مزدوروں کا عالمی دِن یکم مئی اور اُردوشاعری - محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
مزدوروں کا عالمی دِن یکم مئی اور اُردوشاعری -
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
مزدور کے معنی گوگل پر اجرت، محنتانہ یادیہاڑی پر کام کرنے والا محنت کش شخص کے بتائے گئے ہیں۔ آگے لکھاہے ”وہ شخص جو جسمانی مشقت کے بدلے روزی کمائے۔ جیسے تعمیراتی کام کرنے والا، قلی، یاجفاکش آدمی“ایک معنی غیرمہارتی یادستی کام کرنے والے کے بھی بتائے گئے ہیں۔ ویکی پیڈیا نے مزدور کے معنی ایک ہی جملے میں دئے ہیں، وہ یہ کہ ”مزدور:روزی کے لئے ایسا کام کرتاہے جس میں غیرمہارت کے دستی پیشے شامل ہیں“البتہ اس نے پھاؤڑا لئے ہوئے ایک شخص کی تصویر کے اوپر مزدور لکھ کر نیچے انگریزی میں لکھاہے۔Heavy equipment operator, Ironworker, Cement Mason, Carpenter, Teamster, Hod, Carrierدئے گئے ہیں۔ فرہنگ عامرہ میں مزدور کے معنی ”مزدوری کرنے والا“ (ص573) دئے گئے ہیں۔ لغات کشوری میں بھی یہی معنی درج ہیں (ص457) شبد کوش (انگلش اردو ڈکشنری) میں تین معنی درج ملتے ہیں (۱) مزدور برائے مرمت Fixer, mender, repairer(۲) جفاکش، قلی، محنت کش، محنتیtoiler (۳) کامگار، محنت کش۔ دیگر ویب سائٹس پر مزدور کی ایک تعریف میں worker, labourer, jobber کے بتائے گئے ہیں۔ Jobberکے معنی نوکری کرنے والا کے ہیں۔ اگر مزدورکے معنی ”نوکری کرنے والا“ کو قبول کرلیاجائے گاتو پھر قریب قریب ساری دنیا مزدورنظر آئے گی۔ ریختہ ڈکشنری میں درج ذیل معنی دئے گئے ہیں۔ اجرت پر محنت و مشقت کا کام کرنے والا، تجارت اور صنعت کے شعبوں میں جسمانی محنت کا کام کرنے والا، دوسروں کے کھیتوں میں اجرت پر کام کرنے والا، محنت فروش،وہ شخص جو معمار کو اینٹ، گارا لا لا کر دیتا ہے۔ بوجھ ڈھونے والا، پلے دار، قلی ریختہ میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ملتی ہے۔ ”مزدور“ کو پہلے زمانے میں ”مزور“ (یعنی دال مہلہ کے بغیر) بھی بولتے اور لکھتے تھے۔ اسی طرح، ”مزدوری“ کو ”مزوری“ بھی لکھتے اور بولتے تھے۔ بعد والوں نے دال کو ساقط کرنا ترک کردیا۔ اور اب ”مزدور“ مع دال ہی صحیح ہے۔ فارسی میں یہ لفظ مع اول مضموم یعنی”مُزدور“ بروزن ”پرنور“ ہے“
مزدور سے متعلق کہاوتیں:۔(۱)دِن ڈھلا مزدور ہٹا (۲) دکن کھسکا مزدور ہنسا(۳) جورو چِلنی میاں مزدور (ظاہر میں کنگال اور واقع میں خوش حال) (۴) مزدور کو شہر، بھینس کو ڈَہَر(ہرکسی کو وہ بات پسند ہوتی ہے جس میں اس کافائدہ ہو)جوکہاوتیں ہیں ان میں مزدور وں سے متعلق حسن ِ ظن کم ہی ملتاہے۔
