Posts

مارچ 29 — بیڈ میں ووٹر میچنگ کیمپ (ضلع بھر میں آج بھی جاری)

Image
بیڈ (سید فاروق احمد قادری) آج ضلع بھر میں میچنگ کیمپ مختلف بوتھس پر منعقد کیے گئے ہیں۔ یہ کیمپ صبح سے شام تک جاری رہیں گے۔ تمام ووٹرز سے اپیل ہے کہ جہاں انہوں نے ووٹ رجسٹر کیا ہے، وہیں جا کر اپنے BLO سے رابطہ کریں اور اپنی تفصیلات کی میچنگ و تصدیق ضرور کریں۔  اہم ہدایت: لاپرواہی کی صورت میں آپ کا نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو سکتا ہے یا ووٹ ڈالنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔  آج ہی اپنے قریبی بوتھ پر جائیں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ درست ووٹر لسٹ — مضبوط جمہوریت کی بنیاد  سید فاروق احمد قادری

سولاپور میں چھترپتی شیواجی مسلم بریگیڈ کا عید ملن پروگرام کاانعقاد۔

Image
سولاپور(اِقبال باغبان) : مراٹھا سیوا سنگھ کے زیراہتمام – چھترپتی شیواجی مسلم بریگیڈ، سولاپور کی طرف سے 'عید ملن اورترقی پسند کسانوں کی مبارکباد دینے کاپروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس تقریب کی صدارت سولاپور کے پولس کمشنر ایم ۔راج کمار نے کی۔ معزز مذہبی رہنماؤں نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جن میں شہر قاضی سید امجدعلی قاضی، شیو دھرم کےکوآرڈینیٹر نیتا جی گورے، گرودوارہ کے چیف رمیش سنگھ وتوانی، سدھیشور مندر کے چیف پجاری راج شیکھر ہیرے ہبّو، فرسٹ چرچ کے فادر ر سپرن کمار گھاٹ اور بھارتیہ بودّھ مہا سبھا کے انّا صاحب واگمارے موجود تھے۔ اس پروگرام میں ترقی پسند کسان بھگوت واگھ (تربوز)، ویبھو مورے (انار)، پرشانت مہانے (انگور)، بالاجی گائیکواڑ (کلنگڈ)، بالاجی کوکاٹے (امرود)، سدھاکر گراڈ (ڈریگن فروٹ)، سچن لاوندے (انجیر) اور گینیشور ساونت (انجیر)ان تمام کسانوں کو مراٹھا سیوا سنگھ کے ریاستی جنرل سکریٹری انجینئر چندر شیکھر شیکھرےاور معزز مہمانوں کے دستِ مبارک سے شال، پھولوں کا گلدستہ اور مومنٹو دیے کرگُلپوشی کی گئی۔ پولیس کمشنر ایم راج کمار نے اپنی تقریب میں کہا کہ تمام مذہبی ع...

اقتدار، ریاکاری اور فحاشی کا 'مہا' گٹھ جوڑ۔ازقلم : وسیم رضا خان۔

Image
اقتدار، ریاکاری اور فحاشی کا 'مہا' گٹھ جوڑ۔ ازقلم : وسیم رضا خان۔  مہاراشٹر کی سیاست اور سماجی ماحول میں پچھلے کچھ دنوں سے جو کچھ بھی رونما ہو رہا ہے، اس نے 'سنسکار' (تہذیب) اور 'ترقی' کے نعروں کو کھوکھلا ثابت کر دیا ہے۔ جب رکشک ہی بھکشک بن جائیں اور روحانی باباؤں کے لبادے میں چھپے درندے معصوموں کا استحصال کریں، تو معاشرے کے زوال کی رفتار کو بھانپنا مشکل نہیں رہ جاتا۔ ڈھونگی بابا اشوک کھرات کا معاملہ صرف ایک مجرمانہ واقعہ نہیں، بلکہ توہم پرستی اور استحصال کی انتہا ہے۔ 'اگھوری ودیا' اور کالے جادو کے نام پر خواتین کو ڈرانا، انہیں 'شراپ' (بددعا) کا خوف دکھا کر ان کے ساتھ جسمانی تعلقات استوار کرنا اور ان کرتوتوں کی فلم بندی کرنا یہ ایک سنگین جرم ہے۔ خبروں کے مطابق، سینکڑوں خواتین کی ویڈیوز کا سامنے آنا یہ بتاتا ہے کہ یہ کھیل برسوں سے اقتدار اور اثر و رسوخ کی سرپرستی میں چل رہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ایسے ریاکاروں کے دربار میں بڑے بڑے سیاست دانوں کی حاضری کیوں لگتی ہے؟ جب لیڈر ایسے 'باباؤں' کے قدموں میں گرتے ہیں، تو وہ انجانے میں ہی مع...

غیرتِ ایمانی کی پامالی اور عرب قیادت کا المیہ۔غلامی کی زنجیریں اور تیل کی دولت کا زوال۔۔ بقلم : اسماء جبین فلک۔

Image
غیرتِ ایمانی کی پامالی اور عرب قیادت کا المیہ۔ غلامی کی زنجیریں اور تیل کی دولت کا زوال۔ بقلم : اسماء جبین فلک۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو پوری آب و تاب کے ساتھ عیاں کرتا ہے کہ جب قومیں اپنی بنیادوں اور غیرتِ ایمانی سے دستبردار ہو جاتی ہیں تو ان کا مقدر صرف ذلت اور رسوائی ہی رہ جاتا ہے۔ حال ہی میں امریکی ریاست فلوریڈا میں منعقدہ "مستقبل کی سرمایہ کاری کا اقدام" کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ہتک آمیز، ذلیل، اور نہایت گھٹیا قسم کےالفاظ محمد بن سلمان کے لئے استعمال کیے، وہ موجودہ عرب قیادت کے لیے محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک عبرت ناک تازیانہ ہیں۔ ایران کے خلاف جاری حالیہ تنازعے کے پس منظر میں ٹرمپ نے نہایت متکبرانہ انداز میں یہ دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کے ساتھ مل کر کام کرنے والے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان عملی طور پر ان کی خوشامد (یہاں گھٹیا الفاظ کو ہٹا دیا گیا ہے) کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ الفاظ اس تلخ سچائی کی غمازی کرتے ہیں کہ آج کے عرب ممالک اپنی معاشی خوشحالی کے باوجود عالمی طاقتوں کے سامنے کس حد تک بے بس اور محتاج ہو چکے ہیں...

