Posts

مرکزی تعلیمی بورڈ ممبرا اور ایجوکیشنل اپلفٹمنٹ فورم کے اشتراک سے پرنسپل میٹنگ کامیابی سے منعقد۔ - مسجد الاقصیٰ، تنور نگر میں 30 تا 40 تعلیمی ذمہ داران کی شرکت، سید تنویر احمد صاحب کا خصوصی خطاب۔

Image
ممبرا، 27 جون: مرکزی تعلیمی بورڈ ممبرا اور ایجوکیشنل اپلفٹمنٹ فورم (EUF) کے اشتراک سے مسجد الاقصیٰ، تنور نگر، ممبرا میں 27 جون کو پرنسپلز اور تعلیمی ذمہ داران کی ایک اہم میٹنگ کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ پروگرام کا آغاز حافظ محبوب عالم کی دلنشیں آواز سے ہوا۔ اس اجلاس میں ممبرا اور اطراف کے مختلف اسکولوں کے تقریباً 40 پرنسپلز، منیجمنٹ اراکین اور تعلیمی ذمہ داران نے شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد اسکولوں کے معیار کو بہتر بنانا، تعلیمی میدان میں باہمی تعاون کو فروغ دینا اور طلبہ کی تعلیمی ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا تھا۔ پروگرام کے مہمانِ خصوصی محترم سید تنویر احمد صاحب تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں معیاری تعلیم، تعلیمی اداروں کی ذمہ داری اور موجودہ دور کے چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے اساتذہ اور ذمہ داران کو طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنے کی تلقین کی۔ مرکزی تعلیمی بورڈ ممبرا اور ایجوکیشنل اپلفٹمنٹ فورم کے ذمہ داران نے بھی مرکزی تعلیمی بورڈ اور ایجوکیشنل اپلفٹمنٹ فورم کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تعلیمی میدان میں مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے ک...

مادر علمی کے نو آموز پرنسپل نعیم بشیر کا استقبال۔

Image
جلگاؤں:(ریحان کریمی) 1942 میں قائم شدہ ضلع جلگاؤں دھولیہ اور نندوربار کی اولین اردو ہائی اسکول مولانا عبدالرزاق اینگلو اردو ہائی اسکول و نور محمد چاچا جونیئر کالج جلگاؤں کے نو منتخب پرنسپل جناب نعیم بشیر کا استقبال ان کے رفقائے کار نے دفتر پہنچ کر بڑے ہی والہانہ انداز میں کیا۔ نعیم بشیر نے ثانوی تعلیم اسی درسگاہ سے حاصل کی تھی۔ ایک طالب علم کا اسی تاریخی اسکول میں سب سے اونچے عہدے پر پہنچنا اپنے آپ میں ایک اعزاز کی بات ہے۔ اس موقع پر صحافی و افسانہ نگار، سابق صدر مدرس مشتاق کریمی، ڈاکٹر آفاق انجم، محمد عاصم راوی اور سپروائزر ناظم خان موجود تھے۔ تعلیمی معیار کی بلندی پر اس دوران بات چیت بھی ہوئی۔ پرنسپل نعیم بشیر نے کہا کہ وہ کردار سازی اور معیار تعلیم کی بلندی کے لیے سنجیدگی سے کوششیں کریں گے۔ اس ضمن میں انہیں انتظامیہ کا بھرپور تعاون مل رہا ہے اس بات کا اعادہ بھی انہوں نے کیا۔ احباب نے انہیں نیک خواہشات و دعائیں دیں۔ اس موقع پر ان کی خدمت میں گلدستہ بھی پیش کیا گیا۔

بزم احمد حسین کاتذکرہ شہدائے کربلا و محفل نعت و منقبتمولانا رضوان قریشی، فاروق شکیل و دیگر شعرا کا نذرانہ عقیدت۔

Image
حیدرآباد 27/ جون (راست )بزم احمد حسین کی جانب سے شمع گارڈن بنڈلہ گوڑا میں جناب منور حسین، صدر بزم احمد حسین کے نگرانی میں9 محرم مطابق ۲۵ / جون بروز جمعرات محفل ذکر شہدائے کربلا منعقد ہوئی،بعد عصر مدرسہ کے طلبا،اساتذہ و حفاظ کرام نے قرآن خوانی کی بعد ختم شریف مولانا حافظ و قاری محمد رضوان قریشی قبلہ خطیب مکہ مسجد نے دعا کی اور سلام پیش کیا افطار کا خاص اہتمام کیا گیا تھا مولانا رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد کی امامت میں نماز مغرب ادا کی گئی اور بعد طعام وشربت نوشی محفل نعت و منقبت منعقد ہوئی جس میں حیدرآباد کے ممتاز شعرائے کرام ڈاکٹر فاروق شکیل، سمیع اللہ حسینی سمیع، ظفر فاروقی، ڈاکٹرطیب پاشاہ قادری، پروفیسر محمد مسعود احمد ،لطیف الدین لطیف اور قادر پیر بغدادی نے بارگاہ سرور کونین و اہل بیت میں نعت و منقبت کا بھرپور نذرانہ پیش کیا ابتدا میں داعی محفل صدر بزم احمد حسین جناب منور حسین نے ابتدائی کلمات پیش کئے اس محفل تطہیر و تقدس میں شہر کی ممتاز شخصیتیں جناب تقی الدین شجیع، ثروت فاروقی، عقیل احمد،محمد نقی الدین صدیقی، سید رضوان الدین قادری، محمد عبدالحق صدیقی، سید ...

