Posts

معروف اُردو شاعر بشیر بدر 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

Image
معروف و مقبول اُردو شاعر، غزل گو اور دانشور بشیر بدر کا 91 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ اُن کے انتقال کی خبر سے ہندوستان سمیت دنیا بھر میں اُردو ادب، شعرو سخن اور ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اُردو غزل کی ایک ایسی توانا آواز تھے، جنہوں نے محبت، تنہائی، انسان دوستی، وقت کی بے ثباتی اور زندگی کے کرب کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان کیا۔ بشیر بدر کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت اُس کی سادگی، دل نشینی اور عام فہم زبان تھی۔ اُن کے اشعار نہ صرف مشاعروں کی جان بنتے تھے بلکہ عام لوگوں کی گفتگو، خط و کتابت اور سماجی زندگی کا حصہ بھی بن گئے تھے۔ اُن کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوئے، جن میں یہ شعر خاص طور پر بے حد مقبول ہوا: *“شہرت کی بلندی بھی اک پل کا تماشا ہے* *جس شاخ پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے”* اُن کی شاعری میں ہمیں میر  کی روایت کی جھلک بھی محسوس ہوتی ہے، جہاں سادگی کے ساتھ گہری داخلیت اور انسانی جذبات کی شدت موجود ہوتی ہے۔ عشق، جدائی، یاد، محرومی اور زندگی کے پیچیدہ سوالات کو انہوں نے ایسی زبان دی جو ہر دل تک پہنچتی تھی۔ ...

اپنے باطنی تکبر کی قربانی دیں : نگر دیولا میں عید الاضحیٰ عقیدت، احترام اور پُر امن ماحول میں منائی گئی.

Image
جلگاؤں ( عقیل خان بیاولی) ضلع جلگاؤں کے نگردیولہ شہر میں عید الاضحی انتہائی روحانیت عقیدت کے ساتھ منائی گئی اس موقع پر خطیب و امام حضرت آل رسول نے فرمایا "اگر آپ واقعی قربانی دینا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے اپنے باطن میں بیٹھے تکبر غرور ،غصے، لالچ اور جہالت کی قربانی دیں۔ آج کا دن صرف جانوروں کی قربانی دینے کا نہیں ہے، بلکہ اللہ کی راہ میں اپنی ہر پسندیدہ چیز کو حق کے راستے پر قربان کرنے کی یاد دلاتا ہے "۔ اس موقع پر خصوصی خطاب کرتے ہوئے حضرت خطیب و امام نے سماج کی رہنمائی فرمائیں۔ انہوں نے آگے کہا کہ، "اگر اللہ نے آپ کو صاحبِ حیثیت بنایا ہے، تو دولت کی ہوس کو چھوڑ کر یتیموں، بیواؤں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے آگے آئیں، یہی عید الاضحیٰ کا اصل پیغام ہے۔ "اس موقع پر ملک کی ترقی اور عالمی امن کے لیے بھی دعائیں کی گئیں نمازِ عید ادا کرنے کے بعد سبھی نے اللہ کا شکر ادا کیا اور 'تکبیر' کا ورد کیا۔ حضرت نے اس موقع پر خصوصی دعا کروائی۔ اس میں بھارت اور پوری دنیا میں امن و امان قائم ہونے، ملک کی ترقی، دنیا میں جاری جنگوں کے خاتمے اور عالمی بھائی...

بشیر بدر: جدید اردو غزل کے ایک عہدِ زریں کا خاتمہ - (ایک چراغ اور بجھ گیا: اردو ادب کا عظیم خسارہ اور لازوال وراثت)بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔

Image
بشیر بدر: جدید اردو غزل کے ایک عہدِ زریں کا خاتمہ -  (ایک چراغ اور بجھ گیا: اردو ادب کا عظیم خسارہ اور لازوال وراثت) بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔ اردو غزل کے افق پر جو چراغ دہائیوں تک اپنی سادگی، معصومیت اور جذباتی حلاوت کے ساتھ فروزاں رہا، وہ بالآخر 28 مئی 2026ء کو ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا۔ مایہ ناز اور عہد ساز شاعر ڈاکٹر بشیر بدر 91 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے فتح گڑھ علاقے میں واقع اپنی رہائش گاہ "بشیر منزل" کے اسی گوشے میں اپنی آخری سانسیں لیں جہاں وہ کبھی مشاعروں کی بزم سجایا کرتے تھے۔ ان کی رحلت پر ان کی شریکِ حیات ڈاکٹر راحت بدر نے انتہائی رنجیدہ دل کے ساتھ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس الم ناک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا: "بشیر صاحب ہمیں چھوڑ گئے، دعاؤں کی درخواست ہے"۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی علمی و ادبی حلقوں میں رنج و ملال کی لہر دوڑ گئی۔ ممتاز نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر نے گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری پیاری زبان اردو غریب تر ہو گئی ہے اور ایک انتہائی خوش الحان ا...

معروف شاعر بشیر بدر کی رحلت اردو ادب کا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

Image
معروف شاعر بشیر بدر کی رحلت اردو ادب کا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی شاعری محبت، درد، ہجرت اور انسانی احساسات کی خوبصورت ترجمان تھی۔ وہ اپنے اشعار کے ذریعے ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے۔ “اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دے نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے” اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ و چاہنے والوں کو صبرِ جمیل دے۔ ان کی یادیں اور اشعار ہمیشہ اردو ادب کے افق پر روشن رہیں گے۔ ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی،صدرشعبہ اردو, انجمن ڈگری کالج, دھارواڑ،کرناٹک

حج زندگی کو بدلنے والا سفر - میئر لندن صادق خان جنہون نے امسال نے فریضۂ حج ادا کیا۔

Image
  کے این واصف : لندن کے میئر صادق خان نے اس سال فریضہ حج کی سعادت حاصل کی ہے۔  میئر صادق خان نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ خانہ کعبہ کے آگے کھڑے نظر آ رہے ہیں۔انھون نے حج کے ساتھ لندن اور دنیا بھر کے مسلمانون کو عید کی مبارکباد دی۔ انھون نے یہ بھی کہا حج زندگی کو بدلنے والا سفر ہے۔ میں واقعی خود کو قابل فخر اور خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ اس سال مجھے دنیا بھر سے آنے ہوئے لاکھوں مسلمانوں کے ساتھ فریضہ حج ادا کرنے کا موقع ملا۔ اللہ ہم سب کی عبادات کو قبول فرمائے۔  واضح رہے کہ پاکستانی نژاد صادق خان ریکارڈ تیسری مرتبہ لندن کے میئر بنے ہیں۔ 1970 میں لندن میں پیدا ہونے والے صادق خان کے والدین پاکستان سے نقل مکانی کرکے برطانیہ آئے تھے۔ صادق خان نے عام سرکاری اسکول میں اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد وکالت کی ڈگری حاصل کی۔

کاش اِس عید پر ہم اپنی ’’انا‘‘ذبح کردیتے۔محسن رضا ضیائی،پونے۔

Image
کاش اِس عید پر ہم اپنی ’’انا‘‘ذبح کردیتے۔ محسن رضا ضیائی،پونے۔ رابطہ:  9921934812 عیدالاضحیٰ مسلمانوں کا ایک عظیم اور مقدس تہوارہے،جسے اسلام میں تین دن تک منانا مشروع ہے،ہر سال ۱۰؍ذی الحجہ سے لے کر ۱۲؍ذی الحجہ تک پوری دنیا میں منایاجاتاہے ۔ہمارے ملک ہندوستان میں عیدِ قرباں کایہ عظیم الشان تہوار امن و شانتی ،مسرت و خوشی اور اتحادویکجہتی کے ساتھ منایاگیا ۔ملک میںکہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع موصول نہیںہوئی۔البتہ ملک کی تشویش ناک اور بد ترین صورت حال کولے کرکافی رنج وغم اور خوف وہراس محسوس کیا گیا۔ بہرِ حال!ہر سال کی طرح امسال بھی فرزندانِ توحید نے نہایت ہی جوش وخروش اور تزک و احتشام کے ساتھ عیدالاضحی منایا۔شہر کی ہر چھوٹی بڑی مسجد اور عیدگاہ میں مسلمانوں کے اجتماعی قافلوں او رامڈتے ہوئے سیلاب کا پرکیف منظربھی قابل دید اورلائق رشک تھا، تکبیرو تشریق کی گونجیں ہواؤں میں تحلیل ہورہی تھیں،اجتماعی رقت انگیزذکرودعاکامنظر بھی کافی پُرسوز تھا ۔ توحید کے پر ستاروںاورمتوالوںکے لبوں سے نکلے ہوئے لفظِ آمین سے ہوائیں لطف اندوز ہورہی تھیں۔راہِ خدا میںقربانی کے جانورا...