تعارف و تبصرہ ۔ سلسلہ (64)نامِ کتاب: مجروح سلطانپوری ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں۔مصنف: ڈاکٹر نذیر فتح پوری۔تبصرہ نگار: مجیب الرحمٰن ہنر، جھارکھنڈ۔

Image
تعارف و تبصرہ ۔ سلسلہ (64) نامِ کتاب: مجروح سلطانپوری ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں۔ مصنف: ڈاکٹر نذیر فتح پوری۔ تبصرہ نگار: مجیب الرحمٰن ہنر، جھارکھنڈ۔ ڈاکٹر نذیر فتح پوری صاحب کی ارسال کردہ کتابوں میں سے یہ دوسری کتاب ہے، جس کا تعارف و تبصرہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ اس کتاب میں ڈاکٹر نذیر فتح پوری صاحب اور مجروح سلطانپوری کے مابین تعلقات کا تذکرہ ہے، نیز متعدد ادباء و شعراء کے مضامین بھی شامل ہیں جو مجروح سلطانپوری کی شخصیت پر قلم بند کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب دو حصوں میں منقسم ہے۔ حصۂ اول میں ڈاکٹر نذیر فتح پوری کے بارہ مقالات شامل ہیں، جن میں مجروح سلطانپوری کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جبکہ دوسرے حصے میں بڑے بڑے ادباء و شعراء کے مقالات شامل ہیں، جن میں ہارون بی۔اے، مجنوں گورکھپوری، پروفیسر نظیر صدیقی، ندا فاضلی، میر ہاشم، ملک زادہ منظور، ڈاکٹر سلیم خان، ڈاکٹر میمونہ علی چوگلے، ندیم رضا اور اشہر ندیمی قابلِ ذکر ہیں۔ ڈاکٹر نذیر فتح پوری صاحب کا قلم نہایت رواں اور متحرک ہے، یہی وجہ ہے کہ زیرِ تبصرہ کتاب ان کی 103 ویں تصنیف ہے۔ حقیقتاً اردو ادب کے لیے نذیر فتح پ...

ہمارے قوم کی یہ بے حسی کیوں ؟۔ تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی۔

Image
ہمارے قوم کی یہ بے حسی کیوں ؟  تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی۔  9881836729  اللہ رب العزت کا پوری انسانیت اور مومنوں کے لیے ہے۔ یہ فرمان کہ اللہ اور رسول کے احکام کی پاسداری کیجے اور اللہ کا مطیع بن کر رہیں۔ اور اللہ نے خصوصا امت محمدیہ کو اس بات سے آگاہ کیا کہ آپس میں جھگڑا فساد اور ایک دوسرے سے بغض و عناد سے پرہیز کریں۔ اگر ہم اس کے منا فی کرتے ہیں۔ تو یقین جانیے آپ خود بخود کمزور اور یہاں تک کہ آپ کے صبر آزمودہ پلاننگ اور منصوبوں پر پانی پھر جائیگا۔ اور آپ کی ہوا اکھڑ جائیگی۔ پھر آپ پر وہ قوم مسلط ہوگی جو آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہ آیت اطیعواللہ و اطیعوالرسول الی آخر۔ ماضی کے جنگ اور دیگر امور پر نازل ہوئ ہے۔ لیکن یہ آیت دور جدید اور ہم پر صادق آتی ہے۔ ہماری مثال اس خرگوش جیسی ہے ، جو کمزور کچھوے کی شرط میں اس گھمنڈ اور غرور میں کچھوے کو کمزور سمجھ کر سوگیا۔ لیکن وہی کمزور کچھوا اپنی منزل مقصود تک پہونچ کر برق رفتار خرگوش کو شکست فاش دی۔ اور ہم حکمت عملی اور مصلحت (pragmatism ) کی تھیوری کو لیکر بیٹھے ہیں۔ کامیابی تومومن کےلیے ہے۔ لیکن ہم نے اپنا فرض منص...

نثری نظم "خاموش گلیاں"۔ از قلم : رہبر تماپوری۔

Image
نثری نظم " خاموش گلیاں " از قلم : رہبر تماپوری۔ شام کی نرم روشنی میں، آسمان پر چمکتے ستارے ایک خاموش شخص کو بچپن کی گلیوں میں لے جاتے ہیں۔ وہ پگڈنڈی پر چلتا ہے، انہی راستوں پر جہاں ہنسی کی بازگشت تھی۔ وہ سوچتا ہے کہ یہ خاموش گلیاں کیسے شور کے شہر میں چھپ گئیں۔ گھر کیا ہوتا ہے؟ میری ماں کہتی تھیں کہ گھر بس چار دیواروں پر ایک چھت ہوتا ہے۔ انسان کو اس شور میں سکون کی ضرورت ہے، اور وہ سکون انہی خاموش گلیوں میں ملتا ہے۔ آج بھی میرا دل انہی یادوں کو ڈھونڈتا ہے، کیونکہ یہ گلیاں ہی اصل سکون کا گھر ہیں۔

حیدرآباد میں سہ روزہ ورلڈ بدھسٹ پیس کانفرنس 2026 کا کامیاب انعقاد - امن کے حصول پرہماراسفر ختم ہوگا : اروند کمار ارلی۔

Image
 بیدر۔ 28/مارچ (محمدیوسف رحیم بیدری) سابق ایم ایل سی بیدر جناب اروندکمارارلی نے ورلڈ بدھسٹ پیس کانفرنس 2026بتاریخ 27تا29/مارچ منعقد ہ پلازا ہوٹل، بیگم پیٹ حیدرآباد میں خصوصی طورپر مدعو کئے گئے تھے، انھوں نے اس امن کانفرنس میں کل 27/مارچ کوشرکت کی۔اور پہلے سیشن میں مختلف مہمانان کو مومنٹو اور توصیفی سند پیش کی۔بتایاگیاکہ یہ کانفرنس دراصل ایک اعلیٰ سطحی عالمی فکری و اخلاقی فورم کے طور پر ترتیب دی گئی ہے، جس کا مقصد بدھ مت کی تعلیمات خصوصاً عدم تشدد، ہمدردی اور انسانی دکھوں کے ازالے کے ذریعے امن، مفاہمت اور اخلاقی قیادت کو فروغ دینا ہے۔یہ کانفرنس بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں امن کی روحانی و اخلاقی بنیادوں کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کرے گی۔اس بین الاقوامی کانفرنس میں درج ذیل موضوعات پر خصوصی توجہ دی جائے گی(1)امن سازی کے آغاز کے طور پر انسانی دکھ کو سمجھنا(2) تنازعات کے حل میں بدھ مت کے اصول سامنے رکھے جائیں (3)معافی، انصاف اور اجتماعی شفا کے ذریعے مفاہمت(4)باطنی سکون سے سماجی امن تک: ذہنی یکسوئی کا کردار۔ کانفرنس کا ایک روحانی تقریبِ امن پر ہوگا، جو اس اجتماع کے روحانی پہ...

