Posts

جب سترہ سالہ سارتھک کی تحقیق پارلیمنٹ تک پہنچی (سی۔ بی۔ ایس۔ ای۔) آن اسکرین مارکنگ معاملہ۔ - تحریر: پٹھان شریف خان۔

Image
جب سترہ سالہ سارتھک کی تحقیق پارلیمنٹ تک پہنچی (سی۔ بی۔ ایس۔ ای۔) آن اسکرین مارکنگ معاملہ۔ -  تحریر: پٹھان شریف خان۔ ہندوستان میں تعلیم کو ترقی اور روشن مستقبل کی ضمانت تصور کیا جاتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں اور ملک کے معتبر تعلیمی بورڈز پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔ انہی اداروں میں ایک اہم نام سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) کا ہے، جو 1929 میں قائم ہوا اور آج پورے ملک میں مرکزی حکومت کے ماتحت ایک بڑے تعلیمی بورڈ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ ہر سال لاکھوں طلبہ اس بورڈ کے تحت امتحانات دیتے ہیں اور اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ مگر سال 2026 میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سی بی ایس ای کے امتحانی نظام، شفافیت اور انتظامی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس معاملے کو منظر عام پر لانے والے کوئی سینئر صحافی، تحقیقاتی ادارے یا سیاسی شخصیات نہیں تھیں، بلکہ صرف سترہ سال عمر کے تین نوجوان طلبہ سارتھک سدھانت، ویدانت شری واستو اور نسرگ ادھیکاری تھے، جنہوں نے اپنی تحقیق اور جستجو سے پورے ملک کی توجہ اس ج...

الامان اردو بائز ہائی سکول میں" عالمی یومِ ماحولیات" جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔

Image
وجئے پور، نمائندہ خصوصی: الامان اردو بائز ہائی اسکول، چاندپور کالونی، وجئے پور میں بروز جمعہ بتاریخ 05 جون 2026 عالمی یومِ ماحولیات نہایت جوش و خروش اور ماحولیاتی شعور کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر محترمہ پی جی برادار (ای سی او)، محترمہ صغریٰ عالم چودھری (سی آر پی، یو جی ایس نمبر 04 کلسٹر)، جناب معین ملا (سی آر پی، جل نگر)، میر معلمہ محترمہ نازیہ جاگیردار، اساتذہ کرام اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک رہی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب معین ملا نے اپنے خطاب میں کہا کہ "سبزہ ہو تو صحت ہے، سبزہ ہو تو خوشحالی ہے۔ آئیے درخت لگائیں اور سرسبز و شاداب ماحول کو فروغ دیں۔ ہرے بھرے ماحول کے پیغام کو عام کرتے ہوئے عالمی یومِ ماحولیات منائیں۔" آج پوری دنیا ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں، ان کی حفاظت کریں اور اپنے ماحول کو صاف، سرسبز اور خوشگوار بنائیں۔آپ نے طلبہ کو ماحول دوست سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تلقین کی۔محترمہ پی جی برادار (ای سی او) نے الامان اردو بائز ہائی اسک...

بھارت میں بین الاقوامی اسکول، نصاب اور تعلیمی بورڈز: ایک بدلتا ہوا منظرنامہبقلم : محمود علی لیکچرر۔

Image
بھارت میں بین الاقوامی اسکول، نصاب اور تعلیمی بورڈز: ایک بدلتا ہوا منظرنامہ بقلم : محمود علی لیکچرر۔ 8055402819 تعارف تعلیم صرف کتابوں امتحانات اور ڈگریوں کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے عمل کا نام ہے جو انسان کی شخصیت، فکر صلاحیت اور مستقبل کو تشکیل دیتا ہے گزشتہ چند دہائیوں میں بھارت کے تعلیمی نظام میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ آج صرف روایتی اسکول ہی نہیں بلکہ International Schools، مختلف Curriculums اور متعدد تعلیمی بورڈز بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ International School کیا ہے؟ ایسا اسکول جو مقامی نصاب کے بجائے یا اس کے ساتھ بین الاقوامی نصاب (Curriculum)، عالمی تدریسی طریقوں اور بین الاقوامی معیار کی تعلیم فراہم کرے، اسے International School کہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انٹرنیشنل اسکول ایسے تعلیمی ادارے ہیں جو روایتی تدریس کے ساتھ عالمی نصاب، جدید تدریسی طریقوں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق طلبہ کی علمی و عملی تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔ بھارت کے اہم تعلیمی بورڈز بھارت میں متعدد تعلیمی بورڈز رائج ہیں۔ ہر بورڈ کا اپنا نصاب، امتحانی نظام اور تدریسی انداز ہوتا ہے۔ 1. CBSE (Central ...

عالمی یوم تحفظِ ماحولیات۔ - سعدیہ فاطمہ عبدالخالق، ناندیڑ مہاراشٹر۔

Image
عالمی یوم تحفظِ ماحولیات۔ -  سعدیہ فاطمہ عبدالخالق، ناندیڑ مہاراشٹر۔  8485884176   تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، قدرت نے انسان کو ایک خوب صورت اور متوازن ماحول عطا کیا ہے جس میں ہوا، پانی، مٹی، درخت، پہاڑ، دریا، سمندر، جانور اور دیگر تمام جاندار شامل ہیں ماحول ہی زندگی کی بنیاد ہے اگر ماحول صاف ستھرا، محفوظ اور متوازن ہو تو انسان صحت مند زندگی گزار سکتا ہے، لیکن اگر یہی ماحول آلودہ اور خراب ہو جائے تو انسانی زندگی سمیت تمام جانداروں کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے، موجودہ دور میں صنعتی ترقی، آبادی میں اضافہ، جنگلات کی کٹائی، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال اور قدرتی وسائل کے غلط استعمال نے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے، انہی مسائل کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانے کے لئے ہر سال 5 جون کو "عالمی یوم تحفظِ ماحولیات" منایا جاتا ہے، عالمی یوم تحفظِ ماحولیات کا آغاز اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہوا 1972ء میں انسانی ماحول کے بارے میں اقوام متحدہ کی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کے بعد ماحول کے تحفظ کے لئے عالمی سطح پر شعور پیدا کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں،...

