آپکے خواب ہم چرالیں گے۔۔ ازقلم : مسرورتمنا۔
آپکے خواب ہم چرالیں گے۔ ازقلم : مسرورتمنا۔ جاوید حیران نگاہوں سے اپنی اونچی بلڈنگ سے 786 منزل کو دیکھ رہے تھے جہاں انکے دل کا چین نظر کا سکون قیام پزیر تھا اس دن وہ چھت پر نماز پڑھ رہی تھی اپنے گردوپیش سے بے خبر اور دور سے وہ بس اسے ہی دیکھے جارہے تھے خوبصورت حسین چہرہ سفید ڈوپٹہ اوڑھے جیسے. چاندنی زمین پر اتر ای ہو. . نصرہ... دل نے بے اختیار پکارا جاوید بھائ سعدیہ کی آواز پر وہ چونکہ تم پھ آگیں نیلی لڑکی بھائ میں نیلی پیلی نہیں ہوں بہت خوبصورت ہوں جبھی تو میرا رشتہ کانپور کے اویل مل اونر سے طے ہوا ہے آچھا مگر میں نے تو سنا تھا وہ لوگ گندے تیل خرید کر اسکی صفائ اور پیکنگ کر سپلای کرتے ہیں سعدیہ نے غصہ سے منھ سجا لیا اور واپس.پلٹ گئ سنو وہ تمہاری دوست آجکل نظر نہیں آتی کہاں کھوگئ تم اسے مسکراتا دیکھ.وہ مسکرایے ریاض کی یاد آرہی نانی ماں سے کہ جلد سسرال بھجواتا ہوں ...... آپکی الم نصرہ... دہلی گئ ہوی ہے شاید وہ لاپرواہی سے بولی تھی ... دہلی چلی گیں تم اسلیے چھت پر نہیں آتی اور میں تمہاری محبت میں بے.قرار آج بھی پ بس تمھیں ڈھونڈتا ہوں نصرہ... دل نے تڑپ کر ...