اردو: جسے کسی ایک مذہب میں قید نہیں کیا جا سکتا - از قلم : عالمہ مبین پالیگار، (پرنسپل، ماؤنٹ سنائی پی یو کالج، بیلگام)


اردو: جسے کسی ایک مذہب میں قید نہیں کیا جا سکتا - 
از قلم : عالمہ مبین پالیگار، 
(پرنسپل، ماؤنٹ سنائی پی یو کالج، بیلگام)
رابطہ: 8904317986

کبھی کبھی ایک جملہ سن کر دل بیٹھ جاتا ہے: ’’اردو تو مسلمانوں کی زبان ہے۔‘‘ یہ جملہ محض ایک غلط فہمی نہیں، بلکہ اردو کی وسیع تاریخ، تہذیبی وراثت اور ادبی خدمات کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ اردو نہ کسی ایک مذہب کی میراث ہے اور نہ کسی ایک قوم کی جاگیر۔ یہ برصغیر کی سرزمین پر پروان چڑھنے والی زبان ہے، جس کی تشکیل میں مختلف زبانوں، تہذیبوں اور معاشرتی میل جول نے اہم کردار ادا کیا ہے۔اردو کی بنیادی ساخت ہند آریائی زبانوں سے تعلق رکھتی ہے، جب کہ اس کے ذخیرۂ الفاظ میں فارسی، عربی اور ترکی سمیت متعدد زبانوں کے الفاظ شامل ہوئے۔ مقامی بولیوں اور مختلف تہذیبی اثرات نے اس کے دامن کو وسیع کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو میں ہندوستانی تہذیب کی جھلک بھی ملتی ہے اور مختلف زبانوں کے علمی و ادبی اثرات بھی نمایاں ہیں۔اردو کی مٹھاس اور شائستگی کا اپنا ایک مقام ہے۔ ’’آپ‘‘، ’’جناب‘‘، ’’تشریف رکھیے‘‘ اور ’’مہربانی فرمائیے‘‘ جیسے الفاظ محض اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں، بلکہ احترام اور تہذیب کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں۔ اردو نے ادب، صحافت، شاعری، فلم، موسیقی اور عوامی رابطے کے ذریعے دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی شناخت قائم کی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ خلیجی ممالک، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، ماریشس اور جنوبی افریقہ میں بھی اردو بولنے، پڑھنے اور سمجھنے والے موجود ہیں۔
غیر مسلم ادیبوں کی اردو کے لیے خدمات
اردو کے ادبی سرمایے پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ اس زبان کی ترقی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ادیبوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔پنڈت دیا شنکر نسیم کی مثنوی ’’گلزارِ نسیم‘‘ اردو ادب کا ایک اہم شاہکار ہے۔ منشی پریم چند نے اردو افسانہ نگاری اور ناول نگاری کو نئی جہت عطا کی۔ ان کا افسانوی مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ 1908ء میں شائع ہوا، جس میں وطن دوستی کے جذبات نمایاں تھے۔ برطانوی حکومت نے اس مجموعے کو ضبط کر لیا تھا۔
رتن ناتھ سرشار نے اپنے مشہور ناول ’’فسانۂ آزاد‘‘ کے ذریعے اردو نثر کو ایک نئی پہچان دی۔ فراق گورکھپوری نے اردو شاعری میں اپنی منفرد شناخت قائم کی اور 1969ء میں گیان پیٹھ ایوارڈ حاصل کیا۔ برج نرائن چکبست، آنند نارائن ملا، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، جگن ناتھ آزاد اور گلزار جیسے ادیبوں نے بھی اردو ادب کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال کیا۔یہ تمام نام اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ اردو کی ادبی دنیا کسی ایک مذہب کی حدود میں سمٹی ہوئی نہیں ہے۔ اس کے فروغ میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔
تحریکِ آزادی اور اردو کا کردار
اردو صرف محبت، شائستگی اور تہذیب کی زبان ہی نہیں، بلکہ آزادی، مزاحمت اور حوصلے کی زبان بھی رہی ہے۔ ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں اردو صحافت، تحریروں، نعروں اور انقلابی شاعری نے اہم کردار ادا کیا۔
1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران مولوی محمد باقر نے اپنے اخبار ’’دہلی اردو اخبار‘‘ کے ذریعے انگریز حکومت کے خلاف آواز بلند کی۔ وہ ہندوستانی صحافت کی تاریخ کی اہم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ستمبر 1857ء میں برطانوی حکام نے انہیں گرفتار کیا اور توپ کے دہانے سے باندھ کر شہید کر دیا۔ انہیں ہندوستان کے اولین صحافی شہداء میں شمار کیا جاتا ہے۔