ڈی کے شیوکمار فینز ایسوسی ایشن کی جانب سے نئی حکومت کی تشکیل پر جشن۔

Image
بیدر، 4 جون (نامہ نگارمحمد عبدالصمد): ریاست میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے پر آل کرناٹک ڈی کے شیوکمار فینز ایسوسی ایشن بیدر کی جانب سے جنواڈا روڈ پر واقع نوادگیری ایمینوئل میتھوڈسٹ چرچ لے آؤٹ میں جشن منایا گیا۔ ایسوسی ایشن کے صدر امر بھانگے کی قیادت میں منعقدہ اس تقریب میں کارکنوں اور حامیوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں، پٹاخے پھوڑے اور نعرے بازی کرتے ہوئے نئی حکومت کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں ریاست میں عوام دوست حکمرانی اور ہمہ جہت ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امر بھانگے نے کہا کہ کانگریس ہائی کمان کا فیصلہ ریاست کے عوام کی امنگوں کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی کے شیوکمار کی طویل سیاسی جدوجہد، تنظیمی خدمات اور کارکنوں کے ساتھ مضبوط رشتہ انہیں اس منصب کا مستحق بناتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس موقع پر ایم آر سنجے راج، موسیٰ، دھنراج بھانگے، سیمسن، جوشوا ٹونی، ابھیلاش، پرشانتھ، اکشے، اراوند، ایمانوئل، انیل، امول او...

رحیم خان کو کابینی وزیر بنانے کے مطالبہ پر یوتھ کانگریس کا منفرد احتجاج۔

Image
بیدر، 4 جون (نامہ نگار):  ریاستی کابینہ میں بیدر شمال کے رکن اسمبلی جناب محمد رحیم خان کو شامل کرنے کے مطالبہ کے تحت کانگریس کارکنان اور حامیوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ بدھ کے روز یوتھ کانگریس بیدر اسمبلی حلقہ یونٹ کے کارکنوں نے شہر کے نئی کمان کے قریب محمد رحیم خان کی تصویر کو دودھ سے غسل دے کر منفرد انداز میں احتجاج کیا۔ اس موقع پر کارکنان نے رحیم خان کی تصاویر والے پلے کارڈز تھام رکھے تھے اور ’’رحیم خان کو انصاف دو‘‘، ’’رحیم خان کو وزارت دو‘‘ اور ’’عوام کی خواہش پوری کرو‘‘ جیسے نعرے بلند کیے۔ بعد ازاں کارکنوں نے ان کی تصویر پر دودھ چڑھا کر اپنی حمایت اور محبت کا اظہار کیا۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ رحیم خان گزشتہ دو دہائیوں سے عوامی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ وہ چار مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں اور دو مرتبہ وزیر کی حیثیت سے بھی کامیاب خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اقلیتی برادری اور پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، اس لیے انہیں نئی کابینہ میں مناسب نمائندگی دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رحیم خان کا شمار ریاست کے سینئر اور تجربہ...

ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی - محمد ناظم ملی تونڈا پوری جامعہ اکل کوا ں۔

Image
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی -  محمد ناظم ملی تونڈا پوری جامعہ اکل کوا ں۔ صداقت عدالت شجاعت اچھائی سچائی امانت داری راست بازی حقانیت احقاق حق وابطال باطل جیسے بلند خصائل ریب و تردد سے پاک اور شکوک و شبہات سے ازاد طمع لالچ تملقیت اور چاپلوسی جیسے برے خصائل سے پرے یہ وہ اچھائیاں سچائیاں اور خصائص ہیں جو بندہ مومن کی شان بتلائی گئی ہے اور انہی خصائص حسنہ کی بنیادوں پر اسلامی قافلہ روز ازل سے قائم دائم بلکہ دنیا پر چھایا ہوا ہے مگر عہد حاضر میں یہی خصائل بندہ مومن کی زندگیوں سے مفقود نظر اتے ہیں بلکہ سیاسی بازیگروں کے یہاں تو اسی کو کمال و جمال اور اعلی سیاست کا معیار سمجھا جا رہا ہے ۔۔جو جتنا بڑا جھوٹا مکار دغا باز خائن و بےایمان ہو وہ اتنا ہی بڑا باعزت محب وطن ایماندار اور اتنا ہی بڑا عوام الناس کا ہمدرد اور غم گسار مانا جا رہا ہے یہ انسانی ضمائرکی کجروی ہے اور انسانی طبائع کی بدبختی۔ کتابوں میں ایک بڑی دلچسپ حکایت مرقوم ہے ہندوستان میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا جب ہریجنوں کو بہت ذلیل سمجھا جاتا تھا ان لوگوں کے رہنے کا محلہ گاؤں سے دور ہوتا تھا پانی پینے کا کنواں بھی ا...

سی. ای. ڈی. ایم. ایسوسی ایٹ محمد منیر کی دختر نے دسویں میں مسلم اقلیت میں ریاستی سطح پر پہلا مقام حاصل کیا، وزیر اقلیت کے ہاتھوں شاندار تہنیت..

Image
وجے واڑہ : (راست) سینٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف مائنارٹیز (CEDM) کے ایسوسی ایٹ محترم محمد منیر صاحب کی دختر نے دسویں جماعت کے امتحانات میں 597 نشانات حاصل کرکے مسلم اقلیتی طبقہ میں ریاستی سطح پر اول اور جنرل میرٹ لسٹ میں تیسرا مقام حاصل کرکے نمایاں کامیابی درج کرائی ہے۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ سیکریٹریٹ میں ایک تہنیتی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اقلیتی فلاح و بہبود الحاج این. ایم. ڈی. فاروق تھے جنہوں نے طالبہ اور ان کے والد محمد منیر صاحب کو میمنٹو، گلدستہ اور نقد انعام پیش کرکے شاندار انداز میں تہنیت پیش کی۔ اس موقع پر وقف بورڈ کے سی ای او جناب یعقوب باشاہ اور دو سینئر آئی. اے. ایس. افسران بھی موجود تھے۔ وزیر موصوف نے طالبہ کی محنت کو سراہتے ہوئے والدین کو تلقین کی کہ بچی کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہ آنے دیں اور انہیں اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ دریں اثناء آندھراپردیش اردو ٹیچرس اسوسی ایشن کے قائدین جناب خواجہ حسین، سی. عبدالعزیز، محمد امجد، محمد نعمان شریف، محترمہ شمیم بانو اور محمد قاسم نے محمد منیر صاحب اور ان کی ہونہار دختر کو بذریعہ فون ...

