دھمکی کا نیا رنگ: یونیفارم میں گنڈا - بنگال میں اجے پال شرما کی تعیناتی انتخابی کمیشن کی سنگین غلطی۔از : جمیل احمد ملنسار- بنگلور۔


دھمکی کا نیا رنگ: یونیفارم میں گنڈا - 
بنگال میں اجے پال شرما کی تعیناتی انتخابی کمیشن کی سنگین غلطی۔
از : جمیل احمد ملنسار- بنگلور۔
9845498354
انتخابی کمیشن آف انڈیا کو لمبے عرصے سے ہمارے جمہوری نظام کا سب سے معتبر اور قابلِ اعتماد محافظ سمجھا جاتا رہا ہے۔ عوام اس ادارے سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ سیاست کی آندھیوں سے بالاتر رہتے ہوئے آزاد، منصفانہ اور خوف سے پاک انتخابات کو یقینی بنائے گا۔

مگر افسوس کہ مغربی بنگال کے موجودہ اسمبلی انتخابات کے دوران کمیشن نے جو فیصلہ کیا، اس نے اس اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اتر پردیش کے متنازع آئی پی ایس افسر اجے پال شرما کو ساؤتھ 24 پرگناس میں پولس آبزرور کے طور پر بھیجنا، اور پھر ان کا وہ رویہ جو سامنے آیا، سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔وائرل ویڈیو میں اجے پال شرما، جنہیں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں ’انکاؤنٹر اسپیشلسٹ‘ اور ’سنگھم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، سینٹرل فورسز کے ساتھ ایک ٹی ایم سی امیدوار جہانگیر خان کے گھر پہنچتے ہیں۔ وہاں ان کے خاندان سے وہ لہجہ اختیار کرتے ہیں جو انتظامی نہیں، بلکہ صاف دھمکی آمیز ہے

”اگر بدمعاشی جاری رکھی تو قاعدے سے علاج کیا جائے گا… بعد میں رونے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔“یہ الفاظ ایک غیر جانبدار آبزرور کے منہ سے نہیں نکلنے چاہییں تھے۔ یہ زبان ایک مقامی گنڈے کی زبان تھی — جو لوگوں کو ڈرانے اور ان کو سبق سکھانے آیا ہو۔

بنگال میں سیاسی تشدد اور ووٹروں کو دبانے کی شکایات کوئی نئی بات نہیں۔ ان پر قابو پانا ضروری بھی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا علاج کیا ہونا چاہیے؟ کیا علاج یہ ہے کہ ایک دوسری ریاست سے ایسے افسر کو بھیجا جائے جس کی ساری شہرت سخت گیر اور متنازع پولیسنگ سے جڑی ہوئی ہے؟ اور پھر اسے اسی انداز میں کام کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے؟

اجے پال شرما اتر پردیش میں جس طرز کی کارروائیوں کے لیے مشہور ہیں، وہ شاید قانون و انتظام کے بعض معاملات میں کچھ لوگوں کو پسند آتا ہو۔ مگر انتخابات کی نگرانی جیسے نازک اور حساس کام کے لیے ان کی ذہنیت اور ان کا انداز بالکل موزوں نہیں۔

 ابزرور کا کام دھمکیاں دینا یا ”علاج“ کرنے کا اعلان کرنا نہیں ہوتا۔ اس کا کام یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ مقامی پولیس اور انتظامیہ غیر جانبداری سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے یا نہیں۔ جب ایک افسر، جس کا امیج ہی ایک خاص سیاسی جماعت کے انفورسر والا ہو، کیمرے کے سامنے امیدوار کے گھر جا کر اینٹھ کر بات کرے تو غیر جانبداری کا دعویٰ کس طرح معتبر لگ سکتا ہے؟

اس پورے واقعے سے جو تاثر بن رہا ہے، وہ انتہائی خطرناک ہے۔ ایک بی جے پی حکمران ریاست کا افسر بنگال میں ٹی ایم سی کے امیدوار کو اینٹھ کر دھمکا رہا ہے — یہ منظر عام ووٹروں کے ذہن میں خوف پیدا کرتا ہے۔ کیا یہ آزاد انتخابات کا ماحول ہے؟ یا ایک نئی قسم کا دباؤ، جو پہلے والے دباؤ کی جگہ لے رہا ہے؟

انتخابی کمیشن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کے دور میں صرف حقیقت ہی نہیں، تاثر بھی بہت اہم ہے۔ جب ریفری خود ایک ٹیم کا اینفورسر بن جائے تو پورا میچ مشکوک ہو جاتا ہے۔ جمہوریت کو سخت پولیس کی ضرورت نہیں ہوتی — اسے غیر جانبدار، شفاف اور انصاف پسند پولیس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو خوف پیدا کرنے کی بجائے انصاف کے احساس سے احترام حاصل کریں۔

اجے پال شرما کی تعیناتی اور ان کے رویے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ ہمارے آئینی ادارے کس حد تک سیاست سے بالاتر رہ پاتے ہیں۔ اگر انتخابی کمیشن جیسی حسّاس ترین تنظیم بھی عوام کے ذہن میں سیاسی رنگ لیے ہوئے نظر آنے لگے تو پھر جمہوریت کی بنیاد ہی کمزور پڑ جاتی ہے۔

یہ معاملہ صرف ایک افسر یا ایک امیدوار کا نہیں ہے۔ یہ اس اعتماد کا معاملہ ہے جو کروڑوں عوام اپنے انتخابی نظام پر رکھتے ہیں۔ اس اعتماد کو بچانا انتخابی کمیشن کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ اس ذمہ داری میں ناکام رہا تو آنے والی نسلیں اسے معاف نہیں کریں گی۔

Comments