پروفیسر مسعود احمد کی دسویں کتاب کی 5 اپریل کو رسم اجرا شعری مجموعہ"لمعا ت مسعود" کا جرمن زبان میں ترجمہ- مشاورتی اجلاس- ڈاکٹر فاروق شکیل کا خطاب۔

Image
حیدرآباد 28 مارچ (پریس نوٹ) ایوان احمد ملک پیٹ حیدراباد میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت بین الاقوامی شہرت یافتہ ممتاز و معروف شاعرڈاکٹر فاروق شکیل مخدوم ایوارڈ یافتہ نے کی ڈاکٹر فاروق شکیل نے اس مشاورتی اجلاس کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ پروفیسر محمد مسعود احمد جو رینوا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ حیدراباد کےچیف آپریٹنگ افیسر اور نامور مصنف اور شاعر ہیں اور جو موضوعاتی شاعری میں سارے ہندوستان اور بیرونی ممالک میں جانے جاتے ہیں ان کی دسویں کتاب جو شعری مجموعے کی شکل میں ہے جس کا نام لمعات مسعود ہے اس کتاب کو اردو زبان کے ساتھ جرمن رسم الخط میں شائع کیا گیا ہے یہ کتاب اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے جس کے مصنف پروفیسر محمد مسعود احمد ممتاز شاعر و ادیب ہیں اور اس کتاب کا جرمن زبان میں ڈاکٹر ارشاد بلخی ہیمبرگ جرمنی نے جرمن زبان میں ترجمہ کیا ہے ڈاکٹر ارشاد بلخی ہیمبرگ میں مقیم ہیں اور انہیں اردو زبان و ادب سے گہری دلچسپی ہے ڈاکٹر فاروق شکیل نے مزید بتایا کہ لمعات مسعود جس کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے اس کتاب کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کتاب میں اہل جرمن ...

فتنہ ارتداد اور مسلمان۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔

Image
فتنہ ارتداد اور مسلمان۔۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔      آج مسلمان نئی نسل اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا رہی ہے ؟ حالانکہ اسکی پیدائش کسی مسلمان گھرانے میں ہوتی ہے اور شروع میں اسنے کچھ نہ کچھ اسلامی تعلیمات سے واقفیت حاصل کی ہی ہوگی پھر بھی اتنا بڑا قدم ؟ یعنی اپنے دین و ایمان کو چھوڑ کر کفر و ارتداد کو اختیار کرے ؟ اسکے کیا اسباب و وجوہات ہیں ہمیں اسکو جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہے    حدیث شریف میں ھیکہ      ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اسکے والدین اسکو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں     یعنی بچوں کے اوپر اسکے والدین اور اسکے گھر کے ماحول کا بہت زیادہ اثر پڑتا ہے اور پھر جسطرح گھر کا ماحول اور والدین کی زندگی ہوگی تو یقینی طورپر بچہ بھی اسی اثر کو قبول کریگا اور اپنائیگا     اسلئے اولاد کے اندر دینداری پیدا ہونے اور اسکے ایمان و یقین میں پختگی کے لئے گھر کے ماحول کا دینی و اسلامی ہونا اور والدین کا دین و شریعت کا پابند ہونا بہت ضروری ہے      اسطرح کفر و ارتداد کا ...

لیبر ضوابط کی خلاف ورزی، سعودی شہریوں اور غیر ملکیوں کے خلاف 15 ہزار کیسز۔

Image
ریاض ۔ کے این واصف : سعودی عرب میں اقامہ اور لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والون کے خلاف کاروائی ایک مسلسل کاروائی ہے۔ ہر رمضان میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والون میں اضافہ ہوجاتاہے۔   سعودی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ (جوازات) نے انتظامی کمیٹیوں کے ذریعے ایک ماہ کے دوران (رمضان 1447) اقامہ، لیبر اور بارڈر سکیورٹی ضوابط کی خلاف ورزی پر 15 ہزار 200 فیصلے جاری کیے ہیں۔ سعودی خبر رساں ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق ’سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کے خلاف مقررہ کارروائی کی گئی۔ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ نے بیان میں کہا کہ خلاف ورزیوں پر قید، جرمانے اور بے دخلی کی سزائیں شامل ہیں۔ بیان میں مقامی شہریوں اورمقیم غیر ملکیوں پر زور دیا گیا کہ وہ اقامہ، ملازمت اور سرحدی امن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کو ٹرانسپورٹ، روزگار، رہائش، پناہ، کسی بھی تعاون یا پردہ پوشی سے گریز کریں۔ امیگریشن قوانین کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کےلیے لازمی ہے کہ وہ اپنے اسپانسر (کفیل) کے علاوہ کسی اور جگہ ملازمت نہیں کرسکتے۔

عبدالمجید سالار اقراء اُردو ہائی اسکول بورنار میں عید ملن پروگرام کا شاندار انعقاد۔

