Posts

آپکے خواب ہم چرالیں گے۔۔ ازقلم : مسرورتمنا۔

Image
آپکے خواب ہم چرالیں گے۔ ازقلم : مسرورتمنا۔ جاوید حیران نگاہوں سے اپنی اونچی بلڈنگ سے 786 منزل کو دیکھ رہے تھے جہاں انکے دل کا چین نظر کا سکون قیام پزیر تھا اس دن وہ چھت پر نماز پڑھ رہی تھی اپنے گردوپیش سے بے خبر اور دور سے وہ بس اسے ہی دیکھے جارہے تھے خوبصورت حسین چہرہ سفید ڈوپٹہ اوڑھے جیسے. چاندنی زمین پر اتر ای ہو. . نصرہ... دل نے بے اختیار پکارا جاوید بھائ سعدیہ کی آواز پر وہ چونکہ تم پھ آگیں نیلی لڑکی بھائ میں نیلی پیلی نہیں ہوں بہت خوبصورت ہوں جبھی تو میرا رشتہ کانپور کے اویل مل اونر سے طے ہوا ہے آچھا مگر میں نے تو سنا تھا وہ لوگ گندے تیل خرید کر اسکی صفائ اور پیکنگ کر سپلای کرتے ہیں سعدیہ نے غصہ سے منھ سجا لیا اور واپس.پلٹ گئ سنو وہ تمہاری دوست آجکل نظر نہیں آتی کہاں کھوگئ تم اسے مسکراتا  دیکھ.وہ مسکرایے ریاض کی یاد آرہی نانی ماں سے کہ جلد سسرال بھجواتا ہوں ...... آپکی الم نصرہ... دہلی گئ ہوی ہے شاید وہ لاپرواہی سے بولی تھی ...   دہلی چلی گیں تم اسلیے چھت پر نہیں آتی اور میں تمہاری محبت میں بے.قرار آج بھی پ بس تمھیں ڈھونڈتا ہوں نصرہ... دل نے تڑپ کر ...

حج 2026 - مملکت میں حج ضوابط کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں تیز، متعدد افراد گرفتار-

Image
کے این واصف : حج 2026 کے لیے عازمین کی آمد کے سلسلہ سے شہر مکہ میں گہماگہمی بڑھ گئی۔ شہر میں رش کی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی افراد غیر قانونی طور پر حدود مکہ میں داخل ہونے کوشش کررہے ہیں۔ جس کے سبب سعودی سکیورٹی فورسز حج ضوابط کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ روز نامہ عرب نیوز کے مطابق مکہ ریجن میں پولیس نے اقامے، نسک کارڈ اور حج بریسلیٹ میں جعلسازی کے الزام میں 18 غیرملکیوں کو گرفتار کیا ہے، جن میں پاکستانی اور افغان باشندے شامل ہیں۔ دس غیر ملکیوں کو جن میں سوڈانی، مصری اور یمنی شامل ہیں، بغیر اجازت مکہ میں داخل ہونے اور وہاں قیام کرنے کی کوشش پر گرفتار کیا گیا۔ اس سے قبل پانچ افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا جو صحرائی علاقے میں پیدل مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ قانونی کارروائی کے بعد تمام افراد کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا۔  وزارت نے تمام افراد پر زور دیا کہ’ وہ اس سال حج سیزن 2026 کے ضوابط پر عمل کریں۔ عازمین کی سیفٹی اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام سے تعاون کریں۔

جناب محمد قاسم صاحب کے فرزند محمد ابراہیم رشتہ ازدواج سے منسلک۔

Image
سداسیوپیٹ 11/مئی (نمائندہ) محمد معز الدین خیاط کی دختر کبریٰ کی شادی الحاج محمد قاسم ساکن الگول حیدرآباد کے فرزند محمد ابراھیم کے ساتھ بعد نماز عشاء یس اے گارڈن میں انجام پائی۔خطبہ نکاح قاضی حافظ وقاری محمد نعمان نے پڑھا۔ استقبالیہ طعام یس اے گارڈن میں عمل میں آیا۔ اس پرُ مسٌرت محفل میں جناب شیخ فرید سابق رکن مشاورتی معاون ریلوے بورڈ مجلس کے صدور جناب محمد فاضل عرفانی صدر مجلس ۔جناب شیخ غوث پاشاہ صدر مجلس جناب اطہراحمد ۔محمد رفیع صدرمجلس کوہیر۔محمد مبین محی الدین بی آر یس لیڈر۔ محمد امجد پٹیل امیر جماعت اسلامی ۔سید واجد حقانی کونسلر ۔محمد پرویز اسٹار گلاس ۔محمد فیروز ٹرانسپورٹ۔محمد خلیل بھارت بیڑی ۔محمد اسحاق ۔محمد شکیل۔محمد وسیم اکرم ۔محمد واجد جنو۔محمد انور۔مولوی محمد غوث الدین نظامی سینئر صحافی نے نوشہ اور عروسہ کے والد کو مبارکباد پیش کی۔ جبکہ عبدالرشید ۔محمد غوث۔محمد فیروز خان ۔محمد زبیر۔محمد اظہرالدین وعزیز واقارب نے مہمانوں کا استقبال کیا۔۔۔۔