ڈاکٹر بھاونا پرساد کو سی ایس آر ایوارڈ عطا ہونے پر محکمہ صحت یادگیر کی جانب سے خیر مقدم و مبارکباد۔

Image
کلبرگی 5 / جون سمائل فاؤنڈیشن، نئی دہلی ہندوستان کی 28 ریاستوں میں تقریباً 1,000 دور دراز دیہاتوں اور کچی آبادیوں کا احاطہ کرتے ہوئے صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، معاش اور خواتین کو بااختیار بنانے کے سینکڑوں فلاحی منصوبوں کے ذریعے سالانہ 1.5 ملین سے زیادہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اس کے زیرِ اہتمام ہیلتھ کیئر پروگرام کے تحت، فی الحال 90 موبائل میڈیکل یونٹس، 6 موبائل ٹیلی میڈیسن یونٹس، 2 موبائل ڈینٹل یونٹس، 4 فزیوتھراپی کلینکس، اور 70 اضلاع میں 1,140 کمیونٹیز اور 22 خواہش مند اضلاع کا احاطہ کرتے ہوئے 17 ریاستوں میں باقاعدہ ہیلتھ کیمپس قائم کی ہیں۔ ڈاکٹر بھاونا پرساد، چیف مینیجر، صحت، سمائل فاؤنڈیشن، نئی دہلی نے گزشتہ دنوں اسمائل آن وہیل انیشیٹو کی خدمات اور موبائل میڈیکل یونٹ OPD کا مشاہدہ کیا اور یادگیر ضلع کے نیکل گاؤں کا دورہ کیا۔ اس دوران ڈاکٹر بھونا پرساد نے دفتر کا معائنہ کیا اور نیکل گاؤں کے کمیونٹی لوگوں کے ساتھ ساتھ شریمتی جیوتی سی ایچ او، شریمتی واسوی نرس ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور شریمتی گنگما آنگن واڑی ٹیچر کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ۔ ...

عالمی یومِ ماحوليات اور ہماری ذمہ داریاں - از قلم : عثمان احمد (مدرس ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول عمرکھیڑ ضلع ایوت محل)

Image
عالمی یومِ ماحوليات اور ہماری ذمہ داریاں -  از قلم : عثمان احمد (مدرس ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول عمرکھیڑ ضلع ایوت محل)  5 جون 2026 : اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا اعزاز عطا کیا ہے اور اس کا مسکن اس زمین کو بنایا ہے ۔ انسان اتنا قیمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں موجود سونے چاندی اور دیگر معدنیات کے خزانے اس کے قدموں کے نیچے ڈال دیے ہیں تا کہ انسان اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھے ۔ کرۂ ارض پر موجود قدرتی ماحول اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔ ہوا، پانی، مٹی، درخت اور نباتات مل کر ایک ایسا نظام بناتے ہیں جو زمین پر زندگی کو ممکن اور خوبصورت بناتا ہے۔ تاہم، بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی، آلودگی اور ہماری لاپرواہی کی وجہ سے ہمارا ماحول تیزی سے تباہی کی طرف گامزن ہے۔ اسی احساس اور شعور کو بیدار کرنے کے لیے ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں "عالمی یومِ ماحوليات" (World Environment Day) منایا جاتا ہے، اس دن کو منانے کا اصل مقصد انسان کو یہ یاد دلانا ہے کہ زمین ہمارا واحد گھر ہے اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آ...

نائب وزیر اعلیٰ مہاراثٹرا سنترا پوار کی صدارت میں اقلیتی کمیشن کا اہم اجلاس۔سفارشات پر عمل درآمد اور خالی آسامیوں کی فوری بھرتی کا مطالبہ۔ سید فاروق احمد قادری۔

Image
نائب وزیر اعلیٰ مہاراثٹرا سنترا پوار کی صدارت میں اقلیتی کمیشن کا اہم اجلاس۔ سفارشات پر عمل درآمد اور خالی آسامیوں کی فوری بھرتی کا مطالبہ۔    سید فاروق احمد قادری۔ ممبئی تین جون 2026 کو سہیادری گیسٹ ہاؤس میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ سنترا پوار کی صدارت میں اقلیتی کمیشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اقلیتوں کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں رکن اسمبلی جناب رئیس قاسم شیخ، محترمہ ثناء ملک مرحوم اجیت پاور راشٹر وادی گروپ اور مختلف سماجی، تعلیمی اور اقلیتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔سابقہ ایم ایل اے سماج وادی پارٹی کے ابو عاصم نے ان لائن کانفرنس سے اس موضوع پر گفتگو اجلاس میں اردو اکیڈمی، اوقاف، تعلیمی سہولتوں، اسکالرشپ، روزگار اور اقلیتی فلاحی منصوبوں کے علاوہ مختلف محکموں میں خالی پڑی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی اداروں میں طویل عرصے سے خالی عہدوں کی وجہ سے کام متاثر ہو رہا ہے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اجلاس میں 29 اکتوبر 2025 کو اقلیتی کمیشن کی جانب سے ...

عالمی یومِ ماحولیات اور ہماری ذمہ داری۔۔ از قلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔

Image
عالمی یومِ ماحولیات اور ہماری ذمہ داری۔ از قلم :عارف محمد خان ، جلگاؤں۔ ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ماحولیات (World Environment Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد لوگوں میں ماحول کے تحفظ کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور زمین کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز کے حل کے لیے اجتماعی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اقوام متحدہ نے 1972 میں اس دن کے آغاز کا اعلان کیا تھا، اور تب سے یہ دنیا کا سب سے بڑا ماحولیاتی آگاہی پروگرام بن چکا ہے۔ *ماحولیات کی اہمیت* ماحولیات انسان، جانوروں، پودوں، پانی، ہوا اور زمین کے باہمی تعلق کا نام ہے۔ ایک صاف اور متوازن ماحول نہ صرف ہماری صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ معاشی ترقی، خوراک کی پیداوار اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ اگر ماحول آلودگی کا شکار ہو جائے تو انسانی زندگی سمیت تمام جاندار خطرات سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ *موجودہ ماحولیاتی مسائل* آج دنیا کئی سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا کر رہی ہے، جن میں شامل ہیں: - موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) - فضائی آلودگی - آبی آلودگی - جنگلات کی کٹائی - پلاسٹک اور صنعتی فضلہ - حیاتیاتی تنوع ک...