Image
بورنار (نامہ نگار): اقراء ایجوکیشن سوسائٹی جلگاؤں کے زیرِ اہتمام چلنے والے ادارے عبدالمجید سالار اقراء اردو ہائی اسکول بورنار میں عید ملن پروگرام نہایت جوش و خروش کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ تقریب انچارج ہیڈ ماسٹر عارف محمد خان سر کی رہنمائی میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر بورنار گاؤں کے پولیس پاٹل شیکھر بھاؤ بڑ گجر، تھیپڑ ے ہائی اسکول کے پرنسپل جے۔ڈی۔ بچھاؤ سر اور انچارچ کے۔پی۔ پاٹل سر نے شرکت کی۔ تقریب میں پنجم تا نہم جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔طلبہ کے لیے خصوصی طور پر شیر خورمہ اور پلاؤ کا اہتمام کیا گیا تھا، جس سے طلبہ نے خوب لطف اٹھایا اور تقریب سے بھرپور محظوظ ہوئے۔ اس موقع پر اسکول کے اساتذہ میں روشن سر، مظہر سر، جواد سر، فیروز سر، صادق سر، امیر سر اور عابد سر موجود تھے۔ غیر تدریسی عملے میں عاقب سر( کلرک)،مشتاق بھائی، یوسف بھائی اور شبیر بھائی نے پروگرام کی کامیابی میں بھرپور تعاون پیش کیا۔ عید ملن پروگرام نے طلبہ میں خوشی اور بھائی چارے کا پیغام عام کیا۔ اِس کامیاب تقریب پر اقرا ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر عبدالکریم سالار صاحب اور دیگر اراکین ...

دھنیا کے کارنامے۔ ( دی ونڈر بک فور ینگ فولکس آف انڈیا سے لیا گیا ہے )( مترجم صحافی محمد احسان سر ،ملکاپور ، ضلع بلڈھانہ ، مہاراشٹر )

Image
دھنیا کے کارنامے۔  ( دی ونڈر بک فور ینگ فولکس آف انڈیا سے لیا گیا ہے ) ( مترجم صحافی محمد احسان سر ،ملکاپور ، ضلع بلڈھانہ ، مہاراشٹر ) دھنیا پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا جس کے والدین کبھی بہت خوشحال تھے اور بعد میں بدقسمتی سے غریب ہو گئے۔ امیری سے غریبی کی طرف اچانک آجانے پر شرمندہ ہو کر، وہ اپنا آبائی شہر چھوڑ کر اونتی شہر میں آباد ہو گئے۔ وہاں، وہ اپنی تباہ و برباد ہوچکی ملکیت میں سے جو کچھ بچا پائے تھے، اس سے اس کے والد نے شہر کے مضافات میں ایک چھوٹی سی زمین خریدی اور سبزی اگانے کا کام شروع کر دیا اور باغبانی کرنے لگے. سچ مُچ یہ خاندان برے وقتوں سے گذر رہا تھا اور وہ ایک چھوٹی سی گھاس پھوس کی جھونپڑی جو مٹی سے چکنی کی ہوںٔی تھی رہے رہیں تھے، اور زمین سے روزی کما کر اپنا گذر بسر کررہے تھے۔ دھنیا کی عمر اس وقت صرف دس سال تھی، لیکن اسے اس کی عمر سے زیادہ حکمت عطا ہوئی تھی۔ وہ کفایت شعار اور محنتی بھی تھا۔ جب کہ اس کے بھائی بیکار بیٹھنا پسند کرتے تھے اور وہ خاندان کا گذر بسر چلانے کے لئے کچھ بھی نہیں کرتے تھے، اور وہی دھنیا اپنے والدین کی مدد کرنے کے لیے ہمیشہ ت...

القرضُ مقراضٌ للمحبّة۔۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔

Image
القرضُ مقراضٌ للمحبّة۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار،  بیلگام کرناٹک  MA BEd 8904317986                    الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین۔ محترم حاضرین! آج میں ایک نہایت حکمت بھرا جملہ آپ کے سامنے رکھتی ہوں: "القرضُ مقراضٌ للمحبّة" یعنی قرض محبت کو کاٹ دینے والی قینچی ہے۔ یہ دنیا کے تجربات کا نچوڑ ہے۔ جب دو دل محبت میں بندھے ہوتے ہیں تو ان کے درمیان خلوص، ہمدردی اور احترام ہوتا ہے۔ لیکن جیسے ہی قرض کا معاملہ آتا ہے، یہی محبت آزمائش میں پڑ جاتی ہے۔ قرض لینے والا سوچتا ہے: ابھی وقت ہے، بعد میں دے دوں گا اور قرض دینے والا دل میں محسوس کرتا ہے: شاید مجھے بھلا دیا گیا ہے یوں آہستہ آہستہ شکایت جنم لیتی ہے، شکایت سے بدگمانی، اور بدگمانی سے فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اسلام ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ: قرض لینے میں احتیاط کرو اور اگر لو تو وقت پر ادا کرو اور اگر دو تو نرمی اور وسعتِ قلب کے ساتھ دو کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ مال بھی سلامت رہے اور دل بھی سلامت رہیں۔ ✍️ چند اشعار قرض کی زنجیر میں جب د...

مرکز اکل کوا کی کیندر سطحی تعلیمی کانفرنس جامعہ پرائمری اردو اسکول، اکل کوا میں نہایت جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوئی۔

Image
اکل کوا (نامہ نگار فاروقی جاوید کی رپورٹ)  آج مورخہ 27 مارچ 2026 بروز جمعہ، مرکز اکل کوا کی کیندر سطحی تعلیمی کانفرنس جامعہ پرائمری اردو اسکول، اکل کوا میں نہایت جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوئی۔  سرپرست و باعثِ تحریک: محترم جناب پرشانت جی نرواڈے صاحب (گٹ شکشن ادھیکاری، پنچایت سمیتی اکل کوا)   مہمانِ خصوصی: محترم جناب کیلاش جی لوہار صاحب (ایجوکیشن توسیعی افسر، بیٹ - اکل کوا)   رہنما: جناب محمد عارف بشیر پنجاری (کیندر پرمکھ، سموہ سادھن کیندر اکل کوا اردو) ۱. مقدمہ اور استقبال تعلیمی کانفرنس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور حمد باری تعالیٰ سے ہوا۔ اس کے بعد اسکول کی جانب سے معزز مہمانوں کا استقبال اور تہنیت اسکول کے صدر مدرس جناب فاروقی جاوید سر نے انجام دی۔ اکل کوا اردو مرکز کے تحت تمام اردو میڈیم اسکولوں میں تعلیمی معیار کی بہتری اور تعلیمی منصوبہ بندی کے لیے اس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد گزشتہ تعلیمی پیش رفت کا جائزہ لینا اور آنے والی 'نپن مہاراشٹر' مہم کی مائیکرو پلاننگ کرنا تھا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیندر پرمکھ جناب محمد عارف پنجاری کی...

