افسانہ: عیش و عشرت - از قلم: تحسینہ ماوینکٹی (تاشہ رانی بنوری)
افسانہ: عیش و عشرت - از قلم: تحسینہ ماوینکٹی (تاشہ رانی بنوری) مہمان لکچرر٬ شعبۂ اردو٬ گورنمنٹ کالج برائے خواتین چنتامنی٬ چکبلاپور ضلع کرناٹک۔ شہر کے ایک پوش علاقے میں واقع وہ عالی شان بنگلہ اپنی خوب صورتی اور شان و شوکت کے باعث دور سے ہی لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتا تھا۔ بلند و بالا دروازے، قیمتی پردے، رنگ برنگی روشنیاں، سنگِ مرمر کے فرش، نفیس قالین، جدید ترین گاڑیاں اور نوکروں کی ایک طویل قطار اس گھر کی امارت کی گواہی دیتی تھی۔ بظاہر اس گھر میں کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ دولت تھی، شہرت تھی، آسائشیں تھیں اور دنیا کی ہر وہ شے موجود تھی جسے حاصل کرنے کے لیے لوگ اپنی پوری زندگی محنت کرتے ہیں۔ مگر اس گھر کے مکینوں کے دلوں میں ایک ایسی کمی تھی جسے دنیا کی کوئی دولت پورا نہیں کر سکتی تھی۔ اس بنگلے کا مالک حامد احمد شہر کا ایک مشہور کاروباری شخص تھا۔ اس نے اپنی زندگی غربت سے شروع کی تھی۔ کبھی اس کے والد ایک معمولی دکان پر کام کرتے تھے اور گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے دن رات محنت کرتے تھے۔ حامد نے بھی جوانی میں سخت محنت کی، مشکلات برداشت کیں اور اپنی کاروباری صلاحیتوں کے...