غزل - میربیدری، بیدر،کرناٹک
غزل -
میربیدری، بیدر،کرناٹک
سب بھول جائیے گا، حکومت ہیں لوگ ہم
مسجد ہٹائیے گا، حکومت ہیں لوگ ہم
جمہوریت میں آج توجہ اِدھر بھی ہو
ہم کو بھی بھائیے گا، حکومت ہیں لوگ ہم
ہم کوبڑا ہی پیار ہے جنگل کے شیر سے
اور شیرلائیے گا، حکومت ہیں لوگ ہم
تم کو نہیں ہے زندگی سے بڑھ کے پیارتو
منزل جلائیے گا، حکومت ہیں لوگ ہم
جب ووٹ جیسی طاقتوں پر ناز کرتے ہیں
ہم کو بنائیے گا، حکومت ہیں لوگ ہم
ہم کو ہٹانا بس میں تمہارے نہیں رہا
گھراپنے جائیے گا، حکومت ہیں لوگ ہم
آساں نہیں رہی ہے ملاقات ہم سے میرؔ
تحفہ بھی لائیے گا، حکومت ہیں لوگ ہم
Comments
Post a Comment