Posts

مرزا سفیان بیگ انعامدار نے 86.60 فیصد نمبر لیکر کامیابی حاصل کی۔

Image
(مولانا احمد بیگ) مرزا سفیان بیگ یوسف بیگ انعامدار نے مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کے ذریعہ منعقدہ دسویں جماعت کے امتحانات میں 86.60 فیصد نمبر حاصل کرکے اپنے گھر اور خاندان کا نام روشن کیا ہے۔مہاراشٹر کے ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کے زیر اہتمام دسویں جماعت کے امتحانات کے نتائج کا حال ہی میں اعلان کیا گیا جس میں مرزا سفیان بیگ نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اُنہوں نے 86.60 نمبر حاصل کیے اور اپنے خاندان کا نام روشن کیا۔ مرزا سفیان بیگ نے انگریزی میں 89، مراٹھی میں 64، ہندی میں 90، ریاضی میں 90، سائنس اور ٹیکنالوجی میں 74 اور سوشل سائنس میں 90، 500 میں سے مجموعی طور پر 433 نمبر حاصل کیے ہیں،انہوں نے اپنی تعلیم بلولی شہر کے معروف تعلیمی ادارے ایل ایف سی سے حاصل کی ہے۔سفیان کی اِس کامیابی پر اُن کے والد مرزا یوسف بیگ اور دادا مرزا عظمت بیگ انعامدار اور اہل خانہ نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اور اسکول کے پرنسپل اور تمام اساتذہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔مرزا سفیان بیگ کو مبارکباد دینے والوں میں شہر کے سابق صدر بلدیہ وجے کمار کنچنوار جاوید سی...

سکوت کا شور (مکالمہ)۔ از قلم: رہبر تماپوری۔

Image
 سکوت کا شور (مکالمہ) از قلم: رہبر تماپوری۔ (منظر: رات کا آخری پہر ہے۔ فضا میں ایک گہرا، مہیب اور پراسرار سناٹا چھایا ہوا ہے۔ برسوں کے طویل بچھڑنے اور زمانوں کی دوریوں کے بعد، وہ اپنے محلے کی اسی پرانی گلی میں کھڑی ہے، جہاں اس کے آبائی مکان کی اکھڑی ہوئی اینٹیں اور بوسیدہ دیواریں ماضی کا کوئی بھولا ہوا نوحہ پڑھتی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ دھیمے اور لرزتے ہوئے قدموں سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کی پیاسی اور اداس نظریں دور سے اسی آشیاں کو ڈھونڈ رہی ہیں جہاں کبھی اس کا معصوم بچپن رقص کرتا تھا۔ جیسے ہی وہ اس شکستہ حویلی کی چوکھٹ پر قدم رکھتی ہے، اندھیرے کے کسی گوشے سے ایک شناسا, کانپتی اور بوڑھی ہوتی ہوئی آواز ابھرتی ہے۔) بھائی: (حیرت، خوف، اور شدید پشیمانی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اندھیرے سے نکلتا ہے) تم…؟ اتنے سالوں کے طویل اور تکلیف دہ بچھڑنے کے بعد… آج اس وقت… یہاں کیوں آئی ہو؟ بہن: (ویران، بنجر اور اجاڑ آنگن پر اپنی حسرت بھری نظریں جماتے ہوئے) میں یہاں کسی مادی غرض، مطالبے یا حق کے لیے نہیں آئی بھائی! میں تو بس اسی مانوس آنگن کی یاد میں کھچی چلی آئی ہوں، جہاں ہمارے بچپن کی معصوم خو...

ان خواتین نے سماج کی بہتری کے لیے خود کو وقف کر دیا - فردوس انجم (بلڈانہ مہاراشٹر)

Image
ان خواتین نے سماج کی بہتری کے لیے خود کو وقف کر دیا -  فردوس انجم (بلڈانہ مہاراشٹر) یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ خواتین کو معاشرے میں وہ مقام اور مرتبہ حاصل نہیں تھا جو آج ہے ۔ تاریخ کے اوراق کی گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اٹھارویں صدی تک خواتین کا استحصال بڑے پیمانے پر ہوتا تھا۔ انھیں کسی بھی طرح کے حقوق حاصل نہیں تھے۔ وہ مسلسل ظلم‌و جبر کا شکار رہیں۔ بیٹیوں کو زندہ درگور کر دینا،ستی کی رسم، کمسنی کی شادی ،بیواؤں کی دوبارہ شادی نہ ہونے دینا جیسے مسائل بڑے پیمانے پر ہوتے تھے۔  انہیں عزت و احترام بھی حاصل نہ تھا۔ اس کے خلاف سب سے پہلے راجہ رام موہن رائے نے آواز اٹھائی اور 1829ءکو ستی کی رسم پر پابندی کا قانون نافذ کروایا۔حالانکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی سلطنت تھی، اور ان کے یہاں رضیہ سلطان ،چاند بی بی ،نور جہاں ،اور دیگر خواتین علم و ذہانت کے علاوہ اقتدار سنبھال چکی تھیں۔ تا ہم عام خواتین مظالم کا شکار رہیں۔ اس کے بعد مہاتماجوتی راؤ پھلے نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے 1844ء میں پہلا مدرسہ پونہ میں شروع کیا۔ اور سماج میں خواتین کی حیثیت کو متعارف کروانے ...

