حج بیت اللہ۔۔ ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
حج بیت اللہ۔
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
حج بیت اللہ یہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں اسکی فرضیت و فضیلت کے بارے میں ارشادات موجود ہیں استطاعت کی صورت میں زندگی میں ایک مرتبہ حج اور ایک مرتبہ عمرہ فرض ہوتا ہے جیساکہ حدیث شریف میں صراحت موجود ہے
حضرت ابراھیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر مکمل ہونیکے بعد اللہ تعالی کے حکم سے حج بیت اللہ کے لئے آواز لگائی جیساکہ قرآن کریم میں ارشاد ہے
اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو لوگ تمہارے پاس چلے آئینگے پیادہ بھی اور اونٹنیوں پر بھی جو کہ دوردراز راستوں سے پہنچی ہونگی ( سورہ الحج)
حج کی فرضیت کے بعد نبئ کریم نے ایک ہی حج فرمایا اور یہ آپ کا آخری بھی حج تھا اسلئے اس حج کو حجة الوداع بھی کہا جاتا ہے
اللہ تعالی فرماتے ہیں
اور اللہ کے واسطے لوگوں کے ذمہ اس مکان کا حج کرنا فرض ہے یعنی اس شخص کو جوکہ طاقت رکھے وہاں تک کی سبیل کی ( سورہ آل عمران)
علماء کرام فرماتے ھیکہ استطاعت کی دو قسمیں ہیں ایک بذات خود استطاعت
اسکے تحقق کے لئے ضروری ھیکہ آدمی کے پاس اتنا مال ہو جو حج و عمرہ کی ادائیگی کے لئے کافی ہو یعنی آمد ورفت کا کرایہ اور کھانے پینے کے مصارف اور حکومت جن امور کو ضروری قرار دیتی ہو جیسے پاسپورٹ وغیرہ اور یہ سارا مال اسکے قرض اور اہل و عیال کے مصارف کے علاوہ ہو جب تک کہ وہ حج و عمرہ کے لئے ان سے غائب رہے
دوسری استطاعت
استطاعت بالغیر ہے یعنی آدمی اتنے مال کا مالک ہو کہ اسکے ذریعے کسی اور کو نائب بناکر زندگی میں یا موت کے بعد حج کراسکتا ہو جبکہ شدید مرض اور بڑھاپے وغیرہ کی وجہ سے خود حج کرنے پر قادر نہ ہو
حج و عمرہ میں جو اعمال و ارکان ادا کئے جاتے ہیں ان میں سے اکثر وہ ہیں جنھیں اللہ تعالی کے محبوب و برگزیدہ بندوں نے انجام دیئے ہیں اور جو اللہ تعالی کی بارگاہ میں اسقدر مقبول ہوئے کہ اللہ تعالی نے انکو حج و عمرے کی ادائیگی کے لئے فرض و ضروری قرار دیکر بطور یادگار قیامت تک کے لئے باقی رکھا
بیت اللہ کا طواف
بیت اللہ جسے حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے تعمیر فرمایا اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس تعمیر کی قبولیت کے لئے دعا بھی فرمائی جیساکہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اسیطرح بیت اللہ کے طواف کے بعد مقام ابراھیم کے پیچھے دوگانہ نماز
مقام ابراھیم وہ مقام ھیکہ جس پر چڑھکر حضرت ابراھیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی دیواریں اٹھائی تھیں اسیطرح صفا و مروہ کے درمیان سعی حضرت ھاجرہ نے اپنے دودھ پیتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کے لئے پانی کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان دوڑتی رہی پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑی کی رگڑ سے یا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے پر مارنے کی وجہ سے زمزم کا چشمہ جاری ہوا اور جو پانی اتنا بابرکت ھیکہ نبئ کریم نے اسکے بارے میں ارشاد فرمایا کہ زمزم کے پانی کو جس مقصد سے پیا جائے وہ مقصد حاصل ہوگا
اسطرح قربانی جسکو نبئ کریم نے خود سنت ابراھیمی سے تعبیر فرمایا جسکا قرآن کریم میں تفصیلی تذکرہ موجود ہے
اسطرح منی کے اندر رمی جمار بھی حضرت ابراھیم علیہ السلام کا وہ عمل ہے جسکو حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو قربان گاہ لے جاتے وقت شیطان لعین کو پتھر مارکر انجام دیا تھا،
حج و عمرے کے ادائیگی کے درمیان اگر آدمی اپنے دل و دماغ میں ان واقعات کا استحضار کرے تو دل و دماغ کی کیفیت بدل جائیگی اور عجیب لطف و مزہ آئیگا
اللہ تعالی ہم تماموں کو اپنے گھر کی اور اپنے حبیب نبئ کریم کے روضہ اقدس کی زیارت نصیب فرمائے
Comments
Post a Comment