افسانچہ۔ - خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا۔ ازقلم۔: ڈاکٹر غیاث احمد، (صدر شعبۂ اردو-۲،۔ نیو کالج، چنئی)۔

Image
افسانچہ۔ -   خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا۔ از: ڈاکٹر غیاث احمد، صدر شعبۂ اردو-۲،۔ نیو کالج، چنئی۔ موبائل نمبر: 9840336623 کشور بارہویں جماعت کے امتحان میں ناکام رہا۔ وہ تین مضامین میں فیل ہو گیا۔ بچا کلیش ایک مزدور تھا۔ بھائی سرینڈر کے سڑک کے حادثے میں انتقال کر جانے کے بعد اس نے کشور کی پوری ذمہ داری اپنے اوپر لے لی تھی۔ کشور کی ماں تو بچپن ہی میں وفات پا چکی تھیں۔ ایک دن کلیش اپنے دوست صدیق صاحب سے فکر مندی کے عالم میں گفتگو کر رہا تھا۔ وہ کہنے لگا: “اگر میرے پاس پیسہ ہوتا تو میں کشور کو یوپی ایس پڑھواتا۔” کشور ایک طرف والدین کی جدائی کے غم میں مبتلا تھا اور دوسری طرف غربت کی پریشانیوں میں گھرا ہوا تھا، اس لیے بیچارہ امتحان میں ناکام ہو گیا۔ کلیش نے آہ بھرتے ہوئے صدیق صاحب سے کہا: “میں کشور کو انجینئر بنانا چاہتا تھا۔ ملک کی ترقی کے لیے اسے آگے بڑھانا چاہتا تھا، مگر وہ فیل ہو گیا۔” یہ سن کر صدیق صاحب بولے: “کشور پڑھائی میں شاید کمزور ہو، مگر اس کے اندر فنی صلاحیت موجود ہے۔ میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ وہ ٹوٹی پھوٹی چیزوں کو جوڑنے کی کوشش کرتا ہے اور کسی نہ کسی طرح انہ...

انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کا سالانہ ترجمان "انجمن" — ایک ادبی جائزہ - مدیر اعلٰی: ڈاکٹر پیر زادہ فہیم الدین۔مدیر: ڈاکٹر انیس صدیقی۔مبصر: واجد اختر صدیقی، گلبرگہ کرناٹک۔

Image
انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کا سالانہ ترجمان "انجمن" — ایک ادبی جائزہ -  مدیر اعلٰی: ڈاکٹر پیر زادہ فہیم الدین۔ مدیر: ڈاکٹر انیس صدیقی۔ مبصر: واجد اختر صدیقی، گلبرگہ کرناٹک۔ (9739501549) اردو کے سرکاری و غیر سرکاری ادارے اور تنظیمیں اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں جو کچھ ممکن ہے، فروغِ اردو کے لیے کوشاں ہیں۔ ہندوستان میں اردو زبان و ادب کی بقا، ارتقاء اور فروغ کے لیے انجمن ترقی اردو ہند کا قیام نصف صدی سے پہلے عمل میں آیا۔ اس کی فعال شاخوں میں گلبرگہ کا بھی شمار ہوتا ہے، جو اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتبار سے ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ گزشتہ چھ دہوں سے فروغِ اردو زبان و ادب میں نہایت سرگرم اور پیش پیش رہی ہے۔ اکثر و بیشتر انجمن کے زیر اہتمام مشاعرے، سمینار، کانفرنس اور اساتذہ کے لیے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ کی علمی و تعلیمی ترقی کے لیے اسکولوں کے مابین مختلف سطحوں پر کئی علمی و ادبی مقابلہ جات کا انعقاد، اور ایس ایس ایل سی، پی یو سی، ڈگری و پی جی کے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے نقد انعامات و میڈلس کی تفویض جیسی...

رشتوں میں احساس کم مطلب زیادہ۔۔۔۔ ازقلم : محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر لاتور۔

Image
رشتوں میں احساس کم مطلب زیادہ۔۔۔ ازقلم : محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر لاتور۔ انسانی زندگی رشتوں کے سہارے قائم ہے۔ انسان چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اُسے محبت، اپنائیت، خلوص اور احساس کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ رشتے صرف خون کے تعلقات کا نام نہیں ہوتے بلکہ یہ دلوں کی قربت، اعتماد، احترام اور احساس کے حسین بندھن سے جڑے ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ آج کے دور میں رشتوں کی حقیقت بدلتی جا رہی ہے۔ اب اکثر رشتے احساس، محبت اور وفاداری سے نہیں بلکہ مطلب، ضرورت اور فائدے سے جڑے نظر آتے ہیں۔ پہلے زمانے میں لوگ رشتوں کو عبادت سمجھ کر نبھاتے تھے۔ دکھ ہو یا سکھ، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔ بزرگوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت اور دوستوں سے وفاداری زندگی کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ مگر آج مادّی ترقی، خود غرضی اور دنیا پرستی نے انسان کو اتنا مصروف کر دیا ہے کہ اب تعلقات میں خلوص کم اور مفاد زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ جب تک کسی سے فائدہ حاصل ہوتا رہے تب تک تعلق قائم رہتا ہے، اور جیسے ہی مطلب ختم ہوتا ہے، ویسے ہی رویّے بھی بدل جاتے ہیں۔ آج بہت سے لوگ صرف اُنہی رشتوں کو اہمیت دیتے ہیں جہاں سے انہیں دولت، ش...