بنڈی سنجے کو ریونت سرکار کا ساتھ، نابالغ بچی پر جنسی زیادتی انتہائی گھناؤنی، ایس سی کارپوریشن کے سابق چیئرمین وائی. نروتم کا بیان۔

Image
ظہیرآباد13 مئی (نمائندہ) مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار کو ریاستی حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے ان کے بیٹے بھگیرتھ پر درج POCSO کیس کو پانی میں بہانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ بنڈی بھگیرتھ کا نابالغ بچی پر جنسی زیادتی کرنا سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ چیف منسٹر نے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو اپنے پاس رکھا ہے مگر اس کی طرف توجہ نہ دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ نابالغ بچی پر درندگی کے الزامات کے ساتھ بھگیرتھ پر FIR درج ہوئی اور تین دن گزر چکے ہیں مگر اب تک گرفتار نہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ مسٹر نروتم کا کہناہے کہ چیف منسٹر کے حکم پر ہی پولیس گرفتاری میں تاخیر کر رہی ہے۔ بچی اور اس کے خاندان کے افراد کو پولیس دھمکیاں دے رہی ہے۔ POCSO کیس کو عام کیس میں بدل کر اسے بے اثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا وزراء کے بیٹوں کے لیے ایک قانون اور دوسروں کے لیے دوسرا قانون ہے؟ عوام کا قوانین پر اعتماد ختم نہ ہو، اس کے لیے پولیس کو غیر جانبدارانہ طور پر اپنا فرض نبھانا چاہیے اور بھگیرتھ کو فوری گرفتار کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ اس پروگرام میں سابق سرپنچ شنکر، رہنما یس. گوپال، نبی صاحب اور دیگر سیاسی سماجی قائدین موجود تھے...

اردو کی ترقی و بقاء کے لئے ہر اہل اردو اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔ ادارۂ ادب اسلامی فرسٹ لانسرز کی تقریب سے ممتاز دانشوروں کا خطاب۔

Image
حیدرآباد ۔ (پریس نوٹ) ادارۂ ادب اسلامی فرسٹ لانسرکے زیر اہتمام اتوار کی شب ہل کریسٹ اپارٹمنٹ مراد نگر پر ادارے کی جانب سے ایک نثری و شعری نشست کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس موقع پر خیر مقدم کرتے ہوئے صدر ادارۂ ادب اسلامی فرسٹ لانسر جناب نجیب احمد نجیب نے کہا کہ ایسی محفلیں اردو ادب کی بقاء و فروغ کی ضامن ہوتی ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان نوازی کو ایمان کا جز قرار دیا اور فرمایا کہ مہمان کی آمد فیوض و برکات کا سر چشمہ ہوتی ہے۔ صدر محفل و معروف شاعر جناب رؤف خیر نے مہمان خصوصی جناب ندیم راعی پر تعارفی مضمون پیش کیا۔ مرادآباد سے تشریف لائے مہمان و افسانہ نگار ندیم راعی کو تہنیت پیش کرتے ہوئے نجیب احمد نجیب ان کی شال پوشی کی۔ مہمان خصوصی و معروف افسانہ نگار ندیم راعی صاحب نے بھی بھی افسانہ پیش کیا۔ ابتداء میں ابو نبیل خواجہ مسیح الدین نے افسانہ پیش کیا۔ شکیل حیدر کانپوری کی نعت مبارکہ سے شعری نشست کا آغاز ہوا۔ شعراء اکرام میں شاعر خلیج جناب جلیل نظامی، جناب سیف نظامی، جناب ارشد شرفی،جناب شکیل حیدر کانپوری، ڈاکٹر علیم خان فلکی، جناب ابو نبیل خواجہ مسیح الدین، ج...

چیرمین تلنگانہ پریس اکیڈمی سرینواس ریڈی سے کے این واصف کی ملاقات ۔ تصنیف کی پیش کش۔

Image
چیرمین تلنگانہ پریس اکیڈمی سرینواس ریڈی سے کے این واصف کی ملاقات ۔ تصنیف کی پیش کش۔  حیدرآباد ۔ (پریس نوٹ)  صدر نشین تلنگانہ پریس اکیڈمی مسٹر کے سرینواس ریڈی سے معروف پریس فوٹو گرافر کے۔ این۔ واصف نے اکیڈمی کے آفس پر ان سے ایک خیرسگالی ملاقات کی اور اپنی تصنیف India’s Architectural Heritage پیش کی۔ سرینواس ریڈی نے کتاب کا بغور مطالعہ کیا اور اس کی ستائش کی۔ اس موقع پر تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کے صدر جناب ایم اے ماجد بھی موجود تھے۔  کے این واصف کی یہ کتاب ہندوستان کے قرون وسطیٰ میں تعمیر ہوئی یادگار تاریخی عمارتون اور ان تعمیری باریکیوں کو بے حد خوبصورت انداز میں پیش کرتی ہے۔  کے این واصف نے 1980 سے 1992 تک حیدرآباد کے روزناموں سیاست، دکن کرانیکل اور انڈین ایکسپرس میں بحیثیت اسٹاف فوٹوگرافر کام کیا۔ جس کے بعد وہ سعودی عرب کے معروف آرکیٹکچرل میگزین البناء (ALBEENA) سے منسلک ہوئے۔ البناء عربی میں تعمیراتی مواد کو کہتے ہیں۔  آرکیٹکچرل فوٹوگرافی میں مہارت حاصل کرنے والے کے این واصف نے اپنے پروجکٹ Indian Architectural Heritage پر ایک...

