مضطر مجاز نے اقبالیات کے انبوہ میں بھی اپنا عکس و نقش جدا رکھا" - یاد مجاز اجلاس سے مشاہیر علم و اداب کا خطاب


حیدرآباد۔ (راست) : مضطر مجاز جامع الصفات اور مجمع الکمالات شاعر تھے۔ان کا ذہنی اور علمی وجود کسی ایک دائرے میں محصور نہیں تھااور اس نوع کی اسیری انہیں قبول بھی نہیں تھی۔ وہ ملٹی ڈائیمنشل سوچ کے حامل تھے۔ جس موضوع کو بھی چھوتے اسے جاو داں کردیتے۔ ان 
خیا لات کا اظہار مضطر مجاز سے معنون اجلاس میں پروفیسر رحمت یوسف زئی سابق صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد نے کیا جو ہفتہ کی شام میڈیا پلس آڈیٹوریم گن فاؤنڈری میں منعقد ہوا۔ وہ “بزم علی الدین نوید” کے زیرِ اہتمام منعقدہ اجلاس سے مخاطب تھے۔ اپنے صدرتی خطاب کو جاری رکھتے ہوئے انھون نے کہاکہ مضطر مجازکی اقبالیات کے باب میں خدمات قابل رشک ہیں۔ مختلف زبانوں پر عبور اور ادبیات سے آگہی نے انہیں جو اعتبار اور وقار عطا کیا وہ بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتاہے۔ 
ڈاکٹر مصطفی کمال مدیر ماہنامہ شگوفہ نے ماضی میں لکھی گئی تحریر کو بطور قند مکرر پیش کیا جس میں مضطر مجاز کی ذات و صفات اور اخلاقی خوبیاں سمٹ آئیں تھیں انہوں نے چھ دہوں پر محیط رفاقتوں کو یاد کیا اور انتقال سے کچھ دیر پہلے ہوئی گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ 
دانشور و شاعر جناب مصحف اقبال توصیفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ مضطر مجاز نے شاعر ی کے کوچے میں قدم رکھا تو مخدوم، اریب، شاہد صدیقی، شاذ اور مغنی تبسم شہرت پاچکے تھے۔ ان کے بعد بھی ایک پوری کہکشاں تھی جس میں مضطر مجاز سرفہرست تھے۔ ان کی شاعری کی اہم خصوصیت کلاسکیت اور جدیدیت کا امتزاج ہے جو چاشنی پیدا کرتاہے۔ ان کی شاعری میں ساری انسانیت کے غم کاایک مہین سا پردہ ہے جہاں یہ پردہ چاک ہوتا ہے وہاں وہ بے حد سنجیدہ نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر سید خالد قادری نے مضطر مجاز کے ساتھ اپنی نجی مگر ادب آمیز ملاقاتوں کا ذکر کیااور ان کی ظرافت آمیز گفتگو کو موضوع بناتے ہوئے ان کی ظرافت آمیز باتوں کو شئیر کیا ۔ 
شاعر و ادیب جناب سردار سلیم نے مضطر مجاز کی اخلاقی خوبیوں کا ذکر کیا اورکہا کہ غالب اور اقبال دو الگ عہد اور الگ زمانے کے شاعر ہیں دونوں کی فکر منفرد ہے۔ مگر دونوں کے یہاں ذہن کو بیدار کرنے اور انسان کو اپنے وجود پر غور کرنے کی دعوت موجود ہے۔ ان دونوں کی شعری کائنات کو سمجھنا ان کے فنی اور فکری امتیازات کو واضح کرنا اور ان کی معنوی تہوں تک پہونچنا محض مطالعہ کا نہیں عمیق بصیرت کا تقاضہ کرتاہے اور یہ کا انہوں نے بڑی عرق ریزی سے کیا اور یہی کام ان کی ادبی شخصیت کا اہم حوالہ بن گیا۔ 
قاری صدیق حسین نے مضطر مجازکا سوانحی خاکہ پیش کیا۔ محبوب خان اصغر معتمد بزم نے آغاز میں شرکاء کا خیر مقدم کیا اور کاروائی چلاتے ہوئے اجلاس کا مقصد اور مدعا بیان کرتے ہوئے کہاکہ یہ محفل محض ایک رسمی ادبی اجتماع نہیں ہے بلکہ ایک ایسے صاحب علم و ادب کی یادوں کو تازہ کرنے کی بامعنی
 کو شش ہے جس نے اپنی فکری بصیرت شعری صلاحیت اور تنقیدی شعور سے اردو ادب کی خدمت کی۔ محفل کا آغاز حافظ وقاری جناب فضیل کی تلاوت کلامِ پاکُ سے ہوئی۔ سید شاہنواز ہاشمی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں مشاعر منعقد ہوا۔ ڈاکٹر رؤف خیر، جناب سلطان شطاری، جناب سردار سلیم،جناب مختار احمد دکنی گلبرگہ، جناب سیف نظامی مہمانان خصوصی تھے۔ شعراء میں سمیع اللہ حسینی سمیع،ارشد شرفی، معالے اچلپوری، ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری، محبوب خان اصغر، انجنی کمار گوئل، افتخار عابد، جاوید نسیم، طاہر گلشن آبادی،شکیل حیدر،ظفر فاروقی،رفیعہ نوشین ، رفیق جگر، لطیف الدین لطیف، سہیل عظیم اور واجد نواب نے کلام سناکر خوب داد پائی۔ لطیف الدین لطیف نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ ذاکر حسین فرزند مضطر مجاز نے اظہار تشکر پر محفل کا اختتام عمل میں آیا۔ اس موقع پر ارباب علم و دانش، صاحبان فکر و نظر اور ذوق ادب سے سرشار سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