Posts

ریاض میں “بہار کمیونٹی سروس” کے زیر اہتمام ایس آئی آر پر آگہی اجلاس کا کامیاب انعقاد۔

Image
ریاض (پریس نوٹ) “بہار کمیونٹی سروس” کے زیرِ اہتمام ایس آئی آر سے متعلق نہایت کامیاب اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں ریاض کی مختلف سماجی و فلاحی تنظیموں کے نمائندوں، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور کمیونٹی کے مرد و خواتین و کی بھاری تعداد میں شرکت کی۔  اجلاس میں بحیثیت مہمانِ خصوصی جناب انتخاب عالم، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف انڈیا اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ایس آئی آر سے متعلق قانونی، آئینی اور عملی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور حاضرین کے سوالات کے مدلل جوابات دئیے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے قانونی حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ رہیں اور آئینی تقاضوں کے مطابق اپنی دستاویزات کو مکمل رکھیں۔ اجلاس کی صدارت جناب محفوظ الرحمٰن، صدر بہار کمیونٹی سروس، نے کی۔ اپنے استقبالیہ خطاب میں انہوں نے تنظیم کے فلاحی مشن پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ بہار کمیونٹی سروس معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کی خدمت کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کرتی ہے جیسے مستحق نوجوانوں کے لیے مفت ٹیکنیکل تعلیم، باصلاحیت طلبہ کے لیے نیٹ اور جے ای ای کوچنگ اسپانسرشپ،محن...

مہاراشٹریونیفارم سول کوڈ بِل2026 - ازقلم ۔۔۔ منظور ندیم سابق جج اکولہ

Image
مہاراشٹریونیفارم سول کوڈ بِل2026 -  ازقلم ۔۔۔ منظور ندیم سابق جج اکولہ یونیفارم(یکساں) سول کوڈ جسےعرفِ عام میں مرکزی سطح پر" ایک ملک، ایک قانون" نیز ریاستی سطح پر " ایک ریاست، ایک قانون" کہا جاسکتا ہے، ہمارے ملک کی محض ایک چھوٹی سی ریاست گوا میں آزادی سے قبل سن 1870 سے نافذ ہے اور پُرتگالیوں کے سول کوڈ سے ماخذ ہے۔آزادی کے بعد آٸینِ ہند کے نفاذ کو 76 سال کا طویل عرصہ گزر چکا، تاہم فی زمانہ 28 مختلف ریاستوں اور آٹھ مرکزی علاقوں پر مشتمل اس عظیم ملک کی محض تین ریاستوں نے ائینِ ہند کے ارٹیکل 44 میں دیے گئے ایک رہنما اصول پر عمل پیرا ہونے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔غور طلب ہیکہ اسقدر طویل عرصہ گزر جانے کے بعد اتراکھنڈ میں محض سن 2024 میں نیز گجرات اور آسام میں تو ابھی ابھی مارچ اور مئی 2026 میں اس ریاستی قانون کو پاس کروایا گیا ہے !! مقام مسرت ہی کہنا چاہیۓ کہ ہماری ترقی یافتہ اور تیز رفتار ریاست مہاراشٹر مستقبل قریب میں اس سلسلے کی چوتھی ریاست بن جانے کا عزم رکھتی ہے۔حکومتِ مہاراشٹر نے 13 مارچ 2026 کو اس سلسلے میں قانون سازی کا جو مجوّزہ بل تیار کیا ہے، اُس کا ارد...

غزل - ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد

Image
 غزل  -  ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد چھوڑو یہ کام - دَھام چلو شاعری کریں  ہوگا اَدب میں نام چلو شاعری کریں ساقی ہے ہم کلام چلو شاعری کریں  ہے مست - مست شام چلو شاعری کریں  کیوں وقت خالی بیٹھکے کاٹیں جنابِمن آرام ہے حَرام چلو شاعری کریں فاسِد خیال کند نہ کر دیں دماغ کو چھوڑو خیالِ خام چلو شاعری کریں کاغذ قلم دوات ہے تصویرِ یار بھی پورا ہے انتظام چلو شاعری کریں ہاتھوں میں ساقیہ کے ہیں ساغر شراب کے حاصل ہیں دو-دو جام چلو شاعری کریں  پل بھر بھی چین لینے نہ دیتا کبھی فرار  کہتا ہے دل مدام چلو شاعری کریں سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد    

کستوری پٹ پلی کی ''تیاگمائی'' کی کہانیوں میں اصل حقیقت چھپی ہے: پروفیسر شرنپا - کہانیاں تخیل کے بجائے تجربے پر مبنی ہونی چاہئیں: پروفیسر شیوکمار ناگوار

Image
 بیدر۔ 20/جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری) بیدر یونیورسٹی کے ڈین اور سنڈیکیٹ ممبر پروفیسر شرنپا مالاگونڈا نے کہا کہ مصنف کستوری پٹ پلی کے کہانیوں کا مجموعہ ''تیاگمائی'' کی کہانیوں میں حقیقت پوشیدہ ہے۔اتوار کو کرناٹک رائٹرز اینڈ آرٹسٹ اسوسی ایشن، کنڑ بک اتھارٹی اور سری گناڈا بک اسٹور نے شہر کے کرناٹک ساہتیہ سنگھا کے کلچرل بھون میں مصنفہ کستوری ایس پٹ پلی کے ”تیاگمائی“(کہانیوں کے مجموعہ) کے ماہانہ کتاب تعارفی پروگرام کا افتتاح کیا۔آگے بتایاکہ کہانیاں انسان کو مہذب انسان اور اچھا شہری بنانے کی طاقت رکھتی ہیں۔ یہ قابل ستائش ہے کہ قارئین کو مسحور کرنے والی کہانیوں کو دل کو چھو لینے والے انداز میں بُنا گیا ہے۔ اس طرح کا کتاب تعارفی پروگرام مصنفین اور مدیران کا تعارف کرانے جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جگناتھ ہیبالے کا یہ کام قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ادب تخلیق کرنے کی ضرورت ہے جو معاشرے کے مسائل کو حل کرے اور فرد کے لیے علاج معالجے کا کام کرے۔سینئر کہانی کار شیوکمار ناگوار نے کتاب کا تعارف کرایا، کہا کہ کتاب میں کل 13 کہانیاں ہیں۔ ان تمام کہانیوں میں انسانی...

