Posts

جی ایم کالج اسٹڈی سینٹر میں بی اے فائنل ایئر کے طلبہ کے لیے ''روزگار کے مواقع اور جاب اسکلز''پر رہنمائی لکچر۔

Image
بھیونڈی: (عبدالعزیز انصاری) یشونت راؤ چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی (YCMOU) کے زیرِ اہتمام جاری جی ایم مومن ویمنس کالج اسٹڈی سینٹر میں بی اے فائنل ایئر کے طلبہ و طالبات کے لیے“روزگار کے مواقع اور جاب اسکلز”کے موضوع پر ایک بامقصد رہنمائی لکچربروز اتوار 19اپریل 2026کو رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کے اردو بسیرا آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور انہیں مختلف شعبوں میں بہتر کیریئرکے مواقع اور جاب اسکلز سے روشناس کرانا تھا۔پروگرام کا آغاز شیخ ارباز اشفاق کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔پروگرام میں مقررِ خاص کے طور پر فہیم عبدالباری مومن اور مہمانِ اعزازی کے طور پر سابق ہیڈ ماسٹر اورہندی روزنامہ نوبھارت ٹائمس کے نمائندہ وی. کے. سنگھ موجود تھے۔اسٹڈی سینٹر کے کوآرڈینیٹر عبدالعزیز انصاری نے مہمانان کا استقبال تحائف اور گلوں سے کیا۔اپنے خطاب میں معروف کیریئرکونسلر فہیم عبدالباری مومن نے طلبہ کو بدلتے ہوئے روزگار کے رجحانات، پیشہ ورانہ مہارتوں اورجدید تقاضوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف ڈگری کافی نہیں...

نعت پاک بطرح”دونوں جہاں کے مالک و مختار ہیں حضور" - ازقلم - فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )

Image
نعت پاک بطرح”دونوں جہاں کے مالک و مختار ہیں حضور" ازقلم -  فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا ) شاہ و گدا کے آپ ہی سردار ہیں حُضور “دونوں جہاں کے مالک و مُختار ہیں حُضور” یوسف کا حُسن اپنی جگہ ٹھیک ہے مگر عرش بریں پہ پیکر انوار ہیں حُضور ہم کو مُنافقوں سے نہیں کوئ واسطہ ہم آپ ہی کے صرف وفادار ہیں حُضور بے شک ہمارے شافع محشر حُضور ہیں محشر میں عاصیوں کے طرفدار ہیں حُضور ہر شخص کو یہاں پہ ہے اپنی پڑی ہوئ اُمت کے بس اک آپ ہی غمخوار ہیں حُضور بستر پہ اپنے ان کو سُلا کر نکل پڑے انجام سے علی کے خبردار ہیں حُضور طُوفاں میں گھر نہ پائے گی کشتی یہ دین کی اس کشتی کے ہماری جو پتوار ہیں حُضور صدیوں سے سب کے دل پہ حُکومت ہے آپ کی سکہ ہر ایک دور کا کلدار ہیں حُضور سرکار اک نگاہ کرم ہم پہ کیجئیے بیٹھے ہماری تاک میں اغیار ہیں حُضور ادنی غُلام آپ کے میں در کا ہوں سحر قربان مری جان و دل ،گھر بار ہیں حُضور فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )

خاموش خسارہ۔۔ از قلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔

Image
خاموش خسارہ۔  از قلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔ کلاس روم ایک عجیب سی گھٹن میں ڈوبا ہوا تھا۔ سست رفتار پنکھا جیسے وقت کا مذاق اڑا رہا تھا، اور دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں طلبہ کے صبر کا امتحان لے رہی تھیں۔ ہر ٹک ٹک دل پر دستک کی طرح محسوس ہوتی بے چین، بے قرار، بے رحم۔ استاد کی آواز کہیں دور دھندلا سی گئی تھی۔ الفاظ کتابوں سے نکل کر فضا میں بکھر تو رہے تھے، مگر کسی کے دل میں اترنے کو تیار نہ تھے۔ نظریں بار بار گھڑی کی طرف اٹھتیں، جیسے وہی نجات کا دروازہ ہو۔ آخری پیریڈ… مگر سب کے لیے یہ علم کا نہیں، آزادی کا وقت تھا۔ "سر! بس پانچ منٹ پہلے گھنٹی بجا دیجیے…" ایک آواز اٹھی، پھر دوسری، اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری جماعت ایک التجا میں بدل گئی۔ استاد نے ایک لمحہ طلبہ کے چہروں کو دیکھا۔وہاں علم کی پیاس نہیں، صرف جانے کی جلدی تھی۔ ایک گہری سانس لے کر انہوں نے نظریں جھکا لیں۔ اور پھر… گھنٹی بجی۔ جیسے کسی قید خانے کا دروازہ کھل گیا ہو۔ بستے کندھوں پر اچھلے، کرسیاں پیچھے سرکیں، اور قدم زمین کو چھوتے بغیر دروازے کی طرف لپکے۔ راہداریوں میں شور، سیڑھیوں پر دوڑ، اور پھر سڑکوں کی طرف ا...

جامعہ حنفیہ للبنات ظہیرآباد کے جلسہ تکمیل حفظ قرآن وختم بخاری کا کامیاب انعقاد۔ - اجلاس سےمفتی خلیل الرحمٰن صاحب قاسمی ناندیڑ اور مفتی احمد اللہ نثار صاحب قاسمی حیدرآباد کے خصوصی خطابات۔

