یتیم کی کفالت کی فضیلت ۔۔۔۔! - ازقلم : مولوی شبّیر عبدالکریم تانبے۔
یتیم کی کفالت کی فضیلت ۔۔۔۔! -
ازقلم : مولوی شبّیر عبدالکریم تانبے۔
موت کا اپنے متعینہ وقت پر آنا یقینی ہے لیکن کس کی موت کب اور کہاں آئےگی اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالی کے اور کسی کو نہیں ہے بسااوقات انسان اپنی موت کے بعد اپنے پیچھے اپنی چھوٹی اور یتیم اولاد چھوڑ جاتا ہے اور سوائے اللہ تعالی کی ذات کے بظاہر اور کوئی سہارا اور آسرا نہیں ہوتا شریعت نے ان یتیم بچوں کی کفالت پرورش اور تربیت کرنے کے بڑے فضائل بیان فرمائے ہیں اس طرح انکے بھی سنائی ہیں۔
نبئ کریم نے یتیموں کے ساتھ شفقت کرنےکا حکم فرمایا ہے اور ان کے ساتھ دل شکنی کا برتاو کرنے سے منع فرمایا ہے یتیم قابل شفقت و قابل رحم ہوتا ہے اس کے ساتھ اکرام کا برتاو کرنا چاہیے اور انھیں اپنے بچوں کے مقابلے حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
ارشاد ہےکہ مسلمانوں کے گھروں میں بہتر گھر وہ ہے جسمیں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ احسان و سلوک کیا جاتا ہو اور سب سے برا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو حدیث پاک کے مطابق یتیم کی کفالت اور پرورش کرنے والے کو جنّت میں نبئ کریم کی نزدیکی اور قربت نصیب ہوگی اور یہ کتنے بڑے شرف و عزت کی بات ہے اور وہ آدمی بڑا خوش نصیب ہوگا جس کو جنّت میں نبئ کریم کا قرب نصیب ہوجائے
بسااوقات باپ کے انتقال کے بعداس کے بھائی یا اس کے چچا وغیرہ کی کفالت اور ذمہ داری میں اس کی اولاد آجاتی ہے شریعت نے یتیموں کی کفالت کرنے والوں کو حکم دیا ہےکہ وہ انکے مالوں اور انکے حقوق کی حفاظت کریں اور کسی حیلے اور بہانے سے ان کے مالوں اور انکے حقوق کو ضائع و برباد نہ کریں اور ان کے بالغ اور سمجھدار ہونے کے بعد جب انکے مال ان کے حوالے اور سپرد کریں تو اس پر گواہ بھی رکھیں تاکہ آئندہ کسی قسم کے جھگڑے اور اختلاف کی نوبت نہ آئے اور اللہ تعالی حساب کے لئے کافی ہے اور یتیموں کے مال ضرورت کے اعتبارسے ہی ان پر خرچ کئے جائیں بغیر کسی ضرورت یا ضرورت سے زیادہ یا ضرورت سے پہلے خرچ کرکے ان کے مالوں کو ضائع نہ کیا جائے۔
جس طرح انکے مال دولت کی حفاظت کرنا ضروری ہے اسی طرح ان کے زمین و جائیداد اور کاروبار کی بھی حفاظت کرنا ضروری ہے بسااوقات آدمی ان کے زمین و جائیداد اور کاروبارسے ان کی یتیمی اور کمزوری کی وجہ سے ان کو محروم کردیتا ہے ۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں :
جولوگ ناجائز طریقوں سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں
اسلیے کسی کی کمزوری اور مجبوری کا غلط فائدہ نییں اٹھانا چاہیے اللہ تعالی حساب لینے کے لئے کافی ہے۔
اللہ تعالی ہمیں کمزوروں اور مجبوروں کےساتھ حسن سلوک سے ہیش آنے اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنے اور ان کے ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے ۔
مولوی شبّیر عبدالکریم تانبے۔
...........................................
Comments
Post a Comment