قائدِ ملت حضرت محمد اسماعیل صاحبؒ کے 131ویں یومِ پیدائش کے موقع پر خراجِ عقیدت۔

Image
آج (5 جون) عظیم قومی رہنما، ملتِ اسلامیہ کے مخلص ترجمان، تمل زبان کے محافظ اور سماجی انصاف کے علمبردار قائدِ ملت حضرت محمد اسماعیل صاحبؒ کے 131ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ہم انہیں عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ قائدِ ملتؒ وہ عظیم شخصیت تھے جنہوں نے دستور ساز اسمبلی میں پوری قوت کے ساتھ "تمل ہی سرکاری زبان ہونی چاہیے" کی آواز بلند کی۔ انہوں نے سماجی انصاف، مساوات، قومی یکجہتی اور عوامی حقوق کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ وہ تمل ناڈو کی سیاسی اور سماجی تاریخ کی ایک درخشاں شخصیت تھے جنہوں نے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دیا۔ انہوں نے مسلم معاشرے کی تعلیمی ترقی، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور مذہبی ہم آہنگی کے قیام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور عوامی خدمت آج بھی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ قائدِ ملتؒ کے 131ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ہم ان کی بے مثال خدمات، اعلیٰ افکار اور قومی و سماجی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے سنہری نقوش کو احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔  اس موقع پر تملناڈو کے وزیر ا...

یومِ عالمی ماحولیات: زمین کی پکار اور ہماری ذمہ داری ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی،صدر شعبہ اردو،انجمن ڈگری کالج،دھارواڑ،کرناٹک.

Image
 5 جون کو دنیا بھر میں یومِ عالمی ماحولیات منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک عالمی تقریب نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور فطرت کے ساتھ اپنے تعلق پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آج جب زمین ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ اور پانی کی قلت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے.ماحولیات کا تحفظ ہماری بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ قدرت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ سرسبز جنگلات، بہتے دریا، بلند پہاڑ، مہکتے پھول اور چہچہاتے پرندے نہ صرف زمین کی خوبصورتی کا مظہر ہیں بلکہ حیاتِ انسانی کے تسلسل کے ضامن بھی ہیں۔ افسوس کہ ترقی کے نام پر انسان نے فطرت کے توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ صنعتی آلودگی، پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال اور قدرتی وسائل کا غیر ذمہ دارانہ مصرف زمین کے حسن اور صحت دونوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ اردو شاعری میں بھی فطرت اور ماحول سے محبت کا گہرا شعور ملتا ہے۔ شاعر میرتقی میرؔ فطرت کے حسن کو یوں بیان کرتے ہیں : پتہ پتہ ، بو ٹا بو ٹا حا ل ہما ر ا جا نے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے ایک اور معروف شعر ہے: ...

حسرتوں کے داغ - (افسانچہ)۔ از قلم : شیخ محمود علی۔

Image
حسرتوں کے داغ -  (افسانچہ)۔  از قلم : شیخ محمود علی۔  8055402819 پرانے لکڑی کے صندوق کو کھولتے ہوئے عالیہ بیگم کے ہاتھ ہلکے سے کانپ گئے۔ صندوق میں کپڑوں پرانی تصویروں زرد پڑ چکے عید کارڈز، پرانے خطوط اور کاغذوں کے درمیان ایک چھوٹا سا لفافہ رکھا تھا۔ انہوں نے آہستہ سے لفافہ کھولا۔ اندر ایک تصویر تھی۔ تصویر کے پچھلے حصے پر دو مصرعے لکھے تھے "خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں" عالیہ بیگم تصویر کو دیر تک دیکھتی رہیں۔ تصویر میں وہ خود تھیں جوانی کے دن، چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں خواب۔ وہ بے اختیار مسکرا دیں۔ "کیسی تھی میں... جیسے کھلتا گلاب جیسے اجلی کرن جیسے بن میں ہرن جیسے چاندنی رات جیسے شاعر کا خواب..." "جیسے شاعر کا خواب..." وہ اسی مصرعے پر رک گئیں۔ ماضی کے گمشدہ راستے اچانک لوٹ آئے۔ دل ہی دل میں بولیں: "آصف بھی تو مجھے دیکھ کر یہی غزل گنگنایا کرتے تھے..." ان کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ پھر اچانک چہرے پر تلخی ابھری۔ وہ دل ہی دل میں اس مولانا کو کوسنے لگیں جس کے بیانات کا آصف پچھلے کچھ برسوں سے د...

جناب الحاج سید منصور احمد قادری انجینئر کی دختر کا عقدِ مسعود، بیدر کی معزز شخصیات کی شرکت۔

Image
بیدر، 4 جون (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) : جناب الحاج سید منصور احمد قادری انجینئر، رکن اسٹیٹ حج کمیٹی بنگلورو و ساکن قادریہ پورہ بیدر کی دختر کا عقدِ مسعود جناب محمد متین احمد، معروف بزنس مین ساکن راجہ باغ بیدر کے فرزند محمد معراج الحسن طاہر (بی ای میکانیکل انجینئر، سعودی عربیہ) کے ساتھ جامع مسجد بیدر میں نہایت روحانی اور پُروقار ماحول میں انجام پایا۔ جناب سد منصور احمد قادری نے ایجاب وقبول کی کارروائی انجام دی جبکہ جناب سید مشتاق احمد قادری نے خطبۂ نکاح پڑھایا اور دلہا و دلہن کے حق میں خصوصی دعائیں کیں۔خطبہ نکاح سے قبل جناب سید مشتاق احمد قادری نے طویل خطاب کرتے ہوئے نکاح کے مسائل پر روشنی ڈالی.سید شاہ وحید احمد قادری نے دعا فرمائی. بعد ازاں پٹیل پیالیس فنکشن ہال، بیدر میں پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ محفلِ عقد و ضیافت میں علمائے کرام، مشائخ عظام، سجادہ گان و متولیان، انجینئرس، ڈاکٹرس، کنٹراکٹرس، تاجرین، صحافی حضرات، دینی، ملی، تعلیمی اور سماجی شخصیات، مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، سرکاری و خانگی اداروں کے ذمہ داران، دوست و احباب اور رشتہ داروں کی کثیر تعداد نے شرکت کرتے...

