Posts

میرا بچپن اور تھا، تیرا بچپن اور ہے۔

Image
میرا بچپن اور تھا، تیرا بچپن اور ہے۔ بچپن انسانی زندگی کا سب سے خوبصورت، بےفکر اور معصوم دور ہوتا ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جس میں دنیاکی ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ہوتا۔ ہر انسان کا بچپن اپنے وقت، ماحول اور حالات کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کے انداز، سہولیات اور ترجیحات بدلتی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے ہر نسل کا بچپن اپنے سے پہلے والے دور سے مختلف نظر آتا ہے۔ اسی تبدیلی کو بیان کرنے کے لیے میں نے عنوان چنا ہے "میرا بچپن اور تھا، تیرا بچپن اور ہے"۔ ماضی کا بچپن سادگی، فطرت سے قربت اور حقیقی رشتوں کی گرمی سے بھرپور ہوتا تھا۔ بچے گلیوں میں کھیلتے، دوستوں کے ساتھ ہنستے، درختوں پر چڑھتے اور بارش میں بھیگ کر خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان کے کھلونے مٹی کے ہوتے، کھیل سادہ مگر دلکش ہوتے، اور خوشیاں چھوٹی چھوٹی باتوں میں سمٹ جاتی تھیں۔ دادی اماں کی کہانیاں، چاندنی راتیں اور صحن میں کھیل کود وہ ساون میں جھولے۔تتلیوں کو پکڑنے کا حسین مشغلہ۔ بچپن کی یادوں کو مزید حسین بنا دیتے ہیں اس کے برعکس آج کا بچپن جدید ٹیکنالوجی کے حصار میں گھرا ہوا ہے۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو گیم...

شاندارکامیابی پرتمام طلبہ و طالبات کو مبارکباد۔

Image
بیدر10/ اپریل(نامہ نگار)جناب انجینئر مبثر سندھے نے اپنے ایک صحافتی بیان میں بتایا ہے کہ آج ہمارے شہرو ضلع بیدر میںPUC 2  کے نتائج کا اعلان ہوا ہے۔ اس موقع پر تمام کامیاب طلبہ و طالبات کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ساتھ ہی ان کے والدین اور کالج مینجمنٹ کو بھی مبارکباد دیتا ہوں جن کی محنت، رہنمائی اور تعاون کی بدولت یہ کامیابی ممکن ہوئی۔ اس کے ساتھ ایک اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آج ہماری کمیونٹی کے ذہین اور قابل طلبہ کو صحیح رہنمائی (کاؤنسلنگ) فراہم کرنا نہایت ضروری ہے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے اپنی فیملی، معاشرہ اور قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔    ہم عموماً صرف ڈاکٹر اور انجینئرنگ کے شعبوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں، جبکہ آج کے دور میں بہت سے ایسے پروفیشنل کورسز موجود ہیں جو نہ صرف فرد کی بلکہ ہماری سوسائٹی اور کمیونٹی کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میں شہروضلع کے معززین سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس جانب خصوصی توجہ دیں، تاکہ ہمارے ہونہار طلبہ کو درست سمت ملے اور وہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ہمارے...

ضلع پریشد اردو بوائز اسکول بودوڈ میں شاندار انعامی و تہنیتی تقریب کا انعقاد۔

Image
امراوتی (راست) ضلع پریشد اردو بوائز اسکول بودوڈ میں جماعت ششم کے طلبہ کے لیے تعلیمی سال میں کئی قسم کے مقابلے منعقد کیے گئے تھے۔اب تعلیمی سال کے آخر میں ایک شاندار اور پروقار انعامی و تہنیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ کی تعلیمی و ہم نصابی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مختلف مقابلوں کے انعامات تقسیم کیے گئے۔تقریب میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں ،سروش اظہارالدین شیخ کو چیمپئن شپ ٹرافی، انس ذاکر پنچاری کو اسٹوڈنٹ آف دی ایئر ایوارڈ، عزیف الطاف پنچاری کو آئیڈیل اسٹوڈنٹ ایوارڈ اور الفیض یونس پنچاری کو بیسٹ اسٹوڈنٹ کے اعزازات سے نوازا گیا۔اس موقع پر مختلف مقابلوں جیسے ماڈل میکنگ، مراٹھی و انگریزی خطاطی، تصویر رنگ آمیزی، بی کوئک ٹیسٹ، جنرل نالج ٹیسٹ اور مکمل حاضری کے شعبوں میں نمایاں طلبہ کو بھی ٹرافیز اور میڈلز دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ خصوصی طور پر ماہِ رمضان المبارک میں 30 روزے رکھنے والے طلبہ کی بھی عزت افزائی کی گئی، جن میں بعض طلبہ نے قرآن مجید کی مکمل تلاوت کا شرف حاصل کیا، جو نہایت قابلِ فخر اور قابلِ ستائش عمل ہے۔تقریب کا ایک اہم حصہ CTET میں کامیاب اسا...