راجیہ سبھا کے لیے بلا مقابلہ منتخب ہونے پر ڈاکٹر ملّیکارجن کھرگے کو گلدستہ پیش کر کے مبارکباد۔

Image
بیدر، 28 جون (نامہ نگار): راجیہ سبھا کے لیے بلا مقابلہ منتخب ہونے پر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ملّیکارجن کھرگے سے آج بنگلورو میں ان کی رہائش گاہ پر کانگریس قائدین نے ملاقات کی اور انہیں گلدستہ پیش کرتے ہوئے دلی مبارکباد دی۔ اس موقع پر کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مرلی دھر ایکلارکر، دتاتریہ مولگے، اجیت پٹیل اور ضلع کانگریس ہندو پسماندہ طبقات سیل کے صدر شنکر ریڈی چٹّا موجود تھے۔ وفد نے ڈاکٹر ملّیکارجن کھرگے کی بلا مقابلہ کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ان کی طویل عوامی خدمات، دیانت دار قیادت اور عوامی اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ قائدین نے ڈاکٹر کھرگے کی صحت، درازیٔ عمر اور مزید کامیابیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی ملک و قوم اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے اسی جذبے کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی.

غلام محمود بنات والا نے پارلیمنٹ اور عوامی زندگی میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا.مولانا محمد نوحغلام محمود بنات والا کی برسی کے موقع پر دعائیہ مجلس۔

Image
بیدر28جون (نامہ نگار) انڈین یونین مسلم لیگ ضلع گلبرگہ کے زیرِ اہتمام عظیم مسلم رہنما، سابق رکنِ پارلیمان اور انڈین یونین مسلم لیگ کے مخلص قائد مرحوم غلام محمود بنات والا کی 18 ویں برسی کے موقع پر ایک دعائیہ مجلس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت انڈین یونین مسلم لیگ کرناٹک کے ریاستی جنرل سیکریٹری مولانا محمد نوح اور ضلع صدر گلبرگہ نے کی۔ مجلس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مرحوم غلام محمود بنات والا کی ملی، سیاسی اور سماجی خدمات پر روشنی ڈالی گئی۔ مولانا محمد نوح نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ غلام محمود بنات والا ایک باوقار اور دور اندیش مسلم قائد تھے جنہوں نے پارلیمنٹ اور عوامی زندگی میں مسلمانوں اور دیگر کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی پوری زندگی ملت کی خدمت، جمہوری اقدار کے فروغ اور قومی یکجہتی کے لیے وقف رہی۔ مولانا محمد نوح نے مرحوم بنات والا کی خدمات نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اصولی سیاست کو فروغ دیا اور ملت کے مسائل کو مؤثر انداز میں ایوانوں تک پہنچایا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اتحاد...

شہادتِ امام حسینؓ اور احیائے خلافت کے عنوان پر وحدتِ اسلامی اکولہ کا موثر خطاب عام : خلافت کا قیام امت مسلمہ کا اولین فریضہ۔

Image
اکولہ (پریس ریلیز): مقامی مومن پورہ مسجد میں دین کی سربلندی اور نظامِ خلافت کی بیداری کے لیے وحدتِ اسلامی اکولہ کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان خطاب عام کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان *"شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ اور احیائے خلافت"* تھا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض انجینئر سید راحیل نے انتہائی احسن انداز میں انجام دیے۔ معزز مہمانانِ گرامی کی تشریف آوری :  اس باوقار تقریب میں مقتدر شخصیات نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جن میں درج ذیل نامور شخصیات شامل تھیں:  محترم سید سہیل صاحب (ضلعی ناظم، وحدت اسلامی اکولہ)  محترم شہزاد احمد خان صاحب (مقامی ناظم)  محترم مولانا طفیل احمد صاحب ندوی (صدر، کل جماعتی تنظیم اکولہ)  محترم مولانا مظفّر علی صاحب مظاہری (نائب صدر، کل جماعتی تنظیم اکولہ) خطاب عام کا آغاز قاری افروز امانی کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ پروگرام کے کلیدی مقرر *انجینئر اسرار احمد صاحب (ممبئی)* نے اپنے خطاب سے سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی:  شہادتِ امام حسینؓ کی اصل روداد: انہوں نے معرکہِ کربلا اور نواسہِ رسول...

حضرت سید شاہ غوث سروری قادری قندھاریؒ کا 72واں سالانہ عرس 30 جون کو منعقد ہوگا۔

Image
بیدر، 28 جون (نامہ نگار) مولانا حافظ نذیر احمد شرفی کی اطلاع کے مطابق موضع زمستان پور ،المعروف دھمسا پورضلع بیدر میں حضرت سید شاہ غوث سروری قادری الرفاعی قندھاری رحمۃ اللہ علیہ المعروف بہ "نانا جان" کے 72ویں سالانہ عرسِ مبارک کی روح پرور صندل تقریب 30 جون 2026ء، بروز منگل، بمطابق 14 محرم الحرام 1448ھ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوں گی۔تفصیلات کے مطابق حسبِ عمل روایت قدیم اس روز بعد نمازِ ظہر تا عصر تناولِ تبرک ہوگا، بعد نمازِ عشاء حضرت سید شاہ جابر سروری قادری الرفاعی سجادہ نشین درگاہ حضرت ممدوح صندل مالی کی جملہ خصوصی رسومات انجام دینگے، جبکہ رات 9:30 بجے عظیم الشان محفلِ سماع منعقد ہوگی۔ اس موقع پر مہاراشٹر کے معروف قوال جناب شاہد اجمیری نظامی اپنے ہمنوؤں کے ساتھ ساز پرصوفیانہ کلام پیش کریں گے، جبکہ دیگر قوال حضرات بھی نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ عرسِ مبارک کے انتظامات حضرت سید شاہ جابر سروری قادری الرفاعی صاحب قبلہ، سجادہ نشین کی نگرانی میں مکمل کیے جا رہے ہیں۔ منتظمین نے تمام محبانِ اولیائے کرام، مریدین، معتقدین اور عوام الناس سے اپیل ...

