انشائیہ - میرا پہلا روزہ - انشا ئیہ نگار : ٹی این بھارتی۔
انشائیہ -
میرا پہلا روزہ -
انشا ئیہ نگار : ٹی این بھارتی۔
بچپن کی یادیں تا عمر انسان کے ذہن میں پیوست رہتی ہیں ۔ زندگی کا بہترین دور بچپن ہی تو ہے۔ میرے بچپن کی د لچسپ روداد سے لطف اندوز ہونے کے لئے تیار ہو جائیے ۔ محض آٹھ برس کی عمر میں روزہ رکھنے کی ضد کی تو سب سے پہلے امی جان نے ڈانٹ لگائی بھائی میاں مر حوم سید اظہر علی نے کہا بچوں کا ایک داڑھ کا روزہ رکھا جاتا ہے
اف یہ روزہ کیسے رکھتے ہیں ؟ مطلب تم سارا دن منہ کے ایک طرف سے کھاو پیو سمجھو دائیں طرف کے دانتوں سے کھاو اور بائیں طرف سے کچھ بھی نہ کھاو پھر اگلے دن بائیں جانب کے دانتوں سے کھاو اور دائیں طرف سے کچھ نہ کھاو ۔ میں بھائی میا ں مرحوم کی بات پر عمل کرتی مسلسل دو دن تک ٹیڑھا منہ سے کھانا کھاتی یہاں تک کہ پانی بھی ٹیڑھا منہ سے نوش کرتی ۔ تیسرے دن پھر روزہ رکھنے کی ضد کر نےلگتی ۔ آخر کار منجھلا روزہ رکھنے کی اجازت مل گئ ۔ سحری میں ایوب بھائی کی بلند آواز سے میں فورا جاگ جاتی بھائی تنویر ، بھائی اظہر ، بھائی نیر سحری کا وقت ہوگیا ہے سحری کھا لو اللہ کے نیک بندوں اٹھو جاگو سحری کھا لو وہ زور سے دروازہ پر ڈنڈا مار کر آگے گلی میں چلے جاتے ۔ پھر لمحہ بھر میں شریف چو کیدار کی آواز گونج اٹھتی بھائی سید امیر علی ( والد مرحوم ) جاگ جائیے سحری کا وقت ختم ہونے میں ایک گھنٹہ باقی ہے ۔ میں سب سے پہلے جاگ گئی ۔ امی جان( مرحومہ نعیمہ خاتون ) کے شانہ پر سر رکھ کر کہتی امی جان اب اٹھ بھی جائیے میر ی پہلی سحری ہے مجھے روزہ رکھنا ہے ۔ امی جان جھٹ پٹ وضو کر نے کے بعد باورچی خانہ چلی گئیں ۔ روٹی یا پراٹھے پکا کر آواز لگا یا کرتی تھیں ارے بچوں جلدی اٹھو سحری تیار ہے امی جان کی ایک ہی آواز پر ہم سب بہن بھائی وضو کرتے اور دسترخوان پر لذیذ لوازمات کا انتظار کرتے ۔ پراٹھا، قیمہ ہری مرچ ، مٹر پلاو ، شامی کباب ،
دودھ دلیا ، با دام اور عرق گلاب کا شربت ، ادرک کی چائے نوش کرنے کے بعد مہندی کے لئے ضد کرتی امی جان میرے ہاتھ پر مہندی لگایئے طلعت کا پہلا روزہ لکھئے اور امی جان فجر کی نماز کی بعد بلا تا خیر میرے دہانے ہاتھ پر مہندی لگا کر باورچی خانے کی صفائی میں مصروف ہو جاتی تھیں ۔ پھر میں سو جاتی تھی صبح گیارہ بجے آٹھ کر قرآن کی تلاوت کرتی تھی ۔ اتوار کا دن ہونے کے باعث میں سہلیوں کے ساتھ کھیلنے چلی جاتی ارے تمہارا روزہ ہے بھاگو مت میری سہیلی سدھا گپتا میرا بہت خیال کرتی تھی ۔ لیکن میں آنکھ مچولی ضرور کھیلتی تھی ۔ ذرا دیر میں ظہر کی اذان پر میں گھر واپس آکر نماز ادا کرتی اور امی جان محبت آمیز لہجہ میں مجھے نیند کی آغوش میں پہنچا دیا کرتی تھیں۔ دوپہر بعد میں نیا لباس زیب تن کرتی نئے سنڈل اور پرس کے ساتھ تیار ہو جاتی بچپن میں مجھے پرس لٹکانے کا بہت شوق تھا ۔ امی جان دوپہر میں افطاری کے کام میں مصروف ہو جاتی تھیں ۔ گھر میں کسی کو مدعو نہیں کیا گیا تھا ۔
