Posts

لوگ تول دیتے ہیں چند باتوں پر کردار۔ - باری اپنی ہو تو انہیں ترازو نہیں ملتا۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔

Image
لوگ تول دیتے ہیں چند باتوں پر کردار باری اپنی ہو تو انہیں ترازو نہیں ملتا ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ Principal Mount sinai PU college Belgaum  M A M Ed  8904317986 لوگ اکثر دوسروں کو بہت جلدی پرکھ لیتے ہیں۔ کسی کے کپڑے دیکھ کر، کسی کی غربت دیکھ کر، کسی کی زبان یا رہن سہن دیکھ کر فوراً اس کے کردار کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔ لیکن جب بات اپنی آتی ہے تو انسان اپنے لیے ہزار بہانے تلاش کر لیتا ہے۔ یہی حقیقت اس شعر میں بہت خوبصورتی سے بیان کی گئی ہے: لوگ تول دیتے ہیں چند باتوں پر کردار باری اپنی ہو تو انہیں ترازو نہیں ملتا یہ جملہ صرف تنقید نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ایک بڑے رویّے کی عکاسی کرتا ہے۔ آج انسان دوسروں کی غلطیوں کو بڑا بنا کر دیکھتا ہے مگر اپنی غلطیوں کو معمولی سمجھتا ہے۔ اگر کوئی غریب انسان چھوٹی سی غلطی کر دے تو لوگ فوراً اس کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں، لیکن اگر وہی کام کوئی دولت مند یا طاقتور شخص کرے تو لوگ خاموش ہو جاتے ہیں یا اس کے لیے جواز ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ یہی ناانصافی معاشرے میں نفرت، غرور اور طبقاتی فرق پیدا کرتی ہے۔ اسلام نے انسان کو برابری...

یارا انٹرنیشنل اسکول ریاض میں "تعلیمی کارکردگی کے اعزازات کی تقریب" کا انعقاد۔

Image
ریاض ۔ (پریس نوٹ)  یارا انٹرنیشنل اسکول ریاض کی جانب سے تعلیمی سال 26–2025 کے لیے "تعلیمی کارکردگی کے اعزازات کی تقریب" کے عنوان سے ایک پروقار جلسے کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ تقریب کا مقصد سی بی ایس ای (CBSE) دسویں اور بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات میں طلبہ کی شاندار کامیابیوں کو سراہنا تھا ۔ یہ تقریب طلبہ کی بہترین کارکردگی، ذہانت، لگن اور انتھک محنت کا منہ بولتا ثبوت تھی، جو اسکول کی اعلیٰ روایات کی عکاسی کرتی ہے ۔ تقریب کا آغاز پرنسپل محترمہ عاصمہ سلیم کے ایک پُرکشش اور متاثر کن استقبالیہ خطاب سے ہوا، جن کی بصیرت انگیز قیادت اور عزم نے اسکول کی ترقی اور کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ اس کے بعد، اسکول کے چیف پیٹرن جناب حبیب الرحمن نے خطاب کیا۔ انہوں نے طلبہ کی شاندار کامیابیوں کو شاندار الفاظ میں سراہا اور انہیں مستقبل میں بھی اسی طرح محنت اور عمدہ کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھنے کی تلقین کی ۔ بعد ازاں، پرنسپل اور چیف پیٹرن نے پوزیشن ہولڈرز کو ان کے غیر معمولی کارناموں پر اسناد اور یادگاری مومنٹوز سے نوازا ۔ دسویں جماعت کے طلبہ نے غیر معمولی کارکردگی کا مظا...

(طنزومزاح) انگریزی کا خبط اور ہماری مادری زبان۔ از قلم: رہبر تماپوری۔

Image
(طنزومزاح)  انگریزی کا خبط اور ہماری مادری زبان۔  از قلم: رہبر تماپوری۔ خداوندِ کریم نے جب انسان کو نطق کی نعمت سے نوازا تو ساتھ ہی مادری زبان کا لازوال تحفہ بھی عطا کیا تاکہ وہ اپنے دلی جذبات، احساسات اور خیالات کا کھل کر اظہار کر سکے۔ مگر افسوس! دورِ حاضر کے دیسی بابوؤں نے اس قدرتی و تہذیبی تحفے کو انگریزی کے جدید کموڈ میں بہا دیا ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں انگریزی بولنا شرافت، علم یا قابلیت کی نہیں بلکہ ایک عجیب قسم کی فیشن زدگی اور احساسِ برتری کی علامت بن چکا ہے۔ صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ اگر آپ کو اپنی مادری زبان میں مرزا غالب کا پورا دیوان بھی زبانی یاد ہو تب بھی آپ کو جاہل اور پسماندہ سمجھا جائے گا، لیکن اگر آپ انگریزی میں صرف “اوہ مائی گاڈ” اور “ٹچ ووڈ” جیسے چند الفاظ ادا کرنا جانتے ہوں تو لوگ آپ کو ارسطو کا چچا زاد بھائی اور بقراط کا سگا پوتا سمجھنے لگتے ہیں۔ اس انگریزی خبط کی ایک نہایت دل چسپ جھلک پچھلے دنوں شہر کے ایک پوش علاقے میں دیکھنے کو ملی۔ ہوا یوں کہ ایک سادہ لوح دیہاتی دادی اماں اپنے لاڈلے بیٹے کے شاندار شہری بنگلے میں چند دن رہنے کے لیے تشریف لائ...

