اردو: ہماری مشترکہ تہذیب کی آواز - از قلم : محمد اظہرملا (ہیڈ ماسٹر، الفت اسکول اتھنی)


اردو: ہماری مشترکہ تہذیب کی آواز - 
 از قلم: محمد اظہرملا
(ہیڈ ماسٹر، الفت اسکول اتھنی)
                     
یہ کہنا کہ اردو صرف مس ماردو زبان صرف ایک قوم یا مذہب کی زبان نہیں ہے۔                     
یہ کہنا کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے، بالکل غلط ہے۔ اردو ہندوستان کی مٹی سے جنمی ہے۔
اردو دلی اور لکھنؤ کے بازاروں میں پیدا ہوئی، اس کو *گنگا جمنی تہذیب* کہا جاتا ہے۔ اس زبان کو ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب نے مل کر بنایا اور سنوارا ہے۔
اگر ہم تاریخ دیکھیں تو:
منشی پریم چند* نے اردو میں افسانے لکھے۔
پنڈت رتن ناتھ سرشار، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی جیسے بڑے ہندو لکھاریوں نے اردو کو زندہ رکھا۔
بھگت کبیر، رحیم، نظیر اکبر آبادی نے اردو کی بنیاد رکھی۔
اردو کسی مذہب کی محتاج نہیں، یہ محبت، تہذیب اور انسانیت کی زبان ہے۔ یہ مندر میں بھی بولی جاتی ہے اور مسجد میں بھی، گوردوارے میں بھی اور چرچ میں بھی۔
اردو سب کی ہے، اردو ہندوستان کی ہے۔
یہ بات بالکل سچ ہے۔ ہم سال میں ایک دن 9 نومبر کو اردو ڈے منا کر، تالیاں بجا کر، تقریریں کر کے اردو کو بھول جاتے ہیں، یہ اردو کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اردو کوئی سالگرہ کا کیک نہیں ہے جو سال میں ایک بار یاد کیا جائے۔ اردو تو ہماری روزمرہ کی سانس ہے۔
ایک دن یاد کرنا کیوں غلط ہے؟
1. زبان روز بولنے سے زندہ رہتی ہے، سال میں ایک دن یاد کرنے سے نہیں۔
2. آج ہمارے بچے اسکول میں اردو لکھنا، پڑھنا چھوڑ رہے ہیں۔ صرف یومِ اردو پر شعر پڑھ لینے سے زبان نہیں بچے گی۔
3. اردو کو نوکری، اسکول، دکان، اور گھر میں جگہ دینی ہوگی۔
یومِ اردو کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ اس دن ہم عہد کریں کہ ہم پورا سال اردو بولیں گے، اردو میں لکھیں گے، اور اپنے بچوں کو اردو سکھائیں گے۔
اردو کو ایک دن کا مہمان نہیں، گھر کا فرد بنانا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