بہت حساس ہے یہ کارِ کارواں۔ مگر رہے رواں رہے رواں۔ ازقلم : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔
بہت حساس ہے یہ کارِ کارواں۔
مگر رہے رواں رہے رواں۔
ازقلم : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔
موجودہ دور تیز رفتار ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، جہاں الیکٹرانک میڈیا نے زندگی کے ہر شعبے کو آسان اور مؤثر بنا دیا ہے۔ معلومات کی ترسیل ہو یا دینی پیغام کی اشاعت ؛ہر کام لمحوں میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ لیکن جہاں سہولت بڑھتی ہے، وہیں ذمہ داری بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر آج سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں دینی جذبہ بیدار ہونا ایک خوش آئند بات ہے۔ نوجوان نسل، طلبہ، طالبات خصوصی طور پر عصری تعلیم یافتہ افراد ،خواتین اور مرد حضرات سب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق دینی تعلیمات، احادیثِ نبوی ﷺ اور قرآنی آیات کو عام کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ بعض اوقات اس نیک جذبے میں احتیاط اور دینی حدود کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر ایسے مناظر عام ہو چکے ہیں جہاں تعلیم یافتہ لڑکیاں اور خواتین بغیر مکمل پردے کے شاہراہوں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر ویڈیوز اور فوٹوگرافی میں مصروف نظر آتی ہیں۔ ٹیک، ری ٹیک، شوٹنگ اور پھر اس مواد کو وائرل کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ گھر کے مرد، تعلیم یافتہ حضرات خود اس عمل کو فروغ دیتے ہوئے لائک، شیئر اور پرموٹ کرتے ہیں، گویا اسے باعثِ فخر سمجھا جا رہا ہو۔ یہ سوال نہایت اہم ہے کہ، کیا یہی تبلیغِ دین کا صحیح طریقہ ہے؟ کیا واقعی حالات اس قدر تنگ ہو چکے ہیں کہ دینی پیغام پہنچانے کے لیے پردے اور حیا کی حدود کو عبور کرنا ضروری ہو گیا ہے؟
اسلام نے جہاں علم اور دعوتِ دین کی ترغیب دی ہے، وہیں حیا، پردہ اور وقار کو بھی بنیادی حیثیت عطا کی ہےبالخصوص خواتین کے لیے پردہ داری صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، جو عزت، تحفظ اور وقار کی ضمانت ہے۔ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ دینی معاملات میں معمولی سی لغزش بھی بڑی ذمہ داری کا باعث بن سکتی ہے۔ بڑے بڑے علماء، مفتیانِ کرام اور دینی شخصیات کسی مسئلے پر لب کشائی سے پہلے تحقیق کرتے ہیں، حوالہ جات تلاش کرتے ہیں اور ہر لفظ کی ادائیگی میں احتیاط برتتے ہیں۔ ایسے میں عام افراد کا بغیر علم و تحقیق کے محض جذبات میں آکر دین کی نمائندگی کرنا خطرے سے خالی نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اصلاح کو اولین ترجیح دیں۔
اپنا گھر، اپنا خاندان، اپنے قریبی حلقے،یہی اصل میدانِ عمل ہیں۔ اگر ہر فرد اپنے دائرے میں رہ کر اخلاص کے ساتھ کام کرے تو یہی چھوٹے چھوٹے حلقے ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ آخر میں یہی پیغام دینا مقصود ہے کہ، تبلیغِ دین ایک مقدس فریضہ ہے، مگر اس کے لیے حیا، پردہ اور اسلامی اقدار کا لحاظ رکھنا از حد ضروری ہے۔ میڈیا ایک ذریعہ ضرور ہے، مگر مقصد نہیں۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ ہم دین کو اپنی زندگی میں نافذ کریں اور پھر اس کی روشنی دوسروں تک پہنچائیں
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح فہم، اخلاص اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment