Posts

Showing posts from March, 2026

تقدس کے پردے میں وحشیانہ استحصال: اشوک کھرات، مذہبی ٹھگی اور سماجی احتساب کا سوال۔۔ بقلم : اسماء جبین فلک۔

Image
تقدس کے پردے میں وحشیانہ استحصال: اشوک کھرات، مذہبی ٹھگی اور سماجی احتساب کا سوال۔ بقلم : اسماء جبین فلک۔  مہاراشٹر میں اشوک کھرات سے متعلق گردش کرنے والی ویڈیوز، جنسی استحصال کے الزامات اور ان کے گرد پیدا ہونے والی عوامی بے چینی نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال ہمارے سامنے رکھ دیا ہے کہ جب مذہبی یا روحانی اثر و رسوخ سماجی احتساب سے آزاد ہو جائے تو اس کے نتائج کتنے مہلک ہو سکتے ہیں۔ اس معاملے کی حقیقت کا آخری تعین عدالت، تفتیشی اداروں اور قابلِ اعتماد شواہد ہی کریں گے، لیکن یہ تنازع اس سے پہلے ہی ہمارے معاشرے کے ایک گہرے زخم کو نمایاں کر چکا ہے کہ تقدس کے نام پر اعتماد کا استحصال کیا جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں کسی ایک فرد کا معاملہ ایک بڑے سماجی مسئلے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص مذہب، روحانیت، کرامت، دربار، دعا، علاج، رہنمائی یا باطنی فیض کے نام پر لوگوں کے ذہن، جسم، جیب اور اختیار پر قبضہ جمانے لگے تو وہ محض ایک مذہبی شخصیت نہیں رہتا، بلکہ طاقت کے ایک ایسے ڈھانچے میں ڈھل جاتا ہے جس کی جانچ صرف عقیدت سے نہیں، قانون اور اخلاقیات سے ہونی چاہیے۔ اس ساری بحث میں سب سے...

افسانہ - جنگ بنام جنگ۔۔ - ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔

Image
افسانہ - جنگ بنام جنگ۔ ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔  ستر برس کی نحیف رابیعہ بی کے لیے زندگی اب کسی لمبے اور تھکا دینے والے سفر کا نام رہ گئی تھی ؛ایسا سفر جس میں منزل کم اور تھکن زیادہ ہو۔ ایک زمانہ تھا جب وہ اسی شہر کی گلیوں میں تیز قدموں سے چلتی تھی، اور آج وہی راستے اس کے لیے پہاڑ بن چکے تھے۔ پچھلے ایک مہینے سے وہ ٹائیفائیڈ کے بخار میں مبتلا تھی۔ جسم کمزور، آنکھیں دھندلائی ہوئی، اور دل میں ایک انجانا سا خوف۔ اس کے پاس اپنا کوئی نہ تھا سوائے ایک غریب پڑوسن کی لڑکی کے، جو خاموشی سے اس کی تیمارداری کر رہی تھی۔ کھانا اکثر  "خانصاحب" کے گھر سے آ جاتا، پرانے تعلقات ابھی پوری طرح مرے نہیں تھے۔ اور اسی کھانے کی لالچ میں وہ غریب گھر آتی اس کی نگرانی کرتی ۔۔ آج وہ بینک جانے کے لیے نکلی تھی۔ سرکاری امداد کے کچھ پیسے نکلوانا ضروری تھے، ورنہ دو وقت کی روٹی اور  دوا بھی مشکل ہو جاتی۔ پہلے وہ یہ فاصلہ پیدل طے کر لیتی تھی، مگر اب ہر قدم درد سے بوجھل تھا۔ رکشہ اسٹاپ پر پہنچی تو ایک اور جنگ اس کے انتظار میں تھی, کرائے کی جنگ۔ "بیٹا، اتنا زیادہ کرایہ؟" "اما! پیٹ...

کامیاب رہا کوی سمیلن۔

Image
ناگپور (راست) بے سا ناگپور کے ہنومان مندر کے احاطے میں مندر کمیٹی کی جانب سے ہنومان جینتی کے موقع پر کوی سمیلن کا انعقاد کیا گیا جسکی نظامت ڈاکٹر تنہا ناگپوری نے کوی سمیلن میں سداما اکرانت،راہل سوم کنور ،عمران فیض اور ہندی مراٹھی اردو کوی شاعر طنزومزاح نگار اسپیشل ایکزیکٹیو آفیسر حکومت مہاراشٹر جمیل احمد جمیل (جمیل انصاری) نے شرکت کی سبھی کوییوں شاعروں نے ایک سے بڑھ کر ایک کلام پیش کیا جمیل احمد جمیل نے اس زعفرانی محفل کو اور بھی زعفران زار بنا دیا دوسرے دور میں سامعین کی فرمائش پر آپ نے اپنا مشہور زمانہ کلام ،،بیٹیاں،،سناکرخوب داد وصول کی مندر کمیٹی کے صدر گوپال کڑوکر رکن راجیش کبڑے نے سبھی کوییوں شاعروں کا مومنٹو اور زعفرانی رومال دیکر استقبال کیا ۔

