Posts

الحج عبدالواحد چودھری کے انتقال پر ملال۔

Image
یادگار : ( کلیم فریدی شوراپور ضلع یادگیر).یہ خبر نہایت افسوس کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ شهر تماپور / شوراپور ضلع یادگیر کی عظیم فعال شخصیت الحاج عبدالواحد چودری المعروف چودری ایڈوکیٹ وکیل صاحب کا آج بتاریخ 13 جون 2026 بروز ہفتہ صبح کی اولین ساعتوں کے ساتھ انہوں نے اپنی 93 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا. ( انا للہ وانا الیہ راجعون) باوثوق اطلاع کے مطابق انشاء اللہ آج بعد نماز ظهر بمقام جامع مسجد تماپور میں نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور تدفین درگاه

ریاء کاری شرک اصغر ہے۔۔ تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔

Image
ریاء کاری شرک اصغر ہے۔ تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔  9881836729  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر منحصر ہے۔ سب سے پہلے اللہ کی وحدانیت، کہ اللہ ایک ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ اور یہ شہادت دینا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے مبعوث کردہ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اسی طرح نماز کو قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔ ان عبادتوں کا تعلق دل سے اور خدائے برتر کے لیے ہے۔ اس میں کسی چیز کا دکھلاوا اور ریاکاری عبادتوں کے روح کو ختم کرتی ہے۔ ایک حدیث شریف میں ہے۔ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر منحصر ہے۔ اور ہر شخص کو وہی ملے گا جو اس نے نیت کیا ہے۔ ہمارے پاس یہ رواج اور روایت چل پڑی ہے کہ حج جو فرض ہے، اور اسلام کا اہم رکن ہے۔ بہت لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ حاجیوں کا استقبال اور انہیں دعوت دے کر استقبال کرتے ہیں، اور استقبال کیا جاتا ہے اور پھولوں کے ہار اور تحائف پیش کیے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ پانچ ارکان اسلام کے اہم ستون اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب انسان عبادت کرتا ہے ، یقینی طور پر بندہ اور ...

جنگل میں جو ہوا - ( ادبی اصلاحی کہانی)۔ از قلم: رہبر تماپوری۔

Image
 جنگل میں جو ہوا - ( ادبی اصلاحی کہانی) از قلم: رہبر تماپوری۔ ایک خوبصورت، گھنے اور پُرسکون جنگل کے بیچوں بیچ آم کا ایک بہت پرانا اور دیو قامت درخت کھڑا تھا۔ یہ عظیم درخت صدیوں سے پورے جنگل کی شان سمجھا جاتا تھا، کیونکہ اس پر لگنے والے آم بے حد رسیلے اور میٹھے ہوتے تھے۔ گرمی کے موسم میں اس کی گھنی شاخوں اور چوڑے پتوں کے سائے میں جنگل کے تمام جانور اور پرندے پناہ لیتے تھے۔ اس جنگل کے جانور عام جانوروں کی طرح نہیں تھے۔ وہ عقل و شعور رکھتے تھے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے اور اپنے مسائل کو باہمی مشورے سے حل کیا کرتے تھے۔ ان سب میں سب سے زیادہ دانا اور سمجھدار ہوشو الو تھا، جو اسی آم کے درخت کی سب سے اونچی کھوکھلی شاخ میں رہتا تھا۔ جنگل کے تمام جانور اسے اپنا رہنما، استاد اور منصف مانتے تھے۔ ایک دن سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ موسم خوشگوار تھا، مگر اچانک جنگل کا سکون ایک بحث نے توڑ دیا۔ آم کے درخت کو اپنی خوبصورتی اور تعریفوں پر کچھ زیادہ ہی ناز ہو گیا تھا۔ اس نے فخر سے اپنی شاخیں ہلائیں اور نیچے بچھی ہوئی مٹی سے کہا: "اے مٹی! ذرا میری شان تو دیکھو۔ میں کت...

ایک نیا تعلیمی سال، ایک نئی ذمہ داری۔ - از قلم: ایچ۔ایم جعفر، (معاون مدرس اردو ہائی اسکول بادشاہ نگر نندوربار)

