ذریعہ تعلیم اردو یا انگریزی؟ - از قلم : عالمہ مبین پالیگار - پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج بیلگام


ذریعہ تعلیم اردو یا انگریزی؟ - 
از قلم: عالمہ مبین پالیگار - 
پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج بیلگام 
8904317986 
   
 ایک مدلل جواب
اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ اردو ذریعۂ تعلیم سے پڑھنے کے باوجود طلبہ میں دینی اخلاق پیدا نہ ہوں، معاشی امکانات محدود رہیں، جبکہ انگریزی ذریعۂ تعلیم سے دینی اخلاق و تربیت بھی مکمل طور پر پروان چڑھیں، ریاستی، ملکی، بین الریاستی اور بین الاقوامی معاشی امکانات کہیں زیادہ وسیع ہوں اور دعوت و تبلیغ کے مواقع بھی بھرپور میسر ہوں، تو کیا اس صورت میں بھی صرف اردو کو ذریعۂ تعلیم بنانا ضروری ہوگا؟
اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ تعلیم، تربیت، زبان، دین، معاش اور عملی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر دینا چاہیے۔
میرے نزدیک اس سوال کا پہلا اور بنیادی جواب یہ ہے کہ زبان بذاتِ خود نہ انسان کو دیندار بناتی ہے، نہ بددیانت؛ نہ بااخلاق بناتی ہے، نہ بداخلاق۔ زبان علم و اظہار کا ذریعہ ہے، جبکہ انسان کی شخصیت اس کے علم، عمل، تربیت، ماحول، عادات، صحبت، استاد، گھر اور اپنے شعوری فیصلوں سے تشکیل پاتی ہے۔
اگر محض کسی زبان کا جاننا ہی دینی تربیت اور اخلاق کی ضمانت ہوتا تو ہر عربی جاننے والا لازماً متقی، صالح اور باکردار ہوتا۔ عربی قرآن کی زبان ہے، مگر صرف عربی جان لینا تقویٰ کی ضمانت نہیں۔ قرآن خود علم رکھنے کے باوجود حق سے منحرف ہونے والوں کی مثالیں بیان کرتا ہے۔ ابلیس اللہ تعالیٰ کو جانتا تھا، اس کے احکام سے واقف تھا، مگر علم کے باوجود تکبر اور نافرمانی کی وجہ سے مردود ہوا۔ اس سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ علم اور زبان کافی نہیں؛ علم کے ساتھ ایمان، عمل اور کردار بھی ضروری ہیں۔
لہٰذا یہ تصور درست نہیں کہ اردو ذریعۂ تعلیم اختیار کرتے ہی بچے میں دینی اخلاق، ادب اور دینداری خود بخود پیدا ہوجائے گی۔
اردو کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے
اس حقیقت کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ اردو کی اہمیت کم ہوگئی۔
اردو ہمارے لیے محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک عظیم علمی، ادبی، دینی اور تہذیبی سرمایہ ہے۔ برصغیر میں صدیوں کے دوران علماء، مفسرین، محدثین، فقہاء، ادباء اور اہلِ قلم نے اسلامی علوم کے بے شمار موضوعات اردو میں منتقل کیے۔ قرآن مجید کے تراجم و تفاسیر، احادیث کی شروح و تراجم، سیرتِ نبوی ﷺ، فقہ، عقائد، اسلامی تاریخ، اصلاحی لٹریچر، علماء کی تصانیف اور دینی رسائل کا ایک وسیع ذخیرہ اردو میں موجود ہے۔
اس لیے اردو پڑھنے اور سمجھنے والا شخص اس عظیم علمی سرمائے سے براہِ راست فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
اسی وجہ سے اردو کی تعلیم پر زور دینا بالکل بجا ہے۔
لیکن یہاں مقصد اور ذریعہ کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے۔
ہم اردو اس لیے نہیں پڑھاتے کہ اردو خود بخود ہمارے بچوں کو نیک بنا دے گی؛ بلکہ ہم اردو اس لیے پڑھاتے ہیں کہ وہ اس زبان کے ذریعے دینی، علمی، ادبی اور تہذیبی خزانے تک پہنچیں، علم حاصل کریں، اس علم کو سمجھیں، اپنی شخصیت سنواریں اور اپنے علم کو عمل میں تبدیل کریں۔
اردو ہمیں ادب سکھا سکتی ہے، مگر ادب پر عمل ہمیں خود کرنا ہوگا
اردو ادب میں والدین کے احترام، استاد کے ادب، بڑوں کی تعظیم، چھوٹوں سے شفقت، پڑوسی کے حقوق، حسنِ گفتگو، حیا، شائستگی، صبر، برداشت، ایثار اور انسانیت جیسے بے شمار موضوعات موجود ہیں۔