اقرا بورنار میں "رنگ بھرو" مقابلہ، طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ

Image
بورنار، 18 جولائی (نامہ نگار): اقرا ایجوکیشن سوسائٹی، جلگاؤں کے زیرِ انتظام عبدالمجید سالار اقرا اُردو ہائی اسکول، بورنار میں طلبہ میں مصوری کا ذوق پروان چڑھانے، ان کی پوشیدہ تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے اور ماحولیاتی تحفظ کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے "رنگ بھرو مقابلہ" کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ مقابلے میں جماعت پنجم سے دہم تک کے طلبہ نے بڑے جوش و خروش اور نظم و ضبط کے ساتھ حصہ لے کر اپنی فنی مہارت کا بہترین مظاہرہ کیا۔ یہ مقابلہ اسکول کے ہیڈماسٹر عارف محمد خان کی رہنمائی میں منعقد ہوا، جبکہ ڈرائنگ کلب کے انچارج شیخ روشن سر کی قیادت میں فیروز  پٹھان اور جواد انجم نے مقابلے کی منصوبہ بندی، موضوعات کے انتخاب، طلبہ کی گروپ بندی اور دیگر انتظامات نہایت منظم انداز میں انجام دیے۔ مقابلے کے لیے طلبہ کو دو گروپس، جونیئر (پنجم تا ہفتم) اور سینئر (ہشتم تا دہم) میں تقسیم کیا گیا۔ جونیئر گروپ کو "درخت بچاؤ" جبکہ سینئر گروپ کو "ایک پیڑ ماں کے نام" کے موضوع پر تصاویر میں رنگ بھرنے کا موقع دیا گیا۔ طلبہ نے اپنی تصویروں میں دلکش رنگوں، منفرد تخیل اور فن...

لوگ حیراں ہیں کہ یہ خاکِ دکن کیسی ہے۔

Image
اورنگ آباد (راست) شہرِ اورنگ آباد نہ شعر و سخن کے لیے مشہور ہے اور نہ صرف نثری شہ پاروں کے لیے۔ اس کی شہرت خالص اردو کی جائے پیدائش، پرورش و تربیت کی وجہ سے ہے۔ اسی شہر کی پناہ میں زبان کو فروغ حاصل ہوا اور یہیں سے دنیا کو اردو سے واقفیت ہوئی۔ الله تبارک و تعالیٰ کا احسان و کرم ہے کہ ہم طفلانِ ادب اسی مٹی کا خمیر ہیں جس سے ولی، سراج، شفیق، وجد، قمر اقبال، بشر نواز، فاروق شمیم اور سلیم محی الدین جیسی برگزیدہ شخصیات وابستہ ہیں۔ بہرحال یہاں کی ادبی سرگرمیوں سے ہر کوئی واقف ہیں۔ تحیر شہرِ اورنگ آباد کی ایک ادبی انجمن ہے جو خالص نوجوانوں کی انجمن ہے۔ اسی انجمن کے تحت ایک مشاعرہ کا انعقاد "بیادِ قمر اقبال" 19 جولائی 2026، بروز اتوار عالمگیرہال، بیت الیتیم عقب حج ہاؤس شام 7:30 بجے کیاگیا جس اجلاس کی صدارت صدرشعبئہ اردو مولانا آزاد کالج ڈاکٹرقاضی نویدنےکی، اور اجلاس کی ابتدائی نظامت اجمیرخان عجمی نے کی اور مشاعرےکی نظامت کے فرائض سعد ملکؔ نے انجام دیا۔ پروفیسر سلیم محی الدین نے اپنےخیالات کا اظہار کیا اور مرحوم قمرؔ اقبال کی یادیں تروتازہ کیاور خراجِ عقیدت پیش کی۔ مشاعرے...

زمستان پور کے سرکاری اردو ہائیرپرائمری اسکول کے طلبہ میں تعلیمی اشیاء کی مفت تقسیم