ادبی تنظیم “عالمی اردو محور” کے زیر اہتمام ریاض میں محفلِ مشاعرہ۔

Image
کے این واصف : ادب کی فعال تنظیم “عالمی اردو محور ریاض” کے زیر اہتمام 15 مئی 2026 بروز جمعہ ایک محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ محفل میزبان ڈیلائٹ رسٹورنٹ حی الوزارات (حارہ) میں رات 30-8 بجے منعقد ہوگی۔  شعرائے کرام جو اس محفل میں اپنا کلام پیش کرینگے ان میں ظفر محمود ظفر، افتخار راغب، سلیم کاوش، طاہر بلال، حسّان عارفی، پیر اسد کمال، سراج عالم زخمی، اوّل سنگرام پوری، منصور قاسمی، سعید اختر آعظمی، اکرم علی اکرم اور عبدالرحمان راشد شامل ہیں۔  منتظمین نے کہا ہے کہ محفل میں شرکت کے خواہشمند حضرات موبائیل 0537566711 یا 0556014210 پر رابطہ کرکے اپنا نام ضرور درج کروائین اور اپنی نشست محفوظ کروائین۔

ماہرالقادری۔ جن کی یادسے دل مہک اٹھتاہے - محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔

Image
ماہرالقادری۔ جن کی یادسے دل مہک اٹھتاہے  -   محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔   اسلامی شعراء میں جو چند نام سامنے آتے ہیں جیسے نعیمؔ صدیقی، حفیظؔ میرٹھی،عزیز ؔبگھروی، حفیظ تائب ؔ، کلیم احمد عاجزؔ وغیرہ ان میں ایک نام ماہرؔالقادری کا بھی آتاہے۔ ان کی 48ویں برسی کے موقع پر انہیں یاد کرتے ہوئے درج ذیل سطور لکھی جارہی ہیں تاکہ اسلام کے ماننے والے شعراء کو نئی نسل یاد رکھے۔ ”صوفی نامہ“ نے ماہرؔالقادری کا یوں تعارف اپنے ہاں لکھ رکھاہے ”ماہر القادری 30 /جولائی 1907ء کو کیسر کلاں ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام منظور حسین تھا۔ انہوں نے عملی زندگی کا آغاز حیدر آباد دکن سے کیا پھر بجنور چلے گئے جہاں رسالہ مدینہ بجنور اور رسالہ غنچہ کے مدیر رہے۔ زندگی کا بڑا حصہ حیدرآباد دکن، دہلی، بمبئی میں گزرا اور پھر مستقل قیام کراچی میں رہا، چند ماہ ملتان میں بھی گزارے، سیرو سیاحت سے بھی دلچسپی تھی، 1928ء میں ریاست حیدرآباد کے مختلف محکموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ 1943ء میں حیدرآباد سے بمبئی منتقل ہو گئے، وہاں فلمی دنیا میں کچھ عرصہ گزارا۔ کئی فلموں کے گیت لکھے...

مراسلہ - جامعہ ملیہ اسلامیہ توجہ دے۔ ٹی این بھارتیی، سینئر جرنلسٹ ، نئ دہلی۔

Image
مراسلہ -  جامعہ ملیہ اسلامیہ توجہ دے۔  ٹی این بھارتیی، سینئر جرنلسٹ ، نئ دہلی۔   مکرمی  اسکول کا زمانہ ختم ہوتے ہی طلبہ اعلی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں مقابلہ جاتی امتحانات میں حصہ لیتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں بلند مرتبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں مقا بلہ جاتی امتحانات میں شرکت کے لئے اندرون ملک اور بیر ون ملک سے لاکھوں طلبہ جامعہ نگر اوکھلا میں قائم شدہ جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول امتحان میں شرکت کے لئے جامعہ آتے ہیں تو طلبہ و طالبات اپنے والدین کی سر پرستی میں امتحان گاہ تک جاتے ہیں لیکن والدین کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اور بزرگ والدین چلچلاتی دھوپ میں سڑک پر ہی اپنے نونہالو ں کا انتظار کرتے ہیں ۔  قابل فکر امر ہے کہ داخلہ جاتی امتحان میں لاکھوں روپیہ فیس جمع کرنے کے عوض بچوں کے بزرگ والدین کے لئے بیٹھنے کا معقول انتظام نہیں کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ سینئر سیکنڈری اسکول کے باہر ریڑھی ٹھیلہ دکان دار کے سامان کی خرید و فروخت کرنے کے باعث سڑک ...

انسان کے بدلتے ہوئے رجحانات ٹیکنالوجی اور اخلاقیات ایک تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ۔از قلم : محمود علی لیکچرر۔

Image
انسان کے بدلتے ہوئے رجحانات ٹیکنالوجی اور اخلاقیات ایک تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ۔ از قلم : محمود علی لیکچرر۔ گزشتہ چند دہائیوں میں ٹیکنالوجی نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ مزید برآں تکنیکی استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگوں کی زندگیوں پر اس کا اثر پڑ رہا ہے۔  ٹیکنالوجی ان کے مواصلات سیکھنے اور سوچنے کے عمل کو متاثر کررہی ہے معاشرے پر اس کا نمایاں اثر پڑرہا ہے، اور ٹیکنالوجی کے بغیر جدید زندگی کو دیکھنا بہت مشکل ہے۔ انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسان کے تصورات اس کی عقل اور اس کی اخلاقیات وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں۔ مگر موجودہ دور جسے ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے، اس تبدیلی کو نہایت تیز اور گہرا بنا چکا ہے۔ آج انسان نہ صرف اپنی زندگی کے انداز بدل رہا ہے بلکہ اپنے وجود، تعلقات اور اخلاقی اقدار کو بھی نئے سرے سے تشکیل دے رہا ہے۔ ماضی میں انسان کے تصورات مذہب، روایت اور معاشرتی اقدار کے زیر اثر تشکیل پاتے تھے۔ خیر و شر حلال و حرام، عزت و ذلت جیسے تصورات نسبتاً واضح اور مستحکم تھے۔ مگر جدید ٹیکنالوجی خاص طور پر سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع، نے ان تصورات کو چیلنج کیا ہے۔ اب معلو...

اقتدار کا انتخابی موہ اور لڑکھڑاتی معیشت - تقریروں کے شور میں دبتا معاشی بحران - ازقلم : وسیم رضا خان۔

Image
اقتدار کا انتخابی موہ اور لڑکھڑاتی معیشت -  تقریروں کے شور میں دبتا معاشی بحران -  ازقلم : وسیم رضا خان۔   بھارت جیسی عظیم جمہوریت میں جب ملک کی قیادت مستقبل کا معاشی ڈھانچہ تیار کرنے کے بجائے ماضی کی کھدائی اور انتخابی ریلیوں میں مصروف ہو جائے، تو بحران کی دستک سنائی دینے لگتی ہے۔ موجودہ تناظر میں یہ ایک ستم ظریفی ہی ہے کہ ایک طرف عام آدمی مہنگائی اور بے روزگاری سے نبرد آزما ہے، اور دوسری طرف اقتدار کے گلیاروں سے ایسے بیانات آ رہے ہیں جو معیشت کی بنیادوں کو ہی چیلنج کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کی ریلیوں میں اپوزیشن پر طنز، نہرو گاندھی خاندان پر تنقید اور جذباتی مسائل کا غلبہ تو نظر آتا ہے، لیکن ملک کی 'بیلنس شیٹ' پر بحث اکثر غائب رہتی ہے۔ جب ملک کا 'پردھان سیوک' (اعلیٰ خادم) جھال مڑی کھانے یا مخالفین کو لتاڑنے میں اپنی توانائی صرف کرتا ہے، تو پالیسی سازی کے فیصلوں میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ الیکشن جیتنا کسی بھی جماعت کا ہدف ہو سکتا ہے، لیکن جب الیکشن جیتنے کی سفارت کاری ملک کی معیشت پر حاوی ہونے لگے، تو نتائج ہولناک ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سونا نہ خریدنے، ایندھن ک...

اردو کی بقاء کے لیئے صرف دعوے نہیں محنت کی ضرورت۔مہمان نوازی ایمان کا جز ہے - ادارۂ ادب اسلامی فرسٹ لانسرز کے ادبی اجلاس و مشاعرہ سے ممتاز دانشوروں کا خطاب۔

Image
12/مئی۔ (راست) جناب ظہور ظہیرآبادی کی اطلاع کے بموجب ادارۂ ادب اسلامی فرسٹ لانسرز کے زیر اہتمام 10/مئی اتوار کی شب ہل کریسٹ اپارٹمنٹ مراد نگر حیدرآباد پر ادبی اجلاس و محفل شعر کا انعقاد عمل میں آیا۔اس موقع پر خیر مقدمی تقریر کرتے ہوئے صدر ادارۂ ادب اسلامی فرسٹ لانسرز نجیب احمد نجیب نے کہا کہ ایسی محفلیں اردو ادب کی بقاء و فروغ کی ضامن ہوتی ہیں۔ان شآءاللہ ہرماہ ادبی اجلاس و محفل شعر اور ہر سال ایک سالانہ کل ہند مشاعرہ کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان نوازی کو ایمان کا جز قرار دیا اور فرمایا کہ مہمان کی آمد فیوض و برکات کا سر چشمہ ہوتی ہیں۔صدر محفل ڈاکٹر رؤف خیر نے مہمان خصوصی جناب ندیم راعی مرادآباد(اتر پردیش) کا تعارف پیش کیا اور اپنا افسانہ سنایا۔مرادآباد سے تشریف لائے ممتاز مہمان افسانہ نگار جناب ندیم راعی کا خیر مقدم کیا گیا انہیں شال پوشی کرتے ہوئے تہنیت پیش کی گئی۔مہمان افسانہ نگار جناب ندیم راعی نے بھی اپنی نثری تخلیق پیش کی۔جناب ابو نبیل خواجہ مسیح الدین نائب صدر ادارہ ادب اسلامی جنوبی ہند نے اپنا نثری شہ پارہ پیش کیا۔جناب نجیب...