اقراء اسکول سداسیوپیٹ میں سالانہ ڈے کا انعقاد۔

Image
سداسیوپیٹ 31/ مارچ(نمائندہ) نیو اقراء اسکول فیاض نگر سداسیو پیٹ میں سالانہ ڈے اور گریجویشن ڈے بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا جس میں طلباء نے بہترین ڈرامے، شاعری کی تلاوت اور دیگر ثقافتی سرگرمیاں پیش کرکے والدین کو محظوظ کیا۔  یہ پروگرام شام 5 بجے سے رات 9 بجے تک اسکول کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس کی نظامت اقراء ماڈل اسکول کے نمائندے محترم مولانا تبریز صاحب نے کی۔  اس موقع پر طلباء کے والدین اور مہمانان خصوصی نے شرکت کی۔  جناب سید عبدالرفیع التمش، ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ سوسائٹی، محمد مصطفی، محمد معیز اور بہت سے معزز مہمانوں نے شرکت کی۔  اس پروگرام کی کامیابی پر اقراء اسکول کی انتظامیہ نے تمام والدین اور طلباء کا شکریہ ادا کیا اور ان سے اسی طرح نیو اقراء اسکول کی حوصلہ افزائی کرنے کی درخواست کی اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔  اس کے بعد طلباء میں انعامات اور میڈلز تقسیم کئے گئے، خاص طور پر ان طلباء میں جنہوں نے سیرت کوئز میں حصہ لیا اور علی اکبر برائے نرسری، پی پی ون عرفان سعد اور پی پی 2 اسمارہ نے اول پوزیشن حاصل کی۔  ان طلباء میں سائیکلیں تقس...

چوہتر 74سال قبل یکم اپریل کو اردو کوہٹاکر انگریزی دفتری زبان قرار پائی۔ لیکن اردو کوکرناٹک کی دوسری سرکاری زبان بنایا نہیں۔ گیا : محمدیوسف رحیم بیدری۔

Image
بیدر۔ 31/مارچ (راست) تاریخ دراصل قوموں کی حیات اور ان کے عروج وزوال کامدفن ہوتی ہے۔جوقوم تاریخ کے اوراق پلٹ کر اپنے ماضی کو دیکھتی ہے، وہی قوم ایک بہتر مستقبل کی طرف گامز ن ہوتی ہے۔ یہ باتیں اس لئے کہہ جاری ہیں کیوں کہ یکم اپریل 1952؁ء کو بیدر اور اس سے متصل علاقے میں جس کاسیاسی مرکز اس وقت حیدرآباد تھا، کہاجاتاہے کہ اردو زبان کے بجائے انگریزی دفتری زبان قرار پائی۔ گویااردو کے ساتھ ناانصافی کی بنیاد یکم اپریل 1952؁ء کو رکھی گئی۔ یہ بات اُردو اور دکنی زبان کے شاعر وادیب محمدیوسف رحیم بیدری المعروف بہ میرؔبیدری نے کہی۔ انھوں نے آج ایک پریس نوٹ جاری کرکے کہاہے کہ آج سے 74سال قبل یعنی پون صدی قبل اُردو کوعلاقہ حیدرآباد کرناٹک کے دفاتر سے باہر کیاگیا۔ باوجود اس کے کہ وعدہ کیاگیاتھا اور وقتاً فوقتاً انتخابات سے پہلے وعدے کئے گئے کہ  اُردو کو دوسری سرکاری زبان بنایاجائے گالیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ بیدرضلع، حیدرآباد(نظام) سے لسانی بنیادوں پرصوبہ میسور (موجودہ نام کرناٹک) میں لیاگیا۔ دوتین دہائیوں بعد مطالبہ کیاگیاکہ علاقہ حیدرآباد کرناٹک (موجودہ نام کلیان کرناٹک) اور علاقہ ممبئی کر...

بیدرضلع کے سی آر پی ایف جوان کی موت۔

Image
بیدر۔ 31/مارچ (محمدیوسف رحیم بیدری) بیدر ضلع، اوراد تعلقہ کے کوٹھا بی گاؤں کے سی آر پی ایف جوان آنند بھیمنا وڈے (32سالہ) کی جھارکھنڈ میں موت واقع ہوگئی۔وہ تقریباً 10 سال سے سی آر پی ایف میں کام کر رہے تھے۔ پیر کی رات اپنے گھر والوں سے بات کی۔معلوم ہوا کہ ان کی موت منگل کی صبح ہوئی۔ موت کی صحیح وجہ معلوم نہ ہوسکی۔ آنجہانی آنند بھیمنا وڈے کی میت آج رات 11/ بجے حیدرآباد پہنچے گی اور بدھ کی صبح 3/ بجے آبائی گاؤں پہنچے گی۔ریاض پاشاہ کوللوری کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ بدھ کی صبح 11 بجے آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔

پانگل اسکول کے مُحمّد علی شیخ" وظيفهء حُسنِ خدمات سے سبکدوش۔

Image
شولاپور: (راست) شہر شولاپور کی اُمّ المدارس "ایم اے پانگل اینگلو اُردُو ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالیج آف آرٹس اینڈ سائنس شولاپور" کے اسپورٹس اور انگریزی مضمون کے ماہر اور ہر دل عزیز اُستاذ، "مُحمّد علی میراں محی الدین شیخ (باغبان)" اپنی تیتیس سالہ طویل تدریسی خدمات کے بعد وظیفہ حُسنِ خدمات سے سبکدوش ہوگئے۔ مورخہ تیس مارچ 2026 کو مدرسہ ہذا کے " مرحوم نعیم شیخ میموریل ہال" میں، پرنسیپل ڈاکٹر ہارون رشيد باغبان کی صدارت میں منعقد کیے گئے ایک شاندار تہنیتی جلسہ میں موصوف کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں آپ کو "لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ" سے نوازہ گیا۔    اس الوداعی تقریب کا آغاز بشیر احمد شیخ سے کے ذریعے تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا ۔ بعد از آں، فرحت شیخ، جویریہ دیوان، عرفان ڈوکا، فرزانہ نداف، فوزیہ شیخ، وسیم نلّامندو، تحسین شیخ، ڈاکٹر ثریّا پروین جاگیردار، کے علاوہ الحاج عبدالمناف چودھری صاحب اور صدر جلسہ پرنسیپل ڈاکٹر ہارون رشید باغبان نے اپنے تاثرات پیش کیے اور موصوف کی جملہ خدمات کا اعتراف کیا۔ در ایں اثناء، موصوف کے ایک سابق طالب...

