Posts

ڈاکٹر بشیر بدر کا نام اردو کے صفِ اول کے شعرا میں ہمیشہ نمایاں رہے گا" — ڈاکٹر اسلم جمشید پوریڈاکٹر بشیر بدر جیسے قداور شاعر زبان اور مقام کی قید سے آزاد ہوتے ہیں" — ڈاکٹر شمس اقبالڈاکٹر بشیر بدر کی رحلت پر اردو کارواں کی جانب سے تعزیتی نشست کا خراج۔

Image
ممبئی ۔٣١ مئی (راست) :اردو کے عظیم ترین سینیئر شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی غرض سے اردو کارواں کے زیرِ اہتمام ایک آن لائن تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس نشست میں ڈاکٹر بشیر بدر کی کئی دہائیوں پر محیط ادبی خدمات، ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور ان کی زندگی کے نشیب و فراز پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ نشست کی ابتدا میں اردو کارواں کے صدر فرید احمد خان نے ڈاکٹر بشیر بدر کی شخصیت اور خدمات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف اردو دنیا کو اپنا گرویدہ بنایا بلکہ غیر اردو طبقے میں بھی بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کی خبر اردو اخبارات کے ساتھ ساتھ انگریزی، ہندی، مراٹھی اور دیگر مقامی زبانوں کے اخبارات میں بھی نمایاں طور پر شائع ہوئی اور ان پر خصوصی مضامین اور فیچر شائع کیے گئے۔ اس نشست کی صدارت کرتے ہوئے چوہدری چرن سنگھ یونیورسٹی، اتر پردیش کے شعبۂ اردو کے صدر ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے ڈاکٹر بشیر بدر کی زندگی کے مختلف مراحل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے ان کی پیدائش، ابتدائی زندگی، میرٹھ میں قیام اور پھر فسادات کے نتیجے میں اپنے ...

اوپر والا ہاتھ۔ - ڈاکٹر سراج انوار، امراؤتی ، مہاراشٹر۔

Image
اوپر والا ہاتھ۔ -   ڈاکٹر سراج انوار، امراؤتی ، مہاراشٹر۔  موبائل : 8668323359 اسکول کے باہر ایک طرف وہی ریڑھی تھی جس کے سامنے کانچ کی برنیوں میں رنگ برنگی چیزیں سجی تھیں۔ کہیں املی کی کھٹی میٹھی گولیاں، کہیں لال اور نارنجی ٹافیاں، کہیں نمک مرچ لگی کچی کیری کے قتلے۔ ایک طرف گرم سموسوں سے بھاپ اٹھ رہی تھی اور تیل میں تلتی پکوڑوں کی خوشبو فضا میں پھیل رہی تھی۔ تو دوسری طرف پودینے اور ہرے دھنیے کی چٹنی سے بھری گول گپوں کی پلیٹ جب کسی گاہک کے ہاتھ میں آئی تو اس کی مہک ہوا میں گھل کر بھوک کو اچانک اور تیز کر دیتی تھی۔ چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی سفید اور نیلی یونیفارم پہنے بچے شور مچاتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل رہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں سکے چمک رہے تھے، کوئی ہاتھ ڈالے اپنی جیب ٹٹول رہا تھا، کوئی دوست سے ادھار مانگ رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ریڑھی کے گرد ایک بے ترتیب سا دائرہ بن گیا تھا جہاں ہر آواز دوسری آواز سے ٹکرا رہی تھی۔ "چچا، ایک سموسہ دینا!" "میرے والی پلیٹ پر زیادہ چاٹ مصالحہ ڈالنا!" "انکل، دو روپے میں کیا یہ ملے گا؟" ریڑھی والا ایک ہاتھ سے اخبار کے ٹکڑ...

دکن کی شعری روایت کے امین خان شمیم کی نئی کتاب ’’خیال پرند‘‘ منظر عام پر ۔ چیئرمین سید حسین اختر کی خان شمیم سے خصوصی ملاقات، اردو ادب کے فروغ میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین۔

Image
اورنگ آباد (نامہ نگار):دکن میں نظم کی تابندہ روایت کو پوری آب و تاب، فکری وقار اور فنی عظمت کے ساتھ آگے بڑھانے والے ممتاز شاعر، ادیب اور منفرد لب و لہجے کے خالق خان شمیم کی تازہ شعری تصنیف ’’خیال پرند‘‘ شائع ہو کر منظرِ عام پر آگئی ہے۔ اس شعری مجموعے میں شامل نظمیں اپنے منفرد اسلوب، تازہ فکر، اچھوتے موضوعات اور گہرے انسانی مشاہدات کے باعث اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ثابت ہوں گی۔گزشتہ دنوں خان شمیم کی رہائش گاہ پر ایک خصوصی ادبی ملاقات کا انعقاد عمل میں آیا، جہاں مہاراشٹر راجیہ اردو ساہتیہ اکادمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے ان سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت، تندرستی اور درازیٔ عمر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اس موقع پر معروف شاعر یوسف دیوان، شاعر و مترجم ڈاکٹر ذاکر خان، افسانہ نگار عظمت اقبال، ڈرامہ آرٹسٹ خالد قریشی، پورٹریٹ آرٹسٹ علی عمران اور ابرار احمد بھی موجود تھے۔ ادبی ماحول میں ہونے والی اس نشست کے دوران خان شمیم نے اپنی تازہ کتاب ’’خیال پرند‘‘ سید حسین اختر کو پیش کی۔اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سید حسین اختر ...