شیخ زید احمد عتیق احمد بنےوائرل نیوز لائیو کے جلگاؤں نمائندہ۔

Image
آج الحمدللہ مفتی محمد ہارون صاحب ندوی کے ہاتھوں سے مجھے Viral News Live کا صحافتی کارڈ دے کر صحافت کی اجازت ملی، ان شاء اللہ میں پوری ایمانداری اور صحافت کے دین کو نبھاؤں گا اور لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کروں گا۔ صحافت کے ذریعے سماج اور ملک کی خدمت کروں گا۔ آپ لوگ اپنے علاقے کی ہر خبر مجھ سے شیئر کیجئے، میں اپنے پیپر اور چینل کے ذریعے آپ کی خبر عوام تک، حکومت اور ڈپارٹمنٹ تک پہنچانے کی پوری کوشش کروں گا۔  شیخ زید احمد عتیق احمد   رپورٹر Viral News Live

حافظ سید معاویہ کی دسویں جماعت میں شاندار کامیابی۔

Image
(صلاح الدین ادیب)۔ مارول کی اینگلو اردو ہائی اسکول کے طالب علم حافظ سید معاویہ سید خالد نے دسویں جماعت میں 92.80 فیصد نمبر لے کر اسکول میں پہلا مقام حاصل کیا۔ حافظ سید معاویہ کو دوستوں اور رشتہ داروں نے مبارکباد دی۔ اس موقع پر میلاد خوانی کا بھی اہتمام کیا گیا۔ جس میں حاجی صابر، جناب سید مسرور علی، سید سلامت علی، یونس پٹیل، حافظ شاہد، سید کاشف بھائی، اور معززین علاقہ کی کثیر تعداد موجودگی رہی.

افسانچہ: مرد آشنا - ازقلم : ڈاکٹر نفیس فاطمہ اے ایچ۔

Image
افسانچہ: مرد آشنا -   ازقلم :  ڈاکٹر نفیس فاطمہ اے ایچ۔    دفتر کا منظر تھا، اسامیوں کا شور تھا۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی ایک جنگ چھڑی ہوئی تھی کہ کس کو کس دفتر میں ڈالا جائے گا۔ ہر ایک اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑنے پر تلا ہوا تھا، گویا قابلیت نہیں بلکہ سفارش اور چالاکی ہی اصل ہنر ہو۔ اسی گرما گرمی میں ایک نااہل عورت، فسانہ، نے بھی درخواست دے رکھی تھی—اور عجیب بات یہ تھی کہ اسے خود اپنی نااہلی کا ذرا بھی احساس نہ تھا۔ فسانہ کا حلیہ کچھ یوں تھا کہ قد گِدّا، منہ بوڑھا، دانت ٹیڑھے میڑھے، اور چہرہ ایسا جیسے وقت نے اس پر ہر ظلم آزما لیا ہو۔ مگر اس کے باوجود وہ اپنے چہرے کی رنگت پر ایسے اتراتی تھی جیسے حسن کی ملکہ ہو۔ بغیر میک اپ کے تو وہ کسی ہارر فلم کی ولن معلوم ہوتی تھی، اور میک اپ کے بعد یوں لگتا جیسے خرابی پر صرف رنگ چڑھا دیا گیا ہو—اصل چہرہ وہی کا وہی۔ دراصل اس اسامی کے لیے صبا کا انتخاب ہو چکا تھا، مگر فسانہ اور اس کی دوست صنم کی سازشوں نے سب کچھ الٹ دیا۔ دونوں نے مل کر افسرِ بالا، فراز صاحب، کے کان اس مہارت سے بھرے کہ سچ جھوٹ لگنے لگا اور جھوٹ حقیقت۔ ...

ممتا کو آئی انڈیا کی یاد: ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا...! ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔

Image
ممتا کو آئی انڈیا کی یاد: ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا...!   ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔ بھارتی سیاست کا ایک دلچسپ اور عبرت انگیز باب اس وقت رقم ہوتا ہے جب کوئی رہنما وقت کی گردش کے ساتھ اپنے موقف بدلتا رہے اور اصول و وفاداری کو ذاتی مفاد کی ترازو میں تولتا رہے۔ ممتا بنرجی کی سیاسی زندگی اسی باب کی ایک روشن، یا شاید تاریک، مثال ہے۔ مغربی بنگال کی 15 سالہ حکمرانی کے بعد جب مئی 2026 کے اسمبلی انتخابات نے انہیں نہ صرف اقتدار سے بے دخل کیا بلکہ ان کے اپنے حلقہ انتخاب بھبانی پور میں بی جے پی کے سبھیندو ادھیکاری سے 15105 ووٹوں کے فرق سے شکست کا ذلت آمیز تحفہ بھی دیا، تو آناً فاناً ممتا بنرجی کو اپنے انڈیا اتحاد کے ساتھیوں کی یاد آ گئی۔ سونیا گاندھی، راہول گاندھی، اروند کیجریوال، ادھو ٹھاکرے، اکھلیش یادو، تیجسوی یادو اور ہیمنت سورین کے نام گنوائے گئے اور کہا گیا کہ انہوں نے فون کر کے یکجہتی کا اظہار کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ یاد سچی ہے، یا محض سیاسی بقا کی تڑپ؟ ممتا بنرجی کی سیاسی زندگی پلٹیوں اور الٹ پھیر کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کا...

