دھولیہ ضلع پریشد اردو اسکول پمپلنر میں داخلہ تقریب اور تقسیم انعامات کا انعقاد و وی آر لیب کا افتتاح۔
جلگاؤں (سعید پٹیل) دھولیہ کے پمپلنیر سےنعیم علی و فروز خان کے ذریعے موصول ایک رپورٹ کےمطابق ضلع کے پمپلنر میں واقع ضلع پریشد اردو اسکول میں نئے تعلیمی سال کے موقع پر گزشتہ سال کے ہونہار طلباء کی نئی داخلہ تقریب اور انعامات کی تقسیم کی تقریب انتہائی پرجوش ماحول میں منعقد ہوئی۔
پروگرام کی صدارت پمپلنر بی آئی ٹی ایکسٹینشن آفیسر اور اسکول نیوٹریشن آفیسر سنجیو وبھانڈیک نے کی۔ مہمانان خصوصی میں گروپ ایجوکیشن آفیسر راجندر پگارے ، ایکسٹینشن آفیسر پوار، پمپلنر سنٹر ہیڈ مکیش باویسکر، مولانا ابرار قادری، ظہور جاگیردار ، اسکول منیجمنٹ کے صدر نعیم علی ، نائب صدر نہال وسیم شیخ ، نائب صدر اسوسی ایشن ، ایوب شیخ اور دیگر شامل تھے۔ الطاف شیخ ، ٹیچرس پیرنٹس اسوسی ایشن کے صدر سلیم قریشی ، بالاہانے سینٹر ہیڈ جادھو سر ، ٹیچرس اسوسی ایشن کے صدر انیل تورون سر کناڈے سر، بھڈانے سر گاولی سر اور دیگر معززین موجود تھے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور معززین کا گلہاۓ عقیدت دے کر استقبال کیا گیا۔ تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نئے طلباء کا پھولوں سے استقبال کیا گیا۔
تعلیمی سال کے آغاز پر اسکول میں شامل ہونے والے نئے طلباء کو اسکول کی طرف سے گلاب کے پھول اور تعلیمی سامان دیا گیا۔
گذشتہ تعلیمی سال 2025-26 میں، اسکول کے طلباء نے مختلف تعلقہ اور ضلعی سطح کے مقابلوں جیسے کہ کھیل، مضمون نویسی، پینٹنگ، تقریری اور سائنس میں حصہ لیا اور پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرکے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اسکول کا نام روشن کرنے والے تمام کامیاب طلباء کو معززین کے ہاتھوں سرٹیفکیٹ اور شیلڈز سے نوازا گیا۔
طلباء کی اس کامیابی کے پیچھے ان کا عزم، والدین کا تعاون اور اساتذہ کی گراں قدر رہنمائی ہے۔ یہ کامیاب طلبہ یقیناً نئے طلبہ کے لیے تحریک کا باعث ہوں گے۔
22 اپریل بروز بدھ ضلع پریشد اردو اسکول پمپلنیر میں نئے آنے والوں کو پھول دے کر دوہری خوشی کی تقریب منائی گئی۔
اس موقع پر مولانا ابرار قادری نے کہا کہ آج کے اس تعلیمی ماحول میں بچوں کو تعلیم کی راہ پر گامزن دیکھ کر دل خوش ہوا،
انھوں نے مزید کہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنی زبان کو زندہ رکھیں اور سماجی بیداری اور ولولہ کو برقرار رکھیں،
اردو صرف ایک زبان نہیں، یہ ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت ہے۔ اس سکول نے جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ ہماری مادری زبان کے ورثے کو بھی محفوظ کیا ہے۔ یہ قابل تعریف ہے۔
اس اسکول کے اساتذہ اور طلباء نے ثابت کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہے ہیں۔ معاشرہ تعلیم سے بنتا ہے۔ یہ اسکول اس سمت میں بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ اللہ اس اسکول کو مزید ترقی عطا فرمائے۔ مولانا نے اس موقع پر مرکز کے سربراہ مکیش باویسکر سر نے کہا کہ اس اسکول کے اساتذہ اور اسکول مینجمنٹ کمیٹی نے طلباء کی ہمہ گیر ترقی کے لیے دن رات کام کیا ہے،
اس کے علاوہ، باویسکر نے محکمہ تعلیم کے افسران کو اسکول کی ترقی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ اور ایس ایم سی کی لگن سے کام کی وجہ سے طلباء کے معیار میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے سال بھر میں نافذ کی جانے والی اختراعی سرگرمیوں کے بارے میں بھی جانکاری دی۔
اس موقع پر گروپ ایجوکیشن آفیسر راجیندر پاگیرے کیندر نے کہا کہ مجھے آج ضلع پریشد اسکول میں منعقد ہونے والی داخلہ تقریب اور ہونہار طلبہ کی اعزازی تقریب میں شرکت کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
ایک اسکول صرف عمارت سے نہیں بلکہ اپنے اساتذہ کی لگن سے بھی ترقی کرتا ہے۔ آج میں فخر سے کہنا چاہوں گا کہ اس اسکول میں اساتذہ کی تعداد میں اضافے سے انتہائی نامساعد حالات میں بھی تعلیمی معیار میں بہتری آئی ہے۔
گزشتہ تعلیمی سال میں ہمارے اسکول کے طلباء نے تعلقہ اور ضلعی سطح پر مختلف مقابلوں میں جو کامیابی حاصل کی ہے وہ اساتذہ کی اضافی محنت کا نتیجہ ہے۔ میں 100% اندراج، معیاری مطالعہ اور فعال تدریس کے لیے تمام اساتذہ کی تہہ دل سے تعریف کرتا ہوں۔
میں نئے تعلیمی سال میں شامل ہونے والے تمام طلباء کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ والدین سے گزارش ہے کہ اساتذہ پر اعتماد کریں۔ آپ کے بچے محفوظ اور اچھے ہاتھوں میں ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسکول مینجمنٹ کمیٹی اور گاؤں والوں کا تعاون بھی قابل ذکر ہے۔ میں آپ کو مرکزی سطح سے اس اسکول کو درکار تمام مدد کا یقین دلاتا ہوں۔
اپنے صدارتی خطاب میں ایکسٹینشن آفیسر سنجیو وبھانڈک نے کہا کہ مجھے آج ضلع پریشد اردو اسکول، پمپلنر میں منعقدہ داخلہ تقریب اور ہونہار طلبہ کی اعزازی تقریب میں شرکت کرکے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔
اس موقعہ پر موصوف کے ہاتھوں جدید ترین تکنیک سے آراستہ ورچوئل رئیلٹی لیب کا افتتاح عمل میں آیا۔تمام ہی مہمانان نے طلباء کی تعلیمی رہنمائی فرمائی۔ نظامت پرنسپل مبشرہ خان نے کیں جبکہ رسم شکریہ شعیب سر نے ادا کی۔ پروگرام کو کامیاب بنانے کےلیۓ تدریسی و غیر تدریسی عملےنے محنت کی۔
Comments
Post a Comment