نیالکل منڈل کے موضع رکماپور کے قبرستان اور عاشور خانہ کو توڑنے کے معاملہ پر بیرسٹر اسدالدین اویسی کی وقف بورڈ سی ای او سے نمائندگی۔

Image
 ظہیرآباد20/ ( نمائندہ) سنگاریڈی ضلع کے ظہیرآباد کے نیالکل منڈل کے موضع رکماپور میں کچھ دن قبل ایک وینچر والے نے چند قبروں کو اور عاشور خانہ کو توڑکر ناجائز قبضہ کیا اس کی اطلاع بیریسٹر اسدالدین اویسی کو ملتے ہی انہوں نے وقف بورڈ سی ای او سے بات کی اور ظہیرآباد مجلسی صدر محمد اطہر احمد سے بات کرتے ہوئے وقف بورڈ انسپکٹر کے ساتھ ملکر اس مسئلہ کو حل کرنے کو بتایا۔ وقف بورڈ انسپکٹر صابر حسین اور مجلسی صدر محمد اطہر احمد موضع رکماپور پہنچ کر جائزہ لیا۔ اور اس کے بعد نیالکل منڈل تحصیلدار سے تفصیلی بات کرتے ہوئے ایک تحریری شکایت درج کروائی اور وقف بورڈ اور محکمہ ریوینیو کے جوائنٹ سروے کی ڈیمانڈ کی جس پر تحصیلدار نے تیقن دیا کے بہت جلد جوائنٹ سروے کیا جائیگا اس کے بعد وقف انسپکٹر صابر حسین اور مجلسی صدر محمد اطہر احمد نے حدنور سب انسپکٹر آف پولیس سے ملاقات کی اور ناجائز قبضہ کرنے والوں پر سخت کارروائی کرنے کی ڈیمانڈ کی اس موقع پر جوائنٹ سیکرٹری شیخ الیاس، فرحان قادری حدنور آصف، یونس وقف بورڈ سروییر کے علاوہ دیگر موجود تھے۔۔۔

ظہیرآباد میں سی یم ریلیف فنڈ کی تقسیم۔

Image
ظہیرآباد20/ مئی( نمائندہ) جناب اے چندرا شیکھر راؤ سابق وزیر وانچارج ظہیرآباد کی ہدایت پر ظہیرآباد میں واقع دفتر انڈین نیشنل کانگریس میں 60,000 روپئے کا سی یم ریلیف فنڈ استفادہ کنندگان کو سونپا گیا۔اس موقع پر کانگریس قائدین مسٹر اروند،محمد غوث،(غیبو) محمد ارشد بھی موجود تھے واضح رہے ک آخر میں اس موقع پر سی یم ریلیف فنڈ کے استفادہ کنندگان نے چیف منسٹر تلنگانہ اور اے چندرا شیکھر راؤ صاحب کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔۔۔

ایجنٹ کا بکرا(بقرید کے موقع پر ایک طنزیہ افسانچہ)۔ محمود علی لیکچرر۔

Image
ایجنٹ کا بکرا (بقرید کے موقع پر ایک طنزیہ افسانچہ) محمود علی لیکچرر۔ 8055402819 اس بار بقرید سے کچھ دن پہلے ہی محلے میں ایک عجیب ہلچل تھی۔ لوگ بکروں سے زیادہ اُن کے “اسٹیٹس” خرید رہے تھے۔ کسی کے پاس “راجستھانی نسل” کا بکرا تھا کوئی “پٹھان بکرا” بتا رہا تھا، اور کوئی اپنے بکرے کی قیمت ایسے بیان کر رہا تھا جیسے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی ہو۔ انہی دنوں محلے میں ایک صاحب تشریف لائے جنہیں سب “ایجنٹ صاحب” کہتے تھے۔ اصل نام شاید کسی سرکاری فائل میں دفن ہوچکا تھا، مگر محلے میں ان کی پہچان صرف یہی تھی کہ وہ ہر چیز کے دلال تھے۔ پلاٹ چاہیے؟ ایجنٹ صاحب۔ شادی کا رشتہ؟ ایجنٹ صاحب۔ اسکول میں داخلہ؟ ایجنٹ صاحب۔ یہاں تک کہ ایک بار تو کسی نے مذاق میں کہا تھا کہ اگر جنت میں پلاٹ ملنے لگے تو وہاں بھی سب سے پہلے ایجنٹ صاحب ہی دفتر کھولیں گے مگر اجنٹ صاحب کوئی مدرسہ چلانے والے غیر سند یافتہ مولوی صاحب بھی نہیں تھے  بقرید کے موقع پر بعض لوگ بکرے سے زیادہ اُس کی قیمت کی قربانی دیتے ہیں، اور سچ سے زیادہ “ماشاءاللہ پونے دو لاکھ!” کا ثواب کماتے ہیں۔ بقرید قریب آئی تو انہوں نے اعلان کیا “اس ...

گل بوٹے” کا مالی رخصت ہوگیا - فاروق سید کے انتقال پر اردو دنیا سوگوار - ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔

Image
گل بوٹے” کا مالی رخصت ہوگیا - فاروق سید کے انتقال پر اردو دنیا سوگوار -  ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔ 98354 98454 فاروق سید کے انتقال کے ساتھ اردو دنیا کا ایک ایسا چراغ گل ہوا ہے جس کی روشنی صرف ایک رسالے کے صفحات تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کی کرنیں نسلوں کے ذہن، زبان اور تخیل کو روشن کرتی رہی تھیں۔ بعض شخصیات اپنی زندگی میں ادارہ بن جاتی ہیں، اور بعض ادارے اپنے بانی کے بعد بھی ان کی سانسوں کی خوشبو لیے زندہ رہتے ہیں۔ فاروق سید انہی کم یاب لوگوں میں تھے جنہوں نے خاموشی سے ایک تہذیبی فریضہ انجام دیا۔ اردو صحافت میں بہت سے نام آئے، بہت سے رسائل شائع ہوئے، بہت سے مدیر گزرے، مگر بچوں کے ادب کے میدان میں جس استقلال، محبت اور خلوص کے ساتھ فاروق سید نے کام کیا، وہ اب کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ آج کے شور و غوغا سے بھرے زمانے میں، جب مطالعہ ایک بوجھ اور زبان محض ذریعۂ تجارت بنتی جا رہی ہے، ایسے میں “گل بوٹے” جیسا رسالہ دراصل تہذیب کی آخری پناہ گاہوں میں سے ایک تھا۔ یہ رسالہ صرف کہانیوں، نظموں اور تصویروں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی نرم اور مہذب دنیا تھی جہاں بچے لفظوں کے ساتھ اخل...

