ایک ملک، ایک آئین اور انصاف کے دو مختلف پیمانے: بھارتی عدلیہ کے گرتے معیار کا المیہ - ازقلم: اسماء جبین فلک
ایک ملک، ایک آئین اور انصاف کے دو مختلف پیمانے: بھارتی عدلیہ کے گرتے معیار کا المیہ -
ازقلم: اسماء جبین فلک
انصاف کا سب سے سنگین بحران وہ ہے جس میں سزا سنانے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے؛ الزام لگے، ضمانت مسترد ہو، مقدمہ آگے نہ بڑھے اور انسان کی زندگی جیل میں گزرتی رہے۔ ایسے نظام میں بے گناہی کا مفروضہ قانونی کتابوں میں محفوظ رہتا ہے، مگر قیدی کی زندگی میں اس کا کوئی عملی سہارا نہیں ہوتا۔ عمر خالد کی چھ برس سے زائد عرصے پر محیط حراست بھارتی عدلیہ کے سامنے اسی بحران کی ایک نمایاں مثال ہے۔ سوال ان کے حق میں جذباتی ہمدردی کا نہیں، بلکہ ریاست اور عدالت کی اس ذمہ داری کا ہے جس کے تحت الزام کو بروقت ثبوت کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔
سوتنتر بھاردواج کی ضمانت اور رام رحیم کی بار بار پیرول پر رہائی کے تناظر میں یہ سوال مزید شدت اختیار کر جاتا ہے۔ قانونی دفعات کا فرق اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ جرم ثابت ہوئے بغیر ایک شخص کی زندگی کے برس قید میں کیوں گزر رہے ہیں۔ ریاست سخت قانون کے تحت حراست برقرار رکھنے کا اختیار استعمال کرتی ہے تو مقدمہ بروقت چلانے کی ذمہ داری بھی اسی کی ہے۔ عدالت قید کی اجازت دے تو اسے سماعت کی پیش رفت یقینی بنانی ہوگی۔ اس ذمہ داری سے مسلسل گریز عدالتی عمل کو ایسی سزا میں بدل دیتا ہے جس کے لیے جرم ثابت کرنا ضروری نہیں رہتا۔
بھاردواج کے معاملے میں دہلی کی عدالت نے ۱۵ ستمبر ۲۰۲۶ء کو تین ہفتوں کی عبوری ضمانت دی اور ۶ اکتوبر کو باقاعدہ ضمانت منظور کر دی۔ مقدمہ جنتر منتر پر ۲۳ جون کے احتجاج کے دوران سنجے آزاد پر مبینہ حملے سے متعلق ہے۔ عدالت نے اس بات کو اہم سمجھا کہ عبوری ضمانت کی شرائط کی کوئی خلاف ورزی سامنے نہیں آئی۔ حراست میں تفتیش مکمل ہونے اور متعلقہ جرائم کی زیادہ سے زیادہ سزا سات سال ہونے کو بھی پہلے حکم میں اہمیت دی گئی تھی۔ اس فیصلے میں شخصی آزادی کی اہمیت تسلیم کی گئی؛ یہی آئینی حساسیت طویل حراست کے دوسرے معاملات میں بھی عملی اظہار چاہتی ہے۔
اس مقدمے میں پوڈکاسٹ (Podcast) سے متعلق مواد پر عدالت کا ابتدائی مشاہدہ خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ عدالتی حکم کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق، اس مواد میں ندامت کے بجائے واقعے پر فخر کا رجحان محسوس کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی سمجھا کہ حملے کی آن لائن تشہیر متاثرین اور گواہوں کو خوف زدہ کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی فیصلے میں اصل ریکارڈنگ، برقی شواہد کی تصدیق اور دیگر ضروری اقدامات کے حوالے سے تفتیش کی خامیاں بھی سامنے آئیں۔ یہاں پولیس کی جواب دہی کا سوال ناگزیر ہے: اتنے نمایاں معاملے میں بنیادی شواہد جمع کرنے کا کام نامکمل کیوں تھا؟
ناقص تفتیش کو معمول کا انتظامی مسئلہ سمجھنا انصاف کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس کا نقصان متاثرہ خاندان اٹھاتا ہے، مقدمے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور عدالت کے سامنے قابلِ اعتماد مواد کم پڑ جاتا ہے۔ ضمانت کی شرائط گواہوں کے تحفظ کی ذمہ داری ختم نہیں کرتیں۔ پولیس کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ متاثرہ خاندان محفوظ ہے، دھمکیوں کی شکایات کی مؤثر تحقیق ہوئی ہے اور ضروری شواہد محفوظ کیے گئے ہیں۔ عدالتی اعتماد محض ملزم کے طرزِ عمل تک محدود نہ رہے؛ ریاستی اداروں سے بھی ان کی ذمہ داریوں کا حساب لیا جائے۔