اردو سے متعلق امور پر نائب وزیراعلیٰ سنیترا اجیت پوار کو اردو کارواں کا دس نکاتی مکتوب پیش۔

Image
ممبئی، 3 جون: اقلیتی امور سے متعلق نائب وزیراعلیٰ حکومتِ مہاراشٹر سنیترا اجیت پوار کی صدارت میں سہادری گیسٹ ہاؤس میں منعقدہ اہم اجلاس میں ایم ایل اے رئیس قاسم شیخ اور ایم ایل اے ثناء ملک کی قیادت میں ایک وفد نے شرکت کی۔ اس موقع پر اردو کارواں کے صدر فرید احمد خان نے اردو اکیڈمی اور اردو گھروں سے وابستہ مسائل و امور پر اہلیان اردو کی مؤثر نمائندگی کرتے ہوئے ایک دس نکات پر مشتمل تفصیلی مکتوب بھی نائب وزیراعلیٰ کو پیش کیا۔ مکتوب میں بھیونڈی میں اردو گھر کے قیام، بند کیے گئے لوک راجیہ کے اردو ایڈیشن کی فوری بحالی، مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی میں خالی آسامیوں کی تکمیل اور اکیڈمی کی تشکیلِ نو کے مطالبات پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ ممبئی اور کوکن ڈویژن کی نمائندگی میں اضافہ، اکیڈمی انتظامیہ کو محدود مالی اختیارات کی فراہمی اور ہر سال 16 اپریل کو اکیڈمی کے یومِ تاسیس کی باوقار تقریب منعقد کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ اردو کارواں نے اکیڈمی کی سرگرمیوں کو صرف مشاعروں تک محدود رکھنے کے بجائے دیگر ادبی اصناف سخن،علمی اور طلبہ پر مبنی پروگراموں میں توسیع، SSC اور HSC میں نمایاں کامیابی ...

کونڈاپور منڈل میں یس آئی آر ہیلپ ڈیسک کا مجلس کی جانب سے افتتاح۔

Image
سداسیوپیٹ 4/ جون( نمائندہ) نقیب ملت الحاج بیرسٹر اسد الدین اویسی رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور جناب کوثر محی الدین رکن اسمبلی کاروان و ضلع انچارج سنگا ریڈی کی ہدا یات پر کو نڈاپور منڈل کے مواضعات اننتاساگر اور سعیدا پور میں کل س ائی ار ہیلپ ڈسک کیمپ رکھا گیا تھا جس کا افتتاع شیخ غوث پاشاہ صدر مجلس اتحاد المسلمین سداسیوپیٹ نے کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شیخ غوث پاشاہ نے کہا پورے ملک میں مجلس اتحاد المسلمین ہی واحد جماعت ہے جو یس ائی آر ہیلپ ڈسک کے ذریعے عوام میں شعور پیدا کر رہی ہے انہوں نے عوام سے خواہش کی اس کیمپ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا اور اپنے افراد خاندان کا 2002 کے ووٹر لسٹ کے ذریعے میاپنگ کرائے جب بی ایل او آپ کے گھر پر آے تو آسانی ہوگی اس موقع پر اننتاساگر کے صدر شیخ عظیم محمد محمود معیز شعیب افروز مصطفٰی کے علاوہ عوام کی کثیر تعداد موجود تھی۔۔۔

حکومت کی ہر فلاحی اسکیمات عوام کی دہلیز تک پہنچایا جائیگاء صدرنشین بلدیہ محمد یونس نمائندہ کونسلر بلدیہ نئیر جعفر کا خطاب۔

Image
ظہیرآباد4/جون(نمائندہ)ظہیرآباد محلہ شانتی نگر واڈہ نمبر 33 اور34 میں پرجا پالنا سبھا واڈہ سبھا پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا جس میں مہمان خصوصی صدرنشین بلدیہ محمد یونس کمشنر بلدیہ جی پربھاکر سابق نائب صدرنشین بلدیہ محمد خواجہ میاں محمد جعفر نمائندہ کونسلر بلدیہ نے شرکت کی اور متعلقہ واڈہ میں سڑکیں ڈرنیج پینے کے پانی اسٹریٹ لائیٹ نئے پنشن اسیکم اندرما امکنہ آتمیا بھروسہ اسکیمات کے تحت اہل خاندانوں درخواستوں دہندگان عوامی مسائل کی سماعت کی نمائندہ کونسلر بلدیہ نئیر محمد جعفر نے عوام سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام بغیر کسی پریشانی نئے وظائف پنشن ہاوزنگ اندرماں مکانات بنیادی مسائل پر درخواستیں دیں سکتے ہے بعد محلہ واری کیمپ بھی بلدیہ میں اہل افرادوں اپنی درخواستیں جمع کرواسکتے ہے انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی ہر فلاحی اسکیمات عوام کی دہلیز تک پہنچانا ان کا اولین مقصد ہے نئے راشن کارڈس اور اراکان کا اضافہ کیاجائیگاء اس مواقع پر سابق صدرنشین بلدیہ خواجہ میاں کونسلر بلدیہ محترمہ طاہرہ بیگم نئیر جعفر کمشنر بلدیہ جی پربھاکر علاوہ عوام کی کثیر تعداد موجود تھے۔۔۔۔۔

