افسانہ"بدنامی کے سائے"۔ - ازقلم : راشیدہ یاسمین، سکلیشپور، (ہاسن)


افسانہ
"بدنامی کے سائے"
ازقلم : راشیدہ یاسمین، سکلیشپور، (ہاسن)
9035972491

مریم ایک نہایت پیاری، باوقار اور دلکش شخصیت کی مالک لڑکی تھی۔ بچپن ہی سے اس کی سمجھداری، نرمیِ گفتار اور خوش اخلاقی نے ہر دل میں اس کے لیے جگہ بنا لی تھی۔ اسکول میں اس کا نام ہمیشہ نمایاں رہتا—پڑھائی میں اول، کھیل میں آگے، اور فنونِ لطیفہ میں بھی نمایاں۔ اساتذہ اسے فخر کی نگاہ سے دیکھتے اور ساتھی طالبات اس جیسا بننے کی خواہش دل میں بسائے رکھتیں۔
مگر زندگی ہمیشہ ایک ہی رنگ میں نہیں رہتی…
کہتے ہیں، کچھ خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جو دوسروں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگتی ہیں۔ شاید وہی بری نظر تھی، یا پھر حسد کی وہ چنگاری، جس نے مریم کی روشن زندگی کو دھیرے دھیرے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
وہ دن اسے آج بھی یاد ہے جب سب کچھ بدلنے لگا۔ تعریفوں کی جگہ سرگوشیاں سنائی دینے لگیں، محبتوں کی جگہ شکوے اور الزام۔ نہ جانے کہاں سے اس کے کردار پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ جو کام کبھی باعثِ فخر تھے، وہی اب طعنوں کا سبب بن گئے۔ مریم جتنا خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتی، حالات اتنے ہی اس کے خلاف رخ اختیار کرتے گئے۔
وہ اندر ہی اندر بکھرنے لگی۔ اس کے خواب، جو کبھی ستاروں کی مانند چمکتے تھے، اب دھندلا کر رہ گئے تھے۔ اسے سمجھ نہ آتا کہ اس کی خطا کیا ہے—کیا واقعی یہ بری نظر تھی؟ یا لوگوں کے دلوں میں پلتی ہوئی حسد کی سیاہی؟
ایک نئی امید کے سہارے اس نے شادی کا فیصلہ کیا۔ اس نے سوچا کہ شاید نیا گھر اس کے زخموں پر مرہم رکھ دے گا، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ وہاں بھی اسے وہی بےاعتنائی، وہی الزام، وہی اذیت سہنی پڑی۔ اور پھر ایک دن ایسا آیا جب اس پر اپنے ہی شوہر کے قتل کا الزام لگا دیا گیا۔
یہ الزام اس پر بجلی بن کر گرا۔
اس کے قدم لڑکھڑا گئے، زبان گنگ ہو گئی، اور دل چیخ چیخ کر اپنی بےگناہی کا اعلان کرنا چاہتا تھا، مگر سماج کے شور میں اس کی آواز کہیں دب کر رہ گئی۔ لوگ اسے مجرم ٹھہرانے لگے، اور وہ خود سے سوال کرتی رہ گئی— "آخر میرا قصور کیا ہے؟"
بدنامی کے اس دلدل میں وہ جتنی نکلنے کی کوشش کرتی، اتنی ہی دھنستی چلی جاتی۔ مگر ایک رشتہ ایسا تھا جو اسے مکمل طور پر ٹوٹنے نہیں دیتا تھا—اس کے بچے۔
اپنے بچوں کے لیے اس نے ہار ماننے سے انکار کر دیا۔ اس نے آنسوؤں کو ضبط کیا، الزاموں کو نظرانداز کیا، اور ایک نئے حوصلے کے ساتھ خود کو سنبھالا۔ دن رات کی محنت، صبر اور استقلال نے اسے پھر سے کھڑا کر دیا۔
مگر اس کی زندگی محض ایک کہانی نہیں—یہ ایک سوال ہے، ایک آئینہ ہے، جو ہمارے معاشرے کے چہرے کو بےنقاب کرتا ہے۔
کیا ہم اتنے بےحس ہو چکے ہیں کہ بغیر تحقیق کے کسی کی عزت کو نیلام کر دیں؟ کیا ہم بھول گئے ہیں کہ ایک عورت کی بدنامی، دراصل پوری انسانیت کی تذلیل ہے؟
قرآنِ مجید ہمیں خبردار کرتا ہے کہ جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور چار گواہ پیش نہیں کرتے، وہ اللہ کے نزدیک سخت گناہگار ہیں، اور ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
مگر افسوس… یہ سبق ہم نے کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اسی بےحسی کا نتیجہ تھا کہ مریم جیسی بےگناہ عورت کو بدنامی کا بوجھ اٹھانا پڑا۔
وقت گزرتا گیا…
اور وہی مریم، جو کبھی الزاموں کے اندھیروں میں کھو گئی تھی، اپنے صبر اور عزم کی روشنی سے دوبارہ ابھرنے لگی۔ اس نے اپنے بچوں کو سنبھالا، اپنی ٹوٹی ہوئی ہمت کو جوڑا، اور دنیا کو دکھا دیا کہ سچ کو دبایا جا سکتا ہے، مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔
آج وہ ایک مضبوط عورت کی مثال ہے— مگر اس کے دل میں ایک خاموش درد اب بھی زندہ ہے…
وہ درد، بری نظر کا نہیں، بلکہ اس معاشرے کا ہے، جو سچ دیکھنے سے پہلے فیصلہ سنا دیتا ہے۔
کبھی کبھی وہ آسمان کی طرف دیکھ کر آہستہ سے کہتی ہے: "یا اللہ، اگر یہ آزمائش تھی… تو میں نے اسے صبر سے قبول کیا، اور سرخرو ہوئی۔"

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