آرمور میں اردو ٹیچر پر تھپڑ رسید کرنے کا واقعہ، ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ،صدر جمعیت علماء مولانا سید احسان الدین رشادی و قاسمی کا بیان۔

Image
حیدرآباد 28 جون ( نمائندہ) آرمور میں مختلف سیاسی جماعتوں، مذہبی تنظیموں اور سماجی گروپوں کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر آرمور پولیس اسٹیشن کے سرکل انسپکٹر (CI) کو ایک شکایت پیش کرتے ہوئے اردو ٹیچر پر مبینہ حملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا، وفد نے اس واقعہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکول انتظامیہ کی ہدایت پر طلبہ کو اردو پڑھانے کے دوران ایک استاد کو مبینہ طور پر تھپڑ مارا گیا، جو نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اساتذہ، طلبہ اور اردو بولنے والی برادری میں خوف، بے چینی اور غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے، شکایت کنندگان نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر مقدمہ درج کرتے ہوئے منصفانہ تحقیقات کی جائیں، ملوث افراد کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ کو بلا خوف و خطر اپنے تدریسی فرائض انجام دینے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جانا چاہیے، آرمور کے سرکل انسپکٹر نے شکایت وصول کرتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ اس معاملے کی مکمل ت...

اللہ تعالی کی قدرت اور انسان کی مجبوری و بےبسی۔۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔

Image
اللہ تعالی کی قدرت اور انسان کی مجبوری و بےبسی۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔    زمین و آسمانوں پر اللہ تعالی کی حکومت ہے یعنی ان پر اللہ تعالی کا ہی حکم چلتا ہے اور جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے وہ اللہ تعالی ہی کی ملکیت ہے اور کسی بھی مخلوق میں اتنی طاقت و قوت نہیں ھیکہ وہ اسکی حکومت اور ملکیت میں مداخلت کرسکے ساری مخلوقات اسکے سامنے مجبور و بےبس ہیں زمین و آسمانوں کے خزانوں کا وہ تنہا مالک ہے اور ہر چیز کے اسکے پاس خزانے ہیں جو نہ کبھی ختم ہونگے اور نہ ہی انمیں کبھی کمی واقع ہوگی لیکن اللہ تعالی اپنی حکمت بالغہ کے ذریعے ہر چیز کو ایک معین مقدار میں نازل فرماتے ہیں جیساکہ قرآن کریم میں اسکو واضح کیا گیا ہے  آسمان سے بارش کا نزول اللہ تعالی کی حکمت اور مشیت سے ہوتا ہے جسمیں انسان یا کسی اور چھوٹی بڑی مخلوق کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ بارش کب ہوگی کتنی ہوگی اور کہاں ہوگی ? اسکا بھی صحیح اور حقیقی علم سوائے اللہ تعالی کے اور کسی کو نہیں ہے انسان اپنے تجربے اور معلومات کی بنیاد پر قرآئن کی روشنی میں اندازہ تو لگا سکتا ہے لیکن حقیقی معلومات نہیں دے سکت...

حضرت سید شاہ احمد اللہ حسینی غالبِ کرامتؒ کا 569 واں سالانہ عرس مبارک ،شرکت کی اپیل.

Image
بیدر، 27 جون (نامہ نگار) حضرت سیدنا خواجہ ابوالفیضؒ، بیدر کے فرزندِ اکبر، حضرت سید شاہ احمد اللہ حسینی غالبِ کرامتؒ کے 569ویں سالانہ عرس مبارک کی روح پرور تقریب بروز اتوار، 28 جون 2026ء، مطابق 12 محرم الحرام نمازِ عصر کے بعد احاطہ درگاہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ بیدر میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوگی۔  حضرت سید شاہ اسد اللہ حسینی المعروف سید ثاقب حسینی، سجادہ نشین و متولی درگاہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ بیدر،صندل مالی کی جملہ خصوصی رسومات،علمائے مشائخین،سجادہ گان و متولیان عقیدت مندان حضرت ممدوح کی موجودگی میں انجام دینگے ۔ عرس شریف میں بیدر اور اطراف و اکناف سے، معتقدین، زائرین اور عوام الناس کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ منتظمین کی جانب سے عرس مبارک کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور زائرین کی سہولت کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ منتظمین نے تمام وابستگانِ سلسلہ، عقیدت مندوں اور عوام الناس سے عرس شریف میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔ واضح رہے کہ عرس شریف کی تقریبات کے اختتام پر نمازِ مغرب کے بعد تمام حاضرین کے لیے تبرک (طعام) کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔

درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف میں جلسہ ذکرِ امام حسینؓ و تعلیماتِ اہلِ بیتؓ،محمد ادریس احمد قادری کا خطاب۔

Image
بیدر، 27 جون (نامہ نگار): درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف میں ذکرِ امام حسینؓ و تعلیماتِ اہلِ بیتؓ پر خصوصی جلسہ اور ماہانہ حلقۂ درسِ تصوف منعقد ہوا۔ پیرِ طریقت حضرت شاہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمد ادریس احمد قادری بگدلی صاحب، سجادہ نشین درگاہ آستانہ قادریہ بگدل نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ حضرت امام حسینؓ کی قربانی دینِ اسلام کی بقا، حق کی سربلندی اور باطل کے خلاف استقامت کا لازوال پیغام ہے۔ اہلِ بیتِ اطہارؓ کی محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ مزید فرمایا کہ حضرت غوثِ اعظمؓ کو "محی الدین" اس لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کے ذریعے دین کی تجدید، احیائے سنت اور اصلاحِ امت کا عظیم کام لیا۔ بعد ازاں درسِ تصوف دیتے ہوئے قرآن و سنت، محبتِ اہلِ بیتؓ اور اولیائے کرامؒ کی تعلیمات پر عمل، باطنی اصلاح اور ذکرِ الٰہی کی تلقین فرمائی، پھر امتِ مسلمہ کے اتحاد، امن و سلامتی، ملک و ملت کی ترقی اور حاضرین کی فلاح کے لیے نہایت رقت آمیز دعا فرمائی۔ مولانا محمد ندیم قادری، مولانا محمد شاہد رضا۔سید صادق علی اساتذہ دارلعلوم قادریہ بگدل نے کہا کہ محرم الحرام حضرت امام حسینؓ اور شہدائے ...