ہم اردو ادب پڑھ کر ادب کا مفہوم سمجھ سکتے ہیں، لیکن ادب کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہمارا اپنا فیصلہ ہے۔
والدین کے احترام پر کتاب پڑھ لینا اور حقیقت میں والدین کی خدمت کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔
سیرتِ رسول ﷺ پڑھ لینا اور آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں اپنانا دو الگ چیزیں ہیں۔
نماز کے فضائل پڑھ لینا اور نماز کی پابندی کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔
اسی لیے تعلیم کو محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ عمل اور کردار سازی کا ذریعہ بنانا ضروری ہے۔
صرف اردو اسکول ہونا دینی ماحول کی ضمانت نہیں
ہمیں اس معاملے میں خود احتسابی بھی کرنی چاہیے۔
آج ہمارے بعض اردو تعلیمی اداروں میں بھی سالانہ تقریبات کے نام پر ایسے پروگرام دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں ناچ گانا، نامناسب حرکات یا بے پردگی شامل ہوتی ہے۔ اگر کسی ادارے کا ذریعۂ تعلیم اردو ہے لیکن اس کا ماحول اخلاقی اور دینی تربیت سے خالی ہے تو صرف اردو زبان اس ادارے کو دینی تربیت کا مرکز نہیں بنا سکتی۔
اسی طرح اگر کوئی استاد اردو پڑھاتا ہے لیکن خود دینی معلومات سے محروم ہے، اپنے اخلاق و کردار کی اصلاح نہیں کرتا یا اپنی عملی زندگی میں ان اقدار کا نمونہ نہیں بنتا جن کی تعلیم وہ طلبہ کو دیتا ہے، تو محض اردو پڑھانے کی وجہ سے وہ تربیت کا مثالی نمونہ نہیں بن جاتا۔
بچے صرف استاد کی زبان نہیں سنتے، استاد کا کردار بھی پڑھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ تعلیم و تربیت میں استاد، گھر اور ماحول کی اہمیت بنیادی ہے۔
کیا انگریزی ذریعۂ تعلیم دینی تربیت کے خلاف ہے؟

ہرگز نہیں۔
جس طرح اردو بذاتِ خود دینداری کی ضمانت نہیں، اسی طرح انگریزی بذاتِ خود بے دینی کی ضمانت بھی نہیں۔
ایک طالب علم انگریزی کے ذریعے سائنس، طب، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، تحقیق، تجارت اور جدید علوم میں مہارت حاصل کرسکتا ہے اور ساتھ ہی قرآن، حدیث، سیرت، فقہ اور اسلامی اخلاق کی تعلیم بھی حاصل کرسکتا ہے۔
اگر دینی تربیت گھر، ادارے، استاد، نصاب اور ماحول میں مضبوطی سے موجود ہو تو ذریعۂ تعلیم کی زبان ان تربیتی مقاصد کی تکمیل میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
لہٰذا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ انگریزی ذریعۂ تعلیم اختیار کرتے ہی بچے دین سے دور ہوجائیں گے۔
اصل سوال زبان نہیں بلکہ نظامِ تربیت ہے۔
معاشی امکانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا
تعلیم کا ایک اہم مقصد انسان کو معاشرے میں باعزت، بااختیار اور مفید زندگی گزارنے کے قابل بنانا بھی ہے۔
اگر کسی زبان کے ذریعے طالب علم کو اعلیٰ تعلیم، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، ریاستی و ملکی سطح کے مواقع، بین الریاستی روابط اور عالمی سطح کے روزگار کے زیادہ دروازے کھلتے ہوں تو ان امکانات کو محض لسانی جذبات کی وجہ سے نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔
دنیا آج واقعی ایک دوسرے سے بہت قریب ہوچکی ہے۔ انٹرنیٹ، جدید ٹیکنالوجی، عالمی تعلیم، بین الاقوامی کاروبار اور ڈیجیٹل ذرائع نے دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے۔ ایسے ماحول میں انگریزی سمیت عالمی سطح پر مؤثر زبانوں کی مہارت ایک بڑی عملی ضرورت بن چکی ہے۔
لیکن اس کا حل اردو کو چھوڑ دینا نہیں ہے۔
اصل حل: اردو بھی، انگریزی بھی
ہمارے سامنے اصل انتخاب اردو یا انگریزی کا نہیں ہونا چاہیے۔