فاروق سید صاحب — ایک عہد کا اختتام، ایک فکر کی شروعات - سید فاروق احمد قادری۔

Image
فاروق سید صاحب — ایک عہد کا اختتام، ایک فکر کی شروعات - سید فاروق احمد قادری۔ جانے والے کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتے  جانے والوں کی یاد اتی ہے  19 مئی 2026 کو فاروق سید صاحب کے انتقال کی خبر نے صحافتی، ادبی اور سماجی حلقوں کو غمزدہ کر دیا۔ وہ صرف ایک صحافی یا مدیر نہیں تھے بلکہ ایک ایسی فکر کا نام تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی نئی نسل کی تربیت، شعور اور رہنمائی کے لیے وقف کر دی۔ فاروق سید صاحب نے اُس وقت “بیل بوٹے” جیسا خوبصورت اور معیاری میگزین شروع کیا، جب نوجوان نسل کو مثبت راستہ دکھانے والے پلیٹ فارم بہت کم تھے۔ انہوں نے صرف رسالہ نہیں نکالا بلکہ بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں ادب، تہذیب، اخلاق اور شعور کے بیج بوئے۔ جس طرح اُن کے میگزین کا نام “بیل بوٹے” تھا اور بیل بوٹے مسلسل پروان چڑھ کر ایک خوبصورت شکل اختیار کرتے ہیں، اُسی طرح فاروق سید صاحب نے نئی نسل کی ذہنی، ادبی اور اخلاقی تربیت کر کے اُنہیں علم و شعور کی روشنی میں پروان چڑھانے کی کوشش کی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ تعلیم ہی انسان کو حقیقی پرواز عطا کرتی ہے، اور باشعور نسل ہی قوم کا روشن مستقبل بناتی ہ...

سہ روزہ تنظیمی و تعمیری دورہ بہار کے موقع پر سیوان میں تین اہم منعقدہ نشستوں سے مولانا حکیم الدین قاسمی کا خطاب۔

Image
بہار سیوان 20/مئی( نمائندہ) جمعیۃ علماء ضلع سیوان کے لیے یہ نہایت خوش آئند باعث سعادت اور تاریخی موقع تھا کہ بتاریخ 18، 19 اور 20 مئی 2026 ء کو مجاہدِ ملت حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی کا سہ روزہ تنظیمی و تعمیری دورۂ بہار عمل میں آیا، جس کے تحت ضلع سیوان کو ان کے دورے کی اولین سعادت حاصل ہوئی۔ اس مبارک دورے نے ضلع سیوان میں دینی فکری اصلاحی اور تنظیمی اعتبار سے نہایت مثبت اثرات مرتب کیے اور کارکنان جمعیۃ کے اندر نئی روح تازہ ولولہ اور خدمتِ ملت کا جذبہ پیدا کیا۔ اس دورے کے موقع پر ضلع سیوان میں تین اہم اور کامیاب نشستوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں علماء کرام ائمہ مساجد، اراکین ،جمعیۃ ،دانشوران، وكلاء، سماجی شخصیات اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سب سے پہلی نشست جامعہ عربیہ سراج العلوم تیل ہٹہ سیوان کی جامع مسجد میں منعقد ہوئی، جو خصوصی طور پر ذمہ داران و اراکین جمعیۃ کے تربیتی ورکشاپ کے طور پر منعقد کی گئی تھی۔ اس خصوصی نشست میں ضلع سیوان کے مختلف بلاکس اور علاقوں سے وابستہ ذمہ داران، اراکین جمعیۃ اور جمعیۃ سے منسلک افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس تربیتی ورکشاپ...

میرے عزیز فاروٗق سیّد! خان نویدالحق۔

Image
میرے عزیز فاروٗق سیّد!   خان نویدالحق۔  آج دل جس کرب، جس ویرانی اور جس بے نام اداسی کے حصار میں قید ہے، اسے لفظوں کے پیمانے میں سمیٹنا آسان نہیں۔ زندگی کے طویل سفر میں جب جب غم و الم کے سایے میرے آنگن پر اُترے، تم ہمیشہ ایک مخلص رفیق، ایک غم گسار بھائی اور ایک بے لوث ہم درد بن کر میرے ساتھ کھڑے رہے.  میرے والدِ مرحوم کے انتقالِ پُرملال پر سب سے پہلے تعزیت کا بوجھ تم نے اپنے کندھوں پر اٹھایا. تمھاری آنکھوں کی نمی اور تمھارے لہجے کی شفقت آج بھی میرے حافظے میں تازہ ہے. پھر جب والدۂ مرحومہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئیں، تو تم تعزیت کے لیے یوں آئے جیسے اپنے ہی گھر کا چراغ بجھ گیا ہو. میری پھوپھی اماں کے انتقال پر بھی تمھاری موجودگی میرے لیے حوصلے کا استعارہ بنی رہی، اور جب میری بہن کی وفات نے میری زندگی کو غم کی تاریکیوں میں دھکیل دیا، تب بھی پرسہ دینے والا پہلا شخص تم ہی تھے.  تم صرف تعزیت کرنے نہیں آتے تھے، بلکہ اپنے وجود کی حرارت سے دل کے زخموں کو سہلا جاتے تھے. تمھارے الفاظ رسمی نہیں ہوتے تھے، بلکہ ان میں اخلاص کی وہ روشنی ہوتی تھی جو ٹوٹے ہوئے انسان کو...