Image
ایک نیا تعلیمی سال، ایک نئی ذمہ داری۔ -   از قلم: ایچ۔ایم جعفر،  (معاون مدرس اردو ہائی اسکول بادشاہ نگر نندوربار) موسمِ گرما کی طویل خاموشی کے بعد، 15 جون کا سورج تعلیمی سرگرمیوں کی ایک نئی نوید لے کر طلوع ہو رہا ہے۔ جب اسکولوں کے بند دروازے دوبارہ کھلتے ہیں تو صرف عمارتیں ہی آباد نہیں ہوتیں، بلکہ لاکھوں معصوم آنکھوں میں سجے خواب، امیدیں اور نئے ارادے بھی انگڑائی لے کر جاگ اٹھتے ہیں۔ تعلیم دراصل محض کتابی صفحات کو پلٹنے کا نام نہیں، بلکہ یہ شخصیت کی تراش خراش، کردار کی تعمیر اور ایک روشن مستقبل کی تشکیل کا وہ مسلسل سفر ہے جس کا ایک نیا سنگِ میل پہلے دن سے شروع ہو رہاہوتا ہے۔ نئے تعلیمی سال کا پہلا دن اپنی اہمیت کے اعتبار سے پورے سال کی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح ایک مضبوط عمارت کے لیے مضبوط بنیاد ضروری ہوتی ہے، اسی طرح کامیاب تعلیمی سال کے لیے پہلے دن سے سنجیدگی، نظم و ضبط اور محنت کا آغاز ضروری ہے۔ یہ دن طلبہ کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وقت بہت قیمتی ہے اور کامیابی انہی لوگوں کے قدم چومتی ہے جو آغاز ہی سے اپنے مقصد کے لیے مخلص اور پُرعزم ہوتے ہیں۔ طلبہ کے لیے...

انٹرویو نگاری اور کالم نگاری پر ایک روزہ ورکشاپ منعقد - اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ ہے : مفتی محمدعلی قاضی۔

Image
انٹرویو نگاری اور کالم نگاری پر ایک روزہ ورکشاپ منعقد -  اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ ہے : مفتی محمدعلی قاضی۔ دھارواڑ:ـ(راست)شعبہ اردو وفارسی کرناٹک آرٹس کالج دھارواڑ میں انجمن آرٹس، سائنس، کامرس کالج اینڈ پی جی اسٹڈیز دھارواڑ اور نہرو آرٹس، سائنس اور کامرس کالج ہبلی نے مشترکہ طور پرانٹرویو نگاری اور کالم نگاری کے عنوان پر ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ مہمانِ خصوصی کرناٹک اردو اکیڈمی بنگلورو کے چیئرمین مفتی محمد علی قاضی نے اپنے خطاب میں اردو زبان و ادب کی موجودہ صورتِ حال اور اس کے فروغ کے امکانات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اردو ایک زندہ، ترقی یافتہ اور وسیع ادبی سرمایہ رکھنے والی زبان اوراردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ ہے جس کے فروغ کے لیے حکومت اور اردو اکیڈمی مختلف سطحوں پر سرگرم عمل ہیں۔  انہوں نے طلبہ کو اردو زبان سے وابستگی برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اردو اکیڈمی کی جانب سے طلبہ، اساتذہ، محققین اور نوآموز قلم کاروں کے لیے متعدد اسکیمی...

بشیر بدر اور فاروق سید کی یاد میں تعزیتی نشست کا انعقاد۔

Image
بھیونڈی: (راست) ہم نشیں ویلفیئر فاؤنڈیشن، بھیونڈی کے زیرِ اہتمام معروف ادبی و صحافتی شخصیت فاروق سید اور ممتاز شاعر بشیر بدر کی یاد میں ایک تعزیتی نشست صنوبر ہال، بھیونڈی میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شہر کی علمی، ادبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی اور دونوں مرحومین کی ادبی، صحافتی اور سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تعزیتی نشست کا آغاز مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا سے ہوا۔ مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاروق سید نے صحافت اور ادب کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں، جبکہ بشیر بدر نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو ادب کو نئی جہت عطا کی۔ ان کی ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ یاسین مومن، محمد رفیع انصاری، ایم مبین، شکیل احمد شکیل، ڈاکٹر رضوان نقی، منصفہ مومن اور دیگر معزز حاضرین نے اپنے تاثرات پیش کیے۔ مقررین نے مرحومین کی شخصیت، علمی و ادبی خدمات اور ان کے ساتھ وابستہ یادوں کو بیان کرتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ نشست کی نظامت سرفراز مرمکر نے انجام دی، جبکہ ڈاکٹر اعجاز مومن نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے تمام شرکاء ...

خانقاہِ سنجریہ افتخاریہ میں آج ماہانہ محفل قرآن خوانی و ذکراللہ کا انعقاد۔

Image
خانقاہِ سنجریہ افتخاریہ میں آج ماہانہ محفل قرآن خوانی و ذکراللہ کا انعقاد۔ حیدرآباد۔12/جون(راست) باسط افتخاری مرید سلسلہ افتخاریہ کے بموجب بروز جمعہ بتاریخ 25 ذی الحجہ، مطابق 12 جون بمقام سنجری اسٹیٹ خانقاہِ سنجریہ افتخاریہ روبرو جامع مسجد حضرت وطن چشتی چمن حیدرآباد میں بعد نماز عصر مولانا اکبرالدین ذاکر افتخاری کی صدارت میں قرآن خوانی کا انعقاد عمل میں آیا بعد نماز مغرب زیرنگرانی گدی نشین مولانا پیرزادہ سید کاشف اللہ حسینی بختیار عربی خلیفہ سوم علامہ افتخار المشائخ حضرت پیرافتخاری سید قادر محی الدین حسین سنجری کے محفل بردہ شریف نعت خوانی منعقد ہوئی بعدازاں بہ مزار جدامجد کنزالعرفان حضرت افتخار علی شاہ وطنؒ میں چادرگل و عطر بیزی پیش کیا گیا اور بارگاہ خیرالانامؐ میں پرنم چشم پرسوز آواز میں حمد وثنا نعت پاک کا گلدستہ پیش کیا گیا اور تمام عالم اسلام بالخصوص سلسلہ افتخاریہ کے مریدین کے لیے دعائے خیر کی گئی۔ بعد تناول تبرک کے محفل کا اختتام عمل میں آیا۔