سعودی عرب کی “ختمامہومسک” تقریب میں ہندوستانی حج مشن کو دو ممتاز "لبیکم" ایوارڈز۔

Image
جدہ - (عبدالرحمٰن بیگ)۔ سعودی وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے حج 2026ء کے کامیاب اختتام کے موقع پر منعقدہ "ختامہو مسک" تقریب میں ہندوستانی حج مشن کو شاندار خدمات کے اعتراف میں دو باوقار "لبیکم" ایوارڈز سے نوازا گیا۔ تقریب میں ہندوستان کے قونصل جنرل جناب فہد احمد خان سوری اور قونصل (حج) محترمہ صدف چودھری نے شرکت کی۔  ہندوستان کو "بہترین حج کوآرڈینیشن اور کمیونیکیشن" کے زمرے میں دو ایوارڈز حاصل ہوئے، جو ہندوستانی عازمینِ حج کے لیے مؤثر رابطہ کاری، عمدہ انتظامات اور جامع فلاحی خدمات کی فراہمی کے اعتراف میں دیے گئے۔ یہ اعزاز تقریباً ایک لاکھ پچھتر ہزار (175,000) ہندوستانی عازمینِ حج کے لیے کامیاب، محفوظ اور منظم حج انتظامات کا مظہر ہے۔  اس موقع پر قونصل جنرل فہد احمد خان سوری نے سعودی حکومت، وزارتِ حج و عمرہ، مقامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور تمام شراکت دار ایجنسیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھرپور تعاون اور معاونت نے ہندوستانی عازمین کے حج کو آرام دہ، محفوظ اور روحانی طور پر بامقصد بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔  میڈیا سے گفتگو ...

رانی پیٹ میں نئے نصابی کتب کی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد۔

Image
رانی پیٹ، یکم جون: (محمد رضوان اللہ کے ذریعے) محکمۂ اسکولی تعلیم، حکومتِ تمل ناڈو کے زیرِ اہتمام رانی پیٹ ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں جماعت اول تا سوم کے اساتذہ کے لیے نئی نصابی کتب اور تدریسی رہنمائی سے متعلق خصوصی تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس تربیتی پروگرام میں ضلع کے مختلف سرکاری اور امدادی اسکولوں سے تعلق رکھنے والے مستقل اور عارضی اساتذہ نے شرکت کی۔ پروگرام کے دوران ماہرینِ تعلیم نے نئی نصابی کتب، تدریسی طریقوں، طلبہ مرکز تعلیم اور سرگرمی پر مبنی تدریس کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ضلع کے چیف ایجوکیشنل آفیسر (CEO) اور ضلع ابتدائی تعلیمی آفیسر (DEEO) نے تربیتی مرکز کا دورہ کیا اور جاری تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اساتذہ سے تبادلۂ خیال کرتے ہوئے نئی تعلیمی پالیسیوں اور نصاب کی مؤثر عمل آوری کے لیے ضروری رہنمائی بھی فراہم کی۔ افسران نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ تربیت میں حاصل ہونے والی معلومات اور جدید تدریسی مہارتوں کو عملی طور پر کلاس روم میں نافذ کریں تاکہ طلبہ کی تعلیمی استعداد اور سیکھنے کی صلاحیت میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ تربیت...

انجمن ترقی اردو ہند (تملناڈو) کی جانب سے یہ خصوصی شعری نشست کا اہتمام کا انعقاد۔

Image
تملناڈو (محمد رضوان اللہ کے ذریعے) انجمن ترقی اردو ہند (تملناڈو) کی جانب سے یہ خصوصی شعری نشست کا اہتمام 31.5.26 کی شام 7 بجے دفتر، بیت المال کنوینشن ہال ، چینی 5 میں ایک مخصوص شعری نشست کا اہتمام انجمن ترقی اردو ہند (تملناڈو) کی جانب سے ہوا۔  صدارت : جناب محمد روح اللہ صاحب روحی، کنوینر، میاسی اردو آکدمی نے فرمائی۔ نظامت کے فرائض اسانغنی مشتاق رفیقی صاحب، مدیر زبان خلق، وانمباڑی کے ذمہ رہی۔ جناب محمد حنیف کاتب صاحب صدر انجمن ترقی اردو کی نگرانی میں یہ نشست کامیاب رہی، جس میں چینییء کے شعرا حضرات : سجاد رفعت، ببر نواب مدراسی، محفوظ الرحمن رنجش، ڈاکٹر امتیاز باشاہ رہبر، صدر، اردو تحقیقی مرکز وانمباڑی، سراج شانا، ڈاکٹر غیاث احمد، شاہد‌ مدراسی، اور صدر انجمن جناب محمد حنیف کاتب صاحب نے اپنے منتخب کلام پیش کر کے داد حاصل کی۔ باذوق سامعین میں خواتین کے علاوہ عمائدین شہر حضرات : ڈاکٹر حیات افتخار، ظفر اللہ رحمانی ، صدیق احمد، نعمت اللہ، عبد الرحمن، سید فہیم وغیرہ کی حاضری میں یہ خاص شعری نشست بحسن و خوبی رات 8.30 بجے معتمد انجمن، پٹیل عبد الرحیم صاحب کے ہدیہ تشکر کے ساتھ ا...