انا سے آگاہی کا عالمی دن (11/مئی) - محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔

Image
انا سے آگاہی کا عالمی دن  (11/مئی) -  محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔   ہر دِن کوئی نہ کوئی دِن ہوتاہے۔ عالمی سطح پر بھی، ملکی سطح پر بھی (ریاستی اور مقامی سطح پر بھی دن منائے جاتے ہیں)۔ اِن دِنوں کو دیکھیں تو ایسا لگتاہے کہ دنیا بھر کے ممالک اچھائی کے لئے فکرمند ہیں۔ دِن منانا اچھائی کو فروغ دینے کے مقصد اپنے اندر رکھتا ہے۔ انا سے آگاہی کا عالمی دن ہر سال (WORLD EGO AWARENESS DAY) 11/ مئی کو منایا جاتا ہے۔ بقول گوگل ”تاکہ مصنوعی طورپر خود میں پیدا کی ہوئی انا(EGO)، یا انا پرستی کے منفی اثرات کے بارے میں بیداری پیدا کی جا سکے، اور عاجزی اور خاکساری کی حوصلہ افزائی ہو۔ سال 2018؁ء میں تخلیق کیا گیا یہ دن اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح بغیر چیک اور جانچ کی گئی انا پرستی جذباتی بدسلوکی کی ایک شکل کے طور پر کام کرتی ہے اور صحت مندطریقے سے رہنازیادہ ذہنی تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔ انا سے آگاہی کے عالمی دن (11 مئی)کے اہم پہلو:۔(۱)یہ تحریک افراد کو اس بات پر غور کرنے کی ترغیب دیتی ہے کہ ان کی انا خود پر اور دوسروں پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے، جس کا مقصد زہرناک ...

عظیم نعمت ہے دل کا دنیا میں نہ لگنا - شبنم بنت محمد فاروق خان، ممبئی۔

Image
عظیم نعمت ہے دل کا دنیا میں نہ لگنا -  شبنم بنت محمد فاروق خان، ممبئی۔  بے نیازی یقیناً عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو دل کو مخلوق کی محتاجی سے نکال کر خالق سے جوڑ دیتی ہے۔ ایمان کے بعد اگر کوئی نعمت ہے جسے بار بار مانگنا چاہیے تو وہ بے نیازی ہے اس دنیا سے بے نیازی، دولت و آسائش سے بے نیازی، شہرت و نمود سے بے نیازی۔ ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔۔۔ "مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً" (جو نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے)  قرآن مجید (سورۃ النحل 16:97) یہ "حیاتِ طیبہ" دراصل اسی دل کی کیفیت کا نام ہے جو دنیا کی ظاہری چمک سے بے نیاز ہو کر ﷲ کی رضا میں سکون تلاش کرتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا ۔۔۔ "لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ" (مال کی کثرت اصل غنا نہیں، بلکہ اصل غنا دل کا غنی ہونا ہے)  ﴾صحیح بخاری﴿ جب بے نیازی دل میں گھر کر لیتی ہے تو اپنے ساتھ پرہیزگاری بھی لاتی ہے، اور پرہیزگار...

مصنف خواجہ بھائی باغوان کوکاویہ پریمی شیکشک منچ کا 'پریران ایوارڈ نوازا گیا۔

Image
سولاپو ر (اِقبال باغبان) :  کاویہ پریمی شیکشک منچ کی جانب سے مصنف خواجہ بھائی باغوان کو ان کے ادبی کام کے اعتراف میں 'پریران ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ پونیشلوک اہلیا دیوی ہولکر سولاپور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پرکاش مہانورکے ہاتھوں خاجہ بھائی باغوان نے اپنے خاندان کے ساتھ لیا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر سوہاس پجاری تھے۔ جب کہ ڈاکٹر اِقبال تمبولی نے پروگرام کی صدارت کی۔ اس موقع پر ڈائس پر موجود معززین میں پدماکر کلکرنی، کاویہ پریمی شیکشک منچ کے صدر آنند گھوڈاور کالی داس چاوڈیکر موجود تھے۔

ڈاکٹر ذاکر حسین اردو ہائی اسکول یاول کے شاندار نتائج۔

Image
یاول۔ (راست) مورخہ 8مئ 2026نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی یاول کے زیر انصرام ڈاکٹر ذاکر حسین اردو ہائی اسکول جونیئر کالج یاول نے ہر سال کی طرح امسال بھی ایس ایس سی نتائج میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے اسکول کا مجموعی نتیجہ 60.47 رہا  فروری مارچ 2026 کے ایس ایس سی امتحانات میں اسکول سے کل 167 طلباء شریک ہوے جن میں 101 طلباء نے کامیابی حاصل کی  ڈاکٹر ذاکر حسین اردو ہائی اسکول کے درخشاں ستارے   طالبہ سید مہناز اشفاق علی 91.40 فیصد مارکس [ اول]   شیخ رازق شیخ جمیل مومن 86.20فیصد مارکس[دوم]  ایفاز آصف کھاٹک ا ن85.20فیصد مارکس [سوم ]  نمبر پر کامیاب ہوے اوراپنے والدین واساتذہ کا نام روشن کیا ہے نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی یاول کے صدرو اراکین کی جانب سے طلباء کو اور ان کے سرپرست حضرات کو دلی مبارکباد پیش کی گئی ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ انھیں مستقبل کے امتحانات میں بھی اس سے بہتر کامیابی عطا فرمائے آمین