فن خوشنویسی میں نمایاں خدمات پر بنگلور میں غوث ارسلان کو "ممتاز شیریں ایوارڈ”

Image
حیدرآباد ۔ (پریس نوٹ)  محفل نساء بنگلور کی جانب سے “الامین ایجوکیشن سوسائٹی” اور “ہندستانی اردو منچ” کے باہمی اشتراک سے گذشتہ اتوار کو ہوٹل پراگ میں جشن یوم اردو کا اہتمام کیا گیا۔ محفل نساء کے زیر اہتمام پچھلے 17 سالوں سے پابندی سے ہر سال یوم اردو کا اہتمام کیا جارہا ہے اس موقع پر ادب اور فنون لطیفہ کے شعبوں میں نمایاں خدمات پر ملک کی مختلف شخصیات کو “محمود ایاز”، “ممتاز شیریں” اور “اردو دوست” ایوارڈز دیئے جاتے رہے ہیں۔ امسال پدم شری حکیم سیدظل الرحمن (علی گڑھ) کو محمود ایاز ایوارڈ اور غوث ارسلان (حیدرآباد) کو فن خوشنویسی میں نمایاں خدمات پر ممتاز شیریں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ظفر محی الدین اور اقبال احمد بیگ کو اردو دوست ایوارڈ اور لاؤنیہ کو عروج نساء ایوارڈ دیا گیا۔ عزیز اللہ بیگ ریٹائرڈ آئی اے ایس و سابق صدرنشین کرناٹک اردو اکیڈیمی نے اس محفل کی صدارت کی۔ محفل نساء کی صدر ڈاکٹر شائستہ یوسف نے خیرمقدم کیا اور تنظیم کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ آعظم شاہد نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ اس پر وقار محفل کے مہمانان میں م ن سعید صابق صدر شعبہ اردو بنگلور یونیو...

افسانچہ - ہارٹ بیٹ - از قلم : م علی لیکچرر۔

Image
افسانچہ -   ہارٹ بیٹ -   از قلم :  م علی لیکچرر۔  8055402819 دل کی دھڑکن صرف سینے  میں نہیں ہوتی، کبھی کبھی ایک نام بھی انسان کے اندر “ہارٹ بیٹ” بن کر دھڑکتا رہتا ہے۔ وہ اسپتال کے بستر پر خاموش لیٹا تھا۔ مشین پر چلتی سبز لکیر بتا رہی تھی کہ دل ابھی زندہ ہے۔ مگر نرس نے حیرت سے دیکھا کہ جیسے ہی موبائل پر اُس کا نام جگمگایا، کمزور نبض اچانک تیز ہوگئی۔ ڈاکٹر مسکرایا: “دوائیں اپنا کام کر رہی ہیں۔” بیمار نے دھیرے سے آنکھ کھولی اور بولا: “نہیں ڈاکٹر صاحب… کچھ لوگ دوا نہیں ہوتے، مگر اُن کی آواز دل کو دوبارہ جینے پر آمادہ کر دیتی ہے۔

حج کے اہم ایام کی مرحلہ وار رہنمائی - آٹھ تا بارہ ذوالحجہ عازمین کے یومیہ عمل بیک نظر -

Image
ریاض ۔ کے این واصف : حج سیزن 2026 کے لیے دنیا بھر سے عازمین کی بڑی تعداد مکہ مکرمہ پہنچ چکی اور یہ سلسلہ جاری بھی ہے۔ آٹھ سے بارہ ذوالحجہ کے درمیان فریضے حج مناسک مکمل ہوتے ہیں۔ جس کی تفصیل اس طرح ہے۔  سات ذوالحجہ:  حجاج کرام کے قافلے (نسبتاً کم تعداد میں) مشاعرِ مقدسہ (خصوصاً منٰی) کی جانب روانہ ہونا شروع ہوتے ہیں۔    آٹھ ذوالحجہ:  اِس دن کو یوم الترویہ کہا جاتا ہے اور یہاں سے باقاعدہ طور پر مناسکِ حج کی ادائیگی کے آغاز ہوتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں مقیم حجاج، قافلوں کی صورت میں ظہر کی نماز سے قبل وادیِ منٰی پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں جہاں وہ پورا دن قیام کرتے ہیں۔ نو ذوالحجہ:  یہ وقوفِ عرفہ یعنی حج کے رکنِ اعظم کی ادائیگی کا دن ہے۔ بعد نماز فجر عازمین میدان عرفات کی طرف روآنہ ہوتے ہیں۔ جہان وہ دن بھر قیام کرتے ہیں۔ ظہر اور عصر کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں باجماعت ادا کرتے اور حج کا خطبہ سنتے ہیں۔ عازمین میدان عرفات میں زیادہ سے زیادہ وقت دعاؤں میں گزارتے اور اللہ تعالٰی کی حمد و ثناء کرتے ہیں۔ غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی حجاج، قافلوں کی صورت میں میدا...

