نصیرآباد کے اردو طلبہ کو میسر آیا سرکاری آٹھویں جماعت میں حصول تعلیم کا موقع ایک اور جماعت کا انتظار۔
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی) : تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور جب سماجی تنظیمیں قانون، سرکاری احکامات اور مضبوط دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ کسی عوامی مسئلے پر مسلسل آواز اٹھاتی ہیں تو انتظامیہ کو بھی عوامی مفاد میں مثبت قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ نصیرآباد کے اردو طلبہ کے تعلیمی حقوق کی جدو جہد اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئی ہے۔قصبہ میں ضلع پریشد کے تحت کل چھ اردو پرائمری اسکول قائم ہیں، جہاں ہر سال ساتویں جماعت کامیاب کرنے والے تقریباً 300 سے 350 طلبہ کو آٹھویں جماعت میں داخلے کے لیے شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ طویل عرصے سے یہ مسئلہ طلبہ، سرپرستوں اور مقامی سماجی حلقوں کے لیے باعث تشویش بنا ہوا تھا۔ اس تعلیمی مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایکتا سنگھٹنا جلگاؤں نے 12 مئی 2026 کو قانونی دفعات اور حکومتی احکامات کی بنیاد پر سرکاری اردو اسکولوں میں آٹھویں جماعت شروع کرنے کا باضابطہ مطالبہ کیا۔ مقامی افراد اور تنظیم کی مسلسل پیروی کے نتیجے میں ضلع پریشد انتظامیہ نے 12 جون 2026 کو چار اسکولوں میں آٹھویں جماعت شروع کرنے کا حکم جاری کیا، تاہم 15 جون کو اچانک یہ حکم تکنیکی...