ایل خیر حضرات سے مالی تعاؤن کی گزارش۔

Image
بیدر31مارچ (نامہ نگار)محمد عبدالصمد منجووالا کی اطلاع کے مطابق مدرسہ معہد انوار القرآن بیدر کے قدیم طالب علم جناب شاکر بھائی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، اور وہ اس وقت گرونانک ہاسپٹل میں زیرِ علاج ہیں۔ ان کی حالت تشویشناک ہے ، تاہم آپریشن ہو چکا ہے۔ ان کے اہلِ خانہ مالی طور پر کمزور ہیں، اس لیے تمام احباب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ان کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ اس وقت انہیں مالی تعاون کی سخت ضرورت ہے۔ براہِ کرم اس نمبر پر تعاون فرمائیں9448344693

ظہیر آباد اسلامک سنٹر میں 2/اپریل سے کمپیوٹر کے بنیادی کورسیس کا آغاز طلبہ سے داخلوں کی اپیل۔

Image
ظہیرآباد - 31/مارچ (نمائندہ) محمد معراج الدین مکرم انچارج الخیر کمپیوٹر کے بموجب دی مسلم ایجوکیشنل اینڈ سوشل سوسائٹی ظہیر آباد کے زیر اہتمام کمپوٹر کے بنیادی کورسیس کا آغاز 2/اپریل 2026 سے اسلامک سنٹر لطیف روڈ خان محلہ ظہیر آباد ہوگاکورسیس کی تفصیلات اس طرح ہیں بیسک آف کمپیٹر ، PGDCA پوسٹ گرائجویٹ ڈپلومہ ان کمپیوٹر اپلیکیشن ،ہارڈ ویر اینڈ سافٹ ویر بیسک ،انگلش ٹائپنگ بہت ہی کم فیس پر داخلوں کے لئے رجسٹریشن جاری ہیں نئے بیاچ کاآغاز 2/اپریل سے ہوگا کمپوٹر انسٹرکٹر محمد فصیح الدین ہونگے اوقات تربیت 2تا 4 بجے شام ہونگے دیگر تفصیلات کے لئے خواہش مند طلبہ ووالدین سے اپیل ہے کہ وہ محمد معراج الدین مکرم 91778221771 اور سید امتیاز 6300652225 سے ربط قائم کریں اور سنہری موقع سے استفادہ حاصل کریں۔۔۔

بزم احباب فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام 36ویں ماہانہ طرحی نشست، بزم پیام سعیدی، ماہم میں شاندار انعقاد۔

Image
ممبئی (راست) بزم احباب فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام 36ویں ماہانہ طرحی نشست، بزم پیام سعیدی، ماہم میں منعقد ہوئی۔ اس نشست میں شہر و مضافات سے تعلق رکھنے والے ادب دوست احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ نشست کی صدارت خلیق الزماں نصرت نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض عمران عطائی نے انجام دیے۔ محفل کا آغاز عمران عطائی کی جانب سے نعتِ پاک سے ہوا۔ مشاعرے میں شریک شعرا میں نصیر احمد عادل، حکم چند کوٹھاری، تاج محمد صدیقی، تابش رام پوری، ڈاکٹر اظہر اعظمی، ہیرا لال یادو، قمر حاجیپوری، پرویز شیخ، حیدر علی حیدر، عثمان اکبرؔ زیدپوری، علی اکبرؔ فیض پوری، سنجے گپتا، اشتیاق اثر، غلام حسین فاز اور اظہر حسین شامل تھے، جنہوں نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ صدرِ نشست خلیق الزماں نصرت نے پیام سعیدی کی حالاتِ زندگی اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔ آخر میں بزم احباب فاؤنڈیشن کے صدر توصیف کاتب نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور محفل کے اختتام کا اعلان کیا۔

گولکنڈہ گورنمنٹ ویمن ڈگری کالج میں ایک روزہ قومی سمینار کا انعقاد۔پروفیسر ایس اے شکور، پروفیسر نسیم الدین فریس، پروفیسر مجید بیدارومعززین کا خطاب۔

Image
گولکنڈہ گورنمنٹ ویمن ڈگری کالج میں ایک روزہ قومی سمینار کا انعقاد۔ پروفیسر ایس اے شکور، پروفیسر نسیم الدین فریس، پروفیسر مجید بیدارومعززین کا خطاب۔ حیدرآباد۔31/مارچ (راست) حیدرآباد کے گولکنڈہ میں واقع نیو گورنمنٹ ڈگری کالج برائے اناث (NGDCW) میں شعبہ اردو کے زیر اہتمام پیر کے روزکالج کی دس سالہ تاریخ میں ایک روزہ قومی سمینار کا شاندار انعقاد عمل میں آیا۔ اس سمینار کا موضوع ”جنوبی ہند کی اہم زبانوں کے اردو تراجم“ تھا۔ اس باوقار تقریب کا انعقاد PM-USHA اور تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائر ایجوکیشن (TGCHE) کے اشتراک سے کیا گیا۔صبح کے افتتاحی سیشن کی صدارت کالج کی پرنسپل پروفیسر ٹی۔سری لکشمی نے کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کے پروفیسر قاسم علی خان نے کلیدی خطبہ پیش کیا اور ترجمہ کے عمل میں درپیش چیلنجز اور زبانوں کے درمیان پل کے طور پر ترجمہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ دیگر خصوصی و اعزاز ی مہمانان میں پروفیسر ایس اے شکور ڈائریکٹردائرۃالمعارف عثمانیہ یونیورسٹی، پروفیسر نسیم الدین فریس سابق ڈین مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، ڈاکٹر داؤد محسن ش...