ظہیرآباد حلقہ میں کانگریس پارٹی منڈل صدور کے انتخاب میں اقلیتوں کو جگہ دی جائے۔

Image
ظہیرآباد 4/ جون( نمائندہ) سنگاریڈی ضلع کے ظہیرآباد حلقہ میں کانگریس پارٹی کے نئے منڈل صدور کا انتخاب جاری ہے۔ اس لیے اس حلقہ میں اقلیتوں کی ترجیح کو مدنظر رکھتے ہوئے منڈل صدور کے عہدہ بھی اقلیتوں کو دیا جانا چاہیے۔ ماڑگی گاؤں کے سینئر کانگریس لیڈر، موجودہ سرپنچ ارشد الزماں پٹیل نے کہا کہ وہ حلقہ میں کانگریس پارٹی کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ کانگریس کا مطلب اقلیتوں، ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اور اقلیتوں کے لیے کام کرنا ہے۔ اقلیتیں ایسی کانگریس پارٹی کی بھرپور حمایت کرتی ہیں۔ اس لیے اقلیتوں کو ذہین میں رکھ کر اقلیتوں کو جگہ دی جائے تو بہتر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مگڑم پلی منڈل کانگریس پارٹی کے صدر کے طور پر اقلیت سے تعلق رکھنے والا شخص ہے۔ اگر ایسا عہدہ دوبارہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے شخص کو دیا جاتا ہے تو محسوس کیا جائے گا کہ کانگریس پارٹی اقلیتوں کی حمایت کر رہی ہے۔ اس لیے میں، جو اقلیت سے تعلق رکھتا ہوں، اس وقت سے کانگریس پارٹی سے وابستہ ہوں اور بلاامتیاز عوام کی خدمت کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہوں۔ اس لیے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے صدر بننے کا موقع دیں۔۔۔۔

اور! بچپن کہاں کھو گیا؟۔ از قلم : رہبر تماپوری۔

Image
 اور! بچپن کہاں کھو گیا؟ از قلم: رہبر تماپوری۔ زندگی کا ہر دن ایک نئی صبح کی نوید لے کر آتا ہے۔ ہر نئی کرن امید کا ایک تازہ پیغام دیتی ہے، مگر انسانی زندگی کا سب سے خوبصورت، دلکش اور سنہری دور “بچپن” کا زمانہ ہوتا ہے۔ بچپن وہ بے فکری کی مقدس دنیا ہے جس میں ہم نے پہلی بار اپنی معصوم آنکھوں سے رنگین خواب دیکھے تھے۔ یاد آتا ہے کہ جب ہر صبح آنکھ کھلتی تھی تو دل کے کسی کونے میں یہ گمان ہوتا تھا کہ یہ دن ہمیشہ ایسا ہی رہے گا، وقت یہیں تھم جائے گا اور ہم کبھی بڑے نہیں ہوں گے۔ معصوم ذہن اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھا کہ وقت کے دھارے کو آج تک کوئی روک نہیں سکا۔ مگر وقت نے اپنی بے رحم چال چلی اور جیسے ہی ہم نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا، بچپن کا وہ سنہری، رنگین اور بے فکر سفر آہستہ آہستہ پیچھے چھوٹتا چلا گیا۔ نہ جانے کیسے اور کب، وہ انمول لمحے زندگی کی مصروفیات کے ہجوم میں خاموشی سے گم ہو گئے۔ آج وہ یادیں زندگی کے ہر موڑ پر ہمارے ساتھ تو ہیں، مگر دنیاوی الجھنوں کے بوجھ تلے ہم انہیں اس طرح محسوس کرنے سے محروم ہو چکے ہیں جیسے کبھی بچپن کے ان سنہری دنوں میں کیا کرتے تھے۔ ہمارا بچپن کس...

ویسٹرن ہاسپٹل کی جانب سے حیدرآباد کے ائمہ و مؤذنین کے لیے اے۔کیو۔زیڈ۔اے۔ ہلتھ کارڈ کا اجرا۔

Image
کے این واصف : حیدرآباد کے آئمہ اور مؤذنین حضرات کے لئے ویسٹرن کرشنا ہاسپٹل نے روزنامہ سیاست کے اشتراک سے ہلتھ کارڈ اسکیم کا آغاز کیاگیاہے۔ یہ اقدام متوسط اور غریب طبقہ آئمہ و مؤذنین حضرات کو کچھ مفت اور کچھ برائے نام فیس پر اعلٰی پیمانے کی تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے ویسٹرن کرشنا ہاسپٹل نے یہ منفرد پیش کش کی ہے۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے آئمہ و مؤذنین ہاسپٹل سے AQZA نامی کارڈ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس ہلتھ اسکیم کے تحت استفادہ کنندہ ویسٹرن ہاسپتال میں فری ہاسپٹل ایڈمیشن کی سہولت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایڈمیشن فیس، روم چارج، ان پیشنٹ کیر چارجس مکمل طور معاف رہیں گے۔ اس کار خیر سے مڈل اور لور مڈل انکم گروپ سے تعلق رکھنے والے آئمہ و مؤزنین کو اچھی طبی سہولت کے ساتھ مالی بچت حاصل ہوگی۔  ہلتھ کارڈ اسکیم کی اہلیت کے لئے ائمہ اور مؤذنین کو حیدرآباد میں اپنی خدمات کا ضروری ثبوت پیش کرنا ہوگا۔ رجسٹریشن اور دیگر تفصیلات کے لیے ویسٹرن کرشنا ہاسپٹل سے فون نمبر 9000912793 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی: سیاسی تجربہ، علاقائی توازن اور عوامی توقعات۔۔ ازقلم : ایڈووکیٹ طاہر حُسین۔

Image
کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی: سیاسی تجربہ، علاقائی توازن اور عوامی توقعات۔ ازقلم : ایڈووکیٹ طاہر حُسین۔ کسی بھی جمہوری نظام میں حکومت یا قیادت کی تبدیلی ایک اہم موڑ ہوتی ہے۔ بھارت کی 4اقتصادی اور تکنیکی طور پر سب سے مضبوط ریاستوں میں سے ایک، کرناٹک، طویل عرصے سے متحرک سیاست کا مرکز رہی ہے۔ حال ہی میں ریاست میں ہونے والی قیادت کی تبدیلی—جہاں سینئر رہنما سدارمیاکی جگہ ڈی کے شیوکمار نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا—سیاسی تجربے، حکمت عملی اور حکمرانی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ دو مختلف شخصیات اور سیاسی تجربے کا امتزاج: کرناٹک کی سیاست میں سدارمیا اور ڈی کے شیوکمار دو ایسے ستون ہیں جن کا سیاسی سفر اور کام کرنے کا انداز ایک دوسرے سے بالکل مختلف لیکن منفرد ہے.  سدارمیا (سابق وزیر اعلیٰ)کا شمار کرناٹک کے چند سب سے تجربہ کار سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ وہ کئی دہائیوں کا پارلیمانی تجربہ رکھتے ہیں اور ریکارڈ بار ریاست کا بجٹ پیش کر چکے ہیں۔ ان کی شخصیت ایک عوامی اور سوشلسٹ رہنما کی ہے، جن کی پکڑ پسماندہ طبقات، دلتوں اور اقلیتوں (AHINDA اتحاد) پر مضبوط رہی ہے۔ ان کا دورِ حکومت بنیادی طور...