1904ء میں علامہ محمد اقبال نے اپنا مشہور ترانۂ ہندی ’’سارے جہاں سے اچھا، ہندوستان ہمارا‘‘ تحریر کیا۔ یہ نظم ابتدا ہی سے ہندوستانی عوام میں مقبول ہوئی اور آج بھی قومی یکجہتی اور حب الوطنی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے اخبارات ’’الہلال‘‘ (1912ء) اور ’’البلاغ‘‘ کے ذریعے برطانوی اقتدار کے خلاف فکری بیداری پیدا کی۔ ان کا اخبار ’’ہمدرد‘‘ 1913ء میں جاری ہوا۔ ان اخبارات نے مسلمانوں اور دیگر ہندوستانیوں میں سیاسی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔مولانا حسرت موہانی کا نام بھی تحریکِ آزادی کی تاریخ میں نمایاں ہے۔ ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ ان سے منسوب ہے۔ یہ نعرہ بعد میں بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کے ذریعے آزادی کی تحریک میں بے حد مقبول ہوا۔ 1921ء میں کانگریس کے احمدآباد اجلاس میں مولانا حسرت موہانی نے مکمل آزادی کا مطالبہ بھی پیش کیا۔ وہ ایک بلند پایہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ آزادی کے سرگرم کارکن بھی تھے۔ ان کی زندگی جدوجہد، قید و بند اور اصول پسندی کی مثال تھی۔اسی طرح ’’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘‘ ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا ایک مقبول انقلابی کلام بن گیا۔ اس کے اصل خالق بسمِل عظیم آبادی تھے، جنہوں نے اسے تحریر کیا۔ بعد میں رام پرساد بسمل اور دیگر انقلابیوں کے ذریعے یہ کلام عوام میں بے حد مقبول ہوا۔ رام پرساد بسمل نے اپنی انقلابی جدوجہد کے دوران اسے شہرت دی اور اسی وجہ سے ایک طویل عرصے تک یہ کلام غلط طور پر انہی سے منسوب ہوتا رہا۔یہاں ایک اہم حقیقت قابلِ ذکر ہے کہ اس کلام کے خالق ایک مسلمان شاعر بسمِل عظیم آبادی تھے، جب کہ اسے مقبول بنانے والوں میں ہندو مجاہدِ آزادی رام پرساد بسمل کا نام نمایاں ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی خوب صورت مثال ہے کہ اردو نے مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر ہندوستانیوں کے جذبات، قربانیوں اور مشترکہ جدوجہد کو اپنی زبان عطا کی۔
ہماری ذمہ داری
جس زبان کو مختلف مذاہب اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم نے اپنے علم، محنت اور صلاحیتوں سے پروان چڑھایا، اسے کسی ایک مذہب کے ساتھ مخصوص کر دینا نہ صرف تاریخی ناانصافی ہے بلکہ ان تمام ادیبوں اور محسنوں کی خدمات کو نظر انداز کرنا بھی ہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اردو کو صرف جذباتی نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ بچوں کو اردو پڑھنے کی ترغیب دیں، گھروں میں اردو کی کتابیں رکھیں، ادبی نشستوں اور مشاعروں کو فروغ دیں، نئی نسل کو اردو ادب سے روشناس کرائیں اور اردو رسم الخط کی حفاظت کریں۔اردو کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ اسے جدید تعلیم، صحافت، تحقیق، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دنیا سے بھی جوڑا جائے۔ زبانیں صرف محبت کے اظہار سے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ ان کے پڑھنے، لکھنے، سیکھنے اور سکھانے سے زندہ رہتی ہیں۔اردو کسی ایک مذہب، قوم یا طبقے کی جاگیر نہیں۔ یہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس زبان کو کسی ایک خانے میں بند کرنے کے بجائے اس کی ادبی، تاریخی اور تہذیبی عظمت کو تسلیم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اردو بچے گی تو ہماری تہذیب، ہماری ادبی روایت اور ہماری مشترکہ ثقافتی شناخت کا ایک اہم باب بھی زندہ رہے گا۔ اردو کسی ایک کی نہیں، اسی لیے سب کی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