ایمان کی حفاظت کیجئے۔ مولانا احمد بیگ ناندیڑ۔

Image
ایمان کی حفاظت کیجئے۔  مولانا احمد بیگ ناندیڑ۔ ایمان ایک عظیم دولت ہے جو ہر کسی کو نہیں ملتی، جس کو مل گئی وہ دنیا کا سب سے امیر انسان ہے جب سے دنیا بنی ہے اللّٰہ پاک نے کروڑو انسانوں کو پیدا کیا اور مٹی میں ملا دیا انسان تھوڑی سی ترقّی کر لیا تو خُدا کو ہی بھول گیا ہیں، جاوید اختر بھی اُن میں سے ایک ہے، جاوید اختر کا خاندان بہت ہی دیندار تھا اُن کے پر دادا فضل حق خیرآبادی اُس زمانے کے بہت بڑے عالم دین تھے، وہ 1857 کی جنگ آزادی کے مجاہد،اور شیخ الاسلام تھے،انھوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا، جاوید اختر کے دادا مظفر خیرآبادی وہ اُردو ادب کے بہت بڑے شاعر اور عالم دین تھے، انہوں نے اپنی پوری زندگی علم دین کی خدمت میں اور اُمتِ مسلمہ کی اصلاح میں لگا دی، جاوید اختر کے والد جاں نثار اختر وہ بھی شاعر تھے لیکن ان کی سوچ اور رہن سہن سوشلسٹ تھی، یعنی وہ مذہبی اعتبار سے اسلام سے دُور تھے،ان کا طرز زندگی انگریزوں جیسا تھا،وہ دین اسلام سے بہت دور تھے،بات کرتے ہیں جاوید اختر کی،وہ بھی بہت بڑے شاعر ہے، سياسی اعتبار سے وہ راجیہ سبھا کے ممبر بھی رہ چکے ہیں اور اُنکا فلمی د...

نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت ترین کاروای کی جاے - عبدالکریم سالار۔

Image
جلگاؤں( عقیل خان بیاولی)  ہمارا ملک عظیم تہزیبوں و ثقافت کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے جس کی تہزیب و تمدن دنیا کی قدیم ترین روایات پر مبنی ہے جہاں عوام الناس کا باہمی میل جول محبت و اخوت کا عظیم پیکر ہے مگر کچھ عرصے سے یہاں شرپسند عناصر اس قدر منظر عام پر آیےکہ انہوں نے اس خوبصورت دلہن کی دونوں آنکھوں کے باہمی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں کؤی کسر نہ چھوڑی اس قسم کا واقعہ ٢٦ مارچ کو رام نومی کے روز جلگاؤں ضلع کی راویر شہر میں پیش آیا جب رام بھکتوں کے ایک جلوس کو مخاطب کرتے ہوے سندھ کھیڑے سے تشریف لائے ہندو مذہبی پیشوا یوگی دتانند جی مہاراج و ہرشو تای ٹھاکر نے اپنی منافرت سے بھری تقاریر میں مسلم قوم کے خلاف انتہائی ہتک آمیز جملوں کا استعال کیا ساتھ ہی ان کے نازیبہ جملوں کی ادایئگی اس ویڈیو کو" آپلے راویر" اس گروپ پر بھیجنے سے پل بھر میں امن و بھائی چارے کی فضا نفرت انگیز ماحول میں تبدیل ہوگئی جسے محسوس کرتے ہوۓ جلگاؤں شہر کارپوریشن کے سابق ڈپٹی میئرالحاج عبدالکریم سالار کے ہمراہ شہر راویر کے دانشمندان شہریان جن میں شیخ غیاث عبدالرشید، یوسف خان ابراہیم خان رفیق عبد...

علم اور عمل۔ تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔

Image
علم اور عمل۔  تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔  9881836729 ایک زمانہ تھا حصول علم کے لیے ہمارے اسلاف دور دراز کا سفر کرتے تھے اور اس زمانہ میں تیز رفتار سواری اور آمد و رفت کا کوئ معقول انتظام نہیں تھا۔ لیکن علم کی اہمیت اور اسکی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوے۔ دور دورتک ایک حدیث کےحصو ل کے لیے طویل پیدل یا پھر اونٹ پر سفر طے کرتے تھے۔ اور علم پر عمل پیرا ہوا کرتے تھے۔ حصول علم کے ذرائع کم تھے۔ لیکن علم پر عمل پیرا ہونا ان کی رگ رگ میں بسا ہوا تھا۔ حضرت عبدالقادر جیلانی رح ایک پایہ کے ولی گذرے ہیں۔ جب وہ حصول علم کے لیے رخت سفر باندھاتو ان کی والدہ نے بطور خرچ ان کے آستینوں میں چالیس اشرفیاں سی دی کہ کہیں چور ڈاکو اچک نہ لیں۔ اور انہیں نصیحت کی کہ ہمیشہ سچ بولنا گرچہ کہ جان پر باری آجاے۔ جب عبدالقادر جیلانی رح علیہ حصول علم کے لیے رخت سفر باندھا ۔راستہ میں میں چور ڈاکوؤں نے قافلہ پر حملہ کیا اور مال و زر لوٹا۔ جب عبدالقادر جیلانی رح سے ڈاکو نے پوچھا آپ کے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا میرے پاس چالیس اشرفیاں ہیں . جو میری ماں نے آستین میں سی رکھی ہیں۔ ڈاکو مذاق سم...

