ابھی وقت نہیں ہے - ازقلم : مشتاق احمد ساقی تماپور
ابھی وقت نہیں ہے -
ازقلم : مشتاق احمد ساقی تماپور
وہ بستر پر خاموش لیٹی تھی۔
کمرے میں دوا کی ہلکی سی بو تھی، کھڑکی کے پردے نیم وا تھے اور شام کی مدھم روشنی اس کے چہرے پر یوں ٹھہری ہوئی تھی جیسے وقت نے آخری بار اسے دیکھنے کے لیے قدم روک لیے ہوں۔
میں دروازے کے پاس چند لمحے کھڑا رہا۔
پھر میری نظر اس کے چہرے پر پڑی۔
ایک لمحے کے لیے مجھے لگا، میں نے اسے پہچان لیا ہے۔
لیکن اگلے ہی لمحے دل نے انکار کر دیا۔
یہ وہ نہیں ہو سکتی۔
وہ لڑکی کہاں، جس کے گزرنے سے اسکول کی راہداریوں میں جیسے بہار آ جاتی تھی؟ جس کے چہرے کی کشش صرف لڑکوں ہی نہیں، لڑکیوں کی گفتگو کا بھی موضوع ہوا کرتی تھی؟ وہ جسے دیکھنے کے لیے اسمبلی کے بعد بھی کئی آنکھیں بے اختیار اس طرف اٹھ جاتی تھیں؟
وہ ہمارے اسکول کا مرکز تھی۔
اور میں...
میں اس کا ہم جماعت تھا۔
ہم ایک ہی جماعت میں پڑھتے تھے۔ اُس عمر میں ہمیں زندگی کی حقیقتوں کا کیا علم تھا؟ ہمارے لیے کتابیں، امتحان، چھٹی کی گھنٹی اور اگلے دن کا ہوم ورک ہی دنیا تھا۔
مگر وقت اُس وقت بھی اپنا کام کر رہا تھا۔
اس کے گھر میں کہا گیا کہ ابھی شادی کی عمر نہیں۔
پڑھے گی۔
اعلیٰ تعلیم حاصل کرے گی۔
اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگی۔
رشتے آتے رہے، مگر ٹلتے رہے۔
پھر ایک دن ہم سب اپنی اپنی راہوں پر نکل گئے۔
میرے کئی ہم جماعتوں کی شادی کم عمری ہی میں ہو گئی۔ وہ اپنے گھروں کے ہو گئے، نئی ذمہ داریوں میں داخل ہو گئے، نئے رشتے بناتے گئے۔ کچھ نے بچوں کو اسکول جاتے دیکھا، کچھ نے اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کر زندگی کے پہلے قدم اٹھائے۔
اور وہ؟
وہ پڑھتی رہی۔
ڈگریاں بڑھتی گئیں۔
عمر بھی۔
پھر ایک وقت آیا جب آئینے نے اس سے وہ سب کہنا شروع کیا جسے سننے کے لیے کوئی انسان تیار نہیں ہوتا۔
چہرے کی رونق مدھم پڑ گئی۔
بالوں میں سفیدی اتر آئی۔
آنکھوں کے گرد تھکن کے دائرے بن گئے۔
اور رشتے...
رشتے شاید وقت کے ساتھ کہیں اور چلے گئے تھے۔
میں نے آہستہ سے اس کا نام پکارا۔
اس نے آنکھیں کھولیں۔
چند لمحوں تک مجھے دیکھتی رہی۔
پھر بہت مدھم سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی۔
"تم...؟"
میں نے سر ہلایا۔
"ہاں۔"
اس نے غور سے مجھے دیکھا۔
"تمہیں پہچاننے میں وقت لگا۔"
میں ہنسنا چاہتا تھا، مگر ہنس نہ سکا۔
میں نے کہا:
"مجھے بھی۔"
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
وہ میری طرف دیکھتی رہی۔
پھر بولی:
"ہم دونوں ایک ہی جماعت میں تھے نا؟"
"ہاں۔"
"مجھے یاد ہے... تم ہمیشہ آخری بینچ پر بیٹھتے تھے۔"
میں نے مسکرا کر کہا:
"اور تم ہمیشہ سب کی نظروں کے سامنے رہتی تھیں۔"
اس بار اس کی مسکراہٹ ذرا دیر ٹھہری۔
پھر اس نے نظریں جھکا لیں۔
"وقت بہت تیز گزرتا ہے..."
