مالیگاؤں اردو گھر: فوت ہوتے مقصد کو تحفظ کی ضرورت - وسیم رضا خان
مالیگاؤں اردو گھر: فوت ہوتے مقصد کو تحفظ کی ضرورت -
وسیم رضا خان
(9370170870)
مالیگاؤں شہر ہمیشہ سے اپنی بھرپور ثقافتی، ادبی اور تعلیمی روایات کے لیے پہچانا جاتا رہا ہے۔ 2014 میں ریاستی حکومت نے مہاراشٹر کے کچھ شہروں میں اردو گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈ مختص کیا تھا جس میں مالیگاؤں بھی شامل تھا.
ریاستی حکومت اور رکن اسمبلی فنڈ سے تقریباً 8 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے ’اردو گھر‘ کی تعمیر کی بنیاد رکھی گئی تھی، تو شہر کے دانشوروں، اساتذہ اور طلبہ میں ایک نئی امید پیدا ہوئی تھی۔ یہ محض اینٹ اور پتھر سے بنی ایک عمارت نہیں تھی، بلکہ اسے اردو زبان کے ایک اعلیٰ درجے کے تحقیقی اور مطالعاتی مرکز کے طور پر تصور کیا گیا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اسے کسی معتبر یونیورسٹی سے منظوری دلوائی جائے گی، جہاں زبان کے ماہرین، محققین اور تجربہ کار اساتذہ کی تقرریاں ہوں گی۔ اس کا مقصد مقامی نوجوانوں اور اسکالرز کو اردو زبان، ادب اور تحقیق کے میدان میں نئے مواقع فراہم کرنا تھا۔ اردو گھر کی تعمیر 2019 میں مکمل کر لی گئی لیکن کورونا کی وجہ سے اس کا باقاعدہ افتتاح 2022 میں کیا گیا. بدقسمتی سے، 4 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ پُرعزم منصوبہ اپنے اصل مقاصد سے کافی دور نظر آتا ہے۔ اردو زبان اور تحقیق کا مرکز بننے کے بجائے یہ عمارت محض ایک ہال یا آڈیٹوریم تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جسے تحصیل انتظامیہ مختلف پروگراموں کے لیے کرائے پر دیتی ہے۔ یونیورسٹی سے رابطہ، مستقل تعلیمی عملے کی بھرتی اور ریسرچ اسکالرز کی رہنمائی کے انتظامات آج تک محض کاغذی کارروائی اور دعوؤں تک محدود رہے ہیں۔
حال ہی میں اردو گھر کے احاطے میں سیاست دانوں کی جانب سے پریس کانفرنس جیسی سرگرمیوں کے انعقاد نے ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ یہ طرزِ عمل اردو گھر کے ادبی اور تعلیمی وقار کے منافی ہے۔ اگر بروقت اس پر روک نہیں لگائی گئی تو یہ ادارہ ایک تعلیمی مرکز بننے کے بجائے سیاسی گروہ بندی اور اجلاسوں کا اڈہ بن کر رہ جائے گا۔ ایسا بھی ہو سکتا کہ مخصوص سیاسی خاندان اسے اپنی ملکیت سمجھنے لگیں اور تعلیم کا یہ مرکز ایک جماعت خانہ بن کر رہ جائے.
کسی بھی زبان کی ترقی کے مرکز یا تحقیقی ادارے کے مؤثر انتظام و انصرام کے لیے قانونی اور انتظامی وضاحت ضروری ہے۔ موجودہ وقت میں ریاستی حکومت کی جانب سے یہاں صرف ایک منتظم تعینات کیا گیا ہے۔
کسی بھی مرکز کو سرکاری تحقیقی ادارے کا درجہ حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور متعلقہ ریاستی یونیورسٹی، مثلاً ساوتری بائی پھلے پونے یونیورسٹی یا ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی، کے قوانین کے تحت الحاق حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کسی بھی لسانی تحقیقی مرکز کا کامیاب کنٹرول اسی وقت ممکن ہے جب وہ ریاستی حکومت کے اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے محکمے یا اقلیتی ترقیاتی محکمے کے براہِ راست کنٹرول اور بجٹ کی فراہمی کے تحت کام کرے۔
اردو گھر کے اصل وجود اور مقصد کا تحفظ صرف حکومت ہی نہیں، بلکہ مالیگاؤں کے اردو زبان کے ماہرین، اساتذہ، صحافیوں، مصنفین اور دانشور شہریوں کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ شہر کا ادبی اور تعلیمی طبقہ متحد ہو کر اس مقصد کے لیے اپنی آواز بلند کرے، تاکہ اس ادارے کو سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اردو گھر کے احاطے میں کسی بھی سیاسی جماعت کی پریس کانفرنس، میٹنگ یا سیاسی پروگراموں کے انعقاد پر فوری طور پر قانونی پابندی عائد کی جائے۔ اس کا استعمال صرف تعلیمی، ادبی اور ثقافتی پروگراموں تک محدود رکھا جائے۔
اردو گھر کا انتظام و کنٹرول حکومتِ مہاراشٹر کے اقلیتی ترقیاتی محکمے یا اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے محکمے یا کسی نجی ادارے کے براہِ راست ماتحت کیا جائے۔ اس مرکز کو ریاست کی کسی معتبر یونیورسٹی سے تحقیقی مرکز کی حیثیت سے فوری منظوری دلوائی جائے۔
طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کی مناسب رہنمائی کے لیے قابل لسانی ماہرین، ریسرچ کوآرڈینیٹرز، لائبریرینز اور تعلیمی عملے کی منظور شدہ آسامیوں کا اشتہار جاری کرکے مستقل تقرریاں کی جائیں۔ ریسرچ اسکالرز کے لیے نایاب کتابوں، قلمی نسخوں، ڈیجیٹل کیٹلاگ اور انٹرنیٹ ریسرچ لیب کا انتظام کیا جائے۔
اگر اردو گھر کو اس کا اصل تعلیمی اور قانونی ڈھانچہ فراہم کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف مالیگاؤں بلکہ پوری ریاستِ مہاراشٹر کے لیے اردو ادب اور تحقیق کے میدان میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے ورنہ وہ دن دور نہیں جب یہاں سیاسی جلسے ہونے لگیں یا ہو سکتا ہے شادیوں کیلئے کرائے پر چڑھایا جانے لگے.
Comments
Post a Comment