غزل - ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد یو پی۔
غزل -
ازقلم : سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد یو پی۔
نیند میں اتنا ہی غافل اسے پایا ہم نے
قوم کو جتنا میاں اپنی جگایا ہم نے
زور باطل کو یوں مٹی میں ملایا ہم نے
دے دیا سر کو مگر سر نہ جھکایا ہم نے
راستہ لشکر دشمن کو بھلایا ہم نے
نعرۂ حیدری جس وقت لگایا ہم نے
موت کے ڈر سے کبھی منہ نہ چھپایا ہم نے
خطبۂ حق تو سناں پر بھی سنایا ہم نے
یہ کرشمہ بھی زمانے کو دکھایا ہم نے
دست صیاد سے بلبل کو چھڑایا ہم نے
روز الزام پہ الزام اٹھایا ہم نے
اے وطن پھر بھی ترا قرض چکایا ہم نے
جان پر کھیل کے یہ فرض نبھایا ہم نے
ملک انگریزوں سے آزاد کرایا ہم نے
ہو سکا جتنا اسے اتنا سجایا ہم نے
عظمت ہند کو ہر آن بڑھایا ہم نے
جو تھے اپنے انھیں مسند پہ بٹھایا ہم نے
ہر فرنگی کا مگر بینڈ بجایا ہم نے
دل جلایا تو کبھی دیپ جلایا ہم نے
پر اندھیرا غم ہستی کا مٹایا ہم نے
واسطہ آپ سے کچھ یوں بھی گھٹایا ہم نے
آنکھ جب جب بھی ملی ہوش گنوایا ہم نے
پھر کبھی اس کو نظر پر نہ چڑھایا ہم نے
جس کو اک بار نگاہوں سے گرایا ہم نے
حسن اخلاق سے وہ رنگ جمایا ہم نے
دشمن جاں کو بھی انگلی پہ نچایا ہم نے
یہ الگ بات کہ ان کو نہ بتایا ہم نے
اے فراز ان پہ مگر کیا نہ لٹایا ہم نے
سرفراز حسین فراز پیپل سانہ مرادآباد یو پی
Comments
Post a Comment