کیا ہم نے قربانی کے پاکیزہ جذبوں کی یادگار کے فلسفہ کو سمجھا ہے؟ ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ - سعید پٹیل جلگاؤں۔

Image
کیا ہم نے قربانی کے پاکیزہ جذبوں کی یادگار کے فلسفہ کو سمجھا ہے؟ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ -  سعید پٹیل جلگاؤں۔  الله رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دے کر اس کو افضلیت بخشی ہے۔اس لیۓ اس سے کام بھی بڑے اور بلند مرتبے والے لیۓ گیۓ ہیں۔کیونکہ حضرت انسان کو الله رب العزت نے فطری طور پر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ، مسائل و معاملات کو حل کرنے اور فکری صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔اسی لیۓ اس سے مطالبات بھی اسی درجے کےکیۓ گیۓ ہیں۔جن میں قربانی جیسا پاکیزہ عمل بھی شامل ہے۔جو سنت ابراہیم علیہ السلام کے طور پر ہم ادا کرتے ہیں۔جس کا بنیادی مقصد و اصل فلسفہ یہ ہےکہ انسان محض ظاہری جانور کی قربانی دینے کے بجاۓ اپنے اندر موجود انا ، ضد ، خواہشات نفس ، اقرباپروری ، جانبداری ، غرور ، اپنا غصہ ، اپنی کڑوی اور سخت لہجہ زبان اور برے جذبے کو اللّٰه کے واسطے چھوڑ دے اور اللّٰه کی مکمل فرمانبرداری اختیار کرے اور اس کے حکم کو خندہ پیشانی سے مانے۔ہر سال دی جانےوالی اس یادگار قربانی کے عمل سے گذرنے کے بعد اپنے اس نیک عمل کے ساتھ عبادتیں ، فرائض ، سادگی ، اور نمونہ...

اقوامِ متحدہ میں نوکریاں قابل تعلمی یافتہ نوجوانوں کا انتظار ۔ از قلم : محمود علی لیکچرر۔

Image
اقوامِ متحدہ میں نوکریاں قابل تعلمی یافتہ نوجوانوں کا انتظار .. از قلم : محمود علی لیکچرر۔ 8055402819 عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں دنیا میں بے روزگاری، معاشی عدمِ استحکام اور بڑھتی ہوئی مسابقت کے دور میں نوجوانوں کی نظریں بین الاقوامی اداروں پر جمی ہوئی ہیں۔ انہی اداروں میں ایک اہم نام United Nations یعنی اقوامِ متحدہ کا ہے، جہاں ملازمت صرف روزگار نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایک ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ آج کے تعلیم یافتہ نوجوان کے ذہن میں یہ سوال عام ہے کہ کیا اقوامِ متحدہ میں نوکری حاصل کرنا ممکن ہے؟ اور اگر ممکن ہے تو اس کے لیے کن صلاحیتوں کی ضرورت ہے؟ اقوامِ متحدہ دنیا کے تقریباً ہر خطے میں امن، تعلیم، صحت، ماحولیات، انسانی حقوق اور پناہ گزینوں کے مسائل پر کام کرتی ہے۔ اس کے تحت بے شمار ذیلی ادارے کام کرتے ہیں، جیسے UNICEF، UNESCO، World Health Organization اور UNHCR۔ ان اداروں میں ڈاکٹر، انجینئر، مترجم، قانون دان، اساتذہ، صحافی، آئی ٹی ماہرین اور انتظامی افسران تک کے لیے مواقع موجود ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر ...