بادشاہ نگر اردو ہائی اسکول،ایس ایس سی امتحان کا شاندار نتیجہ - مجموعی نتیجہ % 100 فیصد۔

Image
بادشاہ نگر اردو ہائی اسکول،ایس ایس سی امتحان کا شاندار نتیجہ -  مجموعی نتیجہ % 100 فیصد۔ (نندوربار 10 مئی، پریس ریلیز )۔ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن، پونے کے تحت منعقدہ SSC فروری 2026 کے امتحان میں بادشاہ نگر اردو ہائی اسکول، نندوربار نے %100 کامیابی حاصل کرتے ہوئے شاندار روایت برقرار رکھی۔ اس موقع پر نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ میں سیدہ تطہیر فاطمہ جعفر (%84.80) ہانیہ محمد یوسف شیخ (%83.80) ردا فاطمہ مدثر شیخ (%82.60) انعم ناز لطیف شیخ (%81.20) مصباح اختر شیخ (%78۰60) ثانیہ فیروز شیخ (%78۰00) مصطفٰی اکبر بھائی ایسانی (78۰00) اس کامیابی پر اسکول مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین جناب سید نعیم الدین، صدر مدرس جناب ریاض سر اور تمام اساتذۂ کرام نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

مرحوم انور کھوت - شہر بھیونڈی کی قدیم تہذیبی و ثقافتی روایات کا امین۔۔ بقلم : ڈاکٹر خلیل تماندار، انٹاریو ، کینیڈا۔

Image
مرحوم انور کھوت -   شہر بھیونڈی کی قدیم تہذیبی و ثقافتی روایات کا امین۔  بقلم : ڈاکٹر خلیل تماندار  ----( انٹاریو ، کینیڈا )------ ____________________  بر اعظم ایشاء کے معروف صنعتی شہرِ بھیونڈی مہاراشٹر ، ہند کی گزشتہ چند صدیوں کی قدیم تہذیبی ثقافتی اور سماجی روایات ، کو نہایت سلیقے اور دیانت داری کے ساتھ ضبط تحریر میں لانے والے اور گراں قدر تصنیف “گزشتہ بھیونڈی” کے مصنف انور کھوت اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ 09 مئی 2026ء بمطابق 22 ذی القعدہ 1447 ھ کو تقریباً تراسی برس کی عمرِ طبعی میں داعیِ ء اجل کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے وہ اس دنیائے دنی کو داغِ مفارقت دے گئے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ آپ کی تدفین شہر بھیونڈی کے بھسار محلہ قبرستان میں سینکڑوں سوگواران کی موجودگی میں عمل میں آئی۔ ان کی رحلت کی خبر نے نہ صرف اہالیان بھیونڈی بلکہ قرب و جوار کے اربابِ علم و دانش کو بھی رنج و ملال سے نہ صرف سوگوار کر دیا بلکہ ہر صاحبِ ذوق نے اس سانحے کو گویا اپنا ذاتی خسارہ تک محسوس کیا۔ عمائدین شہر بھیونڈی کے ان غمناک جذب دروں کا ...

نمبروں کا جنگل۔ - ازقلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔

Image
نمبروں کا جنگل۔ -   ازقلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔ صبح کے وقت گاؤں کی پرانی چائے کی دکان پر غیر معمولی خاموشی تھی۔ وہی دکان… جہاں کبھی سیاست سے لے کر کرکٹ تک ہر موضوع پر زور دار بحث ہوا کرتی تھی۔ لیکن آج سب کے ہاتھوں میں موبائل تھے اور نگاہیں ایک ہی خبر پر جمی ہوئی تھیں۔ “دسویں جماعت کا نتیجہ جاری ہوگیا…!” چائے والے رحیم چاچا نے عینک درست کرتے ہوئے اخبار ایک طرف رکھا اور حیرت سے بولے: “ارے بھائی… یہ کیا زمانہ آگیا ہے؟ ہر دوسرے بچے کو 95 اور 98 فیصد نمبر مل رہے ہیں۔ اور یہاں تو کچھ بچوں نے پورے 100 فیصد بھی حاصل کرلیے!” ساتھ بیٹھے قادر ماموں نے لمبی سانس لی اور ہلکے سے مسکرا کر بولے: “رحیم بھائی… اب تو لگتا ہے کہ ہمارے زمانے کے سارے استاد قبر میں بھی شرمندہ ہورہے ہوں گے۔” دکان پر بیٹھے سب لوگ ہنس پڑے، مگر اس ہنسی میں ایک عجیب سی اداسی بھی شامل تھی۔ کیونکہ حقیقت یہی تھی کہ زمانہ بدل چکا تھا۔ رحیم چاچا کو آج بھی اپنا دسویں جماعت کا نتیجہ یاد تھا۔ وہ دن اُن کی زندگی کا سب سے بڑا دن تھا۔ گاؤں کے پوسٹ آفس کے باہر نتیجہ لگایا گیا تھا۔ سیکڑوں بچے اپنے رول نمبر ڈھونڈ رہے ت...