جل گیا گھر ہمارا - اخری قسط کتاب سلگتا احساس - ازقلم : سید فار وق احمد قادری۔

Image
جل گیا گھر ہمارا  -  اخری قسط کتاب سلگتا احساس -  ازقلم : سید فار وق احمد قادری۔ جاوید کی آواز آہستہ آہستہ سسکیوں۔   میں بدل گئی۔ وہ دونوں ہاتھوں میں قبر کی مٹی تھامے سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔ انسپکٹر خاموش کھڑا تھا جاوید کی آواز آہستہ آہستہ سسکیوں میں بدل گئی۔ وہ دونوں ہاتھوں میں قبر کی مٹی تھامے سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔ انسپکٹر خاموش کھڑا تھا۔ شاید اس کے پاس بھی ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا جو جاوید کی آنکھیں پوچھ رہی تھیں۔ دور کہیں آگ کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے۔ دھواں فضا میں پھیل رہا تھا اور انسانیت ایک بار پھر نفرت کے ہاتھوں زخمی ہو رہی تھی۔ جاوید نے مٹی کو اپنے سینے سے لگایا اور آہستہ سے بولا: "صاحب! گھر اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں ہوتا۔ گھر تو ماں کی دعا، باپ کی شفقت، بہن کی محبت اور بچوں کی ہنسی سے بنتا ہے۔ جب یہ سب چھن جائے تو صرف راکھ باقی رہ جاتی ہے۔" انسپکٹر نے بے اختیار سر جھکا لیا۔ کچھ دیر بعد جاوید اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر چہرے پر عجیب سی سنجیدگی تھی۔ اس نے ایک بار پھر جلتے ہوئے شعلوں کی طرف دیکھا اور پھر آسمان کی طرف نظر...

بچیوں کی اعلٰی تعلیم سے محرومی اور ماؤں کا کردار - فردوس انجم - (بلڈانہ، مہاراشٹر)

Image
بچیوں کی اعلٰی تعلیم سے محرومی اور ماؤں کا کردار -    فردوس انجم -  (بلڈانہ، مہاراشٹر) بات یوں ہے کہ شروع سے ہی پسماندہ علاقوں میں اعلی تعلیم کا حصول لڑکیوں کے لیے مشکل امر رہا ہے۔تعلیم عام ہونے کے باوجود ہماری سوچ کا دائرہ محدود ہے۔ خاص طور پر پسماندگی کی زندگی گزار نے والے لوگوں کی۔ وقت کا پہیہ بار بار وہی دہراتاہے۔ آخر کب اس نظام میں تبدیلی آئے گی؟ پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کو باہر جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات کئی ہیں، جس میں ماحول کی خرابی، کالج کا دور ہونا، شہروں میں اعلیٰ تعلیم کی سہولت، معیار تعلیم صحیح نہیں، گھر سے باہر رہ کرتعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں، تعلیم کے اخراجات برداشت نہ کر سکنا، کم آمدنی، پڑھ کر کیا کر لیں گی، آخر چولہا اور چوکا ہی کرنا ہے، نوکریاں کہاں ہیں؟'، مہنگائی، سرکاری کالجوں میں داخلے کا مسئلہ، جلد شادی، پڑھنا لکھنا آگیا کافی ہے، کونسا افسر بننا ہے؟'، کیا اب چاند پر جائیگی،اعلی تعلیم حاصل کرنا بےوقوفی ہے ،روایتی سوچ ، یہ وہ تمام وجوہات ہیں جو بچیوں کی اعلٰی تعلیم‌میں ر...

