(طنزومزاح) بطرح”میں دوستوں سے ہاتھ ملانے میں رہ گیا”۔ ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن (انڈیا )
(طنزومزاح) بطرح”میں دوستوں سے ہاتھ ملانے میں رہ گیا”۔
ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن (انڈیا )
دستار کو میں اپنی بچانے میں رہ گیا
اور شان بھی میں جھوٹی دکھانے میں رہ گیا
پتنی کو اپنی میں تو رُلانے میں رہ گیا
جنتا کو دیش کی بھی گُھمانے میں رہ گیا
اک شعر بھی میں خود سےکبھی کہہ نہیں سکا
استاد ہی کے شعر سُنانے میں رہ گیا
عیبوں پہ پردہ ڈال دیا میرے رب نے پر
اوروں کے عیب میں تو بتانے میں رہ گیا
بیماریوں میں لاکھوں روپئے خرچ ہو گئے
رشوت تمام عُمر میں کھانے میں رہ گیا
ویسے ٹرین وقت پہ آئ بھی اور گئی
“میں دوستوں سے ہاتھ ملانے میں رہ گیا”
دولت حرام جتنی تھی سب چوری ہو گئی
اک روپیہ حلال خزانے میں رہ گیا
ماں باپ کی دُعائیں مری مُنتظر تھیں پر
میں اہلیہ کے ناز اُٹھانے میں رہ گیا
سب لوگ پیٹ بھرکےسحر کھاکےچل دئیے
سب کو پروس کے میں کھلانے میں رہ گیا
Comments
Post a Comment