مزدوروں کاعالمی دن ”یکم مئی“:۔ ویکی پیڈیا کے مطابق یکم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد امریکا کے شہر شکاگو کے محنت کشوں کی جدوجہد کو یاد کرنا ہے۔ انسانی تاریخ میں محنت و عظمت اور جدوجہد سے بھرپور استعارے کا دن یکم مئی ہے۔ 1886ء میں شکاگو میں سرمایہ دار طبقے کے خلاف اٹھنے والی آواز، اپنا پسینہ بہانے والی طاقت کو خون میں نہلا دیا گیا، مگر ان جاں نثاروں کی قربانیوں نے محنت کشوں کی توانائیوں کو بھرپور کر دیا۔ مزدوروں کا عالمی دن کار خانوں، کھتیوں کھلیانوں، کانوں اور دیگر کار گاہوں میں سرمائے کی بھٹی میں جلنے والے لاتعداد محنت کشوں کا دن ہے اور یہ محنت کش انسانی ترقی اور تمدن کی تاریخی بنیاد ہیں۔
مسئلہ:۔مغربی دنیا میں صنعتی انقلاب کے بعد، سرمایہ داروں کی بدکاریاں بڑھ گئیں، جن کے خلاف اشتمالی نظریات بھی سامنے آئے۔ سوشلسٹ ٹریڈ یونینز کی بنیادیں ڈالی گئیں۔ صنعتی مراکز اور کارخانوں میں مزدوروں کی بدحالی حد سے زیادہ بڑھ گئی۔ مزدوروں سے دن میں 18 گھنٹوں تک کام کروایا جاتا تھا۔
مطالبہ:۔ یوم مئی کا آغاز 1886ء میں محنت کشوں کی طرف سے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے سے ہوا۔ٹریڈ یونینز اور مزدور تنظیمیں اور دیگر سوشلسٹک ادارے، کارخانوں میں ہر دن آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ کیا۔
احتجاج یا ہڑتال:۔ اس دن امریکا کے محنت کشوں نے مکمل ہڑتال کی۔ تین مئی کو اس سلسلے میں شکاگو میں منعقد مزدوروں کے احتجاجی جلسے پر حملہ ہوا جس میں چار مزدور ہلاک ہوئے۔ اس بر بریت کے خلاف محنت کش احتجاجی مظاہرے کے لیے (Hey market square) میں جمع ہوئے۔ پولیس نے مظاہرہ روکنے کے لیے محنت کشوں پر تشدد کیا۔ اسی دوران میں بم دھماکے میں ایک پولیس افسر ہلاک ہوا تو پولیس نے مظاہرین پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس کے نتیجے میں بے شمار مزدور ہلاک ہوئے اور درجنوں کی تعداد میں زخمی،اس موقعے پر سرمایہ داروں نے مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر کے پھانسیاں دی۔حالانکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا کہ وہ اس واقعے میں ملوث ہیں۔ انھوں نے مزدور تحریک کے لیے جان دے کر سرمایہ دارانہ نظام کا انصاف اور بر بریت واضح کر دی۔ ان ہلاک ہونے والے رہنماؤں نے کہا۔ ”تم ہمیں جسمانی طور پر ختم کر سکتے ہو لیکن ہماری آواز نہیں دباسکتے“
نتائج:۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں دنیا بھر میں محنت کشوں نے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار حاصل کیے۔
اسلام اور مزدور:۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مزدوروں سے متعلق اپنے ایک معرکہ آراء مضمون میں لکھاہے ”سب سے پہلے تو پیغمبراسلام ﷺنے مزدوروں کو ایک باعزت مقام اور منصب کا حامل قرار دیا اور عام طورپر جو اس طبقہ کو کمتر اور حقیر گردانا جاتا تھا، اس کی نفی فرمائی۔ ان کے اس مضمون میں کئی ایک احادیث مبارکہ ملتی ہیں۔