عالمی یومِ اردو کے حوالے سے - محمدیوسف رحیم میرؔبیدری کی چند گذارشات، محبان ِ اردو متوجہ ہوں


عالمی یومِ اردو کے حوالے سے - 
 محمدیوسف رحیم میرؔبیدری کی چند گذارشات، محبان ِ اردو متوجہ ہوں 

بیدر۔ 07/نومبر (پریس ریلیز) اردو، ہندی اور دکنی زبانوں کے شاعر وادیب، افسانچہ نگار، خاکہ نگار اور نقاد جناب محمدیوسف رحیم میرؔبیدری نے علامہ اقبال کے یوم، پیدائش 9/نومبر پر دنیابھر میں منائے جارہے ”عالمی یوم ِ اردو“ کے حوالے سے چند گذارشات اردو اور دکنی والوں سے کی ہیں۔ انھوں نے اپنی تازہ پریس نوٹ میں سبھی سے التماس کیاہے کہ (۱)بھارت سے لے کر امریکہ تک اور دہلی سے لے کر گلی تک عالمی یوم ِ اردو کا انعقادعمل میں آئے (۲) اردو کی بنیادوں میں مختلف زبانوں کی لفظیات شامل ہیں جیسے دکنی، پنجابی، مراٹھی، گجراتی،بنگلہ، کنڑی، تیلگو، فارسی، عربی،فرانسیسی، ترکی،جرمن، کشمیری، سنسکرت، ہندی وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام زبانوں سے اردو والوں کے رشتے منقطع نہ ہوں بلکہ مزید استوار ہوں (۳)اپنی تخلیقات میں نئی لفظیات کو شامل کرنے کی طرف اردو شاعراور ادیب توجہ دیں۔ نئی لفظیات کو خوش آمدید کہنے اور ان کے استعمال سے زبان کی توسیع ہوتی ہے۔ اسی طرح ترک کئے گئے قدیم الفاظ کو دوسر ی طرح سے استعمال میں لانے پر بھی غور ہونا چاہیے (۴) شاعری، افسانہ، ناول اور معاشرتی مضامین کے علاوہ سائنس، اورریاضی کے مضامین بھی اردو میں آنے چاہیے تاکہ نئے تناظر کے پیش نظر اردو عالمی زبانوں کے مقابل کھڑی ہوسکے (۵) ہمارے نوجوان جرمن جانے کیلئے جرمنی اور چین جانے کے لئے چینی زبانیں سیکھ رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ جرمن اور چینی زبان کے الفاظ بھی بڑے پیمانے پر اردو میں رائج کئے جائیں۔ لغت کی تدوین میں ان زبانوں کاخصوصی خیال رکھاجائے (۶)اردو صحافیوں اور اردو اخبارورسائل اس طرف توجہ دیں کہ اردو والوں کے تحقیقی مضامین یامعاشرتی ومذہبی مضامین تمام طبقات کے حوالے سے شائع ہوتے رہیں۔ تمام طبقات کے تہوار کی درست جانکاری اردو صحافت اپنے صفحات پر دے تاکہ غیراردو داں طبقہ اردو صحافت کی طرف متوجہ ہوتارہے(۷) مقامی شعراء کے اشعار بھی مقامی پروگراموں (مشاعرہ، بیت بازی،تعلیمی و دینی پروگرام وغیرہ) میں استعمال کرتے ہوئے مقامی شعراء کے قدکو بلند کرنے کی طرف توجہ ہو(۸)مقامی شعراء اور افسانہ نویسوں کی کتابیں  خرید کر مقامی لائبریریوں میں جمع کی جائیں (۹) عالمی یوم ِ اردو کے موقع پر صرف علامہ اقبال کویاد نہ کیاجائے بلکہ مقامی مرحوم شعراء کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیاجائے (۰۱) ایسے مردوخواتین اساتذہ جنہوں نے اردوکی خدمت کی ہے ان کو بھی یاد کیاجائے۔(۱۱) دکنی شعراء اور ادیب جو سرگرم نہیں ہے، وہ فوری طورپر دکنی زبان کی ترقی وترویج میں سرگرم ہوں۔ اسی طرح مقامی سطح کے ہندی شعراء بھی اپنے آپ کو سرگرم رکھیں۔ اردو کے پروگراموں میں دکنی اور ہندی شاعر کی حیثیت سے وقت نکال کر شریک ہوں۔ جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے اپنے صحافتی نوٹ میں یہ بھی کہاہے کہ عالمی یوم ِ اردو کی تقریبات میں تنوع ہو۔ اخلاص کے ساتھ عالمی یوم ِ اردو منایاجائے۔مقامی سیاسی قائدین اور علمائے کرام کو بھی مدعو کرنے سے مقامی سطح پر اردو کے نفا ذمیں آسانی ہوگی۔ اردو اسکولوں کو بچانے اوران کے استحکام کی طرف سیاسی قائدین اور علمائے کرام سمیت سبھی توجہ دے سکیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