Image
ظہیرآباد 20/اپریل(نمائندہ)جامعہ حنفیہ للبنات ظہیرآباد کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان وفقید المثال سالانہ جلسہ  تکمیل حفظ قرآن وختم بخاری شریف  19/اپریل بروز اتوار صبح 9/بجے تا ظہر جےجے گارڈن فنکشن ھال میں منعقد کیا گیا جس اجلاس کی صدارت پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا مفتی خلیل الرحمٰن صاحب قاسمی ناندیڑ فرمائی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے جید عالم دین حضرت مولانا مفتی احمد اللہ نثار صاحب قاسمی حیدرآباد نے موجود حالات میں خواتین اسلام کی دینی تعلیم کی اہمیت پر زبر دست خطاب فرمایا جس میں خاص طور پر خواتین میں علم دین کی اہمیت و ضرورت اور اس کے نہ ہونے پر معاشرے اور سماج میں جو خرابیاں جنم لے رہی ہیں قرآن وحدیث اور سیرت کی روشنی میں ان پر تفصیلی گفتگو فرمائی اور اپنے خطاب میں فرمایا کہ مرد کی دینداری گھر کی دہلیز تک ہی رہتی ہے اور عورت کی دینداری پورے گھر خاندان اور نسلوں کو دیندار بنادیتی ہے اس سلسلے والدین کی ذمہ داری کیا ہے اور موجودہ دور میں تربیت اولاد کے حوالے سے جو غفلت برتی جارہی ہے اس بصیرت افروز خطاب فرمایا  اس موقع پرچودہ طالبات کو عالمیت وفضیلت کی سند ...

نشان منزل کے صحافی کو اعزازی ڈاکٹریٹ۔

Image
نشان منزل کے صحافی کو اعزازی ڈاکٹریٹ۔ (محمد رضوان اللہ کے ذریعے)  ہم سب کے لۓ خوش خبری ۔۔۔۔‌ میرے اور آپ سب کے ہردلعزیز شخصیت جناب محترم   عبدالباری صاحب وانمباڑی ، ایڈیٹر " نشان منزل"ماہنامہ ، کو کون نہیں جانتا ؟ ہمارے ضلع رانی پیٹ  ترپاتور ، ویلور و چننئ وغیرہ کے علمی، رفائ و صحافتی ، کاموں میں وہ ہمیشہ آگے رہنے والے۔ آپ کو حکومت کی جانب سے آپ کی صحافتی اور عوامی خدمات کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ ۔۔۔۔۔۔۔ (Honorary Doctorate) کی باوقار سند عطا کۓ جانے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ اعزاز درحقیقت آپ کی انتھک محنت ،دیانتداری اور قوم و ملت کے لئے بے لوث خدمات کا اعتراف ہے۔ آپ نے صحافت کے میدان میں  حق و صداقت کی آواز بلند کرتے ہوئے نہ صرف  عوام کی رہنمائی کی بلکہ ملی شعور کو بیدار کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے آپ کی تحریریں جو " نشان منزل" میں شائع ہوا کرتے ہیں ،آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ہیں ۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و تندرستی عطا کرے ،آمین ! اور مزید کامیابیوں سے نوازے ، اور آپ کو اسی جذبے کے ساتھ ق...

ادارہ ادب اسلامی آرمبور کی جانب سے شعری نشست کا انعقاد

Image
آرمبور: (محمد رضوان اللہ کے ذریعے)  مورخہ 19 اپریل (اتوار) بمطابق 18 اپریل بروز ہفتہ بعد نماز مغرب، ادارہ ادب اسلامی آرمبور کی جانب سے IIC ہال، بنگلور میں ایک پُر وقار شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس بابرکت محفل کی صدارت جناب ارشاد احمد کاشف نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض جناب اشفاق احمد نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ محفل کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور نعتِ رسول مقبول ﷺ سے ہوا، جس نے حاضرین کے دلوں کو معطر کر دیا۔ اس شعری نشست میں جن شعراء کرام نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا، ان میں جناب ارشاد احمد کاشف، عبد الکریم عظیم، ہدایت اللہ حاضر، امتیاز احمد، عبد الکریم قادری، عبد الکریم عارف، اعجاز احمد اعجاز، عطا الرحمن عطا، سید بلال حافظ اور دیگر معزز شعراء شامل تھے۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر صفی الرحمن صاحب نے شرکت کی۔ اس موقع پر اشفاق احمد، ویناگار جاوید سلیم اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود رہیں۔ محفل کے اختتام پر نظامی عبد الکریم عارف کے شکریہ کے ساتھ پروگرام کا باوقار اختتام عمل میں آیا۔

پریس ریلیز : کامٹی میں مرحوم شبیر احمد انصاری کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

Image
(ناگپور ،کامٹی) آ ل انڈیا مسلم او بی سی ارگنائزیشن کے بانی صدر محروم شبیر احمد انصاری کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک تعزیتی نشست کامٹی کی ڈاکٹر خلیل اللہ لائبریری میں مورخہ ۱۸ اپریل بروز سنیچر کو رات نو بجے منعقد کی گئی ۔ پروگرام کا آ غاز کرتے ہوئے ناظم جلسہ کمال اختر سلام صاحب نے مرحوم موصوف کی زندگی پر اجمالی روشنی ڈالی۔ اس کے بعد ضمیر رشیدی نے کہا کہ مرحوم کی زندگی میں حرکت و عمل کا پیغام ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو قومیں فضول بحثوں میں ملوث ہو جاتی ہیں، وہ میدان عمل میں سست پڑ جاتی ہیں اور بالاخر ترقی کی راہوں سے بھٹک کر گمراہی کے اندھیروں میں غرق ہو جاتی ہیں۔ نیز مرحوم کی زندگی ہمیں مسلسل جدوجہد کا سبق دیتی ہے۔ اور جب حرکت و عمل کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیں گے تو پھر ہم فضول بحثوں کے بجائے مثبت اور تعمیری کاموں پر اپنی توجہ مر کوز کر سکیں گے۔ پھر ہم جہاں کہیں، جب کبھی ملینگے تو ہماری محفلوں میں یہی باتیں ہوں گی کہ کون سا نیا کام شروع کرنا ہے،کس کام میں کون سی رکاوٹ درپیش ہے، اور اس کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے، وغیرہ ۔اردو اور مراٹھی کے مشہور شاعر جمیل انصاری صاحب نے مر...

