنٹ اعزازی تقریب کا انعقاد۔

Image
تملناڈو سے محمد رضوان اللہ کی رپورٹ: آج مورخہ 26.04.2026  کو گڈی یاتم میں تمل ناڈو پرائمری اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن (TNPTA) کی جانب سے مسلسل تیسرے سال ریٹائر ہونے والے اساتذہ کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں 9 اساتذہ کو باوقار طریقے سے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس تقریب میں اساتذہ، ریٹائر ہونے والے اساتذہ، ان کے اہل خانہ، دوست احباب، قریبی علاقوں اور اضلاع کے ذمہ داران، اور مختلف تنظیموں کے اراکین سمیت 200 سے زائد افراد نے شرکت کی، جو کہ خوشی کا باعث ہے۔ گڈی یاتم کے علاقائی ذمہ داران نے اس تقریب کو ایک الگ شناخت کے ساتھ بہترین انداز میں منعقد کر کے اسے ایک بڑی کامیابی بنایا، جس پر انہیں مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ ہم ان تمام تنظیمی اراکین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جو مسلسل تعاون، حوصلہ افزائی اور حمایت فراہم کرتے رہے۔ اسی طرح، دیگر علاقوں اور اضلاع سے شرکت کرنے والے تمام ذمہ داران کا بھی شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔ گڈی یاتم BEO دفتر کی سست رفتار کارکردگی پر تنقید تقریب کے دوران کئی اہم مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی: ضلع ویلور میں صرف گڈی یاتم بلا...

سفیرِ ملت و علم کا دورۂ کانیالہ دینی و تعلیمی بیداری کا ایک روشن باب - از قلم : خطیب عبدالمجید عارف باقوی عفی عنہ (چاگلمری نائب صدر مینارٹی سیل ریاست آندھرا پردیش قومی کانگریس پارٹی۔)

Image
سفیرِ ملت و علم کا دورۂ کانیالہ دینی و تعلیمی بیداری کا ایک روشن باب تحریر از قلم :  خطیب عبدالمجید عارف باقوی عفی عنہ (چاگلمری نائب صدر مینارٹی سیل ریاست آندھرا پردیش قومی کانگریس پارٹی۔) علم و عمل کی ترویج اور معاشرے کی نظریاتی سرحدوں کے پاسبان، مجلس العلماء و الائمہ ضلع نندیال اور جمیعت علماء ہند ضلع نندیال کے مایہ ناز صدر، عالی مرتبت حضرت حافظ و قاری قاضی محمد امجد باشاہ صدیقی صاحب (دامت برکاتہم العالیہ) نے گذشتہ روز قصبہ کانیالہ میں واقع خواتین کے معروف دینی تعلیمی ادارے کا ایک یادگار اور ولولہ انگیز دورہ فرمایا۔ آپ کی آمد کا مقصد مدرسہ میں جاری تعلیمی سرگرمیوں، بالخصوص طالبات کے لیے منعقدہ 'سمر کیمپ' کا بچشمِ خود معائنہ کرنا اور علمی آبیاری کرنا تھا۔ پُروقار تعلیمی مظاہرہ اور بصیرت افروز معائنہ حضرت قاضی صاحب (مدظلہ العالی) نے اپنی آمد کے فوراً بعد ادارے کے مختلف تعلیمی و تربیتی شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر طالبات نے ایک متاثر کن تعلیمی مظاہرہ پیش کیا، جس میں تجوید و قرأت کی شیرینی، دینی مسائل پر ...

اردو ریڈنگپروگرام 3.0 کے تحت ضلع سطحی سمپوزیم میں انصاری محمود احمد کا ریاستی سطح کے لیے انتخاب۔

Image
موہول (سولاپور) : اردو خواندگی مہم 3.0 کے تحت ضلعی سطحی سمپوزیم (Symposium) برائے تعلیمی سال 2025-26 کا انعقاد مہانگر پالیکہ اسکول نمبر 5 شولاپور کیا گیا، جس میں اردو میڈیم کے ٹیکنالوجی سے وابستہ اساتذہ نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر ضلع پریشد پرائمری اردو اسکول، گلشن نگر، موہول کے سائنس ٹیچر انصاری محمود احمد جاوید اختر کا شاندار انتخاب عمل میں آیا۔ ان کی بہترین اور مؤثر PPT پیشکش کی بنا پر انہیں آئندہ 28 اپریل 2026 کو چھترپتی سمبھاجی نگر میں منعقد ہونے والے ریاستی سطحی سمپوزیم کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جو اسکول اور علاقے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ سمپوزیم میں انہوں نے اردو ریڈنگ پروگرام 3.0 کے تحت طلبہ پر مثبت اثرات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا۔ طلبہ کی پڑھنے کی صلاحیت میں اضافہ، اعتماد میں بہتری اور تعلیمی معیار میں ہونے والی ترقی کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اسی طرح “اسٹوری ویور” (StoryWeaver) ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے طلبہ کی جانب سے کیے گئے مطالعاتی سرگرمیوں کو PPT کے ذریعے پیش کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت اسکول کو حاصل ہونے والے سرٹیفکیٹ اور مجموعی کارکردگی کو بھی مؤث...

