حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی شہادت - ہر ہندوستانی کے لیے مشعلِ راہ -تحریر: محمد اظہر ملّا
حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی شہادت - ہر ہندوستانی کے لیے مشعلِ راہ -
تحریر: محمد اظہر ملّا
ہیڈ ماسٹر، الفت اردو میڈیم ہائیر پرائمری و ہائی اسکول، اتھنی، ضلع بیلگاوی۔
آزاد ہندوستان کی فضا میں سانس لیتے ہوئے ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ یہ آزادی مفت میں نہیں ملی۔ اس کی بنیادوں میں ہزاروں شہداء کا خون شامل ہے، اور ان شہداء میں سب سے درخشاں نام شیرِ میسور حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ (۱۷۵۱-۱۷۹۹) کا ہے۔
۴ مئی ۱۷۹۹ء کو سری رنگا پٹنہ کے قلعہ پر تاریخ کا ایک ایسا باب رقم ہوا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
جب قلعہ کی دیوار میں شگاف پڑ گیا تو بعض مصلحت پسند سرداروں نے مشورہ دیا کہ حضور انگریزوں سے صلح کر لی جائے۔ اس پر حضرت ٹیپو سلطان نے اپنی مشہور تلوار پر ہاتھ رکھ کر وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:
"شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے"
اور پھر وہ قلعہ کے دروازے پر سب سے آگے کھڑے ہو کر لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
ان کی شہادت کیوں ہر ہندوستانی کے لیے مثال ہے؟
۱۔ انہوں نے سب سے پہلے پہچان لیا تھا کہ انگریز تاجر نہیں بلکہ قبضہ گیر ہے، جبکہ اس وقت بڑے بڑے نواب انگریزوں سے دوستی کر رہے تھے۔
۲۔ انہوں نے دنیا کا پہلا لوہے کے خول والا جنگی راکٹ (Mysore Rocket) ایجاد کیا، جس سے جدید میزائل ٹیکنالوجی کی بنیاد پڑی۔
۳۔ ان کی سلطنت میں مندر اور مسجد دونوں کو یکساں عزت حاصل تھی۔ شرینگیری مٹھ کی دوبارہ تعمیر اس کی بہترین مثال ہے۔
اسی عظیم قربانی کے اعتراف کے طور پر ہمارے آئین سازوں نے *بھارت کے آئین کی اصل کتاب کے حصہ XVI میں رانی جھانسی کے ساتھ حضرت ٹیپو سلطان کی تصویر کو جگہ دی ہے۔*
اج ضرورت ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو ٹیپو سلطان کی تاریخ کو ایک سچے ہندوستانی کے طور پر پڑھائیں۔
شیر کبھی مرا نہیں کرتے، وہ تاریخ بن جایا کرتے ہیں۔
تاریخِ ہند میں ایسی مثال ملنا مشکل ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنی سلطنت بچانے کے بجائے غلامی کو ٹھوکر مار دی ہو اور اپنے ہی جگر کے ٹکڑوں کو گروی رکھ دیا ہو۔
۱۷۹۲ء کا وہ المناک معاہدہ:* تیسری میسور جنگ کے بعد انگریز جنرل کارن والس نے ٹیپو سلطان پر ظالمانہ شرائط تھوپیں - آدھی سلطنت چھین لی اور تین کروڑ روپے تاوان مانگا۔ روپے نہ ہونے پر انگریزوں نے کہا، "اپنے دو بیٹوں کو ہمارے پاس گروی رکھو۔"
ٹیپو سلطان چاہتے تو جھک جاتے، پوری سلطنت انگریزوں کے حوالے کر دیتے۔ مگر انہوں نے اپنے دو معصوم شہزادوں، *شہزادہ معین الدین (۱۰ سال) اور شہزادہ عبد الخالق (۸ سال)* کو انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ وہ منظر دیکھ کر خود انگریز افسر بھی رو پڑے تھے۔ ایک باپ نے اپنے بچوں کو گروی رکھنا قبول کیا، مگر انگریز کی غلامی قبول نہیں کی۔
یہی جذبہ ۴ مئی ۱۷۹۹ء کو پھر نظر آیا جب انہوں نے فرمایا: *"شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے"* اور قلعہ کے دروازے پر شہید ہو گئے۔
اور آج بھی زندہ ہے وہ شیر:
کیا آپ جانتے ہیں کہ *نیتا جی سبھاش چندر بوس نے جب آزاد ہند فوج بنائی، تو اس کا نشان کیا رکھا؟
"اچھلتا ہوا شیر (Leaping Tiger)"
یہ کوئی نیا نشان نہیں تھا۔ یہ حضرت ٹیپو سلطان ہی کا ذاتی نشان تھا، جو ان کے جھنڈے اور تلوار پر بنا ہوتا تھا۔ نیتا جی نے کہا تھا - "ہندوستان کو آزاد کرانے کا جو خواب ٹیپو نے دیکھا تھا، اسی خواب کو ہم پورا کریں گے۔ اس لیے فوج کا نشان بھی اسی شیر کا ہوگا۔"
آج بھی آزاد ہند فوج کے میوزیم میں ٹیپو سلطان کے اسی شیر کے نشان کی ٹوپی رکھی ہوئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بھارت کے آئین سازوں نے آئین کی اصل کتاب میں* ان کی تصویر کو جگہ دی۔ایک ایسا حکمران جس نے اپنے بچوں کو گروی رکھ دیا مگر ملک کو نہیں بیچا، جس کا نشان آج بھی ہندوستان کی فوجی تاریخ میں زندہ ہے، کیا وہ ہر ہندوستانی کے لیے مثال نہیں ہے؟
Comments
Post a Comment