چھ سو برس بعد حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کے نادر ملفوظات منظرِ عام پر،’’محرابِ فیض‘‘ اور 99 اسمائے مبارکہ کی روحانی تقریب منعقد۔
بیدر،21مئی(نامہ نگارمحمد عبدالصمد ) درگاہ و خانقاہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ بیدر میں ’’افتتاحی تقریبِ محرابِ فیض‘‘ نہایت روحانی و علمی ماحول میں منعقد ہوئی،جس میں حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کے99اسمائے مبارکہ پر مشتمل ’’محرابِ فیض‘‘ کا افتتاح عمل میں آیا۔اس باوقار تقریب میں علماء،مشائخ،سجادگان،عقیدت مندوں اور وابستگانِ خانقاہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔افتتاح حضرت سید شاہ اسداللہ حسینی صاحب سجادہ نشین و متولی درگاہ و خانقاہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کے دستِ مبارک سے انجام پایا۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت حافظ اسماعیل نے حاصل کی جبکہ نعتِ رسولِ مقبولؐ بھی حافظ اسماعیل نے پیش کی۔اس موقع پر سید شاہ من اللہ علوی نے تفصیلی اور روح پرور خطاب کرتے ہوئے ’’ملفوظات‘‘ کی علمی،روحانی اور تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ تصوف کی تاریخ میں ملفوظات کو ہمیشہ غیر معمولی مقام حاصل رہا ہے کیونکہ یہ صرف اقوال کا ذخیرہ نہیں بلکہ اولیائے کرام کے قلبی احوال،روحانی فیوض اور تربیتی اسلوب کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کے نادر ملفوظات ’’شوامل الجمل در شمائ...