بلکہ ہماری کوشش ہونی چاہیے:
اردو بھی مضبوط ہو اور انگریزی بھی۔
دین بھی ہو اور دنیا بھی۔
علم بھی ہو اور عمل بھی۔
تہذیب بھی ہو اور جدید مہارت بھی۔
اردو طالب علم کو اس کے دینی، ادبی اور تہذیبی علمی سرمائے سے جوڑ سکتی ہے، جبکہ انگریزی اسے جدید علمی، پیشہ ورانہ اور عالمی دنیا تک وسیع رسائی دے سکتی ہے۔
یہ دونوں صلاحیتیں ایک دوسرے کی دشمن نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرسکتی ہیں۔
ایک ایسا طالب علم جو اردو میں دینی و تہذیبی لٹریچر پڑھ سکتا ہو اور انگریزی میں جدید دنیا کے علمی و معاشی وسائل سے استفادہ کرسکتا ہو، اس کے سامنے امکانات زیادہ وسیع ہوسکتے ہیں۔
اس لیے اردو کو چھوڑنا بھی درست نہیں اور انگریزی سے محروم رہنا بھی نہیں
اردو کی حفاظت اس لیے ضروری ہے کہ اس میں ہمارا بہت بڑا دینی، ادبی اور تہذیبی سرمایہ محفوظ ہے۔
انگریزی سیکھنا اس لیے ضروری ہے کہ جدید دنیا کے علمی، سائنسی، معاشی اور بین الاقوامی میدانوں میں مؤثر شرکت کے لیے یہ ایک اہم ذریعہ ہے۔
لیکن دونوں کے بارے میں درست اصول یہ ہے کہ:
زبان کو مقصد نہیں، ذریعہ سمجھا جائے۔
اردو کا مقصد صرف اردو بولنے والے پیدا کرنا نہیں بلکہ علم، ادب، شعور اور تہذیبی ربط رکھنے والی نسل پیدا کرنا ہے۔
اور انگریزی کا مقصد صرف انگریزی بولنے والے پیدا کرنا نہیں بلکہ جدید علم، تحقیق، روزگار اور عالمی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل انسان تیار کرنا ہے۔
پھر بہترین تعلیمی تصور کیا ہوگا؟
بہترین تصور وہ ہوگا جس میں بچہ اپنی مادری یا مضبوط زبان میں بنیادی فہم پیدا کرے، اردو کے دینی و تہذیبی ذخیرے سے جڑا رہے، انگریزی میں مضبوط مہارت حاصل کرے، دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت حاصل کرے، جدید علوم پڑھے اور اپنے علم کو معاشرے کی خدمت کے لیے استعمال کرے۔
ایسی نسل جو:
اردو بھی جانتی ہو اور انگریزی بھی،
دین بھی جانتی ہو اور دنیا بھی،
اپنی تہذیب سے جڑی ہو اور عالمی سطح پر آگے بڑھنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو،
علم بھی رکھتی ہو اور عمل بھی،
اپنے حقوق بھی جانتی ہو اور دوسروں کے حقوق بھی ادا کرتی ہو۔
حتمی جواب

لہٰذا اگر سوال میں بیان کردہ مفروضہ واقعی سو فیصد ثابت ہو—یعنی انگریزی ذریعۂ تعلیم کے ساتھ دینی و اخلاقی تربیت بھی اتنی ہی مضبوط بلکہ زیادہ ہو، معاشی امکانات واضح طور پر وسیع ہوں اور دعوت و خدمت کے مواقع بھی زیادہ ہوں—تو صرف اس وجہ سے کہ اردو ایک دینی و تہذیبی زبان ہے، ہر حال میں اردو کو ذریعۂ تعلیم بنانا لازم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
البتہ اردو کی تعلیم ترک کرنا بھی درست نہیں؛ کیونکہ اردو میں موجود دینی، ادبی، اصلاحی اور تہذیبی علمی سرمایہ ہماری نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔
اس لیے زیادہ متوازن اور دوراندیش موقف یہ ہے:
اردو کو محفوظ بھی رکھا جائے، مضبوط بھی کیا جائے اور اس کے دینی و ادبی سرمائے سے نسل کو جوڑا جائے؛ ساتھ ہی انگریزی اور جدید علوم میں بھی بھرپور مہارت حاصل کرائی جائے۔
کیونکہ:
زبان انسان کو علم تک پہنچاتی ہے، مگر علم کو کردار میں تبدیل کرنا انسان کی ذمہ داری ہے۔
اور یہی اصل تعلیم و تربیت ہے کہ انسان جو کچھ سیکھے، اسے اپنی ذات، اپنی اولاد، اپنے گھر، اپنے محلے اور اپنے معاشرے کی اصلاح اور بھلائی کے لیے استعمال کرے۔
اردو ہماری جڑوں کو مضبوط کرسکتی ہے، انگریزی ہمارے افق کو وسیع کرسکتی ہے؛ لیکن انسان کی اصل پہچان اس کی زبان سے نہیں، اس کے علم، عمل، اخلاق اور کردار سے ہوتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