افسانہ - وقت کا پہیا - ازقلم : آفتاب عالم ؔ پٹیل شاہ نوری، کروشی بلگام کرناٹک۔
افسانہ - وقت کا پہیا - ازقلم : آفتاب عالم ؔ پٹیل شاہ نوری، کروشی بلگام کرناٹک۔ 8105493349 ہر طرف شہنائیاں بج رہی تھیں۔ شادی کی دھوم دھام تھی۔ مکان چراغوں سے جگمگا رہا تھا۔ کہیں ڈھول کی تھاپ سنائی دیتی، کہیں عورتوں کے گیت فضا میں بکھر رہے تھے۔ بچے خوشی سے ادھر اُدھر دوڑ رہے تھے اور بڑے بوڑھے حامد کو شادی کی مبارک باد دے رہے تھے۔ مگر اس خوشی کے ہنگامے میں کچھ آوازیں ایسی بھی تھیں جن میں خوشی سے زیادہ حسرت تھی ، گاؤں کے ایک بزرگ نے آہ بھرتے ہوئے کہا ’’اے کاش! حامد کے ماں باپ آج زندہ ہوتے۔ اپنے بیٹے کی شادی دیکھ کر کتنے خوش ہوتے!‘‘ ’’واقعی! وقت بھی کیا عجیب چیز ہے۔ جس گھر میں کبھی ماں کی دعائیں اور باپ کی شفقت ہوا کرتی تھی، آج وہی گھر شادی کے موقع پر ویران سا لگ رہا ہے۔‘‘ حامد کے والدین کا چند برس پہلے ایک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔ ان کی موت کے بعد حامد اس دنیا میں بالکل تنہا رہ گیا تھا۔ اس کا کوئی قریبی رشتہ دارنہیں تھا، لیکن اس نے کبھی خود کو بے سہارا محسوس نہیں ہونے دیا۔ اس نے پورے گاؤں کو اپنا خاندان بنا لیا تھا۔ کسی کو ’’چاچا‘‘ کہتا، کسی کو ’’مامو...