صدقہ فطر۔ - ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے
صدقہ فطر۔
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
صدقہ فطر کے احادیث مبارکہ میں بڑے فضائل بیان ہوئے ہیں اور یہ اس امت کی خصوصیت ہے
نبئ کریم نے رمضان میں زکات الفطر ( صدقہ فطر) کو لوگوں پر فرض فرمایا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ، جو ہر آزاد یا غلام ، مذکر و موئنث پر مسلمانوں میں سے ( متفق علیہ)
اسیطرح آپ نے روزہ دار کی لغو اور فضولیات سے پاکی اور مساکین کو کھلانے کی خاطر زکات الفطر ( صدقہ فطر) کو فرض فرمایا جو نماز عید سے قبل ادا کرے تو یہ مقبول زکات ہے اور جو نماز کے بعد ادا کرے تو یہ ایک عام صدقہ ہے ( ابوداود ، ابن ماجہ)
اسلئے اگر کوئی عذر یا کوئی مجبوری مانع نہ ہوتو صدقہ فطر کو نماز عید سے سے پہلے ہی ادا کرنا چائے تاکہ حدیث شریف کے مطابق اسے ایک مقبول زکات کا اجر و ثواب ملے اسلئے ہر ایک مسلمان کو اسیطرح جو ادارے تنظیمیں اور جماعتیں اجتماعی طورپر صدقہ فطر کے جمع و تقسیم کا بندوبست کررہے ہیں انھیں اسکا خیال اور فکر کرنی چاہئے
اسلئے کہ آپ نے صدقہ فطر کو فرض فرماتے ہوئے اسے لوگوں کے نماز کو جانے سے پہلے ہی ادا کرنیکا حکم فرمایا ہے
اسلئے ہرایک کو اسکی فکر کرنی چاہئے
صدقہ فطر ماہ رمضان کا آخری لمحہ اور ماہ شوال کا اول لمحہ پانے سے واجب ہوتا ہے اسلئے ایک مسلمان کو اپنی جانب سے اور جن حضرات کا نان و نفقہ اور اخراجات کا پورا کرنا اسکے ذمہ واجب ہے ان تمام کی طرف سے صدقہ فطر نکالنا چاہئے چاہے مرد ہو یا عورت بالغ ہو یا نابالغ ہو یا بچہ ہو یہانتکہ اگر ان اوقات کو کوئی نومولود بچہ بھی پاتا ہے تو اسکی طرف سے بھی مکمل صدقہ فطر نکالا جائیگا
ہرایک کی طرفسے صدقہ فطر میں ایک صاع اناج تقسیم کیا جائیگا جسکا وزن احتیاطا تقریبا ڈھائی کلو ہوتا ہے
اسلئے جس علاقے اور جس بستی میں جو اناج سال بھر اکثر یا عمومی طورپر بطور غذا استعمال ہوتا ہے تو اس اناج کو صدقہ فطر میں دینا ضروری ہے ہمارے علاقے میں چونکہ چاول یا گیہوں ہی بطور غذا کے استعمال ہوتا ہے اسلئے جو جس اناج کو سال بھر میں زیادہ استعمال کررہا ہے وہ اس اناج کو ادا کرے
صدقہ فطر کی ادائیگی میں افضل اعلی اور ادنی ہونے میں قیمت کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ جس اناج میں خوراک اور غذائیت بننے کی صلاحیت زیادہ ہو اسکا اعتبار ہوگا چاہئے اسکی قیمت کم ہی کیوں نہ ہو اسلئے علماء کرام نے گیہوں کو چاول کے مقابلے اعلی قرار دیا ہے اسلئے اگر کوئی زیادہ جاول استعمال کرتا ہو لیکن صدقہ فطر میں اگر وہ گیہوں دے رہا ہے تو یہ کافی بھی ہوگا اور افضل بھی ہوگا لیکن اگر کوئی زیادہ گیہوں استعمال کررہا ہے اور اگر وہ صدقہ فطر میں چاول دے رہا ہوتو یہ کافی نہیں ہوگا اگرچہ چاول گیہوں کے مقابلے مہنگا ہی کیوں نہ ہو اسلئے کہ گیہوں میں چاول کے مقابلے خوراک اور غذائیت کی صلاحیت زیادہ ہے
اسیطرح صدقہ فطر میں قیمت یا آٹا دینا بھی کافی نہیں ہوگا اسلئے حدیث شریف کے مطابق حتی الامکان اناج ہی دینا چائے
اللہ تعالی ہمارے روزے ، زکات و صدقات اور اس ماہ مبارک میں کئے ہوئے اعمال اور عبادات کو قبول فرمائے اور ہمارے لئے مغفرت اور جھنم سے خلاصی و نجات کا ذریعہ اور سبب بنائے
Comments
Post a Comment