آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نام ایک کھلا خط - تاریخ ہمیں پکار رہی ہے، کیا آپ سن رہے ہیں؟


آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نام ایک کھلا خط - 
تاریخ ہمیں پکار رہی ہے، کیا آپ سن رہے ہیں؟ - 

محترم صدر و اراکین آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ملتِ اسلامیۂ ہند آج جن حالات سے گزر رہی ہے، ان کی سنگینی آپ سے پوشیدہ نہیں۔ اوقاف کے وجود اور خودمختاری کو لاحق خطرات، مساجد کے خلاف کارروائیاں اور انہدام کے واقعات، تین طلاق کے بعد یکساں سول کوڈ کی لٹکتی تلوار اور عدالتی انصاف سے وابستہ امیدوں کا کمزور پڑنا—آخر کب تک ہم ان حالات کا سامنا صرف بیانات، قراردادوں اور عدالتی چارہ جوئی سے کرتے رہیں گے؟
ہم نے احتجاج کیے، بیانات دیے، عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے، مگر کیا ان کوششوں کے نتائج ہماری توقعات اور حالات کی سنگینی کے مطابق رہے؟ کیا ہماری قیادت نے کبھی سنجیدگی سے سوچا کہ ہمارے احتجاج میں وہ عوامی قوت کیوں پیدا نہ ہوسکی جو ایک جمہوریت میں حکمرانوں کو جواب دہ بناتی ہے؟ کیا ہماری قیادت کا غیر معمولی احتیاط پر مبنی رویہ ہماری اجتماعی بے اثری کا سبب تو نہیں بن رہا؟
محترم ذمہ دارانِ بورڈ!
آج ملک میں ایک نئی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے۔ نوجوان نسل، بالخصوص جین زی، اور سول سوسائٹی کے مختلف حلقے ترنگے ہاتھوں میں لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ انتخابی شفافیت، جمہوری اداروں کی آزادی اور اقتدار کے احتساب کے مطالبات بلند ہو رہے ہیں۔ احتجاج کی بعض نمایاں آوازیں موجودہ حکومت کی تبدیلی کو بھی اپنی جدوجہد کا مقصد قرار دے رہی ہیں۔
یہ احتجاج محض چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے تک محدود نہیں۔ اس نے ملک کے جمہوری مستقبل، شہری آزادیوں اور اقتدار کی جواب دہی کے بنیادی سوالات کو ایک بار پھر عوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
اللہ رب العزت نے حالات کے اس نازک موڑ پر ہمارے سامنے ایک موقع پیدا کیا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی موقع نہیں، ہماری دانش، بصیرت اور اجتماعی حکمتِ عملی کا امتحان بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس موقع کی اہمیت کو سمجھ پائیں گے، یا ایک بار پھر وقت ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گا؟
مسلمانوں کے مسائل ملک کے جمہوری مستقبل سے الگ نہیں ہیں۔ مساجد کا تحفظ ہو یا اوقاف کی بقا، مذہبی آزادی کا سوال ہو یا مسلم پرسنل لا کا تحفظ، ان سب کا تعلق دستور کی بالادستی اور جمہوری اداروں کی مضبوطی سے ہے۔
عدالتوں سے رجوع کرنا ہمارا دستوری حق ہے، مگر کیا ہر مسئلے کا حل صرف عدالتوں میں تلاش کیا جاسکتا ہے؟ کیا ایک بیدار رائے عامہ، منظم سول سوسائٹی اور پُرامن عوامی احتجاج کے بغیر جمہوری حقوق کا مؤثر تحفظ ممکن ہے؟
آج سوال محض نوجوانوں اور سول سوسائٹی سے مکالمے کا نہیں، بلکہ ملک میں جاری عوامی احتجاج اور مشترکہ جمہوری جدوجہد میں عملی شرکت کے بارے میں واضح فیصلہ کرنے کا ہے۔
یہ بھی سوچنا ہوگا کہ مذہبی آزادی، شہری مساوات اور جمہوری اداروں کے تحفظ کی جدوجہد میں مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں۔ ایسی مشترکہ جدوجہد میں اسلامی اخلاق، حسنِ سلوک، انصاف پسندی اور باہمی احترام کا عملی مظاہرہ دلوں کے فاصلے کم کرنے اور باہمی اعتماد پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
دوسروں سے تعاون حاصل کرنا کوئی عیب یا کمزوری نہیں، بلکہ حکمت و بصیرت کی علامت ہے۔ آپ حضرات سیرتِ نبوی ﷺ سے بخوبی واقف ہیں۔ کیا سیرتِ پاک ﷺ میں ہمارے لیے یہ رہنمائی موجود نہیں کہ جائز اور مشترکہ مقاصد کے لیے غیر مسلموں سے بھی تعاون حاصل کیا جاسکتا ہے؟ پھر آج اپنے دستوری حقوق اور ملک کے جمہوری مستقبل کے تحفظ کے لیے برادرانِ وطن کے ساتھ کھڑے ہونے میں کیا تامل ہونا چاہیے؟
محترم ذمہ دارانِ بورڈ!
آج ملت کے سامنے صرف اپنے حقوق کے تحفظ کا سوال نہیں، بلکہ اس جمہوری نظام کے مستقبل کا سوال بھی ہے جس میں تمام شہریوں کے حقوق محفوظ رہنے چاہییں۔ ایسے فیصلہ کن مرحلے پر کیا بورڈ اپنی موجودہ حکمتِ عملی کا ازسرِنو جائزہ لے گا؟ کیا وہ ملک بھر میں جاری پُرامن عوامی احتجاجات میں مسلمانوں کی مؤثر شرکت کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا؟
ہماری یہ بھی خواہش ہے کہ بورڈ کے ذمہ داران خود ان نوجوانوں کے شانہ بشانہ میدان میں نظر آئیں، جو ملک کے جمہوری مستقبل اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، تاکہ ہمارے برادرانِ وطن کو محسوس ہو کہ اس مشترکہ جدوجہد میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کیا بورڈ کی قیادت اس عملی یکجہتی کا مظاہرہ کرے گی، یا اس کا کردار بیانات اور قراردادوں تک محدود رہے گا؟
ملتِ اسلامیۂ ہند کے ان نوجوانوں کی نگاہیں بھی اپنی قیادت کی طرف اٹھی ہوئی ہیں جو اپنے ہم عمر برادرانِ وطن کے شانہ بشانہ ملک کے جمہوری مستقبل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بورڈ ان کی امنگوں اور اضطراب کو کس طرح دیکھتا ہے؟ کیا انہیں اپنی قیادت اپنے ساتھ کھڑی نظر آئے گی؟
یہ کسی ایک شخص کی فریاد نہیں، ان حالات سے اٹھنے والی وقت کی پکار ہے۔ تاریخ کے بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جب خاموشی بھی ایک فیصلہ بن جاتی ہے، اور اس فیصلے کی قیمت آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
محترم ذمہ دارانِ بورڈ! وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، اور تاریخ کے فیصلہ کن لمحات بار بار نہیں آتے۔
یاد رکھیے!
لمحوں کی خطا نے صدیوں کی سزا پائی!
یہ گزارشات کسی مخالفت کے جذبے سے نہیں، بلکہ ملت کی خیرخواہی اور اصلاح کے احساس سے پیش کی جا رہی ہیں۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ
إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ
والسلام
محمد طلحہ سیدی باپا
9901442543

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