پریانک کھرگے اور اردو بولنے والوں کے درمیان درارڈالنے کی سازش کی جارہی ہے:سابق ایم ایل سی اروند کمار ارلی
بیدر۔ 25/ستمبر (محمدیوسف رحیم بیدری) ایک چینل کے ذریعہ سوشیل میڈیا پر وائر ل ہونے والی ایک ویڈیو میں وزیرداخلہ کرناٹک پر یہ الزام لگایاجارہاہے کہ انھوں نے اردو کو دوسری ریاستوں اوردوسرے ملکوں کی ز بان کہاہے۔ جس کی مذمت کرتے ہوئے بیدر کے سابق MLCاروند کمارارلی نے صحافت کو جاری کئے گئے اپنے ایک تازہ بیان میں کہاہے کہ پریانک کھرگے وزیرداخلہ کرناٹک کے بیان کوچینل کی جانب سے ٹوئسٹ کیاگیاہے۔ عین ممکن ہے کہ پریانک کھرگے یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ یوپی،دہلی، راجستھان، ایم پی، کرناٹک ایسے کئی ریاستوں میں اردو ہونے سے اس زبان کوملک کی دوسری زبان بنانے کی بات کئے ہوں۔ وہ کبھی نہیں کہیں گے کہ اردو دوسرے ملک کی زبان ہے۔ اروندکمارارلی نے اپنے بیان میں صاف کہاکہ یہ دراصل اردو زبان والوں اور پریانک کھرگے کے درمیان دراڑڈالنے کی سازش ہے۔ اروندکمارارلی نے اس بات پر بھی زور دیاہے کہ اردو آندھرا اور تلنگانہ میں دوسری سرکاری زبان ہے، چوں کہ یہ زبان پورے دیش میں بولی جاتی ہے لہٰذا اس کو ملک کی دوسری سرکاری زبان بنائے جانے کا عندیہ پریانک کھرگے جی نے دیاہوگا۔ وہ کبھی اردوزبان کے خلاف نہیں رہے ہیں۔