مسلمان مظالم مصائب و آزمائشوں سے خائف و مایوس نہ ہوں ظالموں کی طاقت اور ظلم میں زیادتی ان کے عبرتناک انجام کی علامات : عزیز اللہ سر مست۔
گلبرگہ 19 مارچ : (راست) ہندوستانی مسلمان آج جن حالات سے دوچار ہیں یقینا وہ تشویشناک ہیں لیکن مسلمانوں کو مظالم مصائب و آزمائشوں سے خائف و مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی عزیز اللہ سرمست صدر حضرت صوفی سرمست اسلامک اسٹڈی سرکل گلبرگہ نے کیا ہے وہ آج شام الہدی بلڈرس اینڈ ڈیولپرس گلبرگہ کے زیر اہتمام مولانا مفتی محمد رکن الدین رحمانی کی زمزم کالونی گلبرگہ میں واقع رہائش گاہ پر دعوت افطار سے قبل جنگ بدر اور مسلمان کے زیر عنوان خطاب کر رہے تھے دوران رمضان المبارک عزیز اللہ سرمست کا اس عنوان پر یہ 5 واں خطاب تھا عزیز اللہ سرمست نے مزید کہا کہ مظالم مصائب و آزمائشوں سے گذرنے کے بعد ہی ایمان مضبوط ہوتا ہے اللہ کی نصرت کا یقین ایک نئی طاقت پیدا کرتا ہے عزیز اللہ سرمست نے مزید کہا کہ مکہ معظمہ میں بے انتہا ظلم مصائب و آزمائشوں کا سامنا کرنے والے صحابہ نے ہجرت کے بعد بدر کے میدان میں ایسی ایمانی طاقت کا مظاہرہ کیا کہ ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ صحابہ کرام کی مدد فرمائی عزیز اللہ سرمست نے مزید کہا کہ جنگ بدر سے ہمیں ایمانی حرارت حاصل ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ جنگ بدر کا یہ پیغام ہے کہ جب جوش ایمانی غالب آتا ہے تو ہمارے لئے بے سرو سامانی کی حالت میں فتح کی راہ آسان ہو جاتی ہے اور ہمارے مقابل ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو کمزور پڑ جاتا ہے عزیز اللہ سرمست نے مزید کہا کہ
ظالم کا طاقتور ہونا اور ظلم میں زیادتی کرنا اس کے خاتمے کی علامات ہیں انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات فضائے بدر پیدا کر رہے ہیں ایسے میں مسلمانوں کو بدر جیسی ایمانی طاقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد آپ کے جملہ اثاثہ میں 19 تلواریں پائی گئیں جنگ احد میں آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے اور آپ نے 27 غزوات کی قیادت کی حیات طیبہ کے اس پہلو سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مایوسی مصلحت اور عافیت پسندی سے بلند ہو کر ظلم و انصافی کے خاتمے اور انصاف کو بحال کرنے کیلئے منظم و متحد ہونا چاہیئے اور ہم میں ظالم کا مقابلہ کرنے کی جرات پیدا ہونا چاہیئے مولانا مفتی محمد رکن الدین رحمانی نے صدارت فرمائی حافظ محمد اعجاز چانداں نے رقت انگیز دعا فرمائی بعد ازاں افطار و طعام کا اہتمام کیا گیا محمد قطب الدین صاحب ملاں حافظ محمد معین الدین مولانا محمد عرفان رشادی عبد العلیم انعامدار جہانگیر صاحب کمرا اکاڈمی اسکول عبد الرشید محمد مشائخ صاحب محمد عادل کے علاوہ علما و دانشوران اور معززین بالخصوص نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی خواتین کیلئے پردہ کا نظم رکھا گیا تھا خواتین کی کثیر تعداد نے جنگ بدر کے خطاب اور دعوت افطار میں کثیر تعداد میں شرکت کی مفتی محمد رکن الدین رحمانی صاحب نے جنگ بدر اور حالات حاضرہ کے تناظر میں عزیز اللّٰہ سرمست صاحب کے فکر انگیز خطاب سے متاثر ہو کر ان کی شالپوشی و گلپوشی کی
Comments
Post a Comment