غیر المغضوب علیھم کیا ہے؟ - از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ
غیر المغضوب علیھم کیا ہے؟
از قلم: ظفر ھاشمی ندوی،
سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ
ہر نہیں صرف جو مسلمان پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں وہ ہر چوبیس گھنٹوں میں 32 مرتبہ سورۂ فاتحہ میں ان الفاظ کو دہراتے ہیں مگر طوطے کی طرح - یعنی آواز ان الفاظ کو پڑھنے کی نکالتے ہیں اور زندگی بھر ان قیمتی الفاظ کا معنی مطلب نہیں سمجھتے ہیں اور نتیجہ میں وہی سب کچھ کر رہے ہیں جن سے منع کیا گیا ہے-
سورہ فاتحہ میں تین طرح کی قوموں یا گروپ کا ذکر کیا گیا ہے-
پہلا وہ گروپ ہر دور کا جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت کے آنے تک کا اس راستہ پر چلا، یعنی اس کلچر اور تہذیب پر چلا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں سب سے بڑا انعام دیا- انعام کا لفظ سنتے ہی ہمارے دماغوں میں دنیا کا مال و دولت اور دنیا کی عزت و شہرت کا خیال آجاتا ہے جبکہ جس اللہ نے اس دنیا کو بنائی اس نے سب سے بڑا انعام جنت کو بتایا ہے اور سب سے بڑی سزا جھنم کو بتائی ہے- جنت کو جیتنے والے اس عظیم گروپ کو سمجھنے کے لیے ہی اگلے دو جھنمی گروپ یعنی غیر المغضوب علیہم اور ولا الضالین کو سمجھنے کی سخت ضرورت ہے- اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انعامی گروپ کے ذکر کے فورا بعد فرمایا کہ اے اللہ ہمیں ان لوگوں کے راستہ پر چلنے سے بچا لے جن پر تیرا غصہ نازل ہو چکا اور نہ ہی ان لوگوں کے راستہ پر چلا جو خود گمراہ ہو گئے- فردی زبان کہتی ہے :
ہیرے کہ خود گم ست کجا رہبری کند
جو پیر خود گمراہ ہو جائے وہ دوسروں کی کیا رہبری اور رہنمائی کرے گا-
بہر حال تمام مفسرین نے صحیح کہا ہے کہ غیر المغضوب علیھم سے مراد یہودی ہیں اور ولا الضالین سے مراد عیسائی ہیں-
یہ بتائیے کہ اسی سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں فرمایا کہ وہ بے حد مہربان اور رحم کرتا ہے تو یہودیوں نے آخر ایسا کیا کیا کہ اتنا رحمان اور رحیم ان سے آخری درجہ میں ناراض ہو گیا اور قیامت تک باقی رہنے والی کتاب میں فرمادیا کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں سے سخت ناراض ہوگیاہے اتنا کہ جو ان لوگوں کے راستہ پر چلےگا ان پر بھی اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہو جائے گا اتنا کہ اپنے سب سے بڑے انعام سے محروم کر دے گا-
یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کے اتنے سخت غضب و غصہ کے اسباب سمجھنے سے پہلے یہ بات نہ بھولیے کہ کسی شخص یا فرد کے کافر ہونے یا متقی ہوجانے سے کسی دوسرے مسلمان کا آخرت میں نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ نقصان- قرآن مجید میں صاف صاف بتا دیا ہے من عمل صالحا فلنفسہ و من اساء فعلیھا جو شخص کوئی نیک کام کرے گا تو اس میں اسی کا فائدہ ہے اور جو برا کام کرے گا تو اس کی سزا اسی کو ملے گی-
یہودیوں کی انتہائی بدتر عادتیں یہ تھیں:
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت میں کسی کو شریک ٹھرانا جیسے حضرت موسیٰ سے ان کا مطالبہ اجعل لنا الھا کما لھم آلھۃ بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کو دیکھ کر حضرت موسیٰ سے کہا ہمارے لئے بھی ایسا معبود بنا دو جیسے ان کے پاس ہیں - دوسری جگہ قرآن نے بتایا اتخذوا احبارھم و رھبانھم اربابا من دون اللہ ان لوگوں نے اپنے علماء اور راھبوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا-
Comments
Post a Comment