سماج کی تکلیفیں، دکھ اپنے ادب میں نمایاں طور پر آنے چاہئیں" - پروفیسر جمعدار - کتاب کی رسمِ اجرا، کتابوں پر بحث، شاعری محفل منعقد - آل انڈیا مسلم مراٹھی ساہتیہ پریشد کے پروگرام۔
سولاپور - (راست) ہماری ریاستی زبان مراٹھی بہت مالا مال ہے۔ اس میں پہلے سے آج تک کئی مسلم ادیبوں نے مراٹھی ادب میں قیمتی اضافہ کیا ہے۔ یہ بات قابلِ فخر ہے، لیکن ادب میں کہانی-ناول کی طرف نظراندازی نظر آتی ہے۔ شاعری کی مختلف اصناف میں بہت زیادہ لکھا جا رہا ہے، اسی طرح ناول کی صنف میں بھی نمایاں تحریریں آنی چاہئیں۔ ایسی توقع پروفیسر دستگیر جمعدار نے آل انڈیا مسلم مراٹھی ساہتیہ پریشد کے زیرِ اہتمام "کتابوں پر بات کریں" اس پروگرام کے تحت اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کی۔ صدارت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا - ڈاکٹر شکیل شیخ، ڈاکٹر ا. جا. تامبولی نے اپنے ناولوں کے ذریعے اور شاعر مبارک شیخ نے شاعری کے ذریعے جو ادبی خدمت کی ہے وہ قابلِ فخر ہے۔ ان کی ان کتابوں سے مسلم مراٹھی ادب میں قیمتی اضافہ ہوا ہے۔ سوشل کالج میں ہوئے "کتابوں پر بات کریں" اس پروگرام کا آغاز قرآن خوانی سے ہوا۔ پیش لفظ میں سیکریٹری ایوب احمد نلّامندو نے پروگرام کا مقصد واضح کرتے ہوئے تمام حاضرین کا خیرمقدم کیا۔ نائب صدر پرنسپل ڈاکٹر تامبولی، پرنسپل شکیل شیخ، خزانچی حسیب نداف، مبارک شیخ...