تحفظِ ختمِ نبوت کے عظیم مشن میں ظہیرآباد کے علمائے کرام کی مثالی یکجہتی، ریاست بھر میں سب سے زیادہ طلبہ کی شرکت کا اعزاز ظہیرآباد کے نام - مولانا ارشد علی قاسمی صاحب کو ’’مجاہدِ ختمِ نبوت ایوارڈ‘‘ پیش، طلبہ و طالبات میں نقد انعامات، اسناد اور مومنٹوز تقسیم


ظہیرآباد2/ نومبر(نمائندہ۔جی۔یم) مجلس تحفظ ختم نبوت ظہیرآباد کے زیرِ اہتمام یکم نومبر بروز اتوار فرینڈس گارڈن فنکشن ہال، نزد ریلوے اوور برج، تانڈور روڈ ظہیرآباد میں مسابقۂ تحریری امتحان تحفظ ختم نبوت کے انعامات و اسناد کی تقسیم کے سلسلے میں ایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت حضرت مولانا ارشد علی قاسمی صاحب دامت برکاتہم، سکریٹری مجلس تحفظ ختم نبوت تلنگانہ و آندھرا پردیش نے فرمائی  واضح رہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت تلنگانہ و آندھرا پردیش کی جانب سے نئی نسل میں عقیدۂ ختم نبوت اور بنیادی اسلامی عقائد کی معرفت پیدا کرنے کے مقصد سے ریاستی سطح پر تحریری مسابقے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں تقریباً تین چار ماہ قبل منصوبہ بندی کی گئی اور ’’مختصر عقائد اہلِ سنت والجماعت اور موجودہ دور کے باطل فتنے‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کرکے طلبہ و طالبات کو فراہم کی گئی، جس میں اسلام کے 19 بنیادی عقائد اور موجودہ دور کے 11 باطل فتنوں سے متعلق 450 سے زائد سوالات و جوابات شامل ہیں۔ طلبہ کو تیاری کے لیے تقریباً ایک ماہ کا وقت دیا گیا، جس کے بعد 25 اکتوبر بروز اتوار تلنگانہ و آندھرا پردیش کے مختلف مقامات پر بیک وقت تحریری امتحان منعقد ہوا
ظہیرآباد میں اس امتحان کے لیے 14 اسکولوں اور 33 مساجد میں جاری مکاتب کے طلبہ و طالبات نے شرکت کی، جہاں 1100 سے زائد طلبہ نے امتحان لکھا۔ اس کے علاوہ کوہیر اور سداشیوپیٹ میں بھی امتحانی مراکز قائم کیے گئے، جہاں مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے سات سو طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ اس طرح ظہیرآباد اور اس کے اطراف میں اس مسابقے کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش کے تمام مقامات میں سب سے زیادہ طلبہ کی شرکت کا اعزاز ظہیرآباد کو حاصل ہوا، جس پر اجلاس کے صدر حضرت مولانا ارشد علی قاسمی صاحب نے ظہیرآباد کے تمام علمائے کرام کو مبارک باد پیش کی اجلاس میں حضرت مولانا ارشد علی قاسمی صاحب دامت برکاتہم کو مجلس تحفظ ختم نبوت ظہیرآباد کے علمائے کرام و حفاظ کی جانب سے ان کی طویل دینی و ملی خدمات، بالخصوص گزشتہ تیس پینتیس برس سے تلنگانہ و آندھرا پردیش میں تحفظ ختم نبوت کے مشن کے لیے مسلسل جدوجہد اور بے لوث خدمات کے اعتراف میں ’’مجاہدِ ختمِ نبوت ایوارڈ‘‘ پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ان کی علالت کے باوجود اجلاس میں شرکت کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں حضرت مولانا ارشد علی قاسمی صاحب نے فرمایا کہ اس مسابقے کا اصل مقصد چند ہزار روپئے کے انعامات حاصل کرنا نہیں، بلکہ اسلامی عقائد کو سیکھنا، سمجھنا، حق و باطل میں امتیاز پیدا کرنا اور اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کرنا ہے۔ انعامات تو محض طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے رکھے گئے ہیں، حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان صحیح عقائد سے واقف ہو، باطل نظریات اور فتنوں کو پہچانے اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ اس مسابقے میں شرکت کرنا اور عقیدۂ ختم نبوت کو سیکھنے کی کوشش کرنا بھی بڑی سعادت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس کوشش کو قبول فرمائے اور تمام شرکاء کو تحفظ ختم نبوت کے خادمین میں شامل فرمائے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت تلنگانہ و آندھرا پردیش کے آرگنائزر حضرت مولانا انصاراللہ قاسمی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے خطاب میں بنیادی اسلامی عقائد کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح ہر مسلمان کے لیے وضو اور نماز کے فرائض جاننا ضروری ہے، اسی طرح ایمان کے بنیادی تقاضوں سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔ جس طرح وضو کو توڑنے والی چیزوں یعنی نواقضِ وضو کا جاننا ضروری ہے، اسی طرح ایمان کو ختم کرنے والے امور یعنی نواقضِ ایمان سے واقفیت بھی نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے مسابقے کے اغراض و مقاصد اور موجودہ دور میں عقائد کی حفاظت کی ضرورت کو تفصیل سے بیان کیا۔  