آبنائے ہرمز۔۔ از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔

Image
آبنائے ہرمز۔ از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جو نہ صرف آج بلکہ صدیوں سے عالمی تجارت، سیاست اور تہذیبوں کے درمیان رابطے کا مرکز رہی ہے۔ *جغرافیائی محلِ وقوع:* آبنائے ہرمز دو ممالک کے درمیان واقع ہے۔شمال میں ایران جنوب میں سلطنتِ عمان (خاص طور پر مسندم کا علاقہ)یہ مقام مشرقِ وسطیٰ میں واقع ہے اور دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے قریب ہے۔ *چوڑائی اور ساخت:* اس کی کل چوڑائی تقریباً 33 کلومیٹر ہے۔جہازوں کے گزرنے کے لیے مخصوص راستہ (Shipping lanes) تقریباً 3 کلومیٹر چوڑا ہوتا ہے۔یہ تنگ راستہ ہونے کی وجہ سے بہت حساس اور اہم سمجھا جاتا ہے۔ *تعارف اور موجودہ اہمیت:* یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحرِ عرب سے ملاتی ہے۔ آج دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اسے عالمی توانائی کی “شہ رگ” کہا جاتا ہے۔ *تاریخی پس منظر:* *قدیم دور:* آبنائے ہرمز کی اہمیت قدیم زمانے سے رہی ہے۔ ایرانی (فارس) سلطنتوں کے دور میں یہ راستہ تجارتی قافلوں اور بحری تجارت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ہند...

آئیڈیل سلیس ایسوسی ایشن جلگاؤں کی جانب سے "عید ملن" کا انعقاد۔

Image
جلگاؤں ( عقیل خان بیاولی) عید الفطر کی خوشی کو سلیس سے وابستہ افراد کے درمیان بانٹنے اور باہمی بھائی چارے, محبت و اخوت کو فروغ دینے کے مقصد سے، آئیڈیل سلیس ایسوسی ایشن جلگاؤں کی جانب سے منعقدہ 'دعوتِ شیر قورما' بنام عید ملن کا پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس پُرخلوص تقریب میں شہر کے مختلف معزز حضرات اور سماجی کارکنان و تعلیمی اداروں کے ذمه دران ساتھ ہی سلیس وابستہ افراد اور ڈسٹریبیوشن سے تعلق رکھنے والے معزز شہریوں نے شرکت کی۔ تقریب میں جلگاؤں شہر کے رکن اسمبلی جناب راجو ماما بھولے نے بطور خاص شرکت کی ۔  یک جہتی اور اخوت و محبت بھائی چارے کا حسین اور دلکش نظارہ تھا ۔ پروگرام کا بنیادی مقصد سلیس سے وابستہ افراد کو متحد کرنے اور ان درمیان امن، ہم آہنگی اور محبت کا پیغام عام کرنا تھا۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے تمام مہمانوں کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور انہیں عید کی روایتی مٹھائی 'شیر قورما' اور چیوڑا پیش کیا۔  اس موقع پر شہر کے سابق سماجی کارکنان شرد تایڈے ، پرشانت نائیک، ریاض باغبان اور مذہبی اور علمی شخصیات عبدالکریم سالار ، فار...

مُعزز وزیر اعلیٰ تمل ناڈو اور ڈی ایم کے کے صدر سٹالن سے آج صبح انا آرِیوالیم میں واقع پارٹی دفتر میں "اردو مککل کٹچی" کے صدر ڈاکٹر عبیداللہ بیگ اور ریاستی عہدیداران نے ملاقات

Image
چنئی، 30 مارچ 2026: (رضوان اللہ) مُعزز وزیر اعلیٰ تمل ناڈو اور ڈی ایم کے کے صدر سٹالن سے آج صبح انا آرِیوالیم میں واقع پارٹی دفتر میں "اردو مککل کٹچی" کے صدر ڈاکٹر عبیداللہ بیگ اور ریاستی عہدیداران نے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران ڈاکٹر عبیداللہ بیگ نے اعلان کیا کہ آنے والے 2026 تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی انتخابات میں اردو مککل کٹچی، ڈی ایم کے کی قیادت میں قائم سیکولر ترقی پسند اتحاد کی مکمل حمایت کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کی تمام 234 اسمبلی نشستوں پر اس اتحاد کی کامیابی کے لیے پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان بھرپور محنت کریں گے۔اس موقع پر ڈی ایم کے کے تنظیمی سکریٹری ار ایس بھارتی اور پارٹی کے ترجمان ٹی کے یس ایلانگون بھی موجود تھے۔

ہماری نمازیں بے اثر کیوں؟ - ایک غورطلب فکری و اصلاحی جائزہ۔۔ ازقلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی ۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)

Image
ہماری نمازیں بے اثر کیوں؟ -   ایک غورطلب فکری و اصلاحی جائزہ۔ ازقلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی ۔ (اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد) موبائل: 9325217306 آج کا مسلمان ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ نماز، روزہ، حج اور دیگر عبادات کا اہتمام کرتا ہے، دوسری طرف اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بے سکونی، بے برکتی اور مسائل کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہماری نمازیں وہ اثر کیوں نہیں دکھا رہیں جن کا وعدہ قرآن و حدیث میں کیا گیا ہے؟ زیرِ نظر چارٹ اسی حقیقت کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں واضح کرتا ہے۔ یہ مثال ایک پانی کے نظام (Water System) کی ہے، جس کے ذریعے یہ سمجھایا گیا ہے کہ نماز، ایمان، شریعت، جماعت اور روزہ مل کر ایک مکمل نظام بناتے ہیں۔ اگر اس نظام کا کوئی حصہ کمزور یا خراب ہو جائے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ایمان کو اس نظام کا “سورس” یعنی اصل منبع قرار دیا گیا ہے۔ ایمان وہ بنیاد ہے جس سے تمام اعمال کو قوت ملتی ہے۔ اگر ایمان کمزور ہو، اللہ پر یقین متزلزل ہو، یا آخرت کا تصور دھندلا جائے ...

