کہانی - فرار - از قلم: رہبر تماپوری۔
کہانی - فرار - از قلم: رہبر تماپوری۔ رابطہ : 8431012141 گاؤں کی صبحیں بڑی سادہ اور معصوم ہوتی ہیں۔ سورج کی پہلی کرن نمودار ہونے سے پہلے ہی صحنوں میں چہل پہل شروع ہو جاتی؛ کہیں چولہے جلتے، کہیں مویشیوں کے سامنے چارہ ڈالا جاتا اور کہیں کسان اپنے کھیتوں کی طرف نکل پڑتے۔ اسی گاؤں میں عمران اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ عمران پڑھنے میں بے حد ذہین اور سمجھ دار تھا۔ اساتذہ کو اس کے روشن مستقبل سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ اس کے والد کا گاؤں میں ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا۔ گھر کا چولہا اسی ہوٹل کی آمدنی سے جلتا تھا۔ والد صبح سویرے ہوٹل کھولتے اور رات گئے تک محنت کرتے۔ عمران بھی اسکول جانے سے پہلے کبھی سبزی لاتا، کبھی سامان پہنچاتا اور کبھی ہوٹل کے دوسرے کاموں میں والد کا ہاتھ بٹاتا۔ بچپن میں اسے یہ سب اچھا لگتا تھا، مگر لڑکپن میں قدم رکھتے ہی اس کی سوچ بدلنے لگی۔ وہ شہر سے آنے جانے والوں کی باتیں سنتا اور دل ہی دل میں سوچتا: ’’میں کب تک اس چھوٹے سے گاؤں اور اسی ہوٹل تک محدود رہوں گا؟ مجھے بھی آگے بڑھنا ہے!‘‘ اسے لگتا تھا کہ ترقی کے تمام راستے صرف شہر کی طرف جاتے ہیں۔ حقیق...