وقت کی راہیں دراز۔۔ از قلم : محمود علی۔

Image
وقت کی راہیں دراز۔ از قلم : محمود علی۔ 8055402819 آج کل دنیا بھر میں "اپنا وقت آئے گا" کا نعرہ غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ جدھر نگاہ اٹھائیے یہی صدا سنائی دیتی ہے اور جس سمت دیکھیے یہی امید دلائی جاتی ہے۔ بعض لوگوں نے اچھے دن کا وعدہ کرکے اقتدار کی منزل تو حاصل کر لی مگر جن لوگوں نے ان پر اعتماد کیا وہ آج بھی ان بہتر دنوں کے منتظر ہیں۔ وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی حقیقت یہ ہے کہ اچھا وقت محض انتظار کرنے سے نہیں آتا بلکہ وہ مسلسل محنت تدبیر استقامت اور صبر کا ثمر ہوتا ہے۔ زندگی کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بسا اوقات وہ خوشگوار لمحے اس وقت آتے ہیں جب انسان ان کا شدت سے منتظر نہیں رہتا بلکہ حالات سے سمجھوتا کر چکا ہوتا ہے شاعر نے بھی اسی انسانی تجربے کو اپنے انداز میں بیان کیا ہے کہ اچھا وقت اکثر اس وقت نہیں آتا جب اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، بلکہ اس وقت دستک دیتا ہے جب انسان اس کی خواہش اور انتظار سے آگے نکل چکا ہوتا ہے۔ یہی وقت کی ستم ظریفی اور زندگی کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ نفسیات کے نقطۂ نظر سے وقت کا ادراک مدت ترتیب اور وقت کے گزرنے ...

دو مقدمے، دو معیار — قانون کی آنکھوں پر پٹی ہے یا پردہ؟تحریر: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور -

Image
دو مقدمے، دو معیار — قانون کی آنکھوں پر پٹی ہے یا پردہ؟ تحریر: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور -  9845498354  انصاف کی اصل آزمائش وہاں نہیں ہوتی جہاں قانون ہمارے پسندیدہ افراد پر نافذ ہو، بلکہ وہاں ہوتی ہے جہاں وہی قانون ان لوگوں پر بھی یکساں طور پر نافذ کیا جائے جن سے ہم اختلاف رکھتے ہوں۔ دستورِ ہند نہ ہندو انصاف کو جانتا ہے، نہ مسلم انصاف کو، نہ اکثریتی انصاف کو اور نہ اقلیتی انصاف کو۔ اس کی نگاہ میں صرف ایک ہی اصول ہے: قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ جب اسی اصول کے اطلاق میں شناخت، مذہب یا نام کی بنیاد پر فرق محسوس ہونے لگے تو سوال صرف کسی ایک مقدمے کا نہیں رہتا، بلکہ پورے نظامِ انصاف کی غیر جانب داری زیرِ بحث آجاتی ہے۔ حال ہی میں دریائے گنگا میں غیر سبزی غذا کے استعمال سے متعلق پیش آنے والے دو واقعات نے ایک بار پھر اسی بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے۔ دونوں واقعات میں گنگا کے تقدس اور اس سے وابستہ مذہبی جذبات کے مجروح ہونے کا دعویٰ سامنے آیا۔ دونوں نے عوامی ردِّعمل پیدا کیا۔ دونوں میں ہندوستانی شہری ملوث تھے۔ لیکن دونوں مقدمات کے قانونی سفر اور نتائج میں نمایاں فرق دکھ...

غزل - ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد۔

Image
 غزل -  ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد۔ کچھ تو بتاؤ اے مرے دلدار بیچ کر کیا زندہ رہ سکو گے یہ دستار بیچ کر عزت نصیب ہو نہ سکے گی تمام عمر دولت کما تو لو گے یہ کردار بیچ کر چلنے نہ دینگے دہر میں تیغ ستم کو اب ہم نے قلم خریدہ ہے تلوار بیچ کر بچوں کو راس آنے لگی شہر کی فضا  جانا پڑے گا گاؤں کا گھر بار بیچ کر چھٹی کے پیسے کاٹیے پر یہ تو دیکھیے  کتنا کما رہا ہوں میں اخبار بیچ کر لالچ میں سودا کر ہی دیا بے بقوف نے کشتی ڈبو ہی بیٹھا وہ پتوار بیچ کر فٹ پاتھ پر ملے گا کسی روز وہ فراز  خرچہ چلا رہا ہے جو گھربار بیچ کر

نشہ: سکون نہیں، تباہی کا راستہ - قرآن و حدیث کی روشنی میں۔ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔

Image
نشہ: سکون نہیں، تباہی کا راستہ - قرآن و حدیث کی روشنی میں۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔  M A M Ed  8904317986 اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن ان تمام نعمتوں میں صحت اور تندرستی ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس کی قدر انسان عموماً اس وقت کرتا ہے جب وہ اس سے محروم ہو جاتا ہے۔ صحت اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور اس کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ افسوس کہ آج کے دور میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مختلف قسم کے نشوں کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ کوئی شراب نوشی میں مبتلا ہے، کوئی گانجا اور منشیات استعمال کر رہا ہے، جبکہ تمباکو، سگریٹ، پان مسالہ اور گٹکا بھی صحت کو تباہ کرنے والے نشوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بعض نوجوان یہ کہتے ہیں کہ "نشہ کرنے سے سکون ملتا ہے" یا "پریشانیاں بھول جاتی ہیں"، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نشہ سکون نہیں دیتا بلکہ انسان کو وقتی غفلت میں مبتلا کر کے مستقل تباہی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ جو سکون اللہ تعالیٰ کی یاد، نماز، دعا اور تلاوتِ قرآن میں ہے، وہ دنیا کی کسی نشہ آور چیز میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿اَلَا بِذِكْرِ الل...