امی افطاری کی ہر رکابی میں چھولے ، پا پڑ ، قیمہ کا سموسہ ، کچا لو ، پکوڑے ، آلو پنیر کی ٹکی ، کھجور ، رکھ کر خوان پوش سے سجا کر میرے ہاتھوں میں رکھ کر کہتی جاو بیٹی بڑی طائی اماں کے گھر لے جاو ! دیکھو جلدی واپس آ نا ! مرزا غالب کی حویلی کے قریب نیا محلہ گئ طائی اماں نے مجھے دلار سے چوم کر سو روپیہ کا نوٹ دیا میں نے فورا اپنے پرس میں رکھ لیا ۔ گھر آکر امی جان نے افطاری کی دوسری رکابی دے کر کہا جاو زہرہ پھوپھی کے گھر دے آو غریب بستی میں جیسے ہی پھوپھی کے گھر قدم رکھا انھوں نے مجھے گود میں بھر کر بوسہ وکنار شروع کیا اور مجھے دو سو روپیہ نقد دے کر رخصت کیا ۔ نقدی میں نے پرس میں محفوظ کر لی ۔ اب امی نے مجھے دو رکابی افطاری دے کر کہا یہ جمیل قلعی والے کے گھر دے کر آو امی جان وہاں دو افطاری کیوں ؟ ارے وہاں بچے زیادہ ہیں ۔ جاو جلدی سے ! وہاں سے مجھے خوبصورت چو ڑی کا ڈبہ ملا لو بیٹی عید پر پہن لینا ! میں نے خوشی سے ڈبہ پرس میں رکھ لیا ۔ میں گھر پہنچی اور کہا امی جان میں تو تھک گئ اب میں کہیں نہیں جاوں گی باقی گھروں میں بھائی صاحب لے کر جائیں گے۔ بس یہ ایک اور پڑوس والے اسلم سنگا پوری کے گھر دے آو امی نے پیار سے کہا تو میں اسلم سنگاپور ی کے گھر چلی گئ ان کی اہلیہ سو شیلا آنٹی نے مجھے پانچ سو روپیہ دے کر کہا لو بیٹی یہ تمہارا انعام ! میں تو سو سو کے پانچ نوٹ لے کر خوشی سے جھو منے لگی ۔ گھر آکر پرس امی کے حوالے کیا چوڑی کا ڈبہ الماری میں رکھا اور عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کی ۔ ذرا دیر میں دستر خوان پر لذیذ لوازمات سجا دئیے گئے۔ افطار سے کچھ دیر قبل ہم سب دسترخوان کے چاروں طرف بیٹھ گئے ۔ ابو جان مرحوم سید امیر علی نے میرے گلے میں نو ٹوں کا گجرا پہنا یا ۔ امی جان نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے سب نے دعا پر آمین کہا ا ور مسجد نواب والی گلی قاسم جان سے سا ئرن کی آواز پر امی جان نے مجھے کھجور کھلائی اور ابو جان نے اپنے ہاتھ سے مجھے دودھ بادام کا شربت پلایا میں نے پکوڑے کھا نا شروع کئے تو بھائی صاحب مرحوم سید تنویر علی نے ٹوکا پہلے کچا لو کھاو پھل کھانے سے طاقت آتی ہے پھر پکوڑے کھاو کچالو کھا کر میں نے چھولے اور آلو پنیر کی ٹکی ، قیمہ کا سموسہ، پکوڑے اور پا پڑ کھائے ۔ امی جان نے عشائیہ میں میری فر مائش پر بکرے کی بریانی لال مرچ کی چٹنی اور بوند ی کا رائتہ تیار کیا تھا ۔ دوستوں آج بھی پہلا روزہ میرے دل و دماغ کے نہاں خانے میں موجود ہے ۔
Comments
Post a Comment