غالب اکیڈمی کی ماہانہ نثری نشست : تجزیاتی جائزہ۔۔ - تجزیہ نگار : ٹی این بھارتی۔

Image
غالب اکیڈمی کی ماہانہ نثری نشست : تجزیاتی جائزہ۔  تجزیہ نگار : ٹی این بھارتی۔  طویل مدت بعد مورخہ 23 مئی 2026 بروز ہفتہ شام پانچ بجے غالب اکیڈمی کی ما ہانہ نثری نشست میں شرکت کا موقع ملا  مختصر نشست میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈی کے ریٹائرڈ پروفیسر اختر الواسع نے صدارت کے فرائض انجام دیئے  اس روز کچھ سوالات ذہن میں بجلی کی مانند کو ند رہیے تھے  - نثری نشست میں شعری مجموعہ کا اجراء چہ معنی؟  - اردو طلباء و طالبات کو نثری نشست میں شامل نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں ؟  - اردو نثری نشست میں ہندی زبان کا دبدبہ کیوں ؟  - اسٹیج پر ہندی زبان کے ادیب جلوہ افروز کیوں ؟   - شعبہ اسلامک اسٹڈ یز سے سبکدوش پروفیسر اختر الواسع کو بطور صدر مدعو کیوں کیا گیا ؟  - صدارت کے لئے ماہر اردو زبان پروفیسر وں کو مدعو کیوں نہیں کیا گیا ؟  - نثری نشست کے دوران کتب خانہ میں تالہ کیوں ؟  - تندور کی مانند غالب اکیڈمی کے آڈیٹوریم میں پنکھوں کا انتظام کیوں نہیں ؟  - نشست میں نشہ پر پابندی کیوں نہیں ؟  ...

قابلیت کی پہچان تصویروں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہےازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔

Image
قابلیت کی پہچان تصویروں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ M A M Ed  8904317986 قابلیت کی پہچان تصویروں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے آج کے دور میں سوشل میڈیا نے شہرت کے پیمانے بدل دیے ہیں۔ بہت سے لوگ کسی مشہور اداکار، کھلاڑی، سیاست دان یا بااثر شخصیت کے ساتھ تصویر کھنچوانے کو اپنی کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔ پھر اس تصویر کو مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کرکے لوگوں کی توجہ، پسندیدگی اور تعریف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی معروف شخصیت کے ساتھ چند لمحے کھڑے ہو جانے سے نہ انسان کی علمی حیثیت میں اضافہ ہوتا ہے، نہ اس کے کردار میں بلندی آتی ہے اور نہ ہی اس کی حقیقی قدر و قیمت بڑھتی ہے۔ دنیا ہمیشہ انسان کو اس کے اپنے علم، اخلاق، کردار، صلاحیت اور خدمات کی بنیاد پر یاد رکھتی ہے۔ اگر محض کسی بڑے آدمی کے ساتھ تصویر بنوا لینے سے عظمت ملتی تو ہر وہ شخص عظیم شمار ہوتا جو روزانہ کسی مشہور شخصیت کے قریب رہتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عزت اور مقام ہمیشہ ان لوگوں کو ملا جنہوں نے اپنی محنت، قربانی، علم اور کردار کے ذریعے اپنی ...

تامس واڑی مسجد کے امام کے ساتھ بدسلوکی پر تنظیموں میں شدید غم و غصہ، ملزمان پر ایم پی ڈی اے لگانے کا مطالبہ۔

Image
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): پارولہ تعلقہ کے تامس واڑی میں واقع نورانی مسجد کے امام و خادمِ دین سید حکم علی ہاشم علی کے ساتھ مبینہ مارپیٹ، دھمکی آمیز رویہ اور انہیں زبردستی مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیے جانے کے واقعہ نے پورے علاقے میں شدید بے چینی اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس افسوسناک واقعہ پر ایکتا تنظیم نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے تمام ملزمان کی فوری گرفتاری اور مرکزی ملزم کے خلاف ایم پی ڈی اے (MPDA) کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ایکتا تنظیم کے بانی و رابطہ کار فاروق شیخ نے امریکہ کے کیلیفورنیا سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ واقعہ محض ایک مذہبی رہنما پر حملہ نہیں بلکہ ہندوستان کے آئین، مذہبی آزادی، انسانی وقار اور جمہوری اقدار پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو اس کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا، اس کی توہین کرنا اور زبردستی مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کرنا نہایت سنگین جرم ہے۔ اس معاملے میں پارولہ پولیس اسٹیشن میں کیس نمبر 218/2026 درج کیا گیا ہے، تاہم وائرل ویڈیو میں متعدد افراد کی موجودگی اور ان کی فعال شمولیت واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں تنظی...

اردو کا ایک مخلص دوست اور انسانیت کا ہمدرد ہم سے جدا ہوگیا"

Image
"اردو کا ایک مخلص دوست اور انسانیت کا ہمدرد ہم سے جدا ہوگیا" معروف سماجی و سیاسی رہنما، انسانیت نواز شخصیت اور اردو زبان و ادب کے سچے محب جناب ارشد صدیقی صاحب کے انتقال کی خبر نے اردو حلقوں سمیت تمام اہلِ فکر و عمل کو غم زدہ کر دیا ہے۔ ارشد صدیقی صاحب کی شخصیت کئی جہتوں کی حامل تھی۔ وہ جہاں سماجی اور سیاسی میدان میں اپنی نمایاں شناخت رکھتے تھے، وہیں اردو زبان و ادب سے بھی گہری محبت رکھتے تھے۔ اردو کے پروگراموں میں ان کی شرکت، اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی اور اردو کتابوں سے ان کی دلچسپی اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ وہ اردو کو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیبی شناخت سمجھتے تھے۔ اردو کتاب میلوں میں ان کی شرکت ہمیشہ باعثِ حوصلہ ہوا کرتی تھی۔ وہ بڑی تعداد میں کتابیں خرید کر مختلف لائبریریوں، تعلیمی اور تحقیقی اداروں تک پہنچایا کرتے تھے تاکہ نئی نسل تک اردو علم و ادب کا سرمایہ پہنچ سکے۔ مجھے ذاتی طور پر اس کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ چند برس قبل جب ممبئی کے باندرہ کرلا کمپلیکس (BKC) میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کی جانب سے اردو کتاب میلے کا انعقاد ہوا، تو ارشد صدیقی ...

