معاشرے کی اصلاح افراد کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں - ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے


معاشرے کی اصلاح افراد کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں - 
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے

    معاشرے اور عمومی اصلاح افراد کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں اور قرآن کریم نے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی اصلاح کو مقدم کیا ہے اسلئے کہ معاشرہ افراد سے بنتا ہے 
  اللہ تعالی فرماتے ہیں اے ایمان والو اپنے آپکو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاو 
 اسلئے اگر اس قرآنی طریقے کو اپنایا جائے اور اسی ترتیب سے عمل کیا جائے تو ان شاء اللہ خودبخود معاشرے کی اصلاح ہوجائیگی 
   اسلئے کہ اسلام عمل چاہتا ہے اور اقوال کی بنسبت عملی زندگیاں لوگوں کے لئے آئیڈیل اور نمونہ بنتی ہیں اور وہ لوگوں کے لئے زیادہ موئثر بنتی ہیں اسلئے کہ جب کسی رسول یا نبی کو بھیجا جاتا تو لوگ انکی عملی زندگیاں اور اخلاق دیکھکر انکی باتوں کو قبول کرتے اور اپناتے جیساکہ نبئ کریم کے اخلاق و عادات اور سچائی و امانتداری کو دیکھ کر کفار مکہ اور مشرکین مکہ نے آپ کو صادق و امین کا لقب دیا تھا اسلئے اگر جس چیز کی دوسروں کو دعوت دی جارہی ہے یا جس برائی سے دوسروں کو روکا جاریا ہے تو اگر کہنے والا اس پر عمل پیرا ہوتو اسکی بات زیادہ اثر کرتی ہے جیساکہ قرآن کریم میں یہودی علماء کی سرزنش کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے 
 کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو ? 
   یعنی عمل کی شروعات اپنی ذات سے کرنی چاہئے تاکہ اسکا اثر زیادہ ہو 
  آج کل شادیوں کا موسم چل رہا ہے ہر طبقے کے اندر شادیوں کی تقاریب منعقد ہورہی ہیں جاہے وہ حضرات علماء کرام ہوں یا دعوت و تبلیغ سے جڑے حضرات ہوں یا دیندار سمجھے جانے والے حضرات ہوں یا پھر عام عوام ہو لیکن کون سا ایسا طبقہ ھیکہ جنکی تقریب کو بطور شریعت کا عملی نمونہ بتاکر امت کے سامنے پیش کیا جائے اسلئے کہ شادی بیاہ کے بارے میں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی تعلیمات و ھدایات اور خود نبئ کریم کا عملی نمونہ موجود ہے جنکو تقریبا ہر کوئی اور حضرات علماء کرام تو جانتے ہی ہیں لیکن کیا کوئی عملا اسکو اپناتا ہے ? یا اب نبئ کریم کی سیرت مبارکہ کو عملا اپنانا ممکن نہیں رہا ? تو پھر اللہ تعالی نے نبئ کریم کی سیرت مبارکہ کو امت کے لئے بہترین نمونہ کیوں قرار دیا جبکہ عملا اسکو اپنانا ممکن ہی نہ ہو ? 
  حضرت عبدالرحمان بن عوف کے نکاح کے عمل کو سادگی کے لئے نمونے کے طورپر پیش کیا جاتا ہے کہ نبئ کریم مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوتے ہوئے شرکت نہیں بلکہ نبئ کریم کو اس نکاح کی خبر بھی نہیں تھی بلکہ آپ نے انکے کپڑوں پر خوشبو کا اثر دیکھکر پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ میں نے نکاح کرلیا تو آپ نے انکو دعا دے کر ولیمے کے بارے میں کچھ باتیں ارشاد فرمائی 
   حضرات صحابہ کرام کے نزدیک نبئ کریم سے بڑھکر اور کوئی ذات محبوب نہیں تھی اور نہ نبئ کریم سے بڑھکر اور کوئی ذات بابرکت تھی لیکن پھر بھی آپ نکاح کی تقریب میں موجود نہیں اسطرح حضرت فاطمہ کے نکاح کے موقع پر آپ نے کتنے صحابہ کرام بلایا اور کتنے صحابہ کرام اس مجلس میں موجور تھے یہ بھی معلوم ہے اسطرح قلت مھر کے لئے ان صحابی کا واقعہ موجود ہے جنکے پاس اپنی اوڑھنے کی چادر کے علاوہ لوہے کی انگوٹھی بھی موجود نہیں تھی پھر تعلیم قران کو مھر بنایا گیا اسطرح ولیمے کے لئے کہ آپ نے اپنی ازواج مطھرات کے ولیمے کسطرح اور کس انداز میں کئے وہ بھی موجود ہے 
   لیکن آج نکاح اور ولیمے کے لئے کثیر تعداد میں لوگوں کو جمع کیا جاتا ہے اور دیگر خرافات وغیرہ حالانکہ حدیث شریف میں اس نکاح کو زیادہ بابرکت بتایا گیا ہے جسمیں خرچہ کم سے کم ہو تو کیا کوئی ایسا طبقہ ھیکہ جسکی نکاح اور ولیمے کی تقریب کو بطور شریعت کا عملی نمونہ بتاکر امت کے سامنے پیش کیا جائے ? تاکہ امت اسکو اپنائے 
  آج ہم نے اسراف و فضول خرچی کو اپنی عزت اور وقار کا مسئلہ بنایا ہے جب ڈاکٹر ہی مریض بن جائے تو علاج کون کریگا? 
   اسلئے معاشرے کی اصلاح و درستگی کے لئے افراد اور گھر والوں کی اصلاح ضروری ہے اسلئے ہم سب کو سب سے پہلے اپنی اور اپنے گھر والوں کی اصلاح کی فکر کرنی چایئے تاکہ معاشرے کی اصلاح و درستگی ہوجائے 
   اللہ تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائے 

   مولوی شبیر عبدالکریم تانبے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