پیامِ حاضری - ازقلم : محمد فیضان طالبؔ
پیامِ حاضری - ازقلم : محمد فیضان طالبؔ ارے حاجیو! تم حرم جا رہے ہو، مرا بھی وہاں اک پیام عرض کرنا مدینے میں آقاؐ کے روضے پہ جا کر، ادب سے مرا بھی سلام عرض کرنا تڑپتا ہے دل روضۂ مصطفیٰ کو، ترستی ہیں آنکھیں اسی کی ضیا کو جو پہنچو کبھی اس درِ پاک پر تم، مری حسرتوں کا کلام عرض کرنا کبھی میں بھی کعبے کا طواف کر لوں، کبھی آبِ زمزم سے دامن کو بھر لوں یہ خوابِ محبت، یہ برسوں کی حسرت، مرے دل کا سارا پیام عرض کرنا گناہوں کی ظلمت میں بھٹکا ہوں کب سے، ندامت کے آنسو بہے ہیں یہ کب سے میں محتاجِ رحمت، میں طالبِ بخشش، مرا حالِ دل صبح و شام عرض کرنا مدینے سے دوری کا غم جانتا ہوں، مگر دل کو طیبہ میں ہی پاتا ہوں یہ فرقت، یہ آہیں، یہ اشکِ مسلسل، مری بے قراری مدام عرض کرنا نہ نیکی کا توشہ، نہ اعمال اچھے، خطاؤں کے بوجھ اور ارمان کچے مگر نعتِ آقا ﷺ ہے ہونٹوں پہ میرے، یہی عاجزانہ کلام عرض کرنا وہ گنبد خضرا نگاہوں میں بستا، تصور میں ہر دم مدینہ ہے سجتا کبھی خواب میں بھی زیارت نصیب ہو، یہی آرزو صبح و شام عرض کرنا وہاں رحمتوں کی گھٹائیں ہیں چھائی، وہاں دل کو ملتی ہے راحتِ خدائی جو روضے کے سائے م...