محبت و انسیت کے دو بول۔

Image
محبت و انسیت کے دو بول۔   حدیث شریف کے یہ الفاظ الکلمة الطیبة صدقة بھلے سے یہ مختصر ہیں۔ لیکن معنویت اور حقیقت کے اعتبار سے ساری انسانیت کی محبت اور رشتوں کو مربوط کیے ہوے ہیں۔ جس سے اس کی اہمیت اور افادیت دوبالہ ہوجاتی ہے۔ گویا کہ پیغمبر اسلام کی اس حدیث نے سمندر کو کوزہ میں سمودیا ہے۔ ( in Islam, saying good words or speeking kindly to others is indeed to considered a form sadaqa. The prophet Muhammad pbuh Emphasized the importance of using our words to benefit others and promote kindness.) مذہب اسلام میں انسانیت اور انس کو بڑی اہمیت ہے۔ پیغمبر اسلام نے کہا ہے کہ لوگوں سے محبت سے پیش آنا اور انسیت سے بات کرنا نیکی ہے ۔ ایک شخص آپ ﷺ سے ملنا چاہتا تھا ، آپ نے اس کو آنے کی اجازت دی۔ اور کہا کہ یہ اپنے خاندان میں برا آدمی ہے۔ آپ ﷺ نے اس سے محبت بھرے انداز میں گفت و شنید کی۔ اور جب وہ لوٹا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے کہا ۔ آپ نے تو کہا تھا کہ یہ اپنے خاندان میں برا آدمی ہے ۔ آپ نے تو اس سے محبت و الفت سے بات کیا۔ جس پر آپ ﷺ نے فرمایا۔ اے عائشہ س...

جھٹیاں کیسے گذاریں۔۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔

Image
جھٹیاں کیسے گذاریں۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔       صحت و تندرستی اور فرصت یہ دو بڑی نعمتیں ہیں لیکن اکثر لوگ اسکے بارے میں کوتاہی اور لاہرواہی برتے ہیں اور اسکی قدر نہیں کرتے حالانکہ یہ دونوں نعمتیں آدمی کو دنیاوی و اخروی زندگی کو کامیاب بنانیکے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں لیکن انسان انکا صحیح استعمال نہیں کرتا اور انھیں ضائع کردیتا ہے جیساکہ حدیث شریف میں بھی بیان کیا گیا ہے    اور یہ نعمتیں آدمی کے پاس ہمیشہ قائم و باقی نہیں رہتی اسلئے حدیث شریف میں ان نعمتوں کے ختم اور زائل ہونے سے پہلے انکی قدردانی کرتے ہوئے انکو عبادت میں اور اپنی اخروی زندگی کو کامیاب بنانے میں استعمال کرنیکی ترغیب دی گئی ہے    آج کے سائنس و ٹکنالوجی کے اس دور میں انسان اپنی دنیاوی زندگی میں اس قدر مشغول و منہمک ہوگیا ھیکہ اسکے پاس اپنے رب کی عبادت کرنے اور شریعت کو سیکھنے اور سمجھنے کے لئے اسکے پاس وقت اور فرصت نہیں ہے بلکہ سارا وقت اور ساری صلاحیتیں دنیاوی زندگی کو پرعیش اور راحت اور آرام دہ بنانے میں صرف ہورہی ہیں اور یہ نظریہ اور یہ سوچ مسلمانوں کے لئ...

دس 10 سالہ بچے نے ماہ رمضان کے 30 روزے مکمل کر لی۔

Image
احمد نگر سے تعلق رکھنے والے 10 سالہ بچے **محمد حاشر رضوان سوداگر نے ایک قابلِ فخر کارنامہ انجام دیا ہے۔ ننھے حاشر نے اس سال ماہِ رمضان المبارک کے تمام 30 روزے مکمل کر لیے۔ ۔ اتنی کم عمر میں پورے رمضان کے روزے رکھنا ان کے عزم، محنت اور دین سے محبت کا ثبوت ہے۔ اس خوشی کے موقع پر اہلِ خانہ اور اساتذہ نے انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔  محمد حاشر رضوان سوداگر کی یہ کامیابی دوسرے بچوں کے لیے بھی ایک بہترین مثال ہے اور ان کا یہ کارنامہ سب کے لیے باعثِ خوشی اور فخر ہے۔

عالمی شہرت یافتہ شاعرافضل منگلوری" ڈاکٹرعنوان چشتی ایوارڈ" کے لیے منتخب۔

Image
نئی دہلی / دہرا دودن 27 مارچ (ای میل)- معروف عالمی شہرت یافتہ شاعر افضل منگلوری کو حکومت اتراکھنڈ کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ " ساہتیہ گورو سمان,2025" بھاشا سنستھان اتراکھنڈ کی جانب سے طویل مدتی اردو ادبی خدمات کے اعتراف میں " ڈاکٹر عنوان چشتی ایوارڈ " دہرادون میں30 مارچ کو دیا جائے گا - یہ ایوارڈ اتراکھنڈ کے گورنر وزیراعلی اور وزیر لسانیات کے ہاتھوں 30 مارچ کو دہرا دو ن میں پیش کیا جائے گا- اس ایوارڈ میں سند توصیف , ڈیڑھ لاکھ روپے کا چیک شال اور ایوارڈ شامل ہے - افضل منگلوری اتراکھنڈ اردو اکیڈمی کے بانی نائب چیئرمین بھی رہ چکے ہیں اور ساتھ ہی اتراکھنڈ حکومت کی مختلف کمیٹیوں میں بطور خصوصی مشیر کے کام کر چکے ہیں- حال ہی میں افضل منگلوری کو شو بھت یونیورسٹی کی جانب سے ایسوسیٹ پروفیسر کے طور پر نومینیٹ کیا گیا تھا - افضل منگلوری کی نثر اور نظم کی ہندی اردو میں اٹھ کتابیں ا چکی ہیں ان کے مجموعے" تیرے بعد "کو اترا کھنڈ حکومت نے اعزاز دیا تھا- اس کے علاوہ افضل منگلوری کو ملک و بیرو...