عبدالمجید سالاراقراء اردو ہائی اسکول، بورنار میں عارف خان نے نئے صدر مدرس عہدے کا چارج سنبھالا۔

Image
بورنار، یکم جون 2026 اقراء ایجوکیشن سوسائٹی کے زیرِ انتظام چلنے والے عبدالمجید سالاراقراء اردو ہائی اسکول، بورنار میں نو مقررہ صدر مدرس جناب عارف محمد خان صاحب نے آج مورخہ یکم جون 2026 کو اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا۔ اس موقع پر حاضرین نے جناب عارف محمد خان صاحب کا استقبال کرتے ہوئے انہیں گلدستہ پیش کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ چارج سنبھالنے کے بعد اپنے خطاب میں جناب عارف محمد خان صاحب نے کہا کہ وہ طلبہ کی ہمہ جہت ترقی، معیاری تعلیم، نظم و ضبط اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جدید تعلیمی تقاضوں کے مطابق اسکول کی تعلیمی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور طلبہ کو بہترین تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام اساتذہ، والدین اور ادارے کے ذمہ داران کے تعاون سے کام کریں گے۔ ادارے کے ذمہ داران اور اساتذہ نے امید ظاہر کی کہ جناب عارف محمد خان صاحب کی قیادت میں اسکول تعلیمی اور انتظامی میدان میں مزید ترقی کرے گا اور کامیابی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔

ہریش راؤ کے یوم پیدائش کے موقع پر اجمیر درگاہ کو چادر پیش کی جائے گی۔

Image
سنگاریڈی یکم جون( نمائندہ) سدی پیٹ کے ایم ایل اے اور سابق وزیر سری تنیرو اور اقلیتی قائدین ہریش راؤ کے یوم پیدائش کے موقع پر ہریش راؤ سے ملاقات کی اور ان کے ہاتھ سے اجمیر شریف درگاہ کو پیش کی گئی چادر وصول کی اور ان کی اچھی صحت، خوشی اور عوامی خدمت میں اعلیٰ مقام تک پہنچنے کی خواہش کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قائدین نے ہریش راؤ کی ایک عوامی لیڈر کے طور پر ستائش کی جو تمام طبقات کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اجمیر شریف درگاہ پر خصوصی دعا کی جائے گی اور ان کی اچھی صحت، درازی عمر اور سیاسی زندگی میں مزید کامیابیوں کے لیے دعا کی جائے گی۔ چادر حاصل کرنے کے بعد اقلیتی رہنماؤں کا ایک گروپ اجمیر کے لیے روانہ ہوا۔ اس تقریب میں محمد امتیاز اسحاق (سابق ایم ایف سی)، محمد اکبر حسین (سابق ایم ایف سی)، محمد حکیم ایڈوکیٹ سنگاریڈی، محمد مختار احمد (سابق ZPTC، اندول)، شیخ فرید (DRUCC رکن)، محمد امجد سنگاریڈی، اور دیگر نے شرکت کی۔۔۔۔۔

ظہیرآباد کے نئے میونسپل کمشنر سے ڈاکٹر اجول ریڈی نے ملاقات کرکے شالپوشی کی۔

Image
 ظہیرآباد یکم جون( نمائندہ) ظہیرآباد کے نئے میونسپل کمشنر پربھاکر جنہوں نے حال ہی میں چارج سنبھالا، ریاستی کانگریس لیڈر ڈاکٹر سدھن اجول ریڈی نے ملاقات کرتے ہوئے شالپوشی کے ذریعے استقبال کیا۔ ملاقات کے دوران شہر کے بنیادی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے شہری ترقی، صفائی ستھرائی، پینے کے پانی کی فراہمی اور نکاسی جیسے دیگر مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ مزید ڈاکٹر اجول ریڈی نے کمشنر پربھاکر سے اپنے مکمل تعاون کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ظہیرآباد کو مزید ترقی دینے اور شہری عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مل کر کام کریں گے۔ اس پروگرام میں میونسپل چیرمین مسٹر یونس، وائس چیرمین سریشا سریندر ریڈی، سی ڈی سی چیرمین مبین، کونسلر سریدھر ریڈی، جمیل الدین، قائدین شیکھر اطہر غوری اور دیگر نے شرکت کی۔۔۔۔

غسلِ یک لیٹری: وشو گرو بھارت کی نئی پہچان - ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔

Image
غسلِ یک لیٹری: وشو گرو بھارت کی نئی پہچان -  ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔ آب و آتش کی پرانی چشمک اور ازل سے جاری خاندانی دشمنی اپنی جگہ، مگر برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض میں غسل (جسے ہمارے ہاں کمالِ عقیدت، تہذیبی وارفتگی اور کسی قدر خوف کے ساتھ ”اشنان“ یا ”طہارت“ کہا جاتا ہے) کبھی بھی محض پیکرِ خاکی پر پانی انڈیلنے، یا صابن کی مدد سے میل کچیل دور کرنے کی مشینی کارروائی کا نام نہیں رہا۔ یہ ایک باقاعدہ سماجی رسم، ایک روحانی تجربہ اور ایک ایسا عظیم الشان تہذیبی استعارہ ہے جس کے ساتھ ہماری پوری ثقافتی تاریخ، شاعری اور نفسیات ایک گیلے تولیے کی طرح وابستہ ہیں۔ پرانے وقتوں کی بات اور تھی جب ندیوں، گھاٹوں اور تالابوں پر اشنان کے باقاعدہ میلے لگا کرتے تھے۔ تب پانی کو محض ہائیڈروجن اور آکسیجن کا بے حس کیمیائی مرکب نہیں، بلکہ ایک جیتا جاگتا وجود مانا جاتا تھا، جس کے آگے سر جھکا کر پہلے اپنے پاپ دھوئے جاتے تھے اور پھر خاکی وجود۔ پھر وقت نے ذرا سی کروٹ لی اور ہمارے غسل خانوں میں پیتل کے لوٹے اور جست کی بالٹی کا وہ شیریں اور رومانوی ملاپ سامنے آیا، جس کی جل ترنگ نے اس خطے کو کیسے ک...

ڈاکٹر بشیر بدرؔ: عہدِ حاضر کے مقبول ترین غزل گو شاعر۔ از قلم : رازق حُسن۔

Image
ڈاکٹر بشیر بدرؔ: عہدِ حاضر کے مقبول ترین غزل گو شاعر۔  از قلم : رازق حُسن۔ ڈاکٹر بشیر بدر اردو ادب کا ایک ایسا نام ہے جس نے غزل کو جدید دور کے احساسات، انسانی رشتوں اور روزمرہ زندگی کے تجربات سے جوڑ کر نئی جہت عطا کی۔ ان کی شاعری میں محبت، تنہائی، جدائی، امید، سماجی رویّے اور انسانی اقدار نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ وہ اُن چند شاعروں میں شامل ہیں جن کے اشعار خواص کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی یکساں مقبول ہیں۔ ڈاکٹر بشیر بدرؔ 15 فروری 1935ء کو ایودھیا میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا، جس کی وجہ سے بچپن ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اردو ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں ڈاکٹریٹ (PhD) کی سند بھی حاصل کی۔ اسی بنا پر ان کے نام کے ساتھ "ڈاکٹر" کا اضافہ ہوا۔ ڈاکٹر بشیر بدرؔ نے کم عمری ہی میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ رفتہ رفتہ ان کی غزلیں ادبی رسائل میں شائع ہونے لگیں اور مشاعروں میں پذیرائی حاصل کرنے لگیں۔ ان کی شاعری میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کلاسیکی ...

ایم اے علی ایڈیٹر روزنامہ ”حیدرآبا دکرناٹک“ بیدر کی سالگرہ پر - ازقلم - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔

Image
ایم اے علی ایڈیٹر روزنامہ ”حیدرآبا دکرناٹک“ بیدر  کی سالگرہ پر -  ازقلم - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔ محبت، شرافت کی ہیں وہ ضمانت  علی نام جن کا، انھیں کی فراست   زبان ِ محبت علی کی کرامت  مگرجھک کے ملنا علی کی متانت  سبھی سے ہیں واقف، سبھی سے محبت  کسی سے بھی رکھتے نہیں یہ عداوت ڈرانا، نہ دھمکانا، رہ اپنی چلنا  بڑی بے ضرر ہے علی کی صحافت  یہاں بے خبر رہنا اک جرم ہوگا لہٰذا علی کرتے ہوں گے نیابت  ہے یہ ”حیدرآباد کرناٹک“آگے  سلامت علی ہیں، صحافت سلامت  سبھی کہہ رہے ہیں علی کو مبارک  جیوسال ہاسال کرتے صحافت

رومانوی محبت سے سماجی شعور تک - (افسانچہ)۔ محمود علی لیکچرر۔

Image
رومانوی محبت سے سماجی شعور تک -  (افسانچہ) محمود علی لیکچرر۔ 8055402819 وہ ایک علم بشریات انتھروپولوجی کے ریٹائرڈ پروفیسر تھے شام کو حسبِ معمول پارک کی بینچ پر بیٹھے پرانے گیت سن رہے تھے۔ اچانک موبائل پر فیض احمد فیض کی نظم شمیم آرا کی آواز میں "مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ" چل پڑی۔ ان کی آنکھوں کے سامنے برسوں پرانی ایک صورت ابھری۔ کالج کے دن لائبریری کی خاموشیاں چوری چوری ملنے والی نظریں اور دل میں بس ایک ہی خواہش کہ زندگی کا مرکز صرف وہی رہے۔ وقت گزرا محبت یاد بن گئی ملازمت گھر بچے اور پھر بڑھتی عمر اسی دوران پارک کے باہر ایک بوڑھی عورت پھول بیچتی نظر آئی قریب ہی ایک نو عمر بچہ کتابوں کے بجائے چائے کے کپ اٹھائے پھر رہا تھا۔ انہوں نے جیب سے کچھ رقم نکالی مگر دل میں ایک عجیب سی کسک جاگ اٹھی اُنہیں محسوس ہوا کہ محبت صرف کسی ایک چہرے سے وابستگی کا نام نہیں محبت تو اس بچے کے مستقبل کی فکر بھی ہے اس بوڑھی عورت کی تھکن بھی اور معاشرے کے محروم لوگوں کے لیے دردِ دل بھی انہوں نے موبائل بند کیا اور آسمان کی طرف دیکھا۔ اب محبوبہ کی یاد میں نمی تو تھی مگر اس نمی ...