ہمایوں کبیر: ننگِ آدم، ننگِ دین، ننگِ وطن۔۔ بقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔

Image
ہمایوں کبیر: ننگِ آدم، ننگِ دین، ننگِ وطن۔ بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔ جعفر از بنگال و صادق از دکن ننگِ آدم، ننگِ دین، ننگِ وطن علامہ اقبال نے یہ شعر آج سے ایک صدی قبل کہا تھا؛ مگر ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے آج کے بنگال کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا تھا۔ میر جعفر نے بنگال کے نواب سراج الدولہ کو انگریزوں کے ہاتھوں فروخت کیا اور میر صادق نے دکن کے شیرِ میسور شہید ٹیپو سلطان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔ اقبال نے انہیں ابدی رسوائی کا لقب عطا کیا: ننگِ آدم، ننگِ دین، ننگِ وطن۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ غداری کوئی نئی ایجاد نہیں؛ یہ اس سرزمین کے کچھ کرداروں کی موروثی بیماری ہے۔ آج 2026 میں مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد کے سابق ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے ثابت کر دیا کہ میر جعفر کی نسل ابھی ختم نہیں ہوئی، صرف نام اور لباس بدلے ہیں۔  تاریخ گواہ ہے کہ سیاست کا میدان ہمیشہ سے ایسے کرداروں کی آماجگاہ رہا ہے جو بظاہر قوم کے درد کا مرہم بن کر آتے ہیں اور پسِ پردہ اپنی تجوری بھرتے رہتے ہیں۔ لیکن مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد کے سابق ایم ایل اے ہمایوں کبیر کی داستان اس عام روایت سے بھی بڑھ کر ہے، بلکہ ...

سدا سیوپیٹ مجلس دفتر میں سی یم فنڈس کے تحت چیکس کی تقسم عمل میں آئی۔

Image
کوہیر 10 اپریل (نمائندہ) جناب کوثر محی الدین رکن اسمبلی وانچارج متحدہ ضلع میدک و سنگاریڈی کی ہدایت پر جناب شیخ غوث پاشاہ صدر مجلس سداسیوپیٹ کی نمائندگی پر مختلف امراض کے مریضو ں میں چیکس کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس موقع پر سید ارشد ۔ محمد واجد ، صدر مجلس غوث پاشاہ نے جناب بیرسٹر اسد الدین اویسی کوثر محی الد الدین رکن اسبلی کاروان سے اظہارتشکر کیا۔۔۔

افسانہ - احساس کرب - ازقلم : سعید پٹیل جلگاؤں۔

Image
افسانہ  -  احساس کرب -  ازقلم : سعید پٹیل جلگاؤں۔ شادی کی تقریب میں مہمانان کی آمد میں دیر ہوجانے کی وجہ سے ابھی وقت تھا۔میں نے شامیانے کے داخلی دروازے کے کونے میں رکھیّ کرسیوں میں سے ایک کرسی نکال کر اس پر بیٹھ گیا۔۔۔اسی دوران محلےکےخاموش مزاج اپنی بساط بھر پریشان لوگوں کی پریشانی کے مواقعوں پر دوڑ کر آنے والے رحیمو چچا سے ملاقات ہوئی ، میں نے کھڑے ہوکر پھر ایک کرسی اپنے بازو میں لگا کر انھیں استقبالیہ کلمات کے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ اور ان سے ان کے بیٹے کے تعلق سے جاننا چاہا جو گزشتہ سال بھر سے حصول روزگار کےلیۓ خلیجی ملک میں مقیم ہے۔ اس کی فکر کا اظہار کرتے ہوۓ جنگ کے حالات بتاتے ہوۓ انکے تاثرات کو مزید جاننے کی کوشش کی ۔لیکن انھوں نے میری بات کا بے حسی میں جواب دیتے ہوۓ کہا۔۔۔۔میرا بیٹا جس مقام پر ملازمت کرتا ہے وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔۔۔!!! ان کے چہرے پر چمک تھی وہ بہت خوش نظر آرہے تھے۔۔۔ میں نے دل ہی دل میں ان کے تاثرات کو سمجھ لیا تھا کہ اب ان کے پاس بیٹے کی آمدنی سے۔۔۔ مالی حالت بہتر ہوگئ ہوں گی۔۔۔؟ اس لیۓ ان کا لہجہ بدل گیا تھا۔ میں ن...