مسعود سکندر پٹھان ہائی اسکول مہاپولی تعلقہ بھیونڈی کےطلبہ کی اسکالرشپ امتحان میں کامیابی۔

Image
مہاپولی (عبدالموحد) فروری2026 میں منعقد گورنمنٹ اسکالر شپ امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کر 5 ویں جماعت کی طالبہ بشری عرفان شیخ اسکالر شپ کے لئے منتخب ہوئی اسی طرح 8 ویں جماعت کی طالبہ مہ جبیں جاوید احمد اور محمد رضا سعید شیخ بھی اسکالر شپ کے لئے منتخب ہوئے ۔اس شاندار کامیابی حاصل کرنے پر ایجوکیشن ٹرسٹ کے صدر تھا نے ضلع پریشد کے سابق نائب صدر عرفان محمد حسین بھورے اور تمام ٹرسٹیان نے ہیڈ ماسٹر سید اسرائیل، اسکالر شپ کے لئے رہنمائی کرنے والے تمام اساتذہ کرام کے ساتھ اسکالر شپ کے لئے منتخب تینوں طلبہ اور انکے والدین کو مبارکباد پیش کی۔ اور طلبہ کو اسی طرح مسقبل میں بھی کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

مردم شماری کے دوران ملک کی وہ حقیقت جو میں نے قریب سے دیکھی۔۔ از قلم : قریشی شیخ سلطان صلاح الدین شہاب الدین۔(مدرس، ضلع پریشد اردو اسکول لونی کالبھور، پونے)

Image
مردم شماری کے دوران ملک کی وہ حقیقت جو میں نے قریب سے دیکھی۔  از قلم: قریشی شیخ سلطان صلاح الدین شہاب الدین۔ (مدرس، ضلع پریشد اردو اسکول لونی کالبھور، پونے)  جیسے ہی آپ اپنے موبائل پر HLO ایپ کھولتے ہیں، بہت سی زندگیاں آپ کے سامنے آ جاتی ہیں۔ یہ صرف آبادی کی گنتی کا عمل نہیں ہے، بلکہ قریب سے لوگوں کی خوشیوں اور غموں کو چھونے کا ایک دلنشین موقع بھی ہے۔ آپ ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور آپ کے سامنے ایک پرتعیش دنیا نظر آتی ہے… مہنگے موبائل، ٹھنڈے اے سی، جدید سہولیات، بڑی کاریں اور چمکتی ہوئی زندگی… پھر چند قدم کے فاصلے پر آپ کو ایک اور گھر مل جاتا ہے… جہاں سورج اب بھی چھت سے چمکتا ہے، بچوں کے پاؤں میں چپل نہیں ہوتی اور جب یہ پوچھا گیا کہ "آپ کون سی ڈِش استعمال کرتے ہیں...؟ مفت یا معاوضہ؟" جواب آتا ہے- ’جناب ہمارے پاس ٹی وی ہی نہیں ہے…‘‘ اس ایک جملے میں بہت درد چھپا ہوا ہے۔ کہیں بوڑھے ماں باپ اکیلے رہتے نظر آتے ہیں۔ بچے شہر میں بس گئے ہیں۔ کہیں ماں خود بھوکے بچوں کو کھلاتی ہے۔ کہیں کوئی بے روزگار نوجوان آنکھوں میں خواب لیے مستقبل کی تلاش میں نظر آتا ہے۔ کہیں کوئی...

جدید رجحانات اور خاندانی نظام کا زوال – معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ - دیر سے شادیاں، مجرد (غیر شادی شدہ) رہنے کا بڑھتا ہوا رجحان اور اس کے سماجی و اسلامی اثرات۔ازقلم : اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ۔

Image
جدید رجحانات اور خاندانی نظام کا زوال – معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ -    دیر سے شادیاں، مجرد (غیر شادی شدہ) رہنے کا بڑھتا ہوا رجحان اور اس کے سماجی و اسلامی اثرات۔ ازقلم : اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ۔ عالمی سروے کے ہولناک انکشافات: ایک نئی سماجی لہر حال ہی میں معروف بین الاقوامی مالیاتی ادارے 'مورگن اسٹینلے' (Morgan Stanley) کی جانب سے جاری کردہ ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، مستقبل کے چند سالوں میں دنیا بھر کی تقریباً 45\% خواتین کے غیر شادی شدہ رہنے کا امکان ہے۔ اس جدید رجحان کے پیچھے درج ذیل اہم وجوہات سامنے آئی ہیں:  1. اعلیٰ تعلیم اور کیریئر کی دوڑ: جدید دور کی لڑکیاں اعلیٰ تعلیم اور معاشی خودمختاری کو اپنی اولین ترجیح بنا رہی ہیں۔ 2. آزادی کا تصور: ذمہ داریوں سے بچنے اور اپنی مرضی کی زندگی جینے کی خواہش نے شادی کے روایتی تصور کو کمزور کر دیا ہے۔ 3. خاندانی بندھنوں سے دوری: شادی، مامتا (بچے پیدا کرنا) اور گھریلو ذمہ داریوں کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جانے لگا ہے۔ اس کے نتیجے میں خاندانی نظام بکھر رہا ہے، شرح پیدائش میں خطرناک حد...

