بیوہ ماں اور بچوں کی تعلیم — تحریر: خان اسماء رئیس خان ، بیڑ



بیوہ ماں اور بچوں کی تعلیم — 
تحریر: خان اسماء رئیس خان :بیڑ

 اسلام رشتے داروں اور معاشرے کی ذمہ داری
خوش نصیب وہ نہیں جس کی اللہ کے بندے مدد کریں، بلکہ اصل خوش نصیب تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کے قابل بنایا اور اسے کسی کے لیے مدد کا ذریعہ بنا دیا۔
جب کسی گھر سے شوہر کا سایہ اٹھ جاتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں جاتا، بلکہ پورے گھر کی زندگی بدل جاتی ہے۔ شروع کے دنوں میں رشتہ دار، دوست اور جاننے والے غم میں شریک ہوتے ہیں۔ سب کو درد محسوس ہوتا ہے، سب حوصلہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "ہم آپ کے ساتھ ہیں، بچوں کی تعلیم میں مدد کریں گے، کسی چیز کی ضرورت ہو تو ہمیں بتانا۔"
لیکن افسوس کہ کبھی کبھی چند ماہ بھی نہیں گزرتے کہ حالات بدلنے لگتے ہیں۔ جو لوگ شروع میں بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگتے ہیں۔ فون کم ہو جاتے ہیں، حال پوچھنا کم ہو جاتا ہے اور مدد کے وعدے بھی صرف وعدے بن کر رہ جاتے ہیں۔ پھر ایک ماں اپنے بچوں کے مستقبل، فیس، کتابوں اور گھر کے اخراجات کی فکر میں تنہا رہ جاتی ہے۔
یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کسی مصیبت زدہ انسان کی مدد کرنا اس پر احسان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا ہوا ایک موقع ہے۔ جس شخص کو اللہ نے مال، روزگار اور استطاعت دی ہے، وہ دراصل کسی ضرورت مند کے لیے اللہ کی طرف سے ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔
اسلام نے بیوہ، یتیم اور ضرورت مند افراد کی مدد کرنے کی بہت تاکید کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بیوہ اور مسکین کی کفالت اور مدد کرنے والے کے لیے عظیم اجر بیان فرمایا ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی یتیموں اور محتاجوں کے حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔
مدد صرف رشتہ داروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پڑوسی اور پورا معاشرہ بھی اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مند خاندان کا سہارا بن سکتا ہے۔ اگر کسی کے پڑوس میں ایک بیوہ ماں اپنے بچوں کی تعلیم اور گھر کے اخراجات کے لیے پریشان ہے تو اس کی خبر گیری کرنا، بچوں کی تعلیم میں تعاون کرنا اور ضرورت کے وقت اس کا ساتھ دینا ایک عظیم انسانی اور اسلامی عمل ہے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس خاندان کے پاس بہت سے رشتہ دار ہوتے ہیں، مشکل وقت میں سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ شاید کوئی دوسرا مدد کر دے گا۔ لیکن ضرورت مند ماں کے لیے یہ انتظار بہت مشکل ہوتا ہے۔
دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو خود بہت زیادہ مالدار نہیں ہوتے، لیکن اپنی استطاعت کے مطابق مسلسل مدد کرتے رہتے ہیں۔ کوئی فیس ادا کرتا ہے، کوئی کتابیں دیتا ہے، کوئی راشن پہنچاتا ہے اور کوئی صرف حوصلہ دے کر ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ یہی لوگ دراصل معاشرے میں انسانیت کو زندہ رکھتے ہیں۔
رشتہ داری صرف خوشی میں شریک ہونے کا نام نہیں۔ اصل رشتہ داری تو اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب گھر پر مشکل وقت آئے اور انسان دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر اس کا ہاتھ تھامے۔
اور جو لوگ کسی ضرورت مند کے لیے مدد کا ذریعہ بنتے ہیں، انہیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ "ہم نے اس کی مدد کی ہے۔" بلکہ شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس قابل سمجھا کہ ہم کسی پریشان حال انسان کے کام آ سکیں۔
کسی بچے کی فیس ادا کرنا، اس کی کتابیں خریدنا یا اس کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد کرنا صرف آج کی ضرورت پوری کرنا نہیں، بلکہ اس کے مستقبل کو سنوارنے میں حصہ لینا ہے۔ ممکن ہے آج جس بچے کی مدد کی جا رہی ہے، کل وہی تعلیم حاصل کرکے اپنے خاندان اور معاشرے کا سہارا بن جائے۔
رشتہ دار بڑے گھر کے ہوں یا چھوٹے، اصل بڑائی دولت اور گھر کی شان میں نہیں، بلکہ مشکل وقت میں کسی کے کام آنے میں ہے۔
آئیے ایسا معاشرہ بنائیں جہاں بیوہ ماں خود کو تنہا محسوس نہ کرے، جہاں بچوں کی تعلیم صرف مالی مشکلات کی وجہ سے نہ رکے، جہاں رشتہ دار وعدہ کرکے پیچھے نہ ہٹیں، جہاں پڑوسی اپنے پڑوسی کے دکھ کو سمجھیں اور جہاں صاحبِ استطاعت لوگ ضرورت مندوں کے لیے اللہ کی طرف سے بنائے گئے اپنے کردار کو پہچانیں۔
کیونکہ کبھی ہم کسی کی مدد نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیں کسی کی مدد کرنے کا شرف عطا فرماتا ہے۔ اصل خوش نصیبی اسی کی ہے جسے اللہ کسی کے لیے سہارا بننے کا ذریعہ بنا دے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