غزل - ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔

Image
غزل -  ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔ تم میرے فقط میرے ہو دلدار سمجھنا میں صرف تمہاری ہوں وفادار سمجھنا دل چیر کے رکھ دیتی ہے تحریر مری یہ ہاتھوں میں قلم ہے اسے تلوار سمجھنا عادِل ہے تو سب دیکھ دلیل اور شواہِد میں ہی ہوں غلط یہ نہیں ہر بار سمجھنا آزاد کۓ دیش کو اجداد ہمارے ہرگز نہ ہمیں دیش کے غدار سمجھنا یہ دیش ہمارا ہے ہمارا ہی رہے گا اک بار نہیں یارو یہ سوبار سمجھنا جب ڈوبنے والے کو ہے تنکے کا سہارا آنچل کو ہی مہروؔ مرے پتوار سمجھنا

ضلعی ادارہ تعلیم و تربیت امراؤتی میں اردو مطالعہ تحریک 3.0 کے تحت مجلس مذاکرہ سمپوزیم کا شاندار انعقاد۔۔

Image
ضلعی ادارہ تعلیم و تربیت امراؤتی میں اردو مطالعہ تحریک 3.0کے تحت مجلس مذاکرہ سمپوزیم  کا شاندار انعقاد۔۔ (نامہ نگار این۔ایس۔بیگ کی رپورٹ) ۸, اپریل۲۰۲۶ کو امراؤتی ضلعی ادارہ تعلیم و تربیت DIETمیں اردو مطالعہ تحریک 3.0 کامیابی کا آخری مرحلہ "مجلس مذاکرہ" Symposium کا شاندار طریقے سے انعقاد کیا گیا ۔اس مجلس مذاکرہ Symposium میں ضلع کی تمام پنچایت سمیتی ،نگر پرشد ،مہا نگر پالیکاسے متوقع ۳۸ اساتذہ کی شرکت کے تحت تین عناوین پر مشتمل مذاکرہ رکھا گیا ۔ ضلع امراؤتی کے مختلف اسکول سے تشریف لائے تمام اساتذہ نے بہترین پی پی ٹی بنا کر اپنی شاندار پیشکش و مظاہرہ کیا۔ اس ضمن میں DIETامراؤتی نے نہایت حسن و خوبی سے اردو مطالعہ تحریک کے تحت لی جانے والی تمام سرگرمیوں کو منعقد کرنے میں اپنا قیمتی وقت دیا۔ جس کی سب سے اہم کڑی "مجلس مذاکرہ" کی شاندار کامیابی ہے۔اس مذاکرہ میں صدر کی حیثیت سے محترم ملند کبڑےصاحب پرنسپل ڈائٹ تشریف لائے ۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف لائیں نہایت فعال محترمہ ورشا مور ےصاحبہ (ہیڈ آف دی اردو ڈپارٹمنٹ ضلعی ادارہ تعلیم و تربیت ا...

خوش آمدید صحافیو! - (کرناٹک بھر کے صحافیوں کوبیدر کہتاہے ویلکم) - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔

Image
خوش آمدید صحافیو! (کرناٹک بھر کے صحافیوں کوبیدر کہتاہے ویلکم) -  میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔ میر ؔکرناٹکا ہمارا ہے  حق ہمارا ہی اُس نے جانا ہے کے یوڈبلیو جے کاپسارا ہے  یعنی اپریل گیارہ بارا ہے  آج تگڈور جس کے صدرہیں یار یونین پر اُنھیں کا سکّہ ہے میرؔ چالیس واں یہ جلسہ ہے  جس کی مدت فقط دوروزہ ہے جس کا سی ایم ہی افتتاح کریں   ایساکرناٹکا میں چرچا ہے  کنڑی، اُردو، مراٹھی یاہندی  ہر صحافی کا یاں اِجارہ ہے  شہر ِ بیدر صحافیوں کو سب  آج خوش آمدید کہتا ہے  یار! ہردئے سے اپنے دیکھوتو وہ سواگت سبھی کا کرتاہے   ہم تو انصاف ہی کی بات کریں  روز اس کے لئے ہی جیناہے  کچھ مراعات ہم کو حاصل ہوں  جینے مرنے میں پھر ذرامزا ہے  ایشور ہوں، رحیم ہوں، ڈی کے  ساتھ لوگوں کے اِن کورہنا ہے   ووٹ جس بھی عوام سے لئے ہیں  دھندا پانی بھی اُن کا چلنا ہے اس صحافت کا پیڑ بچ جائے  یہی گانا یہی ترانا ہے  آج آنند لیں گے دیوپا  والی، شرنپا کا یہ کہنا ہے  میرؔ گندھرو سینا کا”پبلک“ لوگ پڑھ ک...

