بگدل میں مجلس اتحاد المسلمین کے جلسۂ حالاتِ حاضرہ سے بیرسٹر اسدالدین اویسی کا خطاب - مسلمان اپنی مضبوط سیاسی قیادت قائم کریں، سیاسی انصاف اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے متحد ہوں: اویسی


بیدر، یکم نومبر ( نامہ نگارمحمد عبدالصمد): کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ حلقہ پارلیمانی حیدراباد نقیب ملت جناب الحاج بیرسٹر اسدالدین اویسی نے بگدل میں کل شب مجلس اتحاد المسلمین کے بگدل کے زیر اہتمام منعقدہ جلسۂ حالاتِ حاضرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی مضبوط سیاسی قیادت قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک کوئی قوم اپنی سیاسی قیادت اور سیاسی اتحاد قائم نہیں کرتی، اس وقت تک اسے سیاسی انصاف، عزت اور اپنے جائز حقوق حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی رہیں گی۔ مسلمانوں کو صرف ووٹ دینے والے بن کر نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنے حقوق کے لیے باشعور شہری اور منظم سیاسی طاقت بننا ہوگا۔
انہوں نے جلسے میں شریک معززین، بزرگانِ قوم، نوجوانوں اور مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مجلس کے ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے نئی تنظیمی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تمام لوگ اس ٹیم کی حمایت، حوصلہ افزائی اور تعاون کریں گے تاکہ مجلس اتحاد المسلمین نہ صرف بگدل بلکہ پورے ضلع بیدر میں ایک مضبوط سیاسی جماعت کی حیثیت سے ابھرے۔ 
اس موقع پر کرناٹک مجلس اتحاد المسلمین کے صدر جناب لطیف پٹھان، ضلع کے ترجمان وسیم الدین کرمانی، عبدالعزیز منا، کارپوریٹر انیل گونجکر، صدر بگدل اشفاق غازی،سید ساجد سکریڑی بگدل مجلس، صدر گلبرگہ سراج شابدی، اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے مجلس کے ذمہ داران کا بھی انہوں نے شکریہ ادا کیا۔
بیرسٹراسدالدین اویسی نے کرناٹک، مہاراشٹر اور تلنگانہ میں بارش کی کمی اور پانی کی قلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بارش اور رحمت کے لیے دعا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت سے انسانوں کے ساتھ جانوروں اور خصوصاً کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے بارش اور رحمت کی دعا کرنی چاہیے۔
ملک کی آزادی اور آئین کے پس منظر میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی میں ہر قوم اور برادری نے قربانیاں دی ہیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی سے پہلے حضرت ٹیپو سلطانؒ، نواب سراج الدولہ اور دیگر مجاہدین کی قربانیاں تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ آزادی کے بعد ملک کو آئین دیا گیا اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے آئین میں سیاسی انصاف کے حصول کو بنیادی اہمیت دی۔ انہوں نے کہا کہ آئین بنانے والوں نے سیاسی انصاف کا تصور پیش کیا تھا، لیکن آزادی کے بعد مسلمانوں کو سیاسی نمائندگی اور جائز حقوق کے حصول میں مسلسل مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
انہوں نے مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ملک میں مسلمانوں کی شرحِ خواندگی، مسلم خواتین کی تعلیم، زمین کی ملکیت اور سرکاری ملازمتوں میں نمائندگی کی صورتحال تشویش ناک کیوں ہے؟ مسلمانوں کے بچے تعلیم سے محروم کیوں ہیں اور مسلم نوجوانوں کو روزگار کے مناسب مواقع کیوں نہیں مل رہے؟ انہوں نے کہا کہ ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے اور ان کے حل کے لیے سیاسی شعور اور اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
بیرسٹر اویسی نے کہا کہ جس سماج کے پاس اپنی سیاسی قیادت ہوتی ہے، اسی سماج کی آواز سنی جاتی ہے اور اس کے مسائل کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی سیاسی قیادت کی بات کرنے پر انہیں فرقہ پرستی کا الزام دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ ہندوستانی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی انصاف اور مساوی حقوق کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر مختلف طبقات اور برادریوں کو اپنی سیاسی قیادت قائم کرنے کا حق حاصل ہے تو مسلمانوں کو اپنی قیادت بنانے سے کیوں روکا جاتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں تقریباً 19 کروڑ مسلمانوں کی آبادی ہے اور انہیں اپنے اتحاد، سیاسی شعور اور جمہوری طاقت کے ذریعے مضبوط قیادت قائم کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق مسلمانوں کی ترقی صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی ترقی، مضبوط جمہوریت اور امن و سلامتی کے