کہانی۔ - غریب کی بے بسی، قصور کس کا؟۔ از قلم: رہبر تماپوری۔

Image
 کہانی۔ -  غریب کی بے بسی، قصور کس کا؟ از قلم: رہبر تماپوری۔ ریاض ایک بڑے شہر میں رہتا تھا۔ اچھی ملازمت تھی، پکا مکان تھا، اور ہر سہولت میسر تھی — مگر دل تھا کہ بار بار اپنے چھوٹے سے گاؤں کی گلیوں میں بھٹکتا رہتا تھا۔ اسی گاؤں میں اس کا بچپن کا دوست اظہر رہتا تھا، جس کے گھر میں غربت نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ ایک دن اظہر نے فیصلہ کیا کہ اب گاؤں میں بیٹھ کر تقدیر کا رونا رونے سے کچھ نہیں ہوگا۔ وہ اپنے بوڑھے والدین کی خاطر شہر کی طرف چل پڑا، آنکھوں میں امید لیے اور دل میں ڈر چھپائے۔ جب اظہر شہر پہنچا تو ریاض کام کی مصروفیت میں ڈوبا ہوا تھا۔ دنوں میں ملاقات ہوئی، مگر وہ ملاقات نہ تھی — محض چند الفاظ کا تبادلہ تھا۔ اظہر اکیلا کمرے میں بیٹھا رہتا، تنہائی اسے کھائے جاتی۔ ہر مہینے گاؤں پیسے بھیجتا، مگر خود بھوکا رہتا — نہ پیٹ کی بھوک، بلکہ اپنائیت کی بھوک۔ پھر ایک شام ریاض نے اظہر کا چہرہ غور سے دیکھا۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی، ہونٹوں پر جھوٹی مسکراہٹ، اور کندھے جھکے ہوئے — جیسے کوئی بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک گیا ہو۔ ریاض نے پوچھا: "یار، سچ بتاؤ، کیا ہوا ہے؟" اظہر کی آنکھیں بھر...

سفرنامہ: عمرکھیڑ سے کوکم ٹھان (تعلقہ کوپر گاؤں)تربیت، تگ و دو اور توبہ استغفار کا ایک یادگار سفر۔۔ از قلم: عثمان احمد(مدرس ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول عمر کھیڑ ضلع ایوت محل)

Image
سفرنامہ: عمرکھیڑ سے کوکم ٹھان (تعلقہ کوپر گاؤں) تربیت، تگ و دو اور توبہ استغفار کا ایک یادگار سفر۔  از قلم: عثمان احمد(مدرس ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول عمر کھیڑ ضلع ایوت محل) 7 مئی 2026 کو جب سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، عمرکھیڑ (ضلع ایوت محل) میں گرمی کی چھٹیاں صرف نام کی تھیں۔ ایک طرف ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول میں جماعت ہفتم کی معلمی کی ذمہ داریاں، تو دوسری طرف اپنے صدر مدرس اور کیندر پرمکھ راحت روشن انصاری صاحب کے ساتھ دفتری کاموں میں ہاتھ بٹانا۔ SIR میپنگ، الیکشن ڈیوٹی اور مردم شماری جیسے اہم سرکاری کاموں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے کہ اچانک دوسری، تیسری اور چوتھی جماعت کی نصابی تبدیلی کی تربیت کا بلاوا آ گیا۔ سفر کا آغاز: ناندیڑ سے اورنگ آباد سفر کا آغاز عمرکھیڑ سے ناندیڑ تک بس کے ذریعے ہوا۔ ناندیڑ پہنچے تو ریلوے اسٹیشن پر انسانی سروں کا ایک سمندر یعنی 'جم غفیر' ہمارا منتظر تھا۔ جیسے تیسے اورنگ آباد پہنچے اور وہاں سے شرڈی کے لیے بس پکڑی۔ نقشے پر 100 کلومیٹر کا فاصلہ دیکھ کر گمان ہوا کہ ڈیڑھ گھنٹے میں منزل مقصود پر ہوں ...

حضرت ابراہیم سمرقندی رحمہ اللّٰہ علیہ کے ١٢٢٦ واں عرس مبارک کے موقع پر - ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔

Image
حضرت ابراہیم سمرقندی رحمہ اللّٰہ علیہ کے ١٢٢٦ واں عرس مبارک کے موقع پر -  ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔ اہلِ بیتِ اطہارؓ کے چشم و چراغ، اہلِ قریش قبرستان کے روحانی تاجدار مہاراشٹر کی سرزمین صدیوں سے اولیاءِ کرام، صوفیاءِ عظام اور اہلِ دل بزرگوں کی نسبت سے روحانی عظمت رکھتی ہے۔ اسی مقدس دھرتی پر تعلقہ جننر ضلع پونہ کے تاریخی گاؤں پاڈلی میں ایک ایسی عظیم المرتبت ہستی آرام فرما ہیں جنہیں عقیدت مند *حضرت ابراہیم سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ* کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ آپ نہ صرف ایک صاحبِ کرامت بزرگ تھے بلکہ اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے نسبت رکھنے والی وہ نورانی شخصیت تھے جنہوں نے اپنے اخلاق، عبادت، زہد و تقویٰ اور خدمتِ خلق سے ہزاروں دلوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے منور کیا۔ آپ کا مزارِ اقدس اہلِ قریش قبرستان پاڈلی میں مرجعِ خلائق ہے جہاں آج بھی عقیدت مند حاضر ہو کر روحانی سکون، قلبی اطمینان اور فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔ اہلِ علاقہ کے دلوں میں آپ کی محبت ایک چراغ کی مانند روشن ہے جس کی لو کبھی مدھم نہیں ہوئی۔ *نسبِ مبارک اور روحانی عظمت* حضرت ابراہیم سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ کا ت...

علم و حیا سے آراستہ خواتین ہی ملت کے روشن مستقبل کی ضامن۔۔۔۔۔ مفتی عبد اللہ قاسمی - مدرسہ ام الکرام کریم للبنات، پورنیہ کے روح پرور سالانہ اجلاس میں تعلیمِ نسواں، حفظِ قرآن اور علومِ حدیث کی عظمت پر علماءِ کرام کے ایمان افروز اور بصیرت افروز خطابات۔