کھام گاؤں شہر کے تعلیمی گھرانے کی بی۔اے۔ایم۔ایس۔ سال دوم میں ایک اور نمایاں کامیابی۔

Image
کھام گاؤں ، ۱۲ مئی ( راست) انجمن ہائی اسکول و جونیئر کالج، کھام گاؤں کے سپر وائزر شکیل احمد کے فرزند ریحان احمد شکیل احمد نے Sardar Patel University سے بی اے ایم ایس (Bachelor of Ayurvedic Medicine and Surgery) کے دوسرے سال کے امتحان میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ دسمبر 2025 کے نتائج کے مطابق ریحان احمد نے مجموعی طور پرنمایاں نمبرات حاصل کرتے ہوئے امتحان کامیابی سے پاس کیا۔ ان کی اس تعلیمی کامیابی پر اہل خانہ، اساتذہ، رفقاء اور شہر کے علمی و سماجی حلقوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ سال ان کی بڑی بہن نے بھی BAMS کورس میں نمایاں نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کرکے خاندان، ادارے اور آبائی وطن کا نام روشن کیا تھا۔ مسلسل دو بچوں کی شاندار تعلیمی کامیابی کو اس گھرانے کی علمی فضا، والدین کی تربیت اور محنت کا ثمر قرار دیا جا رہا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے ریحان احمد کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ریحان احمد کو مزید کامیابیوں سے نوازے، علم و عمل م...

پینتیس سال بعد - از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔

Image
پینتیس سال بعد -  از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔ مئی کی ایک خوشگوار شام تھی۔ شہر کے قدیم اسکول کی عمارت آج غیر معمولی طور پر جگمگا رہی تھی۔ دروازے پر رنگین قمقمے آویزاں تھے، اسٹیج پر سبز اور سفید پھولوں کی سجاوٹ تھی، اور بڑے حروف میں لکھا تھا۔ *“دہم جماعت 1988 کی بیچ: پینتیس سال بعد ایک یادگار ملاقات”* وقت نے سب کے چہروں پر اپنی لکیریں ضرور کھینچ دی تھیں، مگر دلوں میں بچپن کی شوخیاں آج بھی زندہ تھیں۔ اس پروگرام کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ دسویں جماعت کو پڑھانے والے تمام اساتذہ کو مدعو کیا گیا تھا۔ کوئی لاٹھی کے سہارے چل رہا تھا، کوئی کمزور بینائی کے باوجود اپنے شاگردوں کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا، مگر ہر استاد کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ پروگرام کی صدارت اسکول کے مشہور ریاضی کے استاد، شیخ سلیم کر رہے تھے۔ وہی شیخ سلیم سر… جن کے سخت مزاج اور پیچیدہ سوالات سے کبھی پوری جماعت کانپ جایا کرتی تھی۔ آج ان کے سفید بال اور دھیمی آواز وقت کے گزرنے کی گواہی دے رہے تھے۔ جب وہ اسٹیج پر آئے تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ “سر! وہ الجبرا ابھی تک یاد ہے!” کسی نے پیچھے سے آواز لگا...

حب الوطنی کی نمائش یا سیاسی ضرورت؟ وندے ماترم کے سائے میں نئی سیاست - ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔

Image
حب الوطنی کی نمائش یا سیاسی ضرورت؟ وندے ماترم کے سائے میں نئی سیاست -  ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔ Mob: 98454 98354 ہندوستان جیسے کثرت پسند اور متنوع معاشرے میں علامتوں کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ اقتدار کی تقریبات محض رسمی کارروائیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ آنے والی سیاست کے مزاج اور سمت کا اعلان بھی کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمل ناڈو میں سی جوزف وجے کی حلف برداری تقریب میں ’’وندے ماترم‘‘ کو تقریب سے پہلے اور بعد میں بجایا جانا محض ایک رسمی فیصلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اشارہ محسوس ہوا — ایسا اشارہ جس نے اقلیتوں، سیکولر حلقوں اور آئینی قدروں پر یقین رکھنے والوں میں بے چینی پیدا کی ہے۔ یہ اعتراض حب الوطنی کے خلاف نہیں ہے۔ اس ملک کی آزادی، تعمیر اور ترقی میں مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور دیگر کمزور طبقات نے اتنی ہی قربانیاں دی ہیں جتنی کسی اور نے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسی حکومت، جو خود کو تمام طبقات کی نمائندہ کہتی ہے، اپنی سیاسی شروعات ایک ایسے نغمے سے کرے جس پر ملک کے ایک بڑے طبقے کو تاریخی اور مذہبی تحفظات رہے ہیں؟ تمل ناڈو کی سیاست کی ایک مخصوص شناخت رہی ہے۔ یہاں کی سیاس...

بیگم قمر النساء کاریگر گرلز اسکول کا نتیجہ 96.65 فی صد رہا۔

Image
بیگم قمر النساء کاریگر گرلز اسکول کا نتیجہ 96.65 فی صد رہا۔ شولاپور (محمد عرفان ڈوکا) ہر سال کی طرح امسال بھی پونہ بورڈ کی جانب سے لئے گئے دسویں جماعت کے امتحان میں بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول و جونیئر کالج شولاپور کی طالبات نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ مدرسہ ہٰذا سے کل 239 طالبات شریک تھیں جس میں 231 طالبات کامیاب ہوئیں۔ 31 طالبات ڈسٹرکشن کا کام کیا ۔ 72 طالبات فرسٹ کلاس سے کامیاب ہوئیں۔ 93 طالبات سیکنڈ کلاس سے کامیاب ہوئیں جبکہ 35 طالبات پاس کلاس سے کامیاب ہوئیں۔ مجموعی طور پر مدرسہ ہٰذا کا نتیجہ 96.65 فی صد رہا۔ بشریٰ محمد شعیب شیخ نے ٪95.80 کے ساتھ پہلا مقام حاصل کیا۔ امہ ایمن انور حسین شیخ نے ٪92.20 کے ساتھ دوم مقام حاصل کیا۔ رفت فاروق شیخ نے ٪92.00 کے ساتھ سوم مقام حاصل کیا۔  ان طالبات کے لئے مدرسہ ہٰذا میں جلسہ تہنیت صدر مدرسہ محترمہ تحسینہ شیخ صاحبہ کی صدارت میں منعقد کیا گیا تھا۔‌جس میں طالبات کے والدین بھی شریک تھے۔ ان طالبات کی خدمت میں مدرسہ ہٰذا کی صدر مدرسہ محترمہ تحسینہ شیخ صاحبہ کے دست مبارک بکے پیش کیے گئے سبھی طالب...