بیگم قمر النساء کاریگر گرلز میں کیا گیا ترقیاتی کام کا آغاز۔

Image
شولاپور (محمد عرفان ڈوکا) بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول و جونیئر کالج شولاپور میں مدرسہ ہٰذا کی عمارت کے چھت پر I.P.S تعمیراتی کام کا آغاز مدرسہ ہٰذا کی صدر مدرسہ محترمہ تحسینہ شیخ صاحبہ کے دست مبارک کیا گیا۔ واضح رہے کہ صدائے مہاراشٹر کے ذریعہ گزشتہ روز ہی صدائے مہاراشٹر کے قارئین تک یہ خبر شائع کی گئی تھی جلد ہی مدرسہ ہٰذا میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جائے اسی مناسبت سے آج بروز جمعہ بتاریخ 10 اپریل 2026ء کو اس ترقیاتی کام پر عمل درآمد کیا گیا الحمد للّہ۔ واضح رہے کہ مدرسہ ہٰذا کی صدر مدرسہ محترمہ تحسینہ شیخ صاحبہ 1 جولائی 2024ء سے مسند صدارت پر فائز ہوئیں تب سے اب تک مدرسہ ہٰذا میں آپ کی زیر نگرانی تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ  #️⃣ طالبات کے لئے واش روم کی ازسرنو تعمیر  #️⃣نماز ہال کی توسیع و وضو خانہ #️⃣جلسہ گاہ #️⃣۔CCTV کیمرے کا انسٹالیشن  #️⃣ عمارت کی حفاظت کی خاطر لوہے کی جالیاں #️⃣ پینے کے پانی کے نظام کو بہتر بنانا  #️⃣آفیس اسٹاف روم، گراؤنڈ فلور کے کلاسیس کا کلر کام مکمل کیا گیا۔ مستقبل میں اسکول بیلڈنگ کے باہری جانب سے کلر کام...

شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا - بقلم : محمد ناظم ملی تونڈا پوری، جامعہ اکلکواں۔

Image
شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا -  بقلم : محمد ناظم ملی تونڈا پوری،  جامعہ اکلکواں۔ طالبان علوم سے چندباتیں عزیز طلبہ ! طویل تعطیلات گزار کر اپنوں کے درمیان رہ کر ماں باپ اور بھائی بہنوں اور اعزاء و اقربا ء کا پیار لے کر اور ان کی مقبول و مستجاب دعوات صالحات لے کر پھر رب قدیرو اکبرنے ہم خاک ساروں کو اورایک مرتبہ شناوران علوم اسلامیہ میں شامل فرما کر اپنے خالی دامنوں کو علوم قرانیہ کے لوء لوءو مرجان اور موتیوں سے لبریز کرنے کے لیےپھر ایک بار جامعہ کے اس علمی بقعہ نور میں لا کھڑا کیا ہے فالحمدللہ علی ذلک رب کریم کی عنایتوں اور اس کی نوازشوں اور مہربانیوں کا کہاں؟ کب؟ اور کیسے؟شکریہ ادا کیا جا سکتا ہے یقینا زبان اس کی ادا ئگی سے قاصر ہے دل عاجز ہے نگاہ جھک گئی ہے اور جسم کا انگ انگ محو شکر الہی ہے کہ اج پھر سے اس نے اپنے رفقا ءاور اپنے محسنوں مربیوں اور مشفق اساتذہ کرام کے درمیان میں علوم و فنون سے اپنے سینوں اور نہا خانہ دل کو معمور کرنے کے لیے جمع کر دیا ایک بار پھر میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور یقینا اپ نے بھی کر لیا ہوگا اور اگر نہ کیا ہو تو ضرور اس...

خان اسرار اور انصاری عمران سر کو مبارکباد۔

Image
تھانہ مونسپل اسکول نمبر 14خان اسرار اور بھیونڈی مونسپل اسکول نمبر 91 کے انصاری عمران سر کی سی ٹی ای ٹی امتحان میں پہلی مرتبہ میں ہی دونوں نے کامیابی حاصل کی ۔ انھوں نے حالیہ امتحان میں پیپر اول میں 102 نمبرات حاصل کر کے اپنی بہترین صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔ ہم تمام ساتھیوں کی جانب سے ان کی شاندار کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انھیں مذید کامیابیوں سے نوازے آمین ۔ شیخ عقیل احمد یوسف ۔بھیونڈی۔

بیدر میں 11 اپریل کو کارنجا متاثرین کا احتجاج - بسواراج دیشمکھ ،لکشمن دستی، ڈاکٹر ماجد داغی اور پروفیسر آر کے ہوڑگی و دیگر کی حمایت۔

Image
بیدر 10 / اپریل (راست) کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی کے اعزازی صدر بسواراج دیشمکھ اور صدر ڈاکٹر لکشمن دستی و ڈاکٹر ماجد داغی نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضلع بیدر کے کارنجا آبپاشی منصوبے کے لیے زمین دینے والے کسانوں کے جائز مطالبات کی فوری یکسوئی عمل میں لائیں ۔  وزیر اعلیٰ ریاست کرناٹک مسٹر سدرامیا کے 11 اپریل 2026 کو بیدار کے دورے سے قبل، کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی نے بیدر میں کارنجا کسانوں کے احتجاج کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے جو ان کے مطالبات کی تکمیل میں سرعت پیدا کرنے کی ایک اپیل ہے ۔              بسواراج دیشمکھ ، ڈاکٹر لکشمن دستی اور ڈاکٹر ماجد داغی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ 11 اپریل کو ہونے والی تحریک میں فعال طور پر حصہ لیں گے۔                  دیگر عہدیدارانِ کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی پروفیسر آر کے ہڑگی، پروفیسر بسواراج کمنور ، ڈاکٹر بسواراج گل شیٹی، مسٹر منیش جاجو، ڈاکٹر گاندھی جی مولکیرے اور جناب اسلم چونگے نے بھی مذکورہ احتجاج کی بھرپور حمایت کے ساتھ عوام الناس سے اپیل کی ہے...