جل گیا گھر ہمارا ( قسط دوم)۔ - سید فاروق احمد قادری۔

Image
جل گیا گھر ہمارا ( قسط دوم)۔ -   سید فاروق احمد قادری۔ ایک پولیس انسپکٹر اپنے ماتحت کے ساتھ وہاں پہنچا جاوید کے حالات دیکھ کر کانسٹیبل نے کہا "صاحب! اس نے بہت زیادہ پی رکھی ہے۔" انسپکٹر نے سخت لہجے میں ڈانٹتے ہوئے کہا: "اوئے! گھر جاتا ہے یا اندر کروں؟" جاوید نے لڑکھڑاتے ہوئے سلام کیا اور ایک درد بھری مسکراہٹ کے ساتھ بولا: "صاحب! میرا گھر تو میری جیب میں ہے۔" انسپکٹر اس کی بات سن کر چونک گیا۔ "کیا مطلب؟" جاوید نے اپنی جیب کی طرف اشارہ کیا۔ "دیکھ لیجیے صاحب!" انسپکٹر نے تلاشی لی تو جیب سے ایک چھوٹی سی پوٹلی برآمد ہوئی۔ اسے کھول کر دیکھا تو اس میں مٹی بھری ہوئی تھی۔ وہ حیرت سے بولا: "یہ کیا ہے؟" جاوید کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ "اپنے گھر والوں کو قبرستان میں دفن کر کے آیا ہوں صاحب۔ یہ انہی کی قبروں کی مٹی ہے۔" یہ سن کر انسپکٹر گھبرا گیا۔ اس کے ہاتھ سے مٹی نیچے گر گئی۔ اس نے فوراً ہاتھ جھٹکے اور خاموشی سے جاوید کو دیکھنے لگا۔ جاوید کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ بھاری آواز میں بولا: "صاحب! گجرات کے فسادات می...

مصائب اور حالات کب آتے ہیں۔۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔

Image
مصائب اور حالات کب آتے ہیں۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔   حضرت ابن عباس فرماتے ھیکہ جس قوم نے مال غنیمت میں خیانت کی تو اللہ تعالی انکے دلوں میں انکے دشمنوں کا رعب ڈال دیتا ہے اور جس قوم میں زنا کی برائی پھیلی ان میں موت بہت ہوتی ہے اور جس قوم نے ناپ تول میں کمی کی ہے تو انکا رزق تنگ ہوجاتا ہے اور جو قوم ناحق فیصلہ کرتی ہے ان میں خونریزی اور قتل عام ہوجاتا ہے اور جو قوم عہد کو توڑتی ہے ان پر دشمن کو غالب کردیا جاتا ہے ( موئطا امام مالک)     دنیا میں تبدیلیاں اور انقلابات اللہ تعالی کی مشیت اور اسکے ارادے سے ہوتے ہیں لیکن انسان کے اعمال اسکے لئے سبب بنتے ہیں جیساکہ قرآن مجید میں اسکو واضح فرمایا گیا ہے مذکورہ بالا حدیث شریف میں خصوصا ان بعض گناہوں کا تذکرہ ہے جو حالات و مصائب کے آنے کا سبب بنتے ہیں     اعمال اور حالات و مصائب بظاہر عقلی طورپر ان کا کوئی جوڑ و تعلق نظر نہیں آتا لیکن نبئ کریم کے زبان اقدس سے نکلی ہوئی کوئی بات کبھی غلط نہیں ہوسکتی اسی طرح جب تک مسلمان اپنی خواہشات اور چاہتوں کو نبئ کریم کی لائی ہوئی تعلیمات کے تابع نہ ...

