عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقِیْہٌ وَاحِدٌ اَشَدُّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنْ اَلْفِ عَابِدِ۔(راوہ الجامع ترمذی وابن ماجۃ)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقِیْہٌ وَاحِدٌ اَشَدُّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنْ اَلْفِ عَابِدِ۔(راوہ الجامع ترمذی وابن ماجۃ)
" اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ایک فقیہ (یعنی عالم دین) شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہے۔" (جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ)
علم کی فضیلت
آج کے دور میں جب عبادت کی ظاہری شکلوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف عبادت ہی انسان کی کامیابی کے لیے کافی ہے؟ نبی کریم ﷺ کی ایک مبارک حدیث اس سوال کا نہایت حکیمانہ جواب پیش کرتی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ایک فقیہ (عالم دین) شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہے۔" (ترمذی، ابن ماجہ)
یہ حدیث ہمیں علمِ دین کی اصل اہمیت اور اس کے اثرات سے روشناس کراتی ہے۔
اسلام میں عبادت کی بڑی فضیلت ہے، لیکن عبادت اس وقت کامل اور مؤثر ہوتی ہے جب وہ علم کے ساتھ ہو۔ علم انسان کو صحیح اور غلط، حق اور باطل، اور سنت و بدعت کے درمیان فرق سکھاتا ہے۔ اس کے بغیر عبادت محض ایک رسم بن سکتی ہے جس میں اخلاص اور درستگی کی کمی رہ جاتی ہے۔
ایک فقیہ یا عالم دین صرف خود کو ہی نہیں سنوارتا بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ وہ لوگوں کو دین کا صحیح فہم دیتا ہے، ان کے شبہات دور کرتا ہے اور انہیں شیطان کے دھوکوں سے بچاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک عابد اگرچہ اپنی عبادت میں مشغول ہوتا ہے، مگر وہ دوسروں کی رہنمائی کا نہیں کر پاتا جو ایک عالم کرتا ہے۔
آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع سے معلومات کا سیلاب ہے، وہاں صحیح اور مستند علم کی پہچان اور بھی ضروری ہو گئی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ:
دین کا علم حاصل کریں
مستند علماء سے رہنمائی لیں
بغیر تحقیق کے باتوں کو آگے نہ پھیلائیں
اپنی عبادات کو علم کے مطابق درست کریں
یہ حدیث ہمیں واضح پیغام دیتی ہے کہ اسلام میں علم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ عبادت کی اصل روح علم سے جڑی ہوئی ہے، اور ایک عالم کی حیثیت معاشرے میں نہایت اہم ہے۔ اگر ہم اپنی زندگیوں میں حقیقی کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں علم اور عمل دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔
ازقلم : ڈاکٹر تہمینہ تنویر
Comments
Post a Comment