نظم برائے نرس - (نرسوں کے عالمی دن کے موقع پر)۔ از قلم - پروفیسرمحمدمسعوداحمد، حیدرآباد۔

Image
نظم برائے نرس - (نرسوں کے عالمی دن کے موقع پر) از قلم - پروفیسرمحمدمسعوداحمد، حیدرآباد۔ دکھیوں کی جو خدمت کرتی ہے ایثار کی مورت ہوتی ہے         اس طرح کی خدمت کرنے کی بس نرس میں ہمت ہوتی ہے بیدار وہ شب بھر رہتی ہے بیمار کی راحت کی خاطر         ہر وقت دوائیں دیتی ہے بیمار کی صحت کی خاطر ماں بن کے کبھی وہ ہستی ہے بہنوں سی محبت رکھتی ہے         رتبہ ہے بڑا اس ہستی کا یہ ماں کی سی الفت رکھتی ہے جب ٹوٹنے لگتی ہے ہمت وہ حوصلہ بن کے آتی ہے         مایوس مریضوں کی دل میں جینے کی تمنا لاتی ہے اخلاق سے اپنا کرتی ہے وہ درد بھرے ہر اک دل کو         خدمت سے بدل دیتی ہے وہ تقدیر کی ہر اک مشکل کو ہر حال میں ہنستی رہتی ہے مل کر وہ مریضوں سے سارے         خوشیاں وہ لٹاتی رہتی ہے لے کر وہ غموں کو لوگوں کے دولت میں کبھی نہ تو لو تم اس نرس کی سچی خدمت کو         دولت کے برابر رکھو مت اس نرس کی سچی محنت کو ہر درد کا درماں بن...

اقراء کے زیرِ اہتمام اقراء شاہین اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج ، میں کیریئر گائیڈنس اور گیارہویں جماعت کے آن لائن داخلہ رہنمائی پروگرام۔

Image
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی) اقراء ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام ادارہ میں زیر تعلیم طلباء کے لیے کرئیر گائیڈنس پروگرام اور یاز دہم جماعت میں داخلہ لینے کے آن لائن پروسیس کے لئے تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں اقراء شاہین اکیڈمی کے اساتذۂ کرام عمر سر اور جاوید سر نے طلبہ کو میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر مسابقتی امتحانات خصوصاً NEET اور JEE کے متعلق تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے طلبہ کو مستقبل کی تعلیمی منصوبہ بندی، مسابقتی امتحانات کی تیاری اور کامیابی کے لیے ضروری نکات سے آگاہ کیا۔اسی طرح سپروائزر ذاکر بشیر نے گیارہویں جماعت کے آن لائن داخلہ عمل کے بارے میں آسان اور مرحلہ وار انداز میں رہنمائی کی۔ انہوں نے طلبہ اور والدین کو بتایا کہ آن لائن داخلہ فارم کس طرح پُر کیا جاۓ نظامت افتخار احمد نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ اس موقع پر تدریسی عملے کے ساتھ بڑی تعداد میں طلبہ اور ان کے والدین بھی موجود تھے۔اس موقع پر ادارہ کے صدر الحاج عبدالکریم سالار رکن عبدالعزیز سالار موجود تھے کامیابی کے لیے پرنسپل ریاض شاہ کی رہنمائی حاصل رہی

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جوسف وجۓ کا شاندار اقدام۔

Image
تملناڈو (محمد رضوان اللہ) تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جوسف وجۓ نے ریاست بھر میں قائم سرکاری شراب خانوں (TASMAC) کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے، جو عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور بس اڈوں کے قریب واقع ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ کارروائی عوامی مفاد کے تحت کی جائے گی۔ سرکاری بیان کے مطابق بند کیے جانے والے 717 شراب خانوں میں سے 276 عبادت گاہوں کے 500 میٹر کے دائرے میں قائم ہیں، 186 تعلیمی اداروں کے قریب جبکہ 255 بس ٹرمینلز کے اطراف واقع ہیں۔ اس وقت تمل ناڈو اسٹیٹ مارکیٹنگ کارپوریشن (TASMAC) ریاست بھر میں 4,765 شراب کی دکانیں چلا رہی ہے۔ ریاست میں خاص طور پر خواتین اور سماجی و سیاسی حلقوں کی جانب سے عرصۂ دراز سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ شراب فروخت کو محدود کیا جائے کیونکہ اس کے سماجی اثرات خاندانوں، نوجوانوں اور عوامی ماحول پر پڑ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے 10 مئی کو حلف لینے کے بعد اپنی پہلی عوامی فلاحی ترجیحات کے تحت یہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عوامی امن و امان، سماجی تحفظ اور نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے۔ حکومت اس فیصلے کو ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھ رہی ہے جو سما...