وسیم راہی کی غزلوں میں اقدار اور علامتیں: ایک تنقیدی جائزہ - ڈاکٹر سہیم الدین خلیل الدین صدیقی ۔ (اورنگ آباد دکن)

Image
وسیم راہی کی غزلوں میں اقدار اور علامتیں: ایک تنقیدی جائزہ -  ڈاکٹر سہیم الدین خلیل الدین صدیقی ۔  (اورنگ آباد دکن) اسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو،  سوامی رامانند تیرتھ مہاودیالیہ امبا جوگائی، ضلع بیڑ  8087933863۔ اورنگ آباد دکن کی وہ خجستہ  بنیاد ہے جہاں اردو تحقیق و تنقید کے ساتھ ساتھ اردو شعر و شاعری نے بھی نمایاں جوہر دکھائے۔ اس روایت کی ابتدا ولی دکنی و سراج اورنگ آبادی سے ہوتی ہے۔ بعد ازاں عہدِ متوسط کے شعرا میں فاروق شمیم، خان شمیم، سلیم محی الدین اور ارتکاز افضل نے اردو غزل کے دامن کو وسعت عطا کی، جب کہ عہدِ جدید میں احمد اورنگ آبادی، غزالہ پروین، بلال انور، زورین صدف، صبا منیر احمد اور وسیم راہی جیسے نوجوان شعرا اردو غزل کے روشن چراغ بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان نوجوان شعرا میں وسیم راہی اپنی انفرادی شناخت، منفرد لہجے اور عصری حسّیت کے باعث خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ وسیم راہی کا تعلق ایک ایسے خانوادے سے ہے جو تقریباً ستر برسوں سے اورنگ آباد میں مقیم ہے۔ ان کے والد شیخ رفیق ایم آئی ڈی سی چیکل تھانہ کی کسی کمپنی میں ملازم تھے۔ سن 2005 میں ان کے والد کا انتقا...

نظم : گرمی کی چھٹی - شا عرہ: ٹی این بھارتی، دہلی۔

Image
نظم : گرمی کی چھٹی -   شا عرہ: ٹی این بھارتی، دہلی۔   گرمی کی چھٹی ہے آئی ڈھیر سا خزانہ ہے لائی  نانی نے دی ہے ملائی  عائشہ نے مزے سے کھائی                گرمی کی چھٹی ہے آئی  نیم پر نبو ری ہے آئی  آم آڑو لیچی خوبانی  دھوم مچاتی ہے نا شپا تی  آم مدیحہ ہے توڑ لائی               گرمی کی چھٹی ہے آئی  نانی نے بنائی ہے رس ملائی مریم کہتی ہے پیاری نانی ہمیں سننا ہے نیاری کہانی  بھارتی نے ہے خوشی منائی              گرمی کی چھٹی ہے آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔××۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

نکاح سے گریز: ایک فکری جائزہ - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک ۔

Image
نکاح سے گریز: ایک فکری جائزہ -   ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک ۔ M A M Ed  8904317986 نکاح سے گریز: ایک فکری جائزہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے: "النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي" "نکاح میری سنت ہے، پس جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔" اس حدیثِ مبارکہ کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وہ شخص جو کسی وجہ سے نکاح نہ کر سکے، اس وعید کا مستحق ہے؛ بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو نکاح کو حقیر سمجھے، اس کی اہمیت کا انکار کرے یا رہبانیت کو دین کا حصہ سمجھ کر ہمیشہ کے لیے نکاح سے کنارہ کشی اختیار کر لے۔ آج کے دور میں ایک تشویش ناک رجحان یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بعض نوجوان لڑکیاں نکاح کے نام سے خوف زدہ ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ وہ تلخ واقعات ہیں جو وہ اپنے اردگرد دیکھتی ہیں۔ کہیں گھریلو ناانصافیاں ہیں، کہیں شوہروں کی بے ذمہ داری، کہیں جہیز کی لعنت، کہیں ساس بہو کے جھگڑے، اور کہیں طلاق و خلع کے بڑھتے ہوئے واقعات۔ ان حالات کو دیکھ کر بعض لڑکیاں یہ سوچنے لگتی ہیں کہ شاید تنہا زندگی گزار لینا نکاح سے بہتر ہے۔ یہ خوف اپنی جگہ ق...

خوف خدا والے دین کی ضرورت ہے۔۔ - تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔

Image
خوف خدا والے دین کی ضرورت ہے۔۔ -   تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔ 9881836729  آج ہم اس دور میں یہ مشاہدہ کر رہے ہیں،کہ ہم میں کتنی تبدیلیاں، خرابیاں اور برائیاں سرایت کرچکی ہیں۔ انسانی حقوق کی پا مالی، اخلاقی اقدار کا فقدان، تہذیب و تمدن کی کمی، کسی کی عزت نفس میں کتروبیونت، اور ایک دوسرے سے الفت ومحبت یہ ہم سے آہستہ آہستہ متروک اور کھسک رہی ہیں، اور اسکی جگہ نفرت،حسد ،کینہ، قطع رحمی ، انانیت، خودنمائ، انسان میں تخلیق پارہی ہے۔ جو خدائ دین سے ہم کو دور کررہی ہے۔جو ایک لمحہ فکریہ اور تشویشناک بات ہے۔ جبکہ اسلام کی خوبصورت تعلیم اور اللہ کا فرمان ہے کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاو۔ اللہ کے پاس فوقیت اور برتری اسی کو ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو، جب امتوں میں بگاڑ اور اخلاقی اقدار کو پامال کیا جاتا ہے تو اللہ سے ڈر والا دین جاتا رہتا ہے۔ اور اسکی جگہ ( Glamour) گلیمر اور نمائشی دین جگہ لیتا ہے۔ جس سے انسانیت کی ہلاکت کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو اللہ کا خوف نہیں رکھتا، اسے ساری دنیا ڈراتی ہے،اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، ساری دنیا اس سے ڈرتی ہے۔ ایک سنت مسواک کی ادا...