Image
بیدر۔ 20/جولائی (راست) سید فرقان پاشاہ صدر معلم سرکاری اردو ہائی اسکول چدری نے اپنے خطاب میں کہاکہ تعلیمی اشیاء کی تقسیم کاپروگرام یارانِ ادب بیدر نے رکھاہے۔اس موقع پر طلبہ سے یہی کہناہے کہ روزانہ طلبہ اسکول آئیں تو آپ کا تعلیمی سفر فائدہ دے گا۔ دونوں آنکھیں اور دونوں کان کھلے رکھنے سے علم حاصل ہوتاہے۔جب بھی کوئی پروگرام ہو، ہم اس کو توجہ دے کر دیکھیں اور سیکھیں۔ یہاں اسکول میں جو کچھ سیکھیں گے وہ کالج میں اور زندگی میں کام آئے گا۔ ساتھی طلبہ کو چمٹیاں نہ لیں۔ پین یاقلم سے کسی کی پسلی میں گدگدی نہ کریں۔ حکومت کی جانب سے روزانہ مفت دئے جارہے موز، انڈے کھاکر اور دودھ پی کر اسکول سے بہت ساری چیزیں سیکھ کرجائیں۔ایسے ہی خالی نہ جائیں۔روزانہ تھوڑا تھوڑا سیکھنے سے طلبہ بہت کچھ سکتے ہیں۔ بی ای او دفتر کے ای سی اوبرائے تعلقہ بیدر جناب حیدرعلی سوداگر نے کہاکہ ہشتم جماعت کے طلبہ آگے کی تعلیم سرکاری اُردو ہائی اسکول میں ہی پڑھیں۔ زمستان پور کے تعلیمی معیار کو ہائی اسکول میں بھی برقرار رکھیں بلکہ اس معیار میں مزید اضافہ کریں۔ اردو، کنڑاور انگریزی میں عبور حاصل کرکے ہائی اسکول پہنچیں۔جنا...

موجودہ عالمی حالات میں امت مسلمہ اپنے لیے مضبوط لائحہ عمل طے کرے - کاروان اسلام کو غلبہ اسلام کے لیے تیار کرنے میں خواتین کا مثالی کردار - جامعۃ البنات حیدرآباد میں جناب محمد رشاد رفعت کا خطاب

Image
حیدرآباد۔20/جولائی(راست)ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت امت مسلمہ عالمی سطح پر بھی اور ملکی سطح پر بھی سخت اور نازک حالات سے دو چار ہے۔چاہے وہ غزہ ہو، فلسطین ہو، شام ہو یا عرب ممالک۔ یا پھر ہم ہندوستان کے حالات دیکھ لیں ہر جگہ یہ امت مختلف مصائب اور آزمائشوں سے گھری ہوئی ہے۔ لیکن دوسری طرف اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ امت اپنے مقصد وجود کو بھلا چکی ہیں مادیت کے پیچھے ہے۔ مفادات کے پیچھے ہے۔ دنیا طلبی اس کا مقصد ہے۔ وہ اس بات کو بھول چکی ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو کس مقصد کے تحت یہاں بھیجا تھا اور کیا ذمہ داریاں اس پر عائد کی تھیں۔قرآن مجید کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں اس دنیا کے اندر شہادت حق کے لیے بھیجا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلبہ اسلام و دین کی سربلندی کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی کے ذریعے جدوجہد کی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اسی راستے پر لگا دیا۔لیکن آج امت مسلمہ نے اپنی زندگی کے تمام نشیب و فراز کو دنیا کے مقاصد کے حصول کے لیے لگا رکھا ہے۔ اس پر ہمیں اپنا اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں ک...

بے ڈھنگا شو بزنس، مالیگاؤں کو لگتی نئی دیمک - ازقلم : وسیم رضا خان۔

Image
بے ڈھنگا شو بزنس، مالیگاؤں کو لگتی نئی دیمک -  ازقلم : وسیم رضا خان۔ جب کسی معاشرے کے پیر حقیقت کی زمین چھوڑ کر فضول خرچی اور فحش پن کے دلدلھ میں دھنسنے لگیں، تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس کا مستقل آئی سی یو میں ہے۔ آج مالیگاؤں کے ایک بڑے حصے کا یہی حال ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے شہر میں ایک نیا اور عجیب و غریب بزنس ماڈل پھل پھول رہا ہے— ممبئی سے کسی بی گریڈ یا گمنام بالی ووڈ گلوکار یا اداکار کو اٹھا لاؤ، شو کے نام پر اسٹیج پر فحش پن اور ہڑدنگ پروسو، اور عوام کی جیبیں ڈھیلی کر کے اپنی تجوریاں بھرو۔ حد تو تب ہو جاتی ہے جب اس بھدے تماشے کو شو بزنس اور فن کا خوبصورت لباس پہنا کر جائز ٹھہرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس ناچ گانے کے شور میں سب سے دردناک بات یہ ہے کہ معاشرے کی خواتین بھی اس کا حصہ بن رہی ہیں، اور جس نئی نسل کو کتابوں کے پنے پلٹنے چاہیے تھے، وہ ان بیہودہ پروگراموں میں تالیاں پیٹ رہے ہیں۔ یہ بے حد شرمناک اور آنکھیں کھولنے والی حقیقت ہے کہ آج جب پورا ملک اور ہمارا معاشرہ چوطرفہ چیلنجوں سے گھرا ہوا ہے، تب مالیگاؤں کا ایک طبقہ مستی کے نشے میں چور ہے۔ بے روزگاری اور مہنگائی آسمان...

