نصاب آنے والی نسلوں کی تعمیر و ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے: سید حسین اختر - گوگٹے جوگلےکر کالج رتناگری میں شعبۂ اردو کی بورڈ آف اسٹڈیز کی میٹنگ؛ فرسٹ ایئر بی اے اور آئی کے ایس کے نصاب کو منظوری


رتناگری (نامہ نگار): نصاب اور تعلیم کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ تعلیم جہاں انسان کی ذہنی، اخلاقی اور عملی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا ایک وسیع اور ہمہ گیر عمل ہے، وہیں نصاب اس تعلیمی عمل کا منظم خاکہ اور رہنما لائحۂ عمل ہوتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی فکری، علمی اور تہذیبی ترقی میں معیاری نصاب بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی کی بنیاد پر آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت اور تعمیر و ترقی کا راستہ متعین ہوتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کے صدر جناب سید حسین اختر نے گوگٹے جوگلےکر کالج (خودمختار)، رتناگری کے شعبۂ اردو میں منعقدہ بورڈ آف اسٹڈیز کی میٹنگ میں کیا۔ وہ اس میٹنگ میں بطور اسپیشل ایکسپرٹ شریک تھے۔
اپنے خطاب میں سید حسین اختر نے کہا کہ ہر دور میں ماہرینِ تعلیم اور اربابِ فکر و نظر کی یہ کوشش رہی ہے کہ نصاب کو وقت کے تقاضوں اور تعلیمی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مؤثر، معیاری اور مفید بنایا جائے۔ اس لیے نصاب کی تیاری محض تعلیمی مضامین کی ترتیب کا نام نہیں بلکہ یہ ایک اہم ذمہ داری ہے، جس کے ذریعے مستقبل کی نسلوں کی فکری و علمی بنیادیں استوار کی جاتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نصاب ایسا ہونا چاہیے جو طلبہ کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے ساتھ انہیں عملی زندگی اور معاشرتی تقاضوں سے بھی ہم آہنگ کرسکے۔
میٹنگ کی صدارت شعبۂ اردو کے صدر ڈاکٹر محمد دانش فنی نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ نصاب کی تیاری کے دوران متعدد اہم تعلیمی اصولوں اور تقاضوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ انہیں امید ہے کہ مرتب کردہ نصاب طلبہ کی علمی و فکری نشوونما میں معاون ثابت ہوگا اور انہیں کامیابی و فلاح کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اس موقع پر ڈاکٹر صبیحہ سید، صدر بورڈ آف اسٹڈیز، شیواجی یونیورسٹی، ڈاکٹر امی کوثر، شعبۂ اردو، شیموگہ یونیورسٹی، اور محترمہ شاذیہ بڑھئے، معلمہ مستری ہائی اسکول بھی موجود تھیں۔ میٹنگ میں نصاب کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض اور تبادلۂ خیال کیا گیا، جس کے بعد فرسٹ ایئر بی اے اور آئی کے ایس (Indian Knowledge System) کے نصاب کو منظوری دی گئی۔
میٹنگ کے دوران نصاب کی افادیت، تعلیمی معیار اور طلبہ کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مختلف تجاویز پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ پروگرام کی نظامت اور اظہارِ تشکر کے فرائض شعبۂ اردو کی محترمہ طیبہ رفیق بورکر نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