بزمِ ابر سنبھل اور کندرکی غزل فاونڈیشن کے زیر اہتمام چھٹا طرحی مشاعرے کا انعقاد - معروف شعراء نے مصرعِ طرح ’’شبِ فراق میں دل کو جلا رہا ہے کوئی‘‘ پر اپنا کلام پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا - تین ممتاز اہلِ قلم کو ادبی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا
اردو زبان و ادب اور شعری روایت کے فروغ کے لیے سرگرم ادبی تنظیم بزمِ ابر سنبھل اور کندرکی غزل فاؤنڈیشن کے مشترکہ زیرِ اہتمام چھٹے طرحی مشاعرے کا انعقاد بزرگ و ممتاز شاعر ضمیر سالکی ادیبی کی صدارت میں کیا گیا۔ مشاعرے میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنےوالے معروف شعراء نے شرکت کرتے ہوئے اپنے خوبصورت، فکر انگیز اور پُراثر کلام کے ذریعےسامعین کومحظوظ کیا۔محفل میں شعر و سخن کی دل آویز فضا قائم رہی اور شرکائے مشاعرہ نے شعراء کے کلام کو خوب سراہا۔
پروگرام کا آغاز آسی حسن پوری نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول پیش کرکے کیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی نے طرحی مشاعروں کی ادبی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ادبی نشستیں اردو شاعری کی روایت کو زندہ رکھنے، شعراء کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے اور نئے ادبی امکانات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔طرحی مشاعروں کے ذریعے شعراء کو ایک متعین مصرعے کی بنیاد پر اپنے تخیل، فنی مہارت اورشعری صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملتا ہے،جس سےزبان و بیان کی خوبصورتی اور شعری فن کے مختلف پہلونمایاں ہوتے ہیں۔
چھٹے طرحی مشاعرے کے لیے مصرعِ طرح ’’شبِ فراق میں دل کو جلا رہا ہے کوئی‘‘ منتخب کیا گیا تھا۔ اس مصرعے کی مناسبت سے شعراء نے عشق، ہجر و فراق، دردِ دل، انسانی کیفیات اور زندگی کے مختلف تجربات کو اپنے اپنے منفرد انداز میں شعری پیکر عطا کیا۔شرکائےمشاعرہ نے اپنے کلام میں کلاسیکی شعری روایت، جدید احساسات اور زبان و بیان کی دلکشی کا امتزاج پیش کیا، جس سے محفل میں ادبی رنگا رنگی پیدا ہوئی۔
مشاعرے میں جن شعراء نے اپنا طرحی کلام پیش کیا، ان میں وسیم ارحم، نوشاد انگڑ، ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی، ڈاکٹر منور تابش سنبھلی، ڈاکٹر نفیس بلاروی، حکیم عبدالماجد، ڈاکٹر ناظم کندرکوی، عاقل امرت پوری، ماہر سیوہاروی، قدوس سہس پوری، ضمیر سالکی ادیبی بلاروی، راشد راحت اور محمد علی چشی مشکور ساجد ، شمشاد علی شاد سمیت دیگر شعراء کے نام شامل ہیں۔ تمام شعراء نے اپنے اپنے انداز میں مصرعِ طرح کے ساتھ شعری مناسبت قائم کرتے ہوئے سامعین کے سامنے اپنا کلام پیش کیا۔ محفل میں موجود اہلِ ذوق نے شعراء کی تخلیقات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض نظام نوشاہی نے خوش اسلوبی اور سلیقے کے ساتھ انجام دیے۔ انہوں نے مختلف شعراء کو کلام پیش کرنے کے لیے مدعو کرنے کے ساتھ محفل کے ادبی تسلسل اور وقار کو برقرار رکھا۔مشاعرے کے اختتام پر اردو ادب اور شعری خدمات کے اعتراف میں ضمیر سالکی ادیبی، ڈاکٹر منور تابش سنبھلی اور ماہر سیوہاروی کو اعزاز سے نوازا گیا۔
اس موقع پر ان کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ان کی کاوشوں کو قابلِ قدر قرار دیا گیا۔ یہ اعزازات ادبی شخصیات کی حوصلہ افزائی اور نئی نسل میں ادب سے وابستگی کاجذبہ پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔
آخر میں مشاعرے کے کنوینر راشد راحت نے تمام شعراء، مہمانانِ گرامی اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پروگرام میں شرکت کرنے اور محفل کو کامیاب بنانے پر سبھی اہلِ ادب کا اظہارِ تشکر کیا۔ اس طرح یہ طرحی مشاعرہ اردو شاعری کی روایت، ادبی ہم آہنگی اور شعر و سخن سے وابستگی کے خوب صورت اظہار کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment