بندش (افسانہ) ازقلم : مسرورتمناپونا مہاراشٹر انڈیا۔
بندش (افسانہ) ازقلم : مسرورتمنا پونا مہاراشٹر انڈیا۔ راج کو وہ بہت اچھی لگی اسکی معصومیت سادگی راج نے دیکھا. کے سارے کلیگ آپس میں گھل مل کر رہتے. مگر . وہ خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھی کام کر رہی تھی شانتی اپنی نام کی طرح شانتی سے دفتر آتی اپنا کام کرتی اور شانتی سے چلی جاتی یہ اور بات تھی خاموشی سے وہ ہلچل.کرتی تھی جوان دل کو آشانت مگر اسکےچہرے کی معصومیت دیکھکر کو ئ کچھ نا کہ پاتا .. .... مگر.. . .........آج وہ پھوٹ پھوٹ کر روئ تھی مہادیو کے سامنے نہیں کہونگی کچھ نہیں کہونگی کیونکہ لوگوں کی حرکتوں سے عجیب وغریب سوالوں سے میں تنگ ہوں کل راج نے میرا راستہ روک لیا کہ رہا تھا دکھ ہر کسی کے نصیب میں ہوتا اپنا دکھ سب کو دکھانا تو ضروری نہیں چہرے پر اتنی اداسی بھر لو کے ذمانہ غمگین ہوجاے ارے . یہ بھی کوی ذندگی ہے. ... ھنس کے جیو کھل کے جیو لوگوں پر چھا جاو اپنی چھاپ سے انکے دل کو رنگین کردو ایسی ہی عورت ترقی کے میدان میں آگے بڑھتی ہے..... میری غیرت کو اس نے للکارا اور میں ٹوٹ گی چپ کرو تمھاری بکواس ختم ہوئ ہو تو میں کچھ کہوں شانتی کی ...