سعودی عرب - اقامہ اور لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں، 15 ہزار 288 غیر قانونی تارکین گرفتار۔

Image
 کے این واصف : سعودی عرب میں سخت سکیورٹی قوانین کے باوجود محکمہ جوازات کے حکام کی جانب سے غیر قانونی افراد کی گرفتاریوں کا عمل جاری رہتا ہے۔ تازہ اعلان کے مطابق سعودی حکام نے ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر سکیورٹی کی مزید 15 ہزار 288 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی ہیں جبکہ 11 ہزار297 غیر قانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔ سعودی خبر رساں ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق 18 سے 24 جون 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 7 ہزار 589 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار 199 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور ایک ہزار 763 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔ غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 668 افراد کو حراست میں لیا گیا، ان میں 55 فیصد ایتھوپین، 44 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

ویسٹرن ہاسپٹل میں عامر علی خاں کے ہاتھوں آئمہ و مؤذنین کو (اے۔کیو۔زیڈ۔اے) صحت کارڈز کی تقسیم۔ روزنامہ سیاست کے اشتراک سے ہاسپٹل کا سماجی خدمت کا اقدام -

Image
حیدرآباد - کے این واصف : ایمہُ ممبر و محراب کو اصلاحِ معاشرہ کے مرکز بنائیں۔ آج ہمارے نوجوان ڈرگس کی لعنت میں مبتلا ہورہے ہیں، ملت سود کے دلدل میں پھنس رہی ہے۔ قوم کی اکثریت فضول خرچی، وقت کی بربادی اور خرافات کے شکار ہورہے ہیں۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ مذہبی قائدین آگے آئین اور ان کی رہنمائی فرمائین۔ ان خیالات کا اظہار جناب عامر علی خان، نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کیا۔ وہ ویسٹرن ہاسپٹل لکڑی کا پل مین آئمہ اور مؤذنین میں AQZA ہیلت کارڈز کے تقسیم کی تقریب سے مخاطب تھے۔ انھون نے کہا کہ آئمہ و مؤذنین ایک اہم ترین ذمہ داری نبھانے کے باوجود معمولی مشاہرہ یا اعزازیہ پاتے ہیں۔ وہ ضرورت پڑنے پر آج کے مہنگے علاج کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ AQZA ہیلت کارڈ جو فری طبّی خدمات فراہم کرتا ہے ان کے لیے ایک بہت بڑی مالی مدد ہے۔ اس طرح ویسٹرن ہاسپٹل کے ڈاکٹرز اور انتظامیہ احسن طریقہ سے اپنے سماجی ذمہ داری پوری کررہے ہیں۔ عامر علی خان نے مزید کہا کہ AQZA ہیلت جیسی اسکیم کی تقلید کرتے ہوئے اسے دیگر ادارے ملکی سطح پر وسعت دین۔ انھون نے کہا کہ ملک میں مسلمان معاشی طور پر دیوار سے لگادئیے گئے ہیں۔ انھیں چا...

ریاست اور گم شدہ شہریت : شرف الدین سید۔

Image
ریاست اور گم شدہ شہریت : شرف الدین سید۔  9342522346 "کہتے ہیں، گم وہی چیز ہوتی ہے جو کبھی موجود رہی ہو۔ مگر بعض اوقات چیزیں گم نہیں ہوتیں، ان پر سے یقین گم ہو جاتا ہے۔ اور جب یقین گم ہو جائے تو صرف کاغذ بے معنی نہیں ہوتے، ریاست اور شہری کے درمیان قائم اعتماد بھی دھندلا جاتا ہے۔" ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنے شہری کو صرف شناخت دینا نہیں، بلکہ یہ یقین دلانا بھی ہے کہ وہ اس ملک کا معتبر اور مساوی شہری ہے۔ یہی یقین ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا وہ رشتہ قائم کرتا ہے جس پر جمہوریت کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن جب ایک دن خود ریاست کے اداروں سے یہ تاثر ابھرنے لگے کہ پاسپورٹ، ووٹر شناختی کارڈ یا آدھار جیسے سرکاری دستاویزات شہریت کا قطعی ثبوت نہیں، تو سوال صرف ایک قانونی تشریح کا نہیں رہتا۔ یہ ریاست کی اپنی سوچ، اس کے اداروں کی ساکھ اور شہری کے اعتماد کا سوال بن جاتا ہے۔ آخر ایک عام ہندوستانی اپنی شہریت ثابت کیسے کرے؟ اگر پاسپورٹ صرف سفر کی دستاویز ہے، ووٹر شناختی کارڈ صرف ووٹ ڈالنے کا ذریعہ ہے اور آدھار صرف شناختی نمبر، تو پھر وہ کون سا ثبوت ہے جو شہری اور ریاست...

کوہیر میونسپل حدود میں ایس آئی آر فارمس کی تقسیم کا عمل جاری۔

Image
کوہیردکن 27/ جون (نمائندہ) ضلع سنگاریڈی کے کوہیر میونسپل حدود میں گھر گھر ایس آئی آر فارمس کی تقسیم کا عمل بی ایل اوز کی جانب سے جاری ہے۔ واضح رہیکہ گھر گھر فارمس کی تقسیم کے موقع پر مقامی عوام کی سہولت و رہبری کے لئے بی ایل اوز کے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بوتھ لیول ایجنٹوں کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے، اسی کے پیش نظر پولنگ بوتھ نمبر 234 کانگریس پارٹی بوتھ ایجنٹ محمد ساجد علی نے بی ایل او کے ہمراہ فارمس رائے دہندوں میں تقسیم کئے۔۔۔۔

مومن ایک سادہ انسان ہوتا ہے - تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔

Image
مومن ایک سادہ انسان ہوتا ہے -   تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔  9881826729   مومن وہ انسان ہوتا ہے جس میں سادگی بردباری اور فراست پائ جاتی ہو، ظاہری اعتبار سے بھی وہ سیدھا سادہ اور ہر اعتبار سے سوجھ بوجھ اور فراست کا مالک ہو. اور اپنے دوسرے مومن بھائ کا آئینہ دار ہو۔ ( Externally he hshould be bound by dealing both riligiously and worldly) اور اندرونی اعتبار سے وہ معاملات کا پاپند ہو، چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی، خشیت الہی اور خدا کا ڈر، ہو ۔ چاہے خلوت میں ہو چاہے لوگوں میں ہو، تواضع عاجزی انکساری سے پیش آتا ہو عجز مومن کی علامت ہے کہ وہ ہر ایک سے مودت ،محبت عاجزی انکساری سے پیش آتا ہے۔ حدیث میں ہے ،من عاجز للہ رفعہ اللہ۔ جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے۔ لوگوں سے انکساری سے ملتا ہے، اللہ اس کو دنیا اور آخرت میں بلند کرتے ہیں۔ پھل دار درخت ہمیشہ جھکا ہوا رہتا ہے۔ کیونکہ اس میں کچھ نفع رسانی کی چیز موجود ہے۔ اس لیے جھکا رہنا اس کی اعلی صفت ہے۔ اور جو درخت پھلدار نہ ہو اور سوکھا ہوا ہو وہ یمیشہ (Tight) اور خار دار ہوتا ہے۔ مومن کی مثال پھل ...

اعلیٰ پولس آفیسر کا سنگھ پریم اور کانگریس کے دستوری سوال۔محمد مسلم کبیر، لاتور۔

Image
اعلیٰ پولس آفیسر کا سنگھ پریم اور کانگریس کے دستوری سوال۔ محمد مسلم کبیر، لاتور۔ 8208435414 ایک جمہوری اور آئینی نظام میں پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ کی غیر جانب داری ریاست کی بنیادی طاقت سمجھی جاتی ہے۔ ہندوستانی آئین کے تحت ہر آئی پی ایس افسر اپنے عہدے کا حلف لیتے وقت اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کرے گا، تمام شہریوں کے ساتھ مذہب، ذات، زبان یا سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر مساوی سلوک کرے گا اور اپنی ذمہ داریاں مکمل غیر جانب داری سے ادا کرے گا۔ اسی لیے کسی بھی اعلیٰ پولیس افسر کے طرزِ عمل پر عوام کی نظر رہتی ہے۔ حال ہی میں مہاراشٹر کے سینئر آئی پی ایس افسر وشواس نانگرے پاٹل کی جانب سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ایک پروگرام میں شرکت اور وہاں سنگھ، ہندوتوا اور ڈاکٹر ہیڈگیوار کی تعریف پر مبنی خطاب کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ اس معاملے پر کانگریس نے ریاستی حکومت سے کئی آئینی اور قانونی سوالات اٹھائے ہیں۔ بحث کا اصل محور کسی فرد کی شخصیت نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا ایک حاضر سروس آئی پی ایس افسر کسی مخصوص نظریاتی تنظیم کے پلیٹ فارم سے اس کی کھلے عام ستائش...

سی جی ایس ٹی کمشنریٹ بھیونڈی کی جانب سے رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج میں مضمون نویسی اور ڈرائنگ مقابلے کا انعقاد۔

Image
بھیونڈی: (عبدالعزیز انصاری) مرکزی اشیاء و خدمات ٹیکس (سی جی ایس ٹی) کمشنریٹ، بھیونڈی کے زیر اہتمام جمعرات 25 جون 2026 کو رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بھیونڈی میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے مقصد سے مضمون نویسی اور ڈرائنگ کے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔ اس مقابلے میں اسکول کے کل 80 طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ پروگرام کے تحت بارہویں جماعت کے 40 طلبہ کے درمیان "My Dream India میرے خوابوں کا بھارت" کے موضوع پر انگریزی زبان میں مضمون نویسی کا مقابلہ منعقد کیا گیا، جس کی رہنمائی روہین کُواری میڈم نے کی۔ طلبہ نے اپنے خیالات کو مؤثر انداز میں پیش کرتے ہوئے ترقی یافتہ، صاف ستھرا، خوشحال، تعلیم یافتہ اور خود کفیل بھارت کے تصور کو اپنے مضامین میں خوبصورتی سے بیان کیا۔ اسی طرح شاکر شیخ اور عمران شیخ سر کی رہنمائی میں آٹھویں سے دسویں جماعت کے 40 طلبہ کے درمیان "میرے خوابوں کا بھارت" کے موضوع پر ڈرائنگ کا مقابلہ منعقد کیا گیا۔ طلبہ نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور فنکارانہ قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رنگوں کے ذریعے حب الوطنی، ماحولیاتی تحفظ، صفائی، س...

ادبی فورم ریاض کے زیرِ اہتمام شاندار محفلِ مشاعرہ کا انعقاد۔

Image
ریاض (سعودی عرب): ادبی ذوق و شوق کے فروغ کے لیے سرگرم معروف ادبی تنظیم ادبی فورم ریاض کے زیرِ اہتمام 26 جون 2026ء بروز جمعہ حارہ کے چٹخارے ریسٹورنٹ میں ایک نہایت شاندار اور یادگار محفلِ مشاعرہ منعقد ہوئی۔ یہ ادبی نشست شام 7:15 بجے شروع ہوئی اور رات 11:30 بجے تک پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہی۔ محفل کی صدارت معروف ادب نواز ڈاکٹر شوکت پرویز نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض ممتاز شاعر حسان عارفی نے انجام دیے۔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر انور خورشید شریک ہوئے، جبکہ وسیم قریشی اور محمد سیف الدین مہمانانِ اعزازی رہے۔ اسٹیج پر سرپرستِ ادبی فورم مشتاق شیخ اور صدرِ ادبی فورم طاہر بلال بھی رونق افروز تھے۔ محفل کا آغاز ادبی فورم کی روایت کے مطابق تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت شیخ عمران نے اپنی پرسوز اور دلنشیں آواز میں حاصل کی۔ ادبی فورم کی دیرینہ روایت کے مطابق ابتدا میں نثری نشست منعقد ہوئی، جس میں منیر الدین، سراج اکرم اور وسیم قریشی نے بالترتیب اپنی تخلیقات پیش کیں۔ سامعین نے ان کی نثری کاوشوں کو بھرپور توجہ سے سنا اور خوب داد و تحسین سے نوازا۔ نثری نشست کے اختتام پر ناظمِ...

