حضرت مریم اور حضرت عیسی علیہ السلام قرآن کی نظر میں(۳) - از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)


حضرت مریم اور حضرت عیسی علیہ السلام قرآن کی نظر میں(۳) - 
از قلم: ظفر ھاشمی ندوی،  
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)

عیسائوں کی ، حضرت مریم اور حضرت عیسی علیہ السلامُ کے بارے میں نازیبا اور سمجھ سے باہر عقیدوں کے بارے میں مختصر تفصیل پچھلی دو قسطوں میں لکھی جا چکی ہے- 
آج ہم اللہ تعالی کے ان دو برگزیدہ بندوں کے بارے میں قرآن کریم کی زبانی تفصیلات سنتے ہیں -
حضرت مریم کے بارے میں قرآن مجید نے فرمایا : جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے رب میں نے منت مانی ہے کہ میرے پیٹ میں جو بھی ہے وہ پیدا ہونے کے بعد تیری نذر ہوگا اور دنیا کی ہر خدمت سے آزاد - پس تو یہ قبول فرما اور تو ہی سب سے بہتر سننے اور علم رکھنے والا ہے- جب وہ بیٹی پیدا ہو گئی تو کہا اے میرے رب یہ تو بیٹی پیدا ہوئی اور اللہ کو معلوم ہے جو اس نے پیدا کیا اور بیٹا، بیٹی کی طرح نہیں ہوتا ہے-اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے-اور میں اسکے اور اس کی تمام اولاد کے لئے شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتی ہوں - تو اس کے رب نے اسے اچھی طرح ( بیت المقدس کی خدمت کے لئے) قبول کر لیا اور اسے بہترین پرورش دی اور اس کی نگرانی زکریا ( علیہ السلام) نے اپنے ذمہ لی- زکریا جب بھی اس کے حجرہ میں جاتے اس کے پاس روزی (پھل وغیرہ) پاتے - تو پوچھتے یہ سب تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے - مریم کہتی یہ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے- بلا شبہ اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے دے- وہیں زکریا نے اپنے رب سے دعا کی اے میرے رب مجھے بھی اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما- بے شک تو ہی دعا سنتا ہے- ( سورہ آل عمران آیات ٣٥– 38) -
اور جب فرشتوں نے مریم سے کہا اللہ تعالیٰ نے تمہیں چن لیا ہے اور تمہیں پاک کر دیا ہے سارے جہاں کی عورتوں میں ( بغیر باپ کے اولاد) کے لئے تمہارا انتخاب کیا - اے مریم تم اپنے رب کی اطاعت کرواور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو- ( سورہ آل عمران آیت 42 43)-
جب فرشتوں نے مریم سے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اس کے ایک کلمہ ( کن فیکون) کی خوشخبری دیتا ہے اس کا نام مسیح بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں زبردست عزت والا ہوگا اور اللہ کے سب سے مقبول بندوں میں سے ہوگا-وہ لوگوں سے جھولے میں اور ( بعد میں) ادھیڑ عمر میں بھی بات کرے گا-اور وہ صالحین ( انتہائی نیک لوگوں ) میں سے ہوگا- مریم نے کہا اے میرے رب مجھے بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ کسی انسان نے مجھے چھوا تک نہیں ہے- فرشتہ نے کہا اللہ تعالیٰ اسی طرح جو چاھتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرلیتا ہے تو صرف کہتا ہے ہوجا تو وہ بات ہو جاتی ہے- (سورہ آل عمران آیت45 — 47
ان آیات میں اور کسی حدیث میں یوسف نجار کا کہیں ذکر نہیں ہے نہ یہ بیہودہ بات کہ حضرت مریم بغیر شادی کے اپنے منگیتر کے ساتھ لمبے عرصہ تک رہیں نہ یہ کہ یہودیوں کے خوف سے اللہ تعالیٰ نے اس یوسف نجار کو خواب میں دکھایا کہ حضرت مریم اور حضرت عیسی علیہ السلام کو لے کر مصر چلے جاؤ- سب سے اہم بات ان آیات میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ایک کلمہ ( کن فیکون ) کے ذریعہ پیدا فرمایا-
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیجئے کہ اس نے ہم سب مسلمانوں کو ہر اخلاقی بات سکھائی ہے اور ہمارا قرآن توراۃ و انجیل کی طرح کسی بھی تبدیلی سے بالکل پاک ہے -
باقی آئندہ )-

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