دیور کنڈہ کی متاثرہ بچی کو مکمل انصاف دلایاجائے،خاطیوں کو کڑی سزا دی جائے، مولانا سید شاہ احسان الدین قاسمی کا مطالبہ۔

Image
 حیدرآباد 27/ مارچ(نمائندہ) ریاستِ تلنگانہ جمعیت علماء کے صدر حضرت مولانا سید شاہ احسان الدین قاسمی نے ونپرتی ضلع کے دیور کنڈہ میں پیش آئے نہایت افسوسناک واقعہ، جس میں ایک معصوم کمسن بچی کے ساتھ عصمت دری کے بعد قتل کی کوشش کی گئی، پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہےانہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے لرزہ خیز واقعات نہ صرف قانون و نظم کے لیے سنگین چیلنج ہیں بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی زوال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس واقعہ کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، مختلف سیاسی و سماجی قائدین کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور متاثرہ بچی کے لیے انصاف کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے مولانا نے پولیس کی جانب سے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمین کی گرفتاری کو قابلِ ستائش قرار دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ایسے درندہ صفت مجرموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہے تاکہ معاشرے میں عبرت قائم ہو انہوں نے حکومتِ تلنگانہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس مقدمہ کو فاسٹ ٹریک عدالت میں چلایا جائے، شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے...

محمد ارحان فاروقی کو پینٹنگ میں ریاستی سطح کا ایوارڈاسکول اور افراد خاندان کی جانب سے مبارکباد۔

Image
نظام آباد (27 مارچ. راست) ضلع نظام آباد سے تعلق رکھنے والے آڈمس کالونی ٹولی چوکی میں مقیم محمد ارحان فاروقی فرزند محمد اعظم فاروقی کو حیدرآباد میں بی ایس اے ہرکیولس سائیکلس ادارے کی جانب سے منعقدہ ریاستی سطح پینٹنگ مقابلے میں انعام اول حاصل ہوا ہے اور انہیں تمغہ اور سند دی گئی. یہ مقابلہ صاف ستھرے اور سرسبز و صحت مند معاشرے کی تشکیل میں سائیکل رانی کو فروغ دینے کے پیغام کے ساتھ منعقد ہوا تھا. نظام آباد کے دیگر باصلاحیت نوجوانوں اور بچوں کی فہرست میں محمد ارحان فاروقی پینٹنگ کے زمرے میں شہرت پا رہے ہیں اور ان کے اس مشغلے نے اب تک کئی شاہکار پینٹنگ کو جنم دیا ہے اور اسکول میں ان کی نمائش کی گئی. محمد ارحان فاروقی کو پینٹنگ مقابلے میں ریاستی سطح کا انعام ملنے پر دادا محمد امجد فاروقی نانا ذبیح اللہ صدیقی تایا محمد اسد فاروقی محمد اکرم فاروقی اور رشتے دار محمد اصغر فاروقی محمد اظہر فاروقی پروفیسر محمد احسن فاروقی پروفیسر محمد اسلم فاروقی محمد عمران فاروقی محمد الماس فاروقی محمد عبدالقدوس اسکول انتظامیہ اور دیگر نے مبارکباد پیش کی ہے اور ابھرتے مصور کی ترقی کے لئے نیک خواہشات کا...

بیدر کی تاریخی فصیلوں اور قندقوں کی خستہ حالی: ایک المیہ۔

Image
بیدر : 27/ مارچ (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) بیدر،جو ریاست کرناٹک کا ایک نہایت قدیم اور تاریخی شہر ہے،اپنی عظمتِ رفتہ،بلند و بالا فصیلوں اور مضبوط قلعہ بندی کے باعث ہمیشہ سے شہرت رکھتا آیا ہے۔یہ شہر اپنی قدیم تہذیب،ثقافت اور شاندار تعمیرات کی وجہ سے دکن کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔بیدر کی فصیل بند ساخت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ماضی میں یہ شہر دفاعی اعتبار سے کتنا مضبوط اور مستحکم تھا۔ اس تاریخی شہر کے اطراف بڑی منظم انداز میں گہری اور وسیع قندقیں(کھائیاں)بنائی گئی تھیں،جن کا مقصد دشمنوں کو شہر میں داخل ہونے سے روکنا تھا۔یہ قندقیں اس دور کی بہترین دفاعی حکمت عملی کا حصہ تھیں اور ان میں پانی بھر کر انہیں مزید ناقابلِ عبور بنایا جاتا تھا۔یہ قندقیں نہ صرف شہر کی حفاظت کا ذریعہ تھیں بلکہ اس زمانے کی انجینئرنگ اور منصوبہ بندی کا بھی ایک شاندار نمونہ ہیں۔ مگر افسوس کہ آج وہی تاریخی قندقیں شدید غفلت اور لاپرواہی کا شکار ہو چکی ہیں۔ان میں اس قدر گندگی جمع ہو چکی ہے کہ بیان کرنا مشکل ہے۔جگہ جگہ کوڑا کرکٹ،پلاسٹک اور دیگر فضلہ جمع ہو کر نہ صرف بدبو کا باعث بن رہا ہے...

حسن اختر کے ہاتھوں الجزیرہ اردو ڈیلی کے سالگرہ ایڈیشن کا افتتاح۔

Image
اورنگ آباد : (راست) الجزیرہ اردو ڈیلی اورنگ آباد کے 22ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مہاراشٹر اردو اکیڈمی کے چیئرمین حسن اختر نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے سالگرہ ایڈیشن کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر حسن اختر کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر اخبار کے بانی و مدیر ایڈوکیٹ نواب پٹیل، پہلے مدیر ایڈوکیٹ ذاکی نواب شیخ، ابرار احمد، محمد ماسٹر، عریب صدیقی اور ماسٹر اورنگزیب سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔ یہ تقریب الجزیرہ اردو ڈیلی کے دفتر میں منعقد ہوئی جہاں صحافتی خدمات کو سراہا گیا۔ اپنے خطاب میں چیئرمین حسن اختر نے الجزیرہ اردو ڈیلی کی صحافتی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت سماج کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ایسے ادارے معاشرے کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے ادارے کی مزید ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ اس موقع پر بانی مدیر ایڈوکیٹ نواب پٹیل نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ الجزیرہ اردو ڈیلی گزشتہ 22 برسوں سے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور حقائق پر مبنی صحافت کے لیے کوشاں ہے اور آئندہ بھی یہی مشن جا...