سمے کی دھارا میں (افسانچہ)بقلم : م.علی۔

Image
سمے کی دھارا میں  (افسانچہ) بقلم :  م.علی۔  سمے کی دھارا میں بہت کچھ بہہ گیا تھا لوگ رشتے آوازیں اور انتظار بھی مگر کچھ صدائیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے شور میں بھی خاموش نہیں ہوتیں عالیہ بیگم ساٹھ برس کی تھیں ان کے شوہر ستر برس کے ہو چکے تھے۔ کبھی یہی گھر بچوں کی ہنسی مہمانوں کی آمد و رفت اور روزمرہ کی مصروفیات سے آباد رہتا تھا اب وہی گھر بڑا ہو گیا تھا اور اس میں رہنے والے دو انسان چھوٹے ان کے دونوں بیٹے برسوں پہلے امریکہ منتقل ہو گئے تھے شروع شروع میں فون روز آتے پھر ہفتہ وار پھر مہینوں کے فاصلے سے اب زیادہ تر تہواروں اور سالگرہوں پر ویڈیو کال ہو جاتی تھی۔ عالیہ بیگم روز شام کھڑکی کے پاس بیٹھی گزرتے لمحوں کو دیکھا کرتیں ان کا شوہر پرانی آرام کرسی پر بیٹھ کر خاموشی سے سامنے کی دیوار کو تکا کرتے۔ اس شام بارش ہو رہی تھی۔ کمرے میں ہلکی سی نمی اور خاموشی تھی۔ اچانک ٹی وی پر ایک گیت بجنے لگا  "میں نہ بھولوں گا….. ان رسموں کو، ان قسموں کو ان رشتے ناطوں کو… سمے کی دھارا میں… عالیہ بیگم کے ہاتھ رک گئے۔ انہوں نے آہستہ سے شوہر کی طرف دیکھا "یاد ہےنا ؟" بوڑھے شوہر ...

مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی کے فنِ تعمیر کے موضوع پر نمائش - حجاج کے لیے منفرد موقع۔

Image
 کے این واصف -  مدینہ منورہ میں ان دنوں حجاج کرام کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ اس وقت مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی کے فنِ تعمیر کے موضوع پر جاری نمائش ایک ثقافتی اور تعلیمی پلیٹ فارم کا درجہ اختیار کر گئی ہے۔ جہاں زائرین کو مسجدِ نبوی کی تاریخ اور اِس کی وسعت کے مختلف مراحل سے متعارف کرایا جا رہا ہے۔ حجاج کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے۔  سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق زائرین کو اسلام کے مختلف ادوار میں مسجدِ نبوی کی تعمیر کے دوران ہونے والی فنی تبدیلیوں سے آگاہی دینے کے لیے انٹرایکٹیو مواد کا استعمال کیا گیا ہے جس کے ذریعے اسلام کی اِس عظیم امتیازی علامت کے تاریخی اور تعمیری فن کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ اِس نمائش کے لیے کئی انٹرایکٹیو اسکرینوں کی تنصیب کی گئی ہے تاکہ زائرین، تاریخی معلومات اور مسجدِ نبوی کے تعمیر کی تفصیلات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں۔ اِس کے علاوہ آنے والوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حرم شریف کے انتہائی نمایاں سنگِ میل اور وہاں دستیاب سہولتوں سے آگاہی کا انتظام کیا گیا ہے جس سے اُن کا تجربہ بہت بہتر ہو جاتا ہے اور مسجد ک...

صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری۔۔ جلگاؤں ۔ "سلسلہ تنویر

Image
صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری۔۔  جلگاؤں ۔        "سلسلہ تنویر"  بس بجز ذاتِ خدا ہے فیصلہ تقدیر کا خود ہی قرآں کر رہا ہے ترجمہ تفسیر کا کتنی گردانیں ہیں مخفی علم کی تہذیب میں سربکف تنہا نہیں ہے حاشیہ زنجیر کا کیا ریاضی میں فلک کے بھی عدد ممکن نہیں عنصرِ خاکی کا مجموعہ بنا تعمیر کا ایک ہیلو سے یہ عکسِ آئینہ کھلتا نہیں صد ہزاراں کیوں عجب ہے ماجرا تصویر کا اک محقق کا بھی کوئی فیصلہ منصف میں ہے ہے خرد چاکِ گریباں مرحلہ تدبیر کا لمسِ برگ و گل وہ شاخیں گلشنِ ہستی صفت نرگسِ جاناں خزاں پر کاٹ یہ شمشیر کا ظلمتوں کا کاٹ کیا ہے برق کا لمسِ حنا تاابد عثمان قائم سلسلہ تنویر کا۔ عثمان جوہری۔ نیشنل ہائی وے نمبر ٦ آٹو نگر جلگاؤں  مہاراشٹر

ایشور کھنڈرے نے بطور وزیر حلف لیا، بیدر ضلع میں خوشی کی لہر۔

Image
بیدر، 3 جون (نامہ نگارمحمد عبدالصمد منجووالا) ضلع کے ممتاز قانون دان و نامور سیاست دان جناب بھیمنا کھنڈرے کے فرزند، بھالکی حلقہ کے رکن اسمبلی اور حلقہ پارلیمانی بیدر کے رکن پارلیمنٹ جناب ساگر کھنڈرے کے والد جناب ایشور کھنڈرے، جو سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کی حکومت میں بھی وزیر جنگلات کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں، نے آج ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں قائم ہونے والی نئی حکومت میں بطور وزیر حلف لیا۔ ان کی کابینہ میں شمولیت پر ضلع بیدر بالخصوص بھالکی حلقہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ کانگریس کارکنوں، سماجی و سیاسی قائدین اور عوامی حلقوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کیں اور اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایشور کھنڈرے ایک تجربہ کار، سنجیدہ اور عوامی مسائل سے بخوبی واقف رہنما ہیں۔ انہوں نے اپنے سابقہ دورِ وزارت میں جنگلات، ماحولیات اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق کئی اہم اقدامات کیے تھے، جس کی وجہ سے انہیں عوام میں خاصی مقبولیت حاصل ہے۔ بیدر ضلع کے عوام کو امید ہے کہ نئی حکومت میں ایشور کھنڈرے کی شمولیت سے ضلع کی ترقی، بنیادی سہولیات کی ف...