اقبال فہمی - (قسط اوّل) ہمالہ استقامت حیات اور خودی کا پہلا استعارہ - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔

Image
اقبال فہمی  - (قسط اوّل)  ہمالہ استقامت حیات اور خودی کا پہلا استعارہ -  ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔ علامہ محمد اقبال کی شاعری کا مطالعہ اگر صرف ادبی ذوق تشبیہات اور استعارات تک محدود رکھا جائے تو ان کے کلام کا ایک بڑا حصہ نگاہوں سے اوجھل رہ جاتا ہے۔ اقبال درحقیقت ایسے مفکر ہیں جنہوں نے شاعری کو اپنی فکر کی اشاعت ملت اسلامیہ کی بیداری اور انسان کی روحانی تعمیر کا ذریعہ بنایا۔ اسی لیے ان کی ہر نظم اپنے اندر ایک مستقل فکری نظام رکھتی ہے جس کے پس منظر میں قرآن حکیم سنت نبوی اسلامی حکمت مولانا روم کی معنویت اور خود اقبال کا فلسفۂ خودی جلوہ گر دکھائی دیتا ہے۔ نظم ہمالہ بھی اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ بظاہر یہ ایک بلند و بالا پہاڑ کی مدح معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں اقبال اس کے ذریعے ثبات عزت حرکت اور روحانی بلندی کا وہ تصور پیش کرتے ہیں جو آگے چل کر ان کی پوری فکر کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاں چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں ہمالہ کو فصیل کشور ہندوستاں کہنا محض جغرافیہ بیان کرنا نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور اخلاقی حقیقت کو...

القاضی اردو اکیڈمی کی جانب سے ادبی نشست کا اہتمام

Image
نئ دہلی (ٹی این بھارتی ) دور حاضر میں  جہاں اردو زبان کو صفحہ اول سے مٹانے کی سازش کی جارہی ہے وہاں دوسری طرف  اردو کی شیدائی  سماجی کارکن  ایڈوکیٹ  شاہ جبین قاضی نے القاضی اردو اکیڈمی اینڈ کوچنگ ٹرسٹ کی بنیاد رکھ کر ثابت کر دیا کہ اردو زبان کو سرزمین ہند سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اردو زبان کی ترقی کے پیش نظر دی انڈیا مال   نیو فرینڈز کالونی میں  آیورویدک  اینڈ یونانی  دواخانہ  کی روح رواں ،  القاضی اردو اکیڈمی اینڈ کوچنگ ٹرسٹ  کی بانی اور سر گرم سماجی کارکن   ایڈوکیٹ شاہ  جبین قاضی نے اردو ڈیولیمپینٹ  آرگنائزیشن اور   طبی یونانی کانگریس  کے  صدرڈاکٹر  سید احمد خاں  کے اعزاز میں  ایک  ادبی نشست کا اہتمام کیا۔  اس موقع پر بحیثیت صدر پدم شری پروفیسر اختر الواسع(ریٹائرڈ ) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوکیٹ شاہ جبین قاضی نے قابل فخر کارنامہ انجام دیا ہے۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر سید احمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی سطح پر ار...

اندرا آواس بیودہ کی ایس سی ای آر ٹی میں دھوم…!ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول، اندرا آواس بیودہ، تعلقہ دریاپور، ضلع امراؤتی کے صدر مدرس سید مستقیم کا مضمون "سُرجن رنگ" ای میگزین میں شائع

Image
امراؤتی: (راست) مہاراشٹر ریاستی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل (SCERT)، پونے کی جانب سے شائع ہونے والے ای میگزین "سُرجن رنگ" کے جولائی 2026 کے تازہ شمارے کی آن لائن تقریبِ اجرا منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ایس سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ہیمت وسیکر کی صدارت اور شریک ڈائریکٹر محترمہ کملادیوی آواٹے کی خصوصی موجودگی میں ای میگزین کا اجراء عمل میں آیا۔ اس شمارے کے لیے "وظیفہ امتحان اور اسکولی منصوبہ بندی" کے موضوع پر ریاست بھر کے اساتذہ سے تحقیقی و تجرباتی مضامین طلب کیے گئے تھے۔ ان منتخب مضامین میں ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول، اندرا آواس بیودہ، تعلقہ دریاپور، ضلع امراؤتی کے صدر مدرس جناب سید مستقیم کا مضمون بھی شامل کیا گیا، جسے "سُرجن رنگ" کے جولائی شمارے میں نمایاں طور پر شائع کیا گیا ہے۔ یہ ای میگزین ریاست بھر کے تقریباً 58 ہزار اساتذہ تک آن لائن پہنچ رہا ہے، جس کے ذریعے ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول، اندرا آواس بیودہ اور ضلع امراؤتی کا نام ریاستی سطح پر نمایاں ہوا ہے۔ اس کامیابی سے اسکول اور ضلع کے تعلیمی میدان میں ہونے والے معیاری کام کو وسیع پیمانے ...

سر سیّد نیلنگا عبدالقادر پاشاہ دیشمکھ کی 15/ ویں برسی کے موقع پر خصوصی تحریر - ازقلم : ڈاکٹر شیخ محمد سراج الدین۔

Image
سر سیّد نیلنگا عبدالقادر پاشاہ دیشمکھ کی 15/ ویں برسی کے موقع پر خصوصی تحریر -  ازقلم : ڈاکٹر شیخ محمد سراج الدین۔ 919059488400   سرزمین دکن علم و ادب کے لیے ہمیشہ سے زرخیز رہی ہے۔ تعلیمی میدان میں جن شخصیات نے بے لوث خدمات انجام دی ہیں اِن میں محترم محمد محمد الحسینی صاحب ، شیخ محمد حسین صاحب ،عبدالحمید فاران صاحب و عبدالقادر پاشاہ دیشمکھ صاحب قابلِ ذکر ہیں ۔ عبدالقادر پاشاہ دیشمکھ صاحب کا تعلق ریاستِ مہاراشٹرا کے ضلع لاتور کے تعلقہ نیلنگا سے ہے ، نیلنگا کی سرزمین اولیاء اللہ کی سرزمین ہے۔ یہاں پر حضرت سید شاہ نور الدین نور الحق اسحاق قادری رح المعروف پیر پاشاہ قادری ،حضرت سید شاہ حیدر ولی اللہ نبیرہ قادری رح المعروف دادا پیر، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رح کی آخری قیام گاہ ہے۔  عبدالقادر پاشاہ دیشمکھ صاحب کی پیدائش مذہبی ،دیندار گھرانے میں عبدالرحمن دیشمکھ و امینہ بیگم کے یہاں 1946 ۔ 12/ ربع لاوال صبح صادق ہوئی ۔ اِن کی پرورش میں اِن کے والدِ محترم کا بڑا رول رہا۔ اِن کی ابتدائی تعلیم نیلنگا و بیدر میں ہوئی , اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ شہر فرخندہ حیدرآباد کا رخ...

