Posts

اردو میڈیم سرکاری مدارس اور کالجس کے علاوہ دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کے والدین کو قربانی کا گوشت دینے کی اپیل۔

Image
حیدرآباد 27 مئی (محمد حسام الدین ریاض)  ایسے رشتہ دار،پڑوسی اور دوست احباب جن کے پاس قربانی ہو رہی ہے ان کو قربانی کا گوشت دینے کے بجائے جن غریب رشتہ داروں،پڑوسیوں کے پاس قربانی نہیں ہو رہی ہے ان کو اورخاص طور پر اردو میڈیم سرکاری مدارس اور کالجس میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات اور دینی مدارس میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات کے والدین میں قربانی کا گوشت تقسیم کریں کیونکہ ان ہی کے بچوں کی وجہ سے آج اردو زبان زندہ اور تابندہ ہے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے سرپرست معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں اور قربانی کے گوشت کے اولین مستحقین میں شامل ہیں یہ نہ سمجھیں کہ اردو میڈیم مدارس کے طلبہ و طالبات کے والدین کہاں ملیں گے   تھوڑی سی دلچسپی لیں تحقیق کریں اور پھر تلاش کر کے ان تک گوشت پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں مستحقین تک آپ کی قربانی کا گوشت بھی پہنچے گا اور اردو زبان کو زیادہ سے زیادہ تقویت بھی ملے گی  آپ کو یہ بات مناسب لگے تو دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

منترالیہ میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کی زبردست نمائندگی, ٹیچر بھرتی،اسکول گرانٹ،مردوم شماری،شکشن سیوک، اساتذہ ٹریننگ،ودربھ اسکول، سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو و فیصلہ۔

Image
ممبئی : مورخہ 26 مئی 2026 کو اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138کے بانی ساجد نثار احمد نے منترالیہ ممبئی میں وزیر تعلیم جناب دادا جی بھوسے صاحب سے خصوصی ملاقات کرکے ریاست بھر کے اساتذہ، طلبہ، اردو میڈیم اسکولوں، اقلیتی اداروں اور ٹیچر بھرتی سے متعلق مختلف اہم مسائل پر تفصیلی یادداشتیں پیش کیں نیز مختلف فیصلے لیے گئے۔اس موقع پر وزیر تعلیم جناب دادا جی بھوسے صاحب، سیکریٹری تعلیم رنجیت سنگھ دیول صاحب، نائب سیکریٹری پروشوتم کالے صاحب، ماکنے صاحب اور دیگر اعلیٰ افسران کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی۔ 🔹 TAIT-2025 ٹیچر بھرتی پر اہم میٹنگ میٹنگ میں پویتر پورٹل پر ریاست کی پرائمری، سیکنڈری اور اردو میڈیم اسکولوں کی زیادہ سے زیادہ خالی اسامیوں کو فوری اپلوڈ کرنے، روسٹر جانچ مکمل کرنے اور بندو ناماولی کی تصدیق کرکے بھرتی عمل کو تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے بانی ساجد نثار احمد نے مطالبہ کیا نے مطالبہ کیا کہ: ▪️ تمام ضلع پریشد، میونسپل کارپوریشن، نگر پالیکا اور مقامی خود اختیاری ادارے فوری طور پر خالی اسامیاں پویتر پورٹل پر درج کریں ▪️ بی ایم سی اور دیگر میونسپل اردو...

عیدقربان اور اردو زبان کاشعری سرمایہ - محمدیوسف رحیم بیدری۔

Image
عیدقربان اور اردو زبان کاشعری سرمایہ  -  محمدیوسف رحیم بیدری۔ ہر قوم میں عید کاقوی تصور ہے۔ اسی طرح اسلام بھی عیدکی بات کرتاہے۔ عید کے لغوی معنی خوشی اور جشن کے گوگل بابابتاتے ہیں۔ فرہنگ آصفیہ میں عید کے معنی نہایت خوشی کے بتائے گئے ہیں۔ ایک معنی یہ بھی کہاگیاہے کہ وہ تہوار جو عود کر آئے۔ مسلمانوں کے جشن کاروز۔ خوشی کاتہوار۔ پھریہ بھی کہ عید کے لغوی معنی واپس آنے والی چیز کے ہیں (جلد سوم، صفحہ 296) جانے کس کے ساتھ ہے صدیوں سے وعدے کی طرح  آنے کاتھا وعدہ لے کر آگئی ہے عید پھر  میرؔبیدری  عیدکے عمومی معنی جشن منانے کے بھی لئے جاتے ہیں۔عید قربان یا عید الالضحیٰ کے بارے میں فرہنگ آصفیہ میں درج ہے کہ ”عید قرباں۔ بقرعید۔ مسلمانوں کاوہ تہوار جس میں قربانیاں اور حج کرتے ہیں۔اَضحی لفظ اضحات کی جمع ہے۔ اور اضحات اصل میں اضیحہ تھا۔ کیوں کہ اس کے معنی اس قربانی کے ہیں جو چاشت کے وقت کی جائے۔ یہ رسم حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے وقت سے جب کہ انھوں نے اپنے بیٹے اسمٰعیل ؑ کی قربانی بحکم خدا کی اور وہاں بیٹے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے حضرت جبرئیل ؑ نے دنبہ رکھ دی...

