معروف اُردو شاعر بشیر بدر 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
معروف و مقبول اُردو شاعر، غزل گو اور دانشور بشیر بدر کا 91 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ اُن کے انتقال کی خبر سے ہندوستان سمیت دنیا بھر میں اُردو ادب، شعرو سخن اور ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اُردو غزل کی ایک ایسی توانا آواز تھے، جنہوں نے محبت، تنہائی، انسان دوستی، وقت کی بے ثباتی اور زندگی کے کرب کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان کیا۔ بشیر بدر کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت اُس کی سادگی، دل نشینی اور عام فہم زبان تھی۔ اُن کے اشعار نہ صرف مشاعروں کی جان بنتے تھے بلکہ عام لوگوں کی گفتگو، خط و کتابت اور سماجی زندگی کا حصہ بھی بن گئے تھے۔ اُن کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوئے، جن میں یہ شعر خاص طور پر بے حد مقبول ہوا: *“شہرت کی بلندی بھی اک پل کا تماشا ہے* *جس شاخ پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے”* اُن کی شاعری میں ہمیں میر کی روایت کی جھلک بھی محسوس ہوتی ہے، جہاں سادگی کے ساتھ گہری داخلیت اور انسانی جذبات کی شدت موجود ہوتی ہے۔ عشق، جدائی، یاد، محرومی اور زندگی کے پیچیدہ سوالات کو انہوں نے ایسی زبان دی جو ہر دل تک پہنچتی تھی۔ ...