دوسروں کی راہ روشن کرنے سے ہماری راہ بھی منور ہوتی ہے۔ - فردوس انجم ( بلڈانہ مہاراشٹر)

Image
دوسروں کی راہ روشن کرنے سے ہماری راہ بھی منور ہوتی ہے۔ -   فردوس انجم ( بلڈانہ مہاراشٹر) ایثار کے لغوی معنی "دوسروں کو خود پر ترجیح دینا"کے ہیں۔ یہ ایک ایسی اعلیٰ انسانی صفت ہے جو کسی بھی معاشرے کو امن، محبت اور اخوت کا گہوارہ بناتی ہے۔ مگر افسوس آج معاشرے میں ایثار کا جذبہ تیزی سے ماند پڑتا جا رہاہےجو ایک صحت مند اور پر امن معاشرت کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ * جذبۂ ایثار کی کمی کے اسباب ١۔ مادیت پرستی :  آج انسان مادی اشیاء کی دوڑ میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ ہر چیز کو نفع اور نقصان کےترازو میں تولنے لگا ہے۔آگے بڑھنے کی ہوڑ نے اس سے ہمدردی، رحم دلی اور قربانی کا جذبہ چھین لیا ہے۔ ٢۔ خاندانی نظام : انفرادی طرزِ زندگی نے انسان کو تنہائی اور خود غرضی کی طرف مائل کر دیا ہے۔ خود نمائی اور دکھاوے کی سوچ نے گھر کے افراد کو بھی ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ پڑوسیوں کے حالات سے باخبر رہنا بھی ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ ٣ ۔ سوشل میڈیا اور مصنوعی روابط: آج بیشتر تعلقات رسمی اور نمائشی ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا نے انسان کو حقیقی رشتوں سے دور کر کے مصنوعی دنیا میں...

اردو معلم جناب سی. فضل الرحمن کی سبکدوشی پر پُرجوش تہنیتی تقریب کا انعقاد .... فضل الرحمن کی تدریسی و سماجی خدمات ناقابل فراموش.... س. م. نعمان - (سابق اے. پی. اردو اکیڈمی چیئرمین، نندیال)

Image
اردو معلم جناب سی. فضل الرحمن کی سبکدوشی پر پُرجوش تہنیتی تقریب کا انعقاد ....  فضل الرحمن کی تدریسی و سماجی خدمات ناقابل فراموش....  س. م. نعمان - (سابق اے. پی. اردو اکیڈمی چیئرمین، نندیال) 35 سالہ شاندار تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد ممتاز معلم و اردو ایس جی ٹی جناب سی. فضل الرحمن صاحب آج بروز اتوار، مورخہ 31 مئی 2026 کو اپنے فرائضِ منصبی سے سبکدوش ہو گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر نعمان صاحب کے دولت کدہ پر ایک پروقار و پُرجوش تہنیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں سابق چیئرمین اردو اکیڈمی، ڈاکٹر محمد نعمان صاحب نے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی شرکت کی اور اپنے خطاب میں جناب فضل الرحمن کی تعلیمی، ادبی اور سماجی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ ڈاکٹر نعمان صاحب نے کہا کہ فضل الرحمن صاحب نے ہزاروں طلبہ کی شخصیت سازی کی اور تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔اس دوران انہوں نے تمام اردو اساتذہ اور اردو اساتذہ تنظیم قائدین کو تلقین کیا کہ آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہتے فروغ اردو اور اردو سکولوں کو مستحکم کرنے کے لیے حتمی کوشش کریں.  مختلف اسکولوں سے تشریف لائے ہوئے اس...

ہم بے خودی میں تم کو پکارے چلے گئے۔(افسانچہ)۔ از قلم : محمود علی لیکچرر۔

Image
ہم بے خودی میں تم کو پکارے چلے گئے۔ (افسانچہ) از قلم : محمود علی لیکچرر۔ 8055402819 بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں فضا میں رقص کر رہی تھیں۔ محلے کے کونے والے پرانے مکان کے برآمدے میں نانا جان بیٹھے تھے۔ سارا محلہ انہیں نانا جان کہتا تھا۔ سفید بال گورا چہرہ، آنکھوں پر موٹا چشمہ ہاتھ میں لکڑی کی چھڑی اور منہ میں پان کی گلوری۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسا وقار تھا جو برسوں کی زندگی اور تجربے سے پیدا ہوتا ہے۔ برآمدے کے ایک کونے میں رکھا پرانا ریڈیو اچانک جاگ اٹھا۔ چند لمحوں بعد محمد رفیع کی درد بھری آواز فضا میں پھیل گئی "ہم بے خودی میں تم کو پکارے چلے گئے...... نانا جان کے ہاتھ میں تھما پان جیسے رک سا گیا۔ نگاہیں آسمان کی وسعتوں میں کہیں کھو گئیں۔ بارش کی بوندیں اب بھی گر رہی تھیں مگر ان کے دل میں یادوں کا ایک اور موسم اتر آیا تھا۔ پچاس برس پہلے............ شہر کے قدیم کالج کی لائبریری میں ایک لڑکی اکثر کھڑکی کے پاس بیٹھی کتابیں پڑھا کرتی تھی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں، سنجیدہ لہجہ اور ہلکی سی مسکراہٹ نانا جان کے دل میں خاموشی سے گھر کر گئی تھیں۔ اس کا نام سلیمہ تھا۔ وہ روز اسے دیکھتے ا...