غم منانے کیلیے نہیں ہوتے ... از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں)

Image
غم منانے کیلیے نہیں ہوتے ...   از قلم :  نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں) ہر بندہ خوش رہنے کیلیے پریشان ہے۔ خوشی کبھی نازل یا دریافت نہیں ہوتی، ہر حال میں خوش رہنے کی مشق کرنی پڑتی ہے۔ ایک نبوی دعا ہے : ”اللهم لا تجعل الدنيا أكبر همّنا۔“ اے اللہ دنیا کو ہمارے غموں کا محور نہ بنا۔ اسی طرح ایک اور مسنون دعا ہے*  : ”اللهم إني أعوذ بك من الهمّ والحَزن۔“  اے اللہ میں غموں اور سختیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔  یہ دعائیں کرنی چاہییں۔ کتاب و سنت میں غم کا ذکر منفی پیرائے میں آیا ہے۔ غم ایک لَت ہے، اس سے ہر ممکن بچنا چاہیے۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب غمگین ہوتا ہے تو اگلے پچھلے سبھی غموں کو آواز لگاتا ہے۔ ان کے ساتھ مجلس لگاتا ہے، انہیں ہلکی آنچ پر پکاتا ہے، ان کے حصار میں بند ہو کر اسے عجیب لطف آتا ہے۔ مگر خارج میں دنیا مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ علم، عمل، ذہن، معمولات ہر چیز متاثر ہو جاتی ہے۔ مناسب دینی رہنمائی یا اہلِ خانہ و دوست احباب سے خوشگوار تعلق نہ ہو تو لوگ ڈپریشن کے ہاتھوں نشے کی طرف چل پڑتے ہیں، زندگی سے تن...

انڈین فورم فارم ایجوکیشن کے زیر اہتمام نیٹ تمثیلی امتحان کا کامیاب انعقاد۔

Image
کے این واصف : انڈین فورم فار ایجوکیشن (IFE) اس سال بھی NEET تمثیلی امتحان (2026) اور فری میڈیکل کیمپ کا کامیاب انعقاد عمل میں لایا۔ جس کا اہتمام یارا انٹرنیشنل اسکول ریاض میں کیا گیا تھا۔ اس موقع پر نیٹ امتحان کے لیے طلباء اور میڈیکل کیمپ پر انڈین کمیونٹی کی پر جوش شرکت دیکھی گئی۔ فورم میڈیسن میں سیٹ حاصل کرنے کے خواہشمند سعودی میں مقیم ہندوستانی طلباء و طالبات کے لئے پابندی سے ہر سال نیٹ تمثیلی امتحان کا اہتمام کرتا ہے۔ فورم نے اس سال نیٹ امتحان کے ساتھ اس روز یارا اسکول کے احاطہ میں ڈاکٹر ایدریس سلیم خان CEO شفاء کلینک کے تعاون سے ایک فری میڈیکل کیمپ کا بھی اہتمام کیا۔ اس میڈیکل کیمپ سے انڈین کمیونٹی، اسٹوڈنٹس اور اساتذہ وغیرہ مستفید ہوئے۔

زندہ لاشیں: "زومبی ڈرگ" اور انسانیت کا خاموش قتل۔(جانوروں کی دوا، انسانوں کی موت)۔ ازقلم : اسماء جبین فلک۔

Image
زندہ لاشیں: "زومبی ڈرگ" اور انسانیت کا خاموش قتل۔ (جانوروں کی دوا، انسانوں کی موت) ازقلم : اسماء جبین فلک۔ فلاڈیلفیا کے ایک ہسپتال کا ہنگامی وارڈ، رات کے تین بج رہے ہیں۔ ایمبولینس کے ساتھ ایک اٹھائیس سالہ نوجوان لایا جاتا ہے۔ وہ نہ بے ہوش ہے، نہ مکمل ہوش میں۔ آنکھیں نیم وا، جسم جھکا ہوا، ردِعمل تقریباً صفر۔ بازو پر ایک گہرا، کالا زخم ہے جس سے گوشت سڑ رہا ہے۔ ڈاکٹر فوری طور پر نشے کی زیادتی روکنے والی دوا کا انجیکشن دیتے ہیں، مگر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نوجوان ویسے ہی پڑا رہتا ہے، بے حس، بے ردِعمل، نہ زندہ لگتا ہے نہ مردہ۔ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور سمجھ جاتے ہیں: یہ عام نشے کی زیادتی نہیں۔ یہ کچھ اور ہے۔ یہ "زومبی ڈرگ" ہے۔ ایسے مناظر اب امریکا کے ہنگامی وارڈز میں روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں، مگر یہ کہانی صرف امریکا کی نہیں۔ یہ ہماری اجتماعی بے احتیاطی، لالچ اور سماجی ناہمواری کی وہ تصویر ہے جو آج وہاں ہے، مگر کل ہمارے قریب بھی آ سکتی ہے۔ بھارت کے شہروں میں وائرل ویڈیوز میں نوجوان اسی "زومبی" حالت میں نظر آ رہے ہیں اور سر گنگا رام ہسپتال دہلی کے...

مسلمانوں کا سیاسی شعور اور ہماری ذمہ داری:مبشرسندھے۔

Image
بیدر۔ 19/اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری) ویلفیرپارٹی آف انڈیا بیدر کے صدر جناب مبشرسندھے نے کہاہے کہ مسلمانوں میں سیاسی شعور کا مطلب صرف الیکشن کے وقت ووٹ دینا نہیں ہے، بلکہ اصل شعور یہ ہے کہ الیکشن کے بعد بھی منتخب نمائندوں سے اپنے حقوق اور اپنی برادری کی ترقی کے لیے مضبوطی کے ساتھ مطالبہ کیا جائے۔بدقسمتی سے ہم اس میدان میں کافی کمزور نظر آتے ہیں۔ ہمارے اکثر سیاسی اور مذہبی رہنما صرف الیکشن کے دوران ہی ہمیں سیاسی شعور کی باتیں بتاتے ہیں، اور خاص طور پر ہمیں کسی ایک پارٹی کے خلاف ڈرا کر ووٹ دینے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ہم ان کی باتوں میں آکر ووٹ دے دیتے ہیں اور بعض اوقات کسی پارٹی کو کامیاب بھی بنا دیتے ہیں، لیکن الیکشن کے بعد وہی رہنما اور باشعور افراد پانچ سال کے لیے غائب ہو جاتے ہیں۔اگر ہم دیگر برادریوں، جیسے لنگایت کمیونٹی کو دیکھیں تو ان کا سیاسی شعور بہت مضبوط ہے۔ وہ صرف الیکشن سے پہلے ہی نہیں بلکہ الیکشن کے بعد بھی ہر پارٹی کے ساتھ رابطہ رکھتے ہیں اور اپنی برادری کے مفادات کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کی ترقی کو یقینی بناتے ہیں۔مبشرسندھے نے کہاک...

