ایسا نہ ہو کہ ہم ترس جائیں کہ بچّے مسجدِ کیوں نہیں آتے! : مولانا احمد بیگ ناندیڑ۔
ایسا نہ ہو کہ ہم ترس جائیں کہ بچّے مسجدِ کیوں نہیں آتے! : مولانا احمد بیگ ناندیڑ۔ رمضان کا مبارک مہینہ ختم ہوا اور ہمیشہ کی طرح فر سے مسجدیں ویران ہو گئے ہیں، جو لوگ رَمضان میں بچوں کو نماز کی صفوں سے پیچھے ہٹاتے تھے وہ لوگ اب مسجدِ میں کہیں بھی نظر نہیں آ رہے ہیں، بچّے تھوڑاسا مسجدِ میں آواز کر لیتے یا تھوڑی سی شرارت کر لیتے تو ہم نماز ختم ہوتے ہی اُن کی طرف ایسے دوڑتے جیسے کوئی دھشت گرد مسجد میں آ گیا ہو، کوئی اُن پر چلاتا تو کوئی اُن کو مارتا پیٹتا، تو کوئی اُن کو مسجدِ آنے سے منع کرتا، آج وہ سارے لوگ پتا نہیں کہا چلے گئے ہے، یہ ایک بچّے کی کہانی نہیں ہے نہ جانے کتنے بچّے ایسے ہے جن کو ہم نے مسجد آنے سے منع کر دیا ہے، کیوں؟ صرف اس لئے کہ اُنہوں نے مسجد میں شور شرابا کیا، تھوڑاسا کھیل کود کر لیا اِس لئے اُن کو مسجدِ سے ہی نکالا گیا، کیا اُنکی اِتنی بڑی غلطی تھی کہ ہم نے اُن کو مسجدِ سے ہی دُور کر دیا، ہر مسجد میں کُچھ ایسے جلّاد قسم کے لوگ رہتے ہیں جو سلام پھیرتے ہی بچوں پر چلانے پکارنے لگ جاتے ہیں، ایسے ہی موصلی يوں کی وجہ سے ھمارے کئی بچّے مسجد آنے سے ڈرتے ہی...