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلمقسط نمبر 1: عام الفیل، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے کے واقعات -از قلم: شعیب احمد محمدی۔

Image
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم قسط نمبر 1: عام الفیل، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے کے واقعات - از قلم: شعیب احمد محمدی۔  9284434542 1. مکہ اور قریش کی حالت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے مکہ شہر عرب کا مرکز تھا۔ یہاں بیت اللہ تھا جہاں پوری دنیا سے لوگ حج کے لیے آتے تھے۔ مکہ کے سردار قریش تھے۔ قریش کے بڑے کام تھے: 1. سقایت - حجاج کو زمزم پلانا 2. رفادت - حجاج کو کھانا کھلانا   3. حجابہ - کعبہ کی کنجی اور خدمت اس وقت قریش کے سردار حضرت عبدالمطلب بن ہاشم تھے۔ وہ بہت نیک، سخی اور عزت والے تھے۔ لیکن اس دور میں عرب میں بت پرستی عام تھی۔ کعبہ کے اندر اور باہر 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ کمزوروں پر ظلم ہوتا تھا۔ 2. حضرت عبداللہ کا واقعہ قرعہ - قربانی سے نجات حضرت عبدالمطلب نے ایک مرتبہ اللہ سے عہد کیا: یا اللہ اگر تو مجھے 10 بیٹے عطا فرمائے تو میں ان میں سے ایک کو کعبہ کے پاس قربان کر دوں گا۔ اللہ نے ان کو 10 بیٹے عطا فرمائے جن میں سب سے چھوٹے اور سب سے محبوب حضرت عبداللہ تھے۔ جب عہد پورا کرنے کا وقت آیا تو حضرت عبدالمطلب نے قرعہ ڈالا۔ پہلی بار بھی عب...

فٹبال کی وہ رات جسے وقت بھی بھول نہیں سکے گا - ازقلم : جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور۔

Image
فٹبال کی وہ رات جسے وقت بھی بھول نہیں سکے گا -  ازقلم : جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور۔ فُٹبال ورلڈ کپ 2026 کا فائنل دروازے پر ہے – دنیا کی دھڑکنیں گنتا ہوا ایک ایسا لمحہ، جس کے سامنے خود وقت بھی گویا اسٹيڈيم کے دروازے پر کھڑا ہے، گھڑی کی سوئیاں تھام کر۔ ادھر گرمیوں کی تپش ہے، اُدھر فُٹبال کا بخار، اور درمیان میں وہ نرَم سی بے چینی جو صرف بڑے موقعوں سے پہلے ہوا میں گھلتی ہے۔ شہروں کی سڑکوں سے لے کر کیفے کی اسکرینوں اور سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز تک ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے: آج تاج کس کے سر پر سجے گا؟ فائنل کا دن ہمیشہ ایک عجیب جادو لیے آتا ہے۔ صبح جلدی اُٹھنے والے بھی آج رات دیر تک جاگنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اور رات کے جاگنے والے بھی اس ایک میچ کے لیے اپنی روٹین سیدھی کر لیتے ہیں۔ ہاتھ میں ٹکٹ ہو تو بھی دل کی کپکپاہٹ کم نہیں ہوتی، اور بس، میٹرو یا کیفے کی اسکرین پر میچ دیکھنے کا ارادہ ہو تب بھی جذبہ کم نہیں ہوتا۔ اسٹيڈيم کے باہر سے لے کر گھروں کے ڈرائنگ روم تک ہر جگہ ایک ہی رنگ چھایا ہوتا ہے: اُمید کا، خوف کا، اور اس ناملفوظ دعا کا جو ہر سپورٹر نے دل میں چُھپا رکھی ہوتی ...

اقراء اردو ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، سالار نگر، جلگاؤں میں منفرد اے۔ آے۔ سی۔یو۔ پروجیکٹ کا آغاز۔

Image
جلگاؤں (سعید پٹیل) اقراء اردو ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، سالار نگر، جلگاؤں میں سست رفتار طلبہ (Slow Learners) کی تعلیمی بہتری کے لیے ایک منفرد اقدام AICU (Academic Intensive Care Unit) کے آغاز کے موقع پر والدین کی ایک خصوصی میٹنگ کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز حماد کی تلاوت قران سے ہوا اس کے بعد ائے ہوئے تمام سرپرست حضرات و والدین کا خیرمقدم کیا گیا۔  فرحت تبسم (پروجیکٹ انچارج) نے AICU پروجیکٹ کے اغراض و مقاصد، طریقۂ کار اور عملی منصوبہ پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر پرنسپل شیخ نور محمد نے ایک جامع پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعے پروجیکٹ کی تفصیلات ، اس کے فوائد اور طلبہ کی تعلیمی ترقی کے لیے اس کی اہمیت کو واضح کیا۔اس میٹنگ میں شاہین اکیڈمی کے اس پروجیکٹ کے تعلق سے ویڈیوز بھی دکھائی گئی۔ پروگرام میں ڈاکٹر ہارون بشیر نے اپنی قیمتی رہنمائی اور مفید تجاویز پیش کیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں ، ان کی تعلیمی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھیں ، اساتذہ سے رابطہ برقرار رکھیں اور اسکول کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ہر طال...