اساتذہ کی اہلیت کے امتحان (ٹی ای ٹی) کی بار بار منسوخی، آخر کیوں؟ - سید فاروق احمد قادری۔

Image
اساتذہ کی اہلیت کے امتحان (ٹی ای ٹی) کی بار بار منسوخی، آخر کیوں؟ -  سید فاروق احمد قادری۔ 28 جون کو منعقد ہونے والا اساتذہ کی اہلیت کا امتحان (ٹی ای ٹی) ایک مرتبہ پھر منسوخ کر دیا گیا۔ محکمۂ تعلیم کے مطابق ممبئی کے بھیونڈی علاقے میں پولیس کو کچھ امیدواروں کے پاس ایسے سوالات ملے جو 28 جون کے امتحان کے سوالات سے ملتے جلتے تھے۔ اسی بنیاد پر امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اگر واقعی بھیونڈی میں کسی منظم گروہ نے امتحانی پرچہ لیک کیا ہے تو اس کی مکمل، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور اصل قصورواروں کو قانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اگر معاملہ صرف سوالات کی مماثلت کا ہے تو اس کی بھی گہرائی سے جانچ ضروری ہے۔ ہمارے امتحانی نظام میں طلبہ گزشتہ چار پانچ برسوں کے سوالیہ پرچوں کا بار بار مطالعہ کرتے ہیں، اہم سوالات کی تیاری کرتے ہیں اور انہی میں سے متعدد سوالات دوبارہ امتحان میں آ جاتے ہیں۔ دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات میں بھی اس نوعیت کی مماثلت کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ اس لیے صرف سوالات کے مشابہ ہونے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ پورا پرچہ...

غریب آخر کہاں جائے؟"غریب کی روزی چھیننا، اس کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے برابر ہے۔ "۔ - سید فاروق احمد قادری۔

Image
غریب آخر کہاں جائے؟ "غریب کی روزی چھیننا، اس کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے برابر ہے۔ "۔ -  سید فاروق احمد قادری۔ دنیا میں سب سے زیادہ بے بس وہ شخص ہوتا ہے جس کی محنت ہی اس کی واحد پونجی ہو۔ ایک مزدور، ریڑھی یا ٹپری لگانے والا صبح سے شام تک اس امید کے ساتھ محنت کرتا ہے کہ شام کو اس کے بچوں کے چولہے میں آگ جل سکے گی۔ بیڑ ضلع کے نگر روڈ پر ٹپری لگانے والے غریب لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ کسی کے پھل سڑک پر بکھر گئے، کسی کی برسوں کی محنت لمحوں میں مٹی میں مل گئی۔ شاید یہ سب صرف چند لمحوں کا منظر تھا، مگر اس غریب کے لیے یہ اس کی پوری زندگی کی کمائی تھی۔ یہ سوال ہر انصاف پسند انسان کے دل میں اٹھتا ہے کہ جب کسی غریب کی روزی چھین لی جاتی ہے تو اس کے معصوم بچوں کے بارے میں کون سوچتا ہے؟ ان کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟ ان کی بھوک کا جواب کون دے گا؟ ترقی اور قانون اپنی جگہ اہم ہیں، مگر انسانیت، رحم اور انصاف بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر طاقتور کے لیے الگ پیمانہ اور غریب کے لیے الگ معیار نظر آتا ہے۔ ...

سوالوں کے سائے۔ از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔

Image
سوالوں کے سائے۔  از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔ شہر کی فضا میں امتحانات کی آمد کا شور تھا۔ گلیوں، کوچوں اور گھروں میں کتابوں کے ورق پلٹے جا رہے تھے۔ انہی دنوں احمد بھی اپنی زندگی کے اہم ترین امتحان کی تیاری میں مصروف تھا۔ اس نے کئی ماہ تک اپنی خواہشات، تفریح اور آرام کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔ راتوں کی نیند قربان کرکے، صبح کی ٹھنڈی ہوا میں آنکھیں ملتے ہوئے، وہ مستقبل کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ اس کی میز پر کتابوں کے انبار تھے، دیوار پر نصب کیلنڈر پر امتحان کی تاریخ سرخ دائرے میں نمایاں تھی، اور اس کی آنکھوں میں کامیابی کی چمک تھی۔ والدین کی امیدیں اور اساتذہ کی دعائیں اس کے حوصلے کو بڑھا رہی تھیں۔ امتحان شروع ہونے میں صرف چند دن باقی تھے کہ اچانک خبر پھیل گئی کہ سوالیہ پرچہ لیک ہو گیا ہے۔ ابتدا میں لوگوں نے اسے افواہ سمجھا، مگر جلد ہی اس کی تصدیق ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر سوالات گردش کرنے لگے، کوچنگ مراکز اور طلبہ کے گروہوں میں ہلچل مچ گئی۔ احمد کے لیے یہ خبر بجلی بن کر گری۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کی مہینوں کی محنت، جاگتی راتیں اور قربانیاں یک لخت بے ...

کربلا کا پیغام - از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔ )

Image
کربلا کا پیغام -  از قلم :  نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔ ) تا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمیں ظلمتوں کی شام میں اک روشنی ہے کربلا دنیا کی تاریخ میں بہت سی درسگاہیں علم، فلسفے اور تہذیب کی امین رہی ہیں، مگر کربلا کی درسگاہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد اور بے مثال ہے، یہ وہ درسگاہ ہے جس کی بنیاد کسی عالی شان عمارت میں نہیں بلکہ تپتے ہوئے صحرا میں رکھی گئی۔ یہاں نہ ظاہری وسائل تھے، نہ آرام و آسائش کے سامان مگر اس کے باوجود یہاں ایسا عظیم نصاب مرتب ہوا جس نے رہتی دنیا تک انسانیت کی فکری، اخلاقی اور روحانی رہنمائی کا سامان فراہم کر دیا۔ کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ عشق، وفا، صبر، رضا، استقامت اور قربانی کی عملی تفسیر ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن پر تصوف کی پوری عمارت قائم ہے۔ اہلِ تصوف کے نزدیک انسان کی معراج اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دینا ہے، اور کربلا اسی حقیقت کا سب سے روشن مظہر ہے۔  حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی سیرت اور قربانی کے ذریعے یہ ثابت فرمایا کہ جب حق اور باطل کا معرکہ...

