ہم آہنگ صحبت: سکون روح اور آسودگی کا سرچشمہ - از قلم : ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد )
ہم آہنگ صحبت: سکون روح اور آسودگی کا سرچشمہ -
از قلم : ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی۔
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد )
موبائل نمبر: 9325217306
انسانی زندگی محض سانسوں کے تسلسل کا نام نہیں، بلکہ احساسات، تعلقات اور باہمی ہم آہنگی کا ایک نازک مگر گہرا نظام ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک سماجی مخلوق ہے، اور اس کی شخصیت کی تعمیر میں اس کے اردگرد موجود افراد کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ دانش ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ انسان کو اپنی صحبت اور رفاقت کا انتخاب نہایت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ ہم اپنے سماج میں بیشمار حلقہ احباب پر نظر ڈالیں تو یقیناً جہاں ہمیں اچھے شریف النفس اور نیک لوگوں کا گروہ ملے گا وہیں بد طینت بدمزاج خائن مکار اور دھوکے باز افراد کا ٹولہ بھی مل جائے گا۔ اگر آپ اچھی صحبت اختیار کرتے ہیں اور خوش اخلاق اور نیکی کے پروردہ دوستوں کی صحبت آپ کو میسر آجائے تو سمجھئے آپ دنیا کے خوش نصیب لوگوں میں ہیں۔
اسی حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں ایک خوبصورت جملہ یوں بیان کرتا ہے:
وُجُودُ مَن يَنَاسِبُ رُوحَكِ يُشبِهُ المَشِي فِي مُرُوجٍ لَا تنتهي، مليئة بالزهور۔
یعنی ایسے لوگوں کے درمیان رہنا جو آپ کی روح سے ہم آہنگ ہوں، گویا ایک ایسے وسیع و عریض چمن میں چلنے کے مترادف ہے جو خوشبو دار پھولوں سے بھرا ہوا ہو۔ یہ تشبیہ محض ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ ایک گہری انسانی حقیقت کی ترجمان ہے۔
صحبت کا اثر: ایک ناقابلِ انکار حقیقت :
جس طرح ایک سرسبز و شاداب وادی میں قدم رکھتے ہی انسان کے حواس معطر ہو جاتے ہیں، دل کو سکون ملتا ہے اور طبیعت میں انشراح پیدا ہوتا ہے، اسی طرح ہم مزاج اور ہم فکر افراد کی صحبت انسان کے باطن کو جِلا بخشتی ہے۔ ایسے لوگ نہ صرف ہمارے خیالات کو سمجھتے ہیں بلکہ ہمارے جذبات کی قدر بھی کرتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات بھی اس حقیقت کو پوری قوت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
"المرء على دين خليله"
(آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے)
یہ حدیث اس امر کی واضح دلیل ہے کہ صحبت کا اثر انسان کے عقائد، افکار اور کردار پر براہِ راست پڑتا ہے۔ اگر صحبت صالح ہو تو انسان سنور جاتا ہے، اور اگر فاسد ہو تو بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔
اقبالؔ نے اسی نکتے کو یوں بیان کیا:
صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالح ترا طالح کند
ہم آہنگی: سکونِ قلب کی بنیاد :
ہم آہنگی دراصل دلوں کے اس ربط کا نام ہے جہاں الفاظ کی بھی ضرورت کم پڑ جاتی ہے۔ جب انسان ایسے افراد کے درمیان ہوتا ہے جو اس کی روح کی زبان کو سمجھتے ہوں، تو وہاں تصنع باقی نہیں رہتا۔ انسان اپنی اصل کے ساتھ جیتا ہے، اور یہی کیفیت حقیقی اطمینان کا باعث بنتی ہے۔
غالبؔ نے انسانی دل کی کیفیت کو یوں بیان کیا:
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں
ایسے ماحول میں جہاں ہمدردی ہو، اخلاص ہو اور باہمی احترام ہو، وہاں انسان کے زخم بھی آہستہ آہستہ مندمل ہونے لگتے ہیں۔
عصری تناظر میں اہمیت :
آج کے مادہ پرستانہ اور مفاداتی دور میں سچی اور ہم آہنگ صحبت کا مل جانا ایک بڑی نعمت ہے۔ اکثر تعلقات وقتی مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں، جن میں نہ خلوص ہوتا ہے اور نہ پائیداری۔ ایسے میں وہ افراد جو ہماری روح کے لیے سکون کا باعث بنیں، یقیناً قیمتی اثاثہ ہیں۔
یہی بہت ہے کہ تم ساتھ ہو، یہ غنیمت ہے
کہ راستہ بھی سہل ہے، سفر بھی خوبصورت ہے
یہی وہ صحبت ہے جو انسان کو تھکن کے باوجود حوصلہ دیتی ہے، اور مشکلات کے باوجود امید کا چراغ روشن رکھتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ ہم آہنگ لوگوں کی موجودگی انسان کی زندگی کو ایک خوشبودار باغ میں بدل دیتی ہے۔ یہ نہ صرف اس کے دل کو سکون عطا کرتی ہے بلکہ اس کی شخصیت کو نکھارنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ایسے افراد کو جگہ دیں جو ہمارے لیے باعثِ رحمت ہوں، اور خود بھی دوسروں کے لیے راحت کا سبب بنیں۔
کیونکہ زندگی کی اصل خوبصورتی اسی میں ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے درمیان رہیں جن کی صحبت میں وقت بھی خوشبو بن کر بکھر جائے، اور دل کو یوں محسوس ہو جیسے وہ کسی نہ ختم ہونے والے پھولوں بھرے چمن میں سفر کر رہا ہو۔
Comments
Post a Comment