حج (نظم)۔ ازقلم - محمد سلمان سجاد بلگاوی۔

Image
حج (نظم) از- محمد سلمان سجاد بلگاوی۔ فون-7411844416 کلمہ طیبہ ہے اسلام کا رکن رکین باقی رکن دین ہیں چہاروں وہ متوسلین  باندھ کر رخت سفر سوۓ حرم سب کلمہ گو راہ حق میں چلے ہیں والہانہ عازمین  ہر گھڑی سایہ فگن ہیں ان پہ رب کی رحمتیں  رب کی خوشنودی کو پانے چلے ہیں مومنین  دین حق سے وفا اب حسن عمل کے ساتھ ہو شیوہ حج ہے سراپا رحمت اللعالمین  جو بھی تائب ہیں ادا کرتے ہیں وہ رکن عظیم  ہیں وقوف عرفہ میں سب وابستگان اہل دین حج میسر ہو خدایا کبھی سجاد کو سرکے بل چل کر کرے وہ ادا ہر رکن دیں 

لبیک ( میں حاضر ہوں )۔ ازقلم : سعدیہ فاطمہ عبد الخالق، ناندیڑ مہاراشٹر۔

Image
لبیک ( میں حاضر ہوں ) ازقلم : سعدیہ فاطمہ عبد الخالق،  ناندیڑ مہاراشٹر۔ 8485884176    تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، کائنات کی ہر شئے اس واحد لاشریک کی بندگی میں ہے کہ جس نے ہمیں اپنی رحمتوں کا وعدہ کیا ہے ، اس کے لئے ہم سر بسجود ہیں ، فرشتے ، چاند ، سورج ، ستارے ، چرند ، پرند ، ہر ایک ذی روح ، اپنی روح سے حاضر ہے ، سوائے انسان کے ، انسان پر غفلت حاوی کرنے کے لئے کسی نے ٹھیکہ لے رکھا ہے ، اس غفلت سے دور ہونا بڑا سخت امتحان ہے ، لبیک صرف اس کے در پر جانے کے لئے ہی نہیں ، لبیک تمام زندگی کی بے راہ روی کی قربانی کے لئے ہے ، لبیک ایک صاف و شفاف بتائے گئے راستے پر چلنے کا نام ہے ، لبیک وقت کے صحیح استعمال کرنے کے لئے ہیں ، زندہ مثال ہے ہم ,, قبلہ اول ،، کے لئے کیا کر رہے ہیں ، کچھ نہیں ، نہ ہم دل سے اس کے لئے کچھ کئے ہیں نا دماغ سے ، دنیا کی رنگینیوں میں ہم اتنا کھو چکے ہیں کہ باہر نکلنے کے لئے خود جال بنتے جارہے ہیں ، کس چیز کے خوف نے ہمیں گھیر رکھا ہے خود ہمیں پتہ نہیں ، یا ہم ہی پتہ نہیں کرنا چاہتے ہیں ، کیونکہ ہم احساس سے ...

عید الاضحیٰ کا تہوار : خواتین کی کامیاب محنت و مشقت میں عظیم کردار۔۔ ازقلم : ڈاکٹرصدیقی نسرین فرحت۔

Image
عید الاضحیٰ کا تہوار : خواتین کی کامیاب  محنت و مشقت میں عظیم کردار۔ ازقلم: ڈاکٹرصدیقی نسرین فرحت۔ عید الاضحی بھارت کی کثیر الثقافتی اور متنوع تہذیبی کہکشاں کا ایک ایسا درخشاں ستارہ ہے جو محض ایک مذہبی تہوار نہیں، بلکہ تاریخ، عقیدت، سماجیات اور معاشیات کا ایک نہایت پیچیدہ اور گہرا امتزاج ہے۔ اس کا بنیادی فلسفہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے پیش کردہ اطاعت و تسلیم کی بے مثال قربانی کی یاد میں پیوست ہے، ایک ایسا عمل جو ذاتی خواہشات کو امرِ الٰہی کے تابع کرنے کی لازوال علامت ہے۔ تاہم، بھارت کے منفرد سماجی تانے بانے میں اس تہوار کی روح نے عصری معاشرت میں متعدد نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں، جہاں روحانیت کے ساتھ ساتھ گنگا جمنی تہذیب کی روایات، معاشی حرکیات اور صنفی کرداروں کی ایک بھرپور داستان بھی جڑی ہوئی ہے۔ اس داستان کا سب سے اہم اور اکثر غیر مرئی کردار بھارتی مسلمان عورت کا ہے، جو اس تہوار کی حقیقی معمار بھی ہے اور اس کی سب سے بڑی کارکن بھی۔ عید الاضحی کی تمام تر رونق، اس کے پکوانوں کی لذت، گھروں کی آراستگی اور رشتوں کی گرمجوشی اسی عورت کے دم سے قائم ہے، لیکن اس کی اپن...

