Posts

دادیال، نانیال اور بچوں کی نفسیات : ایک سماجی و نفسیاتی مطالعہ۔ ۔از قلم: محمود علی، لیکچرر۔

Image
دادیال، نانیال اور بچوں کی نفسیات : ایک سماجی و نفسیاتی مطالعہ۔ از قلم: محمود علی، لیکچرر۔ ہمارا مشرقی معاشرہ رشتوں، روایتوں اور خاندانی نظام پر قائم ہے۔ یہاں خاندان صرف خون کا تعلق نہیں بلکہ جذبات، ذمہ داریوں، قربانیوں اور تہذیبی اقدار کا ایک مسلسل سفر ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو صرف ماں باپ ہی نہیں بلکہ پورا خاندان اس کی تربیت اور شخصیت سازی میں شریک ہوجاتا ہے۔ دادا دادی، نانا نانی، چچا، خالہ اور دیگر رشتہ دار سب مل کر ایک ایسا جذباتی حصار بناتے ہیں جس میں بچہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہی مشترکہ خاندانی نظام برصغیر کی اصل خوبصورتی سمجھا جاتا ہے۔ مگر جدید دور میں خاندان کے اندر بعض ایسے خاموش رویّے جنم لے رہے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے اثرات نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ انہی میں ایک حساس مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض گھروں میں دادا دادی اپنی بیٹیوں کے بچوں کو زیادہ اہمیت اور محبت دیتے ہیں جبکہ بیٹوں کے بچوں کے ساتھ وہی اپنائیت نظر نہیں آتی۔ یہ فرق اکثر شعوری کم اور لاشعوری زیادہ ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ اسی پس منظر میں بعض بہوؤں کے دل سے یہ جم...

امبور سے افسوسناک خبر

Image
 امبور سے افسوسناک خبر. امبور (محمد رضوان اللہ) جمعہ22-05-2026 نہایت رنج و غم کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ جناب مکہ ارشاد احمد صاحب (عمر 57 سال) کا انتقال ہوگیا۔ مرحوم فریدہ شوز پرائیویٹ لمیٹڈ، آرکاٹ سولز پرائیویٹ لمیٹڈ، فریدہ لیدر ویئر لمیٹڈ اور فریدہ شوز پرائیویٹ لمیٹڈ پامس یونٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مرحوم، جناب مکہ رفیق احمد صاحب المعروف مکہ بابو (چیئرمین فریدہ گروپس) کے فرزند تھے۔ مرحوم کی میت آج رات تقریباً 9 بجے کوتھاری روڈ، ننگم باکم، چینئی میں واقع ان کی رہائش گاہ لائی جائے گی۔ ان شاء اللہ، نمازِ جنازہ کل بروز سنیچر 23 مئی کو ظہر کی نماز کے بعد انجمنِ حمایتِ اسلام، ٹی نگر، چینئی میں ادا کی جائے گی، جبکہ تدفین ٹانا مسجد قبرستان، پورسائی واکم، چینئی میں عمل میں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی کوتاہیوں کو معاف کرے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔

بزم ہدایت کا سالانہ مشاعرہ - صدارت ڈاکٹر اوصاف سعید، محمد اظہر الدین وہ دیگر مہمانان خصوصی ہونگے۔

Image
حیدرآباد ۔ (راست) بزم ہدایت فروغ اردو سوسائٹی حیدرآباد کے زیر اہتمام سالانہ مشاعرہ 23 مئی 2026 بروز ہفتہ رات 8 بجے بمقام اذان انٹرنیشنل اسکول گنبدان قطب شاہی روڈ، ٹولی چوکی منعقد ہوگا۔ مشاعرے کی صدارت سابق سفیر ہند سعودی عرب ڈاکٹر اوصاف سعید کریں گے جبکہ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود جناب اظہر الدین، صدر نشین تلنگانہ اردو اکیڈمی جناب طاہر بن حمدان، سابق صدر نشین اقلیتی کمیشن جناب طارق انصاری مہمانان خصوصی ہونگے۔  ڈاکٹر جاوید کمال اور ڈاکٹر جہانگیر احساس تاثرات کا اظہار کرین گے۔ شعرائے کرام جو اس محفل میں اپنا کلام پیش کریں گے ان میں صلاح الدین نیّر، جلیل نظامی، شاہد عدیلی، طیب پاشا قادری، انجنی کمار گوئل، وحید پاشا قادری، سیف نظامی، لطیف الدین لطیف، ساجد عباسی، باسط علی رئیس شامل ہیں۔ اس موقع پر سوینیر کی رسم اجراء بھی ہوگی۔ لطیف الدین لطیف ناظم اجلاس ہونگے۔

دلوں کا علاج: قرآن، ذکرِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کی روشنی میں۔۔ تحریر : ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)