جمعیتہ العلماء تلنگانہ کی جانب سے عیدالاضحیٰ پر امت مسلمہ کو مبارکباد، خواہشات نفس کی قربانی پر زور۔

Image
حیدرآباد- 27/ مئی (نمائندہ) صدر جمعیتہ العلماء تلنگانہ مولانا سید شاہ احسان الدین صاحب و جنرل سکریٹری حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب نے ریاست کے تمام ضلعی صدور و نظماء کے نام اپنے خصوصی پیغام میں عالم اسلام کو عیدالاضحیٰ کی پُرخلوص مبارکباد پیش کی ہے۔ جمعیت قائدین نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا کہ عیدالاضحیٰ دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اُس عظیم سنت کی یادگار ہے جب انہوں نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا و محبت کے لیے اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا عزم کیا تھا۔ آج ہم اسی سنت ابراہیمی کی پیروی میں جانوروں کی قربانی پیش کرتے ہیں جس کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ مولانا سید شاہ احسان الدین صاحب نے مزید فرمایا کہ عیدالاضحیٰ کا پیغام صرف جانوروں کی قربانی تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہمیں اپنی خواہشاتِ نفس، تکبر، حسد اور تمام گناہوں کی بھی قربانی دینی چاہیے۔ قربانی کا اصل فلسفہ یہی ہے کہ انسان اپنے اندر تقویٰ پیدا کرے۔ جنرل سکریٹری حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب نے تمام ضلعی صدور و نظماء سے اپیل کی کہ وہ عید کے موقع پر صفائی، قانون کا احترام اور بین المذاہب ...

دیہی علاقوں میں ایس۔آئی۔آر۔ اور عیدالاضحیٰ سے متعلق انتظامات پر ایم پی جے وفد کی رکنِ اسمبلی مانک راؤ سے ملاقات۔

Image
ظہیرآباد 27/ مئی (نمائندہ) موؤمنٹ فار پیس اینڈ جسٹس (MPJ) ظہیرآباد یونٹ صدر محمد ایوب احمد کی قیادت میں ایک نمائندہ وفد نے رکنِ اسمبلی ظہیرآباد کوننٹی مانک راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے دیہی علاقوں میں SIR میپنگ کے کاموں سے متعلق ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ محکمہ جات کے ذریعہ میپنگ کے کام شفاف اور منظم انداز میں جلد مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات و مسائل کا ازالہ ہو سکے ملاقات کے دوران آنے والی عیدالاضحیٰ کے پیشِ نظر شہری و دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے انتظامات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفد نے مساجد کے اطراف بلیچنگ پاؤڈر کے چھڑکاؤ، گندگی کی بروقت صفائی، کچرے کی نکاسی اور صاف ستھرے ماحول کی فراہمی جیسے اہم امور کی جانب رکنِ اسمبلی کی توجہ مبذول کرائی۔رکنِ اسمبلی نے وفد کو یقین دلایا کہ عوامی مسائل کے حل و ترقیاتی کاموں کی تکمیل اور عیدالاضحیٰ کے پُرامن انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ضروری اقدامات کی ہدایت دینے کا بھی تیقن دیا تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کر...