میں نے پہلی بار اس کے کمزور ہاتھوں کو دیکھا۔
وہ ہاتھ جو کبھی کتابیں تھاما کرتے تھے، آج بستر کی چادر کو سہارا دے رہے تھے۔
وہ جسے کبھی کسی سہارے کی ضرورت نہیں تھی، آج کروٹ بدلنے کے لیے بھی کسی کی محتاج تھی۔
میرے دل میں اچانک ایک سوال اٹھا:
کیا ہم نے اسے بہت کچھ دینے کے چکر میں، اس کی زندگی سے وہ سب چھین تو نہیں لیا جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی؟
ہم اکثر کہتے ہیں:
"ہم اپنی اولاد کو سب کچھ دیں گے۔"
اچھی تعلیم۔
اچھا گھر۔
اچھی نوکری۔
بہتر مستقبل۔
مگر زندگی صرف ان چیزوں کا نام تو نہیں۔
زندگی میں ایک ہم سفر بھی ہوتا ہے۔
ایک ایسا ہاتھ بھی ہوتا ہے جو بیماری میں پیشانی چھوئے۔
ایک آواز بھی ہوتی ہے جو تنہائی میں نام لے کر پکارے۔
ایک گھر بھی ہوتا ہے جس میں انسان کی ضرورت صرف اس کی ڈگری نہیں، اس کی موجودگی ہوتی ہے۔
وہ خاموش لیٹی رہی۔
میں اس کے پاس بیٹھا رہا۔
ہم دونوں کے درمیان کئی دہائیاں بیٹھی تھیں۔
اچانک اس نے پوچھا:
"سب کی شادیاں ہو گئی تھیں نا؟"
میں نے کہا:
"ہاں۔"
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر بہت آہستہ سے بولی:
"سب کے بچے بھی تھے؟"
"ہاں۔"
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
میں نہیں جانتا اُس لمحے اس نے کیا دیکھا۔
شاید کوئی گھر...
شاید کوئی بچہ...
شاید ایک ایسا شخص جو کبھی اس کے پاس بیٹھ کر کہتا:
"تم تھک گئی ہو، آرام کر لو، میں دیکھ لیتا ہوں۔"
میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
وہ بہت ٹھنڈا تھا۔
اور میرے دل میں ایک بات ہمیشہ کے لیے اتر گئی:
اولاد کے لیے مستقبل بناتے ہوئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ان کا حال ہی ان سے چھین لیں۔
شادی صرف عمر پوری ہونے کا نام نہیں، اور نہ ہی تعلیم شادی کی دشمن ہے۔
مگر جب اولاد بالغ ہو جائے، ذمہ داری سمجھنے کے قابل ہو جائے، اور مناسب رشتہ موجود ہو، تو صرف اس خیال سے کہ "ابھی اور پڑھ لے"، "ابھی اور کما لے"، "ابھی کچھ اور حاصل کر لے"—زندگی کے ضروری رشتوں کو مسلسل مؤخر کرتے رہنا بھی دانش مندی نہیں۔
کیونکہ والدین اپنی اولاد کو بہت کچھ دے سکتے ہیں۔
مگر ایک شریکِ حیات کی جگہ نہیں دے سکتے۔
اور کچھ خالی جگہیں ایسی ہوتی ہیں...
جنہیں عمر بھر کی تعلیم بھی نہیں بھر سکتی۔
--------------------
© مشتاق احمد ساقی تماپور
Comments
Post a Comment