امباجوگائی میں خواتین کی فکری بیداری کے لیے شاندار تربیتی نشست - (ایڈووکیٹ سید فیض کا فکر انگیز خطاب: معاشرے کی تعمیر میں خواتین کا کردار)

Image
امباجوگائی (پروفیسر مہ جبین فاروقی): شہر امباجوگائی میں مشن ہیومینیٹی فاؤنڈیشن اور اعجاز لالا پرتِشٹھان کے مشترکہ تعاون سے "شخصیت سازی، حیا، تعلیم اور مستقبل" کے عنوان پر ایک اصلاحی و تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام خصوصی طور پر خواتین اور طالبات کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، جس میں شہر اور مضافاتی علاقوں سے طالبات، معزز خواتین اساتذہ اور خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کے مرکزی مقرر، اسلامک ریسرچ ہیومینیٹی فاؤنڈیشن (IRF) کے بانی و صدر ایڈووکیٹ سید فیض نے اپنے خطاب میں موجودہ دور کے اخلاقی، تعلیمی اور سماجی چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ شخصیت کی حقیقی تعمیر حیا، اعلیٰ کردار، علم، نظم و ضبط اور خود اعتمادی سے ہی ممکن ہے۔ اگر طالبات اپنی صلاحیتوں کو مثبت رخ دیں اور وقت کی قدر کریں، تو وہ ایک روشن اور بیدار معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے والدین اور اساتذہ پر بھی زور دیا کہ وہ نئی نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ پروگرام کے انعقاد میں شہر کے نوجوانوں نے نظم و ضبط اور انتظامات سنبھال کر سرگرم کرد...

جمعیت علماء رنگم پیٹ تماپور کے زیر اہتمام شجرکاری مہم کامیابی کے ساتھ منعقد۔

Image
بتاریخ 19 جولائی 2026 بروز اتوار جمعیت علماء رنگم پیٹ تماپور تعلقہ شوراپور ضلع یادگیر کے زیر اہتمام ایک بامقصد اور روح پرور شجرکاری مہم کا انعقاد عمل میں آیا اس پروگرام کا مقصد ماحولیات کے تحفظ سرسبز و شاداب معاشرے کے قیام اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں درخت لگانے کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا پروگرام کی نظامت مولانا مفتی محمد رفیق ندوی شیخ امام و خطیب عثمانیہ مسجد رنگم پیٹ تماپور نے نہایت خوبصورت انداز میں انجام دی پروگرام کا آغاز مولانا ذوالفقار صاحب رشادی امام و خطیب مکہ مسجد تماپور کی پرسوز تلاوت قرآن سے ہوا جس سے محفل نور سے منور ہوگئی اس کے بعد مولانا عبداللہ صاحب نے بارگاہ رسالت میں نعت رسول کا خوبصورت نذرانہ پیش کیا جس سے حاضرین کے دل عشق رسول سے سرشار ہوگئے بعد ازاں مولانا مفتی ضمیر صاحب اشاعتی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء رنگم پیٹ تماپور نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تمام معزز مہمانان کرام علماء ائمہ مساجد کے ذمہ داران اور شرکائے پروگرام کا خیرمقدم کیا اور شجرکاری مہم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اس کے بعد مولانا مفتی عبدالقدیر صاحب اشاعتی صدر جمعیت علماء رنگم پ...

ہندوستانی مسلمانوں کو کیمرہ دوبارہ سنبھالنا ہوگا - ازقلم : پروفیسر احتشام احمد خان - (ہیڈ اینڈ ڈین شعبہ ترسیل عامہ و صحافت، مانو۔)

Image
ہندوستانی مسلمانوں کو کیمرہ دوبارہ سنبھالنا ہوگا -  ازقلم : پروفیسر احتشام احمد خان -  (ہیڈ اینڈ ڈین شعبہ ترسیل عامہ و صحافت، مانو۔)   ہندوستانی مسلمان کئی نسلوں سے ہندوستانی سنیما کے معمار رہے ہیں۔ ہندی فلموں کی زبان خود اردو کی ادبی لطافت اور شعری حسن سے تشکیل پائی۔ نامور مکالمہ نگاروں، نغمہ نگاروں، کہانی نویسوں، موسیقاروں، اداکاروں اور ہدایت کاروں نے مل کر ایک ایسی فنی روایت قائم کی جس نے ہندوستانی سنیما کو اس کی ثقافتی شناخت عطا کی۔ مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ آج مسلم معاشرے کے بعض حلقے فلمی تعلیم اور فلم سازی کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات اسے مذہبی اعتبار سے بھی ناجائز سمجھتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس پر سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔  بحث کا موضوع یہ نہیں کہ فحاشی، عریانی یا غیر اخلاقی تفریح کو فروغ دیا جائے۔ اسلام سمیت تمام مذاہب ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جو بے حیائی یا اخلاقی انحطاط کو فروغ دے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خود فلم اور فلمی و ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ قابلِ اعتراض ہیں؟ کیمرہ محض ایک آلہ ہے۔ قلم کی ...