مسلم کمیونٹی اجتماعی شادی کا اجتماع۔

Image
دگرس: (راست) انجمن فدایا نے مصطفی اور گلشن ملٹی پرپز ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن دگرس کے اشتراک سے 17 مئی 2026 کو شام 7 بجے مقامی انجمن اردو ہائی اسکول کے عظیم الشان صحن میں مسلم کمیونٹی اجتماعی شادی کا اجتماع منعقد کیا۔ اس سال اجتماعی شادی کے اس اجتماع کی کامیاب تنظیم کا 19 واں سال ہے۔ اس میں منتظمین نے شادی کرنے والے دولہا اور دلہن کو گھریلو سامان جیسے پلنگ، بستر ،الماری، کولر، کپڑے، برتن فراہم کیے۔ کمپنی کی طرف سے مفت تقسیم کی جائے گی اور مہمانوں کو مفت رہائش اور کھانا فراہم کیا جائے گا۔ شادی میں شرکت کے خواہشمند حضرات اپنے نام محمد عتیق سیٹھ لال بلڈنگ بارہ بھائی محلہ مین روڈ دگرس میں درج کرائیں۔ موبائل نمبر 9923145507، اسی طرح آرنی عارف بھائی بیٹری والے موبائل نمبر 9518330020، انصار شیخ انجینئر موبائل نمبر 9890718786، پوسد، ۔سید استقامت موبائل نمبر 9881786369، ڈاکٹر رازق احمد، موبائل نمبر۔ 9922662770، کالی، عبدالشارق عبدالوہاب موبائل نمبر 9763947860، داروہ وسیم خان، موبائل نمبر 9096209888، محمود خان موبائل نمبر 9922875789، ایوتمال-ذاکر سر موبائل نمبر9420548090 ۔ نیر تنویر احم...

تیل، طاقت اور سیاست — اصل کھیل کیا ہے؟۔ سید فاروق احمد قادری۔

Image
 تیل، طاقت اور سیاست — اصل کھیل کیا ہے؟  سید فاروق احمد قادری۔ جس “ائرلینڈ کے تیل ذخیرے” کی بات ہو رہی ہے، حقیقت میں عالمی سیاست کا مرکز Iran اور خلیجی خطہ ہے، جہاں توانائی کے وسائل پر اثر و رسوخ ہی اصل طاقت سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ آخر ان وسائل پر کنٹرول کیوں چاہتا ہے؟ اس کی بڑی وجہ عالمی معیشت اور اسٹریٹیجک برتری ہے۔ تیل صرف ایندھن نہیں بلکہ عالمی سیاست کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ Donald Trump جیسے رہنما ایک طرف امن کی بات کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف اسی توانائی کے کنٹرول کے ذریعے عالمی دباؤ قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ ایران کا موقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ کھل کر کہتا ہے کہ کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کسی ممکنہ فوجی مداخلت کو موقع سمجھ کر اپنے دفاع اور طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔ اس صورتحال میں براہِ راست تصادم دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، اسی لیے مکمل جنگ کا امکان کم مگر کشیدگی برقرار ہے۔ جہاں تک بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان کو تیل یا رعایت دینے کی بات ہے، یہ دراصل سیاسی اور معاشی حکمت عملی ہے۔ خاص طور پر Pakistan کو ترجیح دینے کی ایک بڑ...

سعودی عرب کا دوہرا معیار: امن کا دعویٰ اور امریکہ کی کھلی مدد۔(پرنس سلطان ایئر بیس پر حملہ: کیا سعودی عرب واقعی جنگ سے الگ ہے؟)۔ بقلم: اسماء جبین فلک۔

Image
سعودی عرب کا دوہرا معیار: امن کا دعویٰ اور امریکہ کی کھلی مدد۔ (پرنس سلطان ایئر بیس پر حملہ: کیا سعودی عرب واقعی جنگ سے الگ ہے؟) بقلم: اسماء جبین فلک۔ عصرِ حاضر کے انتہائی پیچیدہ اور کثیر الجہتی عالمی منظر نامے میں، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ریاستی بیانیے اور عملی اقدامات کے درمیان حائل خلیج روز بروز وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے میں کسی بھی ملک کے طرزِ عمل کا تجزیہ عموماً اس کی اعلانیہ خارجہ پالیسی اور زمینی حقائق کے باہمی تقابل سے کیا جاتا ہے۔ موجودہ مشرقِ وسطیٰ تنازعے کے دوران مملکتِ سعودی عرب کا کردار اس ساختی تضاد اور دوہری پالیسی کی ایک واضح مثال بن کر ابھرا ہے۔ سفارتی محاذ پر سعودی قیادت خود کو ایک غیر جانبدار فریق اور خطے میں امن کے داعی کے طور پر پیش کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے تاکہ مملکت کو براہ راست فوجی تصادم کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم، عسکری اور انٹیلی جنس کی سطح پر سعودی عرب کا امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک اشتراک اور اس کی عسکری مہم جوئی کے لیے لاجسٹک تعاون فراہم کرنا اس اعلانیہ بیانیے کی مکمل نفی...