اس موقع پر خصوصی خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی عبدالعزیز لہجی قاسمی صاحب، استاذِ حدیث و تفسیر دارالاشرف العلوم حیدرآباد نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت، اس کی شرعی حیثیت اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریوں پر نہایت مدلل اور جامع خطاب فرمایا۔ دیگر مقررین حضرت مولانا عتیق احمد قاسمی صاحب، حضرت مولانا عبدالمجیب قاسمی صاحب اور مفتی نذیر احمد حسامی صاحب نے بھی اپنے خطابات میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، دینی شعور کی بیداری اور نئی نسل کی اسلامی تربیت پر زور دیا۔
اجلاس کے آغاز میں حافظ عبدالمجیب صاحب کی تلاوتِ کلام پاک اور حافظ جنید احمد خیری صاحب کی نعتِ رسول مقبول ﷺ سے محفل کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت ظہیرآباد کے صدر مفتی عبدالصبور قاسمی صاحب نے مسابقے کی تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس کے پس منظر، تیاریوں اور کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اکابر علمائے دیوبند کی عظیم قربانیوں، بالخصوص محدثِ کبیر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ امت کی بنیادی دینی ذمہ داری ہے اور اس مشن کے تقاضوں سے غفلت کسی بھی صورت مناسب نہیں۔
اس موقع پر مسابقے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو اسکول اور مدارس کی الگ الگ کیٹیگریوں میں اول، دوم اور سوم انعامات کے تحت بالترتیب دس ہزار، سات ہزار اور پانچ ہزار روپئے کی نقد رقم، اسناد، تمغے اور مومنٹوز پیش کیے گئے، جبکہ ترغیبی انعامات بھی دیے گئے۔ اس کے علاوہ امتحان میں حصہ لینے والے اسکولوں اور مدارس کے ذمہ داران کو بھی یادگاری مومنٹوز پیش کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ مسابقے کے انعقاد اور کامیابی میں تعاون کرنے والے مقامی علمائے کرام، حفاظ اور دیگر معاونین کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔  اجلاس میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں مرد و خواتین عصر کے بعد ہی سے پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ مغرب سے قبل ہی دو ہزار سے زائد خواتین اور سات سو سے زائد مرد شرکاء اجلاس میں موجود تھے، جبکہ اس کے بعد بھی لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ بڑی تعداد میں عوامی شرکت اس بات کا مظہر تھی کہ ظہیرآباد میں تحفظ ختم نبوت کے مشن سے عوام گہری وابستگی رکھتے ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ رہی کہ اس پورے پروگرام کے انعقاد میں ظہیرآباد کے تمام علمائے کرام اور حفاظ نے باہمی اتحاد و اتفاق کے ساتھ حصہ لیا اور اجتماعی طور پر اپنی خدمات انجام دیں، جو شہر کے دینی حلقوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ اجلاس کے انتظامات کی نگرانی میں حافظ اکبر صاحب، حافظ ارشد صاحب اور عبدالقدیر صاحب نے خصوصی ذمہ داری ادا کی۔ ان کے ساتھ شہر کے تمام علمائے کرام اور حفاظِ عظام بھی پروگرام کے مختلف انتظامی امور میں مسلسل مصروف رہے اور سب نے باہمی تعاون و اتحاد کے ساتھ اجلاس کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
اجلاس میں حضرت مولانا وجیہ الدین قاسمی صاحب، مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت تلنگانہ، حضرت مولانا عمر محی الدین صاحب سمیت دیگر علماء، ائمہ، حفاظ، اسکولوں اور مدارس کے ذمہ داران اور سرپرستوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ نظامت کے فرائض مفتی خلیل احمد قاسمی صاحب اور مولانا محسن نشاطی صاحب نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔  آخر میں حضرت مولانا ارشد  القاسمی صاحب کی رِقّت انگیز دعا پر اس عظیم الشان اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔ دعا میں ملک و ملت کی سلامتی، امتِ مسلمہ کے ایمان و عقائد کی حفاظت، اکابر علمائے کرام کی خدمات کی قبولیت اور تحفظ ختم نبوت کے اس عظیم مشن کی مزید ترقی و کامیابی کے لیے خصوصی التجا کی گئی۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