بھارت میں سنسرشپ اور ہند رجب کی خاموش پکار۔ (مودی سرکار کی خارجہ پالیسی: اصولوں کا جنازہ اور مفادات کی سیاست)۔ ازقلم: اسماء جبین فلک۔
بھارت میں سنسرشپ اور ہند رجب کی خاموش پکار۔ (مودی سرکار کی خارجہ پالیسی: اصولوں کا جنازہ اور مفادات کی سیاست) ازقلم: اسماء جبین فلک۔ بھارت کے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن کی جانب سے حال ہی میں ایک آسکر نامزد دستاویزی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ کی ریلیز پر پابندی عائد کرنا، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے اخلاقی زوال اور سفارتی بزدلی کا ایک ایسا شرمناک باب ہے جس نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے کھوکھلے دعووں کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ اس دستاویزی فلم کے بھارتی تقسیم کار کے مطابق، سنسر بورڈ نے اس فلم کی نمائش روکنے کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ اس فلم کی نمائش سے بھارت اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ یہ محض ایک فلم پر پابندی کا انتظامی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس ہولناک حقیقت کا ریاستی اعتراف ہے کہ نئی دہلی کی موجودہ قیادت نے اپنی تزویراتی خود مختاری اور انسانیت کے بنیادی اصولوں کو تل ابیب اور واشنگٹن کے جنگی جرائم کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے لیے کوشاں ہے اور خود کو عالمی رہنما کہلوانے ...