Image
پورنیہ: (پریس ریلیز) تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ جب بھی علم کی شمعیں روشن ہوئیں، تہذیبوں نے عروج پایا، معاشرے مہذب ہوئے اور نسلوں کو فکری و روحانی استحکام نصیب ہوا۔ اسلام وہ واحد آفاقی مذہب ہے جس نے سب سے پہلے انسان کو “اقْرَأْ” کا پیغام دے کر علم کو عبادت، شعور کو نعمت اور قلم کو عزت و عظمت عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں مرد و عورت دونوں کی تعلیم کو یکساں اہمیت حاصل ہے، بلکہ خواتین کی دینی و اخلاقی تربیت کو ایک صالح معاشرے کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ایک تعلیم یافتہ، دیندار، باحیا اور باشعور خاتون صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک نسل، ایک خاندان اور ایک معاشرے کی معمار ہوتی ہے۔ اگر مائیں علمِ دین، فکرِ اسلامی اور اخلاقِ نبوی ﷺ سے آراستہ ہوں تو گھروں میں ایمان کی خوشبو، کردار کی پاکیزگی اور محبت و انسانیت کی روشنی خود بخود عام ہوجاتی ہے۔ انہی عظیم دینی، تعلیمی اور اصلاحی مقاصد کے پیشِ نظر مدرسہ ام الکرام کریم للبنات، حضرت گنج لائن بازار، پورنیہ کے زیرِ اہتمام سالانہ عظیم الشان پروگرام “درسِ ختم بخاری، تقسیمِ اسناد اور جلسۂ حفظِ قرآن” نہایت شان و شوکت، روحانیت اور علمی وقار کے ...

غزل - (طنزومزاح)۔ ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن( انڈیا )

Image
غزل - (طنزومزاح) ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن( انڈیا ) میں کسی کو مشورہ دیتاُ نہیں مشورہ میرا کوئ سُنتا نہیں باپ اس کا اک منسٹر ہے تو کیا میں کسی کے باپ سے ڈرتا نہیں چور بھی ڈرتے ہیں گھر میں آنے کو بنچ کر گھوڑے جو میں سوتا نہیں ڈانٹ گھر میں سُنتا ہوں دفتر میں بھی فجر کو جس دن بھی میں اُٹھتا نہیں مُجھ کو خود اللہ نے اتنا دیا میں کسی سے دوستو جلتا نہیں کیوں کروں سالے سے اپنے دُشمنی دُشمنی سے کُچھ بھی تو ملتا نہیں دیش کا نیتا بھی یارو ہے عجب جھوٹ ہی کہتا ہے سچ کہتا نہیں جب سے دامن صبر کا تھاما ہوں میں گھر میں اب جھگڑا کوئ ہوتا نہیں سیکھ لی ہیں میں نے جو کُچھ گالیاں کر کری مُجھ سے کوئ کرتا نہیں گو ترے اشعار پر ہنستے ہیں سب کیوں سحر تُو خود مگر ہنستا نہیں فخر مُجھ کو اپنے سر پر ہے سحر وہ کسی کے سامنے جُھکتا نہیں ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن( انڈیا )

منقبت ابراہیم سمرقندی (رح) کی شانِ مبارک میں۔"١٢٢٦ ویں عرس مبارک کے موقع پر" ازقلم : صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری۔

Image
منقبت ابراہیم سمرقندی (رح) کی شانِ مبارک میں۔ "١٢٢٦ ویں عرس مبارک کے موقع پر"   ازقلم : صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری۔ بیعت طریق یزداں غمخوار سمرقندی جونر کی اس زمیں پر اظہار سمرقندی مولا علی کے فرزند ہے کاظمی گھرانہ نسلِ امامِ جعفر ہے دین کا خزانہ عزمِ خطیب و ملت جونر بنا ٹھکانہ تعلیمِ علمِ عرفاں سردار سمرقندی جونر کی اس زمیں پر اظہار سمرقندی شہدائے ظل منن ہیں یہ کربلا کے گوہر اسلام کے چمن ہیں وہ شمس نور اختر یہ صاحب نسب ہیں دلگیر عزم جوہر یہ مخزن ِ کفالت معمار سمر قندی جونر کی اس زمیں پر اظہار سمرقندی قطرے میں آگیا ہے فیض علوم دریا  رحمت کا در کھلا ہے پاتے ہیں لوگ صدقہ  صدیوں سے ہے ولایت غوث قطب کا ترکہ  ساحل امینِ امت پتوار سمرقندی جونر کی اس زمیں پر اظہار سمرقندی دینِ نبی کے داعی احکامِ معرفت میں ہیں ایسے وہ معلم قرآں کی تربیت میں مجذوبیت و سالک رہتے تھے کیفیت میں راتوں میں ذکر پڑھتے بیدار سمرقندی جونر کی اس زمیں پر اظہار سمرقندی کیا کیا بیاں کریں ہم اوصاف زندگی کے حسن و جمال پیہم پیکر وہ عاجزی کے  کیا تھی رموز و حرکت کیا طرز بندگی کے کیا مرتبہ...

بہت دیر کر دی ۔تحریر : عارف احمد تماپوری، (صدر مدرس اور کراٹا کے ضلعی صدر یاد گیر)

Image
بہت دیر کر دی ۔ تحریر : عارف احمد تماپوری، (صدر مدرس اور کراٹا کے ضلعی صدر یاد گیر) آج کے پر آشوب دور میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے بہ نسبت لڑکوں کے افسوس کہ والدین اپنی بیٹی کی خوبصورتی اور خاندانی فخر میں مدہوش ہیں لڑکی بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ _ والدین تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی کیسی مناسب و شریف و با اخلاق لڑکے سے اپنی بیٹی کا رشتہ طۓ کرنے تیار ہی نہیں ہوتے اسی طرح غیر محسوس طریقہ سے عمر ڈھلتی رہتی ہے  شیرین تبسم بھی والدین کی لاڈلی اور تعلیم یافتہ لڑکی تھی والدین کو ایک لڑکے کی تلاش تھی تا کہ شادی کے بعد اپنی بیٹی کی زندگی ایک مثالی زندگی بن جاےء جہاں لڑکی موجود ہو وہاں رشتے آہی جاتے ہیں شیرین تبسم کو بھی پیام آہی گیا لڑکے کی والدہ اور بہنوں نے دیکھا اور کہا ہاں انکو لڑکی پسند ہے بس آپ کے جواب کا انتظار ہے شیرین تبسم کے والدین کا سینہ فخر سے اونچا ہوگیاتھا خاندان کے افراد سے مشورہ کیا گیا معزز حضرات کی فخر یہ گفتگو سے محسوس ہو رہا تھا کہ آپسی گفتگو و مشورے کے بعد یہ طے  ہوا کہ سب کو لڑکا پسند ہے مگر گھر کے جو بڑے افراد ہوتے ہیں دادا جان حضرات کا مشورہ ...