پروفیسر سیما صغیر کی یاد میں تعزیتی نشست کا انعقاد - علمی و ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت۔

Image
حیدرآباد ۔ (پریس نوٹ)  "حرف زار لٹریری سوسائٹی" اور "دیارِ ادب انڈیا علیگڈھ" کے اشتراک سے خیابان ادب علیگڑھ میں پروفیسر سیما صغیر کی چوتھی برسی کے موقع پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ ڈاکٹر مجیب شہزر کے جاری صحافتی بیان کے مطابق نشست کی صدارت معروف فکشن نگار پروفیسر طارق چھتاری نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر مجیب شہزار نے انجام دیے۔ نشست میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے نامور اساتذہ اور دانشوروں نے مرحومہ کی تعلیمی، تحقیقی اور انسانی خدمات پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر طارق چھتاری نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ پروفیسر سیما صغیر ایک بلند پایہ استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی مخلص اور وضع دار خاتون تھیں۔ ان کی علمی بصیرت اور ادب سے وابستگی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ ان کی کمی علمی حلقوں میں ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ پروفیسر صغیر افراہیم نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سیما صغیر صاحبہ نے اپنی تحریروں اور تدریس کے ذریعے علم و ادب کی جو خدمت کی ہے، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ وہ اردو زبان و ادب کے تئیں ہمیشہ فکر مند رہتی تھیں اور ان کا کام ان کے علمی ...

ساس ،سسرےکا خیال رکھنا بہو کی ذمہ داری نہیں، ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ!

Image
ممبئی: الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ سسرال کا خیال رکھنا بہو کی اخلاقی ذمہ داری ہو سکتی ہے لیکن اسے قانونی طور پر ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اس حوالے سے ایک بزرگ جوڑے کی درخواست خارج کرتے ہوئے قانون کی حدود واضح کردی۔ بزرگ جوڑے کی عدالت میں بھاگ دوڑ: آگرہ کے ایک ضعیف جوڑے نے اپنی بہو کے خلاف نان نفقہ کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ متعلقہ بہو اتر پردیش پولیس فورس میں بطور کانسٹیبل کام کر رہی ہے۔ اس کے شوہر یعنی درخواست گزار جوڑے کے بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے۔ جوڑے کا موقف تھا کہ بیٹے کی موت کے بعد بہو کو خدمات کے تمام فوائد مل چکے ہیں اور وہ اس وقت معاشی طور پر مضبوط ہے۔ قانون کی حدود واضح ہیں:   اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے، جسٹس مدن پال سنگھ کی بنچ نے ایک اہم مشاہدہ کیا۔ کہا کہ عدالت نے کہا کہ قانون کی حدود واضح ہیں ، سابقہ ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 125 اور موجودہ ہندوستانی سول سیکورٹی کوڈ (بی این ایس ایس) کی دفعہ 144 کے تحت، کفالت کا حق صرف بیوی، بچوں اور والدین تک محدود ہے۔ ’ساس اور سسرا‘ ق...

آزاد نظم: دھوکا۔۔ از قلم: رہبر تماپوری۔

Image
آزاد نظم: دھوکا۔ از قلم: رہبر تماپوری۔ یہ لمحے— کبھی محبت کے تھے ہر قدم پر ساتھ چلتے ہوئے ایک انجانی سی روشنی دیتے تھے مگر اب وہی لمحے خاموش ہو گئے ہیں بے الفاظ ایک کہانی چل رہی ہے دل کے اندر اور جب پہلا زخم لگا تو ہمیں معلوم ہوا— ایک چہرہ صرف ایک چہرہ نہیں ہوتا اس کے پیچھے کتنے ہی چہرے چھپے ہوتے ہیں وہ مسکراہٹیں جو سچی لگتی تھیں درحقیقت صرف وقتی تھیں خواب— جنہیں ہم نے سنبھال کر رکھا تھا ایک ایک کر کے ٹوٹ گئے اور ان کے ساتھ ہماری انا بھی بکھر گئی وہ ہنر وہ پہچان جن پر ہمیں فخر تھا وقت کے بازار میں یوں بکھر گئے جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہ ہو اپنوں کے درمیان ہم اجنبی ہو گئے رسوائی ملی اور سوال بھی— سچ کا اعتبار کس نے کیا؟ حق کا ساتھ کس نے دیا؟ وہ سایہ دار درخت جس کی چھاؤں میں ہم نے خود کو محفوظ سمجھا تھا اب کہیں نظر نہیں آتا غم بھی ہمارے ساتھ رہا خوشی بھی ساتھ چلتی رہی مگر انجام— صرف تنہائی نکلا دوست چھوٹ گئے رشتے بکھر گئے اور ہم ایک خاموش موڑ پر کھڑے رہ گئے ہم نے سوچا— آخر ہمیں اس دنیا سے کیا ملا؟ چند زخم چند دکھ اور وہ ستم جو ہر راستے پر ہمارے ہم سفر بنے رہے مگر اسی مشکل سفر...

ایم ایل اے فنڈز سے جاری مہدویہ دایر ہ قبرستان کے کام میں غیر سماجی عناصر کی غنڈا گردی۔۔ انجینئر، کنٹریکٹر اور صدر کمیٹی پر حملہ؛ جان سے مارنے کی دھمکیاں۔۔۔۔ بیڑ پولیس اسٹیشن میں کیس درج۔

Image
بیڑ (نمائندہ )شہر کے علاقے مومن پورہ میںواقع مہدویہ دایرہ قبرستان کی حفاظتی دیوار ایم ایل اے فنڈز سے تعمیر کی جارہی ہے اور مذکورہ کام کے دوران دستگیر نامی غنڈے نے رقم کا مطالبہ کرتے ہوئے دائرہ کمیٹی کے صدر پرویز محمد ، کے ساتھ انجنئیر، کنٹریکٹر کو زد و کوب کیا اورجان سے مارنے کی دھمکیاں دیں ۔اس معاملےمیں بیڑ پولس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مہدویہ دائرہ قبرستان کمیٹی کے صدر پرویز محمد کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایم ایل اے سندیپ کشر ساگر کے ایم ایل اے فنڈ سے مہدویہ دائرہ قبرستان کی حفاظتی دیوار کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ 29 مارچ 2026 کو، شام 5:00 بجے، صدر کمیٹی تعمیراتی کام کا معائنہ کرنے کے لیے ڈیرے قبرستان، مومن پورہ، بیڈ گیا۔ میں تعمیراتی کام کا معائنہ کرنے کے لیے مذکورہ مقام پر پہنچےتو مومن پورہ، پیٹھ بیڑ کا بدنام زمانہ غلام دستگیر وہاں آیا اور کہا کہ آپ مجھ سے پوچھے بغیر یہ کام کیسے کر رہے ہیں، میں اس علاقے کا دادا ہوں۔ یہ کام نہ کرو۔ اگر تم نے یہ کام کیا تو میں تمہیں مار ڈالوں گا۔ غنڈ ہ دستگیر نے گالی گلوچ کی ، دھک...