اے نیو چیپٹر کا تازہ شمارہ منظر عام پر - بک اسٹالز پر دستیاب۔

Image
کے این واصف : مہاراشٹرا کے شہر اورنگ آباد سے شائع ہونے والا انگریزی ماہ نامہ “اے نیو چیپٹر” کا تازہ شمارہ شائع ہوکر منظر عام پر آگیا ہے اور بک اسٹالز پر دستیاب ہے۔  اورنگ آباد کی تہذیبی، تایخی، علمی و ادبی وراثت کا امین یہ میگزین مسز لکشمی مورتی کی ادارت شائع ہوتا ہے جس کے بانی و ناشر مسز دلشاد وہاب ہیں۔ نیو چیپٹر میگزین کو ملک کے بڑے قلمکاروں اور ادیبوں کا قلمی تعاون حاصل ہے۔ تاریخی شہر اورنگ آباد سے نیاباب، نئی آواز بنکر ابھرا یہ رسالہ ملک کے تعلیم یافتہ اور انگریزی داں طبقہ کو متاثر کررہا ہے۔ A NEW CHAPTER نے اپنی اشاعت کے قلیل عرصہ میں کافی مقبولیت حاصل کی ہے۔

جناب سید شاہ محی الدین قادری کی حج بیت اللہ کیلئے روانگی۔

Image
ظہیرآباد-12/مئی(نمائندہ) سید شاہ محی الدین قادری ولد حضرت سید شاہ شمش الدین قادری رح سجادہ نشین ہفتم بارگاہ حضرت سید شاہ عبدالعزیز قادری شہید بغدادی رح ظہیرآباد 13 مئی 2026 بروز چہار شنبہ کی شب حج بیت اللہ شریف و زیارت روضہ رسول ﷺ کے لیے اپنی اہلیہ کے ساتھ روانہ ہو رہے ہیں ۔روانگی سے قبل وہ اپنے مشائخ برادری علماء قریبی احباب مریدین متعقدین سے ملاقات کے بعد حیدرآباد حج ہاؤس کے لیے روانہ ہوں گے-مورخہ 13مئی کی شب 5.00 بجے شمش آباد ایئرپورٹ سے جدہ کے لیے روانہ ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے اس بابرکت سفر کو آسان فرمائے، حج کو قبول فرمائے اور خیریت کے ساتھ واپسی نصیب فرمائے آمین۔۔۔۔

جمعیۃ علماء ہند (بچی ریڈی پالم یونٹ) کے زیرِ اہتمام "مفت ختنہ کیمپ" کا کامیاب انعقاد۔

Image
 آندھرا پردیش/نیلور 12 مئی( نمائندہ) الحمدللہ دین و ملت کی خدمت کے جذبے کے تحت جمعیۃ علماء ہند (یونٹ بچی ریڈی پالم) کی جانب سے ایک عظیم الشان،،مفت ختنہ کیمپ،، کا انعقاد کیا گیا۔ اس کیمپ میں علاقے کے تقریبًا 70 بچوں کا ختنہ کیا گیا۔ جمعیۃ کی جانب سے تمام بچوں کو درج ذیل اشیاء  میڈیسن کٹ (Free Medicine Kit)  تحائف اور دیگر ضروری اشیاء مفت فراہم کی گئیں۔   مذکورہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز ناظمِ اعلیٰ جمعیۃ علماء ضلع نیلور، حضرت مولانا الیاس صاحب دامت برکاتہم کی رقت انگیز دعا سے ہوا۔ حضرت کی تشریف آوری اور دعاؤں نے مجمع میں برکت اور خوشی کی لہر دوڑا دی۔ پروگرام کی تمام تر نگرانی اور صدارت جمعیت علماء ہند بچی ریڈی پالیم کے صدر مفتی عبد الحی قاسمی صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔  آخر میں جمعیتہ علماء نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ   ڈاکٹر جناب یوسف محمد صاحب ، جنہوں نے اپنی بے پناہ محنت اور مہارت سے اس کام کو انجام دیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمت کو قبول فرمائے اور ان کے رزق و عمر میں برکت عطا فرمائے۔   اس کے ساتھ متحرک نوجوانوں کی ٹیم کا بھ...

اردو طرزِ تعلیم کی گرتی ساکھ: ایک فکری و سماجی جائزہ۔۔ ازقلم : محمود علی لیکچرر ناندیڈ۔

Image
اردو طرزِ تعلیم کی گرتی ساکھ: ایک فکری و سماجی جائزہ۔ ازقلم : محمود علی لیکچرر ناندیڈ۔ اردو زبان ہماری مذہبی اور تہذیبی شناخت، ادبی روایت اور علمی ورثے کی ایک اہم علامت ہے۔ یہ زبان صدیوں تک علم و ادب صحافت اور تدریس کا مؤثر ذریعہ رہی مگر موجودہ دور میں اردو زبان اپنی وسعت لچک اور ادبی حسن کے باعث ہر دور میں نئے موضوعات کو سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر جب بات سائنسی اصطلاحات کی آتی ہے تو ایک عرصے سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اردو اس میدان میں پیچھے رہ گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو میں سائنسی اصطلاحات موجود بھی ہیں اور بنائی بھی جا سکتی ہیں، مگر ان کے استعمال اور فروغ میں کمی ہے۔اردو طرزِ تعلیم خصوصاً کالج اور اعلیٰ تعلیمی سطح پر زوال کا شکار ہے۔ یہ زوال صرف تعلیمی نظام تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات ہماری سماجی نفسیات اور اجتماعی رویّوں پر بھی واضح طور پر نظر آتا ہے آج کے دور میں انگریزی زبان کو غیر معمولی برتری اور اہمت حاصل ہو چکی ہے۔ اقتصادی لحاظ سے مستحکم لوگ اپنے بچوں کو اچھے انگریزی اسکول میں تعلیم کے حصول کو لازمی قرار دیتے ہیں اور 90 فی صد اردو میڈیم میں پڑھانے والی اس...