آدابِ فرزندی اور عصرِ حاضر کا خاندانی بحران - محمد نجیب الدین، بگدل۔

Image
آدابِ فرزندی اور عصرِ حاضر کا خاندانی بحران -  محمد نجیب الدین، بگدل۔  یہ فیضانِ نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی سکھائی کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی؟ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا یہ فکر انگیز شعر محض ایک ادبی سوال نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے بنیادی ڈھانچے پر ایک گہرا فکری سوال ہے۔ درحقیقت یہ انسانی تہذیب کے سب سے گہرے سوالات میں سے ایک ہے۔ یہ سوال ہمیں اس نکتے پر لے آتا ہے کہ انسان کی اصل تعمیر کس طرح ہوتی ہے؟ کردار کہاں سے جنم لیتا ہے؟ اور وہ کون سا خاندانی اور تربیتی نظام ہےجو ایک فرد کو اس درجے تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ اپنے والد حضرت ابراہیم کے حکم اور اللہ کے فیصلے کے سامنے اپنی ذات کو مکمل طور پر جھکا دیتا ہے۔ حضرت اسماعیلؑ کا واقعہ محض ایک تاریخی یا مذہبی واقعہ نہیں بلکہ انسانی کردار کی تشکیل کا ایک مکمل ماڈل ہے۔ یہاں ایک نوجوان صرف اطاعت نہیں کر رہا بلکہ ایک پوری تربیتی تاریخ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اقبالؒ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر یہ اطاعت پیدا کہاں سے ہوئی؟ کیا یہ صرف کسی ایک لمحے کی کیفیت تھی یا برسوں پر محیط ایک زندہ تربیت کا نتیجہ تھا؟ اگر ...

روحانیت ہی اسلام کی بنیاد ہے۔۔ از قلم شیخ محمود علی۔

Image
روحانیت ہی اسلام کی بنیاد ہے۔ از قلم شیخ محمود علی۔ 8055402819 مضمون کی شروعات میں ہم روحانیت کی تعریف اسطراح کریں گے Spirituality is the development of the inner self that leads a person toward peace, morality, self-awareness, and a deeper connection with the  Divine or ultimate reality. ترجمہ “روحانیت انسان کی باطنی شخصیت کی ایسی نشوونما ہے جو اُسے سکون، اخلاقی بلندی، خود شناسی، اور خدا یا حقیقتِ مطلق سے گہرے تعلق کی طرف لے جاتی ہے۔” حضرت عبدالقادر جیلانی کے نزدیک روحانیت (تصوف) کسی ایک سادہ رسمی تعریف میں محدود نہیں، بلکہ یہ دل کی اصلاح اور اللہ سے مکمل وابستگی کا نام ہے مولانا مودودی کے مطابق روحانیت کی تعریف مولانا مودودی کے خیال میں روحانیت یہ ہے کہ “انسان کی پوری زندگی اللہ کی اطاعت کے تابع ہو جائے، اس کا دل اللہ کے خوف محبت اور یاد سے زندہ ہو اور اس کے اعمال اخلاص کے ساتھ ہوں۔” آج کا انسان ترقی، سہولت اور مادّی آسائشوں کے باوجود اندر سے بے چین دکھائی دیتا ہے۔ دولت بڑھ رہی ہے مگر سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔ علم میں اضافہ ہو رہا ہے مگر دل و دماغ اضطراب کا شکار ہیں۔ اس...

حج، قربانی اور ملک کے حالات — ایک سنجیدہ سوال۔ - سید فاروق احمد قادری۔

Image
 حج، قربانی اور ملک کے حالات — ایک سنجیدہ سوال۔ -   سید فاروق احمد قادری۔ فجر کے بعد لاکھوں حاجی میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے۔ ظہر و عصر کی نمازیں ادا ہوتی ہیں، دعائیں مانگی جاتی ہیں، آنسو بہتے ہیں اور رحمتِ الٰہی جوش میں ہوتی ہے۔ پھر مزدلفہ اور منیٰ کا سفر، شیطان کو کنکریاں مارنا، قربانی کرنا اور احرام کھولنا — یہ سب حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم سنت کی یاد دلاتے ہیں۔ حاجی جب یہ مناسک مکمل کرتا ہے تو گویا گناہوں سے پاک ہو کر نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔ تقریباً ایک کروڑ کے قریب انسانوں کا عرفات میں جمع ہونا قیامت کے دن کی یاد دلاتا ہے جب پوری انسانیت اللہ کے سامنے حساب کے لیے کھڑی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ تمام حاجیوں کا حج قبول فرمائے، ان کے گناہوں کو معاف فرمائے اور امتِ مسلمہ پر رحم فرمائے۔ آمین۔ دوسری طرف قربانی اسلام کی ایک جائز، مقدس اور سنتِ ابراہیمی عبادت ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، کھانے پینے اور اپنی تہذیب کے مطابق زندگی ...