اردو میڈیم سرکاری مدارس اور کالجس کے علاوہ دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کے والدین کو قربانی کا گوشت دینے کی اپیل۔

Image
حیدرآباد 27 مئی (محمد حسام الدین ریاض)  ایسے رشتہ دار،پڑوسی اور دوست احباب جن کے پاس قربانی ہو رہی ہے ان کو قربانی کا گوشت دینے کے بجائے جن غریب رشتہ داروں،پڑوسیوں کے پاس قربانی نہیں ہو رہی ہے ان کو اورخاص طور پر اردو میڈیم سرکاری مدارس اور کالجس میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات اور دینی مدارس میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات کے والدین میں قربانی کا گوشت تقسیم کریں کیونکہ ان ہی کے بچوں کی وجہ سے آج اردو زبان زندہ اور تابندہ ہے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے سرپرست معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں اور قربانی کے گوشت کے اولین مستحقین میں شامل ہیں یہ نہ سمجھیں کہ اردو میڈیم مدارس کے طلبہ و طالبات کے والدین کہاں ملیں گے   تھوڑی سی دلچسپی لیں تحقیق کریں اور پھر تلاش کر کے ان تک گوشت پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں مستحقین تک آپ کی قربانی کا گوشت بھی پہنچے گا اور اردو زبان کو زیادہ سے زیادہ تقویت بھی ملے گی  آپ کو یہ بات مناسب لگے تو دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

منترالیہ میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کی زبردست نمائندگی, ٹیچر بھرتی،اسکول گرانٹ،مردوم شماری،شکشن سیوک، اساتذہ ٹریننگ،ودربھ اسکول، سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو و فیصلہ۔

Image
ممبئی : مورخہ 26 مئی 2026 کو اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138کے بانی ساجد نثار احمد نے منترالیہ ممبئی میں وزیر تعلیم جناب دادا جی بھوسے صاحب سے خصوصی ملاقات کرکے ریاست بھر کے اساتذہ، طلبہ، اردو میڈیم اسکولوں، اقلیتی اداروں اور ٹیچر بھرتی سے متعلق مختلف اہم مسائل پر تفصیلی یادداشتیں پیش کیں نیز مختلف فیصلے لیے گئے۔اس موقع پر وزیر تعلیم جناب دادا جی بھوسے صاحب، سیکریٹری تعلیم رنجیت سنگھ دیول صاحب، نائب سیکریٹری پروشوتم کالے صاحب، ماکنے صاحب اور دیگر اعلیٰ افسران کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی۔ 🔹 TAIT-2025 ٹیچر بھرتی پر اہم میٹنگ میٹنگ میں پویتر پورٹل پر ریاست کی پرائمری، سیکنڈری اور اردو میڈیم اسکولوں کی زیادہ سے زیادہ خالی اسامیوں کو فوری اپلوڈ کرنے، روسٹر جانچ مکمل کرنے اور بندو ناماولی کی تصدیق کرکے بھرتی عمل کو تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے بانی ساجد نثار احمد نے مطالبہ کیا نے مطالبہ کیا کہ: ▪️ تمام ضلع پریشد، میونسپل کارپوریشن، نگر پالیکا اور مقامی خود اختیاری ادارے فوری طور پر خالی اسامیاں پویتر پورٹل پر درج کریں ▪️ بی ایم سی اور دیگر میونسپل اردو...

عیدقربان اور اردو زبان کاشعری سرمایہ - محمدیوسف رحیم بیدری۔

Image
عیدقربان اور اردو زبان کاشعری سرمایہ  -  محمدیوسف رحیم بیدری۔ ہر قوم میں عید کاقوی تصور ہے۔ اسی طرح اسلام بھی عیدکی بات کرتاہے۔ عید کے لغوی معنی خوشی اور جشن کے گوگل بابابتاتے ہیں۔ فرہنگ آصفیہ میں عید کے معنی نہایت خوشی کے بتائے گئے ہیں۔ ایک معنی یہ بھی کہاگیاہے کہ وہ تہوار جو عود کر آئے۔ مسلمانوں کے جشن کاروز۔ خوشی کاتہوار۔ پھریہ بھی کہ عید کے لغوی معنی واپس آنے والی چیز کے ہیں (جلد سوم، صفحہ 296) جانے کس کے ساتھ ہے صدیوں سے وعدے کی طرح  آنے کاتھا وعدہ لے کر آگئی ہے عید پھر  میرؔبیدری  عیدکے عمومی معنی جشن منانے کے بھی لئے جاتے ہیں۔عید قربان یا عید الالضحیٰ کے بارے میں فرہنگ آصفیہ میں درج ہے کہ ”عید قرباں۔ بقرعید۔ مسلمانوں کاوہ تہوار جس میں قربانیاں اور حج کرتے ہیں۔اَضحی لفظ اضحات کی جمع ہے۔ اور اضحات اصل میں اضیحہ تھا۔ کیوں کہ اس کے معنی اس قربانی کے ہیں جو چاشت کے وقت کی جائے۔ یہ رسم حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے وقت سے جب کہ انھوں نے اپنے بیٹے اسمٰعیل ؑ کی قربانی بحکم خدا کی اور وہاں بیٹے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے حضرت جبرئیل ؑ نے دنبہ رکھ دی...

