آہ! بشیر پروازؔ صاحب: تدریس و ادب کے روشن چراغ کا بجھنا، شریوردھن اور سولاپور میں ماتم - ازقلم : اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ
آہ! بشیر پروازؔ صاحب: تدریس و ادب کے روشن چراغ کا بجھنا، شریوردھن اور سولاپور میں ماتم -؛ ازقلم : اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ اپنی سانسوں میں آباد رکھنا مجھے میں رہوں نا رہوں یاد رکھنا مجھے شولاپور / شریوردھن: شولاپور اور شریوردھن کی تعلیمی، ادبی اور ثقافتی فضا آج ایک سچے رہبر، شفقت کے مجسمے اور عظیم معمارِ قوم کے بچھڑنے پر شدید سوگوار ہے۔ بزمِ غالب شولاپور کے صدر، ممتاز ادیب، شاعر، ڈرامہ نگار اور سابق استادِ محترم جناب بشیر پروازؔ صاحب ۸۲ برس کی عمر میں ۴ ستمبر ۲۰۲۶ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ ۵۰ برسوں سے زائد عرصے پر محیط ان کا بے لوث تعلیمی و ادبی سفر اختتام پذیر ہو گیا، جس سے ان کے ہزاروں شاگرد، عقیدت مند اور اردو داں طبقہ گہرے رنج و الم میں ڈوب گیا ہے۔ ایک عظیم سنگتراش اور سچے معمارِ قوم دنیا میں ہمیشہ قابل، مخلص اور بھلائی کے کام انجام دینے والے لوگوں کا ایک منفرد اور بلند مقام ہوتا ہے۔ کچھ شخصیات اپنے کردار کی عظمت سے لوگوں کے دلوں میں اس طرح جگہ بنا لیتی ہیں کہ فاصلے اور وقت بھی ان کی محبت کو کم نہیں کر سکتے۔ جناب بشیر پروازؔ صاحب ایک ایسے ہ...