خان حسنین عاقب عالمی شاعری فیسٹیول (انڈیا چیپٹر) کے ڈائریکٹر مقرر۔

Image
تہران/کابل: (محمد شریف) ادب کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور اسی آفاقی سچائی کو عملی جامہ پہناتے ہوئے  تیسرے سبزمنش عالمی شاعری فیسٹیول کی سیکرٹریٹ نے باضابطہ طور پر سال 2026 کے سیزن کے لیے اپنی انتظامی قیادت اور علاقائی نظامت کا اعلان کر دیا ہے۔ فیسٹیول کی بڑھتی ہوئی عالمی رسائی کے پیش نظر، اس عالمی ادبی کہکشاں میں بھارت کی نمائندگی کرنے کے لیے ممتاز شاعر، صاحبِ طرزادیب، معلم اور مایہ ء ناز مترجم *خان حسنین عاقب* کو انڈیا چیپٹر کے لیے اس عالمی شاعری فیسٹیول کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ بھارت کے ادبی حلقوں کے لیے یہ اعزاز نہایت اہم مانا جارہا ہے ۔  9 مئی 2026 کو کیے گئے اس اعلان کے ذریعے ایک اعلیٰ سطحی ایگزیکٹو بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جس میں افغانستان، ایران، تاجکستان، ازبکستان، ریاستہائے متحدہ امریکہ، پاکستان اور بھارت سمیت سات ممالک کی ممتاز ادبی شخصیات شامل ہیں۔ *ایک عالمی ادبی اتحاد:* اس فیسٹیول کا انعقاد سبزمنش ورلڈ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام کیا جا رہا ہے جو ایک آزاد بین الاقوامی ثقافتی تنظیم ہے اور اس وقت 33 ممالک میں سرگرمِ عمل ہے۔ حال ہی میں ازبکستان کے ادبی جریدے در...

قیاس کی ضرورت کیوں؟۔ - ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔

Image
قیاس کی ضرورت کیوں؟۔ -    ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔ کیا واقعی قرآن و حدیث کی موجودگی میں قیاس کی کوئی حاجت باقی رہتی ہے، یا یہ محض فقہی موشگافی ہے جس نے دین کو مشکل بنا دیا؟ یہ سوال آج کے ذہن میں شدت سے ابھرتا ہے، خصوصاً جب یہ کہا جاتا ہے کہ “دین مکمل ہے، ہر چیز نص میں موجود ہے، پھر نئے اصول کیوں گھڑے جائیں؟” بظاہر یہ بات بڑی وزنی محسوس ہوتی ہے، مگر ذرا ٹھہر کر سوچیے: کیا نصوص ہر آنے والی نئی صورت کو لفظ بہ لفظ بیان کرتی ہیں، یا وہ ایسے اصول دیتی ہیں جن کی روشنی میں نئی صورتوں کو سمجھا جاتا ہے؟ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہمیں صرف الفاظ کافی ہیں، تو وہ دراصل اس حقیقت سے چشم پوشی کر رہا ہے کہ الفاظ ہمیشہ اپنے پیچھے ایک علت، ایک مقصد، اور ایک حکمت رکھتے ہیں۔ انہی علتوں تک پہنچنے اور انہیں نئی صورتوں پر منطبق کرنے کا نام قیاس ہے۔ یوں قیاس نص کا بدل نہیں بلکہ نص کے فہم کا ذریعہ ہے۔ایک سادہ مثال لیجیے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے: حدیث میں مکھی کے بارے میں آیا کہ اگر وہ برتن میں گر جائے تو اسے ڈبو کر نکال دو، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے۔ اب کوئی ...

خیر امت پر زوال کیوں؟۔ تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی مہاراشٹر۔

Image
خیر امت پر زوال کیوں؟ تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی مہاراشٹر۔ 9881836729  یہ ماضی سے لیکر دور حاضر تک کا ایک ایسا سلگتا ہوا اور ایک برننگ سوال ہے۔ جس کا جواب ہمارے پاس ہی موجود ہے۔ جس طرح ہم نے اللہ کی قدر کرنا تھی ویسی نہیں کی۔ جو تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ اور تمام سلطنتیں اس کے لیے ہیں۔ کیونکہ یہ دنیا امتحان ہے۔ یہاں انسانی زندگی اور موت کو امتحان کے طور پر پیدا کیاگیا ہے۔ اور پھر انسان کو مکلف بنایا ہے کہ وہ اچھے اور برے میں تمیز اور فرق کریں۔ آج ہماری قوم و ملت کے ابتر ہونے کی وجہ تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ ہماری قوم اچھی رہنمائ اور سچی قیادت سے محروم ہے۔ جو اج وقت کی اہم ضرورت ہے، قیادت کا تعلق بھی نیتوں پر منحصر ہے، نیتیں خالص اور قوم و ملت کے سرخروئ کے لیے ہو تو ہم اس ( Demotion) تنزلی سے باہر نکل کر روشن سمت کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم نے کسی کو اگر چاہا تو اس کو اپنا لیڈر بنا دیا۔ ہماری خرابی یہ بھی ہے کہ ہم نے کسی پر بھروسہ کر لیا تو اسی پر اکتفا کر لیا۔ جبکہ قران مجید نے اچھی اور لوگوں کی فلاح کے لیے رہنمائ فر...