Image
دلوں کا علاج: قرآن، ذکرِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کی روشنی میں۔ تحریر :  ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔ (اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد) موبائل: 9325217306 انسانی جسم میں دل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، مگر اسلام نے صرف جسمانی دل ہی کو اہمیت نہیں دی بلکہ روحانی اور باطنی دل کو انسان کی اصل حقیقت قرار دیا ہے۔ یہی دل اگر ایمان، اخلاص، تقویٰ اور یادِ الٰہی سے منور ہو تو انسان کی پوری زندگی نور بن جاتی ہے، اور اگر یہی دل حسد، تکبر، ریاکاری، دنیا پرستی اور غفلت سے آلودہ ہوجائے تو انسان بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی روحانی اعتبار سے مردہ ہوجاتا ہے۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں دل کی اصلاح، اس کی پاکیزگی اور اس کے علاج پر غیر معمولی توجہ دی گئی ہے۔ آج کا انسان بظاہر مادی ترقی کی بلند ترین منزلوں پر پہنچ چکا ہے، لیکن اس کے باوجود بے سکونی، اضطراب، حسد، نفرت، لالچ اور ذہنی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انسان نے اپنے ظاہری جسم کی فکر تو بہت کی مگر اپنے قلب و روح کی اصلاح کو فراموش کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دل بیمار ہوجائے تو انسان کے اعمال،...

پانی کے بعد سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب" چائے" ہے _ "درویش حمید الدین شاہد"

Image
دودھ سے صرف ہڈیاں اور چائے سے رشتےو تعلق اور دوستی مضبوط ہوتی ہے - عالمی یوم چائے کے موقع پر پروفیسر محمد مسعود احمد،محمد حسام ریاض کا خطاب -محفل مشاعرہ کا بھی انعقاد  حیدرآباد 22 مئی( پریس نوٹ) صدر انجمن تاجران چائے تلنگانہ و نائب صدر نشین فیڈریشن آف آل انڈیاٹی ٹریڈرس اسوسی ایشن جناب درویش حمید الدین شاہد نے کہا کہ پانی کے بعد سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب "چائے" ہے طبی نکتہ نظر سے بھی چائے کے کئی فوائد ہیں چائے کے استعمال سے تر و تازگی آتی ہے اور تھکن دور ہوتی ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار عالمی یوم چائے (21 مئی) کی مناسبت سےایوان احمد ملک پیٹ میں "چائے پہ راۓ" نشست کو مخاطب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام پروفیسر محمد مسعود احمد چیف آپریٹنگ آفیسر رینوا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ نے کیا تھا جناب درویش حمید الدین شاہد نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کی چائے کو عالمی مقبولیت حاصل ہے اور اس سلسلے میں ہماری تیار کردہ "لاسا لمسا " چائے کی پتی سارے ہندوستان کے ہر شہر' ہر گاؤں' ہر دیہات کے علاوہ دنیا کے کونے کونے میں منگوائی ا...

احساسِ کمتری۔(احساسِ محرومی، عدمِ اعتماد اور خود کو کمتر سمجھنے کی نفسیاتی کیفیت)۔ ازقلم : محمد مسلم کبیر ، لاتور۔

Image
احساسِ کمتری۔ (احساسِ محرومی، عدمِ اعتماد اور خود کو کمتر سمجھنے کی نفسیاتی کیفیت) ازقلم : محمد مسلم کبیر ، لاتور۔ انسانی زندگی میں اعتماد، خود شناسی اور مثبت سوچ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر، ناکام یا بے وقعت سمجھنے لگتا ہے تو اس کیفیت کو “احساسِ کمتری” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی اور سماجی بیماری ہے جو انسان کی شخصیت، کردار، تعلقات اور کامیابیوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ احساسِ کمتری انسان کو ظاہری طور پر خاموش، خوفزدہ، غصہ کرنے والا یا حد سے زیادہ خود نمائی کرنے والا بنا دیتی ہے۔ بعض لوگ اپنی کمزوری چھپانے کے لیے غرور، تکبر یا دوسروں کی تحقیر کا راستہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ مایوسی، تنہائی اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ احساسِ کمتری کی وجوہات احساسِ کمتری کے کئی اسباب ہوتے ہیں، جن میں اہم درج ذیل ہیں: 1۔ بچپن کی تربیت : اگر بچپن میں بچوں کو بار بار ڈانٹا جائے، دوسروں سے موازنہ کیا جائے یا ان کی صلاحیتوں کو کمتر سمجھا جائے تو ان کے دل میں خود اعتمادی ختم ہونے لگتی ہے۔ 2۔ غربت یا معاشی مسائل :معاشرے میں دولت، لباس اور ظا...

مسلم کمیونٹی اجتماعی شادیوں کے اجتماع میں ۲۸ جوڑوں کا نکاح ہوا۔

Image
ڈگرس۔ (راست) حال ہی میں مقامی انجمن اردو ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں مسلم کمیونٹی کی اجتماعی شادی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس سال 28 جوڑوں کی شادی کی گئی۔ گزشتہ 20 سالوں سے انجمن فدائین مصطفیٰ اور مسلم کمیونٹی گلشن آرگنائزنگ کمیٹی کی جانب سے دگرس میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ یہ قابل ستائش اقدام مذکورہ سماجی تنظیم کی جانب سے دولہا یا دلہن کے اہل خانہ سے کوئی فیس وصول کیے بغیر کیا جا رہا ہے۔ یہاں نکاح کی تقریبات کے ذریعے سینکڑوں دولہا اور دلہن شادی شدہ زندگی میں داخل ہو چکے ہیں۔ تاہم اس سال 17 مئی بروز اتوار اجتماعی شادی کی کانفرنس میں 28 جوڑوں کی شادیاں کی گئیں۔ اس موقع پر دولہا اور دلہن کے سینکڑوں شادی کے مہمانوں کے لیے انجمن فدائین مصطفیٰ اور امت مسلمہ کی جانب سے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ دولہا اور دلہن کو ضروری گھریلو اشیا بشمول بستر، الماری، کولر، برتن وغیرہ کے مفت تحفے فراہم کیے گئے۔ تقریب میں اجتماعی شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ فدایان مصطفیٰ کمیٹی' گلشن کثیر مقصدی ادارہ کانفرنس کے پہلے سال میں شادی کرکے تبدیلی کی مثال قائم کرنے والے سماجی کا...

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے۔ - بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری جامعہ اکل کواں۔

Image
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے۔ -   بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری جامعہ اکل کواں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا یہ انوکھا پہلو بھی ملاحظہ فرمائیں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قوم سے کہا کہ تم ایسے معبودوں کو کیوں پوجتے ہو جو نہ بولتے ہیں نہ سنتے ہیں مگر پھر بھی تم انہی کو پوجے جا رہے ہو تم اللہ کو چھوڑ کر جن کو پوج رہے ہو وہ محض پتھر کے صنم ہیں اور اور کائنات میں سب سے بڑی برائی یعنی شرک میں نہ صرف ان کی قوم بلکہ وقت کا بادشاہ اور اس سے بھی ایک قدم اگے وہ اپنے خود کے گھر میں دیکھ رہے تھے کہ اصنام پرستی کس زوروں پر ہے باپ نہ صرف پجاری تھا بلکہ بت گر تھا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے والد قوم اور شاہ وقت کو سچائی اور اچھائی کی دعوت دی اس حقیقت پسندانہ گفتگو کے بعد تو ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ وہ سیدنا ابراہیم کی اس بات پر غور و فکر کر کے اپنے اپ کو شرک سے بچا سکتے تھے مگر وہ ڈھٹائی پر اتر ائے بلکہ حضرت ابراہیم کے درپے ہو گئے مگر ایک نبی جو دعوت کی تمام لطافتوں اور باریک بینیوں سے خوب خوب واقف ہوتا ہے اور رب ذوالجلال ان کو محض اسی مقصد کے تحت دن...

کیا کوکروج جنتا پارٹی (سی۔جے۔پی) واقعی ایک انقلاب ہے یا صرف سوشل میڈیا کا ابال؟۔ تحریر : تحسینہ ماوینکٹی۔

Image
کیا کوکروج جنتا پارٹی (سی۔جے۔پی)  واقعی ایک انقلاب ہے یا صرف سوشل میڈیا کا ابال؟ تحریر: تحسینہ ماوینکٹی۔ بھارت میں سوشل میڈیا کی دنیا ہر روز کسی نہ کسی نئے ٹرینڈ، تحریک یا نعرے کو جنم دیتی ہے۔ کبھی کوئی ہیش ٹیگ عوامی جذبات کی ترجمانی بن جاتا ہے، تو کبھی کوئی مزاحیہ جملہ سیاسی احتجاج کی علامت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں “سی۔جے۔پی” یعنی " کوکروج جنتا پارٹی" بھی اسی نوعیت کی ایک غیر معمولی مگر دلچسپ تحریک کے طور پر سامنے آئی ہے، جس نے خاص طور پر نوجوان نسل، یعنی زین زیڈ کے درمیان غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ بظاہر یہ ایک طنزیہ اور مزاحیہ ٹرینڈ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں موجود غصہ، بے چینی، احساسِ محرومی اور سیاسی و سماجی نظام سے مایوسی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سارا معاملہ اُس وقت شروع ہوا جب جسٹس سریہ کانت  کی جانب سے زین زیڈ نوجوانوں کے متعلق ایک متنازع تبصرہ سامنے آیا۔ ان کے بیان کو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے توہین آمیز اور تحقیر پر مبنی سمجھا۔ اگرچہ بعد میں وضاحت دی گئی کہ ان کی مراد فرضی علم رکھنے والے افراد تھے، لیکن تب...