حج (نظم)۔ ازقلم - محمد سلمان سجاد بلگاوی۔

Image
حج (نظم) از- محمد سلمان سجاد بلگاوی۔ فون-7411844416 کلمہ طیبہ ہے اسلام کا رکن رکین باقی رکن دین ہیں چہاروں وہ متوسلین  باندھ کر رخت سفر سوۓ حرم سب کلمہ گو راہ حق میں چلے ہیں والہانہ عازمین  ہر گھڑی سایہ فگن ہیں ان پہ رب کی رحمتیں  رب کی خوشنودی کو پانے چلے ہیں مومنین  دین حق سے وفا اب حسن عمل کے ساتھ ہو شیوہ حج ہے سراپا رحمت اللعالمین  جو بھی تائب ہیں ادا کرتے ہیں وہ رکن عظیم  ہیں وقوف عرفہ میں سب وابستگان اہل دین حج میسر ہو خدایا کبھی سجاد کو سرکے بل چل کر کرے وہ ادا ہر رکن دیں 

لبیک ( میں حاضر ہوں )۔ ازقلم : سعدیہ فاطمہ عبد الخالق، ناندیڑ مہاراشٹر۔

Image
لبیک ( میں حاضر ہوں ) ازقلم : سعدیہ فاطمہ عبد الخالق،  ناندیڑ مہاراشٹر۔ 8485884176    تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، کائنات کی ہر شئے اس واحد لاشریک کی بندگی میں ہے کہ جس نے ہمیں اپنی رحمتوں کا وعدہ کیا ہے ، اس کے لئے ہم سر بسجود ہیں ، فرشتے ، چاند ، سورج ، ستارے ، چرند ، پرند ، ہر ایک ذی روح ، اپنی روح سے حاضر ہے ، سوائے انسان کے ، انسان پر غفلت حاوی کرنے کے لئے کسی نے ٹھیکہ لے رکھا ہے ، اس غفلت سے دور ہونا بڑا سخت امتحان ہے ، لبیک صرف اس کے در پر جانے کے لئے ہی نہیں ، لبیک تمام زندگی کی بے راہ روی کی قربانی کے لئے ہے ، لبیک ایک صاف و شفاف بتائے گئے راستے پر چلنے کا نام ہے ، لبیک وقت کے صحیح استعمال کرنے کے لئے ہیں ، زندہ مثال ہے ہم ,, قبلہ اول ،، کے لئے کیا کر رہے ہیں ، کچھ نہیں ، نہ ہم دل سے اس کے لئے کچھ کئے ہیں نا دماغ سے ، دنیا کی رنگینیوں میں ہم اتنا کھو چکے ہیں کہ باہر نکلنے کے لئے خود جال بنتے جارہے ہیں ، کس چیز کے خوف نے ہمیں گھیر رکھا ہے خود ہمیں پتہ نہیں ، یا ہم ہی پتہ نہیں کرنا چاہتے ہیں ، کیونکہ ہم احساس سے ...