اسلام جمخانہ میں عید ملن تقریب، انسانی حقوق کے وکلا کو خراجِ تحسین۔

Image
ممبئی، 28 مارچ 2026 — اسلام جمخانہ میں منعقدہ عید ملن کی ایک پُرہجوم تقریب میں, جسے انوسنس نیٹورک نے منعقد کیا ، سو سے زائد وکلا، علما، سماجی کارکنان اور طلبہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر جشن کے ساتھ ساتھ فکری نشست بھی منعقد ہوئی، جس کا اختتام تین ممتاز قانونی ماہرین کو "چیمپئنز آف ہیومن رائٹس ایوارڈ 2026" سے نوازنے پر ہوا۔ 28 مارچ کو منعقدہ اس تقریب میں خوشی اور سنجیدگی کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا، جہاں شرکا نے عید کی مسرتوں کے ساتھ ساتھ نظامِ انصاف میں جاری جدوجہد پر بھی غور کیا۔ پروگرام کی خاص بات تین وکلا کو ان کی مسلسل جدوجہد اور شہری آزادیوں کے تحفظ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازنا تھا۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں ایڈوکیٹ سریندر گاڈلنگ بھی شامل تھے، جو اس وقت بھیما کوریگاؤں کیس میں قید ہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں یہ اعزاز ان کے بیٹے سمیت گاڈلنگ نے وصول کیا۔ اسی طرح ایڈوکیٹ ابراہیم ہاربت کو بھی اعزاز سے نوازا گیا، جنہوں نے ممبئی اے ٹی ایس کے ہاتھوں حال ہی میں گرفتار کیے گئے 20 سالہ طالب علم ایان شیخ کا مقدمہ لڑا اور دھمکیوں کے باوجود اپنی ق...

ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی میں اردو بورڈ آف اسٹڈیز کی اہم نشست ، نصاب میں عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کا فیصلہ - نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے مطابق بی۔اے نصاب کی ازسرِ نو تشکیل، ماہرینِ تعلیم کی جامع تجاویز۔

Image
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی میں اردو بورڈ آف اسٹڈیز کی اہم نشست ، نصاب میں عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کا فیصلہ -  نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے مطابق بی۔اے نصاب کی ازسرِ نو تشکیل، ماہرینِ تعلیم کی جامع تجاویز۔ اورنگ آباد (نامہ نگار): ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی میں اردو و فارسی بورڈ آف اسٹڈیز کی ایک نہایت اہم اور بامقصد نشست ڈاکٹر قاضی نوید احمد صدیقی (صدر شعبہ اردو، مولانا آزاد کالج) کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی، جس میں تعلیمی و نصابی امور پر سنجیدہ اور تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں خاص طور پر بی۔اے سال سوم کے نصاب کو نیشنل ایجوکیشن پالیسی (NEP) کے تقاضوں کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دینے کا اہم فیصلہ کیا گیا۔ اس ضمن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نصاب کو اس انداز میں مرتب کیا جائے جو نہ صرف جدید تعلیمی رجحانات سے ہم آہنگ ہو بلکہ طلبہ کی ہمہ جہت علمی، فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی فروغ دے۔ مزید برآں بی۔اے آنرز (سال چہارم) کے نصاب کی تیاری کے لیے بھی ایک جامع اور دور رس لائحۂ عمل وضع کیا گیا۔ اس موقع پر ماہرینِ تعلیم نے اس امر پر اتفاق ک...

یہ تنہائیوں کا گھر۔۔ از قلم : خان افراء تسکین۔

Image
یہ تنہائیوں کا گھر۔ از قلم: خان افراء تسکین۔  9545857089 دور حاضر نے نئی کروٹ لی, ہم ترقی کر رہے ہیں، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں، اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تبدیلی قبول کر رہے ہے۔   اسی ترقی کے بیچ آج کل معاشرے میں ایک نیا رجحان ابھر رہا ہے,   ایک تلخ حقیقت ہمارے کانوں میں اکثر گونجتی رہتی ہے۔ کبھی کسی بیٹے نے باپ کا سہارا بننے کے بجائے سڑک پر تنہا چھوڑ دیا، تو کبھی کسی بہو نے اپنے ساس سسر کو گھر سے نکال دیا، اور کبھی جائیداد کے جھگڑوں نے والدین کو اپنے ہی گھر سے بے دخل کر دیا۔ یہ وہ سبق نہیں جو ہمیں اسکول نے دیا، نہ ہی کوئی مذہب ہمیں ایسا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ پھر بھی ہم اپنے والدین کو اس عمر میں بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں، جب انہیں ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں رک کر خود سے ایک سوال کرنا چاہیے… کہ آخر ہم کہاں کھو گئے ہیں؟ زندگی ایک سفر ہے۔۔ جس میں بچپن کی شرارتیں، جوانی کی مستیاں، اور بڑھاپے کی خاموشیاں سب شامل ہیں۔ مگر افسوس! یہ سفر اکثر ایک ایسے مقام پر آ کر ٹھہر جاتا ہے جہاں صرف جسم باقی رہ جاتا ہے، مگر...