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ - تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ - جماعت اسلامی ہند، بیدر کے زیر اہتمام ایک روزہ "خصوصی اجتماع" کا کامیاب انعقاد۔

Image
بیدر ، 11مئ (نامہ نگارمحمد عبدالصمد): جماعت اسلامی ہند، بیدر کے زیر اہتمام کل مورخہ 10 مئی 2026 کو جامع مسجد، بیدر میں ایک اہم "خصوصی اجتماع" منعقد ہوا۔ اس پروگرام کا مرکزی عنوان "كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ" تھا۔ پروگرام کی نظامت جناب خضر انتصار رکن جماعت اسلامی ہند، بیدرنے انجام دی۔پروگرام کا آغاز صبح 10:30 بجے برادر عبدالحکیم رکن ایس آئی او، کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ سب سے پہلے جناب عارف الدین معاون امیر مقامی، جماعت اسلامی ہند بیدر نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔ انہوں نے جماعت اسلامی ہند بیدر کی کارکردگی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی اور جماعت کے زیرِ نگرانی چلنے والے مختلف شعبوں اور اداروں کا تعارف کرایا۔ جن میں جماعت اسلامی ہند ویمنز ونگ، ایس آئی او (SIO)، جی آئی او (GIO)، سی آئی او (CIO)، سالیڈیرٹی یوتھ موومنٹ (SYM)، بلا سود کارونیہ بینک، فیمی (FEMI) اور (ZCI)زکوٰۃ سینٹر کی خدمات اور سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ مولانا سید امین الحسینی ندوی رکن جماعت، گلبرگہ نے سورہ حج کی آخری آیات پر مبنی فکر انگیز 'درس قرآن' دیا۔ انہوں نے...

سکوت - ازقلم : رہبرتماپوری۔

Image
 سکوت -  ازقلم : رہبرتماپوری۔ برسوں بعد وہ اپنے محلے کی اسی پرانی گلی میں کھڑی تھی، جہاں اس کے آبائی مکان کی بوسیدہ دیواریں ماضی کا نوحہ پڑھ رہی تھیں۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے، اس کی نظریں دور سے اسی آشیاں کو ڈھونڈ رہی تھیں جہاں کبھی اس کا بچپن رقص کرتا تھا۔ یہ وہی مانوس آنگن تھا، جہاں وہ کبھی دال کے دانوں سے کھیلتی، محلے کی بزرگ عورتوں کے ساتھ کھلکھلاتی اور معصوم شرارتیں کرتی تھی۔ یہی وہ چہار دیواری تھی، جہاں والد کی شفقت اور والدہ کی دعاؤں نے اسے زندگی بھر کا سکون بخشا تھا۔ مگر وقت کی بے رحم دھار نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ وہ کئی سالوں تک اس چوکھٹ پر نہ آسکی؛ کیونکہ اس کے سگے بھائی نے مادی منفعت اور دولت کی اندھی ہوس میں اس پر گھر کے دروازے بند کر دیے تھے۔ رشتوں کی ہر چمک، ہر مشترکہ خوشی وقت کے ساتھ ایک گہرے اور سنگین سکوت میں دفن ہو گئی تھی۔ آج اس ویران حویلی کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے ایک گہرا سانس لیا۔ اس نے محسوس کیا کہ محبت صرف ظاہری رشتوں کی محتاج نہیں ہوتی؛ یہ تو دل کی مٹی میں پنپتی ہے۔ مادی دوریاں محبت کو ختم نہیں کر سکتیں، بلکہ خیالات کے دریچوں سے اس کا...

قوموں کے عروج اور زوال کے اسباب - تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی۔

Image
قوموں کے عروج اور زوال کے اسباب -  تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی۔  9881836729  تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی قوم کے عروج ،ترقی اور کامیابی کاسبب اس کے اپنے تہذیب و تمدن، علم و ادب ،اور بہترین اخلاق کا مظاہرہ ہی رہا ہے۔ اور جو قومیں تنزلی اور ( Demotion) زوال کا شکار رہی ہے علم کی عدم حصولی ،تہذیب و تمدن کا فقدان ،اور اخلاق کو پامال کرنا اس کا سبب بنا ہے۔ (Japan) جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے، جس نے ہر زاویہ سے اپنی صلاحیت کو منوایا ہے، اور دنیا نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ امریکہ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے دو شہر ناگاساکی،اور ہیروشیما پر 1945 میں ایٹمی بم گراے ،جس کے نتیجہ میں جاپان کی معیشت کے بڑے پیمانہ پر تباہی ہوئ ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے۔ ایٹم بم اتنے زہریلے تھے کہ آج بھی اس زمین پر ہریالی بھی نہیں اگتی ۔ جاپان پر یہ قیامت صغری سے کم نہ تھا۔ لیکن جاپان نے بدلہ لینے کے بجاے علم ،ٹیکنالوجی، جدید ( New invention) اختراعات،ایجادات، معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ اپنی ( identification ) شناخت اور تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا۔ اور اپنے آپ کی تعمیر نو مصروف ر...