ظہیرآباد میں گرلز اسلامک آرگنائزیشن کے گرمائی دینی کلاسیس کا اختتامی پروگرام امیر مقامی کے ہاتھوں طالبات میں انعامات کی تقسیم۔

Image
ظہیرآباد. 10/مئی(نمائندہ)جی آئی اوظہیرآباد کےزیراہتمام اسلامک سنٹرلطیف روڑظہیرآباد پر 8 روزه گرمائی دینی کلاسیس کا اختتامی پروگرام عمل میں آیا جسکی صدارت جناب محمد قیصرغوری امیرمقامی جما عت اسلامی ہند ظہیر آباد نارتھ نے کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے والی طالبات میں انعامات اور سر ٹیفیکٹ تقسیم کئےگئے اس موقع پر بطور مہمانان خصوصی صدر ضلعی ایم پی جے سنگاریڈی انجنئیر محمد شہباز الدین ، ناظمہ شعبه خوا تین محترمہ ہماتنویر معاون ناظمہ نسیم فا طمہ صاحبہ وطالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اور صدر جی آئی ظہیرآباد انشرا نبیله ، ریجنل آرگنائزر مغرب حذیفہ افنان ، میڈیا سکریڑی طوبیٰ ارم ، کیمپیں آرگنائزر ثمرین بیگم ، دعوه ارگنائزر افشان بیگم ، عائشہ بیگم ممبر جی آئی او ، ثنا بیگم ممبر جی آئی او ، اسر ی ’ما ہین ممبر جی آئی او اور طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔۔۔

اردو زبان ہماری تہذیبی شناخت ہے... اردو سیکھیں اور دوسروں کو بھی سکھائیں....الحاج این ایم ڈی فاروق صاحب، وزیر اقلیتی فلاح و بہبود۔

Image
اردو زبان ہماری تہذیبی شناخت ہے...   اردو سیکھیں اور دوسروں کو بھی سکھائیں.... الحاج این ایم ڈی فاروق صاحب،  وزیر اقلیتی فلاح و بہبود۔    آندھراپردیش (راست) اردو اکیڈمی کے چیئرمین محترم فاروق شبلی کی صدارت میں آج بروز اتوار صبح گیارہ بجے وزیر اقلیتی فلاح و بہبود الحاج این ایم ڈی فاروق صاحب کے ہاتھوں مقامی ٹی. ڈی. پی دفتر میں بروز اتوار کی صبح گیارہ بجے اردو سیکھنے کے امیدواروں میں اردو اکیڈمی کی جانب سے طبع شدہ "آؤ اردو سیکھیں" کتابیں مفت تقسیم کی گئیں۔* اس دوران اپنے خطاب میں فاروق شبلی نے بتایا کہ رواں موسم گرما میں ریاستی سطح پر مختلف شہروں میں اردو اکیڈمی کی جانب سے "آؤ اردو سیکھیں" کے عنوان سے مفت اردو سیکھنے کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں شہر نندیال میں نزد مولانا ابوالکلام آزاد فنکشن ہال، نبی نگر اور کانالا، ایلور، گاجولہ پلی میں "آؤ اردو سیکھیں" کلاسز کا اہتمام کیا گیا ہے۔ انہوں نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد اور ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی کرنول کے قیام کا ذکر کیا اور چندرا بابو نائیڈو کی اردو خدما...

سنسان گلی - از قلم : رہبر تماپوری۔

Image
سنسان گلی -  از قلم : رہبر تماپوری۔ رات کا ہولناک سناٹا سنسان گلی پر چھایا تھا، جہاں ایک قدیم پرانا کھنڈر وحشت ناک خاموشی کے ساتھ کھڑا تھا۔ مقامی لوگوں میں مشہور تھا کہ یہ ویرانہ جنات کا قدیم مسکن ہے، جہاں آدھی رات کو آسیب جاگتے ہیں اور انسانی بو سونگھتے ہی اسے اپنا شکار بنا لیتے ہیں۔ اظہر ان کہانیوں کو محض وہم اور فرسودہ افسانہ سمجھتا تھا۔ ایک طوفانی رات جب بادل گرج رہے تھے، دوستوں نے اسے للکارا، تو وہ بہادری کا مظاہرہ کرنے بارہ بجے کی ٹھٹھرتی ٹھنڈ میں وہاں کیل ٹھونکنے پر آمادہ ہو گیا۔ جیسے ہی وہ کھنڈر کی سیڑھیاں چڑھا، اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں، خوف کے مارے اس نے اپنی دھوتی کا پلو دانتوں میں دبا لیا۔ جب اس نے آخری ضرب لگائی تو اچانک ایک یخ بستہ ہوا کا جھونکا آیا، اور خشک شاخیں کسی چڑیل کی ہنسی کی طرح بجنے لگیں۔ اظہر بدک کر پلٹا، لیکن کسی نادیدہ قوت نے اسے پیچھے سے جکڑ لیا۔ اس نے چھڑانے کی پوری کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اگلی صبح جب لوگ وہاں پہنچے تو اظہر غائب تھا، وہاں صرف دیوار میں پیوست کیل اور دھوتی کا ایک خون آلود چیتھڑا باقی رہ گیا تھا۔ آج بھی وہ سنسان گلی ایک عب...