بسونا۔ لنگایت دھرم کے بانی اور کنڑی زبان کے مصلح شاعر۔۔ ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری۔

Image
بسونا۔ لنگایت دھرم کے بانی اور کنڑی زبان کے مصلح شاعر۔ ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری۔  موبائل:9845628595     ایچ تپے رُدرے سوامی کی ساہتیہ اکیڈمی دہلی کی جانب سے 1975؁ء میں ایک انگریزی کتاب ”بسویشور“ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کے آخری صفحہ پر ساہتیہ اکیڈمی نے بسویشورکاتعارف کراتے ہوئے لکھاہے کہ ”بسویشور جنہیں بسونّا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ہندوستان کے عظیم روحانی پیشواؤں میں سے ایک ہیں۔ ایک انقلابی سنت، کنڑ زبان کے عظیم شاعر، معروف صوفی اور ایک سرگرم سماجی مصلح کے طور پر، انہیں کرناٹک میں ایک نئے دور کا پیغامبر قرار دیا جاتا ہے۔تقریباً 1131عیسوی میں ایک خوشحال برہمن خاندان میں پیدا ہونے والے سنت بسویشور نے ویدوں، اپنشدوں، پرانوں اور دیگر مذہبی کتب کا مطالعہ کیا لیکن ان کی زندگی بھر کی جدوجہد ذات پات کی تفریق کو ختم کرنا تھی۔ انہوں نے عام آدمی اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کو روحانی معرفت کی بلندیوں تک پہنچایا“  ان کی معروف کنڑی صنف”وچن“کے بارے میں اکیڈمی آگے لکھتی ہے کہ ”وچن“ (Vachana) جس کا لفظی مطلب نثر (دیگر معنی بھی ہوسکتے ہیں)ہے، بسویشور کے ہاتھوں ...

روف صادق کی ,کتاب "پایان:حمید سہروردی کی منتخب تخلیقات "کا جائزہ۔ازقلم : واجد اختر صدیقی گلبرگہ کرناٹک ۔

Image
روف صادق کی ,کتاب "پایان:حمید سہروردی کی منتخب تخلیقات "کا جائزہ۔ ازقلم : واجد اختر صدیقی گلبرگہ کرناٹک ۔ سیل :9739501549 اردو ادب میں بعض کتابیں محض تخلیقات کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ ایک تخلیق کار کے فکری و فنی جہان کو ایک علامتی اور جمالیاتی وحدت میں سمیٹ دیتی ہیں۔ روف صادق کی مرتبہ کتاب “پایان-حمید سہروردی کی منتخب تخلیقات " اسی نوعیت کی ایک اہم اور بامعنی ادبی کاوش ہے، جس میں پروفیسر حمید سہروردی کی منتخب تخلیقات کو نہایت سلیقے اور شعوری ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ روف صادق کا تعلق ممبئی سے ہے۔ان کی اب تک پانچ کتابیں منظر عام پر آئی ہیں۔وہ بیک وقت شاعر ادیب ،نقاد ،افسانہ نگار افسانچہ نگار اور ممتاز ادیب ہیں ۔نوک قلم پر لہوغزلیں اور نظمیں 2011 ،نقش معنی مضامین تبصرے تجزیے 2016،سہ نوک ثلاثیاں 2019،ہم اپنے تماشائی افسانچے 2025،اور اب پایان -حمید سہروردی کی منتخب تخلیقات 2025 انکی کتابیں شائع ہوکر مقبول ہو چکی ہیں۔  اس کتاب کی ایک نمایاں اور معنی خیز خصوصیت “۱۳” کا عدد ہے، جس کے تحت ۱۳ افسانے، ۱۳ افسانچے، ۱۳ نظمیں اور ۱۳ شخصی نظمیں شامل کی گئی ہیں۔ یہ ...

جمعیت علماء ضلع نظام آباد کے اراکین منتظمہ کا سہ ماہی اجلاس: جناب پیر خلیق احمد صابر صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ریاست تلنگانہ کی شرکت و خطاب۔

Image
                                 نظام آباد 19/اپریل( نمائندہ ) جمعیت علماء ضلع نظام آباد کے زیرِ اہتمام منعقدہ سہ ماہی مشاورتی اجلاس نہایت ہی بامقصد اور نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ اجلاس کا آغاز حافظ عبدالولی مظہری کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اسکے بعد حافظ افسر مظہری صدر جمعیتہ علماء بودھن نے نعت شریف پیش کی اجلاس کے اغراض ومقاصد اور سہ ماہی رپورٹ حضرت مولانا سید سمیع اللہ صاحب قاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد نے پیش کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے اجلاس میں ریاستی جنرل سیکریٹری جناب حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب کی شرکت نے پروگرام کو مزید وقار بخشا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ملتِ اسلامیہ کو درپیش عصری چیلنجز اور حساس مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب نے سب سے پہلے ملک میں بڑھتی ہوئی ہیٹ اسپیچ (نفرت انگیز تقاریر) پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے سدِ باب کے لیے منظم اور سنجیدہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں امن و امان اور باہمی ہم آہنگی کے قیام کے لیے نفرت ...

