انسان اپنے اندر دوسروں کی برائی کیوں رکھتا ہے؟ - تحریر: محمد اظہر
انسان اپنے اندر دوسروں کی برائی کیوں رکھتا ہے؟ -
تحریر: محمد اظہر
Mohammed Azhar
Headmaster of Ulfat Urdu medium High School Athani .Belagavi 96327 58392
انسان اپنے اندر دوسروں کی برائی کیوں رکھتا ہے؟
انسان کا دل ایک برتن کی مانند ہے۔ اس میں جو ڈالو گے وہی باہر آئے گا۔ مگر افسوس کہ ہم اکثر اس برتن میں دوسروں کی برائیاں، ان کی غلطیاں، اور ان کے عیب جمع کرتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
پہلی وجہ نفس کا تکبر ہے۔ انسان جب خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتا ہے تو اسے اپنی بڑائی ثابت کرنے کے لیے دوسروں کی چھوٹائی چاہیے ہوتی ہے۔ کسی کی برائی کو یاد رکھ کر وہ اپنے دل کو یہ تسلی دیتا ہے کہ میں تو اچھا ہوں، برا تو فلاں ہے۔ یہ تسلی نہیں، بلکہ نفس کا دھوکہ ہے۔
دوسری وجہ دل کا زنگ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ گناہوں کی وجہ سے دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے۔ جب ہم کسی کو معاف نہیں کرتے، کسی کی بات کو بھولتے نہیں، تو وہ بات دل میں زنگ بن کر بیٹھ جاتی ہے۔ پھر وہ زنگ بڑھتا ہے اور دل کو کالا کر دیتا ہے۔ جس دل میں دوسروں کی برائی جمع ہو، اس دل میں اللہ کی یاد کے لیے جگہ نہیں بچتی۔
تیسری وجہ اپنی کمی کا خوف ہے۔ ہم میں سے ہر ایک میں کوئی نہ کوئی کمی ہے۔ جب ہم دوسرے میں وہی کمی دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنا عیب چھپانے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس لیے ہم دوسرے کے عیب کو بڑھا چڑھا کر یاد رکھتے ہیں تاکہ اپنا عیب چھوٹا لگے۔
حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی برائی کو سینے میں رکھنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص انگارہ ہاتھ میں پکڑ کر اس انتظار میں ہو کہ دوسرا جلے گا۔ جلے گا دوسرا نہیں، ہاتھ اپنا جلے گا۔ دل اپنا جلے گا۔ سکون اپنا برباد ہوگا۔
داناؤں کا قول ہے:
"دوسروں کو معاف کر دو، اس لیے نہیں کہ وہ معافی کے قابل ہیں، بلکہ اس لیے کہ تم سکون کے قابل ہو۔"
جو دل دوسروں کی برائیوں سے خالی ہوتا ہے، وہی دل اللہ کے نور سے بھرتا ہے۔ اس لیے کوشش کرو کہ دل کو آئینہ بناؤ، کچرا دان نہیں۔
Comments
Post a Comment