نکاح سے پہلے تعلقات، منگنی کی رسم اور موجودہ معاشرتی المیہ - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔

Image
نکاح سے پہلے تعلقات، منگنی کی رسم اور موجودہ معاشرتی المیہ -  ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ M A M Ed  8904317986 نکاح سے پہلے تعلقات، منگنی کی رسم اور موجودہ معاشرتی المیہ آج کے دور میں ہمارے معاشرے نے نکاح جیسے مقدس اور بابرکت عمل کو مشکل، جبکہ منگنی جیسی غیر ضروری رسم کو آسان اور لازمی بنا دیا ہے۔ حالانکہ اسلام میں اصل اہمیت نکاح کو حاصل ہے، نہ کہ موجودہ زمانے کی رسموں، نمائشوں اور غیر شرعی طریقوں کو۔ قرآن و حدیث میں آج کے انداز کی “منگنی”، “رِنگ سیرمونی” اور فضول رسم و رواج کی کوئی اصل نہیں ملتی، بلکہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ جب اچھا، دیندار اور مناسب رشتہ مل جائے تو بلاوجہ تاخیر کے بغیر نکاح کر دیا جائے۔ مگر افسوس! آج منگنی کو ایک سادہ وعدے کے بجائے ایک بڑی تقریب، فیشن اور سماجی اسٹیٹس بنا دیا گیا ہے۔ لوگ فلموں اور سیریلز کی نقل کرتے ہوئے بڑے بڑے ہال سجاتے ہیں، اسٹیج تیار کیے جاتے ہیں، لائٹنگ، فوٹو شوٹ، موسیقی اور بے پردگی کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور لڑکا لڑکی کو ایک ہی اسٹیج پر کھڑا کرکے “رِنگ سیریمنی” کی جاتی ہے۔ حالانکہ اسلام سادگی، حیا، پردے ا...

کہانی - " سراب " از قلم : رہبر تماپوری۔

Image
کہانی -  " سراب "  از قلم : رہبر تماپوری۔ شادی کے بعد میری زندگی ایک نئی راہ پر چل نکلی۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ شہر میں خوابوں کی ایک نئی دنیا بسانے میں مگن ہو گئی، جبکہ میرا بھائی بھی اپنی زندگی کے سفر میں آگے بڑھتا رہا۔ وقت گزرتا گیا اور ہماری راہیں رفتہ رفتہ جدا ہوتی چلی گئیں۔ ہمیں احساس تک نہ ہوا کہ اس دوری نے دل کی گہرائیوں میں ایک خاموش خالی پن جنم دے دیا ہے۔ ایک دن کسی معمولی بات پر میں نے بھائی کی شکایت ایک رشتہ دار سے کر دی۔ بس، اسی ایک بات نے ہمارے درمیان انا اور بدگمانی کی ایسی دیوار کھڑی کر دی کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ تو سکتے تھے، مگر بات کرنے کی ہمت کھو چکے تھے۔ برسہا برس گزر گئے اور یہ خاموشی مزید گہری ہوتی گئی۔ میں ہمیشہ اسی آس میں رہی کہ ایک دن وہ خود پہل کرے گا، یا شاید کبھی میں ہی سب کچھ بھلا کر اس سے بات کر لوں گی، مگر وہ دن کبھی نہ آیا۔ پھر اچانک ایک دن اس کے انتقال کی خبر ملی۔ یہ سنتے ہی میں بے اختیار اس کے گھر کی طرف دوڑی۔ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ آنکھیں بند کیے خاموش لیٹا تھا، ہمیشہ کے لیے۔ میں اس کے سرہانے کھڑی اس کا بے جان چہرہ تکتی رہی۔ میر...

فاروق سید ادب اطفال کی عہد ساز شخصیت....عزم، خلوص اور جہدِ مسلسل کا استعارہ... کہانی کہہ کے رخصت ہوگئے ہیں۔ ازقلم : خان حسنین عاقب۔

Image
فاروق سید  ادب اطفال کی عہد ساز شخصیت....عزم، خلوص اور جہدِ مسلسل کا استعارہ...  کہانی کہہ کے رخصت ہوگئے ہیں۔  ازقلم : خان حسنین عاقب۔ برسوں قبل جب مرحوم معراج فیض آبادی سے روزانہ گھنٹوں گپ شپ ہوا کرتی تھی، ایک دن انھوں نے کہا ، 'حسنین میاں، اب ہمارا بھی چل چلاؤ ہے ، ہمارے دوست اور ہم عمر تو بہت سے جا چکے ہیں ۔ میں نے اسی وقت یعنی فی البدیہہ ایک شعر کہہ کر سنایا :  کہانی کہہ کے رخصت ہوگئے ہیں  جنھیں سونا تھا، تھک کر سوگئے ہیں معراج صاحب بہت محظوظ ہوئے اور کھل کر داد دی ۔  بلکہ ایک گھنٹے بعد دوبارہ فون کیا اور کہا، میاں، تمھارا شعر ذہن سے نکل ہی نہیں رہا ۔  اور آج فاروق سید کے لیے کچھ لکھتے ہوئے ذہن نے یہی شعر تجویز کیا کہ دلی کیفیت کی اس سے بہتر ترجمانی محال تھی ۔  19 مئی 2026 کی وہ اداس، اداس ہی نہیں بلکہ ظالم شام اردو دنیا، بالخصوص ممبئی اور شولاپور کے علمی و ادبی حلقوں پر بجلی بن کر گری، جب یہ اندوہناک خبر موصول ہوئی کہ بچوں کے ہر دلعزیز ادیب، بے مثل ناظم اور ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک محترم فاروق سید صاحب اب ہم میں نہیں رہے۔ یہ ایک ا...

مہاراشٹر اردو اکادمی کے چیرمین ڈاکٹر حسین اختر کا بھساول میں استقبال۔

Image
بھساول (صلاح الدین ادیب) مہاراشٹر اردو اکادمی کے چیرمین ڈاکٹر حسین اختر کا آج بھساول کی اسامہ اردو ہائی اسکول میں شاندار استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر اسکول کے صدر اسامہ رؤف خان، میونسپل کونسلر سہیل پٹھان، حاجی انصار احمد احمد صابر شیخ،ڈاکٹر نظام شیخ پرنسپل سید نوید سر صلاح الدین ادیب، صدام کھاٹک وغیرہ موجود تھے۔ ڈاکٹر حسین اختر نے مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کے کام اور اردو زبان کے فروغ کے لیے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں رہنمائی کی۔ ڈاکٹر حسین اختر نے کہا کہ خاندیش خطہ اردو ادب اور صحافت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے خاندیش میں اردو سے محبت کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی تجاویز اکیڈمی کو دیں کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

جامعہ البنات حیدرآباد میں گرمائی اسلامی کلاسز کے اختتام کے موقع پر جلسۂ تقسیم انعامات.

Image
جامعہ البنات حیدرآباد میں گرمائی اسلامی کلاسز کے اختتام کے موقع پر جلسۂ تقسیم انعامات. حیدرآباد (راست) جامعة البنات حیدرآباد ميں 25 روزہ گرمائی اسلامک کلاسز کے اختتام پر طلباء وطالبات کے شاندار تعلیمی مظاہرے پر مشتمل جلسہ منعقد ہوا ۔ جسمیں 7سالہ ننھے بچوں سے لیکر انٹر لیول کی طالبات نے مختصر مدت میں سیکھے ہوۓ علم کا بہترین عملی مظاہرہ کیا۔  طالبہ سحر احمد کی قرأت سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ طالبہ یمنی نے حمد پیش کی ۔ ننھے طلباء وطالبات نے قرآنی سورتیں،40احادیث مع ترجمہ، عقیدۂ توحید پر مکالمہ، اسلامی مہینوں کے نام ، قرآنی دعائیں، مسنون دعائیں اور اذکار نماز زبانی پیش کیں ۔اسکے علاوہ ننھے طلباء نے ایکشن ترانہ "ہم نیکی کے جانباز سپاہی" اور ننھی طالبات نے علم دین کی اہمیت پر "فرشتے پر بچھاتے ہیں" ایکشن ترانہ پیش کیا۔   ہاجرہ زہرہ اور شیما نے اسماء الحسنی، عفیفہ نے نعت  خدیجہ، حفصہ، صفیہ اور ام ہانی نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم مکالمہ کی شکل میں پیش کیا۔ عشرۂ مبشرہ اور ازواج مطھرات کے نام سارہ اور آمنہ نے پیش کئے۔       ...

دل کے جھروکے میں۔ازقلم : مسرورتمنا

Image
دل کے جھروکے میں۔ ازقلم : مسرورتمنا۔ وہ بے پناہ حسین تھی دل میں بہت سے ارمان جاگ رہے تھے جنہیں وہ چاہ کر بھی پورا نہیں کرسکتی تھی کیونکہ وہ غریب تھی آماں دوسروں کے کام کرکے کھانا اور انکے اترن لا کر سکینہ کو دیتی تو وہ پورا گھر سر پر اٹھا لیتی آماں پیدا ہی کیوں کیا مجھے . . تیری طرح غریبی کی آگ میں جل جل مروں  چپ کر سکینہ لوگ ہم پر ہنسینگے آماں نے کہا  تبھی ا ماں کی سہیلی آ گئ اور پتہ نہیں  کیا کہا اماں کا چہرہ کھل اٹھا... ............... سکینہ ابھی نہا کر نکلی تھی  آماں نے اسے پراٹھے دیے اور کہا آج شآم کو تیرا نکاح ہے اس نے ناشتہ نہیں کیا سن سکینہ میری ناک مت کٹانا تجھے اچھا گھر ملا ہے بڑے گھروں کی لڑکیاں بھی بن بیاہی بیٹھی رہـتی ہیں تو پھر غریب کو کون پوچھے میں کل کو مر گئ تو دوسروں کے گھر میں کام کرنا اور اپنی حفاظت کرنا تجھ سے نہ ہو پاے گا اسلیے میرا حکم مان اور ہاں اپنی یہ گز بھر لمبی ذبان بند رکھ .......................... سکینہ نے دیکھا بہت شاندار بنگلہ تھا شجاعت علی اسکے قریب اے تو وہ انہیں دیکھتی رہ گئ انہوں نے ابھی کچھ کہنا تھا تبھی ایک خو...

