بازوئے فلسطیں - ازقلم : صوفی حضرت عثمان جوہری جلگاؤں۔
بازوئے فلسطیں - ازقلم : صوفی حضرت عثمان جوہری جلگاؤں۔ کرہء ارض و سما پر ان ستارون کا جہاں کتنا نمدیدہ سا لگتا ہے نظاروں کا نشاں غمزدہ روحوں کاعالم بے سہاروں کا گماں درد کی روداد کیا ہے ان بے چاروں کی زباں ٹوڑ ڈالے ظالموں نے کیوں ہزاروں کے مکاں مابدل کیا ہے تری تقدیر کا معلوم ہے شیر خواروں کا لہو بھی کس قدر معصوم ہے باب حرمذ پر ہے پہرہ اور مندق پر لغام کس طرح گہرا گیا ہے تیل پانی کا نظام طرزِ غزہ دیکھیے ساحل پہ دردوں کا قیام آتشِ سوزانِ خامینی کا وہ بہتر مقام غیبِ من فرقانیت کا آ گیا ہے اب پیام جہد کے ان غازیوں کو دل سے ہے اپنا سلام حائفہ کی اس زمیں پر خوف ہے رقصِ کناں دھیرے دھیرے ڈھ رہا ہے طل ابیبی کارواں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا نتن یاہو کا گھر خوفِ ایراں اس قدر بے پھر رہا ہے در بدر جو تکبر کر رہے تھے ان کے غائب ہیں پسر کیا بتائیں ظلم مظلوموں پہ ڈھایا کس قدر طوق لعنت کا گلے میں ہے ٹرمپ کے عمر بھر یہ وہی فرعون ہیں لعنت ہے جن پر سر بہ سر ان گھمنڈی بھیڑیوں پر پھر گھٹا چھا جائے گی ایسے یہ دجال ہیں ان کو اجل کھا جائے گی آرزوئے زیست کا دامن ہوا ہے تار تار ...