غلام یزدانی حفظ القرآن اکیڈمی حیدرآباد ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کا دینی تعلیمی ترقی کی جانب ایک اہم قدم۔

Image
حیدرآباد۔27/جون (راست)غلام یزدانی صاحب مرحوم جو حیدرآباد ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے قیام سے تا حیات چیرمین تھے اُن کی غیرمعمولی دلچسپی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور مرحوم کے لئے ثوابِ جاریہ کے طور پر فاؤنڈیشن کے ذمہ داران نے غلام یزدانی حفظ اکیڈمی کا قیام عمل میں لاکر آئندہ تین سالوں میں 25 طلباء کو قرآن حفظ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس ضمن میں اُن کے محبین، آل اولاد،دوست احباب، رشتہ دار،اور اعزا واقرباء سے حیدرآباد ایجوکیشنل فاؤنڈیشن معروضہ پیش کرتا ہے کہ اپنی جانب سے طلباء کے تعلیمی اخراجات برداشت کرکے اِس دینی ثوابِ جاریہ کے کام میں حصہ لیں اور دامے، درمے، سخنے ہماری مدد فرمائیں۔اس کام کی تفصیل کے لئے آپ اپنی سہولت کے مطابق حصہ لینے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں فاؤنڈیشن کے نمبر 9000515854پر استفسار کیا جاسکتا ہے۔یہ عمل خیر حقیقی معنی میں موصوف کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اس نیک کام کا حصہ بنائے گا۔ہم مرحوم کے لئے اور آپ کے تعاون کے طلب گار ہیں۔ایسے طلبہ جو اولڈ سٹی حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں اور بغیر ہدیہ یا فیس کے قرآن حفظ کرنے میں دلچ...

گوتم اڈانی کیس اور امریکی عدالت کا تاریخی حکم نامہ -(کارپوریٹ سرکشی اور عدالتی خود مختاری کا عالمی معرکہ) - ازقلم: اسماء جبین فلک۔

Image
گوتم اڈانی کیس اور امریکی عدالت کا تاریخی حکم نامہ - (کارپوریٹ سرکشی اور عدالتی خود مختاری کا عالمی معرکہ) -  ازقلم: اسماء جبین فلک۔  عالمی عدالتی تاریخ میں شاذ و نادر ہی کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے جہاں محض چند سطروں پر مشتمل ایک عدالتی حکم نامہ عالمی سرمایہ داری کی جڑیں ہلا کر رکھ دے، اور طاقت کے ان ایوانوں کو بے نقاب کر دے جہاں عام طور پر سیاست اور دولت اپنا جادو جگاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بروکلین کی ایک وفاقی عدالت نے بالکل ایسا ہی کیا ہے؛ اس عدالتی کارروائی کا مرکز بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کا وہ مقدمہ ہے جس نے نہ صرف امریکی محکمۂ انصاف بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ یہ کہانی محض ایک قانونی چارہ جوئی نہیں، بلکہ عدالتی خود مختاری، سیاسی دباؤ اور مالی اثر و رسوخ کے مابین ایک ایسا تاریخی معرکہ ہے جس کے نتائج آنے والی دہائیوں تک امریکی عدالتی فلسفے کا تعین کریں گے۔ اس تمام معاملے کا آغاز نومبر 2024 میں ہوا، جب امریکہ کے اس وقت کے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے آخری ایام میں، بھارتی صنعتی گھرانے ’اڈانی گروپ‘ کے بانی اور چیئرمین گوتم اڈانی، ان کے ...

واٹس ایپ اسٹیٹس : صرف مشغلہ نہیں، انسانی نفسیات کا گہرا تعلق۔(ڈیجیٹل سماج میں قبولیت اور توجہ کی نفسیاتی تلاش)۔ ازقلم: اسماء جبین فلک۔

Image
واٹس ایپ اسٹیٹس : صرف مشغلہ نہیں، انسانی نفسیات کا گہرا تعلق۔ (ڈیجیٹل سماج میں قبولیت اور توجہ کی نفسیاتی تلاش) ازقلم: اسماء جبین فلک۔ تصور کیجیے، ایک ایسی کھڑکی جو چوبیس گھنٹے کے لیے کھلتی ہے، مگر جس سے ہر روز ڈیڑھ ارب سے زیادہ لوگ جھانکتے ہیں۔ میٹا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، واٹس ایپ کے تین ارب سے زائد ماہانہ سرگرم صارفین میں سے ہر شخص اوسطاً کم از کم چھ اسٹیٹس دیکھتا ہے، اور روزانہ دسیوں ارب ویوز ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ بھارت، جو اس ایپ کی سب سے بڑی منڈی ہے، پچاس کروڑ سے زیادہ صارفین رکھتا ہے اور ان میں سے ستر فیصد روزانہ اسٹیٹس چیک کرتے ہیں۔ یہ اب کوئی معمولی فیچر نہیں رہا، بلکہ ایک سماجی اور نفسیاتی مظہر بن چکا ہے، جہاں کوئی اپنی خوشیاں سجاتا ہے، کوئی اپنے زخم چھپاتا ہے، کوئی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے تو کوئی خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ مگر کیا یہ چند سیکنڈ کی جھلک کسی انسان کی پوری داستان بیان کر سکتی ہے؟ اور اس کھڑکی کے پیچھے چھپی نفسیات کیا ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ارونگ گوفمین کا ڈرامائی نظریہ راہ دکھاتا ہے، جو انسانی زندگی کو ایک اسٹیج سے تشبیہ دیتا ہ...