عید الاضحیٰ کا تہوار : خواتین کی کامیاب محنت و مشقت میں عظیم کردار۔۔ ازقلم : ڈاکٹرصدیقی نسرین فرحت۔

Image
عید الاضحیٰ کا تہوار : خواتین کی کامیاب  محنت و مشقت میں عظیم کردار۔ ازقلم: ڈاکٹرصدیقی نسرین فرحت۔ عید الاضحی بھارت کی کثیر الثقافتی اور متنوع تہذیبی کہکشاں کا ایک ایسا درخشاں ستارہ ہے جو محض ایک مذہبی تہوار نہیں، بلکہ تاریخ، عقیدت، سماجیات اور معاشیات کا ایک نہایت پیچیدہ اور گہرا امتزاج ہے۔ اس کا بنیادی فلسفہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے پیش کردہ اطاعت و تسلیم کی بے مثال قربانی کی یاد میں پیوست ہے، ایک ایسا عمل جو ذاتی خواہشات کو امرِ الٰہی کے تابع کرنے کی لازوال علامت ہے۔ تاہم، بھارت کے منفرد سماجی تانے بانے میں اس تہوار کی روح نے عصری معاشرت میں متعدد نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں، جہاں روحانیت کے ساتھ ساتھ گنگا جمنی تہذیب کی روایات، معاشی حرکیات اور صنفی کرداروں کی ایک بھرپور داستان بھی جڑی ہوئی ہے۔ اس داستان کا سب سے اہم اور اکثر غیر مرئی کردار بھارتی مسلمان عورت کا ہے، جو اس تہوار کی حقیقی معمار بھی ہے اور اس کی سب سے بڑی کارکن بھی۔ عید الاضحی کی تمام تر رونق، اس کے پکوانوں کی لذت، گھروں کی آراستگی اور رشتوں کی گرمجوشی اسی عورت کے دم سے قائم ہے، لیکن اس کی اپن...

آدابِ فرزندی اور عصرِ حاضر کا خاندانی بحران - محمد نجیب الدین، بگدل۔

Image
آدابِ فرزندی اور عصرِ حاضر کا خاندانی بحران -  محمد نجیب الدین، بگدل۔  یہ فیضانِ نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی سکھائی کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی؟ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا یہ فکر انگیز شعر محض ایک ادبی سوال نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے بنیادی ڈھانچے پر ایک گہرا فکری سوال ہے۔ درحقیقت یہ انسانی تہذیب کے سب سے گہرے سوالات میں سے ایک ہے۔ یہ سوال ہمیں اس نکتے پر لے آتا ہے کہ انسان کی اصل تعمیر کس طرح ہوتی ہے؟ کردار کہاں سے جنم لیتا ہے؟ اور وہ کون سا خاندانی اور تربیتی نظام ہےجو ایک فرد کو اس درجے تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ اپنے والد حضرت ابراہیم کے حکم اور اللہ کے فیصلے کے سامنے اپنی ذات کو مکمل طور پر جھکا دیتا ہے۔ حضرت اسماعیلؑ کا واقعہ محض ایک تاریخی یا مذہبی واقعہ نہیں بلکہ انسانی کردار کی تشکیل کا ایک مکمل ماڈل ہے۔ یہاں ایک نوجوان صرف اطاعت نہیں کر رہا بلکہ ایک پوری تربیتی تاریخ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اقبالؒ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر یہ اطاعت پیدا کہاں سے ہوئی؟ کیا یہ صرف کسی ایک لمحے کی کیفیت تھی یا برسوں پر محیط ایک زندہ تربیت کا نتیجہ تھا؟ اگر ...

