ایامِ فراغت اور کتابوں کی دل آویز صحبت ( تعطیلاتِ گرما )۔ از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو ( معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ )
ایامِ فراغت اور کتابوں کی دل آویز صحبت ( تعطیلاتِ گرما )
از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو ( معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ )
”جو علم کی راہ پر چل پڑے اسے تنہائی سے وحشت نہیں ہوتی، اور جو کتابوں سے حوصلہ پکڑنا سیکھ جائے وہ سب دلاسوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے، اور جسے مطالعے سے اُنس ہو جائے اسے دوستوں کے بچھڑنے سے فرق نہیں پڑتا۔“
انسانی زندگی میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب مصروفیات کا ہنگامہ وقتی طور پر تھم جاتا ہے اور وقت کی روانی کچھ سست سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی ایامِ فراغت دراصل انسان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ انہیں شعوری انداز میں استعمال کرے۔ ان لمحات کو اگر کتابوں کی دل آویز صحبت میسر آ جائے تو یہی فرصتیں علم و آگہی کے درخشاں چراغ روشن کر دیتی ہیں۔
کتاب محض اوراق کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی خاموش رفیق ہے جو انسان کے باطن میں اتر کر اسے نئی جہات سے روشناس کراتی ہے۔ یہ وہ ہمدم ہے جو نہ صرف ذہن کو جِلا بخشتی ہے بلکہ دل کو بھی سکون عطا کرتی ہے۔ مطالعہ انسان کو فکر کی گہرائی، نظر کی وسعت اور اظہار کی لطافت عطا کرتا ہے۔ یوں ایک مطالعہ کرنے والا محض معلومات کا حامل نہیں رہتا بلکہ شعور و آگہی کا پیکر بن جاتا ہے۔
موسمِ گرما کی تعطیلات خصوصاً طلبہ کے لیے ایک ایسا وقفہ فراہم کرتی ہیں جس میں وہ اپنے معمولاتِ تعلیم سے ہٹ کر خود کو نئے انداز میں سنوار سکتے ہیں۔ اگر ان ایام میں کتابوں سے رشتہ استوار کر لیا جائے تو یہی فرصتیں مستقبل کی کامیابیوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کو وہ بصیرت عطا کرتی ہے جو بسا اوقات برسوں کے تجربے سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔
مطالعے کا شوق پیدا کرنا دراصل خود کو ایک نئی دنیا سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ جب انسان کتابوں سے اُنس پیدا کر لیتا ہے تو تنہائی اس کے لیے بوجھ نہیں رہتی بلکہ ایک خوشگوار کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔ وہ ہر صفحے کے ساتھ ایک نیا خیال، ایک نئی سوچ اور ایک نیا زاویۂ نظر حاصل کرتا ہے۔
پیارے بچوں یہ جان لو کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایامِ فراغت کو بے مقصد مشاغل کی نذر کرنے کے بجائے اسے علم کے نور سے منور کردیں روزانہ تھوڑا سا وقت بھی اگر سنجیدہ مطالعے کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس کے اثرات دیرپا اور سودمند ثابت ہوتے ہیں۔ یہ عادت نہ صرف تعلیمی میدان میں مددگار ہوتی ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر ہمیں ہماری پسندیدہ کوئی کتاب حاصل نا بھی ہو تو غم نا کرو آج کا زمانہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے آن لائن ہمیں بے شمار کتابیں دستیاب ہوگی ۔ کتابوں کا ذخیرہ ہمیں فراہم ہے ۔ جب بھی مطالعہ کا خیال ذہن میں لائیں فوری ای کتاب کھولنا اور جہاں کا مطالعہ کرنا ہے وہ صفحہ اگر ہم اسکرین شاٹ لے کر محفوظ کرلیں تو فرصت کے لمحات میں یہ سارا مطالعہ مکمل ہو جائے گا ۔یہی کتابوں کی دل آویز صحبت انسان کو ایک ایسے سفر پر لے جاتی ہے جہاں علم روشنی بن کر راستہ دکھاتا ہے اور شعور منزل کا تعین کرتا ہے۔ جو شخص ایامِ فراغت کو کتابوں کے ساتھ گزارنا سیکھ لیتا ہے، وہ درحقیقت اپنے مستقبل کو سنوارنے کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔
Comments
Post a Comment