اقلیتی تعلیم پر منڈلاتے سائے یا آئینی حقوق کا امتحان؟"مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی معاملے پر جلگاؤں سے اٹھی بلند آواز" - عقیل خان بیاولی، (موظف صدر مدرس جلگاؤں۔)

Image
اقلیتی تعلیم پر منڈلاتے سائے یا آئینی حقوق کا امتحان؟ "مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی معاملے پر جلگاؤں سے اٹھی بلند آواز"  -   عقیل خان بیاولی، (موظف صدر مدرس جلگاؤں۔) تعلیم کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد، قوم کی ترقی کا زینہ اور آئین ہند کی روح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی تعلیمی ادارے سے متعلق ایسا تنازع پیدا ہو جس کے اثرات ہزاروں طلبہ و طالبات کے مستقبل پر مرتب ہونے لگیں، تو وہ محض ایک ادارے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی اہمیت کا معاملہ بن جاتا ہے۔ رام پور (اتر پردیش) کی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق جاری تنازع نے بھی ایسے ہی کئی آئینی، تعلیمی اور انسانی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اسی پس منظر میں جلگاؤں کے سماجی ادارے "ایکتا سنگٹھن" نے ایک قابلِ توجہ اور ذمہ دارانہ قدم اٹھاتے ہوئے صدرِ جمہوریہ ہند، چیف جسٹس آف انڈیا، وزیر اعلیٰ اتر پردیش، قومی اقلیتی کمیشن اور قومی انسانی حقوق کمیشن کو تفصیلی عرضداشت روانہ کی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس حساس معاملے میں فوری مداخلت کی جائے تاکہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو غیر یقینی صورتحال سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ...

طلاق دینے کا صحیح طریقہ(2)۔ از قلم: ظفر ھاشمی ندوی سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ-

Image
طلاق دینے کا صحیح طریقہ(2) از قلم: ظفر ھاشمی ندوی سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ- پہلی قسط  میں ہم نے تفصیل سے طلاق دینے کے غلط طریقہ کا ذکر کیا ہے- آج ہم اسکا شرعی لحاظ سے صحیح طریقہ بیان کریں گے- اس کا سب سے صحیح طریقہ یہ ہے کہ طلاق دی ہی نہ جائے - کیونکہ کسی بیماری کا پہلا علاج آپریشن نہیں ہوتا ہے بلکہ آپریشن ہر بیماری کا آخری علاج ہے - بلا شبہ طلاق کی حیثیت آپریشن سے کم نہیں ہے اور بد قسمتی سی مردوں نے طلاق جیسے مہلک مرض کا پہلا علاج طلاق دینا بنا لیا ہے - یہ بحث الگ ہے کہ زیادہ غلطیاں کس کی تھیں یا ہوتی ہیں - عجیب بات ہے کہ ہر شوہر جو سلوک اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے اگر وہی سلوک اس کی بہن یا بیٹی کے ساتھ ہو تو وہ ظلم ہے اور خود وہی کرے تو وہ انصاف ہے- اسی طرح ساس جو سلوک اپنی بہو کے ساتھ کرتی ہے اگر وہی سلوک اس کی بیٹی یا بہن کے ساتھ ان کی ساس کرے تو وہ ظلم ہے- آخر یہ کونسا انصاف ہے؟ ہمارے معاشرہ کی تقریبا ہر ساس یہ بھول جاتی ہے کہ جب اس کی ساس اس کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کرتی تھی تو اس پر کیا گزرتی تھی؟ ہونا تو یہ چاہیئے کہ آچ کی بہو جب کل کو ساس بنے تو اپنی  س...

سونم وانگچک کی تحریک کی حمایت میں جلگاؤں میں آج پُرامن احتجاج۔

Image
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): لداخ کے معروف ماہرِ ماحولیات اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کی جاری تحریک سے اظہارِ یکجہتی اور اخلاقی حمایت کے لیے آج بروز پیر 20 جولائی دوپہر 12 بجے جلگاؤں کے شیوتیرتھ میدان (جی ایس گراؤنڈ) میں پُرامن احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا ہے۔ "جلگاؤں کر جاگرت سمیتی" کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے اس احتجاج میں شہر اور ضلع کے طلبہ و طالبات، نوجوان، والدین، اساتذہ، مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں، ہم خیال شہریوں اور باشعور جلگاؤں باشندوں سے کثیر تعداد میں شرکت کرکے اس تحریک کی اخلاقی حمایت کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ احتجاج کسی سیاسی جماعت کا پروگرام نہیں، بلکہ طلبہ کے بہتر مستقبل، معیاری نظامِ تعلیم، ماحولیاتی تحفظ اور جمہوری اقدار کے دفاع جیسے اہم عوامی مسائل سے متعلق ہے۔ ان بنیادی موضوعات کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کرنا اور پُرامن و جمہوری انداز میں اپنی اخلاقی حمایت کا اظہار کرنا ہی اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہے۔ منتظمین نے شہریوں سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے ...

