علماء ہی حقیقی قائد اور رہنما ہیں، اس حقیقت کو علماء اور عوام دونوں تسلیم کریں: مفتی محمد ہارون ندوی - نفرت کا جواب نفرت سے نہیں، محبت، اتحاد اور امن سے دیا جائے؛ اللہ اور رسولؐ کی تعلیمات پر عمل سے حالات بدل سکتے ہیں: قاری رشید احمد اجمیری - "بُرہانپور میں عظیم الشان جلسۂ عام؛ ملک کے موجودہ حالات، مسلمانوں کی ملی ذمہ داریوں اور علماء کے رہنما کردار پر اہم خطابات



جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کو مایوسی کے بجائے صبر، حوصلے، ایمان اور حکمت کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ نفرت کا مقابلہ نفرت سے نہیں بلکہ محبت، باہمی اتحاد، رواداری اور انسانیت کے جذبے سے کیا جاسکتا ہے۔ علماء کی ذمہ داری صرف امامت اور نماز کی ادائیگی تک محدود نہیں، بلکہ انہیں ملت کی فکری، دینی اور سماجی رہنمائی کے ساتھ معاشرے کی اصلاح کا فریضہ بھی انجام دینا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ملک کے معروف عالمِ دین، سماجی و سیاسی رہنما مفتی محمد ہارون ندوی نے بُرہانپور میں منعقدہ ایک عظیم الشان جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہر کی تاریخی مسجدِ نواب عبدالرحیم، منڈی بازار میں بعد نمازِ عشاء منعقدہ اس جلسے میں ملک کی دو ممتاز دینی شخصیات مفتی محمد ہارون ندوی اور قاری رشید احمد اجمیری کو علماء کی دعوت پر خصوصی مہمان اور مقرر کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا۔ جلسے کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ مفتی محمد ہارون ندوی نے ’’ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر اپنے پراثر اور فکرانگیز خطاب میں کہا کہ آج ملک میں حالات تشویش ناک صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ماب لنچنگ، مساجد و مدارس کو نشانہ بنانے، شریعت میں مداخلت اور معاشرے میں نفرت کا زہر پھیلانے جیسے واقعات امن پسند شہریوں کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ تاہم ان نامساعد حالات میں بھی مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے علماء کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ان کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں مایوسی کے بجائے امید، انتشار کے بجائے اتحاد اور بے چینی کے بجائے صبر و امن کا پیغام عام کریں۔ نفرت کی آگ کو محبت، بھائی چارے اور انسانیت کے جذبے سے بجھانے کی کوشش کریں۔ نعرے اور ردعمل کے بجائے اپنے کردار، اخلاق اور عملی طرزِ عمل سے امن و محبت کی مثال قائم کریں۔
مفتی صاحب نے دوٹوک انداز میں کہا کہ علماء ہی ملت کے حقیقی قائد، رہنما اور فکری رہبر ہیں۔ اس حقیقت کو علماء اور عوام دونوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن ملت کی دینی، فکری اور سماجی رہنمائی کا بنیادی فریضہ علماء ہی کے سپرد ہے۔ ان کی ذمہ داری صرف مسجد میں نماز پڑھانے تک محدود نہیں، بلکہ ملت کی ہر مشکل گھڑی میں رہنمائی، معاشرتی اصلاح اور نئی نسل کی صحیح تربیت بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صبر، حکمت، اتحاد اور مثبت طرزِ عمل کے ذریعے ان شاء اللہ حالات میں بہتری ضرور آئے گی۔
جلسے کے دوسرے مقرر ملک کے معروف قاری رشید احمد اجمیری نے اپنے نصیحت آموز خطاب میں مسلمانوں کو دینی تعلیمات پر عملی زندگی میں عمل پیرا ہونے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ماننے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے احکامات اور تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں بھی نافذ کریں۔ جب ہمارا عمل اللہ اور رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہوگا تو ان شاء اللہ زندگی کے بہت سے مسائل خود بخود آسان ہوجائیں گے۔ انہوں نے نماز کی پابندی، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی اور حسنِ اخلاق کو زندگی کا لازمی حصہ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان کی حقیقی خوب صورتی اس کے کردار اور معاملات سے ظاہر ہوتی ہے۔ اپنے اخلاق و کردار کو اس قدر بلند بنائیں کہ لوگ آپ کی شخصیت اور عمل سے متاثر ہوں۔ اس روح پرور جلسے میں شہر کے ممتاز علماء مفتی رحمت اللہ قاسمی، مولانا سلیم ندوی گنوروی، مفتی انصار صاحب، مولانا عتیق، مولانا شاکر، حافظ عبدالحکیم، مولانا نعیم، مولانا اقبال سمیت دیگر معزز شخصیات اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ آخر میں قاری رشید احمد اجمیری کی دعا اور رہنمائی کے ساتھ یہ بامقصد اور روح پرور جلسہ اختتام پذیر ہوا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