لیے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض سیاسی جماعتیں انتخابات کے دوران مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرتی ہیں، لیکن انتخابات کے بعد ان کے مسائل کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت، نوجوانوں کی گرفتاریاں، غربت اور مسلمانوں کو مناسب سیاسی حصہ داری نہ ملنے جیسے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب مسلمانوں کو اپنی سیاسی ترجیحات پر خود فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے ایک امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف سماجی طبقات کی معاشی حالت میں بہتری آئی ہے، لیکن مسلمانوں کی نئی نسل کی آمدنی اپنے بزرگوں کے مقابلے میں بھی کم ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی معاشی پسماندگی ملک کی مجموعی ترقی کے لیے بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
بیرسٹر اویسی نے کہا کہ مسلمانوں کو کسی کے سامنے خوف یا احساسِ کمتری کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضرورت نہیں۔ بزرگوں کا احترام اپنی جگہ، لیکن احترام اور غلامی میں فرق ہے۔ مسلمانوں کو اپنی عزت، خودداری اور حقوق کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سب کا ملک ہے اور ہر شہری کو اس ملک میں برابر کا حق حاصل ہے۔
ملک کی آزادی میں مسلمانوں کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حضرت ٹیپو سلطانؒ، نواب سراج الدولہ اور علمائے کرام کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے آزادی کی جدوجہد میں اس کے کردار پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ مسلمانوں نے اس ملک کی آزادی کے لیے اپنی جانوں اور مال و اسباب کی قربانیاں دی ہیں۔ نئی نسل کو اپنے بزرگوں اور مجاہدینِ آزادی کی تاریخ سے واقف ہونا چاہیے۔
انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ ہر میدان میں آگے بڑھیں، تعلیم حاصل کریں، اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں اور سیاسی و سماجی میدان میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجلس اتحاد المسلمین کسی کو تشدد، پتھراؤ یا قانون شکنی کی ترغیب نہیں دیتی بلکہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے ووٹ کی طاقت کو منظم انداز میں استعمال کرنے اور متحد ہوکر اپنی سیاسی قیادت کو مضبوط بنانے کی اپیل کی۔
اپنی سیاسی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے بیرسٹر اویسی نے کہا کہ انہیں مختلف مواقع پر دھمکیوں اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ خوفزدہ نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، اس لیے انسان کو عزت اور خودداری کے ساتھ جینا چاہیے اور اپنے مقصد کے لیے ثابت قدم رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو صرف ووٹر بن کر سیاسی جماعتوں کے دروازوں پر انتظار کرنے کے بجائے اپنی صفوں سے قیادت پیدا کرنی ہوگی۔ اگر مسلمان متحد ہوکر اپنے حقوق کے لیے جمہوری انداز میں جدوجہد کریں گے تو ان کے مسائل کے حل کی راہیں کھلیں گی۔ انہوں نے مجلس اتحاد المسلمین کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ذمہ داروں، کارکنوں اور نوجوانوں سے عملی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کے بجائے آئینی حقوق کے حصول کے لیے متحد، منظم اور سرگرم ہونا چاہیے .اس موقع پر کرناٹک مجلس اتحاد المسلمین کے صدر جناب لطیف پٹھان،محمد عاطف پاٹیل ایڈوکیٹ صدر ضلع مجلس بیدر، عبدالعزیز منا،مجلسی کارپوریٹربیدر،محمد عاطف عشہر انچارچ مجلس،صدرمجلس بگدل جناب اشفاق غازی، صدر گلبرگہ مجلس جناب سراج شابدی، جلسہ کو مخاطب کیا.مجسی کارپوریٹر جناب انیل گونجکر،، مجلس کے دیگر قائیدین شیہ نشین پر موجودتھے، بیدر،ہلی کیھڑ ،بگدل،ضلع بیدر کے مجلس کے ہزاروں قائیدین و کارکنان،منا اکیھلی ،بگدل کے اطراف و اکناف کے مجلسی قائیدین اور بلالحاظ مذہب و ملت عوام کی کثیر تعداد جلسہ کو بغور سماعت کیا.ضلع مجلس کے ترجمان وسیم الدین کرمانی نے نظامت کے فرائض انجام دئے.جلسہ میں مجلس اتحادالمسلیمن زندہ باد ،فخرملت زندہ باد ،سالار ملت زندہ باد،نقیب ملت حبیب ملت زندہ باد مقبول ملت زندہ بادجیسے نعرے بھی بار بار لگائے گئے.نقیب ملت کا شاندار پیمانے کے ساتھ بگدل کی روایتی انداز میں استقبال کیا گیا.،صدرمجلس بگدل جناب اشفاق غازی،کی سرپرستی میں شال پوشی و گلپوشی کی گئی.رات ٹیھک دس بجے جلسہ پرآمن انداز میں تکمیل پذیر ہوا.جناب سید ساجد سکریڑی مجلس بگدل کی نگرانی میں قائدین و کاکنان انتظامات میں مصروف دیکھے گئے.محمد عبدالصمد سابق صدر مجلس ضلع بیدر.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