بیاول کے سیاسی سماجی کارکن سعید شیخ کی رحلت۔

Image
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی) این سی پی کے بیاول تعلقہ صدر سماجی سیاسی کارکن شیخ سعید عبدالرشید عمر ٦٠ سال کا نصف شب میں دورہ قلب پڑنے کے سبب انتقال ہو گیا مرحوم کی تدفین ٣١ مئی بہ روز اتوار صبح قریب دس بجے عمل میں آئی جس میں تعلیمی علمی ادبی سماجی سیاسی شخصیات نے شرکت کی این سی پی کے سرگرم رکن کی حیثیت سے انھوں نے کافی خدمات انجام دیں مستحقین اور ضرورت مندوں کی امداد انتہائی خاموشی سے انجام دیا کرتے تھے مسلم پسماندہ ذات برادری کے حقوق کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے آئینی طور پر ان کے حقوق حاصل کرنے کے لئے لڑتے رہے ان کی اس مد میں کی گئی رہنمائی ہمیشہ یاد رہے گی۔ پسماندگان میں بیوہ تین بیٹے بہویں پوتا پوتی پر مشتمل بڑا خاندان ہے ان کے فرزند شیخ عمیر شعبہ درس و تدریس میں خدمات انجام دے رہیں ہے۔

جلگاؤں کے پٹیل محمد زین کو باوقار 'اچیورز ایوارڈ 2026' سے نوازا گیا؛ انٹیریئر ڈیزائننگ میں کامیابی کا پرچم لہرایا۔

Image
جلگاؤں (سعید پٹیل) فیشن اور انٹیریئر ڈیزائننگ کے شعبے میں نمایاں مقام رکھنے والے معروف ادارے نِف گلوبل (NIF Global) جلگاؤں اور سنگیتا اکیڈمی کے زیراہتمام منعقدہ ایک پروقار تقریب میں شہر کے ابھرتے ہوئے نوجوان انٹیریئر ڈیزائنر پٹیل محمد زین محمد ادریس کو 'اچیورز ایوارڈ 2026' (Achievers' Award 2026) سے سرفراز کیا گیا ہے۔ انہیں یہ ایوارڈ انٹیریئر ڈیزائننگ کے میدان میں ان کی بہترین تخلیقی صلاحیتوں (Creativity)، انتھک محنت اور منفرد وژن کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ معروف سیاسی شخصیات کی موجودگی میں اعزاز  گذشتہ روز 30 مئی 2026 کو منعقدہ مذکورہ پروقار تقریب میں مہاراشٹرا اور جلگاؤں کی کئی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ پٹیل محمد زین کو یہ سرٹیفکیٹ معزز مہمانانِ کی موجودگی میں پیش کیا  گیا۔ سرپرست وزیر ضلع جلگاؤں شری گلاب راؤ پاٹل حکومت مہاراشٹر کے وزیر براۓ ٹیکسٹائل شری سنجے ساؤکارے ، جلگاؤں شہر کےایم۔ایل۔اے  شری سریش بھولے (راجو ماما)  جلگاؤں بلدیہ اعظمی میئر شریمتی دیپ مالا کالے ،   ڈائریکٹر، نِف گلوبل و سنگیتا اکیڈمی ، جلگاؤں شریمتی سنگیتا پاٹل وغیرہ ...

واجد اختر صدیقی کی "نقش تحریر " :گلبرگہ کی ادبی روایت کا آئینہ - ازقلم : افراء تسکین (اورنگ آباد)

Image
واجد اختر صدیقی کی "نقش تحریر " :گلبرگہ کی ادبی روایت کا آئینہ -  ازقلم : افراء تسکین (اورنگ آباد) فون نمبر: 9545857089                   اردو ادب کا دائرہ نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہے، جس میں ہر قلم کار اپنے منفرد اسلوبِ نگارش، فکری بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں کے باعث ایک الگ شناخت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ اہلِ قلم اردو زبان و ادب کے فروغ اور بقا کے لیے مسلسل کوشاں ہیں تاکہ نئی نسل تک اردو کی شیرینی، تہذیبی وراثت اور ادبی روایات منتقل کی جا سکیں۔ بعض ادیب اپنی خداداد صلاحیتوں، محنت اور علمی و ادبی خدمات کے ذریعے نہ صرف ادب کو ثروت مند بناتے ہیں بلکہ اپنی سرزمین کو بھی ایک منفرد شناخت عطا کرتے ہیں۔ ایسے ہی باصلاحیت اور فعال ادیبوں میں واجد اختر صدیقی کا نام خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ واجد اختر صدیقی کا تعلق ریاستِ کرناٹک کے تاریخی اور علمی شہر گلبرگہ سے ہے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں، تاہم ان کی اصل پہچان ان کی ادبی خدمات ہیں۔ وہ ان معدودے چند قلم کاروں میں شمار ہوتے ہیں جو بیک وقت نثر اور شاعری دونوں میدانوں م...

