خادمِ قوم و ملت جناب محمد شعبان ابن افتخارؔ (کیف مالیگانوی) — ایک مخلص بزرگ کی یاد میں - تحریر : افضال احمد ملّی ( مسجد باغ فردوس چاندوڑ )
خادمِ قوم و ملت جناب محمد شعبان ابن افتخارؔ (کیف مالیگانوی) — ایک مخلص بزرگ کی یاد میں -
تحریر : افضال احمد ملّی
( مسجد باغ فردوس چاندوڑ )
شہرِ مالیگاؤں کی سرزمین نے ہمیشہ ایسی شخصیات کو جنم دیا ہے جنہوں نے شہرت و ناموری کی طلب کے بغیر اپنی زندگی قوم و ملت کی خدمت، دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور خلقِ خدا کے کام آنے میں گزار دی۔
ایسی ہی ایک قدیم، مخلص اور قابلِ احترام شخصیت جناب محمد شعبان ابن افتخارؔ، کی تھی، جو 15 اکتوبر 2026ء، بروز جمعرات، اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ بوقتِ انتقال ان کی عمر تقریباً 83 برس تھی۔
ان کا انتقال محض ایک فرد کی جدائی نہیں، بلکہ اس خاموش خدمت کے ایک عہد کا اختتام ہے جس میں اخلاص، سادگی، خوش اخلاقی اور دینی وابستگی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
تعلیم مختصر، مگر خدمت کا دائرہ وسیع :
جناب محمد شعبان افتخارؔ صاحب نے عصری تعلیم ساتویں جماعت تک حاصل کی تھی۔ بظاہر ان کی رسمی تعلیم محدود تھی، لیکن زندگی کے عملی میدان میں انہوں نے جو خدمات انجام دیں، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
انسان کی عظمت کا معیار محض اس کی تعلیمی اسناد نہیں، بلکہ اس کا کردار، اس کے معاملات اور معاشرے کے لیے اس کی افادیت بھی ہے۔ اس اعتبار سے ان کی زندگی خدمت و سادگی کی ایک قابلِ قدر مثال تھی۔
بیالیس سال مسجد کی خدمت :
ان کی زندگی کا ایک نمایاں اور قابلِ ذکر پہلو مسجد سے طویل وابستگی تھا۔ سمکسیر کی مسجد میں وہ مسلسل 42 سال تک مؤذن کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اذان کے ذریعے لوگوں کو نماز کی طرف بلانا، اہلِ محلہ کو عبادت کی یاد دہانی کرانا اور مسجد کی دینی فضا سے وابستہ رہنا ایک ایسی سعادت ہے جس کی قدر وہی شخص جانتا ہے جس کے دل میں اللہ کے گھر کی محبت ہو۔
بیالیس برس کا یہ طویل عرصہ معمولی نہیں۔ زندگی کے کتنے ہی موسم آئے ہوں گے، حالات نے کتنے ہی رخ بدلے ہوں گے، مگر مسجد کی خدمت ان کی زندگی کا ایک مستقل حصہ بنی رہی۔ یہ وابستگی ان کے دینی ذوق، احساسِ ذمہ داری اور خدمت کے جذبے کی عکاس ہے۔
ان کی خدمات کا دائرہ صرف اذان دینے تک محدود نہیں تھا، بلکہ میت کو غسل دینے اور میت کی اطلاع کے لیے پکارا کرنے کی ذمہ داری بھی انجام دیتے تھے۔ یہ وہ خدمات ہیں جن کے لئے جسمانی محنت کے ساتھ ساتھ دینی شعور، احساسِ فرض اور خدمتِ خلق کا جذبہ بھی ضروری ہے۔
کسی مسلمان کے آخری سفر کی تیاری میں تعاون کرنا ایک اہم سماجی و دینی خدمت ہے، جسے انہوں نے اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔
ملنساری، خوش اخلاقی اور صاف معاملات :
کسی انسان کی حقیقی پہچان اس کے اخلاق اور معاملات سے ہوتی ہے۔ جناب محمد شعبان افتخارؔ ملنسار، خوش اخلاق اور معاملات میں صاف گو تھے۔ لوگوں سے گھل مل کر رہنا، خوش دلی سے پیش آنا اور معاملات کو صاف رکھنا ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔
ایسے لوگ معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، جو اپنے رویّے سے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ انسان کے پاس مال و دولت اور ظاہری وجاہت خواہ کتنی ہی ہو، اگر اس کے اخلاق اچھے نہ ہوں تو وہ دلوں میں وہ مقام حاصل نہیں کرسکتا جو حسنِ اخلاق رکھنے والے ایک سادہ انسان کو حاصل ہوتا ہے۔
عبادت و وظائف سے آخری عمر تک وابستگی :
ان کی زندگی کا ایک قابلِ ذکر پہلو عبادت اور مسنون وظائف کا اہتمام تھا۔ عمر کے آخری مرحلے تک اس معمول کو برقرار رکھنا ان کی دینی وابستگی اور عبادت سے محبت کی علامت ہے۔
انسانی زندگی میں عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی قوتیں کمزور پڑنے لگتی ہیں، مصروفیات اور حالات بھی بدل جاتے ہیں، لیکن جو لوگ عبادت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنا لیتے ہیں، ان کے لیے یہ وابستگی قلبی سکون اور روحانی قوت کا ذریعہ بنتی ہے۔ جناب محمد شعبان افتخارؔ کی زندگی کا یہ پہلو بھی ان کے تذکرے میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
خاندان اور نسلِ نو کے لیے دینی سرمایہ :
مرحوم اپنے پسماندگان میں پانچ بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے لئے یہ جدائی یقیناً ایک بڑا صدمہ ہے۔ والد کا سایہ اٹھ جانا زندگی کے ان تجربات میں سے ہے جن کا خلا آسانی سے پُر نہیں ہوتا۔
ان کے خاندان کے لیے یہ بات باعثِ مسرت و شکر ہے کہ ان کے ایک صاحب زادے حافظِ قرآن ہیں اور ایک پوتے کو بھی حفظِ قرآن کی سعادت حاصل ہے۔ قرآنِ کریم سے وابستگی کسی بھی مسلمان خاندان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ امید ہے کہ خاندان کی نئی نسل اپنے بزرگوں کی نیک روایات، دینی رجحان اور خدمت کے جذبے کو آگے بڑھائے گی
دعا و خراجِ عقیدت :
جناب محمد شعبان افتخار کا انتقال اہلِ خانہ، متعلقین اور ان تمام لوگوں کے لئے رنج و غم کا باعث ہے جو ان کی شخصیت اور خدمات سے واقف تھے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی دینی و سماجی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے،
اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے-
آمین یا رب العالمین۔
Comments
Post a Comment