سولاپور اُردو گھر اور انڈین یوتھ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام فرزند سولاپور مرحوم فاروق سیٌد کو خراج عقیدت - دنیا فاروق سید کے عروج کو دیکھ رہی ہے۔ میں نے انہیں ذرے سے آفتاب بنتے دیکھا ہے : ایوب نلامندو۔

Image
سولاپور اُردو گھر اور انڈین یوتھ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام فرزندِ سولاپور مرحوم فاروق سیٌد کو خراج عقیدت      دنیا فاروق سید کے عروج کو دیکھ رہی ہے۔ میں نے انہیں ذرے سے آفتاب بنتے دیکھا ہے : ایوب نلامندو۔  سولاپور (اقبال باغبان) ادب اطفال کے نمائندہ علمبردار ، معروف صحافی، خادم اردو، ادب کی دنیا کا نہایت فعال اور متحرک کار پرداز ، فرزند سولاپور مرحوم فاروق سید کو سولاپور اُردو گھر اور انڈین یوتھ ایسوسی ایشن کی جانب سے سنیئر صحافی ایوب نلامندو  کی صدارت میں خراج عقیدت پیش کرنے لیے تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں اُردو گھر کے اراکین، محمود نواز، ڈاکٹر ہارون رشید باغبان، ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار ، عبد المجید شیخ، محمد ایاز ، صحافی غفور شیخ، انڈین یوتھ اسوسی ایشن کے نائب صدر ابوبکر نلامندو، مظہر الوڑی، اسلم سید، جماعت اسلامی کے رکن خلیل احمد بانکری، سراج شیخ، پروگریسیو اردو اسکول کے ناظم کتب جعفر بانگی، سابق صدر مدرس ڈاکٹر سراج مومن، انور ہوٹگی، گوا سے تشریف لائے معروف صحافی عمران انعمدار نے شرکت کی۔ تقریب کی ابتداء رُکن...

امید کا بستہ۔ از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔

Image
امید کا بستہ۔  از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔ گاؤں کے سرکاری اسکول میں اُس دن غیر معمولی رونق تھی۔ ضلع کے افسران اسکول کے دورے پر آنے والے تھے۔ اساتذہ بچوں کو بار بار سمجھا رہے تھے کہ صفائی، نظم و ضبط اور پڑھائی سب بہترین نظر آنی چاہیے۔ ساتویں جماعت میں ایک دبلا پتلا لڑکا “احمد” خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھا تھا۔ اُس نے پیوند لگی قمیض پہنی ہوئی تھی اور بستہ کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں بڑے خواب تھے۔ جب افسران کلاس میں آئے تو بچوں سے پوچھا گیا: “آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں؟” کسی نے ڈاکٹر کہا، کسی نے انجینئر۔ احمد کی باری آئی تو اُس نے دھیمی آواز میں کہا “میں استاد بننا چاہتا ہوں۔” افسر نے مسکرا کر پوچھا: “کیوں؟” احمد نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔ “اس لیے کہ میرے ابو کہتے تھے، غریب آدمی سے سب کچھ چھن جائے تو بھی علم اُس کے پاس باقی رہتا ہے۔” یہ کہتے کہتے اُس کی آواز بھرّا گئی۔ پھر آہستہ سے بولا: “ابو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ امّی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور میں شام کو ہوٹل پر برتن دھوتا ہوں تاکہ پڑھائی جاری رکھ سکوں۔” کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ ایک افس...

مجاہدِ اردو عبدالمعیز - (افسانچہ)۔ ازقلم : عزیز تسلیم، نندیالی۔

Image
مجاہدِ اردو عبدالمعیز -  (افسانچہ) ازقلم : عزیز تسلیم، نندیالی۔  اردو زبان عبدالمعیز کی جان ہے، شان ہے، پہچان ہے۔ اردو کے سبب ہی معیز نے اپنی زندگی سنوار لی، اور اسی طرح معیز ہی کی خدمات سے اردو کے لیے ترقی کی راہ ہموار ہوئی۔ وہ کام برائے نام نہیں بلکہ کام برائے فریضہ سمجھتے ہیں اور اسی جذبے سے آگے بڑھتے گئے۔ ہر زبان پر، ہر دل میں اترنے لگے۔ معیز کی اردو خدمات کو اساتذہ برادری، محبانِ اردو اور بڑے بڑے افسران، سیاسی قائدین نے سراہا۔  کہیں اردو زبان کی حق تلفی ہوئی یا کسی محبِ اردو یا اردو طلبہ کی حق تلفی ہوئی تو سب سے پہلے آواز بلند کرنے والی شخصیت عبدالمعیز ہی ہیں۔ لیکن اگر خود پر زیادتی ہو یا خود کی حق تلفی ہوئی تو صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔   _"کسی کو اپنا دشمن بنانے کے لےء دشمنی مول لینے کی ضرورت نہیں، بلکہ کسی شعبے میں خدمات انجام دیتے جائیں تو بغض، تعصب اور حسد کے شکار لوگ خود ہی دشمن بن جاتے ہیں۔"_   یہ قول عبدالمعیز پر صد فیصد درست ثابت ہوتا ہے۔ تدریسی پیشے سے ہٹ کر فارن سروس میں دوسرے عہدے پر فائز ہونے کے لیے، دوست و احباب کے مشورے...