درویشِ اردو عبدالباری مخلص کو اعزازی ڈاکٹریٹ:  میزبان کمیٹی کی جانب سے ایک لاکھ روپے کا اعزازی چیک بھی پیش کیا گیا.

Image
مئی 31, 2026 : (محمد رضوان اللہ کے ذریعے)  اسلامیہ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں اردو زبان کے بے لوث خادم، پاسبانِ اردو اور ماہنامہ ’’نشانِ منزل‘‘ کے مدیر جناب عبدالباری مخلص صاحب کے اعزاز میں ایک پُروقار تقریبِ تکریم و تہنیت منعقد ہوئی، جس میں علمی، ادبی، سماجی اور سیاسی حلقوں سے وابستہ ممتاز شخصیات نے شرکت کرکے اردو کے اس خاموش مگر عظیم سپاہی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کا آغاز جناب ذکی احمد عمری کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ مولوی ارشاد احمد صاحب نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیے۔ مہمانانِ گرامی کا استقبال انجمنِ خدام الاسلام کے صدر جناب ٹی ایم عبدالرؤف خالد صاحب نے کیا اور اپنے استقبالیہ کلمات میں عبدالباری مخلص صاحب کی اردو دوستی اور ادبی خدمات کو سراہا۔ الف نیوز کے مدیر سید اکبر زاہد نے اپنے خطاب میں عبدالباری مخلص صاحب کی طویل ادبی و صحافتی خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کی ترویج، اشاعت اور خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ ماہنامہ ’’نشانِ منزل‘‘ ان کی اسی بے لوث جدوجہد کا زندہ ثبوت ہے جس نے ب...

واجد اختر صدیقی کی "نقش تحریر " :گلبرگہ کی ادبی روایت کا آئینہ - ازقلم : افراء تسکین (اورنگ آباد)

Image
واجد اختر صدیقی کی "نقش تحریر " :گلبرگہ کی ادبی روایت کا آئینہ -  ازقلم :  افراء تسکین (اورنگ آباد) فون نمبر: 9545857089                   اردو ادب کا دائرہ نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہے، جس میں ہر قلم کار اپنے منفرد اسلوبِ نگارش، فکری بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں کے باعث ایک الگ شناخت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ اہلِ قلم اردو زبان و ادب کے فروغ اور بقا کے لیے مسلسل کوشاں ہیں تاکہ نئی نسل تک اردو کی شیرینی، تہذیبی وراثت اور ادبی روایات منتقل کی جا سکیں۔ بعض ادیب اپنی خداداد صلاحیتوں، محنت اور علمی و ادبی خدمات کے ذریعے نہ صرف ادب کو ثروت مند بناتے ہیں بلکہ اپنی سرزمین کو بھی ایک منفرد شناخت عطا کرتے ہیں۔ ایسے ہی باصلاحیت اور فعال ادیبوں میں واجد اختر صدیقی کا نام خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ واجد اختر صدیقی کا تعلق ریاستِ کرناٹک کے تاریخی اور علمی شہر گلبرگہ سے ہے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں، تاہم ان کی اصل پہچان ان کی ادبی خدمات ہیں۔ وہ ان معدودے چند قلم کاروں میں شمار ہوتے ہیں جو بیک وقت نثر اور شاعری دونوں مید...

اردو زبان کے فروغ کے لیے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا - صدر اردو ساہتیہ اکیڈمی مہاراشٹر اسٹیٹ سید حسین اختر سے عبدالرازق کی خصوصی گفتگو۔

Image
انجنگاؤں سورجی (ضلع امراوتی) / خصوصی نمائندہ عبدالرازق اردو ساہتیہ اکیڈمی مہاراشٹر اسٹیٹ کے صدر جناب سید حسین اختر نے کہا ہے کہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے نوجوان نسل کی شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی مہاراشٹر بھر میں خصوصاً ودربھ کے اضلاع اکولہ، امراوتی، ناگپور، بلڈانہ، واشم اور برار کے علاقوں میں ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عبدالرازق سے ایک خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ سوال: اردو ساہتیہ اکیڈمی کی موجودہ ترجیحات کیا ہیں؟ سید حسین اختر: ہماری اولین ترجیح اردو زبان و ادب کا فروغ ہے۔ اس مقصد کے لیے مشاعرے، ادبی نشستیں، سیمینار، تربیتی پروگرام اور ثقافتی سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ اردو سے وابستہ افراد کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ سوال: کیا ودربھ کے علاقوں کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے؟ جواب: جی ہاں، ودربھ میں بے شمار باصلاحیت شاعر، ادیب اور نوجوان موجود ہیں۔ اکیڈمی کی کوشش ہے کہ ان علاقوں میں زیادہ سے زیادہ ادبی پروگرام منعقد ہوں اور مقامی صلاحیتوں کو ریاستی سطح پر متعارف کرایا جائے۔ سوال: مشاعروں اور ادبی پر...