قرآنِ مجید پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے - عید ملن تقریب میں سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا عملی مظاہرہ۔

Image
بارشی ٹاکلی، 7 اپریل (ڈاکٹر تہمینہ تنویر) بارشی ٹاکلی میں سدبھاؤنا منچ اور جماعتِ اسلامی ہند کے مشترکہ زیرِ اہتمام عید ملن تقریب دیاوان فنکشن ہال میں نہایت شاندار انداز میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں مختلف مذاہب اور طبقاتِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی، جس سے باہمی محبت، رواداری اور قومی یکجہتی کا خوبصورت پیغام عام ہوا۔ تقریب کی صدارت معروف عالمِ ادب پروفیسر سید سلمان شیرو (پُوسد) نے کی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں تحصیلدار رویندر کاپسیکر، پولیس انسپکٹر پروین دھومال، چیف ایگزیکٹو آفیسر راہل کنکال، نعیم الدین، مولوی عبدالسلام، چندرکانت واٹمارے اور ہری داس رتنپارکھی سمیت دیگر معزز شخصیات شریک تھیں۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مہمانان کا استقبال کیا گیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں عید کے پیغام کو اجاگر کرتے ہوئے محبت، بھائی چارہ، سماجی مساوات اور قومی یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر سید سلمان نے کہا کہ قرآنِ مجید صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ انہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ کو بہتری...

الحراءاردوپراںٔمری اسکول بھساول میں سرپرست،اساتذہ میٹینگ۔

Image
بھوساول (راست) بھساول کا معروف ادارہ الحراءاردو پراںٔمری اسکول بھساول میں سرپرست واساتذہ میٹنگ کاانعقاد عمل آیا ۔نظامت کے فرائض صابر سرنی انجام دیا ساتھ ہی سالانہ امتحان ،نۓ ایڈمیشن اور طلباء کے مختلف تعلیمی مسائل پرروشنی ڈالی ۔صدر معلم ضیاء النبی سرنی بھی سرپرستوں سے خطاب کیا اس موقع پر اسکول کے چیرمین حاجی انصاراحمد نے تعلیمی سال 2025-26 کی نصابی وغیرنصابی سرگرمیوں کا ذکرکیا خاص طورپر تربیت کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو فرمایٔ اپنی گفتگو سے پروگرام کوفکری وتعلیمی جہت عطا کی ۔والدین وسرپستوں نےجوش وخروش کےساتھ شرکت کی جسمیں خواتین کثیر تعداد میں شریک تھیں ۔پروگرام کو کامیاب بنانے میں جملہ اسٹاف کا تعاون حاصل رہا ۔

کم عقل انسان : معاشرے کا ایک سنجیدہ مسئلہ۔۔ مضمون نگار: حکیم محمد اسماعیل سعید۔

Image
کم عقل انسان : معاشرے کا ایک سنجیدہ مسئلہ۔  مضمون نگار: حکیم محمد اسماعیل سعید۔ انسان کو دیگر مخلوقات پر برتری عقل کی بنیاد پر حاصل ہے، لیکن جب یہی عقل کمزور یا ناقص ہو جائے تو انسان اپنی اصل صلاحیتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ کم عقل سے مراد وہ شخص ہے جو معاملات کو سمجھنے، صحیح فیصلہ کرنے اور حالات کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت میں کمزور ہو۔ کم عقلی صرف فہم کی کمی کا نام نہیں بلکہ اس کا تعلق سوچنے کے انداز، تجربے اور سیکھنے کی صلاحیت سے بھی ہوتا ہے۔ ایسے افراد اکثر جلد بازی میں فیصلے کرتے ہیں، بغیر سوچے سمجھے بات کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی سمجھنے میں دقت محسوس کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف خود نقصان اٹھاتے ہیں بلکہ بعض اوقات دوسروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔ معاشرے میں کم عقلی کی ایک بڑی وجہ تعلیم کی کمی، ناقص تربیت اور غیر سنجیدہ ماحول ہے، اگر انسان کو بچپن سے ہی اچھی تعلیم، رہنمائی اور مثبت ماحول فراہم نہ کیا جائے تو اس کی سوچ محدود رہ جاتی ہے، اسی طرح تجربے کی کمی بھی انسان کی فہم کو متاثر کرتی ہے۔ تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ کم عقل افراد کے ساتھ ...