فکری فاصلے ، سماجی تناظر میں۔ از قلم : محمود علی لیکچرر۔

Image
فکری فاصلے ، سماجی تناظر میں۔  از قلم : محمود علی لیکچرر۔ انسانی رشتے صرف خون زبان یا قربت سے قائم نہیں رہتے بلکہ اصل تعلق خیالات احساسات اور باہمی سمجھ بوجھ سے پیدا ہوتا ہے جب دو افراد یا دو نسلیں ایک دوسرے کے نظریات عقائد اقدار اور طرزِ فکر کو سمجھنے سے قاصر رہیں تو وہاں “فکری فاصلے” جنم لیتے ہیں۔ یہ فاصلے بظاہر نظر نہیں آتے، مگر خاموشی غلط فہمی، بے اعتمادی اور تنہائی کی صورت میں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں فکری فاصلے ایک اہم سماجی مسئلہ بن چکے ہیں۔ پہلے زمانے میں خاندان مشترکہ اقدار کے تحت زندگی گزارتے تھے۔ بزرگوں کے تجربات اور نوجوانوں کے جذبات ایک ہی دائرے میں پروان چڑھتے تھے۔ مگر جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، بدلتے ہوئے تعلیمی رجحانات اور تیز رفتار زندگی نے انسان کے اندازِ فکر کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔ آج ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد الگ الگ ذہنی دنیاؤں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ فکری فاصلے صرف نسلوں کے درمیان نہیں بلکہ دوستوں میاں بیوی استاد اور شاگرد، حتیٰ کہ ایک ہی نظریے سے وابستہ لوگوں میں بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ عدم برداشت ہے۔...

فاروق سید صاحبؒ — ایک نام نہیں، ایک روشن چراغ تھے ( اخراج عقیدت شولا پور اردو ہاؤس اج بروز جمعہ 11 بجے )۔ ازقلم : سید فاروق احمد قادری.۔

Image
فاروق سید صاحبؒ — ایک نام نہیں، ایک روشن چراغ تھے ( اخراج عقیدت شولا پور اردو ہاؤس اج بروز جمعہ 11 بجے ) ازقلم : سید فاروق احمد قادری.۔ ایک روشن چراغ… جو آج بھی لفظوں  میں زندہ ہے اخبار کے صفحوں میں اور “بیل بوٹے” کے لفظوں میں آج بھی اُن کی سوچ سانس لیتی ہے۔ ہر سطر میں شعور کی خوشبو، ہر لفظ میں قوم کا درد محسوس ہوتا ہے۔ وہ بچوں کو صرف کہانیاں نہیں لکھتے تھے، بلکہ اچھے اخلاق، بہتر کردار اور صحیح عقیدے کا راستہ دکھاتے تھے۔ نوجوانوں کے دلوں میں تعلیم کی روشنی جگا کر اُنہیں مستقبل کی طرف بڑھنے کا حوصلہ دیتے تھے۔ قلم اُن کا خاموش ہوا، مگر اُن کی فکر آج بھی زندہ ہے۔ ہر اُس ہاتھ میں جو سچ لکھنے کی ہمت رکھتا ہے، اور ہر اُس نوجوان میں جو علم کے راستے پر چلنا چاہتا ہے۔ انہوں نے سیاست کو آئینہ دکھایا، سماج کو بیداری دی اور صحافت کو سچائی کا وقار بخشا۔ وہ صرف صحافی یا کالم نویس نہیں تھے، بلکہ ایک چلتی ہوئی درسگاہ تھے۔ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر اُن کی تحریریں، اُن کی سوچ اور اُن کی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

