اقراء شاہین اردو ہائی اسکول میں اساتذہ کی رہنمائی کے لیے اورینٹیشن پروگرام کا انعقاد
جلگاؤں: (راست) اقراء ایجوکیشن سوسائٹی کے زیرِ انتظام اقراء شاہین اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج، مہرون، جلگاؤں میں 19 اکتوبر 2026 کو اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور معیاری تعلیم کے فروغ کے مقصد سے ٹیچر اورینٹیشن پروگرام منعقد کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز عتیق احمد سر کی تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا۔ اس کے بعد اسکول کے پرنسپل ریاض شاہ سر نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پیش کرتے ہوئے اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے اور طلبہ کے سیکھنے کے عمل کو مؤثر بنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
پروگرام میں **ڈاکٹر شیخ ہارون بشیر** نے بطور ریسورس پرسن شرکت کی، جبکہ صدارت **ڈاکٹر عبدالکریم سالار، صدر اقراء ایجوکیشن سوسائٹی** نے کی۔
**ڈاکٹر شیخ ہارون بشیر نے اپنے خطاب میں اساتذہ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ استاد کا کام صرف معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ طلبہ کے سیکھنے کے عمل میں رہنما اور معاون (Facilitator) کا کردار ادا کرنا بھی ہے۔** انہوں نے طلبہ میں تجسس، تنقیدی و منطقی سوچ، تخلیقی صلاحیت، مسائل حل کرنے کی قابلیت اور خود سے سیکھنے کی عادت پیدا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے اساتذہ کو طلبہ پر مرکوز تدریسی طریقے اپنانے، سرگرمیوں کے ذریعے تعلیم دینے، جماعت میں طلبہ کی فعال شرکت کو یقینی بنانے اور ان کی تعلیمی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لینے کی ترغیب دی۔
**صدرِ اجلاس ڈاکٹر عبدالکریم سالار نے ٹیم ورک اور اسکول کی ترقی میں باہمی تعاون کی اہمیت واضح کی۔** انہوں نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی ترقی صرف ایک فرد کی کوششوں سے ممکن نہیں، بلکہ انتظامیہ، پرنسپل اور تمام اساتذہ کے باہمی تعاون، بہتر تال میل اور مشترکہ ذمہ داری سے ادارہ ترقی کی نئی منزلیں طے کرتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ ایک ٹیم کی حیثیت سے کام کریں، اپنے تجربات اور خیالات کا تبادلہ کریں اور طلبہ کی تعلیمی ترقی کے لیے متحد ہوکر کوششیں کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم ورک سے اسکول کا تعلیمی ماحول بہتر ہوتا ہے، کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور معیاری تعلیم کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں سے واقف کرانا، ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا اور طلبہ کے تعلیمی نتائج کو بہتر بنانا تھا۔ یہ پروگرام اساتذہ کی تربیت، باہمی تعاون اور اسکول کی ہمہ جہت ترقی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوا۔
پروگرام کا مرکزی پیغام تھا: **’’اساتذہ کو بااختیار بنانا، تعلیم کو فروغ دینا اور بہترین کارکردگی کے لیے ترغیب دینا۔‘‘**
Comments
Post a Comment