یارا انٹرنیشنل اسکول ریاض کے اس سال بھی دسوین جماعت کے بہترین نتائج۔

Image
کے این واصف  یارا انٹر نیشنل اسکول نے CBSE گریڈ X کے امتحانات 2025-26 میں ایک بار پھر سبقت حاصل کی۔ اسکول کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق یارا اسکول نے اپنی تعلیمی فضیلت کی میراث کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر CBSE گریڈ X کے امتحانات 2025-26 میں شاندار نتائج پیش کیے ہیں۔ 176 طلباء میں سے 107 طلبا نے 100 فیصد امتیازی نمبرات حاصل کر کے ریاض کے تمام معروف CBSE اسکول میں ا پنی امتیاز ی ساکھ کو برقرار رکھا ہے۔ اس شاندار کارکردگی کی قیادت کرتے ہوئے، اسکول کے ٹاپر ماسٹر۔ مادو سستی نے شاندار 99.2% نمبرات حاصل کیے، جبکہ ماسٹر حمزہ ساجد نے شاندار 98.6 فیصد کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی تو وہیں ماسٹر لنکیش سراوانن اور مس زیان سجین، دونوں نے 98.2 فیصد قابل تعریف اسکور کر کے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اسکول کے اگر سبجیکٹ ٹاپرز کی بات کی جائے تو ایک غیر معمولی اور شاندار تعلیمی قابلیت کی ایک بہترین مثال قائم کی ہے۔ Centum scorers کی فہرست میں، مس ہسسا الائیننے 100 نمبر لاکرکر عربی میں مہارت حاصل کی، جبکہ ماسٹر۔ مادھو سستی نے تمل، سائنس، اور سماجی سائنس میں کامل 100 نمبرات حاصل کرکے غ...

میرا شہر میرے لوگ کا 22 اپریل کو ادبی اجلاس و مشاعرہ ادارے کی جانب سے ڈاکٹر ماجد داغی کا خیرمقدم۔

Image
حیدر آباد - (راست) 19 / ا پریل اداره " میرا شہر میرے لوگ" کا ادبی اجلاس و مشاعرہ بحوالہ یادِ رفتگان بروز چہار شنبہ، بتاریخ 22 / اپریل کو بعد مغرب 7 بجے شام میڈیا پلس میں منعقد ہوگا جس میں عابد علی خان اور محبوب حُسین جگر کو پہلا خراج پیش کیا جائے گا ۔ پروفیسر ایس اے شکور صدارت کریں گے اور جناب عزیز احمد جوائنٹ ایڈیٹر اعتماد ، جناب ایم اے ماجد ڈائریکٹر فور ٹی وی ، پروفیسر خواجہ ناصرالدین شاداں کالج ، ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز چیف ایڈیٹر گواہ ، جناب ایم اے واجد ایڈیٹر پیغام ٹی وی ، ڈاکٹر ناظم علی، ڈاکٹر جہانگیر احساس، جناب محبوب خان اصغر مہمانانِ خصوصی و مقررین کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔ صدر ادارہ جناب صلاح الدین نیز مُدیر " خوشبو کا سفر" خیر مقدمی تقریر کریں گے اور لطیف الدین لطیف ناظم ادبی اجلاس ہوں گے۔ ادبی اجلاس میں گلبرگہ کے ممتاز ادیب و شاعر ڈاکٹر ماجد داغی رکن کلیان کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی (حکومتِ کرناٹکا) کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ اجلاس کے فوری بعد مشاعرہ منعقد ہوگا لطیف الدین لطیف نے ادب دوست خواتین و حضرات سے بپابندی وقت شرکت کی خوا...

گلبرگہ کے مسلم قائدین کا اگلا سیاسی اقدام کیا ہوگا ؟ - عزیز اللہ سرمست۔

Image
گلبرگہ کے مسلم قائدین کا اگلا سیاسی اقدام کیا ہوگا ؟ -   عزیز اللہ سرمست۔ داونگیرہ ضمنی انتخاب کے بعد کانگریس نے مسلم قائدین کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا ہے اس سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ کانگریس میں مسلم قائدین کی کوئی اہمیت نہیں ہے کانگریس کے مسلم قائدین نے کانگریس اعلی کمان کو خوش کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی اس کے باوجود کانگریس اعلی کمان نے اپنی پارٹی کے مسلم قائدین پر کبھی اعتماد نہیں کیا دوسری جانب کانگریس کے مسلم قائدین نے پارٹی کو کبھی اس بات کا احساس ہی نہیں دلایا کہ اگر ان پر ہاتھ ڈالا گیا تو کانگریس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے عہدہ  اور پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے برطرف کرنے کے بعد عبدالجبار ایم ایل سی نے ردعمل میں جس طرح کی زبان کا استعمال کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ پارٹی کے رحم و کرم پر سیاست میں زندہ ہیں اگر عبدالجبار ، ایم ایل سی شپ سے استعفیٰ دے دیتے تو پارٹی ان کی ناراضگی پر خود ہی متوجہ ہوتی کانگریس کے مسلم قائدین اور ایم ایل ایز کے نزدیک مسلمانوں سے بڑھ کر پارٹی سے وفاداری اہمیت رکھتی ہے اور یہ وفاداری میں اس حد ...

شہاب افسر کی کتاب “م" بہت نکلے میرے ارماں" کا شاندار اجراء۔

Image
نامہ نگار: ڈاکٹر شہاب افسر کی کتاب “بہت نکلے میرے ارماں” کا اجراء بدست ڈاکٹر فوزیہ خان (سابق ممبر پارلیمنٹ) کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس پُروقار محفل کی صدارت جناب ارتکاز افضل نے کی۔ اس موقع پر شہاب افسر نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر فوزیہ خان کا استقبال گل ہائے عقیدت پیش کرکے کیا۔ حنا ندیم صاحبہ نے شال پہنا کر ڈاکٹر فوزیہ کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر فوزیہ کا تعارف آسیہ تسنیم نے انگریزی اور اردو میں بہت ہی مؤثر انداز میں پیش کیا۔ شہ نشین پر تشریف فرما مہمانوں کا استقبال جس میں ارتکاز افضل، ڈاکٹر غزالہ پروین، ڈاکٹر عظیم راہی، ڈاکٹر اسلم مرزا، معز ہاشمی، سلطان شمیم خان (جو امریکہ سے تشریف لائے تھے)، ڈاکٹر دوست محمد خان، ادریس عسکری، محمد وصیل، احمد اورنگ آبادی، قاضی انیس، خان شمیم خان، ابو بکر رہبر اور خان مقیم خان شامل تھے، کا استقبال شہاب افسر اور حنا ندیم نے گلہائے عقیدت پیش کر کے کیا۔ شہاب افسر کی کتاب کا اجرا بدست ڈاکٹر فوزیہ کے ہاتھوں شہ نشین پر بیٹھے فنکاروں کی موجودگی میں عمل میں آیا۔ خان شمیم خان نے اس موقع پر تحریر کردہ نظم اپنے منفرد انداز میں سنائی جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔ اس مو...

کالم - قلم کی صدائیں - از قلم : رہبر تماپوری۔

Image
کالم - قلم کی صدائیں -   از قلم : رہبر تماپوری۔ قلم محض لکڑی، دھات یا پلاسٹک کا بے جان ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ شعور کی وہ توانا زبان ہے جو سناٹے میں بھی چیختی ہے۔ جب الفاظ کاغذ کی وسعتوں پر بکھرتے ہیں، تو وہ صرف سیاہی کے نقوش نہیں ہوتے، بلکہ معاشرے کے برہنہ سچ ہوتے ہیں جنہیں اکثر زبانیں ادا کرنے سے کتراتی ہیں۔ "قلم کی صدا" دراصل ضمیر کی دستک ہے، جو خوابیدہ معاشرے کو بیدار کرنے اور اسے اس کے اصل مقام سے روشناس کرانے کی ہمت رکھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی تلواریں تھک گئیں اور تخت و تاج مٹی میں مل گئے، تب بھی قلم کی ایک جنبش نے صدیوں کا رخ موڑ دیا۔ قلم وہ ہتھیار ہے جو خون بہائے بغیر انقلاب لاتا ہے اور مصلحتوں کے حصار توڑ کر حق کا علم بلند کرتا ہے۔ ہمارا سفر تب شروع ہوا جب ہم نے بچپن میں تختہ سیاہ پر سفید چاک سے پہلے حروف لکھے۔ شاید ہمیں یہ احساس تک نہ تھا کہ انگلیوں کے درمیان دبے یہ چھوٹے قلم کی نوک ہماری سب سے طاقتور صدا بنے گی۔ یہ قلم ہی ہے جو ہماری حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے، ہمیں حیوانیت کی دلدل سے نکال کر انسانیت کی معراج کی طرف راغب کرتا ہے۔ ہر طالب علم ایک سفید ک...

ممبرا میں مرکزی تعلیمی بورڈ کا ٹی۔ای۔ٹی۔ لیکچر کامیابی سے ہمکنار۔

Image
ممبرا (محمد اسلم) آج بروز اتوار بتاریخ ۱۹ اپریل ۲۰۲۶ کو نیشنل اسکول و جونئیر کالج، کوسہ میں مرکزی تعلیمی بورڈ ممبرا کی جانب سے منعقدہ ٹیچرس اہلیتی امتحان رہنمائی لیکچر کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ پروگرام کی شروعات جنید سر کی تلاوت قرآن سے ہوئی۔  اسرائیل سر نے مرکزی تعلیمی بورڈ اور پروگرام کے اغراض و مقاصد بتائے۔ اقبال انصاری سر نے ٹی ای ٹی کی تیاری کیسے کریں اس عنوان پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اقبال سر نے شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ آئیٹا ممبرا کے ساتھ اساتذہ جو سی ٹی ای ٹی امتحان اول کوشش میں کامیاب ہوئے تھے ان کی تہنیت مرکزی تعلیمی بورڈ ممبرا کی جانب سے کی گئی۔ ان تمام اساتذہ کو سرٹیفکیٹ اور تحفہ دیا گیا۔ شاکر شیخ سر نے مراٹھی اور سوشل سائنس کی پڑھائی کیسے کریں۔ اس کے متعلق معلومات فراہم کی۔ سر نے گرامر، سائیکولاجی اور دیگر پر تفصیلی معلومات دی۔ شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ اقبال سر نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹی ای ٹی کی پڑھائی میں مدد کیسے لی جائے۔ اس پر گفتگو کی۔ آخر میں مرکزی تعلیمی بورڈ ممبرا کے کنوینر محمد اسلم سر نے رسم شکریہ ادا کیے۔ تقریبا ۵۰ اساتذہ نے اس اہم...

خبر پہ شوشہ - “بلّی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا” - کے این واصف

Image
خبر پہ شوشہ -  “بلّی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا” -  کے این واصف  اس ہفتہ میڈیا میں ایک دلچسپ خبر وائرل ہوئی۔ قصہ یوں تھا کہ بنگلور میں ایک خاتون اپنے پڑوسی سے جھگڑ رہی تھی کہ تمھارا بلّا (نر بلّی) ہمارے گھر آتا جاتا تھا۔ جس سے ہماری بلّی حاملہ ہوگئی اور اس نے چار بچّون کو جنم دیا۔ بلّی کی یہ ناراض مالکن اپنی بلّی کے چار بچون کے ساتھ پڑوسی کے گھر پہنچی اور کہا بلّی کے ان چار بچّون کو پالنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ آپ کا بلّا ان کی پیدائش کا ذمہ دار ہے۔ یہ بحث و تکرار جب ہنگامے بننے لگی تو کسی نے پولیس کو فون کردیا۔ پولیس انسپکٹر اپنے عملے کے ساتھ موقع پر پہنچا اور قصہ سنکر ہنس پڑا۔ اور معاملہ رفع دفع کردیا۔  اچھا ہوا یہ واقع بنگلورو میں وقوع پذیر ہوا۔ ہوسکتا ہے اگر یہ واقع کسی ڈبل انجن کی سرکار والی ریاست میں ہوتا تو ہوسکتا ہے کہ بلّے کے خلاف POCSO کے تحت مقدمہ درج ہوتا اور ممکن ہے اس کا گھر بلڈوز کردیا جاتا۔ اس طرح “بلّے کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا”

حق کی گرمی — اب سڑکوں پر! - سید فاروق احمد قادری۔

Image
حق کی گرمی — اب سڑکوں پر!  -  سید فاروق احمد قادری۔ 17 اپریل کو یلغار مورچہ پانچ فیصد مسلم ریزرویشن کو لے کر قلم خود بخود اٹھ گیا  یہ دھوپ نہیں… یہ وقت کا  امتحان ہے،یہ پسینہ نہیں… یہ عزم کی پہچان ہے! ہم نکلے ہیں حق کی صدا لے کر،نہ ڈر ہے گرمی کا، نہ خوف کسی کا سر لے کر! یہ زمین بھی گواہ بنے گی،یہ آسمان بھی سن لے گا،آج اگر ہم خاموش رہےتو کل ہر حق چھن لے گا!  اٹھو کہ وقت پکار رہا ہے،ہر دل میں شعلہ بھڑک رہا ہے!یہ صرف ایک مورچہ نہیں،یہ قوم کا مستقبل لکھ رہا ہے!  نہ جھکیں گے، نہ رکیں گے،اپنا حق لے کر رہیں گے!

