حضرت عیسی کی ولادت قرآن کی نظر میں-( ٣)بقلم: ظفر ھاشمی ندوی سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ
حضرت عیسی کی ولادت قرآن کی نظر میں-( ٣)
بقلم: ظفر ھاشمی ندوی سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ-
حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں قرآن مجید کے بیان سننے سے پہلے ہر مسلمان کو ایک بات یاد رکھنا ضروری ہے- وہ یہ کہ قرآن مجید کا ہر لفظ اور ہر آیت آج تک اسی طرح ہے جیسے جبرئیل علیہ السلام وحی کے ذریعہ لے کر آئے تھے - اس میں ایک حرف یا ایک لفظ بھی بدلا ہوا یا کم زیادہ نہیں ہوا ہے- جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے 325 سال بعد عیسائی علماء نے خود سے ہر بات طے کردی جس کو بعض دوسرے عیسائی علماء نے قبول نہیں کیا- ان علماء سے بھی پہلے سن 315 میں حضرت عیسی علیہ السلام کے دنیا میں آنے اور آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے بعد اریوسی عیسائی فرقہ نے تین خداؤں کو ملا کر ایک خدا کے عقیدہ سے انکار کر دیا - ان کا کہنا تھا کہ حضرت عیسی اللہ کے بیٹے ہیں اور خدا ہیں مگر جو خدا ان کا باپ ہے اس سے کمتر درجہ کے ہیں-اسی طرح وہ قوت جو روح القدس کہلاتی ہے وہ بھی اصل خدا کے ذریعہ پیدا ہوئی اور کم درجہ کی خدائیت رکھتی ہے- اسی فرقہ کے خلاف سن 325 میں نیقیہ شھر میں عیسائی علماء جمع ہوئے اور انھیں مرتد عیسائی قرار دیا-
ان سچی مگر حقیقتوں سے ہٹ کر اب ہم قرآن مجید کی زبانی اصل حقیقت تک پہونچتے ہیں : سورہ مریم آیت نمبر 16 — 36):
جب مریم اپنے گھر والوں سے ہٹ کر مشرقی جانب علئحدہ ہوئیں اور ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ ڈال دیاتو ہم نے ان کی طرف ہماری روح ( حضرت جبرئیل ) کو بھیجا جو مکمل انسان کی شکل میں ان کے سامنے آئے-مریم نے کہا بلا شبہ میں رحمان کی حفاظت تم سے بچنے کے لئے چاھتی ہوں اگر تم اس سے ڈرتے ہو-انھوں نے کہا میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ بیٹا دوں-
حضرت مریم رحمہا اللہ نے کہا مجھے کیسے بیٹا ہوگا جبکہ کسی انسان نے مجھے چھوا بھی نہیں ہےاور نہ میں نے کبھی بد کاری کی- کہا بس ویسے ہی اپنے آپ ہوجائے گااور تمہارے رب نے کہا ہے میرے لئے یہ بہت آسان ہے - اور یہ اس لئے کہ ہم اس بیٹے کو لوگوں کے لئے ایک نشانی اور رحمت بنادیں اور یہ اللہ کی طرف سے طے شدہ بات ہے- پھر وہ حاملہ ہو گئی اور حمل کی حالت میں اس کو لے کر دور جگہ جاکر لوگوں سے الگ ہو گئی- درد زہ نے اسے کھجور کے تنے تک پہونچا دیا- کہنے لگی اے کاش اس سے پہلے میں مر جاتی اور بھولی بھولائی بن جاتی- فرشتہ نے اس درخت کے نچلے حصہ سے آواز دی کہ غم نہ کرو تمہارے رب نے تمہارے نیچے پانی کا ایک چشمہ جاری کر دیا ہے- اور تم کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاو ، وہ تازہ پکی ہوئی کھجور یں گرائے گا- تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو پھر اگر تمہیں کوئی انسان نظر آجائے تو کہو میں نے رحمان کے لئے روزہ کی نذر مانی ہے کہ میں آج کسی انسان سے بات نہیں کروں گی- پھر وہ بچے کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کی طرف آئی - لوگوں نے کہا اے مریم بلا شبہ تم نے بہت برا کام کر دیا ہے-اے ھارون کی بہن نہ تمہارا باپ برا تھا اور نہ تمہاری ماں بدکار تھی-تو مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا کہنے لگے ہم اس بچہ سے کیسے بات کریں جو اس وقت گود میں ہے- بچہ بول پڑا میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے ، میں جہاں بھی رہوں اور مجھے برکت والا بنایا ہے- اور مجھے نماز اور زکوة کی وصیت کی ہے میں جب تک زندہ رہوں اور یہ مجھے اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے والا بنایا اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا- اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گااور جس دن میں دوبارہ اٹھایا جاؤں گا -یہ ہے عیسی بن مریم- یہ حق بات ہے جس میں یہ لوگ شک کرتے ہیں- اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے- وہ بے حد پاک ہے- وہ جب کسی بات کا اردہ کر لیتا ہے تو کہتا ہے ہو جا بس وہ بات ہو جاتی ہے-اور بلا شبہ میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے تو تم اسی کی عبادت کرو-
باقی آئندہ-
Comments
Post a Comment