روح پرور ڈراموں کی شام پونے میں آمد۔

Image
شاعری، رومان اور ابدی جذبات سے لبریز دل آویز محفل پونے ایک ایسی شام کا منتظر ہے جو محبت، ادب اور جذبات کی لطافت کو ایک جادوئی تجربے میں سمیٹ کر پیش کرے گی۔ روح پرور ڈراموں کی یہ شام دو دل کو چھو لینے والے ڈراموں کا حسین گلدستہ ، ممبئی میں دل جیتنے کے بعد اب پونے کے ڈرامہ پریمیوں کا دل جیتنے آ رہا ہے، جہاں لفظ سانس لیتے ہیں، جذبات رقص کرتے ہیں، اور خاموشیاں بول اٹھتی ہیں۔ ہفتہ، 11 اپریل 2026 کو سدرشن ہال کا پرسکون ماحول ایک فنکارانہ دنیا میں بدل جائے گا، جہاں ایک ڈرامہ اور دوسری ڈراموں کی سیریز ایک کھلتے ہوئے پھول کی پنکھڑیوں کی طرح اپنی جلوہ گری دکھائے گی۔  آداب! میں پریم چند ہوں یہ سیریز منشی پریم چند کی کہانیوں پر مبنی ڈراموں کو سیریز ہے جو انسانی قدروں، معاشرتی سچائیوں اور لازوال کہانیوں کو اسٹیج پر زندہ کردیتی ہے۔ ان کی پُراثر داستانوں پر مبنی یہ سلسلہ 2005 سے بھارت کا واحد مسلسل چلنے والا سلسلہ ہے، جسے لمکا بک اور ورلڈ وائڈ ریکارڈ میں شامل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس کا تصور، ڈیزائن اور ہدایت کاری مجیب خان نے نہایت محبت اور اخلاص کے ساتھ انجام دی ہے۔ یہ ڈرا...

ُُپی یوسی سال دوم کرناٹک کے اردو طلبہ کوکامیابی کی مبارک باد : محمدیوسف رحیم بیدری۔

Image
 بیدر۔ 9/اپریل (پریس ریلیز) یارانِ ادب بیدر کے سکریڑی جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے بتایاہے کہ پی یو سی بورڈ کرناٹک بنگلورکی جانب سے آج پی یوسی سال دوم کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ جس میں طلبہ وطالبات کی کامیابی قابل ذکر ہے۔ کامیاب ہونے والے تمام طلبہ کومبارک باد پیش کرتاہوں۔ اردو اور دکنی شاعروادیب، افسانچہ نگار اور نقاد جناب یوسف رحیم (میرؔ) بیدری نے ان طلبہ وطالبات کوخصوصی مبارک بادپیش کی ہے جنہوں نے اُردوکا پرچہ دیااور کئی ایسے طلبہ وطالبات ہیں جنہوں نے صدفیصد نشانات حاصل کئے ہیں الحمد للہ۔ صد فیصد نشانات حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات سے توقع ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اُردوزبان کاپرچم بلند رکھیں گے اور دکنی زبان کی طرف بھی توجہ دیں گے۔ اسی طرح جن طلبہ نے 85سے کم نشانات اردو زبان میں حاصل کئے ہیں ان سے بھی توقع ہے کہ وہ عملی زندگی میں اردو کے ساتھ اپنے تعلق کو عمدگی سے برتیں گے۔ جناب میرؔبیدری نے افسوس کااظہار کیاکہ جن طالبات کو والدین خصوصیت کے ساتھ اُردو میڈیم سے بوجوہ پڑھاتے ہیں وہ آگے چل کر انگریزی کو اپنالیتی ہیں یاپھر اُردو کاذکرکرنا بھی کسرِ شان ...

رحمتِ حق جلوہ فرما ہے بنام اولیاء۔ خصوصی مضمون - حضرت سید تاج الدین خواجہ شیرسوارؒ ،المعروف راجہ باگ سواررحمة اللہ علیہ ،بسواکلیان - بضمن 648واںعرس سراپا قدس(21شوال المکر م ) از قلم : خواجہ ضیاءالحسن جاگیردار چشتی نظامی خواجہ شیر سواری، سجادہ نشین بارگاہ حضرت خواجہ سید تاج الدین خواجہ شیر سوار، المعروف راجہ باگ سوارؒ بسواکلیان۔