ممبئی کے اردو صحافتی منظر نامے کا ایک معتبر اور جانا پہچانا نام فاروق سید کی یاد میں۔ ازقلم : محمد اقلیم ، (ایڈیٹر ھما شما اخبار۔ ممبئی)

Image
ممبئی کے اردو صحافتی منظر نامے کا ایک معتبر اور جانا پہچانا نام فاروق سید کی یاد میں۔  ازقلم : محمد اقلیم ، (ایڈیٹر ھما شما اخبار۔ ممبئی) ٥ ستمبر ١٩٦٨ کو اس دنیا میں آنکھیں کھولنے والے فاروق سید ممبئی کے اردو صحافتی منظر نامے کا ایک معتبر اور جانا پہچانا نام ہیں۔ انہوں نے اپنی بے باک صحافت، منفرد اسلوبِ تحریر اور سماجی مسائل پر گہری نظر کی وجہ سے اردو دنیا میں اپنی ایک خاص پہچان بنائی۔ ممبئی کی متحرک اور تیز رفتار زندگی میں اردو زبان و ادب اور صحافت کے فروغ کے لیے ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ فاروق سید کا تعلق مہاراشٹر کی تجارتی اور ثقافتی راجدھانی ممبئی سے تھا۔ انہوں نے ایک ایسے دور میں آنکھ کھولی جب ممبئی اردو صحافت اور ادب کا ایک بڑا مرکز ہوا کرتا تھا۔ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد صحافت کے میدان کو اپنے روزگار اور جنون کے طور پر چنا۔ ان کے اندر معاشرے کی اصلاح اور سچائی کو سامنے لانے کا جو جذبہ تھا، اس نے انہیں جلد ہی صحافتی حلقوں میں ممتاز کر دیا۔ فاروق سید نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی کے معروف اردو اخبارات سے کیا۔ انہوں نے مختلف حیثیتوں سے کام کیا، جن میں بطو...

فاروق سید — صرف ایک نام نہیں، ایک پورا عہد تھے…ازقلم۔محمود نواز، سولاپور۔

Image
فاروق سید — صرف ایک نام نہیں، ایک پورا عہد تھے… ازقلم۔محمود نواز، سولاپور۔ آج دل بہت بوجھل ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے اردو دنیا کا ایک روشن چراغ بجھ گیا ہو۔ بچوں کے ادب، تعلیمی تحریک اور اردو تہذیب کی وہ خوبصورت آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی جس نے پچھلی پانچ دہائیوں تک ہزاروں دلوں کو روشنی دی۔ میں نے آپ کے ساتھ “گل بوٹے اسکالرشپ امتحان” اور کئی تعلیمی سیمیناروں میں کام کیا۔ یہ سب میری زندگی کے وہ قیمتی لمحات ہیں جو ہمیشہ میرے لیے سنگِ میل رہیں گے۔ آپ کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ آج ایک خزانے کی طرح یاد آرہا ہے۔ ہم جیسے کئی نوجوانوں نے آپ کو دیکھ کر بولنا سیکھا، اسٹیج پر پُراعتماد انداز میں ٹھہرنا سیکھا، مجمع کو سنبھالنا، الفاظ میں تاثیر پیدا کرنا اور سامعین کے دل جیتنا سیکھا۔ آپ صرف مقرر نہیں تھے، بلکہ ایک پوری درسگاہ تھے۔ ایک تقریب میں آپ نے سب کے سامنے کہا تھا: “سولاپور میں یہ میرے بیٹے ہیں، لوگ مجھے اِن کے نام سے جانتے ہیں… مجھے فخر ہے۔” آپ کے یہ الفاظ میرے لیے کسی اعزاز، کسی سند اور کسی انعام سے کم نہ تھے۔ آج بھی وہ جملے میرے کانوں میں گونج رہے ہیں اور دل کو رُلا رہے ہیں...

جامعہ طیبہ للبنات تماپور رنگم پیٹ میں تعلیمی مظاہرے کا انعقاد۔

Image
تماپور (توفیق اسد تماپوری) تماپور رنگم پیٹ ضلع یادگیر۔ تماپور جسے علم و ادب کا گہوارہ کہا جاتا ہے تو وہیں اسلامی نقطۂ نظر سے بھی یہ بستی دین اسلام کے افکار اسکی نشر واشاعت کے لئے بھی بڑی زرخیز رہی ہے۔ مساجد اور مدارس کی یہاں کوئی کمی نہیں ہے مقامی بچے بچیوں کے علاوہ اطراف و اکناف کے قصبوں سے بھی ایک قابل لحاظ تعداد میں ہر سال بچوں کی آمد ہوتی رہتی ہے۔ اور دینی علوم کے ہر پہلو سے واقف ہو کر آراستہ ہو کر فکر آخرت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا کر ہر حال میں شریعت محمدی ﷺ کی پاسداری کا آخری سانس تک عمل پیہم کا عہد لےکر فراغت پاتے ہیں۔ مندرجہ بالا ذکر کی ہی ایک کڑی مدرسہ جامعہ طیبہ للبنات تماپور رنگم پیٹ بھی ہے۔ سن 2009 میں اس کا قیام عمل میں آیا۔ ابتک اس مدرسہ سے قریب چار ہزار ملت اسلامیہ کی دختران زیور تعلیم سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ اسکے پیچھے کارفرما بانی و مہتمم حضرت مولانا مفتی الحاج اقبال صاحب قاسمی ونٹی کی شب و روز کی محنت جستجو قابل ستائش وہ قابل مبارکباد ہے۔ وقتاً فوقتاً مدرسہ جامعہ طیبہ للبنات میں بستی کی مشہور و معروف شخصیات کو مدعو کر کے انکی موجودگی میں طا...