لوک ساہتیہ منچ کے زیرِ اہتمام 29 مارچ کو گلبرگہ میں جشنِ اوگادی و عیدملاپ ہمہ لسانی مشاعرہ۔

Image
کلبرگی 27 / مارچ. (راست) جشنِ اوگادی سالِ نو کے آغاز اور عید ملاپ کے پُر مسرت موقع پر لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ کے زیرِاہتمام "اوگادی تقریب اور عید میلاپ" کے اس مبارک موقع پر بتاریخ 29 / مارچ 2026 ، بروز اتوار، بوقت 00 :11 بجے دن ، ڈاکٹر ماجد داغی صدر لوک ساہتیہ منچ کی صدارت میں ایک کثیر لسانی کاوی سمیلن (ہمہ لسانی مشاعرہ) بمقام احاطہ کرناٹک ہندی پرچار سبھا، سیڑم روڈ، گلبرگہ میں منعقد ہوگا ۔ اس تقریب و ہمہ لسانی مشاعرہ میں پروفیسر دیانند اگسر وائس چانسلر گلبرگہ یونیورسٹی (ریٹائرڈ) ، ڈاکٹر لکشمن دستی بانی صدر کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی ، سید نذیرالدین متولی نمائندہ خصوصی کندریا کنڑا ساہتیہ پریشد بنگلور ، ڈاکٹر اے ایس بھدر شیٹی صدر جنوبی ہند اینٹی کرپشن کمیٹی، شرکت فرمائینگے ۔ مسٹر اشوک گروجی کرناٹک ہندی پرچار سبھا، محترمہ شیاملا کلکرنی جنرل سیکرٹری لوک ساہتیہ منچ اور مسٹر امر پریا ہیرے مٹھ نے عوام سے شرکت کی خواہش کی ہے ۔

منشی پریم چند — ادب کا شمسی مینار۔

Image
آداب سیریز کے تحت آئیڈیا پیش کرتا ہے ایک دلکش ادبی شام، جس میں منشی پریم چند کے مزاح اور فن کی رنگا رنگ جھلکیاں بھی ہوں گی اور امرتا پریتم کی زندگی اور عشق کا کرب بھی- منشی پریم چند — ادب کا شمسی مینار۔ اردو و ہندی فکشن کے بے تاج بادشاہ منشی پریم چند وہ ادیب ہیں جن کی تحریریں انسان دوستی، سماجی شعور اور حقیقت نگاری کا آئینہ ہیں۔ عموماً انہیں سنجیدہ اور اصلاحی ادب کا علمبردار سمجھا جاتا ہے، مگر ان کی کئی کہانیوں میں لطافتِ طبع، نرم مزاح اور انسانی کمزوریوں کا ہلکا پھلکا طنز بھی بھرپور انداز میں جلوہ گر ہوتا ہے
انہی رنگوں کو سامنے لاتے ہوئے اتوار 29 مارچ شام 5 بجے شکنتلم اسٹوڈیو میں پریم چند کی تین کہانیاں پیش کی جائیں گی:
"لانچھن" ، "رسک سمپادک اور بڑے گھر کی بیٹی” 
پہلی دو کہانیاں اپنے اندر دلکش اور شگفتہ مزاح رکھتی ہیں، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ پریم چند صرف سنجیدہ نہیں، بلکہ لطیف مزاح کے بھی نہایت کامیاب خالق تھے۔ امرتا پریتم — عشق، درد اور روحانیت کی شاعرہ رات ساڑھے سات بجے صادق انصاری کا تحریر کردہ ڈراما "عشق جلے تو جلے" پیش کیا جائے گا، جو برصغی...

چھوٹے بچوں کی عید۔۔ از قلم : ناصر احمد خان ناصر۔

Image
چھوٹے بچوں کی عید۔ از قلم  : ناصر احمد خان ناصر۔ عید کی صبح کا آغاز ہوا، بچے خوشی خوشی اپنی نیند سے بیدار ہوۓ اور جلدی جلدی غسل کیا، نئے کپڑے پہنے، عطراور خوشبوئیں لگایٔ۔ اَمّی جان نے انہیں شیر خرمے سے لبریزجام دۓاور سیویاں کھلایٔ اس سے فارغ ہو نے کے بعد اپنے والد اور سر پرستوں کے ساتھ تکبیر پڑھتے ہوئےنمازِ عیدالفطر ادا کرنے عید گاہ پہنچے۔ وہاں جاکر شہر قاضی کا خطبہ سنا ، نعت رسولِ پاک ﷺ سنا جس سے ان بَچّوں کے دل کو جلا و تقویت ملی جو ان معصوموں کیلے مشعل راہ بنی ۔ ترغیب پاکر عیدالفطر کی نماز ادا کی اجتماعی دعا میں شامل ہوۓ خوب خوشیاں منا ٔیں مزے لوٹے دوستوں کو مبارک باد دی۔ رشتہ داروں سے ملاقات کی خاندان اور دوستوں کے بچوں کے ساتھ مل کرخوب کھیلے اور تفریحی سرگرمیاں کی عید گاہ میں لگی دکانوں سے مٹھائیاں، پاپڑ کا زائقہ لیا اور مختلف مشروبات پیے۔ اس موقع پر دوستوں سے بغلگیر ہو کر مبارک باد پیش کیا۔ اور خوشی خوشی اپنے اپنے گھر روانہ ہوۓ گھر جاکر مختلف اقسام کے صحت بخش کھانے کھاۓ ۔ دادا،دادی،نانا، نانی،تایا، تایٔی، والد، والدہ، چچا،چاچی، مامو،ممانی نے انہیں عیدی...