تین چار احادیث کامطالعہ کرتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ یا دس سال تک حضرت شعیب علیہ السلام کی مزدوری کی (ابن ماجہ)ایک بار آپ ﷺ نے حضرت حکیم بن حزامؓ سے ارشاد فرمایا،سب سے حلال رزق وہ ہے جس میں دونوں پاؤں چلیں، ہاتھ کام کریں اور پیشانی عرق آلود ہو(الفردوس للدیلمی، حکیم بن حزام)آپ ﷺ نے فرمایا: سب سے پاکیزہ عمل یہ ہے کہ آدمی خود اپنے ہاتھوں کمائے (بیہقی، طبرانی) آپ ﷺنے فرمایا: مزدور کی اُجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔(ابن ماجہ)حلال روزی کی تلاش میں محنت و کاوش کو عند اللہ پورے ایک سال امام عادل کے ساتھ جہاد سے افضل قرار دیا گیا (ابن عساکر)
اردو شاعری میں مزدورکاذکر:۔ اسرارالحق مجاز ؔ نے 10بندوں پر مشتمل ایک طویل نظم مزدوروں کے حق میں لکھی تھی۔ یہ نظم جس زمانے میں لکھی گئی توہ زمانہ مزدروں کے لئے سازگارزمانہ تھا۔ اس نظم کے دو بند ملاحظہ فرمائیں۔ ”مزدوروں کا گیت“نظم کاعنوان ہے ؎
محنت سے یہ مانا چور ہیں ہم
آرام سے کوسوں دور ہیں ہم
پر لڑنے پر مجبور ہیں ہم
مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم
گو آفت و غم کے مارے ہیں
ہم خاک نہیں ہیں تارے ہیں
اس جگ کے راج دلارے ہیں
مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم
آج کاایک نوجوان شاعر مجیب احمدمجیب ؔ ہے۔ جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والے اس شاعر نے اپنی نظم ”مزدور“ میں اکیسویں صدی کے مزدور کے جذبات او راس کے حالات کی عکاسی کی ہے۔ تین چار اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
کندھوں پہ اٹھائے ہوئے دنیا کی عمارت
مزدور ہی ہے اصل میں ہر شہر کی طاقت
نہ چھاؤں نہ آرام نہ فرصت کا کوئی پل
مزدور کی قسمت میں دن و رات ہے محنت
سستے سے بدن پر یہ پسینے کی چمک دیکھ
زیور ہے، خزانہ ہے، یہی اس کی ہے دولت
محنت ہی سدا دوڑتی ہے ان کے لہو میں
مزدور ہی لکھتے ہیں ترقی کی حکایت
ترقی کی حکایت لکھنے والے مزدور کی زندگی کو اردوزبان کے شعراء نے اپنے فنی کمال کے ساتھ بیان کیاہے۔ ریاض انور بلڈانوی لکھتے ہیں ؎
وقت کی بھٹّی میں مزدور کا تن روز جلے
اس کے آرام کو اتوار سے آگے کیا ہے
اعجاز احمد اعجاز ؔبگدلی دراصل پونہ جیسے محنت کشوں کے شہرِ مرکزِ ادب میں رہتے ہیں، ان کاخیال ہے ؎
یہ مزدور اپنے کندھوں پر کبھی پتھر اٹھاتا ہے
عمارت کا کبھی خوش بخت یہ نقشہ بناتا ہے
یہ دن بھر دھوپ میں تپتا ہے اور اُف تک نہیں کرتا
مگر لوگوں کے چہروں کو حسین چہرہ بناتا ہے
اخوت چاہئے تعمیر کے کاموں میں اے اعجازؔ
بڑے محلوں کو کب انساں یہاں تنہا بناتا ہے
علامہ اقبال نے تو کہہ دیاتھا ؎
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ ء مزدور کے اوقات
اورپھر منور رانا کاایک مشہور شعر ہے ؎
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
احمد سلمان کے اس شعر کی نازک خیالی کو دیکھیں اور اس انسانی جذبہ کو سلام ضرور کریں ؎
کچل کچل کے نہ فٹ پاتھ کو چلو اتنا