گرہیں - (افسانہ)۔ ازقلم: رہبر تماپوری۔

Image
   گرہیں - (افسانہ) ازقلم: رہبر تماپوری۔ رات کا پچھلا پہر تھا۔ باہر موسلا دھار بارش برس رہی تھی۔ آسمان پر سیاہ بادل گہرے دبیز پردوں کی طرح چھائے ہوئے تھے۔ بجلی کی ہلکی سی چمک کبھی کمرے کی دیواروں کو روشن کر دیتی اور پھر فوراً اندھیرا چھا جاتا۔ کھڑکی کے شیشوں سے ٹکراتی بارش کی بوندیں ایک مسلسل آواز پیدا کر رہی تھیں، جیسے وقت کسی ادھوری کہانی کو دہرا رہا ہو۔ کمرے کے اندر مدھم زرد روشنی جل رہی تھی۔ پچیس سالہ عامر میز کے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے بکھری ہوئی فائلیں، بینک کے نوٹس، ناکام کاروبار کے کاغذات اور ٹوٹے ہوئے خواب اس کی حالت کی مکمل تصویر پیش کر رہے تھے۔ اس کے چہرے پر تھکن، آنکھوں میں مایوسی اور دل میں ایک ایسی بے بسی تھی جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ عامر کئی دنوں سے اسی کیفیت میں تھا۔ کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا، شراکت دار اعتماد توڑ کر جا چکے تھے اور قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔ اسے لگتا تھا جیسے زندگی نے اسے ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر راستہ بند ہے اور ہر امید ایک نئی گرہ میں بدل چکی ہے۔ اسی لمحے کمرے کا دروازہ آہستہ س...

ہندوستانی اُردو منچ کے زیر اہتمام شامِ یاد — ایک طرحی مشاعرہ۔

Image
ہندوستانی اُردو منچ کے زیر اہتمام  شامِ یاد — ایک طرحی مشاعرہ۔ اُردو کے مشہور و معروف ادیب و شاعر محترم خلیل مامون کی دوسری برسی کے موقع پر ہندوستانی اُردو منچ کے زیر اہتمام 21 جون 2026ء کو ایک یادگار طرحی مشاعرہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس مشاعرہ کی صدارت معروف ادیب، شاعر اور نقاد ڈاکٹر راہی فدائی فرمائیں گے۔ طرحی مصرع یہ ہے: "حادثے ہوتے رہے، ہم نے گلا کچھ نہ کیا" جس کا قافیہ "گلا"، "دیا"، "بھلا" اور ردیف "کچھ نہ کیا" ہے۔ اہلِ ذوق حضرات سے شرکت کی گزارش ہے۔ جو شعرائے کرام طرحی مصرع پر طبع آزمائی فرمائیں، براہِ کرم اپنا کلام 16 جون تک  9845498354 پر واٹس ایپ کے ذریعے ارسال فرماکر اطلاع کریں اور شکریہ کا موقع دیں۔ ۔۔۔۔۔

معماران کعبہ کی آرزوئیں - محمد ناظم ملی جامعہ اکل کنواں۔

Image
معماران کعبہ کی آرزوئیں -   محمد ناظم ملی جامعہ اکل کنواں۔   مفسرین نے لکھا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی حیات مبارکہ میں داعیین اسلام کے لیے بے شمار درس عبر کی باتیں موجود ہیں  جب سیدنا حضرت ابراہیم کو تعمیر مرکز کا حکم مل گیا تو انہوں نے اپنے عزیز اور عظیم لخت جگر سیدنا اسماعیل کو جنہیں ائیندہ اس بیت اللہ الحرام کا امین بننا تھا اور کعبے کی تولیت اور امامت کرنی تھی ساتھ لیا اور اس بیت اللہ کی تعمیر شروع کی یہ دونوں نیک صالح باپ بیٹے ایک تو پیغمبر تھے ۔اور ایک ائندہ زندگی میں ایک عظیم پیغمبر کے جد امجد اور مورث اعلی بننے والے تھے۔ دونوں عظیم تھے ظاہر بات ہے کہ ان عظیم شخصیتوں کی تمنائیں ارزوئیں بھی کتنی عظیم ہوگی چنانچہ قران مجید میں اس کو بڑے واضح انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر کرتے کرتے وہ دعائیں کر رہے تھے اس دعا کے ایک ایک لفظ سے بڑی جامع اور معنی خیز تمنائیں اور ارزو ٹپک رہی تھی چنانچہ قران مجید نے کہا  "واذ يرفع ابراهيم القواعد من البيت واسماعيل ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم". البقره اور یاد کرو جب حضرت اب...

ایم اے پانگل اینگلو اردو ہائی اسکول اور جونیئر کالیج آف آرٹس اینڈ سائنس، شولاپور کی ایم ایچ ٹی سی ائ ٹی بائیولوجی گروپ ۲۰۲۶ امتحان میں شاندار کامیابی۔

