غزل - ازقلم : اسانغنی مشتاق رفیقیؔ۔
غزل - ازقلم : اسانغنی مشتاق رفیقیؔ۔ نظر نہ پھیروں نہ نفرت سے پیش آؤں گا ہمیشہ تجھ سے محبت سے پیش آؤں گا مجھے پتہ ہے تو مکار ہے منافق ہے میں تیرے ساتھ صداقت سے پیش آؤں گا رقیب ہے وہ مگر اس کو تجھ سے نسبت ہے میں اس سے کیسے عداوت سے پیش آؤں گا مرے بڑوں نے مجھے دی ہے تربیت ایسی میں ہر کسی سے شرافت سے پیش آؤں گا دلیل سے مجھے بتلا کہ میں غلط ہوں کہاں؟ میں تجھ سے پوری ندامت سے پیش آؤں گا مرے مزاج میں شامل ہے عاجزی لیکن تُو شر کرے تو شرارت سے پیش آؤں گا رفیقیؔ بغض رکھےمجھ سے، کوئی کتنا ہی میں اُس سے، پھر بھی مروت سے پیش آؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