محمد اسلم سیٹھ کی عامتہ المسلمین سے صفائی کی اپیل۔

Image
بیدر،21/مئی(نامہ نگار) چٹگوپہ کے ممتاز تاجر جناب محمد اسلم سیٹھ نے اپنے ایک صحافتی بیان میں عامتہ المسلمین سے اپیل کی ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے بعد صفائی کا خصوصی اہتمام کریں اور اوجھڑی، ہڈیاں، خون و دیگر فضلات کو گلیوں، نالیوں اور سڑکوں پر ہرگز نہ پھینکیں۔ انہوں نے کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اپنے محلہ، گاؤں اور شہر کو صاف ستھرا رکھے تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو اور اسلام کا بہترین پیغام عام ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ قربانی کے فضلات کو بلدیہ کے عملہ کے حوالے کیا جائے یا بلدیہ کے مقررہ مقامات پر یا بلدیہ کی گاڑیوں میں ڈالا جائے۔ عامتہ المسلمین سے خواہش کی گئی کہ عیدالاضحیٰ کے تین دن صفائی اور نظم و ضبط کا خصوصی خیال رکھیں

قلب پر شدید حملہ کے باعث آفتاب وسیم کا انتقال، تدفین عمل میں آئی۔

Image
بیدر،21مئی(نامہ نگار) یہ خبر نہایت رنج و غم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ جناب آفتاب وسیم ولد ظہیرالدین (عمر تقریباً 50سال) گزشتہ شب قلب پر شدید حملہ کے باعث گلبرگہ میں انتقال کرگئے۔ مرحوم کے انتقال کی خبر سے شہر میں غم کی لہر دوڑ گئی اور دوست احباب، عزیز و اقارب و متعلقین نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ آج بروز جمعرات بعد نمازِ ظہر موتی مسجد المعروف کالی مسجد، چدری روڈ بیدر میں مولانا مفتی محمد جاوید احمد نظامی امام و خطیب مسجد ہذا کی امامت میں ادا کی گئی۔ بعد ازاں مرحوم کو مسجد سے متصل قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ جلوسِ جنازہ، نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر علماءِ دین، عمائدینِ شہر، تاجر برادری، عزیز و اقارب اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی۔ حاضرین نے مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہوئے پسماندگان کیلئے صبرِ جمیل کی دعا کی۔ مرحوم آفتاب وسیم، جناب الحاج محمد ایاز الحق پروپرائٹر کرناٹک چھالیہ اسٹور بیدر کے داماد تھے۔ مرحوم خوش اخلاق، ملنسار اور نیک سیرت شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے انتقال سے دینی، ملی، سماجی،حلقہ احباب اور تجارتی حلقوں میں بھی افسوس کی لہر پا...

مکہ مکرمہ میں وزیر حج رحیم خان کی محمد ریاض احمد اور مظفر علی سے ملاقات۔

Image
بیدر،21مئی(نامہ نگار)حج 2026 کے موقع پر کرناٹک کے بلدی نظم و نسق اور حج کے وزیر جناب رحیم خان نے مکہ مکرمہ میں محمد ریاض احمد اور مظفر علی سے ملاقات کی۔اس موقع پر عازمینِ حج کو فراہم کی جانے والی سہولتوں،قیام وطعام اور دیگر انتظامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیر حج جناب رحیم خان نے کہا کہ حکومتِ کرناٹک کی جانب سے عازمینِ حج کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے تاکہ حجاج کرام کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔محمد ریاض احمد اور مظفر علی نے جناب رحیم خان کا خیرمقدم کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ملاقات خوشگوار ماحول میں انجام پائی۔

کاکروچ جنتا پارٹی کا عروج: مودی سرکار کے لیے بھارتی نوجوانوں کی ڈیجیٹل وارننگ۔(کیا ایک 'ورچوئل پارٹی' بھارت کی روایتی سیاست کو بدل دے گی؟)۔ ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔

Image
کاکروچ جنتا پارٹی کا عروج: مودی سرکار کے لیے بھارتی نوجوانوں کی ڈیجیٹل وارننگ۔ (کیا ایک 'ورچوئل پارٹی' بھارت کی روایتی سیاست کو بدل دے گی؟) ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔ اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں عالمی جمہوریتیں ایک نئے اور پیچیدہ چیلنج سے نبرد آزما ہیں۔ وہ نوجوان نسل، جسے عرفِ عام میں 'جین زی' (Gen Z) کہا جاتا ہے، اب اپنے سیاسی اور سماجی حقوق کے حصول کے لیے روایتی سیاسی جماعتوں اور سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں پر انحصار کرنے کے بجائے سائبر اسپیس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنے سب سے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس عالمی رجحان کی ایک انتہائی طاقتور، چشم کشا اور فکر انگیز مثال مئی 2026 میں بھارت کے سیاسی افق پر 'کاکروچ جنتا پارٹی' (CJP) کے نام سے ابھرنے والی ایک ورچوئل سیاسی تحریک ہے۔ یہ تحریک بظاہر ایک طنزیہ اور مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ترتیب دیا گیا ایک ڈیجیٹل مذاق معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر عمرانیات، سیاسیات اور معیشت کے مروجہ اصولوں کی روشنی میں اس کا گہرا مطالعہ کیا جائے، تو یہ بھارت کے ریاستی ڈھانچے، حکومتی پالیسیوں اور نوجوانوں کے ب...