عمر خالد ستمبر ۲۰۲۰ء میں گرفتار ہوئے تھے۔ ان پر فروری ۲۰۲۰ء کے دہلی تشدد کی بڑی سازش میں شرکت کا الزام ہے، جسے وہ مسترد کرتے ہیں۔ ضمانت اور دیگر قانونی معاملات کی سماعتیں ہوتی رہی ہیں، مگر ستمبر ۲۰۲۶ء تک دستیاب رپورٹوں کے مطابق فردِ جرم بھی عائد نہیں ہوئی تھی۔ یہ فرق بنیادی ہے: عدالت میں درخواستوں کی سماعت، جرم ثابت کرنے کے لیے شہادتوں کی جانچ کا قائم مقام نہیں۔ چھ برس بعد بھی الزام کی مکمل عدالتی جانچ باقی رہنا نظام کی کارکردگی پر ایک سخت سوال ہے، جسے مقدمے کی پیچیدگی کا حوالہ دے کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
خالد کو مختصر عبوری ضمانت بھی ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے والدہ کے آپریشن کے پیشِ نظر یکم سے ۳ جون ۲۰۲۶ء تک تین دن کی رہائی منظور کی تھی۔ یہ حقیقت درج کرنا ضروری ہے، مگر انسانی ہمدردی کی چند روزہ رعایت مستقل ضمانت اور بروقت مقدمے کے سوال کا جواب نہیں۔ ایک شخص خاندان کی طبی ضرورت پر گھر آ سکے، پھر اسی غیر فیصل شدہ مقدمے میں واپس جیل چلا جائے، تو اصل مسئلہ برقرار رہتا ہے۔ انسانی زندگی کو مختصر رعایتوں کے درمیان طویل انتظار میں رکھنا آزادی کے مؤثر تحفظ کا متبادل نہیں۔
سپریم کورٹ نے ۵ جنوری ۲۰۲۶ء کو گل فشاں فاطمہ کے مقدمے میں پانچ ملزمان کو ضمانت دی، جبکہ خالد اور شرجیل امام کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے استغاثہ کے ابتدائی مواد کی بنیاد پر ان دونوں سے منسوب منصوبہ بندی اور تنظیمی کردار کو زیادہ مرکزی سمجھا۔ یہ رائے ضمانت کے مرحلے پر قائم ہوئی تھی؛ جرم کا حتمی فیصلہ نہیں تھی۔ استغاثہ کے الزامات کو مکمل مقدمے میں پرکھنا ابھی باقی ہے۔ اسی لیے سنگین الزام بروقت سماعت کی ضرورت بڑھاتا ہے۔ وہ ریاست کو ثبوت پیش کرنے اور گواہوں کے بیانات کی جانچ کرانے کی ذمہ داری سے آزاد نہیں کر سکتا۔
غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (Unlawful Activities (Prevention) Act—UAPA) کی دفعہ ۴۳ ڈی(۵) اس مسئلے کا قانونی مرکز ہے۔ اگر ابواب چہارم اور ششم کے تحت عائد الزامات کو بادی النظر میں درست سمجھنے کے معقول اسباب موجود ہوں تو یہ دفعہ ضمانت پر سخت پابندی عائد کرتی ہے۔ اس کے تحت ضمانت مکمل طور پر ناممکن نہیں، مگر آزادی کا راستہ دشوار ہو جاتا ہے۔ خطرہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ابتدائی مواد قید برقرار رکھنے کے لیے کافی ہو، لیکن اسی مواد کی مکمل جانچ مسلسل مؤخر رہے۔ اس صورت میں الزام کی عبوری حیثیت قید کا جواز بنتی رہتی ہے اور ملزم کے حقِ دفاع کا عملی فائدہ پیچھے رہ جاتا ہے۔
اس خطرے کے خلاف خود سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کے اے نجیب کے مقدمے میں ۲۰۲۱ء میں اصول واضح کیا تھا: غیر معمولی تاخیر اور طویل حراست کے حالات میں آئینی عدالتیں سخت قانونی پابندیوں کے باوجود ضمانت دے سکتی ہیں۔ یہ اصول آزادی کو محض قانون کی رعایت سمجھنے سے انکار کرتا ہے۔ ریاست اگر مقدمہ مناسب وقت میں مکمل نہیں کر سکتی تو اس ناکامی کی پوری قیمت غیر سزا یافتہ شخص سے وصول نہیں ہونی چاہیے۔ عدالت کا آئینی کردار اسی موقع پر نمایاں ہوتا ہے؛ جب قانون کی سختی شہری کی آزادی نگلنے لگے تو عدالت کو اس کی مؤثر حد مقرر کرنی ہوتی ہے۔