Image
شولاپور : (راست) ایم اے پانگل اینگلو اردو ہائی اسکول اور جونیئر کالیج آف آرٹس اینڈ سائنس، شولاپور کے طالب علموں نے اپنے مدرسے اور جونیئر کالیج کی شاندار روایات کو قائم رکھتے ہوئے ایم ایچ ٹی سی ائ ٹی بائیولوجی گروپ ۲۰۲۶، امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے پانگل جونیئر کاليج کا نام روشن کیا ہے۔ پانگل جونیئر کالیج کے طالب علموں کی بہترین کارکردگی نے اساتذہ کی محنت، والدین کے تعاون اور طالب علموں کی محنت، کشش اور لگن کا منہ بولتا ثبوت پیش کیا ہے۔    اس معتبر اور اہم ترین امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علموں میں عفان خلیل احمد بنکاری نے 99.59 پرسنٹائل (طبیعیات 99.55، کیمسٹری 99.90، حیاتیات 97.56) نمبرات حاصل کر کے ادارے کے لیے ایک تاریخ رکم کر دی۔ ساتھ ہی منزہ مشتاق سروڈگی نے 96.85 پرسنٹائل، (طبیعیات 95.41، کیمسٹری 92.49، حیاتیات 97.56)، مشکات صابر حسین امبلکھچڑے نے 96.64 پرسنٹائل (طبیعیات 91.90، کیمسٹری 97.64، حیاتیات 95.12)، شیخ عبدالرب صغیر احمد نے 90.76 پرسنٹائل (طبیعیات 38.83، کیمسٹری 85.77، حیاتیات 93.25)، رنگیز عائشہ خاتون عارف اح...

ایس آئی آر پر سیاسی جماعتوں کی خاموشی تشویشناک۔

Image
بیدر، 11 جون (نامہ نگارمحمد عبدالصمد): ریاست میں جلد ہی ایس آئی آر (Special Intensive Revision) کا عمل شروع ہونے والا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ضلع بیدر سمیت مختلف علاقوں کے عوام کی بڑی تعداد اب تک اس بات سے واقف نہیں کہ ایس آئی آر کیا ہے، اس کا مقصد کیا ہے اور اس دوران شہریوں کو کن امور کا خیال رکھنا ہوگا۔ عوامی حلقوں میں یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کی توجہ بنیادی عوامی مسائل کے بجائے تشہیری سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔ کہیں کسی بیکری، دکان یا عمارت کے افتتاح میں شرکت کی جارہی ہے تو کہیں حادثات کے متاثرین کے گھروں پر جاکر تصاویر اور بیانات جاری کیے جارہے ہیں، لیکن ووٹر فہرستوں سے متعلق نہایت اہم ایس آئی آر جیسے معاملہ پر عوامی بیداری پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آرہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ایس آئی آر کے دوران ضروری دستاویزات، اندراج یا تصدیق کے مراحل کے بارے میں عوام کو بروقت معلومات فراہم نہ کی گئیں تو بہت سے اہل ووٹرس مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس لیے تمام سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، سماجی تنظیموں اور مقامی قائدین کی ذمہ د...

جلگاؤں کی مشہور فرم محمد نثار اینڈ سنس کے چشم چراغ اویس حاجی محمد اشفاق باغبان کی ایم بی بی ایس میں نمایاں کامیابی سماج میں خوشی کی لہر۔

Image
جلگاؤں (سعید پٹیل) یہاں کی معروف فرم محمد نثار اینڈ سنس کے حاجی محمد نثار باغبان کے پوتے و باغبان فاؤنڈیشن کےصدر و یونیک اردو ہائی اسکول کے ڈائریکٹر حاجی محمد اشفاق باغبان کے فرزند محمد اویس باغبان کی ایم بی بی ایس میں اول درجہ میں نمایاں کامیابی سے اہل خانہ و سماج برادران میں خوشی کی لہردوڑ گئ۔اس مبارک موقع پر صحافی و افسانہ نگار سعید پٹیل نے مذکورہ معروف فرم کے مالک حاجی محمد نثار سیٹھ باغبان کو شال پیش کی و ڈاکٹر محمد اویس کو گلدستہ دے کر و میٹھائی سے منہ میٹھاکرکے نیک تمناؤں کے ساتھ مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر اویس باغبان نے اس نمائندے کو بتایا کہ میری اس کامیابی کے لیۓ میں الله رب العزت کا شکریہ ادا کرتا ہوں یہ میرے صبر و کڑی محنت سے پڑھائی کا ثمرہ ہے ، پڑھائی میں تسلسل برقرار رکھتے گھروالوں کی تربیت اور ان کے تعاون سے اس چلینج بھرے تعلیمی سفر میں کامیاب ہوا ہوں۔ اس موقع پر اویس نے مزید بتایا کہ مسلسل پڑھائی ، مشق ، لگن سے یہ سب ممکن ہوا ہے۔اس کامیابی تک کے سفر میں والدین سمیت سبھی قریبی رشتہ داروں ، دوست احباب جنھوں نے مجھے حوصلہ دیا ان سب کا می...

