افسانہ - جنگ بنام جنگ۔۔ - ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
افسانہ - جنگ بنام جنگ۔
ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
ستر برس کی نحیف رابیعہ بی کے لیے زندگی اب کسی لمبے اور تھکا دینے والے سفر کا نام رہ گئی تھی ؛ایسا سفر جس میں منزل کم اور تھکن زیادہ ہو۔ ایک زمانہ تھا جب وہ اسی شہر کی گلیوں میں تیز قدموں سے چلتی تھی، اور آج وہی راستے اس کے لیے پہاڑ بن چکے تھے۔
پچھلے ایک مہینے سے وہ ٹائیفائیڈ کے بخار میں مبتلا تھی۔ جسم کمزور، آنکھیں دھندلائی ہوئی، اور دل میں ایک انجانا سا خوف۔ اس کے پاس اپنا کوئی نہ تھا سوائے ایک غریب پڑوسن کی لڑکی کے، جو خاموشی سے اس کی تیمارداری کر رہی تھی۔ کھانا اکثر "خانصاحب" کے گھر سے آ جاتا، پرانے تعلقات ابھی پوری طرح مرے نہیں تھے۔ اور اسی کھانے کی لالچ میں وہ غریب گھر آتی اس کی نگرانی کرتی ۔۔
آج وہ بینک جانے کے لیے نکلی تھی۔ سرکاری امداد کے کچھ پیسے نکلوانا ضروری تھے، ورنہ دو وقت کی روٹی اور دوا بھی مشکل ہو جاتی۔ پہلے وہ یہ فاصلہ پیدل طے کر لیتی تھی، مگر اب ہر قدم درد سے بوجھل تھا۔ رکشہ اسٹاپ پر پہنچی تو ایک اور جنگ اس کے انتظار میں تھی, کرائے کی جنگ۔ "بیٹا، اتنا زیادہ کرایہ؟" "اما! پیٹرول مہنگا ہو گیا ہے، گیس نہیں مل رہا ۔۔۔ ہم کیا کریں؟"
وہ ایک سے دوسرے رکشے والے سے الجھتی رہی، مگر ہر طرف ایک ہی جواب۔ آخرکار تھک ہار کر ایک رکشے میں بیٹھ گئی ، جیسے شکست خوردہ سپاہی میدان چھوڑ دیتا ہے۔ رکشہ شہر کی سڑکوں پر رواں تھا، مگر آج شہر بدلا ہوا لگ رہا تھا۔ ٹریفک قدرے کم تھی، مگر گیس بکنگ سینٹر پر لمبی قطاریں، کرانہ دکانوں پر بھیڑ، اور لوگوں کے چہروں پر بےچینی واضح تھی۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی گزشتہ مہینے تو ایسا نہیں تھا سب نارمل تھا پھر یہ تبدیلی کیوں نظر آرہی ہے ۔
ساتھ بیٹھے مسافروں کی باتیں اس کے کانوں میں پڑنے لگیں:
"سنا ہے جنگ بڑھ گئی ہے..." ہر طرف سے
بمباری ہو رہی ہے..." اب "پیٹرول اور گیس کی قلت ہوگی..." بجلی کی قلت ہوگی لاک ڈاؤن لگنے والا ہے
"سب چیزیں اور مہنگی ہو جائیں گی..." رابیعہ بی سن کر چونک گئی۔
"بیٹا! ابھی رمضان میں تو چیزیں اتنی مہنگی تھیں، اب اور بڑھیں گی؟"
کسی نے اثبات میں سر ہلایا، کسی نے لمبی سانس لی۔ گفتگو میں خوف گھلا ہوا تھا۔
اچانک رکشہ ایک پیٹرول پمپ پر رک گیا۔ لمبی قطار تھی۔ ڈرائیور نے انجن بند کیا اور بولا،
"اماں! تھوڑا وقت لگے گا، پیٹرول بھرانا ہے۔"
دوسرے مسافر اتر کر چلے گئے، مگر رابیعہ بی وہیں بیٹھی رہی حیران، پریشان، اور بےبس۔ وہ رکشہ والے سے بحث کرتی رہی، مگر وہ اپنی جگہ ڈٹا رہا۔
"دو گھنٹے بھی لگ جائیں، تو حرج نہیں اماں! کل تو پیٹرول ہی نہیں ملا تھا۔"
وہ خاموش ہو گئی۔
اب اس کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو چکی تھی ،سوچوں کی جنگ۔
"یہ جنگ کہاں ہو رہی ہے؟ ہم سے اتنی دور… پھر ہمیں کیوں لگ رہی ہے؟"
اسے اپنا ماضی یاد آنے لگا۔
شوہر اور بیٹے کی اچانک موت ،ایک ذاتی جنگ۔
نوٹ بندی ، اس کی جمع پونجی کا خاتمہ ایک معاشی جنگ۔
کورونا اور لاک ڈاؤن تنہائی، خوف، اور موت کا سایہ ،ایک عالمی جنگ۔اور وہ سہم گئ۔۔۔
اسے یاد آیا، چوک کے ببلو سیٹھ کا جنازہ…
گاڑی میں، خاموشی سے، بغیر ہجوم کے…
یہ منظر اس کے دل پر نقش ہو گیا تھا۔
"کیا یہ بھی جنگ ہی تھی؟" اس نے خود سے سوال کیا۔
رکشہ ابھی بھی قطار میں کھڑا تھا، مگر اس کے خیالات کہیں اور بھٹک رہے تھے۔
"اگر پھر لاک ڈاؤن ہوا تو؟" وہ سوچ میں غرق ہوگئ۔۔ لاک ڈاؤن کیسا ہوگا ؟
"اگر چیزیں مزید مہنگی ہو گئیں تو؟"
"اگر جنگ ہمارے ملک تک آ گئی تو؟"
اس کے سوالات کا کوئی جواب نہ تھا صرف خاموشی تھی، اور ایک انجانا خوف۔
وہ آہستہ سے رکشے سے اتری۔
سامنے ایک سنسان راستہ تھا۔۔۔ ویران، خاموش، اور دھندلا سا۔
وہ چلنے لگی۔
ہر قدم کے ساتھ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی۔۔۔ کبھی یہ پیٹ اور جیب کے درمیان ہوتی ہے،
کبھی بیماری اور لاچاری کے بیچ،
اور کبھی انسان کے اندر، اس کے خوف، یادوں اور سوالوں میں۔
رابیعہ بی کے لیے جنگ اب صرف خبروں کا لفظ نہیں رہی تھی۔۔۔
یہ اس کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔
اور وہ سوچ رہی تھی
"آخر یہ جنگ کس کے خلاف ہے؟
دشمن کون ہے؟
اور میں… میں کس صف میں کھڑی ہوں؟" میں تو عام انسان ہوں ۔۔۔۔
سنسان راستے پر اس کی پرچھائی لمبی ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
جیسے ایک سوال، جو ابھی تک بے جواب تھا۔۔۔
Comments
Post a Comment