سالِ رواں 17 لاکھ 7 ہزار 310 افراد نے حج کی سعادت حاصل کی: سعودی حکام۔

Image
سالِ رواں 17 لاکھ 7 ہزار 310 افراد نے حج کی سعادت حاصل کی: سعودی حکام۔  کی این واصف : سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے اعلان کیا ہے کہ حج 2026 میں حجاج کی کل تعداد 17 لاکھ 7 ہزار 310 (1.7 ملین) رہی۔ یہ تعداد گزشہ برس سے 2.04 فیصد زیادہ ہے۔ سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق بیرون مملکت سے 15 لاکھ 46 ہزار 655 حجاج مختلف راستوں سے سعودی عرب آئے جبکہ داخلی حجاج جن میں شہری اور رہائشی شامل ہیں، کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار 646 رہی۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اندرون اور بیرورن ملک سے آنے والے حجاج کی مجموعی تعداد میں مرد 8 لاکھ 93 ہزار 396 جبکہ خواتین کی تعداد 8 لاکھ 13 ہزار 905 رہی ہے۔ بیرون مملکت سے آنے والوں میں فضائی راستے سے 14 لاکھ 85 ہزار 729، بری راستے سے 54 ہزار 429 جبکہ بحری راستے سے 6 ہزار 497 حجاج سعودی عرب پہنچے۔ حج آپریشنز کےلیے کام کرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 4 لاکھ 20 ہزار 70 ہوگئی، تاہم والینٹیئرز کی تعداد میں تقریبا 22 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔   واضح رہے محکمہ شماریات نے یہ اعداد وشمار وزارت داخلہ کے انتظامی ریکارڈ کی مدد سے جاری...

سِدّرامَیاہ–ڈی. کے کی کرسی کی جنگ میں کیا ملکارجن کھرگے بازی مار جایں گے؟ - ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔

Image
سِدّرامَیاہ–ڈی. کے کی کرسی کی جنگ میں  کیا ملکارجن کھرگے بازی مار جائینگے؟  از : جمیل احمد ملنسار۔ کرناٹک کی سیاست میں سِدّرامَیاہ اور ڈی. کے شِواکُمار کے درمیان جو “کرسی کا جھگڑا” چل رہا ہے، وہ صرف اقتدار کی لڑائی نہیں، بلکہ ایک سیاسی ڈراما ہے جس کا سب سے زیادہ فائدہ شاید کسی تیسرے شخص کو پہنچ رہا ہے – کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کو۔ دونوں رہنما آپس میں گھسیٹ رہے ہیں، اور اُدھر بیٹھا مرکزی لیڈر ملکارجن کھرگے، اعلیٰ کمانڈ کی حیثیت سے اس جھگڑے کو سنبھالنے کا موقع پا رہا ہے۔   سِدّرامَیاہ اور ڈی. کے دونوں کے لیے یہ سوال محض عہدے کا نہیں، بلکہ عزت، اثرور سیاسی جغرافیہ اور جماعتی وقار کا بھی ہے۔ ایک طرف سِدّرامَیاہ کے پاس پرانا وزیراعظم کا تجربہ اور ایک مضبوط سیاسی نیٹ ورک ہے، تو دوسری طرف ڈی. کے کے پاس پارٹی کے فنانس، انتظامیہ اور ایک چست، فعال مشین چلانے کی صلاحیت ہے۔ دونوں اقتدار کی کرسی کے لیے لڑ رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ریاستی سطح پر کانگریس کی ایک تصویر متاثر ہو رہی ہے۔   ان کے جھگڑے میں الزام، جوابی الزام، میڈیا بیانات اور دہلی کی طرف ک...

حاملین نبوت کے اوصاف - محمد ناظم ملی، جامعہ اکل کو اں۔

Image
حاملین نبوت کے اوصاف -  محمد ناظم ملی،  جامعہ اکل کو اں۔ ابراہیم علیہ السلام ایسے داعی حق تھے جن کو راہ حق اور صراط مستقیم سے نہ دنیاوی طمع اور نہ کسی طرح کا کوئی لالچ ان پر اثر انداز ہو سکا ناہی کسی ظالم کے خوف و خشیت اور ڈرنے ان کے پائےثبات میں کوئی تزلزل اور کوئی جنبش پیدا نہ کی جب انہوں نے قوم کو دعوت حق اور توحید کا سبق پڑھایا تو قوم کا جواب اگر چہ مایوس کن اور ہمت شکن تھا اوروہ ڈرانے دھمکانے کی بات کرنے لگے تھے بادشاہ وقت نے اور خود باپ نے جلا وطنی اور ہلاکت کی بات کی مگر دنیا نے ہر زمانے میں اہل حق کا رویہ ان کی للکار سنی ہے یہی حال حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تھا ظاہر بات ہے کہ جب تک رب کائنات کی طرف سے ایک خاص عنایت نہ ہو تب تک یہ کام دشوار ہی سمجھا جا سکتا پھرنبوت تو ایک خاص انعام ہے جو صرف اور صرف اللہ کے انہی بندوں کو دیا جاتا ہے جن کو اللہ پہلے ہی سے اس کار نبوت ور رسالت کے لیے منتخب کر لیتا ہے۔۔ الله اعلم حيث يجعل رسالته.. اور نبوت کی اس اہم ذمہ داری کے لیے خداوند کریم وہ قلب سلیم عنایت کرتا ہے جو دنیا کی تمام الائشوں گندگیوں اور نامناسب عادتوں اور چی...

گپتا رِضا صد سالہ سیمنار کی کچھ باتیں۔

Image
گپتا رِضا صد سالہ سیمنار کی کچھ باتیں۔  کالی داس گپتا رِضا کو بیسویں صدی کے اواخیر میں اُردو زبان و ادب کے ایک معتبر حوالے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جنہوں نے جہاں مرزا اسد اللہ خان غالب پر بیس کتابیں لکھ کر غالبیاتی ادب کو فروغ دیا، وہیں علمی، ادبی، فکری، تنقیدی اور تحقیقی میدانوں میں گراں قدر تصانیف تحریر کرکے دنیا کو ادب کے نئے گوشوں اور زاویوں سے بھی روشناس کرایا۔ عروس البلاد ممبئی کے دادر علاقے میں واقع ساہتیہ اکادمی کے آڈیٹوریم میں گپتا رِضا پر ایک عظیم الشان سیمنار کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں پہلے سیشن کی صدارت اُردو کے معروف ادیب و نقاد، روز نامہ انقلاب کے کالم نگار شمیم طارق صاحب نے کی جب کہ دوسرے سیشن کی صدارت مشہور شاعر و ادیب سو سے زائد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر نذیر فتح پوری صاحب نے انجام دی. اس کے علاوہ سلیم محی الدین، ایم مبین، دانش غنی، خلیق نصرت، راقم السطور اور واصف یار اِن تمام صاحبان نے گپتا رِضا کی شخصیت اور فکر و فن پر تحقیقی مقالات پیش کیے۔  اِس موقع پر راقم السطور نے "گپتا رِضا کی پونے سے علمی و ادبی وابستگی" کے ایک اہم عنوان سے جو مق...

تھکن کے اس پار - از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔

Image
تھکن کے اس پار -  از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔ سردیوں کی دھند ابھی پوری طرح چھٹی نہ تھی۔ گاؤں کے کچے راستوں پر نمی بسی ہوئی تھی اور دور مسجد سے فجر کی اذان کی آواز پھیل رہی تھی۔ عاطف اپنے چھوٹے سے صحن میں بیٹھا پرانی سائیکل صاف کر رہا تھا۔ اس کی ماں اندر چولہے پر چائے رکھے بیٹھی تھی۔ عاطف شہر کے کالج میں پڑھتا تھا۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ شام کو ایک دکان پر کام بھی کرتا تاکہ گھر کا خرچ چلانے میں باپ کا ہاتھ بٹا سکے۔ اس کے والد، سلیم، ایک مزدور آدمی تھے۔ دن بھر اینٹیں اٹھاتے اور شام کو تھکے قدموں سے گھر لوٹتے۔ ایک دن کالج میں اعلان ہوا کہ بہترین طالب علموں کے لیے شہر کی بڑی یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی جائے گی۔ عاطف کی آنکھوں میں امید جگمگا اٹھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو شاید وہ آگے نہ پڑھ سکے۔ مگر اسی ہفتے سلیم صاحب کام کرتے ہوئے اونچی دیوار سے گر پڑے۔ ان کی ٹانگ بری طرح زخمی ہوگئی۔ ڈاکٹر نے آرام کا مشورہ دیا۔ گھر کی آمدنی اچانک رک گئی۔ رات کو سب خاموش بیٹھے تھے۔ ماں کی آنکھوں میں فکر تھی اور چھوٹی بہن کتاب ہاتھ میں لیے خاموشی سے بھائی کو دیکھ رہی تھی۔...

