حافظِ قرآن کی محنت پر ہمارا رویہ۔ - از قلم : عالمہ مبین پلیگار، بیلگام کرناٹکا۔
حافظِ قرآن کی محنت پر ہمارا رویہ۔ از قلم: عالمہ مبین پلیگار، بیلگام کرناٹکا۔ MA M Ed۔ حافظِ قرآن کی محنت پر ہمارا رویہ۔ حافظِ قرآن وہ خوش نصیب ہے جس کے سینے میں قرآنِ محفوظ ہوتا ہے۔ وہ برسوں کی محنت، مسلسل مشق، اساتذہ کی نگرانی اور بے شمار قربانیوں کے بعد اس مقام تک پہنچتا ہے۔ بچپن کی کھیل کود، جوانی کی آسائشیں اور نیند کی راحتیں چھوڑ کر وہ کلامِ الٰہی کو یاد کرتا ہے، تاکہ امت کو سنائے اور نسلوں کا ایمان محفوظ رہے۔ رمضان المبارک میں جب وہ تراویح میں کھڑا ہو کر پورا قرآن سناتا ہے تو یہ محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک عظیم دینی خدمت ہوتی ہے۔ ہر رکعت، ہر آیت اور ہر سجدہ اس کی برسوں کی محنت کا نچوڑ ہوتا ہے۔ وہ اپنی آواز، وقت اور توانائی سب کچھ اللہ کے کلام کی خدمت میں لگا دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارا رویہ اس کے ساتھ کیسا ہے؟ اکثر ہم سال بھر اسے معمولی مشاہرہ دیتے ہیں، اور رمضان میں کچھ رقم دے کر احسان جتلاتے ہیں۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا چند ہزار روپے اس محنت، اخلاص اور ذمہ داری کا حق ادا کر سکتے ہیں؟ دین کی بنیادوں کو مضبوط رکھنے والوں کے ساتھ وقتی اور رسمی سلوک ہماری ب...