اے ذوقؔ! کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا - بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے۔ ازقلم : تنویر احمد تنویر۔

Image
اے ذوقؔ! کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا -  بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے ازقلم : تنویر احمد تنویر۔ مدتوں بعد آج عالمی شہرت یافتہ ادیب و شاعر، محترم نذیر فتحپوری صاحب سے ان کے دولت کدہ "سائرہ منزل"، سنجے پارک میں، جناب عبدالحمید ہنر کے ہمراہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یہ نشست نہایت پُر لطف اور علمی و ادبی رنگ لیے ہوئے تھی، جہاں دیر تک ادب، شاعری اور رسائل کی روایت پر سیر حاصل گفتگو جاری رہی۔ نذیر صاحب نے اپنے سہ ماہی رسالہ "اسباق" کے آغاز، اس کے ارتقائی مراحل، اور ان نازک حالات کا ذکر کیا جن میں اسے تقریباً بیالیس برس تک کامیابی سے جاری رکھا گیا۔ انہوں نے ان تمام اہلِ قلم و احباب کا بھی تذکرہ کیا جنہوں نے اس سفر میں ان کا ساتھ دیا۔ اس کے بعد گفتگو کا رخ پونہ کے مرحوم شعرا کی طرف مڑ گیا۔ خاص طور پر رشید اعجاز مرحوم کی شخصیت اور شاعری پر نہایت بصیرت افروز گفتگو ہوئی۔ نذیر صاحب نے ان کے چند اشعار بھی سنائے، جو دل کو بہت بھائے: دعاء وقت دعاء سب جانتے ہیں ہماری پہنچ ہے اللہ میاں تک کشتیوں کا بوجھ ان پہ چپّوؤں کی سختیاں  کتنا بوجھ اٹھا رہی ہیں بن پُلوں کی ندّیاں ، ڈائر...

خیر امت پر زوال کیوں؟ تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی مہاراشٹر۔

Image
خیر امت پر زوال کیوں؟   تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی مہاراشٹر۔  یہ ماضی سے لیکر دور حاضر تک کا ایک ایسا سلگتا ہوا اور ایک برننگ سوال ہے۔ جس کا جواب ہمارے پاس ہی موجود ہے۔ جس طرح ہم نے اللہ کی قدر کرنا تھی ویسی نہیں کی۔ جو تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ اور تمام سلطنتیں اس کے لیے ہیں۔ کیونکہ یہ دنیا امتحان ہے۔ یہاں انسانی زندگی اور موت کو امتحان کے طور پر پیدا کیاگیا ہے۔ اور پھر انسان کو مکلف بنایا ہے کہ وہ اچھے اور برے میں تمیز اور فرق کریں۔ آج ہماری قوم و ملت کے ابتر ہونے کی وجہ تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ ہماری قوم اچھی رہنمائ اور سچی قیادت سے محروم ہے۔ جو اج وقت کی اہم ضرورت ہے، قیادت کا تعلق بھی نیتوں پر منحصر ہے، نیتیں خالص اور قوم و ملت کے سرخروئ کے لیے ہو تو ہم اس ( Demotion) تنزلی سے باہر نکل کر روشن سمت کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم نے کسی کو اگر چاہا تو اس کو اپنا لیڈر بنا دیا۔ ہماری خرابی یہ بھی ہے کہ ہم نے کسی پر بھروسہ کر لیا تو اسی پر اکتفا کر لیا۔ جبکہ قران مجید نے اچھی اور لوگوں کی فلاح کے لیے رہنمائ ف...

اباجان کی کرسی: خون کے رشتے اور بے وفا موسم۔ ازقلم : رہبر تماپوری۔

Image
اباجان کی کرسی: خون کے رشتے اور بے وفا موسم۔   ازقلم : رہبر تماپوری۔  گھر کے دالان میں رکھی وہ ساگوان کی خالی کرسی آج بھی اپنے مالک کا انتظار کرتی محسوس ہوتی ہے۔ وقت گزرتا گیا، موسم بدلے، اور دالان کی دیواروں پر جمی گرد گہری ہوتی گئی، لیکن اس کرسی کی خاموشی میں ایک ایسا نوحہ چھپا ہے جو ہر آنے جانے والے کو سنائی دیتا ہے۔ یہ کرسی اس وقت کی گواہ ہے جب اس گھر کی چھت تلے محبتوں کا پہرہ تھا اور اباجان اس خاندان کے واحد نگہبان تھے۔ ان کا وجود ایک ایسے شجرِ سایہ دار کی مانند تھا جس نے دھوپ خود سہی، مگر اپنے بھائیوں، بہنوں اور اولاد کو ہمیشہ ٹھنڈی چھاؤں میں رکھا۔ اباجان کی زندگی کا مقصد صرف مال و دولت بنانا نہیں تھا، بلکہ وہ رشتوں کی آبیاری کرنے والے ایک مخلص باغبان تھے۔ انہوں نے اپنی جوانی کے بہترین ایام اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش اور ان کے مستقبل کو سنوارنے میں صرف کر دیے۔ ان کے کاروبار کی بنیاد دیانت اور اخلاق پر تھی۔ شہر کے بازار میں ان کی زبان کسی تحریری معاہدے سے زیادہ معتبر سمجھی جاتی تھی۔ دوستوں کا حلقہ ہو یا کاروباری حریف، ہر شخص ان کی شرافت کی گواہی دیتا...

ہماری نمازیں بے اثر کیوں ہوگئی ہیں؟

Image
1. ایمان: برکات کا اصل منبع (The Source) تصویر کے سب سے اوپر ایک بڑا پانی کا ٹینک ہے، جسے "ایمان" کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وہ بنیادی یقین ہے جہاں سے کامیابی، سکون اور برکات کی سپلائی آنی ہے۔ اگر ٹینک میں پانی (ایمان) نہیں ہوگا تو پورا سسٹم بے معنی ہے۔ لیکن صرف ٹینک کا ہونا کافی نہیں، اسے نلکے (زندگی) تک پہنچانے کے لیے ایک مکمل راستے کی ضرورت ہے۔ 2. نظامِ جماعت: مضبوط جوڑ (The System) ٹینک سے نکلنے والے پائپوں کے درمیان مضبوط کلپس (Joints) لگے ہیں جنہیں "نظامِ جماعت" کہا گیا ہے۔ مسلمانوں کا اتحاد اور ایک نظم و ضبط میں ہونا اس نظام کی روح ہے۔ اگر پائپوں کے جوڑ ڈھیلے ہوں یا وہ آپس میں جڑے نہ ہوں، تو پانی (برکات) وہیں ضائع ہو جائے گی اور منزل تک نہیں پہنچے گی۔ 3. شریعت: زندگی کی پائپ لائن (The Infrastructure) وہ پائپ لائن جو گھر، بازار، عدالت اور حکومت تک جا رہی ہے، وہ "شریعت" کے اصول ہیں۔ یعنی جب تک آپ کی معیشت، سیاست اور سماجی زندگی ان پائپوں (اسلامی قوانین) کے اندر نہیں ہوگی، آپ کو وہ "پانی" میسر نہیں آئے گا جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ 4....