روزگار اور تعلیم - از قلم : محمود علی لیکچرر۔

Image
روزگار اور تعلیم -  از قلم : محمود علی لیکچرر۔  ہیں۔ تعلیم انسان کو سوچنے سمجھنے اور ہنر سیکھنے کے قابل بناتی ہے، جبکہ روزگار اس صلاحیت کو عملی جامہ پہنا کر معاشرے میں وقار اور کامیابی عطا کرتا ہے۔ تعلیم آپ کو راستے دکھاتی ہے لیکن روزگار ان راستوں پر چلنے کی ہمت اور وسائل فراہم کرتا ہے یہاں تعلیم اور روزگار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے چند بہترین اقوال اور اقتباسات پیش ہیں: تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، مگر جب تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود ہو جائے اور روزگار کے دروازے بند ہونے لگیں تو معاشرہ بے چینی مایوسی اور اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مناسب روزگار سے محروم ہیں۔ یونیورسٹیوں سے ہر سال ہزاروں گریجویٹس نکلتے ہیں مگر عملی میدان میں ان کی صلاحیتوں کے مطابق مواقع کم دکھائی دیتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب کم تعلیم یافتہ افراد کو بھی آسانی سے ملازمت مل جاتی تھی، مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ صرف ڈگری کافی نہیں رہی بلکہ مہارت، تجربہ، زبان، ٹیکنالوجی سے واقفیت اور عملی ترب...

حضرت سیدنا ابراہیمؑ کی سیرت و قربانی امت مسلمہ کیلئے عظیم پیغام : مولانا افسر پاشاہ قادری۔

Image
بیدر، 26 / مئی(نامہ نگار محمد عبدالصمد)کاروانِ ادب و مرکزی رحمتِ عالمؐ کمیٹی ضلع بیدر کے زیر اہتمام مسجد عثمانیہ بیدر میں ایک عظیم الشان جلسۂ عام بعنوان ”حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہؑ کا ایثار و قربانی سے امت مسلمہ کیلئے عظیم پیغام“ زیر صدارت جناب محمد حبیب الدین صدر مسجد کمیٹی و زیر نگرانی جناب محمد فراست علی ایڈوکیٹ منعقد ہوا۔ جلسہ کا آغاز حافظ محمد برہان الدین کی قرأتِ کلام پاک سے ہوا جبکہ محمد شفیع الدین اور محمد فتح پٹیل نے حمد، نعت اور منقبت پیش کی۔ مہمانِ مقرر مولانا سید شاہ افسر پاشاہ قادری الجیلانی ظہرآباد نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذی الحجہ کا مبارک مہینہ بڑی عظمت و فضیلت والا ہے۔ حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہؑ کی پوری زندگی قربانی، ایثار اور اطاعتِ الٰہی سے عبارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو مختلف آزمائشوں میں ڈالا مگر آپ ہر امتحان میں کامیاب و سرخرو ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیمؑ نے اپنی زوجہ حضرت ہاجرہؓ اور معصوم فرزند حضرت اسماعیلؑ کو عرب کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑا، جو آج پوری دنیا کیلئے مرکزِ عقیدت یعنی خانۂ کعبہ کی سرزمین بن چ...

پرنس ملا حیدرآباد روڈ بیدر میں نمازِ عیدالاضحیٰ صبح 6:30 بجے ادا کی جائے گی۔

Image
بیدر، 26 / مئی(نامہ نگار محمد عبدالصمد) سیکرٹری جمعیت اہلِ حدیث بیدر جناب شاہ حامد محی الدین قادری کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق نمازِ عیدالاضحیٰ بروز جمعرات 10؍ذالحجہ کو پرنس ملا حیدرآباد روڈ پر واقع نور کالج کے روبرو صبح ٹھیک 6:30بجے ادا کی جائے گی۔ اس روح پرور اجتماع میں فضیلۃ الشیخ مجیب الرحمن قاسمی نمازِ عید کی امامت فرمائیں گے اور عید کا بلیغ و بصیرت آموز خطاب بھی فرمائیں گے۔ خواتین کے لیے بھی پردے کا معقول نظم رہے گا۔ جمعیت اہلِ حدیث کی جانب سے برادرانِ اسلام سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت کی پابندی کرتے ہوئے کثیر تعداد میں شریک ہوکر نمازِ عید کی سعادت حاصل کریں اور دعاؤں میں شامل ہوکر اپنے لیے اور امتِ مسلمہ کے لیے خیر و برکت کی دعائیں کریں۔ چدری،میلور،منیارتعلیم اور فائراسٹیشن سے نور کالج تک بسوں کا خصوصی نظم بھی کیا گیا ہے۔

قربانی کے ذریعہ اللہ تعالٰی کا قرب حاصل کیا جاتا ہے،حافظ پیر خلیق احمد صابر جنرل سکریٹری جمعیتہ العلماء تلنگانہ کا بیان۔

Image
 حیدر آباد 26 جون(نمائندہ) جناب حافظ پیر خلیق احمد صابر جنرل سکریٹری جمعیتہ العلماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اللہ تبارک و تعالی نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور عبادات کی مختلف اقسام ہیں۔ مثلاً قولی فعلی ، مالی اور مالی عبادت میں ایک عبادت قربانی بھی ہے۔ قربانی وہ جانور ہے جو اللہ کی راہ میں قربان کیا جائے اور یہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔ تخلیق انسانیت کے آغاز ہی سے قربانی کا جذبہ کار فرما ہے۔ قرآن مجید میں حضرت آدم کے دو بیٹوں کی قربانی کا واقعہ موجود ہے۔ اور قربانی جد الانبیاء سید نا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم ترین سنت ہے۔ یہ عمل اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ اس عمل کو قیامت تک کیلیے مسلمانوں کے لیے عظیم سنت قرار دیا گیا۔ قرآن مجید نے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کے واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اور نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر قربانی کے اہم فریضہ کو ادا کیا اور قرآن احادیث میں اس کے واضح احکام اور تعلیمات موجود ہیں۔ عید الفطر کا بنیادی مقصد رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ رب العزت کے خصوصی احسانات...

