غزل - میرؔبیدری، کرناٹک
غزل -
میرؔبیدری، کرناٹک۔
موبائل:9845628595
ہم کو بہلانے کی نیت ہے
جنگل کھاجانے کی نیت ہے
میرؔسنبھل جانے کی نیت ہے
ساتھ میں مسکانے کی نیت ہے
اس کوکھڑے رہنابھی پسند نہیں
بیٹھ کے کچھ گانے کی نیت ہے
آنسو اُس کے بتاتے ہیں مجھ کو
قبرمیں سوجانے کی نیت ہے
یار بھڑکتارہتاہے دن بھر
سب کو بھڑکانے کی نیت ہے
مکھی پالے گا وہ مگر پہلے
شہدکو کھاجانے کی نیت ہے
سن کے سوال جھکایا ہم نے سر
کس کولپٹانے کی نیت ہے
جس کے ظاہر ہوتے ہوگا بوال
راز وہ پلٹانے کی نیت ہے
بچے پسند نہیں کرتے کہنا
کچھ تو سمجھانے کی نیت ہے
بھول ہی جائیں پلکیں جھپکانا
مجھ کو رفتانے کی نیت ہے
لیلیٰ بولی مجھے لے جاناساتھ
میرے دیوانے کی نیت ہے
Comments
Post a Comment