دعوت کے اسلامی آداب اور طفیلی دعوت کی قباحت - عنایت اللہ خان، یوت محل۔


دعوت کے اسلامی آداب اور طفیلی دعوت کی قباحت - 
عنایت اللہ خان، یوت محل۔ 

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام نے جہاں عبادات اور حلال و حرام کے احکام بیان فرمائے ہیں، وہیں انسانی معاشرت، میل جول، دعوت، مہمانی اور باہمی احترام کے بھی بہترین آداب سکھائے ہیں۔ دعوت صرف کھانا کھانے کا نام نہیں، بلکہ اس میں میزبان اور مہمان دونوں کے حقوق، اجازت، احترام اور احساسات کا خیال رکھنا شامل ہے۔
دعوت کی بنیادی طور پر دو صورتیں
پہلی: اصلی دعوت : 
جب میزبان کسی شخص کو خود دعوت دے، اسے بلائے اور اس کے لیے کھانے کا انتظام کرے تو یہ حقیقی یا اصلی دعوت ہے۔ ایسی دعوت قبول کرنا، میزبان کا شکریہ ادا کرنا اور اس کی سہولت و خوشی کا خیال رکھنا حسنِ معاشرت کا حصہ ہے۔
دوسری: طفیلی دعوت : 
جب کسی شخص کو دعوت دی گئی ہو اور وہ میزبان کی اجازت کے بغیر اپنے کسی دوست، رشتہ دار یا متعلقہ شخص کو بھی ساتھ لے آئے، تو اسے طفیلی طور پر شامل ہونا کہا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں صحیح بخاری کی ایک نہایت اہم حدیث ہمارے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی، جن کی کنیت ابو شعیب تھی، نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے ساتھ چار افراد سمیت کھانے کی دعوت دی۔ جب وہ لوگ جانے لگے تو ایک اور شخص بھی ان کے ساتھ چل پڑا۔ نبی کریم ﷺ نے میزبان سے فرمایا:
إِنَّ رَجُلًا تَبِعَنَا، فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ
یعنی: “ایک شخص ہمارے ساتھ آگیا ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے اجازت دے دیں اور اگر چاہیں تو اسے چھوڑ دیں۔”
میزبان نے اسے اجازت دے دی۔
(صحیح البخاری، حدیث 5461)
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس شخص کو دعوت دی گئی ہو، اس کے ساتھ کسی اضافی شخص کا آ جانا محض اس بنیاد پر لازم نہیں ہو جاتا کہ وہ مدعو شخص کے ساتھ آیا ہے۔ اضافی شخص کی شرکت کا فیصلہ میزبان کی اجازت اور رضامندی سے ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ کسی دعوت، خصوصاً شادی یا ولیمہ کی تقریب میں، اپنے ساتھ کسی ایسے شخص کو لے جانا جسے میزبان نے دعوت نہیں دی، مناسب نہیں، جب تک میزبان کی طرف سے اجازت یا عمومی گنجائش نہ ہو۔
اجازت کا اسلامی اصول : 
اسلام نے صرف دعوت ہی نہیں بلکہ گھروں میں داخل ہونے کے لیے بھی اجازت کو ضروری قرار دیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الاِسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ
یعنی: " اجازت تین مرتبہ ہے، اگر تمہیں اجازت دے دی جائے تو داخل ہو جاؤ، ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔"
(صحیح مسلم، حدیث 2153)
جب عام حالات میں کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت کا اتنا اہتمام ہے تو دعوت اور کھانے کے معاملے میں بھی میزبان کی رضامندی اور اجازت کا خیال رکھنا اسلامی تہذیب کا حصہ ہے۔
میزبان کو زحمت دینا مناسب نہیں : 
قرآنِ کریم نے سورۂ احزاب میں نبی کریم ﷺ کے گھر کے حوالے سے مہمانوں کو آداب سکھاتے ہوئے فرمایا کہ جب کھانے کی دعوت دی جائے تو آئیں، کھانا کھائیں اور پھر منتشر ہو جائیں، اس طرح نہ بیٹھے رہیں کہ میزبان کو زحمت ہو۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام مہمان کو بھی یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ میزبان کی سہولت، وقت اور حالات کا خیال رکھے۔
آج ہمارے معاشرے میں خصوصاً شادی اور ولیمہ کی تقریبات میں یہ بات عام ہوتی جا رہی ہے کہ جس شخص کو دعوت دی گئی، وہ اپنے ساتھ ایک یا کئی افراد کو بھی لے آتا ہے۔ بعض اوقات میزبان نے محدود تعداد کے مطابق کھانے اور نشست کا انتظام کیا ہوتا ہے، لیکن اچانک مہمانوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ اس سے میزبان کو مالی نقصان، انتظامی دشواری اور بعض اوقات شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اجازت لینے میں کوئی حرج نہیں :
اگر کسی مدعو شخص کو محسوس ہو کہ کسی دوست، رشتہ دار یا اپنے کسی متعلقہ فرد کو ساتھ لے جانا چاہیے تو بہترین اور باادب طریقہ یہ ہے کہ پہلے میزبان سے اجازت لے۔

اگر میزبان خوشی سے کہے:
"جی ضرور، انہیں بھی ساتھ لے آئیے۔" :
تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر میزبان نے اجازت نہ دی ہو یا حالات ایسے ہوں کہ مزید افراد کی گنجائش نہ ہو تو اپنی خواہش کو روک لینا ہی اسلامی اخلاق، شرافت اور میزبان کے احترام کی علامت ہے۔

بلا دعوت پہنچنے سے احتراز :
اسی طرح اگر کسی شخص کو خود دعوت نہ دی گئی ہو لیکن وہ کسی مدعو شخص کے ساتھ بغیر اجازت تقریب میں پہنچ جائے تو اسے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دعوت میں شرکت صرف کھانے کا مسئلہ نہیں، بلکہ میزبان کی اجازت اور اس کے انتظام کا بھی مسئلہ ہے۔
اسلام ہمیں دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا سکھاتا ہے
اسلام ہمیں صرف نماز، روزہ اور دیگر عبادات ہی نہیں سکھاتا بلکہ لوگوں کے حقوق، اجازت، عزت، احساسات اور معاشرتی آداب کا بھی درس دیتا ہے۔
لہٰذا شادی، ولیمہ اور دیگر دعوتوں میں ہمیں اس اصول کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے:
“جس کو دعوت دی گئی ہے، وہی جائے؛ اور اگر کسی کو ساتھ لے جانا ہو تو پہلے میزبان سے اجازت لے۔”
یہ بظاہر ایک معمولی سی بات ہے، لیکن اس میں میزبان کی عزت، اس کے مال کا احترام، اس کی محنت کا لحاظ اور اسلامی معاشرت کے حسن جیسے کئی پہلو شامل ہیں۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ:
دعوت کا حسن صرف اچھا کھانا نہیں، بلکہ میزبان اور مہمان دونوں کا ایک دوسرے کے حقوق اور آداب کا خیال رکھنا ہے۔
میزبان کی اجازت، مہمان کی شرافت؛
اور دوسروں کے حق کا احترام، اسلامی معاشرت کی خوبصورتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