بچوں کا قلم خاموش ہو گیا - فاروق سید کے سانحہ ارتحال پر اظہار افسوس - ازقلم : اشفاق احمد ساتکھیڑ( زید )

Image
بچوں کا قلم خاموش ہو گیا -  فاروق سید کے سانحہ ارتحال پر اظہار افسوس -  ازقلم : اشفاق احمد ساتکھیڑ( زید ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شولاپور : بچوں کا رسالہ ماہنامہ گل بوٹے کے مدیر و مالک اور ہفت روزہ اردو میلہ کے مدیر و مالک ہمارے عزیز دوست فاروق سید اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں ۔اردو زبان و ادب کا شہر شولاپور کا روشن ستارہ ادب کے آسمان سے غائب ہو گیا ہے۔شہر شولاپور کے اردو ادب کے حوالے سے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔صرف شولاپور ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے اردو ادب کے لئے بڑا نقصان ہے۔ " اج بچوں کا قلم خاموش ہو گیا "         فاروق سید جہاں دیدہ اور انسانی نبض کو سمجھ کر ادب کو تخلیق کرنے والی شخصیت تھی۔آپ کی سوچ نے ہندوستان کو پہلی مرتبہ " اردو میلہ " دیا آپ کی اس کاوش کو اردو ادب میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اپ شہر شولاپور کے ایک انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود آپ نے اپنے حوصلے اور اپنی شیریں زبان کے ذریعے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمی اردو میں اپنی منفرد پہچان اور نام بنایا۔بیرون ملک میں آپ کی پذیرائی اس بات کا...

سوالوں سے فرار اور جمہوریت کا وقار: غیر ملکی دوروں پر وزیرِ اعظم مودی کی خاموشی - از قلم: اسماء جبین فلک۔

Image
سوالوں سے فرار اور جمہوریت کا وقار: غیر ملکی دوروں پر وزیرِ اعظم مودی کی خاموشی -   از قلم: اسماء جبین فلک۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ سوال پوچھنے اور جواب دینے کے اس رشتے کا نام ہے جس پر ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد قائم رہتا ہے۔ دنیا کی ہر بڑی جمہوریت میں صحافت کو اقتدار کے دروازے پر دستک دینے کا حق حاصل ہوتا ہے، کیونکہ صحافی کا سوال دراصل عوام کی آواز ہوتا ہے۔ مگر جب اقتدار سوالوں سے خوفزدہ ہونے لگے، جب منتخب رہنما پریس کانفرنسوں سے گریز کرنے لگیں، تو پھر جمہوریت کی چمکتی ہوئی پیشانی پر خاموشی کا ایک سیاہ دھبہ ابھرنے لگتا ہے۔ حال ہی میں ناروے کے دورے کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ایک غیر ملکی صحافی کے سوال نے عالمی بحث کا موضوع بنا دیا۔ ناروے کی صحافی ہیلا لنگ نے جب یہ پوچھا کہ “وزیرِ اعظم مودی دنیا کے سب سے آزاد پریس کے سوالوں کا جواب کیوں نہیں دینا چاہتے؟” تو یہ محض ایک سوال نہیں تھا بلکہ موجودہ بھارتی جمہوریت کے مزاج پر اٹھنے والا ایک عالمی استفسار تھا۔ اس سوال کے بعد وزیرِ اعظم خاموشی سے ہال سے باہر نکل گئے، مگر ان کی خاموشی وہیں نہیں رک...

سیڑھیوں پر چڑھتا چین، چوٹی پر کھڑا امریکہ - اور دنیا کے بیچ کھڑی خاموش سفارت کاری۔ - از قلم : اسماء جبین فلک۔

Image
سیڑھیوں پر چڑھتا چین، چوٹی پر کھڑا امریکہ - اور دنیا کے بیچ کھڑی خاموش سفارت کاری۔ -   از قلم : اسماء جبین فلک۔ بین الاقوامی سیاست میں طاقت ہمیشہ توپوں، میزائلوں اور معیشت سے ظاہر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات طاقت کی سب سے بڑی علامت خاموشی ہوتی ہے، رفتار ہوتی ہے، انتظار نہ کرنے کا سلیقہ ہوتا ہے، اور یہ فیصلہ بھی کہ آپ مہمان کو کتنی دیر تک اپنے برابر کھڑا رکھتے ہیں۔ دنیا نے بیجنگ میں ایک بار پھر یہی منظر دیکھا، جب ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) اور شی جن پنگ (Xi Jinping) آمنے سامنے آئے۔ بظاہر یہ دو صدور کی ملاقات تھی، مگر درحقیقت یہ دو تہذیبوں، دو سیاسی نفسیات، اور دو عالمی تصوراتِ طاقت کا مقابلہ تھا۔ ایک طرف وہ امریکہ تھا جو پچھلی صدی کے بیشتر حصے میں دنیا کی واحد سپر پاور رہا، اور دوسری طرف وہ چین تھا جو بغیر شور مچائے، بغیر نعرے لگائے، سیڑھی در سیڑھی اوپر آتا رہا۔ بیجنگ کے “گریٹ ہال آف پیپل” (Great Hall of the People) کی اُن انتالیس چوڑی سیڑھیوں پر چلتے ہوئے دنیا صرف دو رہنماؤں کو نہیں دیکھ رہی تھی؛ دنیا یہ دیکھ رہی تھی کہ اب کون کس کو راستہ دکھا رہا ہے۔ شی جن پنگ آگے تھے، ٹر...