مائیں گرمیوں کی چھٹیاں بچوں کے لیے بامعنی بنائیں - فردوس انجم ( بلڈانہ مہاراشٹر)


مائیں گرمیوں کی چھٹیاں بچوں کے لیے بامعنی بنائیں - 
 فردوس انجم ( بلڈانہ مہاراشٹر)

یوں تو گرمیوں کی چھٹیاں ہر بچے کے لیے خوشی، تفریح اور آرام کا وقت ہوتی ہیں۔ اسکولوں سے نجات، ہوم ورک سے چھٹی اور صبح جلدی اٹھنے کی پریشانی سے آزادی بچوں کو خوش کر دیتی ہے۔ اس خوبصورت موقع سے استفادہ حاصل کرتے ہوۓ والدین بچوں کی بہتر تربیت اور شخصیت سازی کے لیے بہترین موقع بنا سکتے ہیں۔
چھٹیوں کے دوران بچوں کا سارا وقت کھیل کود اور موبائل پر ضائع کرنا ایک عام بات ہے، لیکن اگر اس وقت کو مثبت سرگرمیوں میں لگایا جائے تو بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور جسمانی نشونما میں زبردست بہتری آ سکتی ہے۔ اس مضمون میں چند باتوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔
١۔ پلاننگ کریں : 
سب سے پہلے، مائیں بچوں کے لیے ایک پلان تیار کریں۔ اس میں مطالعہ، کھیل، گھریلو ذمہ داریاں اور دینی و اخلاقی تعلیم شامل ہونی چاہیے۔ بچوں کو روزانہ کچھ دیر مطالعہ کا وقت دینا ان کی تعلیمی صلاحیت کو کمزور ہونے سے بچاتا ہے۔ ساتھ ہی، کہانیوں یا سیرت کی کتابیں پڑھوانا ان کے اخلاق کو سنوارنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
٢۔ گھریلو کام :
گھریلو کاموں میں بچوں کی شمولیت نہ صرف ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے بلکہ خود انحصاری بھی سکھاتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے کام جیسے میز لگانا، اپنے کپڑے تہہ کرنا یا کچن میں ماں کی مدد کرنا ان کے لیے تربیت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کیونکہ تعطیلات میں بچے فارغ ہوتے ہیں، ان کے دل و دماغ میں جو سکھایا جائے وہ گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
٣۔ جسمانی سرگرمیاں : 
اسی طرح، کھیل کود اور مختلف جسمانی سرگرمیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ صحت مند جسم کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، ٹیم ورک اور صبر جیسی خوبیاں پیدا کرتی ہیں۔
٤۔ سیر و تفریح:
مختلف تاریخی مقامات کی سیر ، یا علاقائی سیر سے بچوں کو نئی چیزیں دیکھنے انھیں جاننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ چھٹیوں میں والدین کسی ایک مقام کا انتخاب کر کے بچوں کو ان کی معلومات میں اضافے نیز قدرت و معاشرے سے مضبوط ناطہ جوڑنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ 
٥۔ باغبانی ، شجر کاری : 
بچےمتجسس ہوتے ہیں ۔ ان میں قدرتی طور پر نئی چیزیں سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ تعطیلات میں انھیں شجر کاری اور باغبانی کے فوائد بتائیں ۔ ساتھ ہی ایک بچہ ایک پودہ موہیم کے ذریعے بچوں کو اپنی جیب خرچ سے ایک پودہ لگا کر اس کی دیکھ بھال کرنے کو کہے۔ اس سے پچے ماحولیات سے قریب ہونگے اور ان میں قدرت سے رغبت پیدا ہوگی۔


٦۔ ہنر سیکھنے کا موقع : 
جو بچے بڑے ہیں انھیں ایسی اسکیل سکھانے کی کوشش کریں جو مستقبل میں فائدہ مند ہو ، جیسے اسپیکنگ کورس ، کمپیوٹر کے مختلف کورس ( کوڈنگ ، انیمیشن ، وڈیو ایڈیٹنگ وغیرہ ) سلائی بنائ وغیرہ ۔جس سے بچوں میں کسی بھی کام کو کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا ۔ اور اس طرح وقت کا درست استعمال ہوگا۔
٧۔سوئمنگ سکھائیں
گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کو سوئمنگ سکھایا جا سکتا ہے۔ صحت کے حوالے سے یہ ایک اچھی سرگرمی ہے۔ بچوں کو سوئمنگ سیکھنے کا شوق بھی ہوتا ہے۔ اس لئے وہ جلد سیکھ بھی جاتے ہیں۔

٨۔پیدل چلنے کی عادت:
موبائل فون کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے بچے زیادہ تر ایک جگہ بیٹھے رہتے ہیں۔ اس لئے چھٹیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں پیدل چلنے کی عادت ڈلوائیں۔ چونکہ گرمی کا موسم ہے اس لئے شام کا وقت منتخب کریں اور بچوں کے ساتھ کسی پارک میں پیدل چلیں۔ روزانہ پارک کا ایک چکر لگوایا جاسکتا ہے۔ اس سے بچے میں پھرتی اور چستی آئے گی۔ البتہ بچوں کی صحت کے مطابق انہیں پیدل چلنے کی تلقین کریں۔

٩۔ سماجی سرگرمیاں:
گرمی کی چھٹیاں سماجی سرگرمیاں انجام دیتا کا بہترین موقع ہے۔ اس دوران بچوں کو سی این جی اوسے جڑنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ پارک یا سمندر کی صفائی مہم میں حصہ لیا جا سکتا ہے۔ پرندوں کے تحفظ کے لئے بیداری مہم میں حصہ لیا جاسکتا ہے۔
اس سے انہیں دوسروں کے لئے ہمدردی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے میں مددمل سکتی ہے۔
گرمیوں کی چھٹیاں بچوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کا ایک بہترین موقع ہے۔ اگر والدین خاص کرمائیں اس وقت کی قدر کریں اور بچوں کو اچھی عادات، علم اور اخلاق سکھانے میں دلچسپی لیں، تو یہی چھٹیاں ان کے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ اس وقت کو بامقصد بنا کر ہم بچوں کو کامیاب، بااخلاق اور ذمہ دار شہری بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