محکمۂ اسکولی تعلیم حکومتِ تمل ناڈو کی تمام سرکاری اور امدادی مٹریکلیشن اسکولوں میں جماعت اول تا دواز دہم کی کلاسیں بروز جمعرات 4.6.2026 سے شروع ہوں گی۔

Image
(تملناڈو سے محمد رضوان اللہ کی رپورٹ)  محکمۂ اسکولی تعلیم نے پہلے اعلان کیا تھا کہ تعلیمی سال 2026-2027 کے لیے جماعت چہارم تا دوازدہم کے اسکول 01.06.2026 کو اور جماعت اول تا سوم کے اسکول 04.06.2026 کو دوبارہ کھولے جائیں گے۔ بعد ازاں والدین، اساتذہ اور مختلف متعلقہ حلقوں کی جانب سے درخواستیں اور نمائندگیاں موصول ہوئیں جن میں تمام جماعتوں کے لیے یکساں تاریخِ آغاز مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاکہ انتظامی سہولت کو یقینی بنایا جا سکے اور ان خاندانوں کو پیش آنے والی دشواریوں سے بچا جا سکے جن کے بچے مختلف جماعتوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ مزید برآں جون کے پہلے ہفتے کے لیے موجودہ موسمی حالات اور پیش گوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ریاست کے کئی حصوں میں قبل از مانسون سرگرمی، وقفے وقفے سے بارش، نمی اور گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے۔ حکومت نے اسکولوں کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا ہے، جن میں صفائی ستھرائی، پینے کے پانی کی سہولت، ٹرانسپورٹ کے انتظامات اور کیمپس کی مجموعی تیاری شامل ہیں۔ تمام متعلقہ امور پر غور و خوض کے بعد اور تمل ناڈو کے معزز وزیرِ اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق، اسکولی تعلیم...

ہندوستانی حجاج بخیر و عافیت - حج کے رکن آعظم ادا کیا۔ سفیر ہند ڈاکٹر سہیل اعجاز خان۔

Image
کے این واصف : تمام ہندوستانی حجاج کرام عمومی طور پر بخیر و عافیت ہین۔ تمام حجاج آج صبح حج کےرکن آعظم وقوف عرفہ مکمل کیا۔ یہ بات سفیر ہند ڈاکٹر سہیل اعجاز خان نے آج شام اپنے ایک ویڈیو پیام میں بتائی۔ سفیر ہند نے مزید کہا کہ آج صبح حجاج منٰی میں اپنے کیمپوں سے بسون اور ٹرینس کے ذریعہ بےحد سہولت و آرام کے ساتھ وقوف عرفہ کے لئے میدان عرفات پہنچے اور دعاؤں اور عبادات میں دن گزارا۔ اور بعد مغرب مزدلفہ کے لیے روآنہ ہوئے۔  ہندوستانی حجاج کے حج معاملات کی نگرانی کے لیے سفیر ہند ڈاکٹر سہیل اعجاز خان اور قونصل جنرل ہند فھد احمد خان سوری احرام میں ملبوس میدان عرفات میں موجود رہے۔

تین افسانچے - ازقلم : عرفان افضل۔

Image
تین افسانچے -  ازقلم : عرفان افضل۔ 8618967693 حصہ ”دادو قربانی کا بہترین حصہ کیا ہو سکتا ہے “ غفران نے اپنے داداجان سے معصوم سا سوال کیا ۔ دادا جان نے کہا ”قربانی کرتے وقت ہم اپنے دلوں سے حسد، بغض، نفرت اور دشمنی کو بھی ختم کرتے ہوئے گوشت کے ساتھ حسن سلوک، پیار، بھائی چارہ اور انسانیت کے پیغام کا حصہ بھی تقسیم کریں تو قربانی کا حق ادا ہو جائے اور بہترین حصہ بھی ہو جائے“۔ **************************************** بچا ہوا گوشت عید الاضحی کی خوشیاں اور مسرتیں ہر طرف نظر آ رہی تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر لوگ قربانی کے فرائض کی ادائیگی کے اہتمام میں مشغول نظر آ رہے تھے۔ یہاں گھر میں گوشت بانٹنے کی فہرست تیار کی جا رہی تھی۔ "ابو قربانی کے بعد اوجھڑی اور ہڈی وغیرہ کا کیا کرنا ہے" عرفان نے اپنے والد سے پوچھا "بیٹا اس کو بچے ہوئے گوشت کی فہرست میں لکھ دو تاکہ مانگنے والوں کو دیا جائے" ************************************************* انوکھی قربانی  عید الاضحی کا چاند نظر آتے ہی ہر طرف جانوروں کی خرید فروخت کا بازار گرم ہو گیا۔  ہر کوئی اپنا جانور اچھے دام پر بیچنے لگ...