اندرا آواس بیودہ کی ایس سی ای آر ٹی میں دھوم…!ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول، اندرا آواس بیودہ، تعلقہ دریاپور، ضلع امراؤتی کے صدر مدرس سید مستقیم کا مضمون "سُرجن رنگ" ای میگزین میں شائع ہوا

Image
اندرا آواس بیودہ کی ایس سی ای آر ٹی میں دھوم…! ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول، اندرا آواس بیودہ، تعلقہ دریاپور، ضلع امراؤتی کے صدر مدرس سید مستقیم کا مضمون "سُرجن رنگ" ای میگزین میں شائع ہوا  امراؤتی: مہاراشٹر ریاستی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل (SCERT)، پونے کی جانب سے شائع ہونے والے ای میگزین "سُرجن رنگ" کے جولائی 2026 کے تازہ شمارے کی آن لائن تقریبِ اجرا منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ایس سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ہیمت وسیکر کی صدارت اور شریک ڈائریکٹر محترمہ کملادیوی آواٹے کی خصوصی موجودگی میں ای میگزین کا اجراء عمل میں آیا۔ اس شمارے کے لیے "وظیفہ امتحان اور اسکولی منصوبہ بندی" کے موضوع پر ریاست بھر کے اساتذہ سے تحقیقی و تجرباتی مضامین طلب کیے گئے تھے۔ ان منتخب مضامین میں ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول، اندرا آواس بیودہ، تعلقہ دریاپور، ضلع امراؤتی کے صدر مدرس جناب سید مستقیم کا مضمون بھی شامل کیا گیا، جسے "سُرجن رنگ" کے جولائی شمارے میں نمایاں طور پر شائع کیا گیا ہے۔ یہ ای میگزین ریاست بھر کے تقریباً 58 ہزار اساتذہ تک آن لائن پہنچ رہا ہے، جس...

غزل - ازقلم : حکیم سعید میسوری۔

Image
          غزل -  ازقلم : حکیم سعید میسوری۔ زندگی ، کیا ہے ! ایک دھوکہ ہے  ٹھوکریں کھا کے میں نے جانا ہے  دشت فرقت میں خار ہیں بالکل ننگے پاؤں مجھے ہی چلنا ہے  دھوپ نفرت کی چھا گئی ہر سو  خون ، انسانیت کا بہنا ہے شرک و بدعت لباس ہے جن  کا قبر میں آگ ان کا گہنا ہے  اے سعید ، آج جو ملی مہلت  یہ غنیمت ہے ، اب سنبھلنا ہے          93414 77235

ایک یادگار خط - تنویر منیار بنام محمود نوازا۔

Image
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل پرانی فائلیں، ڈائریاں اور خطوط نظر سے گزر رہے تھے تو یادوں کے کئی دریچے ایک ساتھ کھل گئے۔ انہی میں ایک ایسی یاد بھی تازہ ہوئی جس نے مجھے یہ محسوس کرایا کہ اسے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کرنا چاہیے۔ سن 1997 کے ایس ایس سی بورڈ امتحانات میں ایک تاریخ رقم ہوئی، جب تنویر منیار نے تمام میڈیم میں پورے مہاراشٹر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک اردو طالب علم نے پورے مہاراشٹر میں سرفہرست آنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اتفاق دیکھیے کہ میرا اولین تقرر کولہاپور کے ایک چھوٹے سے گاؤں الہ آباد میں ہوا۔ وہ زمانہ موبائل فون سے پہلے کا تھا۔ اسکول کی مصروفیات کے بعد مطالعہ ہی میرا بہترین ساتھی تھا۔ مختلف رسائل اور جرائد جمع کرنا اور انہیں بار بار پڑھنا میری عادت تھی، اس لیے میرے پاس پرانے رسائل کا ایک اچھا خاصا ذخیرہ موجود تھا۔ ایک دن انہی جمع شدہ رسائل میں سے ماہنامہ امنگ کا ایک پرانا شمارہ میرے ہاتھ لگا۔ اس وقت تک تنویر منیار مہاراشٹر کے فاتح بن چکے تھے، لیکن جو رسالہ میرے سامنے تھا وہ کئی سال پرانا تھا۔ بچوں کو رسالے کے مختلف گوشوں سے متعارف کراتے ہو...

جامع اخباری رپورٹ: پاسپورٹ اور بین الاقوامی شہریت کی قانونی حیثیت - عالمی امیگریشن قوانین اور ہندوستانی پاسپورٹ ایکٹ 1967ء کی دفعہ 6 کے تناظر میں تجزیاتی مطالعہ۔

Image
شری وردھن : (اظہر ظہیر الدین کردمے) حالیہ دنوں میں زیرِ بحث آنے والی میڈیا رپورٹس، آڈیو کلپس اور بین الاقوامی سفارتی قوانین کی روشنی میں یہ سچائی مکمل طور پر عیاں ہو چکی ہے کہ کسی بھی انسان کی قومی شناخت اور قانونی شہریت کا سب سے معتبر، مستند اور ناقابلِ تردید ثبوت اس کا "پاسپورٹ" ہوتا ہے۔ پاسپورٹ محض ایک سفری دستاویز نہیں ہے، بلکہ یہ ریاست اور شہری کے درمیان اس قانونی رشتے کا عالمی اعلامیہ ہے جسے پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ عالمی اصول اور شہریت کی بنیادی تعریف عالمی قوانین اور سفارتی ضوابط کے :  مطابق، کوئی بھی خود مختار ملک اپنے شہریوں کو جو پاسپورٹ جاری کرتا ہے، وہ اس بات کی حتمی سند ہوتی ہے کہ حاملِ پاسپورٹ اس ملک کا قانونی شہری ہے۔ مثال کے طور پر، جب حکومتِ امریکہ اپنے کسی شہری کو پاسپورٹ جاری کرتی ہے، تو وہ بین الاقوامی سطح پر "امریکی شہری" (American Citizen) کہلاتا ہے۔ اسی طرح، حکومتِ ہند کی جانب سے جاری کردہ پاسپورٹ کے حامل افراد کو دنیا کے ہر کونے میں "انڈین سٹیزن" (Indian Citizen) یعنی ہندوستانی شہری تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہندوستانی قانون کا...