آزاد نظم: دھوکا۔۔ از قلم: رہبر تماپوری۔


آزاد نظم: دھوکا۔
از قلم: رہبر تماپوری۔

یہ لمحے—
کبھی محبت کے تھے
ہر قدم پر ساتھ چلتے ہوئے
ایک انجانی سی روشنی دیتے تھے

مگر اب
وہی لمحے
خاموش ہو گئے ہیں

بے الفاظ
ایک کہانی چل رہی ہے
دل کے اندر
اور جب پہلا زخم لگا
تو ہمیں معلوم ہوا—

ایک چہرہ
صرف ایک چہرہ نہیں ہوتا
اس کے پیچھے
کتنے ہی چہرے چھپے ہوتے ہیں

وہ مسکراہٹیں
جو سچی لگتی تھیں
درحقیقت
صرف وقتی تھیں

خواب—
جنہیں ہم نے سنبھال کر رکھا تھا
ایک ایک کر کے ٹوٹ گئے
اور ان کے ساتھ
ہماری انا بھی بکھر گئی

وہ ہنر
وہ پہچان
جن پر ہمیں فخر تھا
وقت کے بازار میں
یوں بکھر گئے
جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہ ہو

اپنوں کے درمیان
ہم اجنبی ہو گئے
رسوائی ملی
اور سوال بھی—

سچ کا اعتبار کس نے کیا؟
حق کا ساتھ کس نے دیا؟

وہ سایہ دار درخت
جس کی چھاؤں میں
ہم نے خود کو محفوظ سمجھا تھا
اب کہیں نظر نہیں آتا

غم بھی ہمارے ساتھ رہا
خوشی بھی ساتھ چلتی رہی
مگر انجام—
صرف تنہائی نکلا

دوست چھوٹ گئے
رشتے بکھر گئے
اور ہم
ایک خاموش موڑ پر کھڑے رہ گئے

ہم نے سوچا—
آخر ہمیں اس دنیا سے کیا ملا؟

چند زخم
چند دکھ
اور وہ ستم
جو ہر راستے پر
ہمارے ہم سفر بنے رہے

مگر
اسی مشکل سفر میں بھی
ہم نے ہار نہیں مانی

ہم نے انصاف کی تلاش جاری رکھی
اگرچہ
انصاف ہمیں ملا نہیں

مروت—
جسے ہم نے سچ سمجھا تھا
وہ صرف ایک دکھاوا نکلی

دھوکا
آہستہ آہستہ
ہماری تقدیر بنتا گیا

اور سچ بولنے کا صلہ
ہمیں ملامت کی صورت میں ملا

پھر بھی
ہم نے سچ کا راستہ نہیں چھوڑا

نہ ہمیں عزت ملی
نہ دنیا نے ہماری قدر کی
مگر ہمارے اندر
ایک یقین زندہ رہا

اب سوال یہی ہے—
کہ انصاف کہاں مانگیں؟

یہی انتظار ہے
یہی کوشش

ہم نے اپنے رب سے مانگا ہے—

اے خدا!
میری تقدیر بدل دے
میری راہوں کو آسان کر دے
ہر دکھ سے بچا لے
ہر تکلیف سے دور رکھ

مجھے ہر دھوکے سے محفوظ رکھ
میری آنکھوں کو
ان آنسوؤں سے بچا
جو کبھی صبح کی تنہائی میں
اور کبھی رات کی تاریکی میں
خاموشی سے بہتے ہیں

بس ایک خواہش ہے—
کہ زندگی سنور جائے
کہ تقدیر بدل جائے

اے خدا!
اپنی بے پناہ رحمت سے
مجھے میری منزل تک پہنچا دے

مجھے تجھ پر یقین ہے
اور خود پر بھی بھروسہ ہے

میں اٹھوں گا
ہر زخم سے اوپر
ہر دھوکے سے دور

اور علم کی روشنی میں
اپنی راہ تلاش کر لوں گا

یہی میرا سفر ہے
یہی میری روشنی

یہی میرا ایمان ہے
یہی میرا نصیب

اور اسی یقین کے ساتھ
میں آگے بڑھوں گا—

کیونکہ میری جستجو بھی یہی ہے
اور میری دعا بھی یہی۔


---

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