بچیوں کی تربیت ہمارے معاشرے کی ناگزیر ضرورت۔۔ تحریر : سید صداقت علی ندوی امام مسجد اقصی گنگا نگر آکولہ۔
بچیوں کی تربیت ہمارے معاشرے کی ناگزیر ضرورت۔
تحریر : سید صداقت علی ندوی امام مسجد اقصی گنگا نگر آکولہ۔
صنف نازک کائنات کے حسین و خوبصورت شاہکاروں میں سےایک ہے جسکی لچک نرمی وملاطفت دلوں کوموہ لینے اور ذہنوں کو مسخر کرنے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے
گویا اقبال علیہ الرحمہ کے الفاظ میں ۔
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی میں سوز دروں ۔
لیکن افسوس کہ آج معاشرے کی ظالمانہ تقسیم نے اسے صرف ہوس کی تسکین کا ذریعہ بنا رکھا ہے اسکے نازک وپرعزم بازووں کوآزادی نسواں کے نام پر خودساختہ بوجھ ڈھونے اور خاتون خانہ کے بجائے حیا کی چادر کھینچ کراسے شمع محفل بننے پر مجبور کر دیا ہے۔
جسکی وجہ سے وہ ذات جو
ہمارے سماجی و معاشرتی اصلاح کا حقیقی ذریعہ تھی اسے صحیح تربیت سے جو اسلامی و انسانی معاشرے کی اہم و بنیادی ضروریات میں سے ہے۔جس کے بغیر انسانی نسل کی اصلاح وتربیت کاتصور ہی محال ہے کہیں اعلیٰ تعلیم کے نام پر تو کہیں خاندانی جبر اور اسے اپنے اوپر بوجھ سمجھنےکی وجہ سے محروم کیا جارہاہے۔
اسی کا فقدان اب ہمارے خاندانی تانے بانے بکھیرنے میں اہم رول ادا کررہاہے
جسکی وجہ سے آپسی رساکشی عداوت کینہ و بغض جیسی مہلک بیماریوں نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو کھوکلا اور قطع رحمی وآپسی بائکاٹ نے اسکے شیرازے کو منتشر کردیا ہے۔یہی نہیں بلکہ شوہر و بیوی کے درمیان جو الفت ومحبت،یگانگت و یکجہتی ہونی چاہیے تھی وہ بھی مفقود ہوتی جارہی جو بالآخر طلاق وخلع کے واقعات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے ۔گویا
یہ سب کچھ خاتون خانہ میں تربیت کی کمی اوراسکےغیر ذمہ دارانہ رویہ کے باعث وقوع پذیر ہونے والی برائیوں کا نتیجہ ہے ۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم لڑکی کی تربیت اور اسکو تہذیب سکھانے میں اپنا کردار ادا کریں اسکو خدا کا عطیہ سمجھیں لڑکی کی پیدائش پر ناک بھوں چڑھانا۔ دل شکستہ ہونا یہ جہاں ناشکری ہے وہیں خداۓ علیم و کریم کی توہین بھی۔
حدیث میں ہے کہ، جب کسی کے یہاں لڑکی پیداہوتی ہے توخدااسکے ہاں فرشتے بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں :اے گھروالوں!تم پر سلامتی ہو،وہ لڑکی کو اپنے پروں کے ساۓ میں لے لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہتے ہیں؛یہ کمزور جان ہے، جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئ ہے جو اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا قیامت تک خداکی مدد اسکے شامل حال رہے گی (طبرانی) نیز ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ جس نے تین لڑکیوں یا بہنوں کی سرپرستی کی انھیں تعلیم و تہذیب سکھائی اور انکے ساتھ رحم کا سلوک کیا تو ایسے شخص کے لیے خدانے جنت واجب فرمادی -ایک شخص بولا اگر دو ہی ہوں تو نبی ﷺ نے فرما اس کا بھی یہی صلہ ہے؛
اسی لیے جہاں ہم اس بات کو ضروری سمجھتے ہیں کہ ہماری بچی تعلیم یافتہ ہو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سنجیدگی و اعلیٰ اخلاق وبلند کرداری کا حسین پیکر بھی ہو نیز وفاداری، سلیقہ شعاری ، شکر گذاری،خوش گفتاری، نرم خوئی، فرمانبرداری، میں اپنی مثال آپ ہو جو صفائی، سلیقہ مندی، آرائش و زیبائش کہ ہنرسے خوب خوب واقف ہو یہی وہ اعلیٰ قدریں اور خوبیاں ہیں جنکاکسی خاتون میں پایا جانااسکے نیک ہونے کی علامت ہے کیونکہ اللہ کےرسول ﷺ نے فرمایا کہ۔! مومن کے لیے خوف خدا کے بعد سب سے زیادہ مفید اور باعث خیرو نعمت وہ نیک بیوی ہے کہ جب وہ اسے کسی کام کا کہے تو وہ خوش دلی سے انجام دے اور جب وہ اس پر نگاہ ڈالے تو وہ اس کو خوش کردے۔ اور جب وہ اسکے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو وہ اسکی قسم پوری کردے۔ اور جب وہ کہیں چلا جاۓ تو وہ اسکے پیچھے اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرے اور شوہر کے مال واسباب کی نگرانی میں شوہر کی خیر خواہ ووفادار رہے۔ (ابن ماجہ )
یہ حقیقت ہے کہ صاف ستھرا گھر قرینے سے سجی ہوئی چیزیں بناو سنگھار کی ہوئی بیوی کی مسکراہٹ سے نہ صرف گھریلو زندگی۔ پیار ومحبت اور خیر و برکت سے مالا مال ہوتی ہے بلکہ ایک خاتون کے لیے اپنی عاقبت بنانے اور خدا کو خوش رکھنے کا بھی یہی ذریعہ ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم نہایت ہی سوز دل کے ساتھ ہمارے معاشرے کو ٹوٹ نے سے بچانے کے لیے ان تمام عملی تدبیروں کو اپناۓ جو لڑکیوں کی تربیت کے لیے ضروری ہے اور خوب دل کی لگن کے ساتھ انکے لئے دعائیں کرتے رہیں خداۓ رحمن و رحیم سے توقع ہے کہ وہ والدین کی پرسوز دعائیں ضائع نہیں فرماۓ گا انشاءاللہ
Comments
Post a Comment