تعطیلاتِ اسلامی کیمپ ۲۰۲۶ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر۔

Image
 تعطیلاتِ اسلامی کیمپ ۲۰۲۶ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر۔ ایس آئی او جلگاؤں یونٹ کی جانب سے منعقدہ “تعطیلاتِ اسلامی کیمپ ۲۰۲۶” بتاریخ ۲۴ و ۲۵ مئی ۲۰۲۶ نہایت کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔ اس دو روزہ تربیتی، تعلیمی اور تفریحی کیمپ میں ۳۰ سے زائد طلبہ نے شرکت کی، جہاں نوجوانوں کی دینی، اخلاقی، فکری اور سماجی اعتبار سے ہمہ جہت رہنمائی کی گئی۔ 📖 کیمپ کے دوران: ▪️ اسلامیات ▪️ پیشہ وارانہ رہنمائی ▪️ تنظیمی تربیت ▪️ تقریری نشست ▪️ شخصیت سازی ▪️ تفریحی آبی سیر جیسی مفید سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جس سے طلبہ میں اعتماد، قائدانہ صلاحیت، اظہارِ خیال، نظم و ضبط اور مثبت سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ✨ اس کیمپ کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو دین سے جوڑنا، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا، اور انہیں ایک باکردار، باشعور اور ذمہ دار شہری بنانا تھا۔ 🏆 اس موقع پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو: ▪️ بہترین طالبِ علم انعام ▪️ بہترین ترانہ انعام ▪️ بہترین تقریری نشست انعام ▪️ بہترین نوٹس انعام سے نوازا گیا۔ 🌙 ایس آئی او (طلبہ اسلامی تنظیمِ ہند) ایک ملک گیر طلبہ تنظیم ہے، جو ط...

مزدلفہ میں حجاج کی پیدل آمدورفت آسان بنانے کے لیے ٹھنڈی لچک دار سڑک۔

Image
کے این واصف :  میدان عرفات سے مزدلفہ جانے کے لیے حجاج کرام کی پیدل آمدورفت کو آسان بنانے کے لیے ایک لچک دار (ٹھنڈی) سڑک تعمیر کی گئی ہے۔ یہ سڑک اپنی نرم اور آرام دہ ساخت کے باعث زائرین کے لیے نہایت مددگار ثابت ہو گی۔ مقدس مقامات میں کِدانا ڈویلپمنٹ کمپنی نے سایہ دار جگہیں، ٹھنڈک کے انتظامات، شجرکاری، پیدل راستوں کی بہتری اور آرام کے لیے خاص انتظام کیا ہے تاکہ حجاج اپنے سفرِ حج کو بہتر اور آرام دہ بنایا جاسکیں۔

لاکھوں فرزندانِ اسلام آج حج کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ ادا کرنے میدان عرفات میں جمع۔

Image
کے این واصف : آج منگل حج 2026ء کے اہم مرحلے میں وقوف عرفہ کے لیے میدان عرفات میں جمع ہیں۔ جہان انھون حج کا رکن اعظم ادا کیا۔ سال کے 12 ماہ میں صرف ایک دن کے لیے آباد ہونے والا یہ میدان لبیک کی صداؤں سے گونج رہا ہے۔ میدان عرفات کی مشہور مسجدِ نمرہ میں حجاج ظہر اور عصر کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کریں گے اور حج کا خطبہ سنیں گے۔ حجاج سارا دن میدان عرفات ہی میں قیام کریں گے۔ اس دوران بیشتر وقت عبادت الٰہی اور دعاؤں میں گزاریں گے۔  تفصیلات کے مطابق حج کے رکن وقوفِ عرفہ کی ادائیگی کے لیے حجاج وادی منیٰ سے قافلوں کی صورت میں 8 ذوالحجہ وقوف عرفہ کے لیے پہنچے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں منگل کو ۹ ذوالحجہ ہے جبکہ ہندوستان سمیت کچھ ملکوں میں آج ۸ ذوالحجہ ہے۔  حجاج سارا دن میدان عرفات میں گزارنے کے بعد غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی قافلوں کی صورت میں مزدلفہ کے میدان میں پہنچیں گے۔ جہاں وہ مغرب اور عشا کی نمازیں قصر اور جمع کی صورت میں ادا کرین گے۔ اور چہارشنبہ کی نماز فجر ادا کرکے منٰی کی طرف لوٹتے ہوئے پہلے دن کی رمی صرف بڑے شیطان کو کنکریاں مارین گے۔ مزدلفہ سے جمع کی گئی ب...