غزل - ازقلم : یوسف شیخ۔

Image
غزل  -  ازقلم : یوسف شیخ۔ بار غم کا مرے سر پے کبھی سایہ آۓ سر تلے کاش لپک کر کوئی شانہ آۓ فاقہ مستی میں بھی سرشار رہے دل جیسے  میری قسمت میں بھی ایسا کوئی لمحہ آۓ ہے اسی شوق طلب میں نہاں آبِ حیات  آبشاروں کی طرف دوڑ کہ پیاسا آۓ جب بھی چھوتا ہے تصوّر کومرے تیرا خیال  یوں لگے جیسے مہکتا کوئی جھونکا آۓ نا خدا کوئی نہیں کشتیِ یوسفؔ تنہا  موج در موج سمندر ہے کنارہ آۓ

میلوشارم میں 100% ووٹنگ کی اپیل کے لیے بیداری سائیکل ریلی۔

Image
میلو شارم (محمد رضوان اللہ کے ذریعے)  میلوشارم میں "دی نیشنل ویلفیئر ایسوسی ایشن" اور "وسیرو" کے اشتراک سے آج ووٹنگ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک بیداری سائیکل ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی کا افتتاح دی نیشنل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر جناب کرپور محمد ایوب صاحب اور کے وہ نشاط احمد نے کیا۔ اس موقع پر خصوصی مہمان کے طور پر E2E کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر جناب کے. عمران احمد صاحب اور وسیرو فاؤنڈیشن کے صدر جناب ایم. سہیل احمد صاحب نے بھی شرکت کی۔ یہ ریلی میلوشارم میں دی نیشنل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے دفتر سے شروع ہو کر کیل وِشارم بس اسٹینڈ تک گئی۔ ریلی میں طلبہ، عوام، ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور وشیرو کے منتظمین سمیت ایک سو سے زائد افراد نے سائیکلوں کے ذریعے شرکت کر کے عوام میں بیداری پیدا کی۔ یہ ریلی انا سالائی سڑک کے راستے تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی اور آخر میں ایسوسی ایشن کے دفتر پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس سائیکل ریلی کا بنیادی مقصد 23 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں نوجوانوں اور بزرگوں سمیت تمام افراد کو 100% ووٹ ڈالنے کی ترغیب دینا ت...

اسرائیل کا یوگانڈا، ہمارا روانڈا۔ - بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔

Image
اسرائیل کا یوگانڈا، ہمارا روانڈا۔ -  بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔ ہمارے ایک محترم اور دیرینہ دوست ہیں، رفاقت حسین، جنہیں کوچہ و بازار میں بلاوجہِ ثبوت "پروفیسر صاحب" کہا جاتا ہے۔ گزشتہ شام وہ ہمارے غریب خانے پر یوں وارد ہوئے گویا کوئی تیسری عالمی جنگ سر پر آپہنچی ہو۔ ان کا علمِ سیاسیات دراصل ان اخبارات کے کٹے پھٹے صفحات کا مرہونِ منت ہے جو وہ حجام کی دکان پر اپنی باری کے طویل انتظار کے دوران ازبر کر لیتے ہیں۔ ادھر ہم بجلی کے بل میں لگے ہوشربا ٹیکسوں کی جمع تفریق میں اپنا سر پیٹ رہے تھے، اور ادھر وہ آئے اور بغیر کسی تمہید کے صوفے پر دھپ سے گرے۔ ہاتھ میں شام کا اخبار یوں بھینچا ہوا تھا جیسے اس کی گردن دبوچ لی ہو۔ چہرے پر وہ مخصوص اور پیچیدہ تاثر تھا جو عموماً ہماری بیگم کے چہرے پر مہینے کی آخری تاریخوں میں نمودار ہوتا ہے۔ بولے: "میاں! تم نے سنا؟ آج کل اسرائیل کا سب سے لنگوٹیا یار یوگانڈا بنا ہوا ہے۔" ہم نے بل کو چپکے سے جیب میں ٹھونستے ہوئے نہایت متانت سے عرض کیا: "قبلہ! افواہ تو ہم نے بھی کچھ ایسی ہی سنی ہے۔" ان کے اس انکشاف پر ہم نے چاہا کہ اپن...

جلگاؤں: ایڈیشنل ایس پی سندیپ گاویت کا استقبال۔

Image
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): ضلع جلگاؤں میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے پر تقرری کے موقع پر سندیپ گاویت کا شہر کے معروف سماجی ادارے سید نیاز علی بھیا فاؤنڈیشن کی جانب سے پرتپاک اور باوقار استقبال کیا گیا۔ اس سلسلے میں منعقدہ ملاقات میں فاؤنڈیشن کے عہدیداران اور اراکین کی نے شرکت کی۔اس موقع پر سید نیاز علی ایاز علی، سید عمر ،حاجی شکور بادشاہ، سید جاوید، شیخ شفیع، کامل خان امان بلال اور شیخ شفیق سمیت دیگر معززین موجود تھے۔ تقریب کے دوران سندیپ گاویت کو شال اور گل دستہ پیش کر کے اُن کی عزت افزائی کی گئی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ضلع میں امن و امان کے قیام اور استحکام کے لیے عوامی تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور عوام کے باہمی اشتراک سے ہی مؤثر نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر فاؤنڈیشن کے اراکین کے ساتھ امن و قانون کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال بھی کیا گیا، جس میں باہمی ہم آہنگی اور عوامی شمولیت کو مزید فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