بھونڈی کے ’’صبح و شام‘‘ کے مدیر عبدالجلیل انصاری صحت یاب ہو کر اسپتال سے گھر واپس، عیادت کرنے والوں کا تانتا۔

Image
بھونڈی: سینئر صحافی، سماجی و ادبی شخصیت، اردو ہفت روزہ ’’صبح و شام‘‘ کے بانی و مدیر اور ادبی تنظیم بزمِ یارانِ ادب (رجسٹرڈ) کے سابق جنرل سیکریٹری کامریڈ عبدالجلیل انصاری ممبئی کے سائن اسپتال میں کامیاب پیچیدہ آپریشن کے بعد صحت یاب ہو کر اپنے گھر واپس آگئے ہیں۔ ان کی گھر واپسی کے بعد مزاج پرسی، عیادت اور نیک تمناؤں کے اظہار کے لیے دوستوں، عزیز و اقارب اور خیرخواہوں کا مسلسل تانتا بندھا ہوا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق کامریڈ عبدالجلیل انصاری گزشتہ کئی ماہ سے پیروں میں شدید درد کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ طبی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ ان کے پیروں کی کئی رگیں بند ہو چکی ہیں، جس کے باعث فوری جراحی (آپریشن) ناگزیر ہوگئی تھی۔ ماہر ڈاکٹروں کے مشورے پر 3 جون 2026 کو ممبئی کے سائن اسپتال میں ان کا آپریشن کیا گیا، جو اللہ کے فضل و کرم سے کامیاب رہا۔ اسپتال سے رخصت ہونے کے بعد جب وہ اپنے گھر پہنچے تو ان کے دوستوں، خیرخواہوں اور رشتہ داروں نے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی اور جلد مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اسی سلسلے میں صحافی فہیم انصاری، خان ذاکر حسین اور عبدالعزیز...

جنتِ ارضی کشمیر کا ایک یادگار سفر۔ - تحریر : نکہت انجم ناظم الدین۔

Image
جنتِ ارضی کشمیر کا ایک یادگار سفر۔ -   تحریر : نکہت انجم ناظم الدین۔ گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوتے ہی اور ضلع امراوتی کی گرمی ناقابل برداشت معلوم ہوتے ہی برادر عزیز شاہنواز فیصل نے سب کو راضی کرلیا کہ کچھ چھٹیاں کشمیر میں گزاری جائیں۔ پلاننگ ہوئی، بکنگ ہوئی اور نصف مئی سے دھوم سے کشمیر جانے کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ ۱ جون کو وہ دن آپہنچا کہ جب ہمیں کشمیر کے لیے نکلنا تھا۔ سچ ہی ہے قدرت جب اپنے حسن کے خزانے لٹاتی ہے تو کشمیر جیسی وادی وجود میں آتی ہے۔ برف پوش پہاڑ، سرسبز و شاداب میدان، شفاف جھیلیں اور رواں دریا مل کر ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ہمارا یہ سفرخوشیوں، حیرتوں اور ناقابلِ فراموش یادوں کا ایک حسین باب ثابت ہوا۔ ۱جون کی شام ہم نے اپنے سفر کا آغاز ناگپور سے کیا۔ ناگپور سے دہلی اور پھر دہلی سے سری نگر تک فضائی سفر طے کیا۔ میرے بچوں کے لیے یہ زندگی کا پہلا فضائی سفر تھا، اس لیے ان کی خوشی دیدنی تھی۔ بادلوں کے درمیان اڑتے ہوئے جہاز کی کھڑکی سے نیچے جھانکنا، زمین کو دور سے دیکھنا اور فضاؤں میں سفر کرنا ان کے لیے ایک بالکل ...

تعلیمی سالِ نو کا عہد: مشترکہ ذمے داریوں کا منشور - تحریر: ضیاء الرّحمٰن مظہر الحق انصاری۔ Testament of the New Academic Year

Image
تعلیمی سالِ نو کا عہد: مشترکہ ذمے داریوں کا منشور -  Testament of the New Academic Year تحریر: ضیاء الرّحمٰن مظہر الحق انصاری۔  (پرنسپل، رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیر کالج، بھیونڈی) ایک بچے کی تعلیم اپنے مقصد و معنویت کے اعتبار سے اتنی عظیم اور اپنے دائرۂ کار کے اعتبار سے اتنی وسیع ہے کہ اس کی تکمیل نہ کسی ایک فرد کے بس کی بات ہے اور نہ کسی ایک ادارے کے۔ ایک بچے کی ہمہ جہت تعلیم و تربیت اساتذہ، والدین، خاندان، انتظامیہ اور تعلیمی قیادت کی مشترکہ، منظم اور مربوط کوششوں (Collective, Organised and Coordinated Efforts) کی متقاضی ہے۔ ★ مشترکہ کوشش کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم کے ہر مرحلے میں تمام متعلقہ افراد اپنی ذمہ داریوں میں برابر کے شریک ہوں اور مسلسل اپنا کردار ادا کریں۔ ★ منظم کوشش کا تقاضا ہے کہ تمام سرگرمیاں نظم و ضبط، معیاد و معیار کی پابندی اور اصولوں کی پاس داری کے مطابق انجام پائیں۔ ★ جب کہ مربوط کوشش سے مراد یہ ہے کہ ہر فریق اپنی ذمہ داری آزادانہ طور پر ادا کرتے ہوئے دوسروں کی کوششوں کا معاون اور تکملہ بھی بنے۔ ہر ایک کو اپنے کردار کی نوعیت، حدود اور مقاصد کا واضح ...