بیٹی کے گھراختلافات کے وقت ماں کا کردار: گھر بسانے والی یا گھر اجاڑنے والی۔۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
بیٹی کے گھراختلافات کے وقت ماں کا کردار: گھر بسانے والی یا گھر اجاڑنے والی۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ M A M Ed 8904317986 شادی کے بعد زندگی ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔ میاں بیوی کے درمیان کبھی کبھار اختلافات، ناراضی اور غلط فہمیاں پیدا ہو جانا ایک فطری امر ہے۔ دنیا کا کوئی بھی گھر ایسا نہیں جہاں کبھی اختلاف نہ ہو۔ اصل کامیابی اختلافات کے پیدا ہونے میں نہیں بلکہ انہیں حکمت، صبر اور حسنِ تدبیر کے ساتھ حل کرنے میں ہے۔ ایسے مواقع پر اگر بیٹی اپنی ماں کو فون کرکے اپنی پریشانی بیان کرے تو ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحمل، حکمت اور انصاف کے ساتھ بات سنے۔ ایک سمجھدار ماں فوراً شوہر یا سسرال والوں کے خلاف فیصلہ صادر نہیں کرتی بلکہ پہلے بیٹی کو صبر، تحمل اور معاملے کو سلجھانے کی تلقین کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ" "اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔" (سورۃ النساء: 19) اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللّٰهُ جفِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا...