اے فلسطین! بتا عید مناؤں کیسے؟۔ ازقلم : پروفیسرمقبول احمد مقبول،چِٹگوپہ، بیدر (کرناٹک)
اے فلسطین! بتا عید مناؤں کیسے؟
ازقلم : پروفیسرمقبول احمد مقبول،چِٹگوپہ، بیدر (کرناٹک)
9028598414
عید پر گیت خوشی کے بھلا گاؤں کیسے
پہنوں کپڑے نئے، ہمت یہ جٹاؤں کیسے
میٹھے پکوان میں کھاؤں، بھی تو کھاؤں کیسے
اے فلسطین! بتا عید مناؤں کیسے؟
روح چھلنی ہے تری، جسم پہ کپڑے ہیں پھٹے
دھول چہرے پہ ہے تو بال ہیں مٹی سے اٹے
کیسے بن ٹھن کے رہوں ،بال بناؤں کیسے
اے فلسطین!بتا عید مناؤں کیسے؟
تیری گلیوں ،ترے بازاروں میںلاشیں ہر سُو
ہر طرف تیری فضاؤں میں ہے بارود کی بُو
اپنے کپڑوںپہ بھلا عطر لگاؤں کیسے
اے فلسطین!بتا عید مناؤں کیسے؟
زندہ درگور ہیں بوڑھے دوا کی قلت سے
مر رہے ہیں ترے بچے غذا کی قلت سے
اپنے بچوں کو میں شیرینی کھلاؤں کیسے
اے فلسطین! بتا عید مناؤں کیسے؟
گھر، شفاخانے،دفاتر، سبھی مسمار ہوئے
دیکھتے دیکھتے ویراں سبھی بازار ہوئے
ایسے حالات میں، میں گھر کو سجاؤں کیسے
اے فلسطین!بتا عید مناؤں کیسے؟
جس طرف دیکھیے بربادی ہی بربادی ہے
پچہ، بوڑھا کہ جواں، ہر کوئی فریادی ہے
حوصلہ دینے ، ترے پاس میں آؤں کیسے
اے فلسطین! بتا عید مناؤں کیسے؟
اپنے حق کے لیے تو لڑرہا ہے برسوں سے
نہ کبھی دب سکا تو وقت کے فرعونوں سے
تجھ کو جو زخمملے ہیں وہ بھلاؤں کیسے
اے فلسطین! بتا عید مناؤں کیسے؟
کیا گلہ غیر سے، اپنے ہی پرائے نکلے
تیرےاپنوں نے دیے ہیں تجھے دھوکے کتنے
اہلِ دنیا کو یہ احساس دلاؤں کیسے
اے فلسطین!بتا عید مناؤں کیسے؟
چھلنی چھلنی ترا سینہ ہوا بمباری سے
روح زخمی ہے تری، اپنوں کی مکاری سے
میں بھی شامل ہوں ترے غم میں، بتاؤں کیسے
اے فلسطین!بتا عید مناؤں کیسے؟
تو پریشاناُدھر ،میںبھی پریشاناِدھر
تُو اُدھر زیر و زبر ،میں بھی اِدھر زیرو زبر
کیفیت کیا ہے مرے دل کی بتاؤں کیسے
اے فلسطین!بتا عید مناؤں کیسے؟
تیری تکلیف میں شامل ہوں برابر میں بھی
رات دن تیری طرح ہوں یہاں مضطر میں بھی
دل پہ جو زخم لگے ہیں وہ دکھاؤں کیسے
اے فلسطین! بتا عید مناؤں کیسے؟
اے فلسطیں! تو شب و روز دعا میں ہے مری
ہند میں جسمہے،تو روح غزہ میں ہے مری
کرنے دل جوئی ترے پاس میں آؤں کیسے
اے فلسطین!بتا عید مناؤں کیسے؟
دے گا اللہ یقیناً تجھے نصرت اک دن
رنگ لا کر رہے گی تیری عزیمت اک دن
اپنے احساس کو سینے میں دباؤں کیسے
اے فلسطین!بتا عید مناؤں کیسے؟
پروفیسرمقبول احمد مقبول
چِٹگوپہ، بیدر (کرناٹک)
9028598414
Comments
Post a Comment