سفر حج عاشقانہ مدینہ میں حاضری شفاعت کی ضامن ماہانہ یوم صوفی سر مست ، محفل نعت و تہنیت ، پروفیسر یوسف حسینی کا خطاب۔

Image
سفر حج عاشقانہ مدینہ میں حاضری شفاعت کی ضامن ماہانہ یوم صوفی سر مست ، محفل نعت و تہنیت ، پروفیسر یوسف حسینی کا خطاب۔ گلبرگہ 26 اپریل : (راست) حضرت صوفی سرمست اسلامک اسٹڈی سرکل گلبرگہ کے زیر اہتمام کاشانہ ڈاکٹر سخی سرمست مکہ کالونی رنگ روڈ محبوب نگر گلبرگہ میں کل رات 9 بجے شب ماہانہ یوم حضرت صوفی سرمست محفل نعت و تہنیت کا کامیاب انصرام عمل میں آیا  نور المشائخ حضرت سید خلیل اللہ حسینی برادر سجادہ نشین بارگاہ جلالیہ گلسرم نے نگرانی اور فضیلت مآب حضرت سید شاہ حسن نظامی سر مست برادر سجادہ نشین بارگاہ حضرت صوفی سرمست اسد الاولیاء نے صدارت فرمائی فضیلت مآب پروفیسر حضرت سید شاہ یوسف حسینی صاحب کامل عم سجادہ نشین بزرگ بارگاہ حضرت چندا حسینی گوگی شریف نے فلسفہ حج پر کلیدی خطاب فرمایا پروفیسر یوسف حسینی صاحب نے سفر حج کو عاشقانہ اور دوران حج اللہ کی عطاؤں کو غایت درجہ مشفقانہ بتاتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام سے لاکھوں بندگان خدا بیت اللہ کی حاضری کیلئے پہنچتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ تمام مناسک حج کے دوران نہ صرف پیغمبروں کی بلکہ اللہ کی محبوب بندی کی پیروی کرتے ...

ٹرمپ پر تیسرا قاتلانہ حملہ: امریکی حفاظتی نظام کی ناکامی پر اٹھتے سوالات۔ (ٹرمپ پر حملے کے بعد: خلیجی ممالک کو دفاعی خودمختاری کی ضرورت؟)۔ ازقلم: اسماء جبین فلک۔

Image
ٹرمپ پر تیسرا قاتلانہ حملہ: امریکی حفاظتی نظام کی ناکامی پر اٹھتے سوالات۔    (ٹرمپ پر حملے کے بعد: خلیجی ممالک کو دفاعی خودمختاری کی ضرورت؟) ازقلم: اسماء جبین فلک۔ 25 اپریل 2026 کی وہ رات امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں منعقدہ وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشایئے کے دوران ایک ایسا خوفناک واقعہ رونما ہوا جس نے نہ صرف امریکی اشرافیہ کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کی حفاظتی صلاحیتوں پر گہرے سوالات اٹھا دیے۔ یہ وہی تاریخی ہوٹل ہے جہاں 1981 میں صدر رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، اور اب ایک بار پھر حفاظتی خدشات نے سرخیاں بنائیں۔ 31 سالہ کول تھامس ایلن نامی حملہ آور، جو کیلیفورنیا کے ٹورینس سے تعلق رکھتا ہے اور ہوٹل کا مہمان تھا، نے بندوق، پستول اور چاقوؤں سے لیس ہو کر حملہ کیا جس میں ایک خفیہ سروس کا اہلکار زخمی ہوا مگر گولیوں سے محفوظ رکھنے والی جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔ دھات پکڑنے والے آلات اور سینکڑوں حفاظتی اہلکاروں کی سخت ترین موجودگی کے باوجود حملہ آور کے اندر داخل ہونے اور فائرنگ شروع کرنے سے امریکی حفاظتی نظام کی بنیاد...

رسم ورواج کے بوجھ تلے دبی شادیاں۔ تحریر: نکہت انجم ناظم الدین۔

Image
رسم ورواج کے بوجھ تلے دبی شادیاں۔   تحریر: نکہت انجم ناظم الدین۔ شادی، انسانی زندگی کا وہ خوبصورت باب ہے جس میں خواب حقیقت کا روپ دھارتے ہیں اور دو اجنبی لوگ ایک مقدس رشتے میں بندھ کر زندگی کی نئی داستان رقم کرتے ہیں۔ یہ رشتہ محبت کی لطافت، اعتماد کی مضبوطی اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ مگر افسوس عہد حاضر میں ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس پاکیزہ بندھن کو رسم و رواج کی گرد نے اس قدر دھندلا دیا ہے کہ اس کی اصل چمک ماند پڑتی جا رہی ہے۔ جہیز اور شادیوں میں ہونے والا بے جا لین دین اس خوبصورت تعلق پر ایسے بوجھ کی مانند ہے جو صرف رشتوں کی نزاکت کو ہی مجروح نہیں کرتا بلکہ انسانی وقار کو بھی تار تار کررہا ہے۔بیٹیوں کو شادی میں تحائف دینا کبھی والدین کی محبت کا ایک اظہار ہوا کرتا تھا لیکن آج ایک کڑی شرط اور سماجی جبر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ وہ تحائف جو کبھی بیٹیوں کے لیے سہولت کا ذریعہ تھے، اب سسرال میں اس کی عزت کا پیمانہ بن گئے ہیں۔ اس تبدیلی نے نہ صرف روایت کی روح کو مسخ کیا بلکہ اسے ایک ایسے بوجھ میں تبدیل کردیا ہے جس کے نیچے نہ جانے کتنے والدی...