Image
رحمتِ حق جلوہ فرما ہے بنام اولیاء۔  خصوصی مضمون -  حضرت سید تاج الدین خواجہ شیرسوارؒ ،المعروف راجہ باگ سواررحمة اللہ علیہ ،بسواکلیان -  بضمن 648واںعرس سراپا قدس(21شوال المکر م )  از قلم : خواجہ ضیاءالحسن جاگیردار چشتی نظامی خواجہ شیر سواری، سجادہ نشین بارگاہ حضرت خواجہ سید تاج الدین خواجہ شیر سوار، المعروف راجہ باگ سوارؒ بسواکلیان۔   بہت سارے اولیاءکاملین کے ذریعے دکن میں دین اسلام پہنچا ، جن کی فہرست طویل ہے انہی اہل نظر میں ،سراج السالکین ، آل رسول ، برہان الاتقیاء، سلطان الاصفیاء،تاج العارفین ،صاحب راز، اعلیٰ حضرت ،سیدنا حضرت خواجہ سید تاج الدین خواجہ شیر سوار، المعروف بہ راجہ باگ سوار رحمة اللہ علیہ بھی ہیں جن کے قدم مبارک سے دکن میں اوربالخصوص علاقہ بسواکلیان میں اسلام کے تبلیغ ہوئی اور بندگانِ خدا کو ہدایت ملی ۔21شوال المکرم 1447ہجری سالانہ عرس شریف کے موقع پر حضرت شیر سوار رحمة اللہ علیہ کے حیات مقدسہ کے کچھ پہلوﺅں کے ساتھ آپ ؒ کے معمولات کو پیش کیا جارہاہے ۔  پیدائش ونسب :  حضرت خواجہ شیر سوار ؒ کی پیدائش 699ھ میں،سمنان مضافات ...

اہلِ ہند - ازقلم : صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری جلگاؤں ۔

Image
اہلِ ہند -  ازقلم : صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری جلگاؤں ۔ خوف کے سائے میں مستقبل کا چھینا کیوں نظام تیل پانی اور کھانے کا یہ کیسا اہتمام بزدلی سے یہ حکومت اور چل سکتی نہیں گر گیا ہے ساری دنیا میں تجارت کا مقام فلسفے پر ہند کا معیار کیوں کمزور ہے کیا سبب ہے آج کی سرکار کیوں کمزور ہے کوٹ نیتی کا جو فن تھا آج کیوں جاتا رہا مذہبی جھگڑوں کی یہ دیوار کیوں کمزور ہے حجتوں کے سنگ آئینِ روداری گیا سنودھانی پیچ و خم میں نظم سرکاری گیا ڈھول تاشے بج رہے ہیں علم و فن کے درمیاں ناچ گانا چل رہا ہے شوق درباری گیا کیا سیاست ہو رہی ہے آج ایوانوں کے بیچ کون سی مخلوق آ پہنچی ہے انسانو کے بیچ ذہن و دل ملبوس فطرت ہوگئے ہیں اس قدر عقل کی املاک  کیوں الجھی ہے شیطانوں کے بیچ گفتگو گمنام ہے شاید صحافت کے لیے گنگ ہوتی ہیں زبانیں اب فصاحت کے لیے ہوگئی مفلوج آخر کیوں یہاں اردو زباں آب کوئی آزاد پھر اٹھے قیادت کے لیے بے رخی مذہب کے آئینے میں پوشیدہ ہوئی جو حقیقت تھی محبت کی وہ نمدیدہ ہوئی نسلِ نو کی آرزوؤں کی خدایا خیر ہو کیفیت ہر شخص کی غفلت میں رنجیدہ ہوئی سنگلاخِ زخم بوید در نظر ہے یہ زمیں من ب...

ادھوری محبت کی مکمل کہانی۔۔ از قلم: رہبر تماپوری۔

Image
ادھوری محبت کی مکمل کہانی۔ از قلم: رہبر تماپوری۔ عام طور پر محبت کو دو وجود کے ملاپ کا نام دیا جاتا ہے، لیکن میری نظر میں محبت کا مفہوم اس سے کہیں بلند تر ہے۔ میں اپنی محبت کا ذکر "علم" کے روپ میں کرتا ہوں۔ علم وہ لازوال چراغ ہے جس کی روشنی محبت کے روایتی تصور سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ جہاں دنیاوی محبت صرف اپنی ذات کی چاہت کو پورا کرنے تک محدود رہتی ہے، وہاں علم کی محبت انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوارنے کا ہنر سکھاتی ہے۔ میرا علم ہی میری سب سے بڑی اور سچی محبت ہے، جو مجھے خیر اور شر، اور اچھائی اور برائی کے درمیان تمیز سکھاتی ہے۔ اسی سیکھنے کے عمل سے وہ کہانی مکمل ہوتی ہے جسے دنیا ادھورا سمجھتی ہے۔ انسان ماں کی گود سے علم کا پہلا سبق لیتا ہے، پھر اساتذہ اور مخلص دوست اس سفر میں رہنما بنتے ہیں۔ میرے نزدیک حصولِ علم کا یہ سفر ہی محبت کی معراج اور اس کی اصل تکمیل ہے۔ اسی خیال کو میں نے اپنے اس شعر میں سمویا ہے: "لوگ پڑھتے تھے زر، زمیں، زیور کے لیے رہبر تو پڑھتا ہے کچھ سیکھنے کے لیے" چنانچہ، جب مقصد صرف "سیکھنا" ہو، تو محبت کبھی ادھوری نہیں رہتی،...