خواتین کو خود کفیل محفوظ و مضبوط بنانا مشن ہے: ایڈوکیٹ زیبا شیخ۔ "جلگاؤں میں خواتین کی صنعتی خواندگی کا تربیتی پروگرام"

Image
جلگاؤں ( عقیل خان بیاولی) اسلام میں حلال رزق کمانا، بچوں کو حلال کھانا کھلانا، ضرورت و سوال سے پرہیز کرنا اور بچوں کو اچھی تعلیم دینا، ان کی پرورش پر بھرپور توجہ دینا کو فرض قرار دیا گیا ہے۔ خصوصاً بیٹیوں کی تعلیم و پرورش کے لیے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ آج کے پر فتن دور میں خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کرتے ہوئے انہیں ورک فرام ہوم (گھر بیٹھے) کے ذریعے حلال پیسہ کمانے کی تربیت دینا۔ان کی صنعتی و حصول روزگار ترقی کے لیے کام کرنا، انھیں قرض فراہم کرنا اور سرکاری اسکیموں سے مستفید کرنا بھی ایک بہت ہی نیک اور ثواب کا کام ہے، جو اس وقت ریاست مہاراشٹر میں " پولیس حق سنگھرش سنگٹھن" کر رہا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھائیں، گھر سے کام کرتے ہوئے حلال روزی کمانے اور اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دیں۔ کوشش کریں اور ان لوگوں کا ساتھ دیں جو یہ نیک کام کر رہے ہیں، کا اظہار خیال جمعیت علماء مہاراشٹرا کے نائب صدر اور کانگریس کے ترجمان مفتی محمد ہارون ندوی نے خواتین کے صنعتی خواندگی کے تربیتی پروگرام میں اپنے کلیدی خطاب میں کہی۔ کیمپ میں تنظیم کی صدر ایڈ...

سیول انجینئر محمد حمزہ اللہ صدیقی کے عقدِ مسعود، و ضیافتِ ولیمہ کی پُروقار تقریب۔

Image
بیدر9/مئی (نامہ نگار) بہ فیض روحانی محدیثِ دکن حضرت حضرت سید عبداللہ شاہ نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ، ۔مولوی محمد کرامت اللہ صدیقی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کے نبیرہ، اور جناب مولوی محمد عطاء اللہ صدیقی نقشبندی امام جامع مسجد بیدر، ساکن پنسال تعلیم بیدر کے فرزند محمد حمزہ اللہ صدیقی سیول انجینئر کا عقدِ مسعود، جناب شیخ رشید چشتی نظامی سجادہ نشین درگاہ حضرت شیخ وزیر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ بیدر کی دخترِ نیک اختر کے ساتھ بحسن و خوبی انجام پایا۔ محفلِ عقد ،۔اور پُرتکلف ضیافتِ ولیمہ کا اہتمام پٹیل پیالیس فنکشن ہال، بیدر میں کیا گیا، جہاں علماءِ کرام، مشائخِ عظام، معززینِ شہر، سیاسی و سماجی قائدین، رشتہ داروں، احباب اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے دلہا و دلہن کو مبارکباد پیش کی اور ان کی خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے دعائیں دیں۔ تقریب میں خصوصی طور پر سجادگانِ کرام، ائمہ مساجد، حفاظ و قراء، دانشوران، تاجر برادری، نوجوانانِ ملت اور شہر کے ممتاز سماجی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ محفل نہایت خوشگوار، روحانی اور پُروقار ماحول میں منعقد ہوئی، جبکہ ...

ریاستی وزیرِ حج و بلدی نظم و نسق جناب الحاج محمد رحیم خان کے اعزاز میں مسجد عثمانیہ بیدر میں شاندار تہنیتی تقریب۔

Image
بیدر،10؍مئی (نامہ نگار) بیدر کے نوجوان، حرکیاتی اور ترقی پسند قائدِ قوم، رکنِ اسمبلی بیدر و ریاستی وزیرِ حج و بلدی نظم و نسق جناب الحاج محمد رحیم خان اس سال عازمِ حج ہیں۔ اس موقع پر حلقۂ اسمبلی بیدر میں مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی و ملی تنظیموں کی جانب سے تہنیتی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی کے طور پر کل بعد نمازِ عشاء شہر کی تاریخی و خوبصورت مسجد عثمانیہ، قدوائی روڈ بیدر میں انتظامی کمیٹی کے زیرِ اہتمام ایک شاندار تہنیتی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت جناب الحاج محمد حبیب الدین گتہ دارصدرانتظامی کمیٹی نے کی۔ اس موقع پر عہدیدارانِ کمیٹی، اراکینِ برادری بز قصبابان علی باغ، اہلیانِ محلہ، مصلیانِ مسجد اور شہریوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ تقریب میں رکنِ اسمبلی بیدر جناب الحاج محمد رحیم خان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ جناب محمد عبدالصمد منجووالا، سابق صدر مجلس بیدر نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے موصوف کو کمیٹی اور برادری کی جانب سے مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جناب محمد رحیم خان کی ذاتی دلچسپی اور خصوصی تعاون سے برادری بز قصبابان علی باغ بیدر کو تدفین کے لیے آدھ...