۱۸ مئی ۲۰۲۶ء کو سید افتخار اندرابی کے مقدمے میں دیے گئے فیصلے نے اس بحث کو مزید گہرا کیا۔ سپریم کورٹ کے ایک دوسرے بنچ نے گل فشاں فاطمہ کے مقدمے میں دیے گئے فیصلے کے بعض پہلوؤں پر سنجیدہ تحفظات ظاہر کیے، خصوصاً دو درخواست گزاروں پر دوبارہ ضمانت مانگنے کی ایک سالہ پابندی اور نجیب فیصلے کی محدود تعبیر پر۔ اس سے واضح ہے کہ طویل حراست کے خلاف اعتراض خود عدلیہ کے اندر بھی مضبوط قانونی بنیاد رکھتا ہے۔ ۲۲ مئی کے ایک مزید حکم میں مساوی حیثیت کے بنچوں کا اختلاف عدالتی نظائر کے اصولوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت بیان کی گئی۔ یہ اختلاف خالد کی رہائی کا خودکار حکم نہیں بنا، مگر آزادی کے تحفظ کے معاملے میں غیر یقینی صورتِ حال کی سنگینی ضرور سامنے لایا۔
۳۰ ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے خالد اور امام کی نئی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی مقرر کردہ شرائط کی پابندی ضروری سمجھی۔ محفوظ گواہوں کے بیانات مکمل ہونے یا ۵ جنوری ۲۰۲۷ء آنے پر، جو بھی پہلے ہو، دوبارہ درخواست دینے کا راستہ مقرر تھا۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ فردِ جرم کے تعین سے متعلق دلائل ۱۳ جولائی کو مکمل ہو گئے تھے اور دستاویزات تک رسائی کے تنازع پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار تھا۔ عدالت نے زیرِ بحث تاخیر کو استغاثہ سے منسوب نہیں کیا۔ لیکن موجودہ وقفے کی وضاحت چھ سالہ حراست کے مجموعی جواز کا جواب نہیں۔
دفاع کے لیے دستاویزات طلب کرنا منصفانہ سماعت کا حصہ ہے۔ اس حق پر اختلاف ہو تو عدالتی نظام کو اسے فوری حل کرنا چاہیے۔ ملزم سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ مقدمہ تیز کرنے کے لیے اپنے دفاع کی ضرورت ترک کر دے۔ اسی طرح گواہوں کے تحفظ کی ضرورت ہو تو ریاست مؤثر حفاظتی انتظام کرے اور عدالت بیانات کے لیے قابلِ عمل مدت مقرر کرے۔ ہر مرحلے کی مشکل کا حل مزید قید بن جائے تو انتظامی ناکامی اور قانونی پیچیدگی، دونوں کا بوجھ صرف ایک شخص کی آزادی پر پڑتا ہے۔
رام رحیم کے معاملے میں دو خواتین سے جنسی زیادتی کے جرم میں بیس برس کی سزا کے باوجود مئی ۲۰۲۶ء میں تیس دن کی پیرول دی گئی؛ جنوری میں چالیس دن کی پیرول ملی تھی۔ پیرول (Parole) متعلقہ انتظامی اختیار کے تحت عارضی رہائی ہے۔ اس لیے حکومت اور جیل انتظامیہ کی جواب دہی کو بھی اس بحث میں شامل کرنا ضروری ہے۔ بار بار رہائی کے اس ریکارڈ کے سامنے سوال اٹھتا ہے کہ انسانی رعایتوں کے معیار کتنے شفاف ہیں اور عام قیدی ان تک کس حد تک رسائی رکھتے ہیں۔ سزا یافتہ شخص کے لیے رعایت کی گنجائش ہو تو غیر سزا یافتہ شخص کی آزادی کا تحفظ کم اہم کیسے ہو سکتا ہے؟
یہ بحث کسی دوسرے شخص کو زیادہ عرصہ جیل میں رکھنے کا مطالبہ نہیں کرتی۔ اس کا مقصد آزادی کو سب کے لیے مؤثر حق بنانا ہے۔ دہلی تشدد کے متاثرین بھی بروقت انصاف چاہتے ہیں؛ برسوں کا التوا انہیں اپنے زخموں کا عدالتی جواب پانے سے محروم رکھتا ہے۔ مؤثر تفتیش، محفوظ گواہی اور مسلسل سماعت ملزم اور متاثرین، دونوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ عدلیہ کی ساکھ اسی وقت مضبوط ہوگی جب ضمانت مسترد کرنے کے ساتھ مقدمہ آگے بڑھانے کی عملی ذمہ داری بھی پوری کی جائے۔
ایک ملک اور ایک آئین کا وعدہ عدالتوں کے دروازوں پر ختم نہیں ہو سکتا۔ حراست میں ہر اضافی توسیع کے لیے تازہ اور مخصوص جواز طلب کیا جائے، مقدمے کا قابلِ عمل نظام الاوقات مقرر ہو اور پیش رفت نہ ہونے پر ضمانت کا مؤثر جائزہ لیا جائے۔ آزادی کے تحفظ سے متعلق عدالتی اختلاف بھی فوری ادارہ جاتی توجہ چاہتا ہے۔ ریاست کو جرم ثابت کرنے اور عدالت کو سزا دینے کا اختیار حاصل ہے؛ شہری کی زندگی کو غیر معینہ انتظار میں رکھنا ان اختیارات کا قابلِ قبول متبادل نہیں۔ انصاف کے دو پیمانوں کا تاثر لفظوں سے ختم نہیں ہوگا۔ اسے ختم کرنے کے لیے عدالت کو ثابت کرنا ہوگا کہ ہر شہری کی آزادی واقعی ایک ہی آئینی قدر رکھتی ہے۔
Comments
Post a Comment