مسجد اشاعت اسلام ظہیرآباد میں ایس آئی آر کی اہمیت اور تقاضے،جمعہ سے قبل ڈاکٹر شیخ عثمان اے۔پی۔سی۔آر۔ کا خطاب، عوام سے شرکت کی اپیل۔

Image
        ظہیر آباد. 9/اپریل (نمائندہ)معاون امیر مقامی جماعت اسلامی ہند ظہیرآباد نارتھ انجنئیر محمد شہباز الدین نے اپنے ایک پریس نوٹ میں بتایا کہ 10/اپریل بروز جمعہ خطبہ سے قبل ایک اہم موضوع پر شعور بیداری خطبہ بعنوان "ایس آئی آر کی اہمیت اور تقاضے" مسجد اشاعت اسلام متصل اسلامک سنٹر لطیف روڈ خان محلہ ظہیر آباد پر ڈاکٹر شیخ عثمان سیکریٹری APCR تلنگانہ پیش کریں گے خواتین کے لئے بھی معقول نظم رہے گا ٹھیک 12:50 منٹ پر خطبہ کا آغاز ہوگا اور جماعت 1:15 پرکھڑی ہوگی مسجد انتظامیہ نے آپ مصلیان مسجد اور معززین شہر سے اپنے دوست احباب کے ساتھ کثیر تعداد میں شرکث و بھر پور استفادہ کی پر خلوص خواہش کی ہے۔۔۔۔۔

اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی - سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد۔

Image
اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی -  سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد۔ رابطہ: 8099695186                مرکزی حکومت نے شہریوں سے اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا پر پوسٹس کی نگرانی کو سخت کرنے اور آئی ٹی قوانین میں ترمیم کا مسودہ پچھلے دنوں جاری کردیا ہے،اس پر اعتراض و عوامی رائے کے لیے 14 دن کی مہلت دی ہے،مرکزی حکومت سے ڈیجیٹل قوانین کو سخت بنانے اور شہریوں کی سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹوں پر قانونی کاروائی کی گنجائش فراہم کرنے وغیرہ ناشرین کے مواد کو بھی قانونی دائرے میں شامل کرنے کے اقدامات کے تحت ان ترامیم پر مختلف گوشوں سے اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے،کہا جارہا ہے کہ اگر ان ترامیم کو حکومت منظور کرتی ہے تو ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمس پر جو کہ آزادانہ رائے رکھتے ہوئے،مخالف حکومت مواد پیش کرنے میں خوف محسوس نہیں کررہے ہیں بلکہ آزاد صحافت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں،ان پر اب نئے قوانین کے ذریعے قدغن لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے،بھارت کی وزارتِ الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی نے آئی ٹی رولس 2021 میں ترمیم ک...

بنیامین نتن یاہو: تاریخِ انسانی کا سب سے سفاک دہشت گرد(خون سے رنگی اسرائیلی تاریخ کا شرمناک باب)۔ بقلم : اسماء جبین فلک۔

Image
بنیامین نتن یاہو: تاریخِ انسانی کا سب سے سفاک دہشت گرد (خون سے رنگی اسرائیلی تاریخ کا شرمناک باب) بقلم : اسماء جبین فلک۔ تاریخ کے ہر دور میں ایسے حکمران گزرے ہیں جن کے ہاتھوں انسانیت زخمی ہوئی؛ ہٹلر نے یہودیوں کا قتلِ عام کیا، پول پاٹ نے کمبوڈیا کو لاشوں کا قبرستان بنایا، اگوستو پنوشے نے چلی میں ہزاروں بے گناہوں کو تشدد اور موت کے گھاٹ اتارا؛ مگر یہ سب جرائم اپنے وقت کی اندھیری راتوں میں ہوئے، دنیا کو بعد میں پتہ چلا، تحقیقات ہوئیں اور سزا ملی یا نہ ملی۔ لیکن اکیسویں صدی میں، کیمروں کے سامنے، موبائل فون کی آنکھوں کے آگے، مصنوعی سیارہ تصاویر کی نگاہ تلے، ایک ایسے حکمران نے وہ جرائم کیے جو ہٹلر کو بھی شرمندہ کر دیں، اور اس کا نام ہے بنیامین نتن یاہو۔ یہ محض ایک صحافیانہ الزام نہیں، یہ اقوامِ متحدہ کی باضابطہ کمیشن آف انکوائری کا لکھا ہوا فیصلہ ہے، بین الاقوامی فوجداری عدالت کا جاری کردہ گرفتاری وارنٹ ہے، اور دنیا کے معتبر ترین اداروں کی دستاویزی گواہی ہے، اور یہ سب ایک ہی نتیجے پر ختم ہوتے ہیں کہ نتن یاہو تاریخِ انسانی کے سفاک ترین دہشت گردوں میں سے ایک ہے۔ نتن یاہو کی سیاسی ...