یہاں پہ رات کو مزدور خواب دیکھتے ہیں
فٹ پاتھ پر سونے والا دراصل انسانوں کے لئے راہیں بناتا ہے، یہ خیال حفیظ ؔ جالندھری کا ہے ؎
آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے
آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے
منور رانا کہتے ہیں ؎
بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہے
رہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہو جاتے ہیں
میرؔبیدری کاتخیل کہتاہے ؎
تیرا شاہی محل بنانے کو
آج مزدور آگئے ہوں گے
مزدور کو چائے پلانے کی بات بھی میرؔبیدری کہتے ہیں ؎
کھلانے کھانا گرپیسے نہیں تھے میرؔ
کسی مزدور کوچائے پلادیتے
تنویر سپراکہتے ہیں ؎
اب تک مرے اعصاب پہ محنت ہے مسلط
اب تک مرے کانوں میں مشینوں کی صدا ہے
اسرارالحق مجاز ؔ کی نظم ”مزدور کا گیت“کی طرف پھر آتے ہیں، جس کاآخری بند کچھ یوں ہے ؎
ہم قبضہ کریں گے دفتر پر
ہم وار کریں گے قیصر پر
ہم ٹوٹ پڑیں گے لشکر پر
مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم
دفتر اور قیصر پر قبضہ اور وار کرنے والے، لشکر پر ٹوٹ پڑنے کاعزم رکھنے والے مزدوروں کوہٹاکر اکیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے دولت مند ملک مالکان نے اپنے ہاں نئی ٹیکنالوجی کے کندھے پر سوار ہوکر روبوٹ لالئے ہیں جو ہر قسم کا چھوٹابڑاکام، بلکہ پہاڑوں کوہٹانے کاکام بھی انجام دیتے ہیں۔ اب حضرت ِ قیصر کو گوشت پوشت والے مزدوروں کی محتاجی نہیں رہی۔ اس سے قبل کہ حالات مزید بگڑیں، سماج سے جسمانی مزدوری ختم ہوجائے، مزدور بھی اپنے بچوں کو مزدوری کے مقام سے ہٹالے تو بہتر ہے۔ چند مزید اشعارملاحظہ کیجئے ؎
لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی
یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی
افضل خان
مل مالک کے کتے بھی چربیلے ہیں
لیکن مزدوروں کے چہرے پیلے ہیں
تنویر سپرا
پھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرن
سرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں
علی سردار جعفری
فرمانِ نبیؐ ہے، سنو اے صاحبانِ جاہ و مال
مزدور کو مزدوری دو، قبل وہ کرے سوال
افسر علی نعیمی ندوی
غریبوں پر تو موسم بھی حکومت کرتے رہتے ہیں
کبھی بارش کبھی گرمی کبھی ٹھنڈک کا قبضہ ہے
منور رانا
کتنا بعد ہے میرے فن اور پیشہ کے مابین
باہر دانشور ہوں لیکن مل میں آئل مین
تنویر سپرا
تری زمین پہ کرتا رہا ہوں مزدوری
ہے سوکھنے کو پسینہ معاوضہ ہے کہاں
عاصم واسطی
اے آئی کاڈنکا بج رہاہے
مزدور کو چھانٹا جارہاہے
میرؔبیدری
کسی کو پتہ بھی نہیں ہے
کہ مزدور تیرے تھے ہم بھی
میرؔبیدری
اللہ کرے، مزدوروں کے مسائل حل ہوں۔ دنیا سے لوٹ مار ختم ہوجائے۔ دولت مندوں کو توفیق ہو کہ وہ وقت پر اور مناسب اجرت مزدوروں کودیں،اس طرح مزدوروں کے دن پھریں، مزدوروں کی اولادیں بھی خوب خوب ترقی کریں۔ آمین
٭٭٭
Comments
Post a Comment