روحانیت ہی اسلام کی بنیاد ہے۔۔ از قلم شیخ محمود علی۔

Image
روحانیت ہی اسلام کی بنیاد ہے۔ از قلم شیخ محمود علی۔ 8055402819 مضمون کی شروعات میں ہم روحانیت کی تعریف اسطراح کریں گے Spirituality is the development of the inner self that leads a person toward peace, morality, self-awareness, and a deeper connection with the  Divine or ultimate reality. ترجمہ “روحانیت انسان کی باطنی شخصیت کی ایسی نشوونما ہے جو اُسے سکون، اخلاقی بلندی، خود شناسی، اور خدا یا حقیقتِ مطلق سے گہرے تعلق کی طرف لے جاتی ہے۔” حضرت عبدالقادر جیلانی کے نزدیک روحانیت (تصوف) کسی ایک سادہ رسمی تعریف میں محدود نہیں، بلکہ یہ دل کی اصلاح اور اللہ سے مکمل وابستگی کا نام ہے مولانا مودودی کے مطابق روحانیت کی تعریف مولانا مودودی کے خیال میں روحانیت یہ ہے کہ “انسان کی پوری زندگی اللہ کی اطاعت کے تابع ہو جائے، اس کا دل اللہ کے خوف محبت اور یاد سے زندہ ہو اور اس کے اعمال اخلاص کے ساتھ ہوں۔” آج کا انسان ترقی، سہولت اور مادّی آسائشوں کے باوجود اندر سے بے چین دکھائی دیتا ہے۔ دولت بڑھ رہی ہے مگر سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔ علم میں اضافہ ہو رہا ہے مگر دل و دماغ اضطراب کا شکار ہیں۔ اس...

حج، قربانی اور ملک کے حالات — ایک سنجیدہ سوال۔ - سید فاروق احمد قادری۔

Image
 حج، قربانی اور ملک کے حالات — ایک سنجیدہ سوال۔ -   سید فاروق احمد قادری۔ فجر کے بعد لاکھوں حاجی میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے۔ ظہر و عصر کی نمازیں ادا ہوتی ہیں، دعائیں مانگی جاتی ہیں، آنسو بہتے ہیں اور رحمتِ الٰہی جوش میں ہوتی ہے۔ پھر مزدلفہ اور منیٰ کا سفر، شیطان کو کنکریاں مارنا، قربانی کرنا اور احرام کھولنا — یہ سب حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم سنت کی یاد دلاتے ہیں۔ حاجی جب یہ مناسک مکمل کرتا ہے تو گویا گناہوں سے پاک ہو کر نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔ تقریباً ایک کروڑ کے قریب انسانوں کا عرفات میں جمع ہونا قیامت کے دن کی یاد دلاتا ہے جب پوری انسانیت اللہ کے سامنے حساب کے لیے کھڑی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ تمام حاجیوں کا حج قبول فرمائے، ان کے گناہوں کو معاف فرمائے اور امتِ مسلمہ پر رحم فرمائے۔ آمین۔ دوسری طرف قربانی اسلام کی ایک جائز، مقدس اور سنتِ ابراہیمی عبادت ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، کھانے پینے اور اپنی تہذیب کے مطابق زندگی ...

سالِ رواں 17 لاکھ 7 ہزار 310 افراد نے حج کی سعادت حاصل کی: سعودی حکام۔

Image
سالِ رواں 17 لاکھ 7 ہزار 310 افراد نے حج کی سعادت حاصل کی: سعودی حکام۔  کی این واصف : سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے اعلان کیا ہے کہ حج 2026 میں حجاج کی کل تعداد 17 لاکھ 7 ہزار 310 (1.7 ملین) رہی۔ یہ تعداد گزشہ برس سے 2.04 فیصد زیادہ ہے۔ سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق بیرون مملکت سے 15 لاکھ 46 ہزار 655 حجاج مختلف راستوں سے سعودی عرب آئے جبکہ داخلی حجاج جن میں شہری اور رہائشی شامل ہیں، کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار 646 رہی۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اندرون اور بیرورن ملک سے آنے والے حجاج کی مجموعی تعداد میں مرد 8 لاکھ 93 ہزار 396 جبکہ خواتین کی تعداد 8 لاکھ 13 ہزار 905 رہی ہے۔ بیرون مملکت سے آنے والوں میں فضائی راستے سے 14 لاکھ 85 ہزار 729، بری راستے سے 54 ہزار 429 جبکہ بحری راستے سے 6 ہزار 497 حجاج سعودی عرب پہنچے۔ حج آپریشنز کےلیے کام کرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 4 لاکھ 20 ہزار 70 ہوگئی، تاہم والینٹیئرز کی تعداد میں تقریبا 22 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔   واضح رہے محکمہ شماریات نے یہ اعداد وشمار وزارت داخلہ کے انتظامی ریکارڈ کی مدد سے جاری...