راہ مستقیم - مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔

Image
راہ مستقیم -    مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔  موبائل نمبر 7219092920  اللہ رب العزت کے نذدیک دنیا کا سب سے قیمتی اور بیش بہا خزانہ صراط مستقیم ہے۔ اسی لیے اللہ نے آغاز میں ارشاد فرمایا تمام تر تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ جو نہایت رحم و کرم فرمانے والا ہے۔ اور یوم جزا کا مالک ہے۔ ہم تجھی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ اور تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ ہمیں سیدھا راستہ اور ھدایت کی طرف گامزن کر۔ اور اللہ جس سے بھلائ اور نیکی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے۔ اسکو دین کی سوجھ بوجھ عطا کرتا ہے۔اور سیدھے راستہ کی طرف گامزن کرتاہے۔ اور وہ راستہ جس کو تونے اپنی نعمت اور انعام کے طور پر عطا کیا۔ اور ایسے لوگوں کے راستہ سے ہماری حفاظت فرما جس پر تیرا غیض و غضب ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے۔ کونوا مع الصادقین اچھے اور سچے لوگوں کی صحبت میں رہو جس سے تمہیں اللہ کی معرفت حاصل ہو۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ فرمایا عالم بن جاو یا متتعلم بن جاو یا اہل علم کو سننے والے بن جاو یا تو پھر اہل علم کی صحبت اختیار کرنے والے بن جاو۔ اور خبر دار ان سے بغض و عناد نہ رکھیں اس کی پاداش میں اللہ ہلاک کردیگا۔ ...

پریس نوٹ - سیر و تفریح کی حدود پر اہم پیغام۔

Image
 پریس نوٹ -  سیر و تفریح کی حدود پر اہم پیغام۔  انسانی زندگی میں سیر و تفریح کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ ذہنی اور جسمانی تھکن کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو تازگی اور نئی توانائی فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بات بھی نہایت ضروری ہے کہ سیر و تفریح ایک خاص دائرہ اور حدود کے اندر رہ کر کی جائے۔ ماہرین کے مطابق سیر و تفریح کے دوران اسلامی اور اخلاقی اقدار کو مدنظر رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ایسے کسی بھی عمل سے گریز کرنا چاہیے جو ایمان اور اخلاق پر منفی اثر ڈالے۔ فضول خرچی، بری صحبت اور غیر مہذب سرگرمیوں سے دور رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں تفریح کے بعض جدید ذرائع نوجوان نسل کو غلط راستوں کی طرف مائل کر رہے ہیں، جس کے باعث معاشرتی اور اخلاقی اقدار متاثر ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال میں والدین اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ آخر میں یہی پیغام دیا گیا کہ سیر و تفریح یقیناً ضروری ہے، لیکن اسے شائستگی، اعتدال اور دینی و اخلاقی اصولوں کے مطابق انجام دینا چاہیے، تاکہ انسان ا...

مسلم تہذیب کے سنہری دور کی غیر معمولی خواتین۔ازقلم : ڈاکٹر جی۔ایم۔پٹیل ۔پونہ۔

Image
مسلم تہذیب کے سنہری دور کی غیر معمولی خواتین۔ ازقلم :  ڈاکٹر جی۔ایم۔پٹیل ۔پونہ۔  رابطہ  9822031031     عالمی یومِ خواتین ’  ۸، مارچ  ‘  اور رمضان المبارک کا بیک وقت ہونا خواتین کے مقام، احترام اور ان کی قربانیوں کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اسلام نے خواتین کو بلند مقام دیا ہے، جبکہ رمضان تقویٰ، صبر، اور حسنِ معاشرت سکھاتا ہے۔ یہ دن خواتین کے حقوق کے تحفظ اور روزے کی روحانیت کے ساتھ ان کی خدمات کو سراہنے کا متقاضی ہے۔  ہزاروں سالوں سے مسلم خواتین نے اپنے معاشروں پر اپنا نشان چھوڑا ہے، بعض اوقات تاریخ کا دھارا بدلتا ہے، اور زندگی کے اہم شعبوں کو دوسروں پر متاثر کرتا ہے۔ مسلم تہذیب میں، مختلف عقائد اور پس منظر سے تعلق رکھنے والی غیر معمولی خواتین نے اپنی برادریوں کو آگے بڑھانے کے لیے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا۔ ان کی متاثر کن کہانیاں، کرشماتی شخصیات اور اپنے ماحول کی نشوونما میں حصہ ڈالنے کا عزم انہیں وہ روشنی بناتا ہے جو آج کی نوجوان خواتین اور مردوں کی رہنمائی کرتا ہے۔مسلم خواتین نے اسلام کی وراثت میں بطور علمائ  ‘...

رانی پیٹ ضلع میں منعقدہ ایک عوامی و سیاسی تقریب کے دوران معروف کانگریس رہنما راہل گاندھی کی شرکت نے پروگرام کو خاص اہمیت عطا کی۔

Image
رانی پیٹ (محمد رضوان اللہ کے ذریعے) رانی پیٹ ضلع میں منعقدہ ایک عوامی و سیاسی تقریب کے دوران معروف کانگریس رہنما راہل گاندھی کی شرکت نے پروگرام کو خاص اہمیت عطا کی۔ اس موقع پر مقامی معزز شخصیت چیئرمین اقلیتی شعبہ ضلع رانی  پیٹ کے وہ نشاط احمد   نے انہیں ایک کتاب فضائل اعمال بطورِ تحفہ پیش کی اور مختلف امور پر مختصر تبادلۂ خیال بھی کیا گیا۔ تقریب میں موجود افراد نے گرمجوشی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ راہل گاندھی نے عوامی مسائل، سماجی ہم آہنگی اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مختلف طبقات کے درمیان اتحاد و بھائی چارے کو فروغ دینے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ اس موقع پر پارٹی کارکنان، مقامی رہنما اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